26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 26:198–199

وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ Open ayah 26:198 in the Quran reader

اور اگر اتارتے ہم یہ کتاب کسی اوپری زبان والے پر

فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 26:199 in the Quran reader

اور وہ اس کو پڑھ کر سناتا تو بھی اس پر یقین نہ لاتے6

6 یعنی آپ تو فصحائے عرب میں سے ہیں۔ ممکن ہے مشرکین مکہ یوں کہہ دیں کہ قرآن آپ ﷺ نے خود تصنیف کرلیا ہوگا (حالانکہ قرآن اس حد اعجاز کو پہنچا ہوا ہے جس کا مثل تمام جن و انس بھی بنا کر نہیں لاسکتے) تاہم کہنے کو یہ احتمال پیدا کرسکتے ہیں۔ لیکن ان کی ہٹ دھرمی، شقاوت اور بدبختی کا حال تو یہ ہے کہ اگر یہ قرآن فرض کرو ہم کسی غیر فصیح عرب یا عجمی انسان پر اتارتے تو جو ایک حرف عربی کا بولنے پر قادر نہ ہوتا، بلکہ بفرض محال کسی حیوان لا یعقل پر اتارا جاتا، تب بھی یہ لوگ اس کے ماننے والے نہ تھے۔ اس وقت کچھ اور احتمالات پیدا کرتے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " کافر کہتے تھے کہ قرآن آیا ہے عربی زبان میں، اس نبی کی زبان بھی عربی ہے شاید آپ ہی کہہ لاتا ہو۔ اگر غیر زبان والے پر عربی قرآن اترتا تو یقین کرتے، فرمایا کہ دھوکہ والے کا جی کبھی نہیں ٹھہرتا۔ تب اور شبہ نکالتے کہ کوئی سکھا جاتا ہے۔ " (موضح القرآن)
Ayahs 26:200–201

كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 26:200 in the Quran reader

اسی طرح گھسا دیا ہم نے اس انکار کو گناہ گاروں کے دل میں

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ Open ayah 26:201 in the Quran reader

وہ نہ مانیں گے اس کو جب تک نہ دیکھ لیں گے عذاب دردناک7

7 یعنی جو آدمی جرائم اور گناہوں کا خوگر ہوجاتا ہے اور اپنے قویٰ کو شرارت اور سرکشی میں لگا دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اپنی عادت کے موافق ڈھیل چھوڑ دیتا ہے اور اس کے دل میں انکار و تکذیب کے اثر کو جاگزین کردیتا ہے۔ یہ تقریر ترجمہ کے موافق ہوئی۔ لیکن بہت سے مفسرین نے " سلکناہ " کی ضمیر قرآن کی طرف راجع کی ہے۔ یعنی قرآن کو ہم نے اس طرح مجرمین کے دل میں گھسا دیا ہے کہ وہ دل میں خوب سمجھتے ہیں کہ یہ کلام بشر نہیں ہوسکتا۔ پھر بھی ہٹ دھرمی سے ایمان نہیں لاسکتے اور تکذیب کیے چلے جاتے ہیں تاآنکہ دنیا یا آخرت میں دردناک عذاب کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیں، اس وقت مانیں گے کہ ہاں پیغمبر سچے تھے اور جو کتاب لائے تھے وہ سچی تھی، مگر اس وقت ماننا کچھ نفع نہ دے گا۔
Ayahs 26:202–203

فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 26:202 in the Quran reader

پھر آئے ان پر اچانک اور ان کو خبر بھی نہ ہو

فَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ Open ayah 26:203 in the Quran reader

پھر کہنے لگیں کچھ بھی ہم کو فرصت ملے گی8

8 یعنی جب عذاب الٰہی ایک دم سر پر پہنچ جائے گا اس وقت کہیں گے کیا ہمیں تھوڑی سی مہلت دی جاسکتی ہے کہ اب توبہ کر کے اپنا چال چلن درست کرلیں اور پیغمبروں کا اتباع کر کے دکھلائیں۔ دنیا میں تو عذاب کی جلدی مچا رہے تھے اب مہلت طلب کرنے لگے۔
Ayahs 26:204–207

