Ayah 16:818 مثلاً بادل، درخت، مکان اور پہاڑ وغیرہ کا سایہ قانون قدرت کے موافق زمین پر پڑتا ہے جس میں مخلوق آرام پاتی ہے۔
9 جہاں سر چھپا کر بارش، دھوپ یا دشمن وغیرہ سے اپنی حفاظت کرسکتے ہو۔
10 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جن کرتوں میں گرمی کا بچاؤ ہے، سردی کا بھی بچاؤ ہے۔ پر اس ملک میں گرمی زیادہ تھی اس کا ذکر خصوصیت سے فرمایا۔ "
11 یعنی زرہیں جو لڑائی میں زخمی ہونے سے بچاتی ہیں۔
12 یعنی دیکھو ! کس طرح تمہاری ہر قسم کی ضروریات کا اپنے فضل سے انتظام فرمایا اور کیسی علمی و عملی قوتیں مرحمت فرمائیں جن سے کام لے کر انسان عجیب و غریب تصرفات کرتا رہتا ہے۔ پھر کیا ممکن ہے کہ جس نے مادی اور جسمانی دنیا میں اس قدر احسانات فرمائے، روحانی ترتیب و تکمیل کے سلسلے میں ہم پر اپنا احسان پور انہ کرے گا۔ بیشک پورا کرچکا (اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا) 5 ۔ المائدہ :3) ضروری ہے کہ سب لوگ اس کے احسان کے آگے گردنیں جھکا دیں اور اس منعم حقیقی اور محسن اعظم کے مطیع و منقاد ہو کر رہیں۔
Ayah 16:8213 یعنی اگر اس قدر احسانات سن کر بھی خدا کے سامنے نہ جھکیں تو آپ کچھ غم نہ کھائیے۔ آپ اپنا فرض ادا کرچکے، کھول کھول کر تمام ضروری باتیں سنا دیں گئیں۔ آگے ان کا معاملہ خدا کے سپرد کیجئے۔
Ayah 16:8314 یعنی بیشک بعضے بندے شکر گزار بھی ہیں (وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ ) 34 ۔ سبأء :13) لیکن اکثروں کا حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کو دیکھتے اور اس کے احسانات کو سمجھتے ہیں، مگر جب شکر گزاری اور اظہار اطاعت کا وقت آتا ہے تو سب بھول جاتے ہیں۔ گویا دل سے سمجھتے ہیں اور عمل سے انکار کرتے ہیں۔
Ayah 16:841 یہاں سے کفر و ناشکری کا انجام بتلاتے ہیں۔ یہ یاد رکھو ! وہ دن بھی آنے والا ہے جب تمام اگلی پچھلی امتیں احکم الحاکمین کی آخری عدالت میں کھڑی ہوں گی اور ہر امت کا نبی بطور گواہ کھڑا کیا جائے گا تاکہ اپنی امت کے نیک و بد اور مطیع و عاصی کی نسبت شہادت دے کہ کس نے کیسا معاملہ حق کے پیغام اور پیغامبر کے ساتھ کیا ہے۔ اس وقت منکروں کو اجازت نہ ہوگی کہ کچھ لب کشائی کرسکیں یا اب بعد از وقت توبہ کر کے سزا سے چھوٹ جائیں اور لب کشائی کا ہے میں کریں گے، درآنحالیکہ انھیں اپنے مجرم ہونے اور کسی کی معذرت نہ چل سکنے کا پورا انکشاف ہوجائے گا۔ وہ یہ بھی سمجھ لیں گے کہ یہ " دارجزاء " ہے " دارعمل " نہیں جو اب توبہ کر کے خطائیں معاف کرا لیں۔
Ayah 16:852 یعنی نہ عذاب کی سختی میں کمی ہوگی اور نہ درمیان میں وقفہ ہوگا کہ تھوڑی دیر مہلت مل جائے، پھر از سر نو عذاب شروع ہو۔ بعض نے " وَلَا یُنْظَرُوْنَ " سے یہ مراد لیا ہے کہ جہنم کو دیکھنے کے بعد ایک منٹ کی ڈھیل نہ ملے گی۔ جہنم فوراً مجرمین کو اس طرح اچک لے گی جیسے پرند ایک دم دانہ اٹھا کر نگل جاتا ہے۔ گویا سرعت دخول کی طرف اشارہ ہوا۔
Ayah 16:863 یعنی ہم تو ان کی بدولت مارے گئے۔ شاید یہ مطلب ہو کہ ہم بذات خود بےقصور ہیں، یا یہ کہ انھیں دہری سزا دیجئے۔
4 یعنی جھوٹے ہو جو ہم کو خدا کا شریک ٹھہرا لیا۔ ہم نے کب کہا تھا کہ ہماری عبادت کرو۔ فی الحقیقت تم محض اپنے اوہام و خیالات کو پوجتے تھے جس کے نیچے کوئی حقیقت نہ تھی، یا جن و شیاطین کی پرستش کرتے تھے۔ مگر وہاں شیطان بھی یہ کہہ کر الگ ہوجائے گا (وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِيْ ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ وَلُوْمُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ) 14 ۔ ابراہیم :22) غرض جن چیزوں کو مشرکین نے معبود بنا رکھا تھا، سب اپنی علیحدگی اور بیزاری کا اظہار کریں گے۔ کوئی سچ کوئی جھوٹ۔ پتھر کے بتوں کو تو سرے سے کچھ خبر ہی نہ تھی۔ ملائکہ اور بعض انبیاء و صالحین ہمیشہ شرک سے سخت نفرت و بیزاری اور اپنی خالص بندگی کا اظہار کرتے رہے۔ رہ گئے شیاطین سو ان کا اظہار نفرت گو جھوٹ ہوگا، تاہم اس سے مشرکین کو کلی طور پر مایوسی ہوجائے گی کہ آج بڑے سے بڑا رفیق بھی کام آنے والا نہیں۔
Ayah 16:875 یعنی ساری طمطراق اور افتراء پردازیاں اس وقت غائب ہوجائیں گی سب عاجز و مقہور ہو کر خدا کے سامنے اپنی اطاعت وانقیاد کا اظہار کریں گے (اَسْمِعْ بِهِمْ وَاَبْصِرْ ۙيَوْمَ يَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْيَوْمَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ ) 19 ۔ مریم :38)
Ayah 16:886 یعنی ایک عذاب تو انکار حق پر، دوسرا اس پر کہ اوروں کو خدا کی راہ سے روکا۔ یا ایک عذاب صدور جرم پر دوسرا اس کی عادت ڈالنے پر۔ بہرحال آیت سے معلوم ہوا کہ جس طرح جنت میں اہل جنت کے منازل و مدارج متفاوت ہوں گے، جہنمیوں کا عذاب بھی کمًّا و کیفًا و نوعاً متفاوت ہوگا۔
