23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 23:81–83

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

کوئی بات نہیں یہ تو وہی کہہ رہے ہیں جیسا کہا کرتے تھے پہلے لوگ

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

کہتے ہیں کیا جب ہم مرگئے اور ہوگئے مٹی اور ہڈیاں کیا ہم کو زندہ ہو کر اٹھنا ہے

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

وعدہ دیا جاتا ہے ہم کو اور ہمارے باپ دادوں کو یہی پہلے سے اور کچھ بھی نہیں یہ نقلیں ہیں پہلوں کی7

7 یعنی عقل و فہم کی بات کچھ نہیں محض پرانے لوگوں کی اندھی تقلید کیے چلے جا رہے ہیں، وہ ہی دقیانوسی شکوک پیش کرتے ہیں جو ان کے پیشرو کیا کرتے تھے۔ یعنی مٹی میں مل کر اور ریزہ ریزہ ہو کر ہم کیسے زندہ کیے جائیں گے ؟ ایسی دورازعقل باتیں جو ہم کو سنائی جا رہی ہیں پہلے ہمارے باپ دادوں سے بھی کہی گئی تھیں۔ لیکن ہم نے تو آج تک خاک کے ذروں اور ہڈیوں کے ریزوں کو آدمی بنتے نہ دیکھا۔ ہو نہ ہو یہ سب قصے کہانیاں ہیں جو پہلے لوگ گھڑ گئے تھے۔ اور اب ان ہی کی نقل کی جا رہی ہے۔
Ayahs 23:84–85

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

تو کہہ کس کی ہے زمین اور جو کوئی اس میں ہے بتاؤ اگر تم جانتے ہو

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

اب کہیں گے سب کچھ اللہ کا ہے تو کہہ پھر تم سوچتے نہیں8

8 کہ جس کا قبضہ ساری زمین اور زمینی چیزوں پر ہے۔ کیا تمہاری مشت خاک اس کے قبضہ سے باہر ہوگی ؟
Ayahs 23:86–87

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

تو کہہ کون ہے مالک ساتوں آسمان کا اور مالک اس بڑے تخت کا

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

اب بتائیں گے اللہ کو تو کہہ پھر تم ڈرتے نہیں1

1 کہ اتنا بڑا شہنشاہ مطلق تمہاری ان گستاخیوں اور نافرمانیوں پر تم کو دھر گھسیٹے۔ کیا یہ انتہائی گستاخی نہیں کہ اس شہنشاہ مطلق کو ایک ذرہ بےمقدار سے عاجز قرار دینے لگے۔
Ayahs 23:88–89

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

تو کہہ کس کے ہاتھ میں ہے حکومت ہر چیز کی اور وہ بچا لیتا ہے اور اس سے کوئی بچ نہیں سکتا بتاؤ اگر تم جانتے ہو

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

اب بتائیں گے اللہ کو2 تو کہہ پھر کہاں سے تم پر جادو آپڑتا ہے3

2 یعنی ہر چیز پر اسی کا اختیار چلتا ہے جس کو چاہے وہ پناہ دے سکتا ہے۔ لیکن کوئی دوسرا اس کے مجرم کو پناہ نہیں دے سکتا۔ 3 جس سے مسحور ہو کر تم ہوش و حواس کھو بیٹھتے ہو کہ ایسی موٹی باتیں بھی نہیں سمجھ سکتے جب تمام زمین و آسمان کا مالک وہ ہی ہوا اور ہر چیز اسی کے زیر تصرف و اقتدار ہوئی، تو آخر تمہارے بدن کی ہڈیاں اور ریزے اس کے قبضہ اقتدار سے نکل کر کہاں چلے جائیں گے کہ ان پر وہ قادر مطلق اپنی مشیت نافذ نہ کرسکے گا۔
Ayah 23:90

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

کوئی نہیں ہم نے ان کو پہنچایا سچ اور وہ البتہ جھوٹے ہیں4

4 یعنی دلائل و شواہد سے ظاہر کردیا گیا کہ جو کچھ ان سے کہا جا رہا ہے موبموصحیح اور حق ہے اور وہ لوگ محض جھوٹے خیالات کی پیروی کر رہے ہیں۔
Ayah 23:91

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

اللہ نے کوئی بیٹا نہیں کیا اور نہ اس کے ساتھ کسی کا حکم چلے یوں ہوتا تو لے جاتا ہر حکم والا اپنی بنائی چیز کو اور چڑھائی کرتا ایک پر ایک5 اللہ نرالہ ہے ان کی بتلائی باتوں سے6

