Ayah 16:1218 یعنی ابراہیم خدا کا شکر گزار بندہ تھا۔ تم سخت ناسپاس اور کفران نعمت کرنے والے ہو جیسا کہ (وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ ) 16 ۔ النحل :112) کے فوائد میں لکھا جا چکا ہے۔ پھر اس کی راہ پر کیونکر ہوئے۔
1 یعنی توحید کامل اور تسلیم و رضا کی سیدھی راہ پر چلایا۔
Ayah 16:1222 یعنی نبوت، فراخ روزی، اولاد، اور وجاہت و مقبولیت عامہ کہ تمام اہل ادیان بالاتفاق ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ اور ہر فرقہ چاہتا ہے کہ اپنا سلسلہ ابراہیم (علیہ السلام) سے ملائے۔
3 یعنی اس نے اپنی حق میں جو دعا کی تھی۔ ( وَّاَلْـحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ ) 26 ۔ الشعرآء :83) قبول ہوئی، بیشک وہ آخرت میں صالحین کے اعلیٰ طبقہ میں شامل ہوں گے۔ جو انبیاء (علیہم السلام) کا طبقہ ہے۔
Ayah 16:1234 اس کا بیان (دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ) 6 ۔ الانعام :161) کے تحت میں گزر چکا وہاں ملاحظہ کیا جائے مقصد یہ ہے کہ حلال و حرام اور دین کی باتوں میں اصل ملت ابراہیم ہے۔ درمیان میں یہود و نصاریٰ کو ان کے حالات کے مناسب بعض مخصوص احکام دیے گئے۔ آخر آپ کو خاتم الانبیاء بنا کر بھیجا، تاکہ اصل ملت ابراہیمی کو جو غفلت اور تحریف و تصرف بیجا کی دستبرد سے ضائع ہوچکی تھی۔ از سر نو زندہ اور روشن کیا جائے، اور شرک کی تمام رگیں کاٹ دی جائیں حدیث میں ہے۔ " بُعِثْتُ بالسَّمْحَۃِ الْحَنَفِیَّۃِ الْبَیْضَآء " اس کی پوری شرح و تفصیل حضرت شاہ ولی اللہ نے " حجۃ اللہ البالغہ " میں کی ہے جو قابل دید ہے۔
Ayah 16:1245 یعنی اصل ملت ابراہیمی میں ہفتہ کا حکم نہ تھا، اس امت پر بھی نہیں ہے۔ البتہ درمیان میں " یہود " نے اپنے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کے ارشادات سے اختلاف کر کے جب اپنے لیے یہ دن انتخاب کیا تو حکم ہوا کہ اچھا اسی کی تعظیم کرو اور مچھلی کا شکار اس روز مت کرو ! یہ حکم کسی نے مانا کسی نے نہ مانا۔ نہ ماننے والے دنیا میں بندر اور سور بنائے گئے اور آخرت میں جو فیصلہ ہوگا وہ الگ رہا۔ ایک اسی پر کیا منحصر ہے وہاں تو سارے اختلافات اور جھگڑے چکا دیے جائیں گے۔ مثلاً حضرت ابراہیم کی نسبت کوئی " یہودی " بتلاتا تھا کوئی " نصرانی " حالانکہ حق تعالیٰ نے آگاہ کردیا کہ وہ " حنیف مسلم " تھے۔ بہرحال آخرت میں سب اختلافات کا فیصلہ ہوجائے گا اور ہر شخص آنکھوں سے دیکھ لے گا کہ کون غلطی پر تھا کون راستی پر۔
Ayah 16:1256 اوپر کی آیتوں میں مخاطبین کو آگاہ کرنا تھا کہ یہ پیغمبر اصل ملت ابراہیمی لے کر آئے ہیں، اگر کامیابی چاہتے ہو اور " حنیف " ہونے کے دعوے میں سچے ہو تو اس راستہ پر چل پڑو۔ اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ الخ سے خود پیغمبر ﷺ کو تعلیم دی جا رہی ہے کہ لوگوں کو راستہ پر کس طرح لانا چاہیے، اس کے تین طریقے بتلائے۔ حکمت، موعظت، حسنہ، جدال بالتی ہی احسن " حکمت " سے مراد یہ ہے کہ نہایت پختہ اور اٹل مضامین مضبوط دلائل وبراہین کی روشنی میں حکیمانہ انداز سے پیش کیے جائیں۔ جن کو سن کر فہم و ادراک اور علمی ذوق رکھنے والا طبقہ گردن جھکا سکے۔ دنیا کے خیالی فلسفے ان کے سامنے ماند پڑجائیں اور کسی قسم کی علمی و دماغی ترقیات وحی الٰہی کی بیان کردہ حقائق کا ایک شوشہ تبدیل نہ کرسکیں۔ " موعظت حسنہ " موثر اور رقت انگیز نصیحتوں سے عبارت ہے جن میں نرم خوئی اور دلسوزی کی روح بھری ہو۔ اخلاص، ہمدردی اور شفقت و حسن اخلاق سے خوبصورت اور معتدل پیرایہ میں جو نصیحت کی جاتی ہے، بسا اوقات پتھر کے دل بھی موم ہوجاتے ہیں، مردوں میں جانیں پڑجاتی ہیں۔ ایک مایوس و پژمردہ قوم جھر جھری لے کر کھڑی ہوجاتی ہے، لوگ ترغیب و ترہیب کے مضامین سن کر منزل مقصود کی طرف بیتابانہ دوڑنے لگتے ہیں۔ اور بالخصوص جو زیادہ عالی دماغ اور ذکی و فہیم نہیں ہوتے، مگر طلب حق کی چنگاری سینے میں رکھتے ہیں، ان میں موثر وعظ و پند سے عمل کی ایسی اسٹیم بھری جاسکتی ہے جو بڑی اونچی عالمانہ تحقیقات کے ذریعہ سے ممکن نہیں۔ ہاں دنیا میں ہمیشہ سے ایک ایسی جماعت بھی موجود رہی ہے جن کا کام ہر چیز میں الجھنا اور بات بات میں حجتیں نکالنا اور کج بحثی کرنا ہے یہ لوگ نہ حکمت کی باتیں قبول کرتے ہیں نہ وعظ و نصیحت سنتے ہیں۔ بلکہ چاہتے ہیں کہ ہر مسئلہ میں بحث و مناظرہ کا بازار گرم ہو۔ بعض اوقات اہل فہم و انصاف اور طالبین حق کو بھی شبہات گھیر لیتے ہیں اور بدون بحث کے تسلی نہیں ہوتی اس لیے وَجَادِلْہُمْ بالَّتِیْ ھیَ اَحْسَنُ فرما دیا کہ اگر ایسا موقع پیشئے تو بہترین طریقہ سے تہذیب، شائستگی، حق شناسی اور انصاف کے ساتھ بحث کرو۔ اپنے حریف مقابل کو الزام دو تو بہترین اسلوب سے دو ، خواہ مخواہی دل آزار اور جگر خراش باتیں مت کرو۔ جن سے قضیہ بڑھے اور معاملہ طول کھینچے، مقصود تفہیم اور احقاق حق ہونا چاہیے۔ خشونت، بداخلاقی، سخن پروری اور ہٹ دھرمی سے کچھ نتیجہ نہیں۔
7 یعنی طریق دعوت و تبلیغ میں تم کو خدا کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنا چاہیے۔ اس فکر میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ کس نے مانا کس نے نہیں مانا۔ نتیجہ کو خدا کے سپرد کرو۔ وہ ہی راہ پر آنے والوں اور نہ آنے والوں کے حالات کو بہتر جانتا ہے جیسا مناسب ہوگا ان سے معاملہ کرے گا۔
Ayah 16:1268 یعنی دعوت و تبلیغ کی راہ میں اگر تم کو سختیاں اور تکلیفیں پہنچائی جائیں تو قدرت حاصل ہونے کے وقت برابر کا بدلہ لے سکتے ہو، اجازت ہے، لیکن صبر کا مقام اس سے بلند تر ہے۔ اگر صبر کرو گے تو اس کا نتیجہ تمہارے حق میں اور دیکھنے والوں کے بلکہ خود زیادتی کرنے والوں کے حق میں بہتر ہوگا۔
Ayah 16:1279 یعنی مظالم و شدائد پر صبر کرنا، سہل کام نہیں۔ خدا ہی مدد فرمائے تو ہوسکتا ہے کہ آدمی ظلم سہتا رہے اور اف نہ کرے۔
Ayah 16:12810 یعنی انسان جس قدر خدا سے ڈر کر تقویٰ ، پرہیزگاری اور نیکی اختیار کرے گا، اسی قدر خدا کی امدادو اعانت اس کے ساتھ ہوگی۔ سو ایسے لوگوں کو کفار کے مکرو فریب سے تنگ دل اور غمگین ہونے کی کوئی وجہ نہیں حق تعالیٰ اس عاجز ضعیف کو بھی متقین و محسنین کے ساتھ اپنے فضل و رحمت سے محشور فرمائے۔ تم سورة النحل بعونہ و توفیقہ وللہ الحمد۔