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 26:204 in the Quran reader

کیا ہمارے عذاب کو جلد مانگتے ہیں

اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:205 in the Quran reader

بھلا دیکھ تو اگر فائدہ پہنچاتے رہیں ہم ان کو برسوں

ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 26:206 in the Quran reader

پھر پہنچے ان پر جس چیز کا ان سے وعدہ تھا

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ Open ayah 26:207 in the Quran reader

تو کیا کام آئے گا ان کے جو کچھ فائدہ اٹھاتے رہے9

9 یعنی سالہا سال کی ڈھیل اور مہلت بھی جو دی گئی تھی اس وقت کچھ کام نہ آئے گی۔ اس وقت یہ برسوں کی مہلت کا لعدم معلوم ہوگی اور سمجھیں گے کہ واقعی بہت ہی جلدی پکڑے گئے۔ (كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا عَشِـيَّةً اَوْ ضُحٰىهَا) 79 ۔ النازعات :46)
Ayahs 26:208–209

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ٥ۗۛۖ Open ayah 26:208 in the Quran reader

اور کوئی بستی نہیں غارت کی ہم نے جس کے لیے نہیں ہے ڈر سنا دینے والے

ذِكْرٰى١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 26:209 in the Quran reader

یاد دلانے کو اور ہمارا کام نہیں ہے ظلم کرنا1

1 یعنی کسی قوم کا تختہ یوں ہی ایک دم نہیں الٹ دیا گیا۔ عذاب بھیجنے سے پہلے کافی مہلت دی گئی اور ہوشیار کرنے والے پیغمبر بھیجے گئے کہ لوگ غفلت میں نہ رہیں، جب کسی طرح نہ مانے آخر غارت کیے گئے العیاذ باللہ۔
Ayahs 26:210–211

وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ Open ayah 26:210 in the Quran reader

اور اس قرآن کو نہیں لے کر اترے شیطان

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ Open ayah 26:211 in the Quran reader

اور نہ ان سے بن آئے اور نہ وہ کرسکیں2

2 درمیان میں مکذبین کے احوال بیان فرما کر پھر اصل مضمون (وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 192؀ۭ نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ 193؀ۙ ) 26 ۔ الشعرآء :192) کی تکمیل و تمیم فرماتے ہیں۔ یعنی یہ کتاب خدا تعالیٰ کے ہاں سے جبرائیل امین لائے ہیں۔ شیاطین کی سکھلائی ہوئی چیز نہیں۔ بھلا شیاطین سے کہاں ممکن ہے کہ ایسی کتاب بن آئے۔ ان کی طبائع کا خاصہ تو گمراہی، فساد، اور ظلمت پھیلانا ہے۔ اور یہ کتاب اول سے آخر تک رشد و صلاح اور نور ہدایت سے بھری ہوئی ہے جس کی تعلیم سے وہ جماعت تیار ہوئی۔ جس سے زیادہ آسمان کے نیچے بجز انبیاء کے کوئی پاک باز، صادق، خدا ترس اور خدا پرست جماعت نہیں تو اس کتاب کے علوم اور شیاطین کی طبائع میں کوئی مناسبت نہیں۔ نہ وہ اس لائق ہیں کہ اس عظیم الشان، متبرک بار امانت کو اٹھا سکیں۔ (لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰي جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ ) 59 ۔ الحشر :21) روایات میں ہے کہ بعض مشرکین کا خیال تھا کہ محمد ﷺ کے پاس کوئی جن آکر یہ قرآن سکھلا جاتا ہے۔ بخاری میں ہے کہ ایک مرتبہ وحی آنے میں کچھ دیر ہوئی تو ایک عورت نے حضور ﷺ کو کہا کہ تیرے شیطان نے تجھ کو چھوڑ دیا (نعوذ باللہ) ان آیات میں اسی خیال کی تردید ہے۔
Ayah 26:212

اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ Open ayah 26:212 in the Quran reader