5 یعنی زمین و آسمان اور ذرہ ذرہ کا تنہا مالک و مختار وہ ہی ہے نہ اسے بیٹے کی ضرورت نہ مددگار کی، نہ اس کی حکومت و فرمانروائی میں کوئی شریک جسے ایک ذرہ کا مستقل اختیار ہو۔ ایسا ہوتا تو ہر ایک با اختیار حاکم اپنی رعایا کو لے کر علیحدہ ہوجاتا اور اپنی جمعیت فراہم کر کے دوسرے پر چڑھائی کردیتا اور عالم کا یہ مضبوط و محکم نظام چند روز بھی قائم نہ رہ سکتا۔ سورة انبیاء کی آیت (لَوْ كَانَ فِيْهِمَآ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا) 21 ۔ الانبیآء :22) کے فوائد میں اس کی تقریر کی جا چکی ہے ملاحظہ کرلی جائے۔ 6 کیا خدا کی شان یہ ہوتی ہے کہ اس کے آگے کوئی دم مار سکے یا ایک ذرہ اس کے حکم سے باہر ہو سکے۔
Ayah 23:92

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

جاننے والا چھپے اور کھلے کا وہ بہت اوپر ہے اس سے جس کو شریک بتلاتے ہیں7

7 یعنی جس کی قدرت عامہ و تامہ کا حال پہلے بیان ہوچکا اور علم محیط ایسا کہ کوئی ظاہر و باطن اور غیب و شہادت اس سے پوشیدہ نہیں۔ اس کی حکومت میں کیا وہ چیزیں شریک ہوں گی جن کی قدرت اور علم وغیرہ سب صفات محدود و مستعار ہیں ؟ استغفر اللہ۔
Ayahs 23:93–94

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

تو کہہ اے رب اگر تو دکھانے لگے مجھ کو جو ان سے وعدہ ہوا ہے

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

تو اے رب مجھ کو نہ کریو ان گناہ گار لوگوں میں8

8 یعنی حق تعالیٰ کی جناب میں ایسی گستاخی کی جاتی ہے تو یقینا کوئی سخت آفت آکر رہے گی۔ اس لیے ہر مومن کو ہدایت ہوئی کہ اللہ کے عذاب سے ڈر کر یہ دعاء مانگے کہ جب ظالموں پر عذاب آئے تو الٰہی مجھ کو اس کے ذیل میں شامل نہ کرنا۔ جیسا کہ حدیث میں آیا " وَاِذَا اَرَدْتَ بِقَوْمٍ فِتْنَۃً فَا قْبِضْنِیْ غَیْرَ مَفْتُونٍ " کا مطلب یہ ہے کہ خداوندا ہم کو ایمان و احسان کی راہ پر مستقیم رکھ۔ کوئی ایسی تقصیر نہ ہو کہ العیاذ باللہ تیرے عذاب کی لپیٹ میں آجائیں۔ جیسے دوسری جگہ ارشاد ہوا۔ (وَاتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَاۗصَّةً ) 8 ۔ الانفال :25) یہاں حضور ﷺ کو مخاطب بنا کر دوسروں کو سنانا ہے اور یہ قرآن کریم کی عام عادت ہے۔
Ayahs 23:95–96

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

اور ہم کو قدرت ہے کہ تجھ کو دکھلا دیں جو ان سے وعدہ کردیا ہے

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

بری بات کے جواب میں وہ کہہ جو بہتر ہے ہم خوب جانتے ہیں جو یہ بتاتے ہیں9

9 یعنی ہم کو قدرت ہے کہ تمہاری آنکھوں کے سامنے دنیا ہی میں ان کو سزا دے دیں لیکن آپ ﷺ کے مقام بلند اور اعلیٰ اخلاق کا مقتضی یہ ہے کہ ان کی برائی کو بھلائی سے دفع کریں جہاں تک اس طرح دفع ہوسکتی ہے۔ اور ان کی بیہودہ بکواس سے مشتعل نہ ہوں۔ اس کو ہم خوب جانتے ہیں، وقت پر کافی سزا دی جائے گی۔ آپ ﷺ کے اغماض اور نرم برتاؤ کا اثر یہ ہوگا کہ بہت سے لوگ گرویدہ ہو کر آپ ﷺ کی طرف جھکیں گے اور دعوت و اصلاح کا مقصود حاصل ہوگا۔
Ayah 23:97

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور کہہ اے رب میں تیری پناہ چاہتا ہوں شیطان کی چھیڑ سے10