Ayah 16:897 یعنی وہ ہولناک دن یاد رکھنے کے قابل ہے جب ہر ایک پیغمبر اپنی امت کے معاملات کے متعلق بارگاہ احدیت میں بیان دے گا۔ اور آپ (نبی کریم ﷺ اس امت کی حالت بتلائیں گے بلکہ بعض مفسرین کے قول کے موافق آپ ان تمام شہداء کے لیے شہادت دیں گے کہ بیشک انہوں نے اپنا فرض منصبی بخوبی ادا کیا۔ حدیث میں آیا ہے کہ امت کے اعمال ہر روز حضور ﷺ کے روبرو پیش کیے جاتے ہیں۔ آپ اعمال خیر کو دیکھ کر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں اور بد اعمالیوں پر مطلع ہو کر نالائقوں کے لیے استغفار فرماتے ہیں۔
8 یعنی قرآن کریم میں تمام علوم ہدایت اور اصول دین اور فلاح دارین سے متعلق ضروری امور کا نہایت مکمل اور واضح بیان ہے۔ اس میں قیامت کے یہ واقعات بھی آگئے جن کا ذکر اوپر ہوا۔ اندریں صورت جس پیغمبر پر ایسی جامع کتاب اتاری گئی اس کی مسؤلیت اور ذمہ داری بھی بہت بھاری ہوگی گویا " شَہِیْدًا عَلٰی ہٰؤُلَآء " کے بعد (ۭوَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ ) 16 ۔ النحل :89) فرما کر حضور ﷺ کے عظیم مرتبہ اور اسی مرتبہ کے مناسب مسؤلیت کی طرف لطیف اشارہ فرما دیا۔ (فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ ) 7 ۔ الاعراف :6) ابن کثیر نے اس کو ذرا تفصیل سے بیان کیا ہے۔
9 یعنی یہ کتاب سارے جہان کے لیے سر تا پا ہدایت اور مجسم رحمت ہے فرمانبردار بندوں کو شاندار مستقبل کی خوشخبری سناتی ہے۔
Ayah 16:9010 قرآن کو " تِبْیَاناً لِّکُلِّ شَیْئٍ " فرمایا تھا۔ یہ آیت اس کا ایک نمونہ ہے۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہر ایک خیرو شر کے بیان کو اس آیت میں اکٹھا کردیا ہے۔ گویا کوئی عقیدہ، خلق، نیت، عمل، معاملہ اچھا یا برا ایسا نہیں جو امراً ونہیاً اس کے تحت میں داخل نہ ہوگیا ہو۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ اگر قرآن میں کوئی دوسری آیت نہ ہوتی تو تنہا یہ ہی آیت " تبیاناً لکل شیئٍ " کا ثبوت دینے کے لیے کافی تھی۔ شاید اسی لیے خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خطبہ جمعہ کے آخر میں اس کو درج کر کے امت کے لیے اسوہ حسنہ قائم کردیا۔ اس آیت کی جامعیت سمجھانے کے لیے تو ایک مستقل تصنیف کی ضرورت ہے۔ تاہم تھوڑا سا اندازہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ آیت میں تین چیزوں کا امر فرمایا ہے۔ عدل 1، احسان 2، ایتاءِ ذی القربیٰ " 3 عدل " کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے تمام عقائد، اعمال، اخلاق، معاملات، جذبات، اعتدال و انصاف کے ترازو میں تلے ہوں، افراط وتفریط سے کوئی پلہ جھکنے یا اٹھنے نہ پائے۔ سخت سے سخت دشمن کے ساتھ بھی معاملہ کرے تو انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ اس کا ظاہر و باطن یکساں ہو جو بات اپنے لیے پسند نہ کرتا ہو اپنے بھائی کے لیے بھی پسند نہ کرے۔ " احسان " کے معنیٰ یہ ہیں کہ انسان بذات خود نیکی اور بھلائی کا پیکر بن کر دوسروں کا بھلا چاہے۔ مقام عدل و انصاف سے ذرا اور بلند ہو کر فضل و عفو اور تلطّف و ترحمّ کی خو اختیار کرے۔ فرض ادا کرنے کے بعد تطوُّع کی طرف قدم بڑھائے انصاف کے ساتھ مروت کو جمع کرے۔ اور یقین رکھے کہ جو کچھ بھلائی کرے گا خدا اسے دیکھ رہا ہے۔ ادھر سے بھلائی کا جواب ضرور بھلائی کی صورت میں ملے گا۔ " اَ لْاِحْسَانُ اَنْ تَعْبُدَاللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہ یَرَاکَ " (صحیح بخاری) (هَلْ جَزَاۗءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ ) 55 ۔ الرحمن :60) یہ دونوں خصلتیں (یعنی عدل و احسان یا بالفاظ دیگر انصاف و مروت) تو اپنے نفس اور ہر ایک خویش و بیگانہ اور دوست و دشمن سے متعلق تھیں۔ لیکن اقارب کا حق اجانب سے کچھ زائد ہے۔ جو تعلقات قرابت قدرت نے باہم رکھ دیئے ہیں انھیں نظر انداز نہ کیا جائے۔ بلکہ اقارب کی ہمدردی اور ان کے ساتھ مروت و احسان اجانب سے کچھ بڑھ کر ہونا چاہیے۔ صلہ رحم ایک مستقل نیکی ہے جو اقارب ذوی الارحام کے لیے درجہ بدرجہ استعمال ہونی چاہیے۔ گویا " احسان " کے بعد ذوی القربی کا بالتخصیص ذکر کر کے متنبہ فرما دیا کہ عدل و انصاف تو سب کے لیے یکساں ہے لیکن مروت و احسان کے وقت بعض مواقع بعض سے زیادہ رعایت و اہتمام کے قابل ہیں۔ فرق مراتب کو فراموش کرنا ایک طرح قدرت کے قائم کیے ہوئے قوانین کو بھلا دینا ہے۔ اب ان تینوں لفظوں کو ہمہ گیری کو پیش نظر رکھتے ہوئے سمجھ دار آدمی فیصلہ کرسکتا ہے کہ وہ کون سی فطری خوبی، بھلائی اور نیکی دنیا میں ایسی رہ گئی ہے جو ان تین فطری اصولوں کے احاطہ سے باہر ہو۔ فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّۃُ ۔
