Ayahs 26:198–1996 یعنی آپ تو فصحائے عرب میں سے ہیں۔ ممکن ہے مشرکین مکہ یوں کہہ دیں کہ قرآن آپ ﷺ نے خود تصنیف کرلیا ہوگا (حالانکہ قرآن اس حد اعجاز کو پہنچا ہوا ہے جس کا مثل تمام جن و انس بھی بنا کر نہیں لاسکتے) تاہم کہنے کو یہ احتمال پیدا کرسکتے ہیں۔ لیکن ان کی ہٹ دھرمی، شقاوت اور بدبختی کا حال تو یہ ہے کہ اگر یہ قرآن فرض کرو ہم کسی غیر فصیح عرب یا عجمی انسان پر اتارتے تو جو ایک حرف عربی کا بولنے پر قادر نہ ہوتا، بلکہ بفرض محال کسی حیوان لا یعقل پر اتارا جاتا، تب بھی یہ لوگ اس کے ماننے والے نہ تھے۔ اس وقت کچھ اور احتمالات پیدا کرتے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " کافر کہتے تھے کہ قرآن آیا ہے عربی زبان میں، اس نبی کی زبان بھی عربی ہے شاید آپ ہی کہہ لاتا ہو۔ اگر غیر زبان والے پر عربی قرآن اترتا تو یقین کرتے، فرمایا کہ دھوکہ والے کا جی کبھی نہیں ٹھہرتا۔ تب اور شبہ نکالتے کہ کوئی سکھا جاتا ہے۔ " (موضح القرآن)
Ayahs 26:200–2017 یعنی جو آدمی جرائم اور گناہوں کا خوگر ہوجاتا ہے اور اپنے قویٰ کو شرارت اور سرکشی میں لگا دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اپنی عادت کے موافق ڈھیل چھوڑ دیتا ہے اور اس کے دل میں انکار و تکذیب کے اثر کو جاگزین کردیتا ہے۔ یہ تقریر ترجمہ کے موافق ہوئی۔ لیکن بہت سے مفسرین نے " سلکناہ " کی ضمیر قرآن کی طرف راجع کی ہے۔ یعنی قرآن کو ہم نے اس طرح مجرمین کے دل میں گھسا دیا ہے کہ وہ دل میں خوب سمجھتے ہیں کہ یہ کلام بشر نہیں ہوسکتا۔ پھر بھی ہٹ دھرمی سے ایمان نہیں لاسکتے اور تکذیب کیے چلے جاتے ہیں تاآنکہ دنیا یا آخرت میں دردناک عذاب کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیں، اس وقت مانیں گے کہ ہاں پیغمبر سچے تھے اور جو کتاب لائے تھے وہ سچی تھی، مگر اس وقت ماننا کچھ نفع نہ دے گا۔
Ayahs 26:202–2038 یعنی جب عذاب الٰہی ایک دم سر پر پہنچ جائے گا اس وقت کہیں گے کیا ہمیں تھوڑی سی مہلت دی جاسکتی ہے کہ اب توبہ کر کے اپنا چال چلن درست کرلیں اور پیغمبروں کا اتباع کر کے دکھلائیں۔ دنیا میں تو عذاب کی جلدی مچا رہے تھے اب مہلت طلب کرنے لگے۔
Ayahs 26:204–2079 یعنی سالہا سال کی ڈھیل اور مہلت بھی جو دی گئی تھی اس وقت کچھ کام نہ آئے گی۔ اس وقت یہ برسوں کی مہلت کا لعدم معلوم ہوگی اور سمجھیں گے کہ واقعی بہت ہی جلدی پکڑے گئے۔ (كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا عَشِـيَّةً اَوْ ضُحٰىهَا) 79 ۔ النازعات :46)
Ayahs 26:208–2091 یعنی کسی قوم کا تختہ یوں ہی ایک دم نہیں الٹ دیا گیا۔ عذاب بھیجنے سے پہلے کافی مہلت دی گئی اور ہوشیار کرنے والے پیغمبر بھیجے گئے کہ لوگ غفلت میں نہ رہیں، جب کسی طرح نہ مانے آخر غارت کیے گئے العیاذ باللہ۔