10 پہلے شیاطین الانس کے ساتھ برتاؤ کرنے کے طریقہ بتلایا تھا۔ لیکن شیاطین الجن اس طریقہ سے متأثر نہیں ہوسکتے۔ کوئی تدبیر یا نرمی ان کو رام نہیں کرسکتی۔ اس کا علاج صرف استعاذہ ہے یعنی اللہ کی پناہ میں آجانا، تاوہ قادر مطلق ان کی چھیڑخانی اور شر سے محفوظ رکھے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ شیطان کی چھیڑ یہ ہے کہ دین کے سوال و جواب میں بےموقع غصہ چڑھے اور لڑائی ہو پڑے۔ اسی پر فرمایا کہ برے کا جواب دے اس سے بہتر۔
Ayah 23:98

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور پناہ تیری چاہتا ہوں اے رب اس سے کہ میرے پاس آئیں11

11 یعنی کسی حال میں بھی شیطان کو میرے پاس نہ آنے دیجئے کہ مجھ پر وہ اپنا وار کرسکے۔
Ayahs 23:99–100

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پہنچے ان میں کسی کو موت کہے گا اے رب مجھ کو پھر بھیج دو

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

شاید کچھ میں بھلا کام کرلوں اس میں جو پیچھے چھوڑ آیا1 ہرگز نہیں یہ ایک بات ہے کہ وہی کہتا ہے2 اور ان کے پیچھے پردہ ہے اس دن تک کہ اٹھائے جائیں3

1 یعنی آپ ان کفار کی برائیوں کو بھلے طریقہ سے دفع کرتے رہیے۔ اور جو باتیں یہ بناتے ہیں ان کو ہمارے حوالہ کیجئے یہاں تک کہ ان میں سے بعض کی موت کا وقت آپہنچے اور نزع کی حالت میں مبادی عذاب کا معائنہ کر کے پچھتاوا شروع ہو۔ اس وقت تمنا کریں گے کہ اے پروردگار ! قبر کی طرف لے جانے کے بجائے ہم کو پھر دنیا کی طرف واپس کردو۔ تاکہ گذشتہ زندگی میں جو تقصیرات ہم نے کی ہیں اب نیک عمل سے ان کی تلافی کرسکیں۔ آئندہ ہم ایسی خطائیں ہرگز نہیں کریں گے۔ کما قال تعالیٰ ۔ (وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُوْلَ رَبِّ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِيْٓ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ ۙ فَاَصَّدَّقَ وَاَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ ) 63 ۔ المنافقون :10) 2 یعنی اجل آجانے کے بعد اس کام کے لیے ہرگز واپس نہیں کیا جاسکتا اور بالفرض واپس کردیا جائے تو ہرگز نیک کام نہ کرے گا۔ وہ ہی شرارتیں پھر سوجھیں گی۔ ( وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ ) 6 ۔ الانعام :28) یہ محض اس کی بات ہے جو زبان سے بنا رہا ہے اور غلبہ حسرت و ندامت کی وجہ سے خاموش نہیں رہ سکتا وہ ہی اپنی طرف سے یہ بات کہتا ہے، کہتا رہے، ہمارے یہاں شنوائی نہیں ہوگی۔ 3 یعنی ابھی کیا دیکھا ہے۔ موت ہی سے اس قدر گھبرا گیا۔ آگے اس کے بعد ایک اور عالم برزخ آتا ہے۔ جہاں پہنچ کر دنیا والوں سے پردہ میں ہوجاتا ہے اور آخرت بھی سامنے نہیں آتی۔ ہاں عذاب آخرت کا تھوڑا سا نمونہ سامنے آتا ہے جس کا مزہ قیامت تک پڑا چکھتا رہے گا۔
Ayah 23:101

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جب پھونک ماریں صور میں تو نہ قرابتیں ہیں ان میں اس دن اور نہ ایک دوسرے کو پوچھے4