1 منع بھی تین چیزوں سے کیا۔ فحشاء، منکر، بغی، کیونکہ انسان میں تین قوتیں ہیں۔ جن کے بےموقع اور غلط استعمال سے ساری خرابیاں اور برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ قوت بہیمیہ شہوانیہ 1، قوت وہمیہ شیطانیہ 2 قوت غضبیہ سبیعہ 3، غالباً " فحشاء " سے وہ بےحیائی کی باتیں مراد ہیں جن کا منشاء شہوت و بہیمیت کی افراط ہو " منکر " معروف کی ضد ہے۔ یعنی نامعقول کام جن پر فطرت سلیمہ اور عقل صحیح انکار کرے۔ گویا قوت وہمیہ شیطانیہ کے غلبہ سے قوت عقلیہ ملکیہ دب جائے۔ تیسری چیز " بغی " ہے۔ یعنی سرکشی کر کے حد سے نکل جانا۔ ظلم وتعدی پر کمر بستہ ہو کر درندوں کی طرح کھانے پھاڑنے کو دوڑنا، اور دوسروں کے جان و مال یا آبرو وغیرہ لینے کے واسطے ناحق دست درازی کرنا۔ اس قسم کی تمام حرکات قوت سبعیہ غضبیہ کے بےجا استعمال سے پید اہوتی ہیں۔ الحاصل آیت میں تنبیہ فرما دی کہ انسان جب تک ان تینوں قوتوں کو قابو میں نہ رکھے اور قوت عقلیہ ملکیہ کو ان سب پر حاکم نہ بنائے، مہذب اور پاک نہیں ہوسکتا۔
2 اکثم بن صفی نے اس آیت کریمہ کو سن کر اپنی قوم سے کہا " میں دیکھتا ہوں کہ یہ پیغمبر تمام عمدہ اور اعلیٰ اخلاق کا حکم دیتے ہیں اور کمینہ اخلاق و اعمال سے روکتے ہیں۔ تو تم اس کے ماننے میں جلدی کرو۔ فَکُوْنُوْا فِیْ ہٰذَا الْاَمْرِ رُءُوْسًا وَّ لَاتَکُوْنُوْا فِیْہِ اَذْنَاباً (یعنی تم اس سلسلہ میں سر بنو، دم نہ بنو) حضرت عثمان بن مظعون فرماتے ہیں کہ اسی آیت کو سن کر میرے دل میں ایمان راسخ ہوا اور محمد ﷺ کی محبت جاگزین ہوئی۔
Ayah 16:913 اوپر کی آیت میں جن چیزوں کے کرنے یا چھوڑنے کا حکم تھا ان کے بعض افراد کو بالتخصیص بیان فرماتے ہیں۔ یعنی ایفائے عہد کی تاکید اور غدر و بدعہدی سے ممانعت کی یہ چیز علاوہ فی نفسہ مہتم بالشان ہونے کے اس وقت مخاطبین کے بہت زیادہ مناسب حال تھی جس کا مسلم قوم کے عروج و ترقی اور مستقبل کی کامیابی پر بےانتہاء اثر پڑنے والا تھا۔ اسی لیے حکم دیا کہ جب خدا کا نام لے کر اور قسمیں کھا کر معاہدے کرتے ہو تو خدا کے نام پاک کی حرمت قائم رکھو۔ کسی قوم سے یا کسی شخص سے معاہدہ ہو (بشرطیکہ خلاف شرع نہ ہو) مسلمان کا فرض ہے کہ اسے پورا کرے، خواہ اس میں کتنی ہی مشکلات اور صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑے۔ " قول مرداں جان دارد " خصوصاً جب خدا کا نام لے کر اور حلف کر کے ایک معاہدہ کیا ہے تو سمجھنا چاہیے کہ قسم کھانا گویا خدا کو اس معاملہ کا گواہ یا ضامن بنانا ہے۔ وہ جانتا ہے جب تم اسے گواہ بنا رہے ہو، اور یہ بھی جانتا ہے کہ کہاں تک اس گواہی کا لحاظ رکھتے ہو۔ اگر تم نے خیانت اور بدعہدی کی۔ وہ اپنے علم محیط کے موافق پوری سزا دے گا۔ کیونکہ تمہاری کسی قسم کی کھلی چھپی دغابازی اس سے مخفی نہیں رہ سکتی۔
Ayah 16:924 یعنی عہد باندھ کر توڑ ڈالنا ایسی حماقت ہے جسے کوئی عورت دن بھر سوت کا تے، پھر کتا کتایا سوت شام کے وقت توڑ کر پارہ پارہ کر دے۔ چناچہ مکہ میں ایک دیوانی عورت ایسا ہی کیا کرتی تھی، مطلب یہ ہے کہ معاہدات کو محض کچے دھاگے کی طرح سمجھ لینا کہ جب چاہا کاتا اور جب چاہا انگلیوں کی ادنیٰ حرکت سے بےتکلف توڑ ڈالا سخت ناعاقبت اندیشی اور دیوانگی ہے۔ بات کا اعتبار نہ رہے تو دنیا کا نظام مختل ہوجائے۔ قول وقرار کی پابندی ہی سے عدل کی ترازو سیدھی رہ سکتی ہے۔ جو قومیں قانون عدل و انصاف سے ہٹ کر محض اغراض و خواہشات کی پوجا کرنے لگتی ہیں، ان کے یہاں معاہدات صرف توڑنے کے لیے رہ جاتے ہیں جہاں معاہد قوم کو اپنے سے کمزور دیکھا، سارے معاہدات ردی کی ٹوکری میں پھینک دیے گئے۔
5 یعنی معاہدوں اور قسموں کو فریب و دغا، مکاری اور حیلہ سازی کا آلہ مت بناؤ۔ جس طرح اہل جاہلیت کی عادت تھی کہ ایک جماعت کو اپنے سے طاقتور دیکھ کر معاہدہ کرلیا پھر جس وقت کوئی جماعت اس سے بڑھ کر معزز اور طاقتور سامنے آئی، پہلا معاہدہ توڑ کر نئی جماعت سے عہد و پیمان گانٹھ لیے۔ پھر چند روز بعد ان خلفاء کو کمزور بنانے اور اپنے کو بڑھانے کا موقع پایا تو فوراً معاہدات توڑ ڈالے اور سب قسمیں اور حلف بالائے طاق رکھ دیئے۔ بعینہ جس طرح آجکل یورپین اقوام کا معمول ہے۔
6 یعنی قوت و ضعف میں اقوام کا اختلاف ان میں سے کسی کو اوپر چڑھانا کس کو نیچے گرانا، خدا تعالیٰ نے تمہاری آزمائش کے لیے رکھا ہے اور ایفائے عہد کا حکم دینے میں بھی تمہارا امتحان ہے۔ دیکھتے ہیں کون ثابت قدم رہتا ہے کہ اپنا عہد پورا کرنے میں حلفاء کی قوت و ضعف کی کچھ پروا نہیں کرتا۔ باقی اقبال و ادبار کسی کے بدلے سے بدلا نہیں جاتا۔ ادبار کی جگہ اقبال اور ضعف کی جگہ قوت خدا ہی لائے تو آئے۔ ہاں بدعہدی کا خیال آنا اس کی علامت ہے کہ ادبار آنے والا ہے۔
7 یعنی یہاں امتحان ہے نتیجہ امتحان قیامت کے دن کھل جائے گا۔ جس وقت ضعف و طاقت کے سب جھگڑے چکا دیئے جائیں گے۔
Ayah 16:938 یعنی اسے قدرت تھی کہ اختلاف نہ رہنے دیتا، مگر حکمت اس کو مقتضی نہ تھی۔ جیسا کہ کئی مواقع میں ہم اس کی تقریر کرچکے ہیں۔
9 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " اس سے معلوم ہوا کہ کافر سے بھی غدر اور بدعہدی نہ کرے۔ کفر ان باتوں سے ہٹتا نہیں۔ اور اپنے اوپر وبال آتا ہے۔ "
