56. Surah Al-Waaqia
الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsعروۃ الوثقٰی
وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 56:92 in the Quran reader
اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہے
اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہے
29۔ { ضالون } ضال کی جمع ہے اسم فاعل کا صیغہ مذکر ۔ ضال کا تعلق اگر دنیوی زندگی کے ساتھ قبل از موت ہو تو اس کے معنی زیادہ وسعت ہے اور اس سے مراد وہ لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو سیدھی راہ پر گامزن تو نہ ہوں لیکن سیدھی راہ کی تلاش و تحقیق میں ہوں اور لاریب یہ صورت حال ساری زندگی انسان کے ساتھ رہتی ہے خواہ وہ صحیح سمت کی طرف جا رہا ہو کیونکہ کسی وقت بھی پھسلنے کا خڈشہ اور امکان ہو سکتا ہے ۔ ہاں ! اللہ تعالیٰ کی طرف سے اگر کسی کو ہدایت کا سرٹیفکیٹ (Certificate) جاری ہوجائے تو یہ دوسری بات ہے اور ظاہر ہے کہ یہ نبیوں اور رسولوں ہی کے لیے خاص تھا۔ لیکن جب ضالین کا تعلق اس دنیوی زندگی سے کٹ جائے تو پھر صرف اور صرف ایک ہی مفہوم باقی رہ جاتا ہے یعنی بہکے ہوئے اور بھولے ہوئے جن کے اس بہکنے اور بھولنے سے نکلنے کی اب کوئی صورت باقی نہ رہ گئی ہو کیونکہ مرنے کے بعد فی الواقعہ اس کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ پھر زیر نظر آیت میں جن لوگوں کے لیے یہ لفظ استعمال ہوا ہے وہ وہی ہیں جو اس وار فانی سے رخصت ہوچکے ہیں اور اس لیے ان کے ساتھمکذِبینَ کا سرٹیفکیٹ (Certificate) بھی موجود ہے کہ دنیا میں یہ لوگ حق جو جھٹلاتے رہے اور گزشتہ آیتوں میں ان کو { اصحاب الشمال } کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور ان کے عذاب کی صورتیں بھی بڑی وضاحت سے بیان کی گئی ہیں اور ان کا ذکر اس سورت کی آیت 14 سے آیت 65 تک مسلسل چلا گیا اور ان آیات میں بھی ان کا یعنی { اصحاب الشمال } کا نام نہیں لیا گیا تا ہم یہ ذکر انھیں بد قسمت اور بیوقوف لوگوں کا ہے اگرچہ دنیا میں وہ اپنے آپ کو کتنا ہی سمجھدار سمجھتے رہے ہوں۔
فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:93 in the Quran reader
تو کھولتے ہوئے پانی سے اس کی مہمانی ہو گی
کھولتے ہوئے پانی سے ان کی مہمانی ہو گی
39۔ اس جگہ ان کا انجام بتایا جا رہا ہے کہ ان کی وہاں کیسی خاطر مدارت ہوگی کہ ان کے لیے کھولتا ہوا پانی تیار رکھا گیا ہے اس طرح اس ایک چیز کی طرف اشارہ فرما کر باقی باتوں کی توثیق کردی ہے کہ وہ سب کچھ ان کو ملے گا جس کا ذکر پیچھے آیت 14 تا 65 میں کردیا گیا ہے اور اسی ایک اشارہ سے باقی چیزوں کو سمجھ لو کہ وہ کیا کیا ہوں گی تفصیل کے لیے محولہ بالا آیات کی تفسیر پر ایک بار پھر نگاہ ڈال لیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس عذاب سے بچائے اور ان کھانوں اور مشروبات اور بچھونے کے قریب بھی نہ لے جائے جو عذاب میں ایک سے ایک بڑھ کر ہیں یہ تو گویا ایک پر تو اور سایہ ہے جس کا ذکر کیا گیا ہے۔
وَّ تَصْلِیَةُ جَحِیْمٍ Open ayah 56:94 in the Quran reader
اور دوزخ میں داخل ہونا ہو گا
اور ان کو دوزخ میں داخل ہونا ہو گا