4 یعنی عالم برزخ کے بعد قیامت کی گھڑی ہے۔ دوسری مرتبہ صور پھونکنے کے بعد تمام خلائق کو ایک میدان میں لا کھڑا کریں گے۔ اس وقت ہر ایک شخص اپنی فکر میں مشغول ہوگا۔ اولاد ماں باپ سے، بھائی بھائی سے اور میاں بیوی سے سروکار نہ رکھے گا۔ ایک دوسرے سے بیزار ہوں گے۔ کوئی کسی کی بات نہ پوچھے گا۔ (يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ 34؀ۙ وَاُمِّهٖ وَاَبِيْهِ 35؀ۙ وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيْهِ 36؀ۭ لِكُلِّ امْرِۍ مِّنْهُمْ يَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْهِ 37؀) 80 ۔ عبس :34 تا 37) اس کے بعد دوسرے وقت ممکن ہے بعض قرابتوں سے کچھ نفع پہنچ جائے کما قال تعالیٰ (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ) 52 ۔ الطور :21) (تنبیہ) بعض احادیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن سارے نسب اور دامادی کے تعلقات منقطع ہوجائیں گے (یعنی کام نہ دیں گے) " اِلَّانَسَبِیْ وَصِہْرِی " (بجز میرے نسب اور صہر کے) معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کے تعلقات عموم سے مستثنیٰ ہیں۔ اسی حدیث کو سن کر حضرت عمر ؓ نے ام کلثوم بنت علی بن ابی طالب سے نکاح کیا، اور چالیس ہزار درہم مہرب اندھا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " وہاں باپ بیٹا ایک دوسرے کو شامل نہیں، ہر ایک سے اس کے عمل کا حساب ہے۔ "'
Ayahs 23:102–104

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

سو جس کی بھاری ہوئی تول تو وہی لوگ کام لے نکلے

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جس کی ہلکی نکلی تول سو وہی لوگ ہیں جو ہار بیٹھے اپنی جان دوزخ ہی میں رہا کریں گے

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

جھلس دے گی ان کے منہ کو آگ اور وہ اس میں بد شکل ہو رہے ہوں گے5

5 جلتے جلتے بدن سوج جائے گا، نیچے کا ہونٹ لٹک کر ناف تک اور اوپر کا پھول کر کھوپڑی تک پہنچ جائے گا، اور زبان باہر نکل کر زمین میں لٹکتی ہوگی جسے دوزخی پاؤں سے روندیں گے (اللہم احفظنا منہ ومن سآئر انواع العذاب)
Ayah 23:105

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

کیا تم کو سنائی نہ تھیں ہماری آیتیں پھر تم ان کو جھٹلاتے تھے6

6 یعنی اس وقت ان سے یوں کہیں گے۔ گویا جن باتوں کو دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے، اب آنکھوں سے دیکھ لو سچی تھیں یا جھوٹی ؟
Ayahs 23:106–107

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

بولے اے رب زور کیا ہم پر ہماری کم بختی نے اور رہے ہم لوگ بہکے ہوئے

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے ہمارے رب نکال لے ہم کو اس میں سے اگر ہم پھر کریں تو ہم گناہ گار7

7 یعنی اعتراف کریں گے کہ بیشک ہماری بدبختی نے دھکا دیا جو سیدھے راستہ سے بہک کر اس ابدی ہلاکت کے گڑھے میں آپڑے۔ اب ہم نے سب کچھ دیکھ لیا۔ ازراہ کرم ایک دفعہ ہم کو یہاں سے نکال دیجئے۔ پھر کبھی ایسا کریں تو گنہگار، جو سزا چاہیے دیجئے گا۔
Ayahs 23:108–109

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

فرمایا پڑے رہو پھٹکارے ہوئے اس میں اور مجھ سے نہ بولو

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

ایک فرقہ تھا میرے بندوں میں جو کہتے تھے اے رب ہمارے ہم یقین لائے، سو معاف کر ہم کو اور رحم کر ہم پر، اور تو سب رحم والوں سے بہتر ہے8

8 یعنی بک بک مت کرو، جو کیا تھا اب اس کی سزا بھگتو۔ آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جواب کے بعد پھر فریاد منقطع ہوجائے گی۔ بجز زفیرو شہیق کے کچھ کلام نہ کرسکیں گے۔ العیاذ باللہ۔
Ayah 23:110

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

پھر تم نے ان کو ٹھٹھوں میں پکڑا یہاں تک کہ بھول گئے ان کے پیچھے میری یاد اور تم ان سے ہنستے رہے1

1 یعنی دنیا میں مسلمان جب اپنے رب کے آگے دعاء و استغفار کرتے تو تم کو ہنسی سوجھتی تھی۔ اس قدر ٹھٹھا کرتے اور ان کی نیک خصلتوں کا اتنا مذاق اڑاتے تھے کہ ان کے پیچھے پڑ کر تم نے مجھے بھی یاد نہ رکھا، گویا تمہارے سر پر کوئی حاکم ہی نہ تھا جو کسی وقت ان حرکتوں پر نوٹس لے اور ایسی سخت شرارتوں کی سزا دے سکے۔
Ayah 23:111

