26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 26:41

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:41 in the Quran reader

پھر جب آئے جادوگر کہنے لگے فرعون سے بھلا کچھ ہمارا حق بھی ہے اگر ہو ہم کو غلبہ

7 یعنی نہ صرف مالی انعام و اکرام، بلکہ تم میرے خاص مصاحبوں میں رہو گے۔ ان آیات کا مفصل بیان " اعراف " اور " طہٰ " میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 26:42–43

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 26:42 in the Quran reader

بولا البتہ اور تم اس وقت مقربوں میں ہو گے7

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 26:43 in the Quran reader

کہا ان کو موسیٰ نے ڈالو جو تم ڈالتے ہو1

1 یعنی جب ساحرین نے کہا کہ موسیٰ پہلے اپنی لاٹھی ڈالتے ہو، یا ہم ڈالیں، اس کے جواب میں فرمایا کہ تم ہی اپنی قوت خرچ کر دیکھو۔
Ayah 26:44

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 26:44 in the Quran reader

پھر ڈالیں انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں اور بولے فرعون کے اقبال سے ہماری ہی فتح ہے2

2 بعض نے " بِعِزَّۃِ فِرْعَوْن " کو قسم کے معنی میں لیا ہے۔ یعنی فرعون کے اقبال کی قسم ہم ہی غالب ہو کر رہیں گے۔
Ayah 26:45

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ Open ayah 26:45 in the Quran reader

پھر ڈالا موسیٰ نے اپنا عصا تبھی وہ نگلنے لگا جو سانگ انہوں نے بنایا تھا3

3 شیخ اکبر نے لکھا ہے کہ خالی رسیاں اور لاٹھیاں رہ گئیں جو سانپوں کی صورتیں انہوں نے بنائی تھیں، موسیٰ کا عصا ان کو نگل گیا۔
Ayahs 26:46–49

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ Open ayah 26:46 in the Quran reader

پھر اوندھے گرے جادوگر سجدہ میں بولے

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:47 in the Quran reader

ہم نے مان لیا جہان کے رب کو

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 26:48 in the Quran reader

جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:49 in the Quran reader

بولا تم نے اس کو مان لیا ابھی میں نے حکم نہیں دیا تم کو مقرر وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو سکھلایا جادو4 سو اب معلوم کرلو گے البتہ کاٹوں گا تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں اور سولی پر چڑھاؤں گا تم سب کو

4 یعنی موسیٰ تمہارا بڑا استاد ہے، آپس میں سازش کر کے آئے ہو کہ تم یہ کرنا، ہم یوں کہیں گے اور حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " تمہارا بڑا " کہا رب کو " یعنی موسیٰ اور تم ایک استاد کے شاگرد ہو " واللہ اعلم۔
Ayah 26:50

قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 26:50 in the Quran reader

بولے کچھ ڈر نہیں ہم کو اپنے رب کی طرف پھرجانا ہے5

5 یعنی بہرحال مر کر خدا کے یہاں جانا ہے، اس طرح مریں گے، شہادت کا درجہ ملے گا، یہ سب مضامین سورة " اعراف " وغیرہ میں گزر چکے ہیں۔ وہاں دیکھ لیا جائے۔
Ayah 26:51

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ Open ayah 26:51 in the Quran reader

ہم غرض رکھتے ہیں کہ بخش دے ہم کو رب ہمارا تقصیریں ہماری اس واسطے کہ ہم ہوئے پہلے قبول کرنے والے6

6 یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت و تبلیغ کے بعد بھرے مجمع میں ظالم فرعون کے روبرو سب سے پہلے ہم نے قبول حق کا اعلان کیا۔ اس سے امید ہوتی ہے کہ حق تعالیٰ ہماری گذشتہ تقصیرات کو معاف فرمائے گا۔
Ayah 26:52

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ Open ayah 26:52 in the Quran reader

اور حکم بھیجا ہم نے موسیٰ کو کہ رات کو لے نکل میرے بندوں کو البتہ تمہارا پیچھا کریں گے7

7 یعنی جب ایک مدت مدید تک سمجھانے اور آیات دکھلاتے رہنے کے بعد بھی فرعون نے حق کو قبول نہ کیا اور " بنی اسرائیل " کو ستانا نہ چھوڑا، تو ہم نے موسیٰ کو حکم دیا کہ اپنی قوم کو لے کر رات میں یہاں سے ہجرت کر جاؤ۔ اور دیکھنا یہ فرعونی لوگ تمہارا پیچھا کریں گے (گھبرانا نہیں) ۔
Ayah 26:53

فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ Open ayah 26:53 in the Quran reader

پھر بھیجے فرعون نے شہروں میں نقیب8

8 تمام قبطیوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کرے۔
Ayah 26:54

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ Open ayah 26:54 in the Quran reader

یہ لوگ جو ہیں سو ایک جماعت ہے تھوڑی سی9

9 یعنی ان تھوڑے سے آدمیوں نے تم کو تنگ کر رکھا ہے۔ حالانکہ ان کی ہستی کیا ہے جو تمہارے مقابلہ میں عہدہ برآ ہو سکیں۔ یہ باتیں قوم کو غیرت اور جوش دلانے کے لیے کہیں۔
Ayah 26:55

وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ Open ayah 26:55 in the Quran reader

اور وہ مقرر ہم سے دل جلے ہوئے ہیں10

10 یا ہم کو غصہ دلا رہے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے ان کی کم بختی نے دھکا دیا ہے۔
Ayah 26:56

وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ Open ayah 26:56 in the Quran reader

اور ہم سارے ان سے خطرہ رکھتے ہیں11

11 تو اس روز روز کے خطرہ کا قلع قمع ہی کردو۔ بعض مفسرین نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ ہماری بڑی جمعیت ہے جو محتاط یا مسلح ہے تو یہ الفاظ دل بڑھانے کے لیے ہوں گے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 26:57–59

فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:57 in the Quran reader

پھر نکال باہر کیا ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے

وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 26:58 in the Quran reader

اور خزانوں اور عمدہ مکانوں سے

كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:59 in the Quran reader

اسی طرح12 اور ہاتھ لگا دیں ہم نے یہ چیزیں بنی اسرائیل کے1

12 یعنی اس طرح قبطی گھر بار، مال ودولت، باغ اور کھیتاں چھوڑ کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں ایک دم نکل پڑے۔ جنہیں پھر لوٹنا نصیب نہ ہوا۔ گویا اس تدبیر سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نکال باہر کیا۔ 1 یا تو اس کے بعد ہی یہ چیزیں بنی اسرائیل کے ہاتھ لگیں اور یا ایک مدت بعد سلیمان (علیہ السلام) کے عہد میں ملک مصر بھی ان کی سلطنت میں شامل ہوا۔ واللہ اعلم۔ پہلے اس کے متعلق اختلاف گزر چکا ہے۔
Ayahs 26:60–61

فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ Open ayah 26:60 in the Quran reader

پھر پیچھے پڑے ان کے سورج نکلنے کے وقت

فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ Open ayah 26:61 in the Quran reader

پھر جب مقابل ہوئیں دونوں فوجیں کہنے لگے موسیٰ کے لوگ ہم تو پکڑے گئے2

2 یعنی بحرقلزم کے کنارہ پہنچ کر بنی اسرائیل پار ہونے کی فکر کر رہے تھے کہ پیچھے سے فرعونی لشکر نظر آیا گھبرا کر موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ اب ان کے ہاتھ سے کیسے بچیں گے۔ آگے سمندر حائل ہے اور پیچھے سے دشمن دبائے چلا آرہا ہے۔
Ayah 26:62

قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 26:62 in the Quran reader

کہا ہرگز نہیں میرے ساتھ ہے میرا رب وہ مجھ کو راہ بتلائے گا3

3 یعنی گھبراؤ نہیں، اللہ کے وعدوں پر اطمینان رکھو، اس کی حمایت و نصرت میرے ساتھ ہے۔ وہ یقینا ہمارے لیے کوئی راستہ نکال دے گا۔ ناممکن ہے کہ دشمن ہم کو پکڑ سکے۔
Ayah 26:63

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 26:63 in the Quran reader

پھر حکم بھیجا ہم نے موسیٰ کو کہ مار اپنے عصا سے دریا کو پھر دریا پھٹ گیا تو ہوگئی ہر پھانک جیسے بڑا پہاڑ4

4 پانی بہت گہرا تھا۔ بارہ جگہ سے پھٹ کر خشک راستے بن گئے۔ بارہ قبیلے بنی اسرائیل کے الگ الگ ان میں سے گزرے اور بیچ میں پانی کے پہاڑ کھڑے رہ گئے۔ (کذا فی موضح القرآن) ۔
Ayahs 26:64–66

وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:64 in the Quran reader

اور پاس پہنچا دیا ہم نے اسی جگہ دوسروں کو

وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:65 in the Quran reader

اور بچا دیا ہم نے موسیٰ کو اور جو لوگ تھے اس کے ساتھ سب کو

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ Open ayah 26:66 in the Quran reader

پھر ڈبا دیا ہم نے ان دوسروں کو5

5 یعنی فرعونی لشکر بھی قریب آگیا اور دریا میں راستے بنے ہوئے دیکھ کر بنی اسرائیل کے بعد بےسوچے سمجھے گھس پڑا۔ جب تمام لشکر دریا کی لپیٹ میں آگیا، فوراً خدا کے حکم سے پانی کے پہاڑ ایک دوسرے سے مل گئے۔ یہ قصہ پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 26:67

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:67 in the Quran reader

اس چیز میں ایک نشانی ہے اور نہیں تھے بہت لوگ ان میں ماننے والے6

6 یعنی جب اکثروں نے حق قبول نہ کیا تو آخر میں قدرت نے یہ نشان دکھلایا۔ جس سے صادقین اور مکذبین کے انجام کا دنیا ہی میں الگ الگ پتہ چل جاتا ہے۔
Ayah 26:68

