Ayah 16:415 یعنی سلسلہ مجازات (طاعت و معصیت کا پورا نتیجہ ظاہر کرنے) کے لیے بعث بعد الموت ضروری ہے۔ بہت سے خدا کے وفادار بندے مصائب و شدائد جھیلتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں، کیا ان کی قربانیاں ضائع کی جاسکتی ہیں ؟ ہرگز نہیں جن لوگوں نے حق کی حمایت اور خدا کی رضا جوئی کے لیے ظالموں کی سختیاں برداشت کیں اور انواع و اقسام کے ظلم و ستم اٹھائے حتی کہ مجبور ہو کر گھر بار، خویش و اقارب اور عزت و راحت سب چیزوں کو خدا کے راستہ میں تج دیا، ان کی محنت و وفاداری کا صلہ یقینا مل کر رہے گا۔ اول تو ان میں سے جو جیتے بچیں گے دنیا ہی میں اپنی قربانیوں کا تھوڑا سا پھل چکھ لیں گے۔ یعنی گھر چھوڑنے والوں کو بہترین ٹھکانہ دیا جائے گا۔ گھر سے اچھا گھر وطنی بھائیوں سے بڑھ کر دردمند بھائی، روزی سے بہتر روزی، عزت سے زیادہ عزت ملے گی۔ بلکہ وطن سے نکالنے والوں پر غالب، دنیا کے حاکم اور پرہیزگاروں کے امام بن جائیں گے۔ پھر اس سب کے بعد جو بلند مقامات اور عظیم الشان مدارج آخرت میں ملیں گے ان کا تو اندازہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اگر وہاں کے اجر وثواب کا پورا یقین ہوجائے تو دوسرے لوگ بھی جو ہجرت کی سعادت سے محروم ہیں تمام گھر بار چھوڑ کر خدا کے راستہ میں نکل کھڑے ہوں۔ (تنبیہ) آیت کے عموم الفاظ پر نظر کرتے ہوئے ہم نے یہ تقریر کی ہے (وھومنقول فی روح المعانی عن بعضہم) عامہ مفسرین نے اس کو ان اسّی صحابہ ؓ کے حق میں رکھا ہے جو کفار مکہ کی زیادتیوں سے تنگ آکر ابتداء ا حبشہ کو ہجرت کر گئے تھے۔ کیونکہ اکثر کے نزدیک آیت مکی ہے جو ہجرت الی المدینہ سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ ان ہجرت کرنے والوں کو آخرکار خدا تعالیٰ نے اچھا ٹھکانہ مدینہ میں دیا۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْاعَنْہُ ۔
Ayah 16:426 یعنی کسی ظلم اور سختی سے نہیں گھبرائے۔ وطن محبوب اور خویش و اقارب کے چھوٹنے کی پروا نہ کی۔ رضائے الٰہی کے راستہ میں ذرا قدم نہیں ڈگمگایا۔ ہر طرف سے ٹوٹ کر ایک خدا کے ہو رہے۔ خالص اسی کی امداد اور اٹل وعدوں پر بھروسہ کیا۔ یہاں تک کہ دیکھ لیا کہ جو خدا کا ہو رہتا ہے کس طرح خدا اس کا ہوجاتا ہے۔
Ayah 16:437 یعنی پیغمبر کے مظلوم ساتھیوں کو جب وہ صبر و توکل کی راہ میں ثابت قدم ہوں، دارین میں غالب و منصور کرنا ہماری کوئی نئی عادت نہیں۔ پہلے بھی ہم نے انسانوں میں سے رسول بھیجے جن کا کام یہ تھا کہ خدا کے احکام اور نیکی بدی کے انجام سے لوگوں کو خبردار کردیں۔ اب اگر تمہیں معلوم نہیں تو جاننے والوں سے جو امم سابقہ اور ان کے پیغمبروں کے تاریخی واقعات کا علم رکھتے ہیں تحقیق کرلو کہ فی الواقع پہلے کچھ آدمی پیغمبری کے منصب پر بینات و زبر (معجزے اور کتابیں) دے کر بھیجے گئے یا نہیں۔ اور یہ کہ ان کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کا کیا حشر ہوا۔ اہل حق صبر و توکل کی بدولت کس طرح منصور و کامیاب ہوئے۔ اور ظالم معاندین اتمام حجت کے بعد کیسے تباہ کیے گئے۔ (وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ڏ بِمَا صَبَرُوْا ۭوَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهٗ وَمَا كَانُوْا يَعْرِشُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف :137) ہم نے اہل الذکر سے خاص اہل کتاب مراد نہیں لیے بلکہ عموم لفظ کی رعایت کی ہے جس میں اہل کتاب بھی شامل ہیں۔ روح المعانی میں ہے قال الرُّمَّانِیُّ وَالزَّجَّاجُ وَاْلاَزْہَرِیُّ اَلْمُرَاَدُ بِاَہْلِ الذِّکْرِ عُلُمَاءُ اَخْبَارِ اْلاُمَمِ السَّالِفَۃِکَائناً مَنْ کَانَ فَالذِّکْرُ بِمَعْنَی الْحِفْظِ ۔ " مترجم محقق رحمۃ اللہ نے بھی " اہل الذکر " کا ترجمہ یاد رکھنے والوں " سے کر کے شاید اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ بہرحال عموم آیت سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ غیر اہل علم کو اہل الذکر سے دریافت کر کے عمل کرنا چاہیے بہت سے علماء اس کو تقلید أئمہ کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 16:448 یعنی معجزات اور وہ علوم جو اوراق میں لکھے جاتے ہیں۔
9 " یادداشت " سے مراد ہے قرآن کریم جو اگلی امتوں کے ضروری احوال و شرائع کا محافظ، انبیائے سابقین کے علوم کا جامع، اور ہمیشہ کے لیے خدائی احکام اور فلاح دارین کے طریقوں کو یاد دلانے والا اور خواب غفلت سے بیدار کرنے والا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جس طرح پہلے رسول بھیجے گئے، کتابیں اتاری گئیں، آج تم کو (اے محمد ﷺ ہم نے ایسی کتاب دے کر بھیجا جو تمام کتب سابقہ کا خلاصہ اور انبیائے سابقین کے علوم کی مکمل یادداشت ہے۔ آپ کا کام یہ ہے کہ تمام دنیا کے لوگوں کے لیے اس کتاب کے مضامین خوب کھول کر بیان فرمائیں اور اس کی مشکلات کی شرح اور مجملات کی تفصیل کردیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کا مطلب وہ ہی معتبر ہے جو احادیث رسول اللہ ﷺ کے موافق ہو۔