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

میں نے آج دیا ان کو بدلہ ان کے صبر کرنے کا کہ وہی ہیں مراد کو پہنچنے والے2

2 بیچارے مسلمانوں نے تمہاری زبانی اور عملی ایذاؤں پر صبر کیا تھا، آج دیکھتے ہو تمہارے بالمقابل ان کو کیا پھل ملا۔ ان کو ایسے مقام پر پہنچا دیا گیا جہاں وہ ہر طرح کامیاب اور ہر قسم کی لذتوں اور مسرتوں سے ہمکنار ہیں۔
Ayahs 23:112–113

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

فرمایا تم کتنی دیر رہے زمین میں برسوں کی گنتی سے

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

بولے ہم رہے ایک دن یا کچھ دن سے کم تو پوچھ لے گنتی والوں سے3

3 یعنی فرشتوں سے۔ جنہوں نے ہر نیکی بدی گن رکھی ہے یہ بھی گنا ہوگا۔ " زمین میں رہنا " یعنی قبر میں رہنا یا دنیا کی عمر، یہ بھی وہاں تھوڑی نظر آئے گی۔ یہ پوچھنا اس واسطے کہ دنیا میں عذاب کی شتابی کیا کرتے تھے، اب جانا کہ شتاب ہی آیا۔ (کذافی موضح القرآن)
Ayah 23:114

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

فرمایا تم اس میں بہت نہیں تھوڑا ہی رہے ہو اگر تم جانتے ہوتے4

4 یعنی واقعی دنیا کی عمر تھوڑی ہی تھی۔ لیکن اگر اس بات کو پیغمبروں کے کہنے سے دنیا میں سمجھ لیتے تو کبھی اس متاع فانی پر مغرور ہو کر انجام سے غافل نہ ہوتے اور وہ گستاخیاں اور شرارتیں نہ کرتے جن کا دنیا کی زائل وفانی لذتوں میں پڑ کر ارتکاب کیا۔
Ayah 23:115

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

سو کیا تم خیال رکھتے ہو کہ ہم نے تم کو بنایا کھیلنے کو اور تم ہمارے پاس پھر کر نہ آؤ گے5

5 یعنی دنیا میں تو نیکی بدی کا پورا نتیجہ نہیں ملتا۔ اگر اس زندگی کے بعد دوسری زندگی نہ ہو تو گویا یہ سب کارخانہ محض کھیل تماشہ اور بےنتیجہ تھا۔ سو حق تعالیٰ کی جناب اس سے بہت بلند ہے کہ اس کی نسبت ایسا رکیک خیال کیا جائے۔
Ayah 23:116

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

سو بہت اوپر ہے اللہ وہ بادشاہ سچا کوئی حاکم نہیں اس کے سوائے مالک اس عزت کے تخت کا6

6 جب وہ بالا و برتر، شنہشاہ مالک علی الاطلاق ہے تو ہو نہیں سکتا کہ وفاداروں اور مجرموں کو یوں کس مپرسی کی حالت میں چھوڑ دے۔
Ayah 23:117

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو کوئی پکارے اللہ کے ساتھ دوسرا حاکم جس کی سند نہیں اس کے پاس، سو اس کا حساب ہے اس کے رب کے نزدیک7 بیشک بھلا نہ ہوگا منکروں کا

7 یعنی وہاں حساب ہو کر مقدار جرم کے موافق سزا دی جائے گی۔
Ayah 23:118

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

اور تو کہہ اے رب معاف کر اور رحم کر اور تو ہے بہتر سب رحم والوں سے8

8 یعنی ہماری تقصیرات سے درگزر فرما اور اپنی رحمت سے دنیا و آخرت میں سرفراز کر۔ تیری رحمت بےنہایت کے سامنے کوئی چیز مشکل نہیں۔9 " افحسبتم " سے ختم سورت تک کی یہ آیتیں بہت بڑی فضیلت اور تاثیر رکھتی ہیں، جس کا ثبوت بعض احادیث سے ہوا ہے اور مشائخ نے تجربہ کیا ہے۔ چاہیے کہ ان آیات کا ورد رکھا جائے، خاتمہ پر وہ دعاء تبرکاً " و تفاؤلاً نقل کرتا ہوں جو رسول کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق کو تلقین فرمائی کیونکہ اس کے الفاظ ان آیات کے مناسب ہیں۔ " اَللّٰہُمَّ اِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیْراً وَاِنَّہ، لَایَغْفِرُ الذُّنُوبِ اِلَّا اَنْتَ فَاغْفِرْلِی مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِی اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُور الرَّحِیْم۔ " تم سورة المومنون بفضلہ ومنہ وحسن توفیقہ ونرجومنہ اکمال بقیۃ الفوائد۔