Ayah 16:9410 یعنی عہد شکنی کر کے اور قسمیں توڑ کر بدعہدی کی راہ مت نکالو۔ اور مسلمان قوم کو بدنام نہ کرو کہ تمہارے خراب اور پست کیرکٹر کو دیکھ کر یقین لانے والے شک میں پڑجائیں اور غیر مسلم قومیں اسلام میں داخل ہونے سے رکنے لگیں۔ اور تم پر خدا کی راہ سے روکنے کا گناہ چڑھے جس کی سزا بڑی سخت ہوگی۔
Ayah 16:951 پہلے مذکور تھا آپس میں قول توڑنے کا۔ اب اللہ سے قول توڑنے کا ذکر ہے یعنی مال کی طمع سے خلاف شرع حکم مت کرو، انجام کار ایسا مال وبال لائے گا۔ جو موافق شرع ہاتھ لگے، تمہارے حق میں وہ ہی بہتر ہے۔ (موضح القرآن) یا ایفائے عہد کا جو اجر خدا کے یہاں ملے گا وہ اس ثمن قلیل سے کہیں بہتر ہے۔ ثمن کو قلیل اس لیے کہا کہ اگر ساری دنیا بھی مل جائے تب بھی آخرت کے مقابلہ میں قلیل و حقیر ہے۔
Ayah 16:962 پھر باقی و دائم کو چھوڑ کر فانی و زائل کا پسند کرنا کہاں کی عقل مندی ہے۔
3 یعنی جو لوگ خدا کے عہد پر ثابت قدم رہیں گے اور تمام مشکلات اور صعوبتوں کو صبر کے ساتھ برداشت کریں گے، ان کا اجر ضائع ہونے والا نہیں۔ ایسے بہترین عمل کا بدلہ ضرور ہمارے یہاں سے مل کر رہے گا۔
Ayah 16:974 اوپر کی آیت میں صابرین اور ایفائے عہد کرنے والوں کے اجر کا ذکر تھا۔ یہاں تمام اعمال صالحہ کے متعلق عام ضابطہ بیان فرماتے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ جو کوئی مرد یا عورت نیک کاموں کی عادت رکھے، بشرطیکہ وہ کام صرف صورۃً نہیں بلکہ حقیقتہً نیک ہوں۔ یعنی ایمان اور معرفت صحیحہ کی روح اپنے اندر رکھتے ہوں تو ہم اس کو ضرور پاک، ستھری اور مزیدار زندگی عنایت کریں گے۔ مثلاً دنیا میں حلال روزی، قناعت و غنائے قلبی، سکون و طمانیت، ذکر اللہ کی لذت، حب الٰہی کا مزہ، ادائے فرض عبودیت کی خوشی، کامیاب مستقبل کا تصور، تعلق مع اللہ کی حلاوت جس کا ذائقہ چکھ کر ایک عارف نے کہا تھا۔
چوں چتر سنجری رخ بختم سیاہ باد در دل اگر بود ہس ملک سنجرم
زانگہ کہ یافتم خبر از ملک نیم شب من ملک نیم روز بیک جو نمی خرم
سچ ہے۔ " اَہْلُ اللَّیْلِ فِیْ لَیْلِہِمْ اَلَذُّ مِنْ اَہْلِ اللَّہْوِفِیْ لَہْوِہِمْ " اسی لیے ایک بزرگ نے فرمایا کہ اگر سلاطین کو خبر ہوجائے کہ شب بیداروں کو رات کے اٹھنے میں کیا لذت و دولت حاصل ہوتی ہے، تو اس کے چھیننے کے لیے اسی طرح لشکر کشی کریں جیسے ملک گیری کے لیے کرتے ہیں۔ بہرحال مومن قانت کی پاک اور مزیدار زندگی یہیں سے شروع ہوجاتی ہے۔ قبر میں پہنچ کر اس کا رنگ اور زیادہ نکھر جاتا ہے۔ آخر انتہاء اس حیات طیبہ پر ہوتی ہے جس کے متعلق کہا ہے حَیَاۃٌ بِلَا مَوْتٍ ، وَّغِنیً بِلَافَقْرٍ ، وَصِحَّۃٌ بِلَاسُقْمٍ ، وَمُلْکٌ بِلَاہُلْکٍ ، وَسَعَادَۃٌ بِلَاشَقَاوَۃٍ ، رَزَقَنَا اللّٰہُ تَعَالیٰ بِفَضْلِہٖ وَمَنِّہٖ اِیَّاہَا۔ (تنبیہ) اس آیت نے بتلا دیا کہ قرآن کی نظر میں عورت اور مرد کی نیکی اور کامیابی کا ایک ہی ضابطہ ہے۔ یعنی عورت اور مرد بلا امتیاز اپنے اپنے حسب حال نیکی کر کے پاک زندگی حاصل کرسکتے ہیں۔
Ayah 16:985 حدیث میں ہے " خَیْرُ کُمْ مَّنْ تَعَلَّمَ الْقُرآنَ وَ عَلَّمَہ،" (تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھلائے) معلوم ہوا کہ مومن کے لیے قرأتِ قرآن بہترین کام ہے۔ اور پچھلی آیات میں دو مرتبہ بہتر کاموں پر اجر ملنے کا ذکر تھا۔ اس لیے یہاں قرأت قرآن کے بعض آداب کی تعلیم فرماتے ہیں تاکہ آدمی بےاحتیاطی سے اس بہتر کام کا اجر ضائع نہ کر بیٹھے۔ شیطان کی کوشش ہمیشہ یہ رہتی ہے کہ لوگوں کو نیک کاموں سے روکے خصوصاً قرأتِ قرآن جیسے کام کو جو تمام نیکیوں کا سرچشمہ ہے، کب ٹھنڈے دل سے گوارا کرسکتا ہے۔ ضرور اس کی کوشش ہوگی کہ مومن کو اس سے باز رکھے، اور اس میں کامیاب نہ ہو تو ایسی آفات میں مبتلا کر دے جو قرأتِ قرآن کا حقیقی فائدہ حاصل ہونے سے مانع ہوں۔ ان سب مغویانہ تدبیروں اور پیش آنے والی خرابیوں سے حفاظت کا یہ ہی طریقہ ہوسکتا ہے کہ جب مومن قرأتِ قرآن کا ارادہ کرے، پہلے صدق دل سے حق تعالیٰ پر بھروسہ کرے اور شیطان مردود کی زد سے بھاگ کر خداوند قدوس کی پناہ میں آجائے۔ اصلی استعاذہ (پناہ میں آنا) تو دل سے ہے۔ مگر زبان و دل کو موافق کرنے کے لیے مشروع ہے کہ ابتدائے قرأت میں زبان سے بھی اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھے۔
Ayah 16:996 یعنی جس نے خدا پر بھروسہ کیا اور اس کی پناہ ڈھونڈی اس پر شیطان زور سے حاوی نہیں ہوسکتا۔ اگر ایسا شخص کسی وقت محض تھوڑی دیر کے لیے بمقتضائے بشریت شیطان کے چکمہ میں آیا بھی تب بھی شیطان اپنا قبضہ اور تسلط اس پر نہیں جما سکتا۔ بہت جلد اس کی آنکھ کھل جائے گی اور غفلت میں تمادی نہ ہوگی۔ (اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا هُمْ مُّبْصِرُوْنَ 201ۚ وَاِخْوَانُهُمْ يَمُدُّوْنَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُوْنَ 202) 7 ۔ الاعراف :102-101)
Ayah 16:1007 یعنی جو لوگ از خود شیطان کو اپنا رفیق بنالیں اور بجائے ایک خدا پر بھروسہ کرنے کے اس پر بھروسہ رکھیں۔ گویا اس کو خدائی کا شریک ٹھہرا لیں یا اس کے اغواء سے دوسری چیزوں کو خدا کا شریک مانیں، انہی پر شیطان کا پورا قبضہ اور تسلط ہے کہ جس طرح چاہتا ہے انگلیوں پر نچاتا ہے۔