Ayah 16:4510 یعنی حضور ﷺ کا کام مضامین قرآن کو کھول کر بیان کرنا، اور لوگوں کا کام اس میں غور و فکر کرنا۔
11 یعنی اگلے انبیاء اور ان کی قوموں کا حال سننے اور قرآن ایسی مکمل یادداشت پہنچ جانے کے بعد بھی کیا کفار مکہ حق کے مقابلہ میں اپنی مکاریوں اور داؤ فریب سے باز نہیں آتے، کیا یہ امکان نہیں کہ خدا انھیں قارون کی طرح زمین میں دھنسا دے۔ یا ایسی طرف سے کوئی آفت بھیج دی جدھر سے انھیں وہم و گمان بھی نہ ہو۔ چناچہ " بدر " میں مسلمان غازیوں کے ہاتھوں سے ایسی سزا دلوائی جو اپنی قوت و جمعیت اور مسلمانوں کے ضعف و قلت کو دیکھتے ہوئے ان کے تصور میں بھی نہ آسکتی تھی۔
Ayah 16:461 یعنی یہ بھی ضروری نہیں کہ پہلے سے کچھ اہتمام کیا جائے یا فوجیں مقابلہ کے لیے روانہ کی جائیں۔ خدا تو اس پر بھی قادر ہے کہ تمہیں چلتے پھرتے کام کاج کرتے یا بستروں پر کروٹیں بدلتے ہوئے ایک دم پکڑ لے اور بالکل عاجز و بےبس کردے۔ اس کو سب قدرت ہے وہ تم کو عاجز کرسکتا ہے تم اسے نہیں تھکا سکتے۔
Ayah 16:472 یعنی اچانک نہ پکڑے۔ بلکہ آگاہ کرنے اور مبادئ عذاب بھیجنے کے بعد ایسی حالت میں پکڑ لے جب کہ لوگ اطلاع پا کر اور آثار عذاب دیکھ کر طبعاً خوف کھا رہے ہوں یا آس پاس کے لوگوں کو آفات سماویہ میں مبتلا دیکھ کر ڈر رہے ہوں لیکن یہ خوف محض طبعی ہو۔ ندامت اور توبہ کے ساتھ نہ ہو جو دافع عذاب ہوسکتا ہے۔ بعض نے " تخوف " کے معنی " تنقص " (آہستہ آہستہ کم کرنے) کے لیے ہیں۔ یعنی یہ بھی ممکن ہے کہ دفعتاً ہلاک نہ کرے آہستہ آہستہ تم کو گھٹائے اور پست کرتا رہے۔
3 یعنی خدا سب کچھ کرسکتا ہے مگر کیوں نہیں کرتا، اس کی نرمی اور مہربانی مانع ہے کہ مجرمین پر فوراً عذاب نازل کر دے، اس کی رافت و رحمت مقتضی ہے کہ مجرمین کو مہلت اور اصلاح کا مواقع دیا جائے یا یہ جملہ صرف " یَاْخُذَہُمْ عَلٰی تَخَوُّفٍ " سے متعلق ہے بحالیکہ " تخوف " کو بمعنی " تنقص " لیا جائے، تو مطلب یہ ہوگا کہ آہستہ آہستہ کم کرنا اور دفعۃً ہلاک نہ کرنا اس کی رحمت و شفقت کی وجہ سے ہے، ورنہ ایک آن میں نیست و نابود کردیتا۔
Ayah 16:484 یعنی جب تکوینی طور پر ہر چیز خدا کے سامنے عاجز اور مطیع و منقاد ہے۔ حتی کہ سایہ دار چیزوں کا سایہ بھی اسی کے حکم اور قانون قدرت کے موافق گھٹتا بڑھتا اور ادھر یا ادھر رہتا ہے پھر ایسے قدرت والے خدا کو عذاب بھیجنے سے کون سی طاقت روک سکتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ باختیار خود اس کے احکام تشریعیہ کے سامنے گردن جھکا دے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " ہر چیز ٹھیک دوپہر میں کھڑی ہے اس کا سایہ بھی کھڑا ہے۔ جب دن ڈھلا، سایہ جھکا، پھر جھکتے جھکتے شام تک زمین پر پڑگیا، جیسے نماز میں کھڑے سے رکوع، رکوع سے سجدہ اسی طرح ہر چیز آپ کھڑی ہے اپنے سایہ سے نماز کرتی ہے۔ کسی ملک میں کسی موسم میں داہنی طرف جھکتا ہے کہیں بائیں طرف۔ "
Ayah 16:495 پہلے کھڑی چیزوں کا جو سایہ دار ہوں سجدہ بیان ہوا تھا، یہاں عام جانداروں بالخصوص فرشتوں کا سجدہ بیان کر کے متنبہ فرمایا کہ ایسی مقرب و معظم ہستیاں بھی اس کے آگے سربسجود ہیں کوئی شیخی یا غرور ان میں نہیں، جو اپنے مالک کے سامنے سر جھکانے سے رکے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " مغرور لوگوں کو سر رکھنا زمین پر مشکل ہوتا ہے۔ نہیں جانتے کہ بندہ کی بڑائی اسی میں ہے " مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَہُ اللّٰہُ ۔
Ayah 16:506 یعنی فرشتے باوجود اس قدر قرب و وجاہت کے اپنے رب کے جلال سے ڈرتے رہتے ہیں اور جو حکم پاتے ہیں فوراً بجا لاتے ہیں۔ موضح القرآن میں ہے کہ " ہر بندہ کے دل میں ہے کہ میرے اوپر اللہ ہے اپنے آپ کو نیچے سمجھتا ہے، یہ سجدہ فرشتوں کا بھی ہے اور سب کا۔ "
Ayah 16:517 یعنی جب تمام آسمانی و زمینی مخلوق ایک خدا کے سامنے بےاختیار سر بسجود اور عاجز و مقہور ہے، پھر عبادت میں کوئی دوسرا شریک کہاں سے آگیا۔ جو سارے جہان کا مالک ومطاع ہے تنہا اسی کی عبادت ہونی چاہیے اور اسی سے ڈرنا چاہیے۔
