56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 56:36

فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ Open ayah 56:36 in the Quran reader

بس ہم نے ان کو کنواریاں بنایا ہے

پس ہم نے ان کو اہل جنت کے لیے کنواریاں بنایا ہے 36۔ ایک عورت کی جتنی خوبیاں بیان کی جاسکتی ہیں ان ساری خوبیوں سے بڑی خوبی جو سر فہرست ہے وہ عورت کا کنوارا پن ہے اور اہل جنت کی عورتوں کے لیے یہ صفت بھی واضح ارشاد فرما دی گئی ہے۔ { ابکار } بکر جمع ہے اور بکر کے معنی کنواری عورت کے ہیں جو ابھی شادی شدہ نہ ہو۔ سب اہل جنت کی عمریں جوانی ہی کی عمریں ہوں گی۔ مرد ہوں یا عورتیں لیکن جوان ہونا اور بکر ہونا دونوں میں خاص فرق ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ عورتیں جو اہل جنت کے لیے ہیں وہ دنیا میں خواہ کسی عمر میں بھی مری ہوں گی لیکن آخرت میں ان کو جوان ہی بنایا گیا ہوگا اور جوان ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بکر بھی ہوں گی اور اہل جنت کو پہلی دفعہ پشن کی جائیں گی اور اہل جنت کے لیے نہ موت ہے اور نہ ہی وہاں کوئی طلاق کا تصور ہے اس لیے جو عورت جس کے لیے ہوگی وہ بکر ہی ہوگی اور اس کے پاس ابدی طور پر رہے گی نہ تو کسی دوسرے کے ساتھ رہ کر وہ کسی کو دی جائے گی اور نہ ہی وہ کبھی ثیب ہوگی کیوں کہ ثیب کے لیے دوسرا خاوند ہونا لازم آتا ہے اور جنت میں ایسی کوئی صورت پیسا ہی نہیں ہوگی کہ کوئی عورت ثیب ہوجائے اور دنیا کا ثیب ہوجانا اس کے منافی نہیں ہے کیونکہ یہ نئی پیدائش ہوگی اور محض ان رحوں کی وجہ سے وہی انسان کہا جائے گا اور اس یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ روح قابل موت نہیں ہے بلکہ موت صرف بدن اور جسم کے لیے لازم و شرط ہے اور جسم ایک مبدل چیز ہے جو دنیا میں بھی بدلتا ہے اور آخرت میں بھی وہ یقینا بدلا ہوا ہوگا اور محض روح کے باعث اس کو وہی انسان کہا جائے گا۔ اگر اس انسان کا میٹریل (Matarial) بھی وہی تصور کرلیا جائے تو بھی جسم تو بہر حال بدلا جیسے آتے پتھر چینی لوہے پیتل سے ایک چیز تیار کی جائے اور جب تک وہ چیز کام کرتی رہے اُ سے کام لیا جائے لیکن جب وہ بےکار ہوجائے تو پھر اس کو ختم کر کے دوبارہ اس کو اسی وجود میں لایا جائے گویا وہ چپل تھی اور اب بھی چپل ہی بنائی گئی تو بھی اس کے جسم کے بدلنے سے تو آپ انکار نہیں کرسکتے اگرچہ اس کی روح یعنی اس کا کام نہیں بدلا کہ وہ پہلے بھی چپل تھی اور اب بھی چپل ہے اور اس پر یہ بات بھی صادق آتی ہے کہ یہ وہی چپل ہے جو پہلے میرے پائوں میں رہ چکی ہے اگر آپ غور کریں گے تو اس سے آپ کو بہت اسباق حاصل ہوجائیں گے۔
Ayah 56:37

عُرُبًا اَتْرَابًاۙ Open ayah 56:37 in the Quran reader

جو ہم عمر بھی ہوں گی اور پیار کرنے والیاں بھی

جو ہم عمر بھی ہوں گی اور پیار کرنے والیاں بھی 37۔ { عربا } سہاگ والیاں ‘ پیار دلانے والیاں ‘ محبوبائیں۔ عروب کی جمع جو بروزن فول صفت مشبہ کا صیغہ ہے جس کے معنی اس عورت کے ہیں جو اپنے ناز و انداز کی وجہ سے اپنے شوہر کی محبوب ہو نیز اپنی فراست کی بنا پر اس کی مزاج شناس بھی ہو۔ عرب کا مادہ چونکہ اظہار کو بتاتا اسی بنا پر امام راغ اصفہانی نے مفرادت میں اس کے معنی یہ لکھے ہیں امراۃ عروب وہ عورت کہ جو زبان حال سے اپنی عفت اور اپنے شوہر کی محبت کا اظہار کرے۔ عرب عرب اس کی جمع ہے۔ امام محمد بن اسماعیل بخاری (رح) نے اپنی صحیح میں عربا کی تفسیر میں لکھا ہے کہ المجبات الی ازواجھنَّ جو اپنے شوہروں کو محبوب ہوں۔ امام بخاری (رح) فرماتے ہیں عرب بالضم ہے اور اس کا واحد عروب جیسے کہ صبور اور صبر ہیں عروبکو اہل مکہ عربۃ کہتے ہیں۔ (بخاری تفسیر سورة الواقعہ) ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم نے روایت کیا ہے کہ اس کے معنی شیریں کلام کے ہیں اور بطریق جعفر بن محمد عن ابیہ عن جدہ مرفوعاً خود پیغمبر اسلام ﷺ سے یہ نقل کیا ہے کہ عرب کے معنی ان عورتوں کے ہیں جن کی زبان عربی ہو لیکن حافظ ابن حجر عسقلانی (رح) نے تصریح کی ہے کہ یہ روایت ضعیف اور منقطع ہے اور طبریٰ نے تمیم بن حزام سے عربۃ کے معنی ایسی عورت کے نقل کیے ہیں کہ جو شوہر کی اطاعت گزار اور فرمانبردار ہو اور عبداللہ بن عبیدبن عمیر مکی سے یہ نقل ہے کہعربۃ وہ عورت ہے جو اپنے شوہر کی چاہنی والی ہو (فتح الباری ج 6 ص 628) اور ابن عباس ؓ نے اس کی تفسیران الفاظ میں فرمائی ہے العرب العواشق لا زواجھن وزاوجھن لھن عاشقون ” یعنی عرب کے معنی وہ عورتیں جو اپنے شوہروں کی عاشق ہوں اور ان کے شوہر ان کے عاشق ہوں۔ حافظ ابن کثیرخ سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کی مذکورہ بالا تفسیر کو نقل کر کے فرماتے ہیں کہ بن سرجس ‘ مجاہد ‘ عکرمہ ‘ ابوالعالیہ ‘ یحییٰ بن ابی کثیر ‘ عطیہ ‘ حسن بصیر ‘ قتادہ اور ضحاک وغیرہ نے بھی یہی کہا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج 4 ص 292 طبع مصر 1367 ھ؁) { اترباً } ہم سن عورتیں یعنی ہم عمر ترب کی جمع ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ عربوں میں عورتوں کے بڑے ہونے یا مرد کے معمر ہونے کا لحاظ بہت کم تھا تا ہم ہم عمری کو وہ بھی ایک خوبی کی بات سمجھتے تھے اور آپ ﷺ نے جو نکاح کیے ان میں اکثر عورتیں آپ ﷺ سے عمر میں بڑی تھیں خصوصاً پہلی شادیوں میں لیکن آپ ﷺ کی شادیاں محض خواہش نفس کے لیے نہ تھیں بلکہ خاص مصلحت کے تحت تھیں اور یہی بات سیدہ عائشہ ؓ کے نکاح میں تھیں اگرچہ صرف یہی آپ ﷺ کی شادی تھی جو ایک کنواری کے ساتھ ہوئی اور آپ ﷺ کی عمر سے سیدہ عائشہ ؓ عمر میں کافی چھوٹی بھی تھیں تاہم نکاح کے وقت سیدہ عائشہ ؓ کی عمر تقریباً اٹھارہ سال کے قریب تھی گویا آپ ﷺ کا یہ نکاح بھی سیدہ عائشہ ؓ کی بلوغت کے بعد کا ہے نہ کہ بلوغت سے پہلے کا جیسا کہ عام طور پر سیرۃ نگاروں نے تحریر کیا ہے۔ تفصیل اس کی عروۃ الوثقی میں پیچھے گزر چکی ہے۔
Ayah 56:38

لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ٢ؕ۠ Open ayah 56:38 in the Quran reader

جو دائیں (طرف) والوں کے لیے ہوں گی

یہ عورتیں دائیں طرف والوں کی ہوں گی 38۔ یہ عورتیں جن کی صفات اوپر گزر چکی ہیں یعنی آیت 35 سے آیت 37 تک جن کی صفات بتائی گئی ہیں یہ عورتیں { اصحاب الیمین } کے لیے ہوں گی اور { اصحاب الیمین } وہی ہیں جو مقربین اور سابقین کے درجہ سے تو یقیناً کم ہوں گے لیکن { اصحاب الیمین } بھی اہل جنت ہی ہوں گے اور جنت کے انعامات کے مستحق قرار پائیں گے خصوصاً وہ انعامات جو زیر نظر سورت میں ان کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں جن کی تفصیل پیچھے گزر چکی۔
Ayah 56:39