Ayahs 26:210–2112 درمیان میں مکذبین کے احوال بیان فرما کر پھر اصل مضمون (وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 192ۭ نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ 193ۙ ) 26 ۔ الشعرآء :192) کی تکمیل و تمیم فرماتے ہیں۔ یعنی یہ کتاب خدا تعالیٰ کے ہاں سے جبرائیل امین لائے ہیں۔ شیاطین کی سکھلائی ہوئی چیز نہیں۔ بھلا شیاطین سے کہاں ممکن ہے کہ ایسی کتاب بن آئے۔ ان کی طبائع کا خاصہ تو گمراہی، فساد، اور ظلمت پھیلانا ہے۔ اور یہ کتاب اول سے آخر تک رشد و صلاح اور نور ہدایت سے بھری ہوئی ہے جس کی تعلیم سے وہ جماعت تیار ہوئی۔ جس سے زیادہ آسمان کے نیچے بجز انبیاء کے کوئی پاک باز، صادق، خدا ترس اور خدا پرست جماعت نہیں تو اس کتاب کے علوم اور شیاطین کی طبائع میں کوئی مناسبت نہیں۔ نہ وہ اس لائق ہیں کہ اس عظیم الشان، متبرک بار امانت کو اٹھا سکیں۔ (لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰي جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ ) 59 ۔ الحشر :21) روایات میں ہے کہ بعض مشرکین کا خیال تھا کہ محمد ﷺ کے پاس کوئی جن آکر یہ قرآن سکھلا جاتا ہے۔ بخاری میں ہے کہ ایک مرتبہ وحی آنے میں کچھ دیر ہوئی تو ایک عورت نے حضور ﷺ کو کہا کہ تیرے شیطان نے تجھ کو چھوڑ دیا (نعوذ باللہ) ان آیات میں اسی خیال کی تردید ہے۔
Ayah 26:2123 یعنی نزول قرآن کے زمانہ میں اس کی حفاظت کے لیے ایسے غیبی پہرے بٹھائے گئے ہیں کہ شیاطین پاس بھی نہیں پھٹک سکتے نہ ایک حرف اچک سکتے ہیں کما قال تعالیٰ (وَّاَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ للسَّمْعِ ۭ فَمَنْ يَّسْتَمِعِ الْاٰنَ يَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًا) 72 ۔ الجن :9) وقال تعالیٰ ( فَاِنَّهٗ يَسْلُكُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا) 72 ۔ الجن :27) وقال تعالیٰ (لَّا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ ۭتَنْزِيْلٌ مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ ) 41 ۔ فصلت :42) ۔ (تنبیہ) شیاطین کے غیبی خبریں سننے کی کوشش کرنے اور ناکام رہنے کے متعلق سورة حجر کے شروع میں مفصل کلام کیا جاچکا ہے وہاں مطالعہ کرنا چاہیے۔
Ayah 26:2134 یہ فرمایا رسول کو اور سنایا اوروں کو یعنی جب یہ کتاب بلاشک وشبہ خدا کی اتاری ہوئی ہے، شیطان کا اس میں ذرہ بھر دخل نہیں تو چاہیے کہ اس کی تعلیم پر چلو جس میں اصل اصول توحید ہے۔ شرک و کفر اور تکذیب کی شیطانی راہ اختیار مت کرو۔ ورنہ عذاب الٰہی سے رستگاری کی کوئی سبیل نہیں۔