Ayah 16:528 یعنی تکوینی طور پر ہر چیز خالص اسی کی عبادت اور اطاعت پر مجبول ہے (اَفَغَيْرَ دِيْنِ اللّٰهِ يَبْغُوْنَ وَلَهٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْھًا وَّاِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ ) 3 ۔ آل عمران :83) یا یہ مطلب ہے کہ ہمیشہ اسی کی عبادت کرنا لازم ہے (اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ ) 39 ۔ الزمر :3) اور بعض نے " دین " کو " جزائ " کے معنی میں لیا ہے۔ یعنی نیک و بد کا دائمی بدلہ اسی ایک خدا کی طرف سے ملے گا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 16:539 یعنی سب بھلائیاں اور نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں اور ہر ایک برائی یا سختی کا دفع کرنا بھی اسی کے قبضہ میں ہے۔ چناچہ جب کوئی سخت مصیبت انسان کو چھو جاتی ہے تو کٹر سے کٹر مشرک بھی اس وقت سب سہارے چھوڑ کر خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ گویا فطرت انسانی شہادت دیتی ہے کہ مصائب اور سختیوں سے بچانا خدائے واحد کے سوا کسی کا کام نہیں ہوسکتا۔ پھر جس کے قبضہ میں ہر ایک نعمت و نقمت اور ہر قسم کا نفع و ضرر ہے، دوسرا کون ہے جو اس کی الوہیت میں حصہ دار بن سکے۔ یا جس سے انسان خوف کھائے اور امیدیں باندھے۔
Ayahs 16:54–551 یعنی جہاں سختی دور ہوئی منعم حقیقی کو بھلا بیٹھے اور نہایت بےحیائی سے خدائی کے حصے بخرے کرنے لگے۔ شرم نہ آئی کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے عاجز ہو کر کسے پکار رہے تھے۔ نہ محسن حقیقی کا احسان مانا نہ یہ اندیشہ کیا کہ ناشکری کی سزا میں پکڑے جائیں گے، یا کم از کم کفران نعمت سلب نعمت کا موجب ہوجائے گا۔ گویا خدائے وحدہ لا شریک لہ نے جو انعام فرمایا تھا بالکل اس کے انکار پر تل گئے۔ بہتر ہے چند روز کی انھیں مہلت دی جاتی ہے۔ خوب دنیا کے مزاے اڑالیں آخر معلوم ہوجائے گا کہ اس مشرکانہ کفران نعمت کی کیسی سزا ملتی ہے۔
Ayah 16:562 یہ ان کو فرمایا جو اپنے کھیت میں، مویشی میں، تجارت میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کی نیاز ٹھہراتے ہیں (موضح القرآن) جیسا کہ مشرکین عرب کا دستور تھا جس کا ذکر آٹھویں پارہ کے تیسرے رکوع میں گزر چکا " مالا یعلمون " سے مراد وہ ہی اصنام وغیرہ ہیں جنہیں مشرکین جہالت اور بیخبر ی سے معبود یا مالک نفع و ضرر سمجھتے تھے، حالانکہ اس کی کوئی دلیل یا سند ان کے پاس نہ تھی، پھر شرکاء بھی تجویز کیے گئے پتھر کے بت جو ہر قسم کے علم و شعور سے کورے ہیں۔ اِنَّ ہٰذَا لَشَیْ ءٌ عُجَابٌ۔
3 یعنی قیامت میں ان افتراء پردازیوں کی تم سے ضرور باز پرس ہوگی۔ خدا کے دیے ہوئے مال میں کیا حق تھا کہ دوسروں کو شریک وسہیم بناؤ۔ (باقی کسی کو ثواب پہنچانے کا مسئلہ جداگانہ ہے وہ اس آیت کے تحت میں داخل نہیں)
Ayah 16:574 یعنی وہ اس سے پاک ہے کہ اس کے لیے اولاد ثابت کی جائے۔ خاص کر بیٹیاں۔ تعجب ہے یہ لوگ حق تعالیٰ کی نسبت ایسی جرأت کس طرح کرتے ہیں۔ اس آیت میں " بنو خزاعہ " کا رد ہوا جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے (العیاذ باللہ)
5 یعنی خود اپنے لیے بیٹیاں دیے جانے پر رضامند نہیں جب مانگیں گے بیٹا مانگیں گے۔
Ayah 16:586 یعنی ان میں سے کسی کو اگر خبر دی جائے کہ تیرے گھر میں لڑکی پیدا ہوئی ہے تو نفرت و غم سے تیوری چڑھ جائے اور دن بھر ناخوشی سے چہرہ بےرونق اور دل گھٹتا رہے کہ یہ ناشدنی مصیبت کہاں سے سر پر آئی۔
Ayah 16:597 یعنی رسمی ننگ و عار کے تصور سے کہ لڑکی زندہ رہی تو کسی کو داماد بنانا پڑے گا۔ لوگوں کو منہ دکھانا نہیں چاہتا ادھر ادھر چھپتا پھرتا ہے۔
8 یعنی شب و روز ادھیڑبن میں لگا ہوا ہے اور تجویزیں سوچتا ہے کہ دنیا کی عار قبول کر کے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین میں اتار دے، یعنی ہلاک کر ڈالے۔ جیسا کہ جاہلیت میں بہت سے سنگدل لڑکیوں کو مار ڈالتے تھے یا زندہ زمین میں گاڑ دیتے تھے۔ اسلام نے آکر اس قبیح رسم کو مٹایا اور ایسا قلع قمع کیا کہ اسلام کے بعد سارے ملک میں اس بےرحمی کی ایک مثال بھی پیش نہیں کی جاسکتی۔ بعض نے اَیُمْسِکُہ، عَلٰی ہُوْنٍ کے معنی یوں کیے ہیں " روکے رکھے لڑکی کو ذلیل و خوار کر کے " یعنی زندہ رہنے کی صورت میں ایسا ذلیل معاملہ کرے گویا وہ اس کی اولاد ہی نہیں۔ بلکہ آدمی بھی نہیں۔
9 لڑکیوں کے متعلق جو ظالمانہ فیصلہ ان کا تھا اس سے زیادہ برا فیصلہ یہ ہے کہ خدا کے لیے اولاد تجویز کریں، پھر اولاد بھی " اناث " جس سے خود اتنا گھبراتے ہیں۔ گویا اچھی چیز ان کے لیے اور ناقص خدا کے لیے ہے۔ (العیاذ باللہ)
Ayah 16:6010 یعنی مشرکین جنہیں اپنے ظلم اور گستاخیوں کے انجام پر یقین نہیں۔ بری مثال یا بری صفت و حالت ان ہی کی ہے وہ ہی اولاد کے محتاج ہیں۔ دکھ اور ضعیفی وغیرہ میں کام آنے کے لیے ان کو لڑکوں کا سہارا چاہیے۔ دفع عار یا افلاس وغیرہ کے ڈر سے لڑکیوں کو ہلاک کرنا ان کا شیوہ ہے۔ آخر میں ظلم و شرک وغیرہ کا جو برا انجام ہونا چاہیے اس سے بھی وہ بچ نہیں سکتے۔ غرض ہر نہج سے بری مثال اور نقص و عیب کی نسبت ان ہی کی طرف ہونی چاہیے۔ حق تعالیٰ کی طرف ان صفات کی نسبت کرنا جو مخلوق کا خاصہ ہیں اور (معاذ اللہ) بیٹے بیٹیاں تجویز کر کے حقیر اور پست مثالیں دینا اس کی شان عظیم و رفیع کے منافی ہے۔ اس کے لیے تو وہ ہی مثالیں اور صفات ثابت کی جاسکتی ہیں جو اعلیٰ سے اعلیٰ اور ہر بلند چیز سے بلند تر ہوں۔
