23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 23:41

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:41 in the Quran reader

پھر پکڑا ان کو چنگھاڑ نے تحقیق2 پھر کردیا ہم نے ان کو کوڑا3 سو دور ہوجائیں گناہ گار لوگ4

2 اس سے بظاہر مترشح ہوتا ہے کہ یہ قصہ " ثمود " کا ہے کہ وہ چنگھاڑ سے مرے ہیں۔ واللہ اعلم۔ 3 جیسے سیلاب خس و خاشاک کو بہا لے جاتا ہے، اس طرح عذاب الٰہی کے سیل میں بہے چلے گئے۔ 4 یعنی خدا کی رحمت سے۔
Ayahs 23:42–43

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 23:42 in the Quran reader

پھر پیدا کیں ہم نے ان سے پیچھے جماعتیں

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ Open ayah 23:43 in the Quran reader

اور نہ آگے جائے کوئی قوم اپنے وعدہ سے اور نہ پیچھے رہے5

5 یعنی ہر ایک قوم جس نے پیغمبروں کی تکذیب کی ٹھیک اپنے اپنے وعدہ پر ہلاک کی جاتی رہی، جو میعاد کسی قوم کی تھی ایک منٹ اس سے آگے پیچھے نہ ہوئی۔
Ayah 23:44

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 23:44 in the Quran reader

پھر بھیجتے رہے ہم اپنے رسول لگاتار جہاں پہنچا کسی امت کے پاس ان کا رسول اس کو جھٹلا دیا پھر چلاتے گئے ہم ایک کے پیچھے دوسرے اور کر ڈالا ان کو کہانیاں6 سو دور ہوجائیں جو لوگ نہیں مانتے7

6 یعنی رسولوں کا تانتا باندھ دیا یکے بعد دیگرے پیغمبر بھیجتے رہے اور مکذبین میں بھی ایک کو دوسرے کے پیچھے چلتا کرتے رہے۔ ادھر پیغمبروں کی بعث کا اور ادھر ہلاک ہونے والوں کا نمبر لگا دیا۔ چناچہ بہت قومیں ایسی تباہ و برباد کی گئیں جن کے قصے کہانیوں کے سوا کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ آج ان کی داستانیں محض عبرت کے لیے پڑھی اور سنی جاتی ہیں۔ 7 یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے۔
Ayahs 23:45–46

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 23:45 in the Quran reader

پھر بھیجا ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں دے کر اور کھلی سند

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ Open ayah 23:46 in the Quran reader

فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس، پھر لگے بڑائی کرنے اور وہ لوگ زور پر چڑھ رہے تھے8

8 اس لیے خدائی پیغام کو خاطر میں نہ لائے۔ کبرو غرور کے نشہ نے ان کے دماغوں کو بالکل مختل کر رکھا تھا۔
Ayah 23:47

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ Open ayah 23:47 in the Quran reader

سو بولے کیا ہم مانیں گے اپنے برابر کے دو آدمیوں کو اور ان کی قوم ہمارے تابعدار ہیں9

9 یعنی موسیٰ و ہارون کی قوم (بنی اسرائیل) تو ہماری غلامی کر رہی ہے ان میں کے دو آدمیوں کو ہم اپنا سردار کس طرح بنا سکتے ہیں۔
Ayahs 23:48–49

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ Open ayah 23:48 in the Quran reader

پھر جھٹلایا ان دونوں کو پھر ہوگئے غارت ہونے والوں میں

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 23:49 in the Quran reader

اور ہم نے دی موسیٰ کو کتاب تاکہ وہ راہ پائیں10

10 یعنی فرعونیوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے ان کو تورات شریف مرحمت کی تاکہ لوگ اس پر چل کر جنت اور رضائے الٰہی کی منزل تک پہنچ سکیں۔
Ayah 23:50

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ Open ayah 23:50 in the Quran reader

اور بنایا ہم نے مریم کے بیٹے اور اس کی ماں کو ایک نشانی11 اور ان کو ٹھکانا دیا ایک ٹیلہ پر جہاں ٹھہرنے کا موقع تھا اور پانی نتھرا12