Ayah 26:2145 یعنی اوروں سے پہلے اپنے اقارب کو تنبیہ کیجئے کہ خیر خواہی میں ان کا حق مقدم ہے اور ویسے بھی آدمی کی صداقت و حقانیت اقارب کے معاملہ سے پرکھی جاتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " جب یہ آیت اتری۔ حضرت ﷺ نے سارے قریش کو پکار کر سنا دیا اور اپنی پھوپھی تک اور اپنی بیٹی تک اور چچا تک کہہ سنایا کہ اللہ کے ہاں اپنی فکر کرو۔ خدا کے ہاں میں تمہارا کچھ نہیں کرسکتا۔ "
Ayah 26:2156 یعنی شفقت میں رکھ ایمان والوں کو، اپنے ہوں یا پرائے۔
Ayah 26:2167 یعنی خلاف حکم خدا جو کوئی کرے اس سے تو بیزار ہوجا، اپنا ہو یا پرایا۔
Ayah 26:2178 یعنی نافرمانی کرنے والے کوئی ہوں اور کتنے ہی ہوں تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ سب سے بیزار ہو کر ایک خدا پر بھروسہ رکھ جو زبردست بھی ہے کسی کی اس کے مقابلہ میں چل نہیں سکتی، اور مہربانی فرمانے والا بھی۔ چناچہ اپنی مہربانی سے تیرے حال پر ہر وقت نظر عنایت رکھتا ہے۔
Ayahs 26:218–2199 یعنی جب تو تہجد کو اٹھتا ہے اور متوسلین کی خبر لیتا ہے کہ خدا کی یاد میں ہیں یا غافل (موضح) یا تو جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اور جماعت کی نماز میں نقل و حرکت (رکوع وسجود وغیرہ) کرتا ہے، اور مقتدیوں کی دیکھ بھال رکھتا ہے اور بعض سلف نے کہا کہ ساجدین سے آپ ﷺ کے آباء مراد ہیں۔ یعنی آپ ﷺ کے نور کا ایک نبی کی صلب سے دوسرے نبی کی صلب تک منتقل ہونا اور آخر میں نبی ہو کر تشریف لانا بلکہ بعض مفسرین نے اس لفظ سے حضور ﷺ کے والدین کے ایمان پر استدلال کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 26:220–22210 یہاں پھر قرآن کے صدق اور عظمت شان پر تنبیہ فرمائی۔ یعنی ایسے ساجدی اور تہجد گزاروں کے امام کو جو اللہ کے معاملہ میں اپنے اور بیگانے کی کوئی پرواہ نہ کرے اور ساری دنیا سے ٹوٹ کر اکیلے خدا پر بھروسہ رکھے، کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ (معاذ اللہ) شیطان ان پر وحی لاتا تھا ؟ آؤ ! میں تم کو بتاؤں کہ شیطان کی وحی کس قسم کے لوگوں پر آتی ہے۔ وہ آتی ہے جھوٹوں پر، بدمعاشوں اور بدکاروں پر، کیونکہ شیطان سچے اور نیک آدمیوں سے بیزار ہے کہ یہ اس کو برا جانتے ہی۔ جھوٹے دغابازوں سے خوش ہے جو اس کی مرضی کے موافق ہیں۔ بھلا سب سچوں سے زیادہ سچے اور تمام نیکوں سے بڑھ کر نیک انسان کو شیطانی وحی سے کیا نسبت، حضور ﷺ کا صدق و امانت، اتقاء، پاکبازی، خدا ترسی تو وہ اوصاف ہیں جو بچپن سے لے کر دعوائے نبوت تک آپ کی ساری قوم کو تسلیم تھے۔ حتی کہ " الصادقین الامین " آپ کا لقب ہی پڑگیا تھا۔