ان کو تو سننے کی جگہ سے دور کردیا ہے3

3 یعنی نزول قرآن کے زمانہ میں اس کی حفاظت کے لیے ایسے غیبی پہرے بٹھائے گئے ہیں کہ شیاطین پاس بھی نہیں پھٹک سکتے نہ ایک حرف اچک سکتے ہیں کما قال تعالیٰ (وَّاَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ للسَّمْعِ ۭ فَمَنْ يَّسْتَمِعِ الْاٰنَ يَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًا) 72 ۔ الجن :9) وقال تعالیٰ ( فَاِنَّهٗ يَسْلُكُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا) 72 ۔ الجن :27) وقال تعالیٰ (لَّا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ ۭتَنْزِيْلٌ مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ ) 41 ۔ فصلت :42) ۔ (تنبیہ) شیاطین کے غیبی خبریں سننے کی کوشش کرنے اور ناکام رہنے کے متعلق سورة حجر کے شروع میں مفصل کلام کیا جاچکا ہے وہاں مطالعہ کرنا چاہیے۔
Ayah 26:213

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:213 in the Quran reader

سو تو مت پکار اللہ کے ساتھ دوسرا معبود پھر تو پڑے عذاب میں4

4 یہ فرمایا رسول کو اور سنایا اوروں کو یعنی جب یہ کتاب بلاشک وشبہ خدا کی اتاری ہوئی ہے، شیطان کا اس میں ذرہ بھر دخل نہیں تو چاہیے کہ اس کی تعلیم پر چلو جس میں اصل اصول توحید ہے۔ شرک و کفر اور تکذیب کی شیطانی راہ اختیار مت کرو۔ ورنہ عذاب الٰہی سے رستگاری کی کوئی سبیل نہیں۔
Ayah 26:214

وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ Open ayah 26:214 in the Quran reader

اور ڈر سنا دے اپنے قریب کے رشتہ داروں کو5

5 یعنی اوروں سے پہلے اپنے اقارب کو تنبیہ کیجئے کہ خیر خواہی میں ان کا حق مقدم ہے اور ویسے بھی آدمی کی صداقت و حقانیت اقارب کے معاملہ سے پرکھی جاتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " جب یہ آیت اتری۔ حضرت ﷺ نے سارے قریش کو پکار کر سنا دیا اور اپنی پھوپھی تک اور اپنی بیٹی تک اور چچا تک کہہ سنایا کہ اللہ کے ہاں اپنی فکر کرو۔ خدا کے ہاں میں تمہارا کچھ نہیں کرسکتا۔ "
Ayah 26:215

وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:215 in the Quran reader

اور اپنے بازو نیچے رکھ ان کے واسطے جو تیرے ساتھ ہیں ایمان والے6

6 یعنی شفقت میں رکھ ایمان والوں کو، اپنے ہوں یا پرائے۔
Ayah 26:216

فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:216 in the Quran reader

پھر اگر تیری نافرمانی کریں تو کہہ دے میں بیزار ہوں تمہارے کام سے7

7 یعنی خلاف حکم خدا جو کوئی کرے اس سے تو بیزار ہوجا، اپنا ہو یا پرایا۔
Ayah 26:217

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 26:217 in the Quran reader

اور بھروسہ کر اس زبردست رحم والے پر8

8 یعنی نافرمانی کرنے والے کوئی ہوں اور کتنے ہی ہوں تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ سب سے بیزار ہو کر ایک خدا پر بھروسہ رکھ جو زبردست بھی ہے کسی کی اس کے مقابلہ میں چل نہیں سکتی، اور مہربانی فرمانے والا بھی۔ چناچہ اپنی مہربانی سے تیرے حال پر ہر وقت نظر عنایت رکھتا ہے۔
Ayahs 26:218–219

الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 26:218 in the Quran reader

جو دیکھتا ہے تجھ کو جب تو اٹھتا ہے

وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ Open ayah 26:219 in the Quran reader