11 یعنی زبردست تو ایسا ہے کہ تمہاری گستاخیوں کی سزا ہاتھوں ہاتھ دے سکتا ہے۔ لیکن فوراً سزا دینا اس کی حکمت کے مناسب نہیں۔ لہذا ڈھیل دی جاتی ہے کہ اب بھی باز آجائیں اور اپنا رویہ درست کرلیں۔
Ayah 16:6112 یعنی اگر خدا تعالیٰ لوگوں کی گستاخی اور ناانصافی پر دنیا میں فوراً پکڑنا اور سزا دینا شروع کردے تو چند گھنٹے بھی زمین کی یہ آبادی نہیں رہ سکتی، کیونکہ دنیا میں بڑا حصہ ظالموں اور بدکاروں کا ہے۔ اور چھوٹی چھوٹی خطا و قصور سے تو کوئی خالی ہوگا ؟ (کُلُّکُمْ خَطَّاءُوْنَ ) جب خاطی و بدکار فوراً ہلاک کردیے گئے تو صرف معصوم انبیاء کے زمین پر بھیجنے کی بھی ضرورت نہیں رہتی، بلکہ ان کا ملائکہ معصومین کے ساتھ رہنا موزوں ہے۔ جب نیک و بد انسان دونوں زمین پر نہ رہے تو دوسرے حیوانات کا رکھنا بےفائدہ ہوگا، کیونکہ وہ سب بنی آدم کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ نیز فرض کیجیے خدا نے انسانوں کے ظلم وعدوان پر بارش بند کردی تو کیا آدمیوں کے ساتھ جانور نہیں مریں گے۔ بہرحال خدا اگر بات بات پر دنیا میں پکڑے اور فوراً سزا دے تو اس دنیا کا سارا قصہ منٹوں میں تمام ہوجائے۔ مگر وہ اپنے حلم و حکمت سے ایسا نہیں کرتا۔ بلکہ مجرموں کو توبہ و اصلاح کا موقع دیتا ہے اور وقت موعود تک انھیں ڈھیلا چھوڑتا ہے۔ جب وقت آپہنچا، پھر ایک سکینڈ ادھر ادھر نہیں ہوسکتا۔ (تنبیہ) بعض مفسرین نے " ماَتَرَکَ عَلَیْھَا مِنْ دَآبَّۃٍ " سے خاص دابہ ظالمہ مراد لیا ہے۔ اگر یہ صحیح ہو تو مطلب واضح ہے کوئی اشکال نہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 16:6213 یعنی جو چیزیں بری سمجھ کر اپنے لیے پسند نہیں کرتے مثلاً بیٹیاں یا اپنے ملک میں کسی اجنبی کی شرکت یا استہزاء و استخفاف کا معاملہ۔ وہ خداوند قدوس کے لیے ثابت کرتے ہیں۔
14 یعنی باوجود ایسی گستاخیوں کے زبان پر یہ جھوٹا دعویٰ ہے کہ ہم تو دنیا میں بھی بھلی چیزوں کے لائق ہیں اور اگر آخرت وغیرہ کے قصے سچے ہوئے تو وہاں بھی خوب چین اڑائیں گے۔ (وَلَىِٕنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّاۗءَ مَسَّـتْهُ لَيَقُوْلَنَّ ھٰذَا لِيْ ۙ وَمَآ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَاۗىِٕمَةً ۙ وَّلَىِٕنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّيْٓ اِنَّ لِيْ عِنْدَهٗ لَــلْحُسْنٰى) 41 ۔ فصلت :50)
1 یعنی ان گستاخیوں کے ساتھ ایسی باطل آرزوئیں رکھنا ہی اس کی دلیل ہے کہ ان کے لیے کوئی خوبی اور بھلائی تو کیا ہوتی، البتہ دوزخ تیار ہے جس کی طرف وہ بڑھائے جا رہے ہیں اور جہاں پہنچ کر گویا بالکل بھلا دیے جائیں گے۔ یعنی ابدا لآباد تک کبھی مہربانی کی نظر ان پر نہ ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ یہ ان کو فرمایا جو ناکارہ چیزیں اللہ کے نام دیں اور اس پر یقین کریں کہ ہم کو بہشت ملے گی۔ حالانکہ وہ روز بروز دوزخ کی طرف بڑھتے ہیں۔
Ayah 16:632 کفار مکہ کی گستاخیوں اور لغو و بیہودہ دعاوی کا ذکر کر کے پیغمبر (علیہ السلام) کو تسلی دیتے ہیں کہ آپ ان کی حرکتوں سے دلگیر اور رنجیدہ نہ ہوں۔ ہم نے آپ سے پہلے بھی مختلف امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے ہیں لیکن ہمیشہ یہ ہی ہوا کہ شیطان لعین مکذبین کو ان کے عمل اچھے کر کے دکھاتا رہا۔ اور وہ برابر شرارت میں بڑھتے رہے۔ آج وہ سب خدائی عذاب کے نیچے ہیں۔ اور شیطان جو ان کا رفیق ہے کچھ کام نہیں آتا۔ نہ ان کی فریاد کو پہنچ سکتا ہے۔ یہ ہی انجام آپ کے مکذبین کا ہوگا۔ بعض نے " فَہُوَ وَلِیُّہُمُ الْیَوْمَ " کا یہ مطلب لیا ہے کہ شیطان جس نے اگلوں کو بہکایا تھا وہ ہی آج ان کفار مکہ کا رفیق بنا ہوا ہے۔ لہذا جو حشر ان کا ہوا ان کا بھی ہوگا۔
Ayah 16:643 یعنی قرآن صرف اس لیے اتارا گیا ہے کہ جن سچے اصولوں میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں اور جھگڑے ڈال رہے ہیں (مثلاً توحید و معاد اور احکام حلال و حرام وغیرہ) ان سب کو وضاحت و تحقیق کے ساتھ بیان کر دے۔ کوئی اشکال و خفا باقی نہ رہے۔ گویا نبی کریم ﷺ بذریعہ قرآن تمام نزاعات کا دوٹوک فیصلہ سنا دیں اور بندوں پر خدا کی حجت تمام کردیں۔ آگے ماننا نہ ماننا خود مخاطبین کا کام ہے جسے توفیق ہوگی قبول کرے گا۔ آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