11 یعنی قدرت الٰہیہ کی نشانی ہے کہ تنہا ماں سے بن باپ کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا کردیا۔ جیسا کہ " آل عمران " اور سورة " مریم " میں اس کی تقریر کی جا چکی۔ 12 شاید یہ وہ ہی ٹیلہ یا اونچی زمین ہو جہاں وضع حمل کے وقت حضرت مریم تشریف رکھتی تھیں۔ چناچہ سورة مریم کی آیات (فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَآ اَلَّا تَحْزَنِيْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا 24؀ وَهُزِّيْٓ اِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا 25؀ۡ) 19 ۔ مریم :25-24) دلالت کرتی ہیں کہ وہ جگہ بلند تھی۔ نیچے چشمہ یا نہر بہہ رہی تھی۔ اور کھجور کا درخت نزدیک تھا۔ (کذافسرہ ابن کثیر رحمہ اللّٰہ) لیکن عموماً مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ حضرت مسیح کے بچپن کا واقعہ ہے۔ ایک ظالم بادشاہ ہیردوس نامی نجومیوں سے سن کر کہ حضرت عیسیٰ کو سرداری ملے گی، لڑکپن ہی میں ان کا دشمن ہوگیا تھا اور قتل کے درپے تھا۔ حضرت مریم الہام ربانی سے ان کو لے کر مصر چلی گئیں اور اس ظالم کے مرنے کے بعد پھر شام واپس چلی آئیں۔ چناچہ " انجیل متی " میں بھی یہ واقعہ مذکور ہے اور مصر کا اونچا ہونا باعتبار رود نیل کے ہے ورنہ غرق ہوجاتا اور " ماء معین " رود نیل ہے بعض نے " ربوہ " (اونچی جگہ) سے مراد شام یا فلسطین لیا ہے۔ اور کچھ بعید نہیں کہ جس ٹیلہ پر ولادت کے وقت موجود تھیں وہیں اس خطرہ کے وقت بھی پناہ دی گئی ہو۔ واللہ اعلم۔ بہرحال اہل اسلام میں کسی نے " ربوہ " سے مراد کشمیر نہیں لیا۔ نہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی قبر کشمیر میں بتلائی۔ البتہ ہمارے زمانہ کے بعض زائغین نے " ربوہ " سے کشمیر مراد لیا ہے اور وہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قبر بتلائی ہے جس کا کوئی ثبوت تاریخی حیثیت سے نہیں۔ محض کذب و دروغبافی ہے۔ محلہ " خان یار " شہر سری نگر میں جو قبر " یوز آسف " کے نام سے مشہور ہے اور جس کی بابت " تاریخ اعظمی " کے مصنف نے محض عام افواہ نقل کی ہے کہ " لوگ اس کو کسی نبی کی قبر بتاتے ہیں وہ کوئی شہزاداہ تھا اور دوسرے ملک سے یہاں آیا " اس کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قبر بتانا پرلے درجہ کی بےحیائی اور سفاہت ہے۔ ایسی اٹکل پچوں قیاس آرائیوں سے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی حیات کو باطل ٹھہرانا بجز خبط اور جنون کے کچھ نہیں اگر اس قبر کی تحقیق مطلوب ہو اور یہ کہ " یوز آسف " کون تھا تو جناب منشی حبیب اللہ صاحب امرتسری کا رسالہ دیکھو جو خاص اس موضوع پر نہایت تحقیق و تدقیق سے لکھا گیا ہے۔ اور جس میں اس مہمل خیال کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں۔ فجزاہ اللہ تعالیٰ عنا وعن سائر المسلمین احسن الجزاء۔
Ayah 23:51

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ Open ayah 23:51 in the Quran reader