Ayah 16:1018 پہلے حکم دیا تھا کہ قرآن پڑھتے وقت شیطان رجیم کے کید سے پناہ ڈھونڈو۔ کہیں وہ اس بہترین کام میں رکاوٹ اور خرابی نہ ڈالے۔ یہاں اس کی بعض رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہیں جو قرآن کے متعلق پیدا کرتا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ پورا قرآن ایک مرتبہ تو نازل ہوا نہیں، موقع بموقع آیات نازل ہوتی تھیں۔ ان میں بعض وقتی احکام بھی آتے تھے۔ پھر دوسرے وقت حالات کے تبدیل ہونے پر دوسرا حکم آجاتا تھا مثلاً ابتداء میں قتال سے ممانعت اور ہاتھ روکے رکھنے کا حکم تھا۔ ایک زمانہ کے بعد اجازت دی گئی۔ یا ابتداء میں حکم تھا۔ (قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا ۙ نِّصْفَهٗٓ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًا ۙ ) 73 ۔ المزمل :3-2) تھوڑی مدت کے بعد مکہ ہی میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ (ۭعَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ ) 73 ۔ المزمل :20) کفار ایسی چیزوں کو سن کر اعتراض کرتے کہ یہ خدا کا کلام کیسے ہوسکتا ہے ؟ کیا خدا تعالیٰ نے (معاذ اللہ) پہلے بیخبر ی سے ایک بات کا حکم دے دیا تھا ؟ پھر خبر ہوئی تو دوسرا حکم اتارا ؟ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کلام آپ خود بنا لاتے ہیں۔ ورنہ خدا کے احکام ایسے نہیں ہوسکتے ایک دن کچھ دوسرے دن کچھ۔ اس طرح کے شبہات و وساوس ممکن تھا شیطان بعض مسلمانوں کے دلوں میں القا کرے۔ اس کا جواب دیتے ہیں کہ تمہارا یہ اعتراض محض جہالت سے ہے۔ تم کو اگر " نسخ " کی حقیقت معلوم ہوتی تو کبھی ایسا لفظ زبان سے نہ نکالتے " نسخ " کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ ایک میعادی حکم کی میعاد پوری ہونے پر دوسرا حکم بھیجا جائے۔ کیا طبیب منضج کا نسخہ دس بیس دن پلا کر اگر مسہل تجویز کرے تو اسے طبیب کی کم علمی یا بیخبر ی پر محمول کیا جاسکتا ہے ؟ جو ایسا کہے وہ خود جاہل اور بیخبر کہلائے گا۔ حق تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ جس وقت جو حکم اتارا گیا یعنی جو روحانی غذا یا دوا تجویز کی گئی وہ کہاں تک مریضوں کے مزاج اور حالات کے مناسب ہے۔
Ayah 16:1021 یعنی میرا یا کسی بشر کا بنایا ہوا کلام نہیں۔ یہ تو وہ کلام ہے جو بلاشبہ میرے رب نے روح القدس (پاک فرشتہ جبرائیل امین) کے ذریعہ سے عین حکمت و مصلحت کے موافق مجھ پر نازل فرمایا گویا " مِنْ رَّبِّکَ " کہہ کر متنبہ فرما دیا کہ اس کی نازل کرنے والی وہ ہستی ہے جس نے خود محمد ﷺ کی اس قدر حیرت انگیز طریقہ سے ایسے اعلیٰ و اکمل اخلاق پر تربیت فرمائی جو تمہارے سامنے ہے۔ اور " روح القدس " کا واسطہ بیان فرما کر شاید اس طرف اشارہ کرنا ہو کہ جس کلام کا حامل " روح القدس " بنایا گیا، وہ روحانیت، پاکیزگی اور ملکوتی خصال کا پیکر ہونا چاہیے۔ چناچہ دیکھ لو ان اوصاف میں اس شان کا کیا کوئی دوسرا کلام آسمان کے نیچے نظر آتا ہے۔
2 یعنی موقع بموقع اور بتدریج احکام و آیات کا نزول دیکھ کر ایمان والوں کے دل قوی اور اعتقاد پختہ ہوتے ہیں کہ ہمارا رب ہمارے ہر حال اور زندگی کے ہر ایک دور سے پورا خبردار ہے اور نہایت حکمت سے ہماری تربیت کرتا ہے۔ جیسے حالات پیش آئیں ان کے موافق ہدایت و راہنمائی کرتا اور ہر کام پر اس کے مناسب خوشخبری سناتا ہے۔
Ayah 16:1033 مشرکین کا اعترض یہ تھا کہ قرآن شریف نہ خدا کا کلام ہے، ورنہ نسخ اس میں نہ ہوتا اور نہ یہ آپ کا کلام ہوسکتا ہے۔ کیونکہ آپ کا امی ہونا سب کو معلوم و مسلم تھا۔ ایک امی جس نے نہ کبھی کوئی کتاب چھوئی ہو نہ قلم ہاتھ میں پکڑا ہو، بلکہ باوجود اعلیٰ درجہ کے قریشی ہونے کے چالیس برس تک ایک شعر بھی زبان سے نہ کہا ہو، جس میں عرب کی چھوکریاں تک فطری سلیقہ اور ملکہ رکھتی تھیں۔ کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ وہ بدون تعلیم و تعلم کے دفعتاً ایسی کتاب بنا لائے جو اس قدر عجیب و غریب، علوم و حکم، موثر ہدایات اور کایا پلٹ کردینے والے قوانین و احکام پر مشتمل ہو۔ ناگزیر کہنا پڑے گا کہ کوئی دوسرا شخص انھیں یہ باتیں سکھلاتا اور ایسا کلام بنا کر دے دیتا ہے۔ وہ شخص کون تھا جس کی بےاندازہ قابلیت سے قرآن جیسی کتاب تیار ہوئی اس کے نام میں اختلاف تھا جبر یسار عائش لعیش کئی عجمی غلاموں کے نام لیے گئے ہیں جن میں کوئی یہودی تھا کوئی نصرانی۔ بلکہ بعض کی نسبت کہا گیا ہے کہ وہ نصرانیت چھوڑ کر مذہب اسلام قبول کرچکے تھے۔ کہتے ہیں حضور گاہ بگاہ آتے جاتے ان میں سے کسی ایک کے پاس بیٹھتے تھے یا وہ حضور ﷺ کی خدمت میں کبھی حاضر ہوا کرتا تھا۔ مگر تعجب ہے اتنے بڑے قابل انسانوں کا تو نام بھی تاریخ نے پورے تیقن و تعین کے ساتھ یاد نہ رکھا۔ اور جو ان سے سیکھ کر محض نقل کردیا کرتے تھے، دنیا ان کے قدموں پر گر پڑی ہے۔ حتیٰ کہ جنہوں نے ان کو نبی نہ مانا، دنیا کا سب سے بڑا مصلح اور کامل انسان ان کو بھی تسلیم کرنا پڑا۔ بہرحال مشرکین کے اس سفیہانہ اعتراض سے یہ ضرور ثابت ہوگیا کہ دعوائے بعثت سے پہلے آپ کا امی ہونا ان کے نزدیک ایسا مسلم تھا کہ قرآنی علوم و معارف کو آپ کی امیت مسلمہ سے تطبیق نہ دے سکتے تھے۔ اسی لیے کہنا پڑتا تھا کہ کوئی دوسرا شخص آپ کو یہ باتیں سکھلا جاتا ہے۔ بلاشبہ آپ سکھلائے ہوئے تھے، لیکن سکھلانے والا کوئی بشر نہ تھا۔ وہ رب قدیر تھا جس نے فرمایا " اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآن "
4 یعنی اگر قرآن کے علوم خارقہ اور دوسری وجوہ اعجاز کو اپنی غباوت کی وجہ سے تم نہیں سمجھ سکتے تو اس کی زبان کی معجزانہ فصاحت و بلاغت کا ادراک تو کرسکتے ہو۔ جس کے متعلق بار بار چیلنج دیا جاچکا اور اعلان کیا جا چکا ہے کہ تمام جن و انس مل کر بھی اس کلام کا مثل پیش نہ کرسکیں گے۔ پھر جس کا مثل لانے سے عرب کے تمام فصحاء و بلغاء بلا استثناء احدے عاجز و درماندہ ہوں ایک گمنام عجمی بازاری غلام سے کیونکر امید کی جاسکتی ہے کہ ایسا کلام معجز تیار کر کے پیش کر دے۔ اگر تمام عرب میں کوئی شخص بالفرض ایسا کلام بنا سکتا تو وہ خود حضرت محمد ﷺ ہوتے۔ مگر قرآن کے سوا آپ کے دوسرے کلام کا ذخیرہ قرآن کے بیان کردہ موضوعات پر موجود ہے، جو باوجود انتہائی فصاحت کے کسی ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت قرآنی کی ہمسری نہیں کرسکتا۔
Ayah 16:1045 یعنی کھلے دلائل کے باوجود جو شخص یہ ہی دل میں ٹھان لے کہ یقین نہیں کروں گا، خدا تعالیٰ بھی اس کو مقصد پر پہنچنے کی راہ نہیں دیتا۔ جتنا سمجھائیے کبھی نہ سمجھے گا۔ بد اعتقاد آدمی ہدایت سے محروم رہ کر آخر سخت سزا کا مستحق ہوتا ہے۔
Ayah 16:1056 یعنی آپ کو کہتے ہیں " اِنَّمَا اَنْتَ مُفْتَرٍ " حالانکہ آپ کی امانت و راستبازی پہلے سے مسلم اور ہر ایک چال ڈھال سے ظاہر تھی۔ کیا جھوٹ بنانے والوں کا چہرہ اور طور و طریق ایسا ہوتا ہے ؟ جھوٹ بنانا تو ان اشقیاء کا شیوہ ہے جو خدا کی باتیں سن کر اور اس کے نشانات دیکھ کر بھی یقین نہ کریں۔ اس سے بڑا جھوٹ کیا ہوگا کہ آدمی خدا کی باتوں کو جھوٹا کہے۔
Ayah 16:1067 ایک تو وہ مجرم ہیں جو سینکڑوں دلائل و آیات سن کر بھی یقین نہ لائیں۔ مگر ان سے بڑھ کر مجرم وہ ہیں جو یقین لانے اور تسلیم کرنے کے بعد شیطانی شبہات و وساوس سے متاثر ہو کر صداقت سے منکر ہوجائیں۔ جیسا کہ عبد اللہ بن ابی سرح نے کیا تھا کہ ایمان لانے کے بعد مرتد ہوگیا۔ العیاذ باللہ۔ ایسے لوگوں کی سزا آگے بیان فرمائی ہے۔ درمیان میں " اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ " الخ سے ایک ضروری استثناء کردیا گیا۔ یعنی اگر کوئی مسلمان صدق دل سے برابر ایمان پر قائم ہے ایک لمحہ کے لیے بھی ایمانی روشنی اور قلبی طمانیت اس کے قلب سے جدا نہیں ہوئی صرف کسی خاص حالت میں بہت ہی سخت دباؤ اور زبردستی سے مجبور ہو کر شدید ترین خوف کے وقت گلو خلاصی کے لیے محض زبان سے منکر ہوجائے یعنی کوئی کلمہ اسلام کے خلاف نکال دے بشرطیکہ اس وقت بھی قلب میں کوئی تردد نہ ہو، بلکہ زبانی لفظ سے سخت کراہیت و نفرت ہو، ایسا شخص مرتد نہیں بلکہ مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔ ہاں اس سے بلند مقام وہ ہے کہ آدمی مرنا قبول کرے مگر منہ سے بھی ایسا لفظ نہ نکالے جیسا کہ حضرت بلال حضرت یاسر حضرت سمیہ، حضرت خبیب بن زید انصاری اور حضرت عبد اللہ بن حذافہ ؓ وغیرہ کے واقعات تاریخوں میں موجود ہیں۔ بنظر اختصار ہم یہاں درج نہیں کرسکتے ابن کثیر میں دیکھ لیے جائیں۔
Ayah 16:1078 یعنی ایسے منکروں کو جو حیات دنیا ہی کو کعبہ مقصود ٹھہرا لیں، کامیابی کا راستہ کہاں ملتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جو کوئی ایمان سے پھرا ہے تو دنیا کی غرض کو، جان کے ڈر سے یا برادری کی خاطر سے یا زر کے لالچ سے جس نے دنیا عزیز رکھی اس کو آخرت کہاں ؟ اگر جان کے ڈر سے لفظ کہے تو چاہیے جب ڈر کا وقت جا چکے پھر توبہ و استغفار کر کے ثابت ہوجائے۔ "
Ayah 16:1081 یعنی دنیا طلبی اور ہوا پرستی کے نشہ میں ایسے مست و بیہوش ہیں جن کے ہوش میں آنے کی کوئی امید نہیں۔ خدا کی دی ہوئی قوتیں انہوں نے سب بیکار کردیں۔ آخر کانوں سے حق کی آواز سننے، آنکھوں سے حق کے نشان دیکھنے، اور دلوں سے حق بات سمجھنے اور سوچنے کی توفیق سلب ہوگئی۔ مہر کرنے کا مطلب پہلے سورة بقرہ وغیرہ میں گزر چکا ہے۔
Ayah 16:1092 یعنی جو لوگ اپنی بےاعتدالیوں اور غلط کاریوں سے خدا کی بخشی ہوئی قوتیں تباہ کر ڈالیں اور دنیا ہی کو قبلہ مقصود بنالیں، ان سے بڑھ کر خراب انجام کس کا ہوگا۔
Ayah 16:1103 مکہ میں بعضے لوگ کافروں کے ظلم سے بچل گئے تھے۔ یا صرف زبانی لفظ کفر کہہ لیا تھا۔ اس کے بعد جب ہجرت کی، جہاد کیا، اور بڑے استقلال و پامردی سے اسلام پر قائم رہے، اتنے کام ایمان کے کیے، وہ تقصیر بخشی گئی اور خدا کی مہربانی مبذول ہوئی ایک بزرگ تھے ' عمار " ان کے باپ تھے " یاسر " اور ماں " سمیہ " دونوں ظلم اٹھاتے مرگئے، پر لفظ کفر نہ کہا۔ یہ مسلمانوں کا پہلا خون تھا جو خدا کی راہ میں گرا۔ بیٹے (عمار) نے خوف جان سے لفظ کہہ دیا ' پھر روتے ہوئے حضرت کے پاس آئے۔ تب یہ آیتیں اتریں۔ ؓ اجمعین۔