49 ۔ ان لوگوں کو انجام کار دوزخ میں داخل ہونا ہوگا گویا مرنے کے بعد ان کی ارواح کے ساتھ جو سلوک ہوگا وہ تو محض دائمی خرابی کی یاد ہی تازہ کرے گا اصل انجام تو اس سے وقت ہی شروع ہوگا جب قیامت کے روز ان ارواح کو ان کے اجسام کے ساتھ مل ؛ ایا جائے گا یا دوسرے معنوں میں ان اجسام کو دوبارہ زندگی بخشی جائے اور ان کو ان کے اصل مقام دوزخ پہنچایا یا دھکیلا جائے گا۔ کو { جحیم } کے معنی دوزخ کے بھی کیے گئے ہیں اور دوزخ کے ساتھ طبقات یعنی درکات میں سے چھٹے طبقہ کو بھی { جحیم } کا نام دیا جاتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ : (1) جہنم۔ (2) لظّٰی ۔ (3) حطمۃ۔ (4) سعیر (5) سقر (6) جححیم (7) ہاویہ سات طبقات ہیں۔ (معالم التمنزیل ج 4 ص 55) اور تصیلہ ایندھن کا آگ میں جلانا ہے اور اس جگہ دوزخ کی آگ میں جلنا ہی مراد ہے اور اشارہ { اصحاب المشال } ہی کی طرف ہے۔
اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِۚ Open ayah 56:95 in the Quran reader
بلاشبہ یہ (سب کچھ) یقینا حق ہے
بلا شبہ یہ سب کچھ یقینا حق ہے
59۔ { اِنّس ہذا } یعنی قریب الموت لوگوں کی جس حالت کا ذکریا گیا ہے اور مرنے کے بعد جو کچھ ان کو پیش آنے والا ہے جس کی تفصیل اس جگہ اشارات و استعارات میں بیان کی گئی ہے اس کے حق ہونے میں کسی طرح کا کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ہے وہ حق اور یقینی حق ہے اگر کفار مکہ جھٹلا رہے ہیں تو کافروں کا اور کام ہی کیا ہے اور وہ کافر ہی کیوں ؟ اس لیے کہ وہ حق کی پرواہ نہیں کرتے تو آپ حق پر رہ کر کفر کر کی پرواہ آخر کیوں کریں گے ؟ بس آپ اپنا کام کیے چلے جائیں اور نہ ماننے والوں کے نا ماننے کی کوشش پروانہ کریں وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے کہ آپ اپنا کام کیے چلے جائیں اور نہ ماننے والوں کے نہ ماننے کی کوئی پرواہ نہ کریں وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے کہ آپ کے نفع و نقصان کے مالک ہم ہیں اور ہم آپ کا کام بھی دیکھ رہے ہیں اور ان کی شرارتیں بھی اچھی طرح جانتے ہیں اور ان کو بھی عنقریب پتہ چل جائے گا۔
فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:96 in the Quran reader
پس تو اپنے عظمت والے رب کے نام کی تسبیح کر
آپ اپنے عظم والے رب کی پاکیزگی بیان کرتے رہیں
69 ۔ اسی آیت پر اس سورت کا اختتام ہو رہا ہے اور نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے آپ ﷺ کی امت کے ہر داعی کو اپنے مؤقف حق پر ڈٹے رہنے کی تلقین کی جارہی ہے اور اس تلقین میں مزید واضح کیا جا رہا ہے کہ جہاں تک دلائل حق کا تعلق ہے وہ آپ ﷺ ہی کے پاس ہیں اگرچہ لوگوں کو ان کا رواج اس حق کو سچے دل کے ساتھ قبول کرنے سے روک رہا ہے لیکن آپ اپنے رب کی تسبیح وتحمید کے گیت گاتے رہیں کون سنتا ہے اور کون نہیں سنتا آپ کی صدا پہنچ رہی ہے زیر نظر آیت اس سورت کی آیت 47 کے طور پر بھی گزر چکی ہے اس لیے مزید وضاحت چاہتے ہوں تو آیت 47 کی تفسیر ایک بار پھر دیکھ لیں اور اس سورت کے اختتام پر اور آیت کے اختتام پر سبحان ربی العظیم کی تسبیح بلند کریں۔ قرآن کریم نماز میں یا نماز کے علاوہ پڑھ رہے ہوں یا کوئی دوسرا پڑھ رہا ہو اور آپ سن رہے ہوں۔ اور بحمداللہ اسی پر ہم اس سورت کی تفسیر کو ختم کرتے ہیں۔
سبحان ربی العظیم سبحان ربی العظیم ۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین۔ سبحان اللہ والحمد اللہ لا الہ الا اللہ واللہ اکبر۔ لا الہ الا اللہ وحد لا شریک لہ لہ الک ولہ الحمد و ہو علی کل شئیٍ قدیر