اے رسولو کھاؤ ستھری چیزیں اور کام کرو بھلا1 جو تم کرتے ہو میں جانتا ہوں2

1 یعنی سب پیغمبروں کے دین میں یہ ہی ایک حکم رہا کہ حلال کھانا حلال راہ سے کما کر۔ اور نیک کام کرنا۔ نیک کام سب خلق جانتی ہے۔ چناچہ تمام پیغمبر نہایت مضبوطی اور استقامت کے ساتھ اکل حلال، صدق مقال اور نیک اعمال پر مواظبت اور اپنی امتوں کو اسی کی تاکید کرتے رہے۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ اسی طرح کا حکم جو یہاں رسولوں کو ہوا، عامہ مومنین کو دیا گیا ہے۔ اس میں نصاریٰ کی رہبانیت کا بھی رد ہوگیا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر سے خاص مناسبت رکھتا ہے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس کا کھانا پینا، حرام کا ہو، اسے اپنی دعاء کے قبول ہونے کی توقع نہیں رکھنا چاہیے۔ اور بعض احادیث میں ہے کہ جو گوشت حرام سے آگاہ ہو، دوزخ کی آگ اس کی زیادہ حق دار ہے۔ العیاذ باللہ۔ 2 یعنی حلال کھانے اور نیک کام کرنے والوں کو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان کے تمام کھلے چھپے احوال و افعال سے باخبر ہے۔ اسی کے موافق ہر ایک سے معاملہ کرے گا۔ یہ رسولوں کو خطاب کر کے امتوں کو سنایا۔
Ayahs 23:52–53

وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 23:52 in the Quran reader

اور یہ لوگ ہیں تمہارے دین کے سب ایک دین پر اور میں ہوں تمہارا رب سو مجھ سے ڈرتے رہو

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 23:53 in the Quran reader

پھر پھوٹ ڈال کر کرلیا اپنا کام آپس میں ٹکڑے ٹکڑے3 ہر فرقہ جو ان کے پاس ہے اس پر ریجھ رہے ہیں4

3 یعنی اصول کے اعتبار سے تمام انبیاء کا دین وملت ایک اور سب کا خدا بھی ایک ہے جس کی نافرمانی سے ہمیشہ ڈرتے رہنا چاہیے۔ لیکن لوگوں نے پھوٹ ڈال کر اصل دین کو پارہ پارہ کردیا اور جدی جدی راہیں نکال لیں۔ اس طرح آراء وا ہواء کا اتباع کر کے سینکڑوں فرقے اور مذہب بن گئے۔ یہ تفریق انبیاء نے نہیں سکھلائی۔ ان کے یہاں ازمنہ وامکنہ وغیرہ کے اختلاف سے صرف فروعی اختلاف تھا۔ اصول دین میں سب بالکلیہ متفق رہے ہیں۔ عموماً مفسرین نے آیت کی تقریر اسی طرح کی ہے۔ لیکن حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " ہر پیغمبر کے ہاتھ اللہ تعالیٰ نے جو اس وقت کے لوگوں میں بگاڑ تھا، اس کا سنوار فرمایا۔ پیچھے لوگوں نے جانا ان کا حکم جدا جدا ہے۔ آخر ہمارے پیغمبر کی معرفت سب بگاڑ کا سنوار (اور سب خرابیوں کا علاج) اکٹھا بتادیا اب سب دین مل کر ایک دین ہوگیا۔ " اور سب قومیں ایک جھنڈے تلے جمع کردی گئیں۔ 4 یعنی سمجھتے ہیں کہ ہم ہی حق پر ہیں اور ہماری ہی راہ سیدھی ہے۔
Ayah 23:54

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:54 in the Quran reader

سو چھوڑ دے ان کو ان کی بیہوشی میں ڈوبے ایک وقت تک5

5 یعنی جن لوگوں نے انبیاء کی متفقہ ہدایات میں رخنے ڈال کر الگ الگ فرقے اور ملتیں قائم کردیں ہر فرقہ اپنے ہی عقائد و خیالات پر دل جمائے بیٹھا ہے۔ کسی طرح اس سے ہٹنا نہیں چاہتا، خواہ آپ کتنی ہی نصیحت فرمائیں تو آپ بھی ان کے غم میں زیادہ نہ پڑیے بلکہ تھوڑی سی مہلت دیجئے کہ یہ اپنی غفلت و جہالت کے نشہ میں ڈوبے رہیں۔ یہاں تک کہ وہ گھڑی آپہنچے جب ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں۔ یعنی موت یا عذاب الٰہی ان کے سروں پر منڈلانے لگے۔
Ayahs 23:55–56