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:39 in the Quran reader

(دا ہنی طرف والوں کا) ایک بڑا (گروہ) اگلوں میں سے

ایک بڑا گروہ پہلوں میں سے ہو گا 39۔ یہ وہی آیت ہے جو اس سورت کی آیت 13 کے طور پر بھی بیان ہوئی ہے یعنی ایک بڑا گروہ پہلوں یا اگلوں میں سے اور اس جگہ ثلۃ کی وضاحت ہم نے کردی ہے اس لیے گویا جو تفسیر وہاں بیان کی گئی ہے وہی تفسیر اس جگہ بھی سمجھی جائے گی۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ لوگ مقربین کا گروہ تھا اس لیے پہلوں میں سے تو ایک بہت بڑا گروہ مقربین کا ہوگا لیکن پچھلوں میں وہ بہت کم ہی ہوں گے لیکن { اصحاب الیمین } جس طرح پہلے لوگوں میں ایک بہت بڑا گروہ سمجھا گیا ہے اور اسی طرح کا ایک بہت بڑا گروہ پچھلوں میں بھی ہوگا جیسا کہ اس کا ذکر آگے آرہا ہے۔
Ayah 56:40

وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:40 in the Quran reader

اور ایک بڑا گروہ پچھلوں میں سے

اور ایک بہت بڑا گروہ پچھلوں میں بھی ہو گا 40۔ پہلوں سے مراد کیا ہے ؟ ہم نے اس کی وضاحت پہلے بیان کردی ہے کہ ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل کردیئے جائیں گے اور یہ لوگ مقربین میں سے ہوں گے لیکن اس جگہ جو ایک بہت بڑا گروہ جنت میں جانے کی بشارت دی گئی ہے تو اس سے مراد { اصحاب الیمین } کا گروہ ہے جو ایک بہت بڑا گروہ ہوگا لیکن اس کا تعلق بھی پہلوں ہی سے ہوگا گویا پہلوں میں ایک بہت بڑا گروہ مقربین کا بھی ہوگا اور ایک بہت بڑا گروہ { اصحاب الیمین } کا گروہ تو بڑا ہوگا لیکن پچھلوں میں { مقربون } اور { سابقون } کا گروہ چھوٹا گروہ ہوگا لیکن { اصحاب الیمین } کا گروہ جس طرح پہلوں میں ایک بہت بڑا گروہ ہوگا اسی طرح پچھلوں میں بھی ایک بہت بڑا گروہ ہوگا جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
Ayah 56:41

وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ Open ayah 56:41 in the Quran reader

اور بائیں (طرف) والے کیا (برے حال میں ہوں گے) یہ بائیں (طرف) والے

اور بائیں طرف والے کا یہی برا حال ہوگا بائیں طرف والوں کا 41۔ { شمال } جانب شمال۔ بائیں طرف { یمین } کی ضد ہے۔ اسم ہے یعنی وہ بد نصیب کی قیامت کے روز جن کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامے دیئے جائیں گے جو اس بات کی علامت ہوگی یہ لوگ فیل ہوچکے ہیں اور اب دوزخ میں پہنچائے جانے والے ہیں اس لیے کہ دنیا میں ان کے اعمال ایسے ہی تھے کہ ان کے نتیجہ میں یہ لوگ دوزخ کے مستحق ٹھہرے۔ خیال رہے کہ اعمال نامہ کا ہاتھ میں پکڑنا یا نہ پکڑنا اسی طرح بائیں ہاتھ کی بجائے دائیں میں پکڑنا یا بائیں میں پکڑنے کے باوجود دائیں سے پکڑ لینا کسی کے اختیار کی بات نہیں ہوگی کیونکہ اختیار کا معاملہ دناوی زندگی کی حد تک تھا عشر کے روز کسی شخص کے پاس اختیار نہیں ہوگا بلکہ وہ حکم کا پابند ہوگا۔ حشر میں داخلہ ‘ اعمال نامہ کا بائیں ہاتھ میں یا دائیں میں دیئے جانا اور اسی طرح جنت اور دوزخ کی طرف چلایا جانا سب احکام کی پابندی کے ساتھ بجالانا ہوں گے جس بات کی طرف کسی کو حکم دیا جائے گا اسی کے مطابق اس کو کرنا ہوگا اس لیے یہ خیال نہ کیا جائے کہ جس کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا وہ بائیں کی بجائے دائیں سے پکڑلے گا۔ ہرگز نہیں بلکہ اس کو اسی ہاتھ میں پکڑنا ہوگا جس میں پکڑایا جائیگا بلکہ اعمال نامہ خود بخود اس کے ہاتھ میں چلا جائے گا گو یا یہ علامت ہوگی اہل جنت اور اہل دوزخ کی کہ دائیں والے اہل جنت ہوں گے اور بائیں والے اہل دوزخ ہوں گے۔
Ayah 56:42

فِیْ سَمُوْمٍ وَّ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:42 in the Quran reader

گرم ہوا اور کھولتے ہوئے پانی میں

یہ لوگ گرم ہوا اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے 42۔ { سمومٍ } لو ‘ تیز ہوا جو بہت گرم بھی ہو ، بھاپ کی طرح ہوا ، وہ گرم ہوا جو زہر کا سا اثر کرے { سموم } کہلاتی ہے۔ مؤنث ہے اور اس کی جمعسمائم ہے اگرچہ قرآن کریم میں بطور جمع بیان نہیں کی گئی۔ حمیمٍ نہایت گرم پانی کو بھی کہتے ہیں اور بہت گہرے دوست کو بھی لیکن اصل میں حمیمٍ کہا جاتا ہے جو اپنے دوست کی حمایت میں گرم ہوجائے اور اس کا خون کھولنے لگے لیکن پہلے معنی کے اعتبار سے اس کی جمع حمائم آئی ہے اور دوسرے معنی کے لحاظ سے احماء جمع آئی ہے۔ زیر نظر آیت میں چونکہ دوزخیوں کا ذکر ہو رہا ہے یعنی بائیں والوں کا اس لیے اس جگہ حمیمٍ کے معنی کھولتے ہوئے پانی ہی کے لیے جائیں گے اور { سموم } کے ساتھ یہی معنی صحیح اور درست بھی ہیں کیونکہ دوزخیوں کے دوزخ میں عذاب دیئے جانے کا ذکر ہو رہا ہے اور سخت لو اور سخت گرم پانی عذاب نہیں تو اور کیا ہے ؟
Ayah 56:43

وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍۙ Open ayah 56:43 in the Quran reader

اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں ہوں گے

اور وہ سیاہ دھوئیں کے سائے میں ہوں گے 43۔ { ظل } کے معنی سائے کے ہیں خواہ سایہ کسی چیز کا ہو یعنی درخت کا ہو یا بادل کا ‘ دھوئیں کا ہو یا آگ کا بہر حال اس کو سایہ کہیں گے۔ { یحمومٍ } اسم ہے اور اس کے معنی سیاہ دھوئیں کے ہیں۔ اس کا مادہ ح م م ہے اور حمم سے مختلف مشتقات مستعمل ہیں اور اکثر الفاظ کے مفہوم میں گرمی یا گرمی اور سیاہی یا صرف سیاہی کا مفہوم ضرور پایا جاتا ہے جیسے حمم الظھیرۃ دوپہر کی سخت گرمی۔ حمۃ الحر گرمی کی شدت حمیم گہرا دوست جس کے دل میں محبت کی گرمی موجود ہو حمیمۃ انگاراحمیّٰ بخارشفۃ حماء سیاہ رنگ کے ہونٹ ، محمۃ بخار پیدا کرنے والی زمین۔ حم پختہ ارادہ کرنا ‘ گرم کرنا ‘ پگھلانا۔ حم سیاہ ہوجانا ‘ سخت گرم ہوجانا کوئلہ ہوجانا ‘ زیر نظر آیت میں سخت سیاہ رنگ کے دھوئیں کے سایہ کا ذکر کیا گیا ہے جیسے پتھر کا کوئلہ جلانے سے سیاہ رنگ کا دھواں اٹھتا ہے اور کثیر تعداد میں نکلتے ہوئے سایہ کا کام بھی دیتا ہے اور آدمی کا دم گھنٹے لگتا ہے جو دوزخیوں کے لیے ایک طرح کا عذاب ہوگا۔
Ayah 56:44

لَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِیْمٍ Open ayah 56:44 in the Quran reader

نہ اس میں ٹھنڈک ہوگی اور نہ ہی فرحت ہو گی

نہ تو اس سایہ میں ٹھنڈک ہوگی اور نہ ہی فرحت بخشے گا 44۔ سائے کا اصل تصور ہی یہ ہے کہ آدمی سائے میں چلا جائے تو اس کو ٹھنڈ محسوس ہو اور اس کی طبیعت کی گھبراہٹ دور ہوجائے لیکن ایسا سایہ جو گرمی کے موسم میں مزید گرمی بنائے اور اس سایہ میں انسان کا دم گھٹنے لگے تو وہ یہ سایہ سایہ نہیں بلکہ عذا بِ الٰہی ہو سکتا ہے اور اس جگہ عذاب ہی کے مفہوم میں یہ استعمال ہوا ہے کہ نہ تو اس میں ٹھنڈک ہوگی اور نہ ہی اس فرحت حاصل ہوگی بلکہ گرم ماحول میں وہ مزید حبس پیدا کر دے گا۔ { بارِد } ٹھنڈا نہیں ہوگا کریمٍصفت مشبہ واحد کرام جمع اور اس کے معنی ہیں عزت والا ‘ خوش کن اور اس جگہ فی کا صیغہ ہے یعنی وہ سایہ خوش کن نہیں ہوگا بلکہ تکلیف دہ ہوگا کہ نہ تو اس میں ٹھنڈک ہوگی اور نہ فرحت بخشے گا۔
Ayah 56:45

اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِیْنَۚۖ Open ayah 56:45 in the Quran reader

بلاشبہ وہ اس سے پہلے بڑے خوشحال لوگ تھے

بلا شبہ وہ اس سے پہلے بڑے خوشحال لوگ تھے 45۔ { مترفین } اسم مفعول جمع مذکر حالت نصب اتراف مصدر۔ عیش پرست لوگ ‘ خوش حال لوگ ‘ مزے سے زندگی کاٹنے والے ‘ کھاتے پیتے لوگ ‘ باپ دادا والے ‘ و ڈیرے ‘ چوہدری ، مطلب یہ کہ وہاں تو وہ دوزخ میں جل بھن رہے ہوں گے لیکن دوزخ میں پہنچنے سے قبل وہ دنیا میں عیش و آرام سے زندگی گزار رہے تھے اور اس زندگی پر مطمئن تھے اور آخرت کی زندگی کبھی ان کو بھول کر بھی یاد نہ آئی تھی۔ عیش و نشاط میں ان کی زندگی گزر رہی تھی کہ وعدہ الٰہی نے ان کو دبایا اور ان کی ساری عی و نشاط یک قلم ختم ہو کر رہ گئی۔ موت آنے کی دیر ہوئی کہ وہ سب کچھ دھرے کا دھرا رہ گیا اب ان کے لیے دوزخ ہے اور دوزخ میں طرح طرح کے عذاب ہیں جن کا ذکر اس جگہ کیا جا رہا ہے۔
Ayah 56:46

وَ كَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 56:46 in the Quran reader

اور وہ گناہ عظیم پر مصر رہتے تھے

وہ گناہ عظیم پر مصر رہتے تھے 46۔ گزشتہ آیت میں جن لوگوں کو { مترفین } کہا گیا ہے وہ لوگ ہیں جو گناہ کی باتوں پر مصر رہتے تھے اور قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ جو قیامت کا ذکر بار بار کرتا ہے قیامت ویامت کچھ نہیں ہے ایک بار اس دنیا سے جانے کے بعد نہ کوئی آیا ہے اور نہ ہی آئے گا۔ دوبارہ زندہ ہونا محض ایک کہانی ہے۔ اسی طرح رسالت کا بھی وہ انکار کرتے تھے اور قسمیں کھا کھا کر اس کو مؤکد کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے جو فطری عہد ان لوگوں نے کیا تھا اس کو توڑنے کے درپے تھے۔ گویا ان کی حالت ایسی تھی جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ فلاں آدمی کیا آدمی ہے کہ چور بھی ہے چتر بھی ؟ { یصرون } جمع مذکر غائب مضارع اصرار سے یعنی وہ اڑے ہوئے تھے یا بضد تھے کہ نہ تو اپنے آپ کو نبی و رسول کہنے والا نبی و رسول ہے اور نہ ہی قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور نہ ہی قیامت ویامت کی کوئی بات ہے۔ یہ جو کچھ موجود تھے اور اب بھی صورت حال وہی ہے جو اس وقت تھی۔
Ayah 56:47

وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ١ۙ۬ اَئِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 56:47 in the Quran reader

اور کہا کرتے تھے کہ کیا جب ہم مر گئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا پھر ہم زندہ کیے جائیں گے

وہ کہا کرتے تھے کہ کیا جب ہم مر گئے ‘ مٹی اور ہڈیاں ہوگئے ‘ کیا ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے ؟ 47۔ قیامت اپنے اندر کتنی عظیم الشان حقیقت رکھتی ہے لیکن اہل عرب کو توحید کے بعد جس عقیدہ سے شدت کے ساتھ انکار تھا اور جس کے ماننے پر وہ کسی طرح آمادہ نہیں ہوتے تھے اور جو ان کی عقل میں کسی طرح نہیں سماتا تھا وہ یہی قیامت اور حشرو نشر کا مسئلہ ہے۔ جاہل عرب حیات بعد الموت ، اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے اعمال کے مواخذہ اور پرسش اور سزاو جزاء سے قطعاً لا علم تھے اسی لیے ان کو اعمال کے خیر و شر اور نیکی و بدی میں وہ تمیز نہ تھی جس پر اخلاق و معاملات کا تمام تر دارومدار ہے۔ عرب کا شاعر نبی اعظم و آخر ﷺ کی اس تعلیم کو اس کر تعجب سے کہتا ہے کہ امرت ثم بعث ثم حشر حدیث حرافۃ یا ام عمر کیا موت ہے ‘ پھر جی اٹھنا ‘ پھر اکٹھا ہونا ہے ‘ اے اُم عمر ! یہ سب حرافات باتیں ہیں اور اسی طرح قریش کا ایک اور شاعر کہتا ہے کہ یحدثنا النبیُّ بان یحی و کیف حیات اصدائُ وہام یہ نبی ہم سے کہتا ہے کہ ہم پھر زندہ کیے جائیں گے حالانکہ صدا اور ہام ہو کر پھر زندگی کیسی ؟ اس سلسلہ میں ہم اس قبل عروۃ الوثقیجلد سوم میں سورة الانعام کی آیت 29 جلد پنجچ سورة بنی اسرائیل 49 ‘ 97 جلد ششم سورة المؤمنون آیت 82 جلد ہفتم سورة الصافات 16 ‘ سورة یٰسٓ آیت 78 ‘ جلد ہشتم سورة ق آیت 3 ‘ سورة الجاثیہ آیت 23 میں وضاحت کر آئے ہیں۔ ان کے مذاق کا یہ عالم تھا کہ خباب بن الارث ؓ نہایت قدیم مسلمانوں میں سے تھے اور یہ لوہاری کا پیشہ کرتے تھے ۔ ان کے کچھ دام قریش کے ایک رئیس عاص بن وائل پر واجب الادا تھے۔ وہ جب جا کر تقاضا کرتے تو عاص کہتا جب تک تم محمد ﷺ کا انکار نہ کرو گے میں تم کو کچھ نہیں دوں گا۔ ایک روز انھوں نے کہا کہ یہ تو میں اس وقت نہیں کرسکتا جب تک تو مر کر پھر زندہ نہیں ہو۔ اس نے کہا کہ اچھا مرکر مجھے پر زندہ ہونا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں ! بلا شبہ تم کو مر کر پھر زندہ ہونا ہے تو اس نے ازاراہ مذاق کہا کہ اچھا اسی وقت تم اپنے دام بھی مجھ سے وصول لینا۔ (صحیح بخاری تفسیر سورة مریم ص 661) اس سے معلوم ہوگیا ہوگا کہ اس بارہ میں اہل عرب کا کفر کتنا شدید تھا۔ یہی وجہ ہے کہ منی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کے سامنے توحید کے بعد جس عقیدہ کو سب سے زیادہ زور کے ساتھ پیش کیا وہ یہی عقیدہ تھا۔
Ayah 56:48

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 56:48 in the Quran reader

کیا ہمارے آباؤ اجداد بھی ؟

اُنھوں نے کہا کیا ہمارے آباو اجداد بھی دوبارہ پیدا ہوں گے 48۔ اُنھوں نے تعجب سے پوچھا کہ کیا ہمارے آباد و اجداد بھی دوبارہ زندہ ہوں گے۔ یہ سوال اُ نھوں نے پہلی بار نہیں اٹھایا بلکہ قرآن کریم میں ان کا یہ سوال بار بار دہرایا گیا ہے چناچہ بالکل یہی سوال سورة المؤمنون کی آیت 83 ‘ الخل کی آیت 67 ، 28 ، الصافات کی آیت 17 میں بھی دہرایا گیا ہے اور ان کو ہر بار جواب دیا گیا کہ اگر تم لوہا یا پتھر بھی ہو جائو تو بھی تم کو زندہ کرلیا جائے گا کیونکہ پہلی بار زندہ کرنے سے دوسری بار زندہ کرنا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ رہی یہ بات کہ ابھی مارا اور ابھی زندہ کیا جیسا کہ تمہارا خیال ہے تو وہ ہماری قدرت سے باہر نہیں البتہ ہمارے اعلان کردہ قانون کے خلاف ہے اور قانون کی خلاف وری نہ ہم کرتے ہیں اور نہ ہونے دیتے ہیں ‘ کیوں ؟ اس لیے کہ انسان کو اس بات کا پابند بنانا چاہتے ہیں کہ وہ قانون کی خلاف ورزی نہ کرے اور اگر ہم خود پابندی نہ کریں گے تو دوسروں کو پابند ہونے کا حکم کیوں کردیں گے اور یہ بھی کہ وہ ہمارا حکم کیسے مانیں گے اور ان پر حکم عدولی کا قانون کیونکر لاگو ہوگا ؟
Ayah 56:49

قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 56:49 in the Quran reader

آپ ﷺ فرما دیجئے کہ ہاں ! بلاشبہ اگلوں کو بھی اور پچھلوں کو بھی

آپ ﷺ فرمادیجیئے کہ ہاں ! بلا شبہ اگلوں کو بھی اور پچھلوں کو بھی 49۔ فرمایا تم کو تعجب ہوتا ہے تو ہوا کرے ہم نے جو بات کہی ہے اس کو ہونا ہے اور وہ ہو کر رہے گی۔ تمہارا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے آبا و اجداد بھی جی اٹھیں گے تم کان کھول کر سن لو کہ ہاں تمہار آباواجداد بھی اور تمہارے آباواجداد کے آباواجداد بھی تمہارے سارے اگلے پچھلے میدان حشر میں اکٹھے کردیئے جائیں گے اور کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ وہ وہاں پہنچنے سے انکار کرے تم خود ہی بتائو کہ تمہارے اندر جتنے شاہ و گدا ہیں ہم سب باری باری اپنے قانون کے مطابق موت دیئے چلے جا رہے ہیں اور کیا تم میں سے کسی کا بھی مرنے کا جی چاہتا ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو کیا کوئی جو مرنے کے لیے تیار ہو ‘ اچھا اگر کوئی شخص مرنے کے لیے تیار نہ ہو تو وہ نہیں مرے گا ؟ یقینا مرے گا ‘ کیوں ؟ اس لیے کہ یہ مرنے والے کی مرضی کی بات نہیں کہ وہ مرنا چاہتیا ہے یا نہیں ؟ بلکہ یہ تو موت دینے والے اور مارنے والے کی مرضی ہے کہ وہ جب چاہے مار دے اور اس طرح جب تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو تمہاری مرضی سے نہیں بلکہ پہلی بار پیدا کرنے والا اپنی مرضی سے تم کو دوبارہ پیدا کردے گا اور اس کو تماہرے ساتھ مشورے کی ضرورت نہیں۔ ہاں ! جو ڈھیل اس نے تم کو دی اس کو پورا کرنا ہے ‘ جو وقت تمہاری موت کے بعد دوبارہ اٹھانے کا اس نے مقرر کیا ہے وہ ہم کو تم کو اگر معلوم نہیں تو اس کو جس نے اس کا تعیین کیا ہے خوب یاد ہے۔ اس کے علم سے باہر نہیں بس جوں ہی وہ دن آئے گا تو تم سب کو لائن حاضر کرلیا جائے گا اور کوئی شس بھی تم میں سے لیت و لعل نہیں کرسکے گا۔
Ayah 56:50

لَمَجْمُوْعُوْنَ١ۙ۬ اِلٰى مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 56:50 in the Quran reader

سب کو جمع کیا جائے گا ایک مقرر دن کے مقرر وقت پر

تم سب کو جمع کرلیا جائے گا ایک مقررہ دن کے مقررہ وقت پر 50۔ وہ دن اس نے بلا شبہ کسی کو نہیں بتایا اور اس کہ نہ بتانے میں جو مصلحت ہے وہ بالکل ظاہر ہے اگر وہ وقت بتا دیتا تو دنیا کا کاروبار چل ہی نہیں سکتا تھا۔ اب غور کرو کہ دنیا ترقی کرتے کرتے کہاں سے کہاں پہنچ گئی لیکن آج تک کسی کو مرنے کا وقت معلوم نہ ہوسکا اور رہتی دنیا تک معلوم نہیں ہو سکے گا۔ سائنس چاہے کتنی ترقی کرلے اسلام میں جن باتوں میں کسی طرح کی کوئی گنجائش نہیں ان میں ذرا بھر بھی لچک نہیں رکھی بلکہ دو ٹوک بات کہہ دی ہے اور جو کہا ہے وہ پتھر پر لکیر ہے کہ اس میں کمی وبیشی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس سلسلہ میں قرآن کریم نے جو کہا ہے وہ حرف آخر ہے۔ فرمایا تم سب کو جمع کردیا ائے گا لیکن اس دن جو دن اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے اور کسی کو معلوم نہیں اور نہ ہی معلوم ہو سکتا ہے { میقات } ظرفِ مکان مجرد۔ مضاف مقرر وقت اور مقرر دن جو اللہ تعالیٰ کے علم ازل میں میں موجود ہے۔
Ayah 56:51

ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَۙ Open ayah 56:51 in the Quran reader

پھر بلاشبہ تم کو بھی اے جھٹلانے والو گمراہو !

پھر تم کو بھی اے جھٹلانے والے گمراہو 51۔ زیر نظر آیت میں براہ راست ان لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے جو قیامت کے ‘ نبی اعظم و آخر ﷺ کے اور قرآن کریم کے جھٹلانے والے ہیں کہ اے گمراہو ! اے راہ بھولے ہوئو۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکرضال کی جمع بحالت رفع۔ { المکذبون } اسم فاعل جمع مزکر مرفوع جھٹلانے والے ، جھوٹا قرار دینے والے۔ یعنی اے وہ لوگو جو قیامت ‘ نبی اعظم وآخر ﷺ اور قرآن کریم کے جھٹلانے والے گمراہو ! ذراکان کھول کر سن لو اور انسان ہو تو خوب یاد رکھو جو کچھ تمہارے ساتھ ہونے والا ہے ذرا غور سے سن لو۔
Ayah 56:52

لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍۙ Open ayah 56:52 in the Quran reader

یقینا تھوہر کے درخت سے کھانا ہو گا

یقینا تھوہر کے درخت سے تم کو کھانا ہو گا 52۔ { زقوم } تھوہر (Cactus) کے درخت کو کہتے ہیں جو نہایت کڑوا ہوتا ہے ‘ اتنا کڑوا کہ اگر اس کو ہاتھ چھو جائے تو کئی دن تک اس کی کرواہٹ دور نہ ہو کھانا تو خیر کھانا ہے اس کا دیکھنا بھی بہت کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کو دیکھنے سے بھی نفرت ہونے لگتی ہے اس لیے دو زخیوں کو وہ کھانے کے لیے پیش کیا جائے گا جو لاریب بطور عذاب ہوگا اور ان کو مجبور کیا جائے گا پھر یہ تو اس دنیا کے درخت کی حالت ہے دوزخ میں اس کی حالت کیا ہوگی یقینا اس سے بھی بہت بڑی یہی وجہ ہے کہ روایات میں آیا ہ ہے کہ اس کا ایک قطرہ بھی سمندر میں ڈال دیا جائے تو وہ سمندر کو کڑوا کر دے جس سے زمین پر بسنے والوں کی زندگیاں خراب ہوجائیں پھر اس کو جب کھانا پڑے گا تو ان کی حالت کیا ہوگی ؟ اللہ معاف فرمائے۔ اس کی وضاحتعروۃ الوثقی جلد ہفتم سورة الصافات کی آیت 60 تا 67 میں کرچکے ہیں۔
Ayah 56:53

فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَۚ Open ayah 56:53 in the Quran reader

پھر اس سے پیٹ بھرنا ہو گا

پھر اس سے پیٹ بھرنا ہو گا 53۔ مطلب یہ ہے کہ کھانے کے لیے وہ پیش کر کے چھوڑ نہیں دیا جائے گا کہ کھانے والے چاہیں تو کھائیں ورنہ بھوک سے مرجائیں نہیں اور ہرگز نہیں کیونکہ موت کا تو وہاں تصور ہی نہیں ہوگا اور کھانے نہ کھانے کی آزادی بھی نہیں ہوگی بلکہ اس کے کھانے پر مجبور کردیا جائے گا کیونکہ وہ ایک عذاب ہے اور عذاب پر مرضی کام نہیں کرتی کہ چاہیں تو عذاب حاصل کرلیں اور نہ چاہیں تو نہ کریں نہیں بلکہ ان کو عذاب پر مجبور کردیا جائے گا۔ دوزخ اور آزادی اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ وہ لوگ جو دوزخ میں داخل کیے جائیں گے ان کو بطور عذاب مجبور کردیا جائے گا وہ اس نامراد ملعون درخت کو کھائیں اور اس سے اپنے پیٹوں کو بھریں کیونکہ دنیا میں یہ لوگ حرام چیزوں کو پیٹ میں بھرتے رہے اگر مذہبی راہنما تھے تو حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر کے اس کی مزدوری اور اجرت وصول کرتے رہے ‘ دین کے نام پر حرام کھانے کے وہ طریقے ایجاد کیے اور ان کو دین کا نام دیا جن کا دین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا اور مردوں کو بخشوانے کے نام سے طرح طرح کی رسوم انھوں نے نکالی تھی محض اپنے پیٹ کے دوزخ کو بھرنے کے لیے اور ظاہر ہے کہ ان کے ان اعمال کا نتیجہ بھی ایسا ہی نکلنا چاہئے تھا اور ایسا ہی نکلے گا اسی طرح سیاسی راہنمائوں نے قوم کا مال کھانے کے لیے طرح طرح کی سکیمیں نکالیں اور کیا کیا پاپڑ بیلتے رہے ظاہر ہے کہ ان کا انجام بھی ایسا ہی نکلنا چاہئے تھا کہ جس کی خاطر انھوں نے یہ کام کیے اس کی خاطر ُ س کو بھرنے کے لیے ان کو بطور عذاب تھوہر کے کھانے پر مجبور کردیا جائے گا اور اس سے وہ پیٹ بھرنے کی کوشش کریں گے جو یقینا بھرا ہی نہیں جائے گا کیونکہ دنیا میں یہ نامراد کسی سے بھرا نہ گیا تو آخرت کی تو بات ہی کیا ہے۔
Ayah 56:54

فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْهِ مِنَ الْحَمِیْمِۚ Open ayah 56:54 in the Quran reader

پھر اس پر گرم پانی پینا ہو گا

پھر اس پر تم کو گرم پانی پینا ہو گا 54۔ تھوہر تو تھوہر ہے ہی اس کا کھانا کتنا مشکل ہے الامان و الھفیظ لیکن تھوہر کھانے کے بعد جب پیاس بھڑکے گی تو فرمایا جا رہا ہے کہ اس سے عذاب دوگنا کرنے کے لیے اس پر گرم پانی پینا ہوگا جو صرف گرم ہی نہیں ہوگا بلکہ کھولتا ہوا پانی ہوگا اور اس کا منظر جو قائم ہوگا اللہ تعالیٰ اس کے دیکھنے سے بھی بچائے لیکن اس کی پوری تفصیلعروۃ الوثقی جلد ہفتم سورة الصافات کی آیت 62 تا 70 میں بیان کردی گئی ہے وہاں سے ملا حظہ کرلیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ اس عذاب سے ہم کو بچائے اور سچے دل سے توبہ کر کے اپنی اصلاح کی بھی کوشش کریں تاکہ آخرت میں اس عذاب سے رستگاری نصیب ہو جس کا بیان کرنا اور سننا بھی طبعت پر ناگوار گزر رہا ہے اور ان آیات کو جو مکی سورتوں میں اکثر بیان کی گئی ہیں صرف زبانی پڑھ کر آگے مت گزر جائین بلکہ پوری دلجمعی کے ساتھ ان کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کریں اور اپنی اصلاح کی سعی میں مصروف ہوں۔ یاد رکھیں کہ اپنی اصلاح کی کود کوشش کرے تو اصلاح ممکن ہو سکتی ہے اور یہ بھی کہ یہ قانون الٰہی ہے جو کبھی غلط نہیں ہو سکتا اور اچھی طرح یاد رکھیں کہ قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے جس میں اللہ کا قانون بیان کیا گیا ہے اس لیے یہ زندوں کے لیے ہے مردوں کے لیے نہیں جیسات کہ ملائیت نے اس کو محض مردوں کو بخشوانے کے لیے خاص کردیا ہے۔ قرآن کریم کو پڑھتے وقت اس کا خیال نہایت ضروری ہے کہ ہر انسان جو اس کو پڑے اور ذہن میں رکھ کر پڑھے کہ میں ایک قانون کی کتاب پڑھ رہا ہوں اس لیے ضروری ہے کہ جو قانون اس میں بیان کیا گیا ہے میں اس کی خلاف ورزی نہ کروں اور نہ ہی مجھ سے اس کی خلاف ورزی ہو اگر یہ بات ذہن میں نہ رکھی تو قرآن کریم پڑنے کا کچ فائدہ نہیں ہوگا اسی چیز کا نام ثواب ہے اگر کسی کو سمجھ میں آجائے ورنہ کیا کرایا سب اکارت چلا جائے گا۔ ایک قانون کسی کو حفظ ہو اور اس کی ہر دفعہ ازبر ہو لنکس اس کے باوجود وہ قانون کی خلاف ورزی کرے تو وہ گرفت سے کبھی بچ نہیں سکتا۔ یہ بات قاریوں ‘ حافظو ‘ مولویوں ‘ پیروں اور مرشدوں کو اور ان کے حواریوں ‘ یاروں ‘ دوستوں اور مریدوں کو اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے۔ اللہ ہم سب کو سمجھنے اور سمجھ کر اس کے کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین یارب العالمین ثم آمین۔
Ayah 56:55

فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِؕ Open ayah 56:55 in the Quran reader

پھر تم ایسے پیو گے جیسے پیاس کا مارا ہوا اونٹ [

پھر تم ایسے پیئو گے جیسیے پیاس کا مارا ہوا اونٹ پیتا ہے 55۔ { الحمیم } جمع ہے اھیم کی جو واحد مذکر ہے اور { الحمیم } پیاسے اونٹوں کو کہتے ہیں۔ (عکرمہ ‘ قتادہ ؓ اور اسی طرح رتیلی زمین کو بھی کیونکہ رتیلی زمین کی بھی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ اس میں جتنا پانی ڈالتے جائو پیتی جائے اور پیاسے اونٹ کو اس لیے کہ تمام جانوروں میں سے اونٹ ایک ایسا جانور ہے جو بہت پانی اپنی کو ہان میں سٹور کرلیتا ہے اور وہاں سے اپنی پیاس کے مطابق معدہ میں اتارتا رہتا ہے اس لیے جب وہ پانی پیتا ہے تو بھی تقریباً اسی وقت پیتا ہے جب اس کا جمع شدہ پانی ختم ہوجاتا ہے اور ظاہر ہے کہ اتنی بڑی کو ہان جیسے ایک بڑی ٹینکی اس کو جب وہ بھرتا ہے تو بھی اس کو بھرتے وقت کچھ وقت لگتا ہے۔ لہٰذا پیاسا اونت جب پانی پر منہ رکھتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ سارا دریا ہی خالی کر دے گا اسی طرح دو زخیوں کے پانی پینے کو اونٹ کے پانی پینے سے تشبیہ دی گئی اور وہ بھی خصوصاً اس وقت جب وہ خوب پیاسا ہو۔ دوزخیوں کے لیے تھوہر کا کھانا بھی کوئی کم عذاب نہ تھا لیکن اس کے اوپر کھولتا ہوا پانی پینا وہ بھی پیاسے اونٹ کی طرح یہ گویا دوہرا عذاب ہوا لیکن دوزخ میں آخر عذاب ہی عذاب تو ہے اور ہے کیا ؟ اس لیے ہم بار بار عرض کر رہے ہیں و کہ ان آیات کریمات کو پڑھ کر گزرنہ جائو بلکہ اس منظر کو اپنی آنکھوں کے سامنے لائو اور اپنی اصلاح کی کوشش کرو تاکہ اس عذاب سے بچ سکو اور اللہ تعالیٰ سے اس عذاب سے بچنے کی دعا بھی کرو۔ یہ زندگی بالکل عارضی زندگی ہے۔ آخرت کے مقابلہ میں یہ بہت ہی کم ہے اور پھر جب اس عارضی زندگی کے لیے اتنی محنت اور اتنی تگ و دود کر رہے ہو تو اپنی آخری زندگی کو بھی خیال میں رکھو کہ جس کے بعد موت نہیں ہے اور وہاں کے عذاب کو بھی بالکل نہ بھولو۔ اللہ آپ کا اور میرا حامی و ناصر ہو۔
Ayah 56:56

هٰذَا نُزُلُهُمْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 56:56 in the Quran reader

یہ ان کی مہمانی ہوگی قیامت کے دن

یہ ان کی مہمانی ہوگی قیامت کے دن 56۔ ہر آیت پر غور کرو اور ایک ایک جملہ کو سمجھ سمھ کر پڑھنے کی کوشش کرو اور مضمون کو دیکھو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ؟ یہ ضیافت کیا ضیافت ہے اور یہ مہمانی کیا مہمانی ہے ؟ مہمان کیسات ہے اور اس کی مہمانی میں کھانا کیسا پیش کیا جارہا ہے اور پھر جن کو یہ کھانا پیش کیا جا رہا ہے کون لوگ ہیں ؟ ذرا پیچھے غور کرو کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کو { مترفین } کہا گیا تھا اور پھر غور کرو کہ یہ کون لوگ ہیں اور دنیا میں ان کا رہن سہن کیا تھا اور آخرت میں ان کو کیا پیش کیا جا رہا ہے۔ وہ اپنے آپ کو کیا سمجھتے رہے تھے اور در حقیقت وہ کیا تھے ؟ جس بات کو مہمانی کہا جا رہا ہے وہ کیسی مہمانی ہے ‘ اس کے بیان کرنے کا کیا رنگ ہے ‘ ان دین کا مذاق اڑانے والوں کا کس طرح مذاق اڑایا جارہا ہے اور کیوں اس طرح مذاق ارایا جا رہا ہے ان ساری باتوں پر غور کرو گے تو ان شاء اللہ حقیقت کے قریب پہنچ جائو گے اور بات کو سمجھنا آسان ہوجائے گا اور پھر ایک جملہ پر غور کرتے جائو اور اپنا تجزیہ بھی ساتھ ساتھ کرتے جائو پھر دیکھو کہ اصلاح کس طرح ہوتی ہے اور زندگی کی راہ کس طرح تبدیلیہوتی جاتی ہے پھر سن لو کہ قرآن کریم قانون کی وہ کتاب ہے جو اس دنیوی زندگی کے گزارنے کے سارے ڈھنگ بتاتی ہے اور یہ وضاحت پیش کرتی ہے کہ اگر تم نے اپنی زندگی کی اصلاح نہ کی اور دوزخ کے مستحق ٹھرے تو تمہاری رو رعایت مطلق نہیں ہوگی اور تمہارے حسب و نسب کی طرف ہرگز نہیں دیکھا جائے گا اور نہ ہی تمہارے اقتدار اور عزت کا کوئی لحاظ ہوگا۔ اگر تم پکڑے گئے تو دھر لیے جائو گے اور کسی کو جرأت نہیں ہوگی کہ وہ تمہاری سفارش کرے اور کوئی دوسرا تمہاری جگہ پکڑا بھی نہیں جائے گا اور کسی کی عزت و اقتدار بھی آڑے نہیں آئے گا خواہ تم کون ہوئے ، کیسے ہوئے اور کہاں ہوئے ؟ اس لیے ابھی سے سمجھ جائو اچھے رہو گے ورنہ ساری زندگی پچھتاتے رہو گے اور پھر پچھتاوے کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔
Ayah 56:57

نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْ لَا تُصَدِّقُوْنَ Open ayah 56:57 in the Quran reader

(دیکھو) ہم ہی نے تم کو پیدا کیا پھر کیوں اس کو سچ نہیں سمجھتے

ہم ہی نے تم کو پیدا کیا اور پھر تم اس کو اسچ کیوں نہیں سمجھتے 57۔ کیا انداز بیان ہے قرآن کریم کا اور طریقہ ہے تفہیم کا ‘ سبحان اللہ ! مشرکوں ‘ کافروں اور منافقوں کو سمجھانے کا کیہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ طریقہ بیان خود بتا رہا ہے کہ اس انداز تفہیم کو اختیار کر کے اللہ ربِّ کریم جو خالق ہے ان کا کس پیارے انداز سے اپنی مخلوق کو سمجھ کر سمجھا رہا ہے کہ تم سمجھ جائو اور کفر ‘ شرک اور منافقت سے باز آجائو ، توحید پر ایمان لے آئو اپنے پیدا کرنے والے کی شناخت کرو اور یقین جانو قیامت برپا ہونیوالے ہے یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔ تم اپنی پیدائش پر ذرا غور کرو کہ اس میں تمہارے ارادہ کو بھی کوئی دخل ہے اگر نہیں تو تمہارے باپ دادوں کا اس میں کتنا دخل ہے اور تمہارے ان معبودوں ‘ حاجت روائوں اور مشکل کشائوں نے اس میں کیا حصہ ڈالا ہے۔ اگر ماں باپ ہی اصل ہوتے تو ہر شادی شدہ جوڑے کے ہاں اولاد پیدا ہوجاتی ہے۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ شادی کو بیسیوں سال گزر گئے لیکن کوئی اولاد نہیں معلوم ہوا کہ اولاد کے ہونے کے لیے ماں باپ کا ہونا اللہ کا قانون ہے اور قانونی حیثیت پوری ہونے کے بعد تخلیق کا امر اللہ ہی کے پاس ہے۔ وہ چاہے تو امرکرے اور چاہے تو نہ کرے۔ پھر دیکھو کہ وہ بیج جس سے تمہاری پیدائش ہوئی وہ کہاں بنا ‘ کیسے بنا ‘ کیوں کر بنا ؟ تمہارے ماں باپ نے جو کھایا اس میں اس کا کتنا حصہ موجود تھا اگر اس خوراک کا کمال ہے تو خوراک کو ملادو اس مالیدہ سے کیا انسان پیدا ہوگا ؟ اس میں زندگی آجائے گی ؟ اگر نہیں اور ہرگز نہیں تو آخر وہ کون ہے جس نے یہ قانون بنا دیا ہے کہ ایک جو ڑانر و مادہ اس غذا کو اپنی شکم پری کے لیے کھائے اور اس پر عمل جو معدہ میں ہو رہا ہے جو عروق میں ہو رہا ہے جو شریانوں میں جاری وساری ہے اس میں تمہاری ذات کا بھی کوئی حصہ ہے یا نہیں اور یقینا نہیں تو آخروہ کون ہے جو اس خوراک کو بیسیوں حصوں میں تقسیم کر رہا ہے اور اس نے اس پانچ ساڑھے پانچ فٹ کے ڈھانپے کے اندر اتنی بڑی فیکٹری لگا دی ہے جو خود بخود ہی کام کرتی جا رہی ہے اور اس خوراک کو سینکڑوں حصوں میں تقسیم کر کے کیا سے کیا بناتی ہوئی کہاں وہ تخم اور بیج تیار کر ہی ہے جس کو تم نطفہ کہتے ہو اور پھر جس حالت میں تم اس نطفہ کو رحم مادر تک پہنچاتے ہو اس پر غور کرو کہ ہاں ! وہ تم ہی ہو تمہارے اندر وہ ہیجان کس نے پیدا کیا اور کیونکر پیدا کیا ؟ اچھا تم نے نطفہ گرادیا اب اس کی پرورش تم کر رہے ہو کیا تم اس کی پرورش کرسکتے ہو ؟ تمہارا جواب نفی میں ہے اور یقینا نفی میں ہے پھر آخر وہ کون ہے جس کے قانون کے مطابق نفطہ کو ملقہ میں تبدیل کر رہا ہے اور تم صرف یہ جان کر کہ یہ تبدیلی اس طرح ہو رہی ہے اپنے آپ میں نہیں سماتے لیکن اس تبدیلی کرنے والے ذرات کا تم نے بھول کر بھی کبھی تصور نہیں کیا اس نطفہ کو کتنے اطوار میں تبدیل کیا اور کیسے کیسے عوارضات سے گزارتے ہوئے ، کیا کیا زشکلیں تبدیل کرتے ہوئے کس نے تم کو خلقا آخر کی شکل میں ایک بچہ کی سوہنی صورت من موہنی مورت تیار کردی کہ تم اس کو دیکھ کر پھولے نہیں سماتے ہو لیکن تم کو یاد نہیں تو صرف اس کا خالق یاد نہیں ‘ اپنا خالق یاد نہیں ‘ اس کا موت دینے والا یاد نہیں ‘ اپنا موت دینے والا یاد نہیں اور اتنی تبدیلیاں اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہوئے بھول گئے ہو تو یہ تبدیلیاں لانے والے کو بھول گئے ہو اور اب تم ایک بوسیدہ ہڈی کو سامنے رکھ کر اور ہاتھ سے مسل کر کہتے ہو کہ وہ کون ہے جو اس بھر بھری ہڈی کو زندگی عطا کردے گا اور تم کو کتنی جلدی بھول گیا کہ آخر یہ ہڈی تو پھر بھی کوئی چیز ہے لیکن تم خود تو کچھ بھی نہیں تھے اور آج تم اس طرح کے اعتراضات کرنے والے ہو اور پھر تمہارے یہ اعتراض اسی طرح باقی رہیں گے اور تمہارا نام و نشان پھر مٹ جائے گا۔ تعجب ہے تم پر کہ تم کتنے بیوقوف ہو ‘ کتنے کند ذہن ہو اور کیسے کیسے سوال پیدا کر رہے ہو اور کیا کیا اوٹ پٹانگ باتیں کر رہے ہو ؟ کس طرح ہنسی اور مذاق کر رہیہو اور کس زندگی پر بھروسہ کر کے اتنا بڑا محاذ کھڑا کر رکھا ہے تم اپنی ھقیقت کی اصلیت کو کیسے بھول گئے ہو اور یہ بھول تم کو کیوں اور کیسے لگ گئی اپنی نادانی اور بیوقوفی پر ہنسو نہیں بلکہ روئو اور اپنی اصلاح کی کوشش کرو تم کو پہلی بار پیدا کرنے والا جب ارادہ کرے گا تو تم کو دوسری بار بھی پیدا کردے گا۔ آیت زیر نظر بھی تم کو اس طرف توجہ دلا رہی ہے کہ غور کرو کہ ” ہم نے تم کو پیدا کیا پھر تم اس بات کی تصدیق کیوں نہیں کرتے “ کہ ہم ہی تمہارے رب ہیں اور ہم ہی تمہارے معبود حقیقی ہیں اور ہم تم کو دوبارہ پیدا بھی کریں گے۔
Ayah 56:58

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَؕ Open ayah 56:58 in the Quran reader

(کبھی غور کیا) تم نے جس نطفہ کو تم ٹپکاتے ہو

کبھی تم نے دیکھا یعنی غور کیا جو نطفہ تم ٹپکاتے ہو 58 ۔ تم نے کبھی غور کیا کہ تم عدم محض تھے ہم نے تم کو نیست سے ہست کیا اور پھر اس نیست کے ہست کرنے میں صرف ہم نے ایک قانون بنایا کہ نسل انسانی کے لیے تم خواہش نفس کو پورا کرنے کے لیے عورت کے ایک خاص مقام پر نطفہ ٹپکا دو پھر تم ہمارے قانون کے مطابق اس فعل کے لیے بےچین ہو کر اس قطرہ کو ٹپکا دیتے ہو لیکن کبھی تم نے غور کیا کہ آخر انسانی زندگی کا یہ بیج تمہارے اندر کس نے پیدا کیا اور کیوں پیدا کیا اور کیسے پیدا کیا اور پھر وہ کون ہے جس نے یہ اضطراب پیدا کیا کہ تم اس قطرہ کو گرانے کے لیے مجبور ہوگئے اور تم نے اپنی خواہش نفس کو پورا کیا لیکن اس مادہ تولید کے اندر قوت نموکس نے رکھی کہ عمل تلقی پاتے ہی اس قوت نمویاصلاحیت نے اپنا عمل شروع کردیا۔
Ayah 56:59

ءَاَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ Open ayah 56:59 in the Quran reader