اور تیرا پھرنا نمازیوں میں9

9 یعنی جب تو تہجد کو اٹھتا ہے اور متوسلین کی خبر لیتا ہے کہ خدا کی یاد میں ہیں یا غافل (موضح) یا تو جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اور جماعت کی نماز میں نقل و حرکت (رکوع وسجود وغیرہ) کرتا ہے، اور مقتدیوں کی دیکھ بھال رکھتا ہے اور بعض سلف نے کہا کہ ساجدین سے آپ ﷺ کے آباء مراد ہیں۔ یعنی آپ ﷺ کے نور کا ایک نبی کی صلب سے دوسرے نبی کی صلب تک منتقل ہونا اور آخر میں نبی ہو کر تشریف لانا بلکہ بعض مفسرین نے اس لفظ سے حضور ﷺ کے والدین کے ایمان پر استدلال کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 26:220–222

اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 26:220 in the Quran reader

بیشک وہی ہے سننے والا جاننے والا

هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ Open ayah 26:221 in the Quran reader

میں بتلاؤں تم کو کس پر اترتے ہیں شیطان

تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 26:222 in the Quran reader

اترتے ہیں ہر جھوٹے گناہ گار پر10

10 یہاں پھر قرآن کے صدق اور عظمت شان پر تنبیہ فرمائی۔ یعنی ایسے ساجدی اور تہجد گزاروں کے امام کو جو اللہ کے معاملہ میں اپنے اور بیگانے کی کوئی پرواہ نہ کرے اور ساری دنیا سے ٹوٹ کر اکیلے خدا پر بھروسہ رکھے، کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ (معاذ اللہ) شیطان ان پر وحی لاتا تھا ؟ آؤ ! میں تم کو بتاؤں کہ شیطان کی وحی کس قسم کے لوگوں پر آتی ہے۔ وہ آتی ہے جھوٹوں پر، بدمعاشوں اور بدکاروں پر، کیونکہ شیطان سچے اور نیک آدمیوں سے بیزار ہے کہ یہ اس کو برا جانتے ہی۔ جھوٹے دغابازوں سے خوش ہے جو اس کی مرضی کے موافق ہیں۔ بھلا سب سچوں سے زیادہ سچے اور تمام نیکوں سے بڑھ کر نیک انسان کو شیطانی وحی سے کیا نسبت، حضور ﷺ کا صدق و امانت، اتقاء، پاکبازی، خدا ترسی تو وہ اوصاف ہیں جو بچپن سے لے کر دعوائے نبوت تک آپ کی ساری قوم کو تسلیم تھے۔ حتی کہ " الصادقین الامین " آپ کا لقب ہی پڑگیا تھا۔
Ayah 26:223

یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ Open ayah 26:223 in the Quran reader

لا ڈالتے ہیں سنی ہوئی بات اور بہت ان میں جھوٹے ہیں11

11 یعنی شیاطین کوئی ایک آدھ ناتمام بات امور غیبیہ جزئیہ کے متعلق جو سن بھاگتے ہیں اس میں سو جھوٹ ملا کر اپنے کاہن دوستوں کو پہنچاتے ہیں، یہ حقیقت ان کی وحی کی ہے۔ برخلاف اس کے انبیاء کی وحی کے کہ ایک حرف اور ایک شوشہ بھی جھوٹ نہیں ہوسکتا۔ بعض نے " یُلْقُون السَّمْعَ " کے معنی یہ لیے ہیں، کہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی طرف کان لگاتے ہیں کہ کوئی غیبی بھنک کان میں پڑجائے، یا جھوٹے گنہگار شیاطین کی طرف کان جھکائے رکھتے ہیں کہ کوئی چیز ادھر سے ہاتھ آئے تو چلتی کریں۔
Ayah 26:224

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ Open ayah 26:224 in the Quran reader