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ Open ayah 23:55 in the Quran reader

کیا وہ خیال کرتے ہیں کہ یہ جو ہم ان کو دیے جاتے ہیں مال اور اولاد

نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 23:56 in the Quran reader

سو دوڑ دوڑ کر پہنچا رہے ہیں ہم ان کو بھلائیاں6 یہ بات نہیں وہ سمجھتے نہیں7

6 یہ ہی خیال ان کا تھا۔ چناچہ کہتے تھے (نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّاَوْلَادًا ۙ وَّمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِيْنَ ) 34 ۔ سبأ :35) یعنی ہم اگر خدا کے ہاں مردود و مبغوض ہوتے تو یہ مال و دولت اور اولاد وغیرہ کی بہتات کیوں ہوتی۔ 7 یعنی سمجھتے نہیں کہ مال و اولاد کی یہ افراط ان کی فضیلت و کرامت کی وجہ سے نہیں امہال و استدراج کی بناء پر ہے۔ جتنی ڈھیل دی جا رہی ہے اسی قدر ان کی شقاوت کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ (سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف :182)
Ayah 23:57

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ Open ayah 23:57 in the Quran reader

البتہ جو لوگ اپنے رب کے خوف سے اندیشہ رکھتے ہیں8

8 یعنی باوجود ایمان و احسان کے کفار و مغرورین کی طرح " مکراللہ " سے مامون نہیں ہمہ وقف خوف خدا سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں کہ نہ معلوم دنیا میں جو انعامات ہو رہے ہیں استدراج تو نہیں۔ حسن بصری کا مقولہ ہے۔ " اِنَّ الْمُومِنَ جمع اِحْسَانًا وَّشَفْقَۃً وَّاِنَّ الْمُنَافِقَ جَمَعَ اِسَاءَ ۃً وَاَمْنَا۔ " (مومن نیکی کرتا اور ڈرتا رہتا ہے اور منافق بدی کر کے بےفکر ہوتا ہے)
Ayah 23:58

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:58 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے رب کی باتوں پر یقین کرتے ہیں9

9 یعنی آیات کونیہ و شرعیہ دونوں پر یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ ادھر سے پیش آئے عین حکمت اور جو خبر دی جائے بالکل حق اور جو حکم ملے وہ بہمہ وجوہ صواب و معقول ہے۔
Ayah 23:59

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 23:59 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں مانتے10

10 یعنی خالص ایمان و توحید پر قائم ہیں۔ ہر ایک عمل صدق و اخلاص سے ادا کرتے ہیں۔ شرک جلی یا خفی کا شائبہ بھی نہیں آنے دیتے۔
Ayah 23:60

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ Open ayah 23:60 in the Quran reader

اور جو لوگ کہ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل ڈر رہے ہیں اس لیے کہ ان کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے11

11 یعنی کیا جانے وہاں قبول ہوا یا نہ ہوا، آگے کام آئے یا نہ آئے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کر کے یہ کھٹکا لگا رہتا ہے، اپنے عمل پر مغرور نہیں ہوتے، نیکی کرنے کے باوجود ڈرتے ہیں۔
Ayah 23:61

اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ Open ayah 23:61 in the Quran reader

وہ لوگ دوڑ دوڑ کرلیتے ہیں بھلائیاں اور وہ ان پر پہنچے سب سے آگے12

12 دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ کما قال تعالیٰ ۔ (فَاٰتٰىھُمُ اللّٰهُ ثَوَاب الدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ ) 3 ۔ آل عمران :148) تو درحقیقت اصلی بھلائی اعمال صالحہ، اخلاق حمیدہ اور ملکات فاضلہ میں ہوئی نہ کہ اموال و اولاد میں، جیسے کفار کا گمان تھا۔
Ayah 23:62

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 23:62 in the Quran reader

اور ہم کسی پر بوجھ نہیں ڈالتے مگر اس کی گنجائش کے موافق اور ہمارے پاس لکھا ہوا ہے جو بولتا ہے سچ اور ان پر ظلم نہ ہوگا13