Ayah 26:22311 یعنی شیاطین کوئی ایک آدھ ناتمام بات امور غیبیہ جزئیہ کے متعلق جو سن بھاگتے ہیں اس میں سو جھوٹ ملا کر اپنے کاہن دوستوں کو پہنچاتے ہیں، یہ حقیقت ان کی وحی کی ہے۔ برخلاف اس کے انبیاء کی وحی کے کہ ایک حرف اور ایک شوشہ بھی جھوٹ نہیں ہوسکتا۔ بعض نے " یُلْقُون السَّمْعَ " کے معنی یہ لیے ہیں، کہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی طرف کان لگاتے ہیں کہ کوئی غیبی بھنک کان میں پڑجائے، یا جھوٹے گنہگار شیاطین کی طرف کان جھکائے رکھتے ہیں کہ کوئی چیز ادھر سے ہاتھ آئے تو چلتی کریں۔
Ayah 26:22412 کافر لوگ پیغمبر کو کبھی کاہن بتاتے کبھی شاعر، سو فرمایا کہ شاعری کی باتیں محض تخیلات ہوتی ہیں تحقیق سے اس کو لگاؤ نہیں ہوتا، اس لیے اس کی باتوں سے بجز گرمی محفل یا وقتی جوش اور واہ واہ کے کسی کو مستقل ہدایت نہیں ہوتی حالانکہ اس پیغمبر کی صحبت میں قرآن سن سن کر ہزاروں آدمی نیکی اور پرہیزگاری پر آتے ہیں۔
Ayah 26:22513 یعنی جو مضمون پکڑ لیا اسی کو بڑھاتے چلے گئے، کسی کی تعریف کی تو آسمان پر چڑھا دیا، مذمت کی تو ساری دنیا کے عیب اس میں جمع کردیئے۔ موجود کو معدوم اور معدوم کو موجود ثابت کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ غرض جھوٹ، مبالغہ اور تخیل کے جس جنگل میں نکل گئے، پھر مڑ کر نہیں دیکھا۔ اسی لیے شعر کی نسبت مشہور ہے۔ " اکذب او احسن او "
Ayah 26:22614 یعنی شعر پڑھو تو معلوم ہو کہ رستم سے زیادہ بہادر اور شیر سے زیادہ دلیر ہوں گے، اور جا کر ملو تو پرلے درجہ کے نامرد اور ڈرپوک کبھی دیکھو تو ہٹے کٹے ہیں اور اشعار پڑھو تو خیال ہو کہ نبضیں ساقط ہو چکیں، قبض روح کا انتظار ہے۔ حالی نے مسدس میں ان کے جھوٹ کا خوب نقشہ کھینچا ہے۔ غرض ایک پیغمبر خدا اور وہ بھی خاتم الانبیاء کو اس جماعت سے کیا لگاؤ۔ اسی لیے فرمایا۔ (وَمَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْۢبَغِيْ لَهٗ ) 36 ۔ یس :69) آپ ﷺ کی جو بات تھی سچی، جچی تلی باون تولے پاؤ رتی، تحقیق کے ترازو میں تلی ہوئی۔ پھر جو بات زبان مبارک سے سنی جاتی تھی وہ ہی علم میں آنکھوں سے نظر آتی تھی۔ بھلا شاعر ایسے ہوتے ہیں ؟ اور شاعری اسے کہتے ہیں ؟ حاشا ثم حاشا۔
Ayah 26:2271 مگر جو کوئی شعر میں اللہ کی حمد کہے یا نیکی کی ترغیب دے، یا کفر کی مذمت یا گناہ کی برائی کرے یا کافر اسلام کی ہجو کریں یہ اس کا جواب دے، یا کسی نے اس کو ایذاء پہنچائی اس کا جواب بحد اعتدال دیا، ایسا شعر عیب نہیں۔ چناچہ حضرت حسان بن ثابت ؓ وغیرہ ایسے ہی اشعار کہتے تھے۔ اسی لیے حضور نے فرمایا کہ ان کافروں کا جواب دے اور روح القدس تیرے ساتھ ہے۔
2 یہ (مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا) 26 ۔ الشعرآء :227) کی مناسبت سے فرمایا کہ ظالموں کو عنقریب اپنا انجام معلوم ہوجائے گا کہ کس کروٹ اونٹ بیٹھتا ہے سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اللہ کی کتابوں اور پیغمبروں کو کاہن و شاعر کہہ کر جھٹلائے۔ تَمَّ سورة الشعراء وللہ الحمد والمنہ۔