شاعروں کی بات پر چلیں وہی جو بےراہ ہیں12

12 کافر لوگ پیغمبر کو کبھی کاہن بتاتے کبھی شاعر، سو فرمایا کہ شاعری کی باتیں محض تخیلات ہوتی ہیں تحقیق سے اس کو لگاؤ نہیں ہوتا، اس لیے اس کی باتوں سے بجز گرمی محفل یا وقتی جوش اور واہ واہ کے کسی کو مستقل ہدایت نہیں ہوتی حالانکہ اس پیغمبر کی صحبت میں قرآن سن سن کر ہزاروں آدمی نیکی اور پرہیزگاری پر آتے ہیں۔
Ayah 26:225

اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ Open ayah 26:225 in the Quran reader

تو نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر میدان میں سر مارتے پھرتے ہیں13

13 یعنی جو مضمون پکڑ لیا اسی کو بڑھاتے چلے گئے، کسی کی تعریف کی تو آسمان پر چڑھا دیا، مذمت کی تو ساری دنیا کے عیب اس میں جمع کردیئے۔ موجود کو معدوم اور معدوم کو موجود ثابت کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ غرض جھوٹ، مبالغہ اور تخیل کے جس جنگل میں نکل گئے، پھر مڑ کر نہیں دیکھا۔ اسی لیے شعر کی نسبت مشہور ہے۔ " اکذب او احسن او "
Ayah 26:226

وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 26:226 in the Quran reader

اور یہ کہ وہ کہتے ہیں جو نہیں کرتے14

14 یعنی شعر پڑھو تو معلوم ہو کہ رستم سے زیادہ بہادر اور شیر سے زیادہ دلیر ہوں گے، اور جا کر ملو تو پرلے درجہ کے نامرد اور ڈرپوک کبھی دیکھو تو ہٹے کٹے ہیں اور اشعار پڑھو تو خیال ہو کہ نبضیں ساقط ہو چکیں، قبض روح کا انتظار ہے۔ حالی نے مسدس میں ان کے جھوٹ کا خوب نقشہ کھینچا ہے۔ غرض ایک پیغمبر خدا اور وہ بھی خاتم الانبیاء کو اس جماعت سے کیا لگاؤ۔ اسی لیے فرمایا۔ (وَمَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْۢبَغِيْ لَهٗ ) 36 ۔ یس :69) آپ ﷺ کی جو بات تھی سچی، جچی تلی باون تولے پاؤ رتی، تحقیق کے ترازو میں تلی ہوئی۔ پھر جو بات زبان مبارک سے سنی جاتی تھی وہ ہی علم میں آنکھوں سے نظر آتی تھی۔ بھلا شاعر ایسے ہوتے ہیں ؟ اور شاعری اسے کہتے ہیں ؟ حاشا ثم حاشا۔
Ayah 26:227

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ Open ayah 26:227 in the Quran reader

مگر وہ لوگ جو یقین لائے اور کام کیے اچھے اور یاد کی اللہ کی بہت اور بدلہ لیا اس کے پیچھے کہ ان پر ظلم ہوا1 اور اب معلوم کرلیں گے ظلم کرنے والے کہ کس کروٹ الٹتے ہیں2

1 مگر جو کوئی شعر میں اللہ کی حمد کہے یا نیکی کی ترغیب دے، یا کفر کی مذمت یا گناہ کی برائی کرے یا کافر اسلام کی ہجو کریں یہ اس کا جواب دے، یا کسی نے اس کو ایذاء پہنچائی اس کا جواب بحد اعتدال دیا، ایسا شعر عیب نہیں۔ چناچہ حضرت حسان بن ثابت ؓ وغیرہ ایسے ہی اشعار کہتے تھے۔ اسی لیے حضور نے فرمایا کہ ان کافروں کا جواب دے اور روح القدس تیرے ساتھ ہے۔ 2 یہ (مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا) 26 ۔ الشعرآء :227) کی مناسبت سے فرمایا کہ ظالموں کو عنقریب اپنا انجام معلوم ہوجائے گا کہ کس کروٹ اونٹ بیٹھتا ہے سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اللہ کی کتابوں اور پیغمبروں کو کاہن و شاعر کہہ کر جھٹلائے۔ تَمَّ سورة الشعراء وللہ الحمد والمنہ۔