4 یعنی فیصلہ اور بیان تو سب کے لیے ہے لیکن اس کی ہدایت سے منتفع ہونا اور رحمت الٰہی کی آغوش میں آنا انہی کا حصہ ہے جو اس فیصلہ کو صدق دل سے تسلیم کرتے ہیں اور بطوع ورغبت ایمان لاتے ہیں۔
Ayah 16:655 یعنی خشک زمین کو آسمانی بارش سے سرسبز کردیا گویا خشک ہونا زمین کی موت اور سرسبز و شاداب ہونا حیات ہے۔
6 یعنی اسی طرح قرآن سے جاہلوں کو عالم اور مردہ دلوں کو زندہ کردے گا۔ اگر توجہ قلبی اور انصاف سے سنیں گے۔
Ayah 16:667 یعنی اونٹ گائے، بھینس وغیرہ جانور جو گھاس چارہ کھاتے ہیں۔ وہ پیٹ میں پہنچ کر تین چیزوں کی طرف مستحیل ہوجاتا ہے۔ قدرت نے ان حیوانات کے جسم کے اندرونی حصہ میں ایسی مشین لگا دی ہے جو غذا کے کچھ اجزاء کو تحلیل کرکے فضلہ (گوبر) کی شکل میں باہر پھینک دیتی ہے اور کچھ اجزاء کو خون بنا کر عروق میں پھیلا دیتی ہے جو ان کی حیات و بقا کا سبب بنتا ہے۔ اور اسی مادہ میں سے جس کے بعض اجزاء گوبر اور بعض خون بن گئے۔ ان دو گندی چیزوں کے درمیان ایک تیسری چیز (دودھ) تیار کرتی ہے جو نہایت پاک طیب اور خوشگوار چیز ہے۔
8 پہلے کتاب اتارنے کی مناسبت سے پانی اتارنے کا ذکر فرمایا تھا ان آیات میں پانی کی مناسبت سے باقی انواع مشروبات کا تذکرہ ہوا ہے یعنی دودھ، شراب و نبیذ اور شہد۔ ایک دوسرے موقع پر جہاں جنت کی نہروں کا ذکر آیا ہے مشروبات کی یہ ہی چار قسمیں مذکور ہوئی ہیں۔ (فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاۗءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ ۚ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهٗ ۚ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ ڬ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی) 47 ۔ محمد :15) یہاں اس قسم کی چیزوں کے ذکر سے مقصود یہ ہے کہ لوگوں کے خیال میں جو بڑی بڑی نعمتیں ہیں وہ سب خدا کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ آدمی کس طرح منعم حقیقی کے احسانات بھلا کر دوسروں کا غلام بن جاتا ہے۔ گویا شرک کے رد کی طرف اشارہ ہوا اور یہ بھی کہ جس طرح تمہاری جسمانی زندگی کے لیے خدا نے طرح طرح کے انتظامات اور مناسب سامان کیے ہیں ضرور ہے کہ روحانی زندگی اور باطنی ترقی کے وسائل و ذرائع بھی کافی مقدار میں مہیا کیے ہوں گے۔
Ayah 16:679 یعنی ان میووں سے نشہ لانے والی شراب کشید کرتے ہو۔ اور کھانے پینے کی دوسری عمدہ چیزیں مثلاً شربت، نبیذ، سرکہ اور خشک خرمایا کشمش وغیرہ ان سے حاصل کرتے ہو۔ (تنبیہ) یہ آیت مکی ہے شراب مکہ میں حرام نہ ہوئی تھی، پینے والے اس وقت تک بےتکلف پیتے تھے۔ ہجرت کے بعد حرام ہوئی پھر کسی مسلمان نے ہاتھ نہیں لگایا۔ تاہم اس مکی آیت میں بھی " سکرًا " کے بعد " ورزقاً حسنًا " فرما دیا کہ جو چیز آئندہ حرام ہونے والی ہے اس پر " رزق حسن " کا اطلاق کرنا موزوں نہیں۔
10 یہاں " یَعْقِلُوْنَ " کا لفظ جو عقل سے مشتق ہے " سکرًا " کے تذکرہ سے خاص مناسبت رکھتا ہے۔ چونکہ نشہ عقل کو زائل کردیتا ہے۔ اس لیے اشارہ فرما دیا کہ آیات کا سمجھنا عقل والوں کا کام ہے نشہ پینے والوں کا نہیں۔
Ayah 16:6811 یعنی انگور کی بیل چڑھانے کو جو ٹٹیاں باندھتے ہیں یا جو عمارتیں لوگ تیار کرتے ہیں۔ شہد کی مکھی کو حکم دینے کا یہ مطلب ہے کہ اس کی فطرت ایسی بنائی جو باوجود ادنیٰ حیوان ہونے کے نہایت کاریگری اور باریک صنعت سے اپنا چھتہ پہاڑوں، درختوں اور مکانوں میں تیار کرتی ہے۔ ساری مکھیاں ایک بڑے مکھی کے ماتحت رہ کر پوری فرمانبرداری کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ ان کے سردار کو " یعْسُوب " کہا جاتا ہے۔ جس کے ساتھ مکھیوں کا جلوس چلتا ہے۔ جب کسی جگہ مکان بناتی ہیں تو سب خانے " مسدس متساوی الاضلاع " کی شکل پر ہوتے ہیں بدون مسطر و پرکار وغیرہ کے اس قدر صحت و انضباط کے ساتھ ٹھیک ٹھیک ایک ہی شک پر تمام خانوں کا رکھنا آدمی کو حیرت زدہ کردیتا ہے۔ حکماء کہتے ہیں کہ مسدس کے علاوہ کوئی دوسری شکل اگر اختیار کی جاتی تو لامحالہ درمیان میں کچھ جگہ فضول خالی رہتی۔ فطرت نے ایسی شکل کی طرف راہنمائی کی جس میں ذرا سا فرجہ بھی بیکار نہ رہے۔
Ayah 16:6912 " کُلِیْ " اور " فَاسْلُکِیْ " سب اوامر تکوینیہ ہیں۔ یعنی فطرۃً اس کو ہدایت کی کہ اپنی خواہش اور استعداد مزاج کے مناسب ہر قسم کے پھلوں اور میووں میں سے اپنی غذا حاصل کرے، چناچہ مکھیاں اپنے چھتہ سے نکل کر رنگ برنگ کے پھول پھل چوستی ہیں جس سے شہد اور موم وغیرہ حاصل ہوتا ہے۔
