26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 26:79–81

وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ Open ayah 26:79 in the Quran reader

اور وہ جو مجھ کو کھلاتا ہے اور پلاتا ہے

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ Open ayah 26:80 in the Quran reader

اور جب میں بیمار ہوں تو وہی شفا دیتا ہے

وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ Open ayah 26:81 in the Quran reader

اور وہ جو مجھ کو مارے گا پھر جلائے گا2

2 یعنی کھلانا پلانا، مارنا جلانا اور بیماری سے اچھا کرنا، سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔
Ayah 26:82

وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 26:82 in the Quran reader

اور وہ جو مجھ کو توقع ہے کہ بخشے میری تقصیر انصاف کے دن3

3 یعنی کسی معاملہ میں بھول چوک یا اپنے درجہ کے موافق خطاء و تقصیر ہوجائے تو اس کی مہربانی سے معافی کی توقع ہوسکتی ہے، کوئی دوسرا معاف کرنے والا نہیں۔ آگے حق تعالیٰ کے کمالات اور مہربانیوں کا ذکر کرتے کرتے حضرت ابراہیم نے غلبہ حضور سے دعا شروع کردی جو کمال عبدیت کے لوازم میں سے ہے۔
Ayah 26:83

رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 26:83 in the Quran reader

اے میرے رب دے مجھ کو حکم اور ملا مجھ کو نیکوں میں4

4 یعنی مزید علم و حکمت اور درجات قرب و قبول مرحمت فرما، اور اعلیٰ درجہ کے نیکوں کے زمرہ میں (جو انبیاء (علیہم السلام) ہیں) شامل رکھ۔ کما قال نبینا ﷺ " اَللّٰہُمَّ فِی الرَّفِیق الْاَعْلٰی " اس دعا سے اپنی کامل احتیاج اور حق تعالیٰ کی غناء کا اظہار مقصود ہے یعنی نبی ہو یا ولی، اللہ تعالیٰ کسی کے معاملہ میں مجبور و مضطر نہیں، ہمہ وقت اس کے فضل و رحمت سے کام چلتا ہے۔
Ayah 26:84

وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 26:84 in the Quran reader

اور رکھ میرا بول سچا پچھلوں میں5

5 یعنی ایسے اعمال مرضیہ اور آثار حسنہ کی توفیق دے کر پیچھے آنے والی نسلیں ہمیشہ میرا ذکر خیر کریں اور میرے راستہ پر چلنے کی طرف راغب ہوں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آخر زمانے میں میرے گھرانے سے نبی ہو اور امت ہو، اور میرا دین تازہ کریں۔ چناچہ یہ ہی ہوا کہ حق تعالیٰ نے ابراہیم کو دنیا میں قبول عام عطا فرمایا۔ ان کی نسل سے خاتم الانبیاء ﷺ کو مبعوث کیا جنہوں نے ملت ابراہیمی کی تجدید کی اور فرمایا کہ میں ابراہیم کی دعا ہوں، آج بھی ابراہیم کا ذکر خیر اہل ملل کی زبانوں پر جاری ہے اور امت محمدیہ تو ہر نماز میں " کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ " اور " کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ " پڑھتی ہے۔
Ayah 26:85

وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 26:85 in the Quran reader

اور کر مجھ کو وارثوں میں نعمت کے باغ کے6

6 یعنی جنت کا جو آدم کی میراث ہے۔
Ayah 26:86

وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 26:86 in the Quran reader

اور معاف کر میرے باپ کو وہ تھا راہ بھولے ہوؤں میں7

7 ترجمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دعا باپ کی موت کے بعد کی۔ مگر دوسری جگہ تصریح آگئی کہ جب اس کا دشمن خدا ہونا ظاہر ہوگیا تو برأت اور بیزاری کا اظہار فرمایا۔ کما قال تعالیٰ ۔ (وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ) 9 ۔ التوبہ :114) اور اگر " انہ کان من الضآلین " میں " کان " کا ترجمہ " تھا " کے بجائے " ہے " سے کیا جائے، پھر کوئی اشکال نہیں۔ کیونکہ زندگی میں ایمان لے آنے کا امکان تھا۔ تو دعاء کا حاصل یہ ہے کہ الٰہی اس کو ایمان سے مشرف فرما کر کفر کے زمانہ کی خطائیں معاف فرما دے۔ اس کی قدرے مفصل تحقیق پہلے کسی جگہ گزر چکی ہے۔ فلیراجع۔
Ayahs 26:87–89

وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ Open ayah 26:87 in the Quran reader