Ayah 16:1114 یعنی ایک کی طرف سے دوسرا نہ بول سکے گا۔ ماں، باپ، بہن، بھائی، بیوی، اولاد، احباب و اقارب کوئی کام نہ دے گا۔ ہر شخص اپنی فکر میں پڑا ہوگا کہ کس طرح خدا کے عذاب سے مخلصی حاصل کرے۔ طرح طرح کے جھوٹے سچے عذر برأت کے لیے تراشے گا جواب وسوال کر کے چاہے گا رستگاری حاصل کرے۔
5 یعنی نیکی کے ثواب میں کمی نہ ہوگی اور بدی کی سزا استحقاق سے زائد نہ دی جائے گی۔
Ayah 16:1126 یعنی نہ باہر سے دشمن کا کھٹکا نہ اندر سے کسی طرح کی فکر و تشویش۔ خوب امن چین سے زندگی گزرتی تھی۔
7 یعنی کھانے کے لیے غلے اور پھل وغیرہ کھنچے چلے آتے تھے ہر چیز کی افراط تھی، گھر بیٹھے دنیا کی نعمتیں ملتی تھیں۔
8 اس بستی کے رہنے والوں نے خدا کے انعامات کی قدر نہ پہچانی، دنیا کے مزوں میں پڑ کر ایسے غافل اور بدمست ہوئے کہ منعم حقیقی کا دھیان بھی نہ آیا۔ بلکہ اس کے مقابلہ میں بغاوت کی ٹھان لی۔ آخر خدا تعالیٰ نے ان کی ناشکری اور کفران نعمت کا مزہ چکھایا۔ یعنی امن چین کی جگہ خوف و ہراس نے اور فراخ روزی کی جگہ بھوک اور قحط کی مصیبت نے ان کو اس طرح گھیر لیا جیسے کپڑا پہننے والے کے بدن کو گھیر لیتا ہے۔ ایک دم کو بھوک اور ڈر ان سے جدا نہ ہوتا تھا۔
Ayah 16:1139 ظاہری نعمتوں کے علاوہ جو اوپر مذکور ہوئیں ایک بڑی بھاری باطنی نعمت بھی ان کو دی گئی تھی، یعنی انہی کی قوم و نسب میں سے ایک رسول بھیجا گیا۔ جس کا اتباع کر کے وہ خدا کی خوشنودی کے بڑے اونچے مقامات حاصل کرسکتے تھے انہوں نے اتباع و تصدیق کی جگہ اس کی تکذیب و مخالفت پر کمر باندھ لی اور اس طرح پستی میں گرتے چلے گئے۔ آخر قدیم سنت اللہ کے موافق ظالموں اور گنہگاروں کو عذاب نے آپکڑا پھر کسی کی کوئی تدبیر پیش نہ گئی۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ان آیات میں کسی معین بستی کا تذکرہ نہیں۔ محض بطور تمثیل کسی تباہ شدہ بستی کا لاعلی التعیین حوالہ دے کر یا ایک ایسی بستی کا وجود فرض کر کے کفار مکہ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ تم نے ایسا کیا تو تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ ہوسکتا ہے۔ کفران نعمت اور تکذیب و عداوت رسول کی سزا سے بےفکر نہ ہوں۔ بعض علماء کے نزدیک اس مثال میں بستی سے مراد مکہ معظمہ ہے جہاں ہر قسم کا امن چین تھا اور باوجود وادی غیر ذی زرع ہونے کے طرح طرح کے پھل اور میوے کھینچے چلے آتے تھے۔ ( ۭ اَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْــبٰٓى اِلَيْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ) 28 ۔ القصص :57) اہل مکہ نے ان نعمتوں کی کچھ قدر نہ جانی۔ شرک و عصیان، بےحیائی اور اوہام پرستی میں منہمک ہوگئے۔ پھر خدا تعالیٰ نے سب سے بڑی نعمت محمد رسول اللہ ﷺ کی صورت میں بھیجی۔ اس کے انکار و تکذیب میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ ( اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ ) 14 ۔ ابراہیم :28) آخر خدا تعالیٰ نے امن و اطمینان کے بجائے مسلمان مجاہدین کا خوف اور فراخ روزی کی جگہ سات سال کا قحط ان پر مسلط کردیا۔ جس میں کتے اور مردار تک کھانے کی نوبت آگئی۔ پھر " بدر " کے معرکہ میں غازیان اسلام کے ہاتھوں خدا کا عذاب ان پر ٹوٹ پڑا۔ ادھر تو یہ ہوا دوسری طرف جو لوگ ان ظالموں کے جور وستم سے تنگ آکر گھر بار چھوڑ بھاگے تھے ان کو خدا نے بہتر ٹھکانہ دیا، دشمنوں کے خوف سے مامون و مصؤن بنایا، روزی کے دروازے کھول دیے، زبردست دشمنوں پر فتح عنایت کی، بلکہ اقلیموں کا بادشاہ اور متقیوں کا امام بنادیا۔ شاید اسی لیے ان آیات میں مکہ والوں کا حال سنا کر اگلی آیت (فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا ۠ وَّاشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ ) 16 ۔ النحل :114) میں مسلمانوں کو خطاب فرمایا ہے۔ کہ تم اس قسم کی حرکات سے بچتے رہنا جن کی بدولت مکہ والوں پر مصیبت ٹوٹی۔
Ayah 16:11410 یعنی جس کو خدا کی پرستش کا دعویٰ ہو اسے لائق ہے کہ خدا کی دی ہوئی حلال وطیب روزی سے تمتع کرے اور اس کا احسان مان کر شکر گزار بندہ بنے۔ حلال کو حرام نہ سمجھے اور نعمتوں سے منتفع ہوتے وقت منعم حقیقی کو نہ بھولے۔ بلکہ اس پر اور اس کے بھیجے ہوئے پیغمبروں پر ایمان لائے اور اسی کے احکام و ہدایت کی پابندی کرے۔
Ayah 16:1151 اس آیت کی تفسیر سورة " بقرہ " اور " انعام " وغیرہ میں گزر چکی وہاں دیکھ لی جائے، یہاں غرض یہ ہے کہ جس طرح پہلی آیت میں اشارہ تھا کہ حلال کو اپنے اوپر حرام نہ کرے، اس آیت میں تنبیہ کی گئی کہ حرام چیزوں کو حلال نہ ٹھہرائے۔ خلاصہ یہ کہ کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہرانا اسی کا حق ہے جس نے یہ چیزیں پیدا کی ہیں۔ چناچہ آئندہ آیات میں نہایت وضاحت سے یہ مضمون بیان ہوا ہے۔