1 یعنی غذا حاصل کرنے اور کھا پی کر چھتہ کی طرف واپس آنے کے راستے صاف کھلے پڑے ہیں۔ کوئی روک ٹوک نہیں۔ چناچہ دیکھا گیا ہے کہ مکھیاں غذا کی تلاش میں بعض اوقات بہت دور نکل جاتی ہیں پھر بےتکلف اپنے چھتہ میں واپس جاتی ہیں۔ ذرا راستہ نہیں بھولتیں۔ بعض نے ( فَاسْلُكِيْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا) 16 ۔ النحل :69) کا مطلب یہ لیا ہے کہ قدرت نے تیرے عمل و تصرف کے جو فطری راستے مقرر کردیے ہیں ان پر مطیع و منقاد بن کر چلتی رہ۔ مثلاً پھول پھل چوس کر فطری قویٰ و تصرفات سے شہد وغیرہ تیار کر۔
2 یعنی مختلف رنگ کا شہد نکلتا ہے، سفید، سرخ، زرد، کہتے ہیں کہ رنگتوں کا اختلاف موسم، غذا اور مکھی کی عمر وغیرہ کے اختلاف سے پیدا ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
3 یعنی بہت سی بیماریوں میں صرف شہد خالص یا کسی دوسری دوا میں شامل کر کے دیا جاتا ہے جو باذن اللہ مریضوں کی شفایابی کا ذریعہ بنتا ہے۔ حدیث صحیح میں ہے کہ ایک شخص کو دست آرہے تھے اس کا بھائی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے شہد پلانے کی رائے دی۔ شہد پینے کے بعد اسہال میں ترقی ہوگئی۔ اس نے پھر حاضر ہو کر عرض کیا کہ حضرت دست زیادہ آنے لگے فرمایا۔ " صَدَقَ اللّٰہُ وَ کَذَبَ بَطْنُ اَخِیْکَ " (اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے) پھر پلاؤ۔ دوبارہ پلانے سے بھی وہی کیفیت ہوئی۔ آپ نے پھر وہی فرمایا۔ آخر تیسری مرتبہ پلانے سے دست بند ہوگئے اور طبیعت صاف ہوگئی۔ اطباء نے اپنے اصول کے موافق کہا ہے کہ بعض اوقات پیٹ میں " کیموس " فاسد ہوتا ہے جو پیٹ میں پہنچنے والی ہر ایک غذا اور دوا کو فاسد کردیتا ہے اس لیے دست آتے ہیں اس کا علاج یہ ہی ہے کہ مسہلات دی جائیں تاکہ وہ " کیموس فاسد " خارج ہو۔ شہد کے مسہل ہونے میں کسی کو کلام نہیں گویا حضور ﷺ کا مشورہ اس طبی اصول کے موافق تھا۔ مامون رشید کے زمانہ میں ثمامہ عباسی کو جب اسی قسم کا مرض لاحق ہوا تو اس زمانہ کے شاہی طبیب یزید بن یوحنا نے مسہل سے اس کا علاج کیا اور یہ ہی وجہ بتلائی۔ آجکل کے اطباء شہد کے استعمال کو استطلاق بطن کے علاج میں بیحد مفید بتلاتے ہیں۔
4 حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں میں برے میں سے بھلا نکلنے کے تین پتے بتلائے۔ جانور کے پیٹ اور خون گوبر کے مادہ سے دودھ، نشے کے مادہ (انگور، کھجور وغیرہ) سے پاک روزی اور مکھی کے پیٹ سے شہد۔ تینوں میں اشارہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس قرآن کی بدولت جاہلوں کی اولاد میں عالم پیدا کرے گا۔ حضرت کے وقت میں یہ ہی ہوا کہ کافروں کی اولاد عارف کامل ہوئی۔
Ayah 16:705 قدرت کے بہت سے خارجی نشان بیان فرما کر انسان کو متنبہ کرتے ہیں کہ خود اپنے اندرونی حالات پر غور کرے۔ وہ کچھ نہ تھا، خدا نے وجود بخشا پھر موت بھیجی اور دی ہوئی زندگی واپس لے لی یہ کچھ نہ کرسکا اور بعضوں کو موت سے پہلے ہی پیرانہ سالی کے ایسے درجہ میں پہنچا دیا کہ ہوش و حواس ٹھکانے نہ رہے۔ نہ ہاتھ پاؤں میں طاقت رہی، بالکل نکما ہوگیا۔ نہ کوئی بات سمجھی ہوئی یاد رکھ سکتا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ علم وقدرت اسی خالق ومالک کے خزانہ میں ہے۔ جب اور جس قدر چاہے دے اور جب چاہے واپس کرلے۔ حضرت شاہ صاحب کے نزدیک آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس امت میں کامل پیدا ہو کر پھر ناقص پیدا ہونے لگیں گے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 16:716 یعنی خدا کی دی ہوئی روزی اور بخشش سب کے لیے برابر نہیں۔ بلحاظ تفاوت استعداد و احوال کے اس نے اپنی حکمت بالغہ سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ کسی کو مالدار اور با اقتدار بنایا جس کے ہاتھ تلے بہت سے غلام اور نوکر چاکر ہیں۔ جن کو اسی کے ذریعہ سے روزی پہنچتی ہے۔ ایک وہ غلام ہیں جو بذات خود ایک پیسہ یا ادنیٰ اختیار کے مالک نہیں، ہر وقت آقا کے اشاروں کے منتظر رہتے ہیں۔ پس کیا دنیا میں کوئی آقا گوارا کرے گا کہ غلام یا نوکر چاکر جو بہرحال اسی جیسے انسان ہیں بدستور غلامی کی حالت میں رہتے ہوئے اس کی دولت، عزت، بیوی وغیرہ میں برابر کے شریک ہوجائیں۔ غلام کا حکم تو شرعاً یہ ہے کہ بحالت غلامی کسی چیز کا مالک بنایا جائے تب بھی نہیں بنتا آقا ہی مالک رہتا ہے اور فرض کرو آقا غلامی سے آزاد کر کے اپنی دولت وغیرہ میں برابر کا حصہ دار بنا لے تو مساوات بیشک ہوجائے گی، لیکن اس وقت غلام غلام نہ رہا۔ بہر کیف غلامی اور مساوات جمع نہیں ہوسکتی۔ جب دو ہم جنس اور متحد النوع انسانوں کے اندر مالک و مملوک میں شرکت و مساوات نہیں ہوسکتی، پھر غضب ہے کہ خالق و مخلوق کو معبودیت وغیرہ میں برابر کردیا جائے اور ان چیزوں کو جنہیں خدا کی مملوک سمجھنے کا اقرار خود مشرکین بھی کرتے تھے۔ اِلاَّشَرِیْکًا ہُوَلَکَ تَمْلِکُہُ وَمَامَلَکَ مالک حقیقی کا شریک وسہیم ٹھہرا دیا جائے۔ کیا منعم حقیقی کی نعمتوں کا یہ ہی شکریہ ہے کہ جس بات کے قبول کرنے سے خود ناک بھوں چڑھاتے ہوں اس سے زیادہ قبیح و شنیع صورت اس کے لیے تجویز کی جائے۔ نیز جس طرح روزی وغیرہ میں حق تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی، سب کو ایک درجہ میں نہیں رکھا، اگر علم و عرفان اور کمالات نبوت میں کسی ہستی کو دوسروں سے فائق کردیا تو خدا کی اس نعمت سے انکار کرنے کی بجز ہٹ دھرمی کے کیا وجہ ہوسکتی ہے۔