13 یعنی اوپر جو اعمال و خصال بیان کیے گئے کوئی ایسے مشکل کام نہیں جن کا اٹھانا انسانی طاقت سے باہر ہو۔ ہماری یہ عادت نہیں کہ لوگوں کو تکلیف مالایطاق دی جائے۔ یہ سب باتیں وہ ہیں جن کو اگر توجہ کرو تو بخوبی حاصل کرسکتے ہو۔ اور جو لوگ سابقین کاملین کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتے انھیں بھی اپنی وسعت و ہمت کے موافق پوری کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اسی کے مکلف ہیں۔ ہمارے یہاں صحائف اعمال میں درجہ بدرجہ ہر ایک کے اعمال لکھے ہوئے موجود ہیں جو قیامت کے دن سب کے سامنے کھول کر رکھ دیئے جائیں گے اور ان ہی کے موافق جزا دی جائے گی جس پر رتی برابر ظلم نہ ہوگا نہ کسی کی نیکی ضائع ہوگی۔ نہ اجر کم کیا جائے گا، نہ بےوجہ بےقصور دوسرے کا بوجھ اس پر ڈالا جائے گا۔
Ayah 23:63

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 23:63 in the Quran reader

کوئی نہیں ان کے دل بیہوش ہیں اس طرف سے اور ان کو اور کام لگ رہے ہیں اس کے سوا کہ وہ ان کو کر رہے ہیں14

14 یعنی آخرت کے حساب کتاب سے یہ لوگ غافل ہیں اور دنیا کے دوسرے دھندوں میں پڑے ہیں جن سے نکلنے کی فرصت ہی نہیں ہوتی جو آخرت کی طرف توجہ کریں۔ یا یہ مطلب ہے کہ ان کے دل شک و تردد اور غفلت و جہالت کی تاریک موجوں میں غرقاب ہیں۔ بڑا گناہ تو یہ ہوا، باقی اس سے ورے اور بہت سے گناہ ہیں جن کو وہ سمیٹ رہے ہیں۔ ایک دم کو ان سے جدا نہیں ہوتے، اور جدا بھی کیونکر ہوں، جو کام ان کی سوء استعداد کی بدولت مقدر ہوچکے ہیں وہ کر کے رہیں گے اور لامحالہ ان کا خمیازہ بھی اٹھانا پڑے گا۔
Ayahs 23:64–65

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ Open ayah 23:64 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پکڑیں گے ہم ان کے آسودہ لوگوں کو آفت میں تبہی وہ لگیں گے چلانے

لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 23:65 in the Quran reader

مت چلاؤ آج کے دن تم ہم سے چھوٹ نہ سکو گے1

1 یعنی جب دنیاوی یا اخروی عذاب میں پکڑے جائیں گے تو چلائیں گے اور شور مچائیں گے کہ ہمیں اس آفت سے بچاؤ۔ بھلا وہاں بچانے والا کون ؟ حکم ہوگا کہ چلاؤ نہیں، یہ سب چیخ پکار بیکار ہے۔ آج کوئی تمہاری مدد کو نہیں پہنچ سکتا نہ ہمارے عذاب سے چھڑا سکتا ہے۔ چناچہ اس عذاب کا ایک نمونہ کفار مکہ کو بدر میں دکھلایا گیا جہاں ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے یا قید ہوگئے۔ عورتیں مہینوں تک ان کا نوحہ کرتی رہیں، سر کے بال کٹوا کر ماتم کیے گئے، روئے پیٹے، چیخے چلائے، کچھ بن نہ پڑا۔ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے مظالم سے تنگ آکر بددعا فرمائی تو سات سال کا قحط مسلط ہوا مردار کی ہڈیاں اور چمڑے کھانے اور خون پینے کی نوبت آگئی، آخر رحمۃً للعالمین سے رحم کا واسطہ دے کر دعا کی درخواست کی۔ تب اللہ تعالیٰ نے وہ عذاب اٹھایا۔ اس وقت نہ " لات و منات " کام آئے نہ ہبل و نائلہ۔
Ayah 23:66

قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ Open ayah 23:66 in the Quran reader

تم کو سنائی جاتی تھیں میری آیتیں تو تم ایڑیوں پر الٹے بھاگتے تھے اس سے تکبر کر کے2

2 یعنی اب کیوں شور مچاتے ہو، وہ وقت یاد کرو جب خدا کے پیغمبر آیات پڑھ کر سناتے تھے تو تم الٹے پاؤں بھاگتے تھے، سننا بھی گوارا نہ تھا۔ تمہاری شیخی اور تکبر اجازت نہ دیتا تھا کہ حق کو قبول کرو اور پیغمبروں کی بات پر کان دھرو۔
Ayah 23:67

مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ Open ayah 23:67 in the Quran reader

ایک قصہ گو کو چھوڑ کر چلے گئے3

3 یعنی پیغمبر کی مجلس سے ایسے بھاگتے تھے گویا کسی فضول قصہ گو کو چھوڑ کر چلے گئے یا سامِرًا تَہْجُرُوْنَ کا مطلب یہ ہے کہ رات کے وقت حرم میں بیٹھ کر پیغمبر ﷺ اور قرآن کریم کی نسبت باتیں بناتے اور طرح طرح کے قصے گھڑتے تھے، کوئی جادو کہتا تھا، کوئی شاعری، کوئی کہانت، کوئی کچھ اور۔ اسی طرح کی بکواس اور بیہودہ ہذیان کیا کرتے تھے۔ آج اس کا مزہ چکھو۔ چیخنے چلانے سے کچھ حاصل نہیں۔
Ayah 23:68

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

سو کیا انہوں نے دھیان نہیں کیا اس کلام میں4 یا آئی ہے ان کے پاس ایسی چیز جو نہ آئی تھی ان کے پہلے باپ دادوں کے پاس5

4 یعنی قرآن کی خوبیوں میں غور وفکر نہیں کرتے۔ ورنہ حقیقت حال منکشف ہوجاتی کہ بلاشبہ یہ کام اللہ جل شانہ، کا ہے جس میں ان کی بیماریوں کا صحیح علاج بتلایا گیا ہے۔ 5 یعنی نصیحت کرنے والے ہمیشہ ہوتے رہے ہیں، پیغمبر ہوئے یا پیغمبر کے تابع ہوئے۔ آسمانی کتابیں بھی برابر اترتی رہی ہیں۔ کبھی کہیں، کبھی کہیں۔ سو یہ کوئی انوکھی بات نہیں جس کا نمونہ پیشتر سے موجود نہ ہو۔ ہاں جو اکمل ترین و اشرف ترین کتاب اب آئی اس شان و مرتبہ کی پہلے نہ آئی تھی تو اس کا مقتضی یہ تھا کہ اور زیادہ اس نعمت کی قدر کرتے اور آگے بڑھ کر اس کی آواز پر لبیک کہتے۔ جیسا کہ صحابہ ؓ نے کہی۔ (تنبیہ) شاید یہاں " آباء اولین " سے آباء ابعدین مراد ہوں۔ اور سورة " یس " میں جو آیا ہے۔ " لتنذرقوما ماانذر اٰبآؤہم " وہاں آباء اقربین کا ارادہ کیا گیا ہو۔ واللہ اعلم۔
Ayah 23:69

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

یا پہچانا نہیں انہوں نے اپنے پیغام لانے والے کو سو وہ اس کو اوپرا سمجھتے ہیں6

6 یعنی کیا اس لیے اعراض و تکذیب پر تلے ہوئے ہیں کہ ان کو پیغمبر کے احوال سے آگاہی نہیں، حالانکہ سارا عرب جانتا ہے کہ آپ بچپن سے صادق و امین اور عفیف و پاکباز تھے۔ چناچہ حضرت جعفر نے بادشاہ حبشہ کے سامنے، حضرت مغیرہ ابن شعبہ نے تائب کسریٰ کے آگے اور ابو سفیان نے بحالت کفر قیصر روم کے دربار میں اسی چیز کا اظہار کیا۔ پھر ایسے مشہور و معروف راست باز بندہ کی نسبت کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ وہ (العیاذ باللہ) خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے لگے۔
Ayah 23:70