کیا اس کو تم (انسان) بناتے ہو یا ہم ہی بنانے والے ہیں

پھر اس کو تم انسان بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں ؟ 59۔ کس کا دست قدرت ہے جو اس کام کے بعد ان کروڑوں جرثوموں میں جس کو زندگی عطا کرنا چاہتا ہے کردیتا ہے اور باقی سب مردہ ہو کر فنا ہوجاتے ہیں اور پھر کس کی قدرت نے یہ کام کیا کہ اس ایک جرثومے کو عورت کے بیضہ سے جا کر ملا دیا پھر رحم مادر کے اندر ایک تنگ و تاریک گوشہ میں اس کو قرار بخشا اور اس کے ارد گرد پہرے لگا دیئے کہ کوئی باہر سے حملہ آور اس پر حملہ نہ کر پائے۔ تم خود ہی سوچ لو کہ تم نے کتنی بار حملہ کیا لیکن ان پہرہ داروں نے تم کو ہر بار ناکام بنا کر رکھ دیا اور جس تنگ و تاریک کو ٹھری میں عمل جاری ہوا تھا وہ بد ستور اپنی جگہ کام کرتا رہا اور کتنے اطوار میں سے اس کو گزار کر اس کے آخری اطوار میں داخل کر کے ایک بچے کی خوبصورت شکل تمہارے سامنے پیش کردی اور اس سارے عمل میں تمہارا کوئی حصہ اور کوئی محنت ؟ نہیں اور یقینا نہیں ‘ اچھا اس میں تمہارا کوئی عمل اور حصہ نہیں تو تمہارے ان پیرو ‘ بزرگوں ‘ مرشدوں ‘ دیوی دیوتائوں اور داتوں کا کوئی حصہ ہے ؟ نہیں اور یقینا نہیں تو پھر اس سے بڑی حماقت اور کیا ہو سکتی ہے کہ اسی ربِّ ذوالجلال والاکرام کا تم انکار کر دو یا اس کے ساتھ تم دوسروں کو شریک ٹھراہنے لگو۔ پھر بھی ذراغور کرو کہ جس اللہ ربِّ کریم کی قدرت و حکمت کا یہ عالم ہے کیا مرنے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کرنا اس کے لیے مشکل ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر تم اس پر یقین کیوں نہیں کرتے ؟ اور اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے ؟
Ayah 56:60

نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَكُمُ الْمَوْتَ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَۙ Open ayah 56:60 in the Quran reader

ہم ہی نے تمہارے درمیان موت کو مقرر کیا ہے اور ہم سے کوئی آگے نہیں نکل سکتا

ہم نے تمہارے درمیان موت کو مقرر کیا ہے اور ہم سے کوئی آگے نہیں نکل سکتا 60۔ { مسبوقین } اسم مفعول جمع مذکر مجرورمسبوق واحد اور سبق مصدر ، پیچھے چھوڑے گئے یعنی جن کو پیچھے چھوڑ کر دوسرے آگے برھ جائیں مراد اس سے عاجز ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا ہے اسی طرح انسان کو پیدا کیا ہے اور پھر جس طرح دنیا کی ہر ایک چیز فانی ہے اسی طرح انسان بھی فانی ہے اور یہ فناکس نے مقدر کی ہے ؟ فرمایا ہم ہی نے فنا یعنی موت کو مقدر کیا ہے اور ہم دوبارہ زندہ کرنے سے بھی عاجز نہیں ہیں اور اس دنیا میں بھی ہم ہی موت دینے والے ہیں جن لوگوں کو چاہئتے ہیں اور جب چاہتے ہیں موت دے دیتے ہیں ، کوئی ایسا طاقت ور ہاتھ نہی جو ہم کو روک دے کہ اس کو ہم مرنے نہیں دیں گے ۔ کسی ایک کا نام لے سکتے ہو کہ فلاں موت سے بچ گیا یا موت آئی اور اس نے مرنے سے انکار کردیا۔ قیامت کے روز اس پورے نظام درہم برہم کر کے ہم ایک نیا نظام چلائیں گے اپس روز جتنے انسان ہیں ہم ان سب کو زندہ کردیں گے اور کوئی ایسی طاقت نہیں جو ہم کو ایسا کرنے سے روک دے اور اب بھی ہم جب چاہتے ہیں پہلوں کو موت دے کر ان کی جگہ نئے لے آتے ہیں نہ ہمیں کسی کے لے میں کوئی دقت ہے اور نہ کسی کے لے آنے میں ہم کو کوئی رکاوٹ ہے۔
Ayah 56:61

عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَكُمْ وَ نُنْشِئَكُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 56:61 in the Quran reader

یہ کہ تمہاری طرح کے اور لوگ تمہاری جگہ لے آئیں اور تم کو ایسی حالت میں پیدا کریں جس کو تم نہیں جانتے

تمہاری جگہ اور لوگ آئیں اور تم کو ایسی حالت میں پیدا کردیں جس کو تم نہیں جانتے 61۔ اس دنیا میں ہر جاندار کو اللہ نے ایک خاص قسم کی شکل و صورت میں بنایا ہے جیسا کہ ان جانداروں کی شکلیں اور صورتیں تمہارے سامنے موجود ہیں اور اسی طرح انسان اول کو پیدا کیا خواہ ان کی تعداد کتنی تھی ہر ایک مخلوق اور ہر ایک جنس کو پیدا کر کے پھر اس کے لئے ایک خاص ضابطہ مقرر کردیا کہ اس جنس کی پیدائش کا یہ طریقہ اور یہ قانون ہے اسی قانون کے تحت اس ساری مخلوق کی تخلیق ہو رہی ہے اور ہوتی رہے گی تا آنکہ یہ نظام جو اس دنیاں کے لیے بنایا اور چلا یا گیا ہے اس نظام کو ختم کردیا جائے جو یقینا ختم ہوگا کیونکہ مخلوق کے لیے جس طرح نیست سے ہست ضروری ہے اسی طرح ہست سے نیست بھی لازم و ضروری ہے لیکن ایک وقت یقینا ایسا آئے گا کہ یہ نظام مکمل طور پر ختم کردیا جائے گا کیونکہ جس کا شروع ہے اس کا آخر بھی یقینی ہے پھر جس طرح تمہاری پیدائش کے لیے ایک قانون بنا دیا گیا اور تم سب خواہ کہاں ہو کیسے ہو اور کون ہو خاص طریقے کے مطابق پیدا ہو رہے اور ایک خاص شکل و صورت میں تم کو عطا کی گئی ہے بالکل اسی طرح اس نے آنے والے نظام میں اللہ اس طریقہ کو ختم کر کے تمہاری پیدائش کا کوئی اور طریقہ بنادے اور اس شکل و صورت کے علاوہ کوئی دوسری شکل و صورت عطا فرمادے تو وہ ایسا آخر کیوں نہیں کرسکتا یہ کونسی چیز ہے جو اس کے راستے میں حائل ہو مثلاً اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں کہ انسان ہو یا حیوان یا دنیا کی کوئی چیز و جب پیدا ہوتی ہے تو بہت نرم و نازک اور چھوٹی سی ہوتی ہے اور اس قانون کے مطابق پیدائش کا سلسلہ اسی طرح چل رہا ہے لیکن جب یہ نظام درہم برہم ہوجائے گا تو عین ممکن ہے کہ آنے والے کل میں جب تم کو پیدا کیا جائے تو تمہارا ڈھانچہ اس طرح اتنا چھوٹا نہ ہو بلکہ مکمل انسان کا ہو اور اس کے لیے کوئی اور طریقہ وضع کرلیا جائے جیسا کہ اس کی وضاحت کی گئی ہے کہ دوسری پیدائش میں انسان بچہ پیدا نہیں ہوگا بلکہ جوان پیدا ہوگا اور جنت میں داخل ہونے والوں کے متعلق رسول اللہ ﷺ کا واضح ارشاد موجود ہے کہ وہ سب لوگ جوان ہوں گے ‘ ان میں کوئی ایک بھی بوڑھا نہیں ہوگا خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ یہاں کی زندگی میں تغیروتبدل لازم و ضروری ہے۔ لیکن وہاں کی زندگی میں کوئی کسی طرح کا بھی تغیر و تبدل نہیں ہوگا۔ اس دنیاوی زندگی کا سارا لطف موت میں پنہاں ہے اور اس کو ساری مخلوق کے لیے لازم و ضروری قرار دیا گیا ہے اور خصوصاً انسان کے لیے اس کی زندگی بالکل ہی محدود ہے لیکن وہاں کی زندگی ہمیشگی کی زندگی ہوگی ، وہاں موت کا کوئی تصور نہیں ہے اسی طرح قدو قامت اور شکل و صورت میں بھی فرق کردیا جائے عین ممکن ہے بلکہ زیر نظر آیت اشارہ دے رہی ہے کہ تمہاری شکل تیار کی جائیے گی اور تمہیں نئے سرے سے اس عالم میں پیدا کیا جائے گا جس کو تم نہیں جانتے یعنی وہاں جبکہ دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو ضروری نہیں کہ تمہاری شکل و صورت من و عن ایسی ہی ہو جیسی کہ اب ہے اور جس طرح تمہاری زندگی کے لیے ایک نیا قانون بنایا جائے گا ‘ نیا جابطہ تشکیل دیا جائے گا ‘ ایک نیا طریقہ پیدائش مقرر کیا جائے گا اسی طرح تمہاری شکل و صورت میں بھی کوئی ایسا ردوبدل کردیا جائے جس کو تم اس وقت تک نہیں جانتے تو یہ بات کوئی بعید از عقل و فہم ادراک نہیں ہے بلکہ جس طرح پہلی بار پیدا کرنے والا اللہ ہے اسی طرح دوسری بار پیدا کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہوگا۔ پھر تعجب ہے تم پر کہ تم پہلی بار کی پیدائش کو مانتے اور تسلیم کرتے ہو دوسری بار پیدا کرنا تم پر کیوں شاق گزرتا ہے ؟
Ayah 56:62