Ayah 16:1162 یعنی بدون کسی سند شرعی کے کسی چیز کے متعلق منہ اٹھا کر کہہ دینا کہ حلال ہے یا حرام بڑی سخت جسارت اور کذب و افتراء ہے۔ حلال و حرام تو وہ ہی ہوسکتا ہے جسے خدا تعالیٰ نے حلال یا حرام کہا ہو۔ اگر کوئی شخص محض اپنی رائے سے کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہراتا ہے اور خدا کی طرف اس کی نسبت کرتا ہے، جیسے مشرکین مکہ کرتے تھے، جس کا ذکر سورة " انعام " میں گزر چکا وہ فی الحقیقت خدا پر بہتان باندھتا ہے۔ مسلمانوں کو ہدایت کی گئی کہ کبھی ایسا رویہ اختیار نہ کریں۔ جس چیز کو خدا نے حلال اور جس کو حرام کیا حرام سمجھیں۔ بدون ماخذ شرعی کے حلت و حرمت کا حکم نہ لگائیں۔
Ayah 16:1173 یعنی مشرکین مکہ جو حضور کو معاذ اللہ مفتری کہتے تھے یاد رکھیں کہ وہ خود مفتری ہیں۔ از راہ کذب و افتراء جس چیز کو چاہیں حلال یا حرام کہہ کر خدا کی طرف منسوب کردیتے ہیں ان کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ یہ روش اختیار کر کے کسی بھلائی کو نہیں پہنچ سکتے۔ تھوڑے دن اور دنیا کا مزہ اڑا لیں، پھر دائمی جیل خانہ تیار ہے۔
Ayah 16:1184 سورة " انعام " آیت (وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِيْ ظُفُرٍ ۚ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُوْمَهُمَآ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَآ اَوِ الْحَوَايَآ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ۭذٰلِكَ جَزَيْنٰهُمْ بِبَغْيِهِمْ ڮ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ) 6 ۔ الانعام :146) کے فوائد میں اس کا بیان گزر چکا، ملاحظہ کرلیا جائے یہاں مقصد یہ ہے کہ جو چیز خدا تعالیٰ نے سب کے لیے یا کسی خاص قوم کے لیے معین وقت تک حرام کی ہے، عین حکمت ہے کسی بشر کو حق نہیں کہ اس میں تصرف کر کے حرام کو حلال یا حلال کو حرام بنائے۔
Ayah 16:1195 مثلاً حرام کو حلال یا حلال کو حرام بنایا۔ " نادانی سے " اس لیے فرمایا کہ خدا کی جو نافرمانی اور گناہ آدمی کرتا ہے خواہ جان بوجھ کر کرے، وہ فی الحقیقت نادان اور بےعقل بن کر کرتا ہے۔ اگر ذرا عقل سے کام لے اور گناہ کے بد نتائج کا تصور کرے تو ہرگز معصیت پر اقدام نہیں کرسکتا۔ (اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَي اللّٰهِ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السُّوْۗءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِيْبٍ فَاُولٰۗىِٕكَ يَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَيْھِمْ ۭ وَكَان اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا) 4 ۔ النسآء :17) کے تحت میں جو اس کے متعلق لکھا گیا ہے اسے بھی ایک مرتبہ ملاحظہ کرلیا جائے۔
6 یعنی کفریات سے توبہ کر کے مسلمان ہوجانے اور آئندہ کے لیے اپنی حالت درست کرلینے پر حق تعالیٰ تمام گذشتہ گناہ معاف فرما دیتا ہے خواہ کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں۔
باز آباز آہر آنچہ کردی باز آگر کافرو گبرو بت پرستی باز آ
این درگہ ما، درگہ نومیدی نیست، صد بار اگر توبہ شکستی باز آ
Ayah 16:1207 مشرکین عرب کی شرکیات کا رد کر کے امام الموحدین ابو الانبیاء حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیٰ نبینا و (علیہ السلام) کا طریقہ یاد دلاتے ہیں، کیونکہ عرب کے لوگ ان کی نسل سے تھے اور دین ابراہیمی پر ہونے کا دعویٰ رکھتے تھے۔ حالانکہ ملت ابراہیمی سے انھیں دور کی نسبت بھی نہ رہی تھی۔ انھیں بتلایا گیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) موحدین کے امام، نیکی کے معلم، تمام دنیا کے مشرکین کے مقابلہ میں تن تنہا ایک امت عظیم کے برابر تھے جن کی ذات واحد میں حق تعالیٰ نے وہ سب خوبیاں اور کمالات جمع کردیے تھے جو کسی بڑے مجمع میں متفرق طور پر پائے جاتے ہیں۔
لَیْسَ عَلی اللّٰہِ بِمُسْتَنْکَرٍ اَنْ یَّجْمَعَ الْعَالَمَ فِیْ وَاحِدٖ
ابراہیم خدا کا کامل مطیع و فرمانبردار بندہ تھا جو ہر طرف سے ٹوٹ کر ایک خدا کا ہو رہا تھا۔ ممکن نہ تھا کہ بدون حکم الٰہی کسی چیز کو محض اپنی طرف سے حلال یا حرام ٹھہرا دے۔ وہ خود تو معاذ اللہ شرک کا ارتکاب کہاں کرسکتا، مشرکین کی جماعت اور بستی میں رہنا بھی گوارا نہیں کرتا تھا۔ پھر جو لوگ آپ کو " حنیف " کہتے اور دین ابراہیمی پر بتاتے ہیں انھیں شرم کرنی چاہیے کہ خدا پر افتراء باندھ کر حلال کو حرام یا حرام کو حلال کہنا اور شرک کی حمایت میں پیغمبروں سے لڑنا، کیا ایک " حنیف " اور ابراہیمی کی شان ہوسکتی ہے ؟ یاد رکھو ! حلال و حرام کے بیان اور اصول دین میں اصل ملت ابراہیمی ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ اسی ملت کی اقامت و اشاعت اور بسط و تفصیل کے لیے تشریف لائے ہیں اگر اصلی دین ابراہیم پر چلنا چاہو تو آپ ﷺ کا طریقہ اختیار کرو۔