Ayah 16:727 یعنی نوع انسان ہی سے تمہارا جوڑا پیدا کیا تاکہ الفت و موانست قائم رہے۔ اور تخلیق کی غرض پوری ہو۔ (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً ) 30 ۔ الروم :21)
8 جو تمہاری بقائے نوعی کا ذریعہ ہیں۔
9 جو بقائے شخصی کا سبب ہے۔
10 یعنی بتوں کا احسان مانتے ہیں کہ بیماری سے چنگا کیا، یا روزی دی، اور یہ سب جھوٹ اور وہ جو سچ دینے والا ہے اس کے شکر گزار نہیں۔ کذافی الموضح۔ اور شاید یہ بھی اشارہ ہو کہ فانی و زائل زندگانی کی بقائے نوعی و شخصی کے اسباب کو تو مانتے ہو اور خدا کی سب سے بڑی نعمت ( پیغمبر ﷺ کی ہدایات) کو جو بقائے ابدی اور حیات جاودانی کا واحد ذریعہ ہے، تسلیم نہیں کرتے الا کُلُّ شَیْ ءٍ مَاخَلَا اللَّہَ بَاطِلٌ۔
Ayah 16:7311 یعنی نہ آسمان سے مینہ برسانے کا خدائی اختیار رکھتے ہیں نہ زمین سے غلہ اگانے کا۔ پھر قادر مطلق کے شریک معبودیت میں کس طرح بن گئے ؟12 یعنی نہ فی الحال اختیار ہے نہ آئندہ حاصل کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔
Ayah 16:741 مشرک کہتے تھے کہ مالک اللہ ہی ہے۔ یہ لوگ اس کی سرکار میں مختار ہیں۔ ہمارے کام ان ہی سے پڑتے ہیں۔ بڑی سرکار تک براہ راست رسائی نہیں ہوسکتی۔ سو یہ مثال غلط ہے جو بارگاہ احدیت پر چسپاں نہیں۔ اللہ ہر چیز آپ کرتا ہے خواہ بالواسطہ ہو یا بلاواسطہ۔ کوئی کام کسی کو اس طرح سپرد نہیں کر رکھا جیسے سلاطین دنیا اپنے ماتحت حکام کو اختیارات تفویض کردیتے ہیں کہ تفویض تو ارادہ و اختیار سے کیا لیکن بعد تفویض ان اختیارات کے استعمال میں ماتحت آزاد ہیں۔ کسی مجسٹریٹ کے فیصلہ کے وقت بادشاہ یا پارلیمنٹ کو اس واقعہ اور فیصلہ کی مطلق خبر نہیں ہوتی۔ نہ اس وقت جزئی طور پر بادشاہ کی مشیت و ارادہ کو فیصلہ صادر کرنے میں قطعاً دخل ہے یہ صورت حق تعالیٰ کے یہاں نہیں۔ بلکہ ہر ایک چھوٹا بڑا کام اور ادنیٰ سے ادنیٰ جزئی خواہ بواسطہ اسباب یا بالواسطہ اس کے علم محیط اور مشیت و ارادہ سے وقوع پذیر ہوتی ہے۔ اسی لیے لازم ہے کہ آدمی ہر کلی جزئی کا فاعل اور موثر حقیقی اعتقاد کر کے تنہا اسی کو معبود و مستعان سمجھے۔ (تنبیہ) ابن عباس وغیرہ سلف سے " فَلَاتَضْرِبُوْا لِلّٰہِ اْلاَمْثَالَ " کا یہ مطلب منقول ہے۔ کہ خدا کا مماثل کسی کو مت ٹھہراؤ۔
2 یعنی تم نہیں جانتے کہ خدا کے لیے کس طرح مثال پیش کرنی چاہیے۔ جو اصل حقیقت اور صحیح مطلب کی تفہیم میں معین ہو۔ اور اس کی عظمت و نزاہت کے خلاف شبہ پیدا نہ کرے۔ اگر صحیح مثال چاہو تو آگے دو مثالیں بیان فرمائیں۔ انھیں غور سے سنو اور تمثیل کی غرض کو سمجھو۔
Ayah 16:753 ایک شخص وہ ہے جو آزاد نہیں، دوسرے کا مملوک غلام ہے کسی طرح کی قدرت و اختیار نہیں رکھتا۔ ہر ایک تصرف میں مالک کی اجازت کا محتاج ہے۔ بدون اجازت اس کے سب تصرفات غیر معتبر ہیں دوسرا آزاد اور با اختیار شخص ہے جسے خدا نے اپنے فضل سے بہت کچھ مقدرت اور روزی عنایت فرمائی جس میں سے دن رات سراً وعلانیۃً بےدریغ خرچ کرتا ہے۔ کوئی اس کا ہاتھ نہیں روک سکتا۔ کیا یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے ہیں ؟ اسی طرح سمجھ لو کہ حق تعالیٰ ہر چیز کا مالک حقیقی ہے، سب تعریفیں اور خوبیاں اس کے خزانہ میں ہیں جس کو چاہے دے۔ کوئی مزاحمت کرنے والا نہیں۔ ذرہ ذرہ پر کلی اختیار اور کامل قبضہ رکھتا ہے۔ یہ کس قدر ظلم ہوگا کہ ایک پتھر کے بت کو اس کے برابر کردیا جائے جو کسی چیز کا مالک نہیں بلکہ خود پرایا مال ہے۔ اگر مالک مجازی اور مملوک مجازی برابر نہیں ہوسکتے تو کوئی مملوک محض مالک حقیقی کا شریک کیسے بن سکتا ہے۔ یہاں سے یہ بھی سمجھ لو کہ خدائے واحد کا پرستار جسے مالک نے علم و ایمان کی دولت بخشی اور لوگوں میں شب و روز روحانی نعمتیں تقسیم کرنے کا ذریعہ بنایا، کیا ایک پلید مشرک کو جو بت کا مملوک، اہواء و اوہام کا غلام اور عمل مقبول سے محض تہی دست ہے اس مومن موحد کے ساتھ برابر کھڑا کیا جاسکتا ہے ؟ کلاّ واللہ۔
Ayah 16:764 گونگا ہے تو لازمی طور پر بہرا بھی ہوگا۔ گویا نہ اپنی کہہ سکے نہ دوسرے کی سن سکے۔
5 کیونکہ نہ حواس رکھتا ہے نہ عقل، اور اپاہج ہے جو چل پھر بھی نہیں سکتا۔