اور رسوا نہ کر مجھ کو جس دن سب جی کر اٹھیں

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ Open ayah 26:88 in the Quran reader

جس دن نہ کام آئے کوئی مال اور نہ بیٹے

اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ Open ayah 26:89 in the Quran reader

مگر جو کوئی آیا اللہ کے پاس لے کر دل چنگا8

8 یعنی بھلا چنگا بےروگ دل جو کفر و نفاق اور فاسد عقیدوں سے پاک ہوگا وہ ہی وہاں کام دے گا۔ نرے مال و اولاد کچھ کام نہ آئیں گے۔ اگر کافر چاہے کہ قیامت میں مال و اولاد فدیہ دے کر جان چھڑا لے، تو ممکن نہیں۔ یہاں کے صدقات و خیرات اور نیک اولاد سے بھی کچھ نفع کی توقع اسی وقت ہے جب اپنا دل کفر کی پلیدی سے پاک ہو۔
Ayahs 26:90–91

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 26:90 in the Quran reader

اور پاس لائیں بہشت کو واسطے ڈر والوں کے

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ Open ayah 26:91 in the Quran reader

اور نکالیں دوزخ کو سامنے بےراہوں کے9

9 یعنی محشر میں جنت مع اپنی انتہائی آرائش و زیبائش کے متقین کو قریب نظر آئے گی۔ جسے دیکھ کر داخل ہونے سے پہلے ہی مسرور و محفوظ ہوں گے۔ اسی طرح دوزخ کو مجرموں کے پاس لے آئیں گے تاکہ داخل ہونے سے پیشتر ہی خوف کھا کر لرزنے لگیں۔
Ayahs 26:92–93

وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:92 in the Quran reader

اور کہیں ان کو کہاں ہیں جن کو تم پوجتے تھے

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ Open ayah 26:93 in the Quran reader

اللہ کے سوائے کیا کچھ مدد کرتے ہیں تمہاری یا بدلہ لے سکتے ہیں10

10 یعنی اب وہ فرضی معبود کہاں گئے کہ نہ تمہاری مدد کر کے اس عذاب سے چھڑا سکتے ہیں نہ بدلہ لے سکتے ہیں بلکہ خود اپنی بھی مدد نہیں کرسکتے۔
Ayahs 26:94–101

فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ Open ayah 26:94 in the Quran reader

پھر اوندھے ڈالیں اس میں ان کو اور سب بےراہوں کو

وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ Open ayah 26:95 in the Quran reader

اور ابلیس کے لشکر کو سبھوں کو

قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ Open ayah 26:96 in the Quran reader

کہیں گے جب وہ وہاں باہم جھگڑنے لگیں

تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 26:97 in the Quran reader

قسم اللہ کی ہم تھے صریح غلطی میں

اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 26:98 in the Quran reader

جب ہم تم کو برابر کرتے تھے پروردگار عالم کے

وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 26:99 in the Quran reader

اور ہم کو راہ سے بہکایا سو ان گناہ گاروں نے

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ Open ayah 26:100 in the Quran reader

پھر کوئی نہیں ہماری سفارش کرنے والے

وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ Open ayah 26:101 in the Quran reader

اور نہ کوئی دوست محبت کرنے والاف 1

1 یعنی بت اور بت پرست اور ابلیس کا سارا لشکر، سب کو دوزخ میں اوندھے منہ گرا دیا جائے گا۔ وہاں پہنچ کر آپس میں جھگڑیں گے۔ ایک دوسرے کو الزام دے گا اور آخرکار اپنی گمراہی کا اعتراف کریں گے کہ واقعی ہم سے بڑی سخت غلطی ہوئی کہ تم کو (یعنی بتوں کو یا دوسری چیزوں کو جنہیں خدائی کے حقوق و اختیار دے رکھے تھے) رب العالمین کے برابر کردیا۔ کیا کہیں یہ غلطی ہم سے ان بڑے شیطانوں نے کرائی، اب ہم اس مصیبت میں گرفتار ہیں نہ کوئی بت کام دیتا ہے نہ شیطان مدد کو پہنچتا ہے۔ وہ خود ہی دوزخ کے کندے بن رہے ہیں۔ کوئی اتنا بھی نہیں کہ خدا کے یہاں ہماری سفارش کر دے یا کم ازکم اس آڑے وقت میں کوئی دوست دلسوزی و ہمدردی کا اظہار کرے۔ سچ ہے (اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ ) 43 ۔ الزخرف :67)
Ayah 26:102

فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:102 in the Quran reader

سو کسی طرح ہم کو پھرجانا ملے تو ہم ہوں ایمان والوں میں2

2 یعنی اگر ایک مرتبہ ہم کو پھر دنیا کی طرف واپس جانے کا موقع دیا جائے تو اب وہاں سے پکے ایماندار بن کر آئیں لیکن یہ کہنا بھی جھوٹ ہے۔ ( وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ ) 6 ۔ الانعام :28)
Ayah 26:103

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:103 in the Quran reader

اس بات میں نشانی ہے اور بہت لوگ ان میں نہیں ماننے والے3

3 یعنی ابراہیم کے اس قصہ میں توحید وغیرہ کے دلائل اور مشرکین کا عبرتناک انجام دکھلایا گیا ہے مگر لوگ کہاں مانتے ہیں۔
Ayahs 26:104–108

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:104 in the Quran reader

اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:105 in the Quran reader

جھٹلایا نوح کی قوم نے پیغام لانے والوں کو

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:106 in the Quran reader

جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے کیا تم کو ڈر نہیں

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:107 in the Quran reader

میں تمہارے واسطے پیغام لانے والا ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:108 in the Quran reader

معتبر سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو4

4 یعنی نہایت صدق و امانت کے ساتھ حق تعالیٰ کا پیغام بلا کم وکاست تم کو پہنچاتا ہوں۔ لہذا واجب ہے کہ پیغام الٰہی سن کر خدا سے ڈرو۔ اور میرا کہا مانو۔
Ayahs 26:109–110

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 26:109 in the Quran reader

اور مانگتا نہیں میں تم سے اس پر کچھ بدلہ میرا بدلہ ہے اسی پروردگار عالم پر

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ Open ayah 26:110 in the Quran reader

سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو5

5 یعنی ایک بےغرض اور بےلوث آدمی کی بات ماننی چاہیے۔
Ayah 26:111

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ Open ayah 26:111 in the Quran reader

بولے کیا ہم تجھ کو مان لیں اور تیرے ساتھ ہو رہے ہیں کمینے6

6 یعنی تھوڑے سے کمینے اور نیچ قوم کے لوگ اپنی نمود کے لیے تیرے ساتھ ہوگئے ہیں، بھلا یہ کیا اونچے کام کریں گے اور ہمارا فضل و شرف کب اجازت دے سکتا ہے کہ ان کمینوں کے دوش بدوش تمہاری مجلس میں بیٹھا کریں، پہلے تو آپ ان کو اپنے یہاں سے کھسکائیے۔ پھر ہم سے بات کرنا۔
Ayahs 26:112–114

قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:112 in the Quran reader

کہا مجھ کو کیا جاننا ہے اس کا جو کام وہ کر رہے ہیں

اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ Open ayah 26:113 in the Quran reader

ان کا حساب پوچھنا میرے رب کا ہی کام ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو

وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:114 in the Quran reader

اور میں ہانکنے والا نہیں ایمان لانے والوں کو7

7 یعنی مجھے ان کا صدق و ایمان قبول ہے، ان کے پیشے یا نیت اور اندرونی کاموں کے جاننے سے کیا مطلب۔ اس کا فیصلہ اور حساب تو پروردگار کے یہاں ہوگا۔ باقی میں تمہاری خاطر سے غریب ایمانداروں کو اپنے پاس سے دھکے نہیں دے سکتا۔
Ayah 26:115

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 26:115 in the Quran reader

میں تو بس یہی ڈر سنا دینے والا ہوں کھول کر8

8 یعنی میرا فرض تم کو آگاہ کردینا تھا سو کرچکا، تمہاری لغو فرمائشیں پوری کرنا میرے ذمہ نہیں۔
Ayah 26:116

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ Open ayah 26:116 in the Quran reader

بولے اگر تو نہ چھوڑے گا اے نوح تو ضرور سنگسار کردیا جائے گا9

9 یعنی بس اب ہم کو اپنی نصیحت سے معاف رکھو، اگر اس روش سے باز نہ آئے تو سنگسار کیے جاؤ گے۔
Ayahs 26:117–118

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ Open ayah 26:117 in the Quran reader

کہا اے رب میری قوم نے تو مجھ کو جھٹلایا

فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:118 in the Quran reader

سو فیصلہ کر دے میرے ان کے بیچ میں کس طرح کا فیصلہ10 اور بچا لے مجھ کو اور جو میرے ساتھ ہیں ایمان والے1

10 یعنی میرے اور ان کے درمیان عملی فیصلہ فرما دیجئے۔ اب ان کے راہ راست پر آنے کی توقع نہیں۔ 1 یعنی مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو الگ کر کے ان کا بیڑا غرق کر۔