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

یا کہتے ہیں اس کو سودا ہے کوئی نہیں وہ تو لایا ہے ان کے پاس سچی بات اور ان بہتوں کو سچی بات بری لگتی ہے7

7 یعنی سودائیوں اور دیوانوں کی باتیں کہیں ایسی کھری اور سچی ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ بھی محض زبان سے کہتے تھے، دل ان کا جانتا تھا کہ بیشک جو کچھ آپ لائے ہیں حق ہے۔ پر حق بات چونکہ ان کی اغراض و خواہشات کے موافق نہ تھی۔ اس لیے بری لگتی تھی اور قبول کرنے کے لیے آمادہ نہ ہوتے تھے۔
Ayah 23:71

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور اگر سچا رب چلے ان کی خوشی پر تو خراب ہوجائیں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے8 کوئی نہیں ہم نے پہنچائی ہے ان کو ان کی نصیحت9 سو وہ اپنی نصیحت کو دھیان نہیں کرتے10

8 یعنی سچی بات بری لگتی ہے تو لگنے دو ۔ سچائی ان کی خوشی اور خواہش کے تابع نہیں ہوسکتی۔ اگر سچا خدا ان کی خوشی اور خواہش ہی پر چلا کرے تو وہ خدا ہی کہاں رہے۔ معاذ اللہ بندوں کے ہاتھ میں ایک کٹ پتلی بن جائے۔ ایسی صورت میں زمین و آسمان کے یہ محکم انتظامات کیونکر قائم رہ سکتے ہیں۔ اگر ایک چھوٹے سے گاؤں کا انتظام محض لوگوں کی خواہشات کے تابع کردیا جائے، وہ بھی چار دن قائم نہیں رہ سکتا چہ جائیکہ زمین و آسمان کی حکومت۔ کیونکہ عام خواہشات نظام عقلی کے مزاحم اور باہمدگر بھی متناقض واقع ہوئی ہیں۔ عقل وہوٰی کی کشمکش اور اہوائے مختلفہ کی لڑائی میں سارے انتظامات درہم برہم ہوجائیں گے۔ 9 جس کی وہ تمنا کیا کرتے تھے۔ (لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِكْرًا مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 168؀ۙ لَكُنَّا عِبَاد اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ 169؁) 37 ۔ الصافات :169 ۔ 168) 10 جب آگئی اور ایسی آئی جس سے ان کو قومی حیثیت سے عظیم الشان فخر و شرف حاصل ہوا، تو اب منہ پھیرتے ہیں اور ایسے اعلیٰ فضل و شرف کو ہاتھ سے گنوا رہے ہیں۔
Ayah 23:72

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

یا تو ان سے مانگتا ہے کچھ محصول سو محصول تیرے رب کا بہتر ہے اور وہ ہے بہتر روزی دینے والاف 11

11 یعنی آپ دعوت و تبلیغ اور نصیحت و خیر خواہی کر کے ان سے کسی معاوضہ کے بھی طلبگار نہیں۔ خدا تعالیٰ نے دارین کی جو دولت آپ کو مرحمت فرمائی ہے وہ اس معاوضہ سے کہیں بہتر ہے۔
Ayahs 23:73–74

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

اور تو تو بلاتا ہے ان کو سیدھی راہ پر

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

اور جو لوگ نہیں مانتے آخرت کو راہ سے ٹیڑھے ہوگئے ہیں12

12 یعنی آپ کے صدق و امانت کا حال سب کو معلوم ہے۔ جو کلام آپ لائے اس کی خوبیاں اظہر من الشمس ہیں۔ معاذ اللہ آپ ﷺ کو خلل دماغ نہیں، ان سے کسی معاوضہ کے طالب نہیں، جس راستہ کی طرف آپ ﷺ بلاتے ہیں بالکل سیدھا اور صاف راستہ ہے جس کو ہر سیدھی عقل والا بسہولت سمجھ سکتا ہے کوئی ایچ پیچ نہیں ٹیڑھا ترچھا نہیں۔ ہاں اس پر چلنا ان ہی کا حصہ ہے جو موت کے بعد دوسری زندگی مانتے ہوں اور اپنی بدانجامی سے ڈرتے ہوں، جسے انجام کا ڈر اور عاقبت کی فکر ہی نہیں وہ کب سیدھے راستہ پر چلے گا، یقینا ٹیڑھا رہے گا۔ اور سیدھی سی بات کو بھی اپنی کجروی سے کج بنا لے گا۔
Ayah 23:75