6 یعنی مالک کے کسی کام کا نہیں۔ جدھر اسے بھیجنا چاہے یا متوجہ کرے کچھ بھلائی اور فلاح نہ پہنچا سکے۔
7 یعنی خود سیدھی راہ پر قائم رہ کر دوسروں کو بھی اعتدال و انصاف کے راستہ پر لے جا رہا ہے۔ جب یہ دونوں شخص برابر نہیں ہوسکتے تو ایک خود تراشیدہ پتھر کی مورتی کو (العیاذ باللہ) خدائی کا درجہ کیونکر دیا جاسکتا ہے۔ یا ایک اندھا بہرا مشرک جو خدا کی پیدا کی ہوئی روزی کھاتا ہے اور چھدام کا کام کر کے نہیں دیتا اس مومن قانت کی ہمسری کیسے کرسکتا ہے جو خود سیدھی راہ پر ہو اور دوسروں کو اپنے ساتھ ترا لے جائے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی " خدا کی دو مخلوق ایک بت نکما نہ ہل سکے نہ چل سکے جیسے گونگا غلام، دوسرا رسول جو اللہ کی راہ بتاوے ہزاروں کو اور آپ بندگی پر قائم ہے اس کے تابع ہونا بہتر یا اس کے تابع ہونا بہتر ہے "
Ayah 16:778 یعنی ساری مخلوق یکساں نہ ہوئی۔ ایک آدمی کا حال دوسرے سے بےانتہا مختلف ہوا۔ سب چیزیں ایک سطح مستوی پر کھڑی نہیں کی گئیں۔ اس کا بھید اور ہر ایک کی پوشیدہ استعداد اور مخفی حالت کا علم خدا ہی کے پاس ہے۔ چناچہ وہ اپنے علم محیط کے موافق قیامت میں ہر ایک کے ساتھ جداگانہ معاملہ کرے گا۔ اور مختلف احوال پر مختلف نتائج مرتب فرمائے گا۔
9 یعنی قیامت کے آنے کو مستبعد مت سمجھو، خدا کے آگے کوئی چیز مشکل نہیں۔ تمام لوگوں کو جب دوبارہ پیدا کرنا چاہے گا تو پلک جھپکنے کی دیر بھی نہ لگے گی، ادھر سے ارادہ ہوتے ہی چشم زدن میں ساری دنیا دوبارہ موجود ہوجائے گی۔ (تنبیہ) (كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ ) 16 ۔ النحل :77) کا مطلب یہ ہے کہ عام لوگوں کے محسوسات کے موافق تو اس کی سرعت کو آنکھ جھپکنے سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ لیکن واقعی اس سے بھی کم میں قیامت قائم ہوجائے گی۔ کیونکہ " لمح بصر " بہرحال زمانی چیز ہے اور ارادہ خداوندی پر مراد کا ترتب آنی ہوگا۔
10 یعنی جس کے علم محیط کا وہ حال ہو کہ آسمان و زمین کے سارے بھید اس کے سامنے حاضر ہیں اور جس کی قدرت کاملہ ذرہ ذرہ پر محیط ہو، بھلا اس کا ہمسر کون ہوسکتا ہے ؟ اور اس کی پوری مثال کہاں سے لاسکتے ہیں۔
Ayah 16:781 یعنی پیدائش کے وقت تم کچھ جانتے اور سمجھتے نہ تھے، خدا تعالیٰ نے علم کے ذرائع اور سمجھنے والے دل تم کو دیے۔ جو بذات خود بھی بڑی نعمتیں ہیں اور لاکھوں نعمتوں سے متمتع ہونے کے وسائل ہیں۔ اگر آنکھ، کان، عقل وغیرہ نہ ہو تو ساری ترقیات کا دروازہ ہی بند ہوجائے۔ جوں جوں آدمی کا بچہ بڑا ہوتا ہے اس کی علمی و عملی قوتیں بتدریج بڑھتی جاتی ہیں۔ اس کی شکر گزاری یہ تھی کہ ان قوتوں کو مولیٰ کی طاعت میں خرچ کرتے، اور حق شناسی میں سمجھ بوجھ سے کام لیتے، نہ یہ کہ بجائے احسان ماننے کے الٹے بغاوت پر کمر بستہ ہوجائیں۔ اور منعم حقیقی کو چھوڑ کر اینٹ پتھروں کی پرستش کرنے لگیں۔
Ayah 16:792 یعنی جیسے آدمی کو اس کے مناسب قویٰ عنایت فرمائے، پرندوں میں ان کے حالات کے مناسب فطری قوتیں ودیعت کیں، ہر ایک پرندہ اپنی اڑان میں قانون قدرت کا تابع اور خدا تعالیٰ کے تکوینی احکام سے وابستہ ہے۔ اسے کسی درسگاہ میں اڑنے کی تعلیم نہیں دی گئی، قدرت نے اس کے پر اور بازو اور دم وغیرہ کی ساخت ایسی بنائی ہے کہ نہایت آسانی سے آسمانی فضا میں اڑتے رہتے ہیں۔ یہ نہیں ہوتا کہ ان کا جسم ثقیل ہوائے لطیف کو چیر پھاڑ کر بےاختیار نیچے آپڑے۔ یا زمین کی عظیم الشان کشش انھیں اپنی طرف کھینچ لے اور طیران سے منع کر دے۔ کیا خدا کے سوا کسی اور کا ہاتھ ہے جس نے ان کو بےتکلف فضائے آسمانی میں روک رکھا ہے۔
3 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی ایمان لانے میں بعضے اٹکتے ہیں، معاش کی فکر سے، سو فرمایا کہ ماں کے پیٹ سے کوئی کچھ نہیں لاتا۔ کمائی کے اسباب کہ آنکھ، کان، دل وغیرہ ہیں، اللہ ہی دیتا ہے اور اڑتے جانور ادھر میں آخر کس کے بھروسہ رہتے ہیں۔ " 1 ھ
Ayah 16:804 یعنی اینٹ، پتھر، لکڑی وغیرہ کے مکان۔
5 یعنی اینٹ پتھر کے مکانوں کو کہیں منتقل نہیں کرسکتے تھے، اس لیے چمڑے اور اون وغیرہ کے ڈیرے خیمے بنانے سکھا دیے جو بسہولت منتقل کیے جاسکتے ہیں۔ سفر و حضر میں جہاں چاہو نصب کرلو اور جب چاہو لپیٹ کر رکھ دو ۔ بعض نے (يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ اِقَامَتِكُمْ ) 16 ۔ النحل :80) کا یہ مطلب لیا ہے کہ چلنے کے وقت اٹھانے میں اور کسی جگہ اترتے وقت نصب کرنے میں ہلکے رہتے ہیں۔
6 یعنی اونٹ کی پشم سے۔
7 یعنی ان چیزوں سے کتنے سامان رہائش اور آسائش کے تیار کئے جاتے ہیں جو ایک وقت معین یا مدت دراز تک کام دیتے ہیں۔ اگر خدا تعالیٰ آنکھ، کان اور ترقی کرنے والے دل و دماغ نہ دیتا، کیا یہ سامان میسر آسکتے تھے۔