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:68 in the Quran reader

اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والاف 7

7 یہ سنا دیا ہمارے حضرت ﷺ کو کہ مکہ کے فرعون بھی مسلمانوں کے پیچھے نکلیں گے لڑائی کو۔ پھر وطن سے باہر تباہ ہوں گے " بدر " کے دن، جیسے فرعون تباہ ہوا۔ (موضح القرآن)
Ayahs 26:69–70

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 26:69 in the Quran reader

اور سنا دے ان کو خبر ابراہیم کی

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 26:70 in the Quran reader

جب کہا اپنے باپ کو اور اس کی قوم کو تم کس کو پوجتے ہو8

8 یعنی یہ چیز کیا ہے جسے تم پوجتے ہو ؟
Ayah 26:71

قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ Open ayah 26:71 in the Quran reader

وہ بولے ہم پوجتے ہیں مورتوں کو پھر سارے دن انہی کے پاس لگے بیٹھے رہتے ہیں9

9 یعنی تم ہمارے معبودوں کو جانتے نہیں، جو ایسی تحقیر سے سوال کر رہے ہو۔ ہم ان مورتوں کو پوجتے ہیں اور اس قدر وقعت و عقیدت ہمارے دل میں ہے کہ دن بھر آسن جما کر ان ہی کو لگے بیٹھے رہتے ہیں۔
Ayah 26:72

قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَۙ Open ayah 26:72 in the Quran reader

کہا کچھ سنتے ہیں تمہارا کیا جب تم پکارتے ہو10

10 یعنی اتنا پکارنے پر کبھی تمہاری بات سنتے ہیں ؟ اگر نہیں سنتے (جیسا کہ ان کے جماد ہونے سے ظاہر ہے) تو پکارنا فضول ہے۔
Ayah 26:73

اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ Open ayah 26:73 in the Quran reader

یا کچھ بھلا کرتے ہیں تمہارا یا برا11

11 یعنی کیا پوجنے پر کچھ نفع یا نہ پوجنے کی صورت میں کچھ نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟ ظاہر ہے جو اپنے اوپر سے مکھی تک نہ اڑا سکیں وہ دوسرے کو کیا نفع نقصان پہنچا سکیں گے ؟ پھر ایسی عاجز و لایعقل چیز کو معبود بنانا کہاں کی عقلمندی ہے۔
Ayah 26:74

قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 26:74 in the Quran reader

بولے نہیں پر ہم نے پایا اپنے باپ دادوں کو یہی کام کرتے12

12 یعنی ان منطقی بحثوں اور کج حجتیوں کو ہم نہیں جانتے، نہ ہماری عقیدت اور پرستش کا مدار ان باتوں پر ہے بس سو دلیلوں کی ایک دلیل یہ ہے کہ ہمارے بڑے اسی طرح کرتے چلے آئے۔ یا ہم ان سب کو احمق سمجھ لیں۔
Ayahs 26:75–76

قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:75 in the Quran reader

کہا بھلا دیکھتے ہو جن کو پوجتے رہے ہو

اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ٘ۖ Open ayah 26:76 in the Quran reader

تم اور تمہارے باپ دادے اگلے13

13 یعنی ان کا پوجنا ایک پرانی حماقت ہے، ورنہ جس کے اختیار اور قبضہ میں ذرہ برابر نفع نقصان نہ ہو اس کی عبادت کیسی ؟
Ayah 26:77

فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:77 in the Quran reader

سو وہ میرے غنیم ہیں14 مگر جہان کا رب15

14 یعنی لو ! میں بےخوف و خطر اعلان کرتا ہوں کہ تمہارے ان معبودوں سے میری لڑائی ہے۔ میں ان کی گت بنا کر رہوں گا۔ (وَتَاللّٰهِ لَاَكِيْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِيْنَ ) 21 ۔ الانبیآء :57) اگر ان میں کوئی طاقت ہے تو مجھ کو نقصان پہنچا دیکھیں۔ کما قال تعالیٰ فی موضع آخر۔ (وَلَآ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖٓ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ رَبِّيْ شَـيْــــًٔـا) 6 ۔ الانعام :80) وقال نوح (علیہ السلام) (فَاَجْمِعُوْٓا اَمْرَكُمْ وَشُرَكَاۗءَكُمْ ) 10 ۔ یونس :71) وقال ہود (علیہ السلام) (فَكِيْدُوْنِيْ جَمِيْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ ) 11 ۔ ہود :55) اور بعض مفسرین نے کہا کہ یہ نہایت موثر و لطیف پیرایہ میں مشرکین پر تعریض ہے۔ یعنی جن کی تم عبادت کر رہے ہو میں ان کو اپنا دشمن سمجھتا ہوں۔ اگر نعوذ باللہ ان کی پرستش کروں تو سراسر نقصان ہے۔ اسی سے سمجھ لو کہ تم بھی ان کی عبادت کر کے نقصان اٹھا رہے ہو۔ 15 کہ وہ ہی میرا معبود، دوست اور مددگار ہے۔
Ayah 26:78

الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ Open ayah 26:78 in the Quran reader

جس نے مجھ کو بنایا سو وہی مجھ کو راہ دکھلاتا ہے1

1 یعنی فلاح دارین کی راہ دکھاتا اور اعلیٰ درجہ کے فوائد و منافع کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