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور کھول دیں جو تکلیف پہنچی ان کو تو بھی برابر لگے رہیں گے اپنی شرارت میں بہکے ہوئے1

1 یعنی تکلیف سے نکال کر آرام دیں۔ تب بھی احسان نہ مانیں اور شرارت و سرکشی سے باز نہ آئیں۔ حضرت کی دعا سے ایک مرتبہ مکہ والوں پر قحط پڑا تھا، پھر حضرت ہی کی دعا سے کھلا۔ شاید یہ اسی کو فرمایا، یا یہ مطلب ہے کہ اگر ہم اپنی رحمت سے ان کے نقصان کو دور کردیں۔ یعنی قرآن کی سمجھ دے دیں۔ تب بھی یہ لوگ اپنے ازلی خسران اور سوء استعداد کی وجہ سے اطاعت وانقیاد اختیار کرنے والے نہیں کمال قال تعالیٰ (وَلَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِيْهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ ۭوَلَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ ) 8 ۔ الانفال :23)
Ayah 23:76

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

اور ہم نے پکڑا تھا ان کو آفت میں پھر نہ عاجزی کی اپنے رب کے آگے نہ گڑگڑائے2

2 مثلاً قحط وغیرہ آفات مسلط ہوئیں۔ تب بھی عاجزی کر کے خدا کی بات نہ مانی۔
Ayah 23:77

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب کھول دیں ہم ان پر دروازہ ایک سخت آفت کا تب اس میں ان کی آس ٹوٹے گی3

3 اس سے یا تو آخرت کا عذاب مراد ہے یا شاید وہ دروازہ لڑائیوں کا کھلا جس میں تھک کر عاجز ہوئے۔
Ayah 23:78

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

اور اسی نے بنا دیے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل تم بہت تھوڑا حق مانتے ہو4

4 کانوں سے اس کی آیات تنزیلیہ کو سنو اور آنکھوں سے آیات تکوینیہ کو دیکھو اور دلوں سے دونوں کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ ان نعمتوں کا شکریہ تھا کہ اللہ کی دی ہوئی قوتوں کو ان کے کام میں لاتے لیکن ایسا نہ ہوا۔ اکثر آدمیوں نے اکثر اوقات میں ان قوتوں کو بےجا خرچ کیا۔
Ayah 23:79

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

اور اسی نے تم کو پھیلا رکھا ہے زمین میں اور اسی کی طرف جمع ہو کر جاؤ گے5

5 وہاں ہر ایک کو شگر گزاری اور ناشکری کا بدلہ مل جائے گا۔ اس وقت کوئی شخص یا کوئی عمل غیر حاضر نہ ہو سکے گا۔ جس نے پھیلایا اس کو سمیٹنا کیا مشکل ہے۔
Ayah 23:80

وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 23:80 in the Quran reader

اور وہی ہے جلاتا اور مارتا اور اسی کا کام ہے بدلنا رات اور دن کا سو کیا تم کو سمجھ نہیں6

6 زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ، یا اندھیرے سے اجالا اور اجالے سے اندھیرا کردیا جس کے قبضہ میں ہے اس کی قدرت عظیمہ کے سامنے کیا مشکل ہے کہ تم کو دوبارہ زندہ کر دے اور آنکھوں کے آگے سے ظلمت جہل کے پردے اٹھا دے۔ جس کے بعد حقائق اشیاء ٹھیک ٹھیک منکشف ہوجائیں، جیسا کہ قیامت میں ہوگا۔ فَبْصُرَکَ الْیَوْمَ حَدِیْد۔