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْ لَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 56:62 in the Quran reader

اور تم کو پہلی پیدائش کا تو علم ہے ہی (تم دنیا میں رہ کر آئے ہو) پھر تم کیوں نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟

تم کو پہلی بار پیدائش کا تو علم ہے ہی پھر تم کیوں نصیحت حاصل نہیں کرتے 62۔ فرمایا جا رہا ہے کہ تم اپنی پہلی پیدائش کو تو جانتے ہو کہ وہ کس طرح ہوئی سب کو معلوم ہے کہ باپ کی گالی ہی سے اولاد پیدا ہوتی ہے کیونکہ جس کو ولد کہتے ہیں اس کی پیدائش کے لیے یہی قانون اللہ نے مقرر کیا ہے اور اپنے ققانون کی خلاف ورزی اللہ تعالیٰ نہ کرتا ہے اور نہ ہی ہونے دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کی پیدائش ایک جرثومہ سے کی اور پھر اس جرثومہ کو کن کن ادوار سے گزارتے ہوئے کیا کیا تبدیلیاں رونما کر کے انجام کا خلقا آخر کی شکل و صورت میں لاکر بچہ تمہارے سامنے پیش کردیا اگر تم ذرا غور و فکر کرو گے تو یقین کرلو گے کہ یہ پہلی شکل و صورت جس میں تم پیدا ہو اس کے بنانے میں نہ تمہار ذات کا کوئی دخل تھا اور نہ ہی تمہارے ماں باپ یا کسی دوسرے پیر و بزرگ کا کوئی حصہ ہے بلکہ جس طرح اللہ نے چاہا تمہاری شکل و صورت بنادی اور جب وہ تم کو دوسری پیدائش میں پیدا کرے گا تو یہ اس کی مرضی اور چاہت ہے کہ تم کو جو شکل و صورت بھی وہ عطا کردے لاریب وہ شکل و صورت تو انسان ہی کی ہوگی لیکن دنیاوی شکل سے زیادہ خوبصورت اور غیر مبدل یعنی ایک حالت پر ہمیشہ رہنے والی ہوگی۔ چناچہ اہل جنت کی شکلیں بہت ہی خوبصورت اور اہل دوزخ کی شکل و صورت بہت ہی کریہہ اور بد صورت ہونے کا ذکر واضح احادیث میں موجود ہے۔ جس طرح اس دنیوی شکل و صورت کا انحصار اس نطفہ اور جرثومہ پر ہوتا ہے کہ بچہ اپنے ننہال یا ددھیال کی شکلو صورت رکھتا ہے وہاں کی پیدائش کا انحصار انسان کے اعمال پر ہوگا جن لوگوں کے اعمال اچھے ہوں گے ان کی شکل و صورت بھی خوبصورت ہوگی اور جن کے اعمال اچھے نہیں ہوں گے لاریب ان کی شکل و صورت بھی اچھی نہیں ہوگی اور اسی طرح کی تبدیلی انسان کی اس دنیوی زندگی میں ہوتی رہتی ہے اور خصوصاً چہرہ کے تاثرات انسان کی نیکی اور بدی کا اظہارہ واضح طور پر کرتے رہتے ہیں۔ گنہگار کا چہرہ اس کے گناہ کی نشاندہی کردیتا ہے اور نیک عمل کرنے والے کا چہرہ اس کے نیک عمل کی نشاندہی کرتا ہے لیکن یہ تغیر اتنا واضح نہیں ہوتا تاہم چہرہ شناس اس صورت حال سے آگاہ ہوجاتے ہیں۔ انسان کا چہرہ اللہ تعالیٰ نے ایسا آئینہ بتایا ہے کہ اس سے اس کی غمی و خوشی ‘ نیکی اور بدی کے آثار نمایاں نظر آتے رہتے ہیں اور چاہے وہ ایک بات کا اظہار نہ کرے لیکن چہرہ اس کی اصل حقیقت کو واضح طور پر پیش کردیتا ہے اور یہ بات اہل علم و فکر سے تو قطعاً پوشیدہ نہیں ہے بلکہ انسان کا چہرہ اس کے اندرونی اعضاء کے افعال کی درستگی اور نادرستگی کی وضاحت بھی کردیتا ہے۔ ایک حاذق طبیب فقط چہرہ دیکھ کر بتا سکتا ہے کہ اس آدمی کا جگر خراب ہے یا معدہ صحیح کام نہیں کرتا ‘ یہ گیس کا مریض ہے یا بواسیر نے اس کو تنگ کر رکھا ہے بلکہ بعض اوقات تو انسان کا چہرہ اس کی گزشتہ زندگی کی پوری وضاحت بھی پیش کردیتا ہے کہ اس کا بچپن کیساگزرا ہے اور یہ کیا کیا حرکتیں کرتا رہا ہے ؟ بہر حال زیر نظر آیت میں صاحب عقل و دانش سے یہ سوال کیا گیا ہے کہ جب تم اپنی پہلی زندگی یعنی دنیوی زندگی کی پیدائش کو جانتے اور سمجھتے ہو تو تم کو اپنی دوسری زندگی سے کیوں انکار ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اپنی پہلی زندگی پر غوروخوض کر کے دوسری زندگی کا یقین حاصل کرسکتے ہو بشرطیکہ تم اپنی پہلی زندگی پر غور و فکر کر کے یقین حاص کرنا چاہو۔
Ayah 56:63

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ Open ayah 56:63 in the Quran reader

جس کو تم بوتے ہو (کبھی اس پر تم نے) غور کیا ہے ؟

جس چیز کو تم بوتے ہو کیا اس پر تم نے کبھی غور کیا ہے 63۔ افسوس کہ ملائیت نے یہ اصول کہاں سے وضع کر ملیا کہ دین میں عقل کو دخل نہیں ہے حالانکہ جتنی عقل و فکر کی دعوت اسلام کی دعوت ہے اور جس قدر کتاب و سنت نے غوروفکر اور سمجھ اور سوچ کی طرف بار بار توجہ دلائی ہے کسی دوسرے مذہب اور دوسری آسمانی کتابوں نے اتنی توجہ نہیں دلائی لیکن ملائیت جو لوگوں کی سنی سنائی باتوں کو اسلام سمجھتی ہے اس بات کا بار بار پر چار کرتی چلی جا رہی ہے کہ بھائی دین میں عقل و دخل نہیں ہے۔ کیوں ؟ اس لیے کہ انھوں نے دین کا حلیہ اس طرح بگاڑ دیا ہے کہ اس کی اصل تصویر لوگوں کے سامنے کبھی آنے ہی نہیں دی حالانکہ دین کی دعوت میں تو اول شرط ہی غوروفکر اور سمجھو سوچ کی ہے اور ظاہر ہے کہ غوروفکر اور سمجھو سوچ عقل ہی کا کام ہے۔ جتنی عقل صحیح اور درست ہوگی اتنا ہی انسان غورو فکر اور سمجھو سوچ سے زیادہ کام لے گا اور اتنی ہی اس کی عقل کا مل اور پختہ ہوگی۔ دراصل جب ملائیت نے اصل دین اسلام کی شکل و صورت مسخ کردی تو اس کے لیے ساتھ ساتھ یہ اعلان بھی کردیا کہ دین میں عقل کو دخل نہیں ہے تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری ‘ نہ کوئی عقل و فکر سے کام لے اور نہ ہی کوئی دین کی شکل و صورت کو سمجھنے کی کوشش کرے اور اسی طرح اس پر یہ ظاہر ہی نہ ہونے پائے کہ اصل دین کی یہ شکل و صورت نہیں ہے جس کو بطور دین ہمارے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ زیر نظر آیت ‘ اس سے پہلی آیات اور اس کے بعد آنے والی آیات پر غور و فکر کرو تو تم پر حقیقت واضح ہوجائے گی کہ کس طرح اسلام دعوت عقل کو فکر دیتا ہے۔ دُنیا میں جتنے پیشے انسان اختیار کرتا ہے ان میں سے آسان ترین پیشہ دہقان اور کاشتکار کا ہے کہ اس میں اتنی بڑی عقل و فکر کی ضرورت نہیں ہے جو باپ دادا کو اس نے کرتے دیکھا ہے بالکل اسی طرح وہ کرتا جاتا ہے اور کام ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس سب سے کم عقل و فکر والے انسان کو بھی عقل و فکری ہی کی دعوت دی جا رہی ہے اور اس کے اس پیشہ کے ساتھ جو چیز منسلک ہے اس کی طرف اس کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ اے دہقانوں اور اے کاشتکارو ! کیا تم نے کبھی غور و فکر بھی کیا ہے کہ جو کچھ تم بوتے ہو۔ { تحرثون } جو تم بوتے ہو۔ حرث جس کے معنی بونے کے ہیں مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تمہارا کام کا ہے ؟ یہی کہ زمین کو کھود کھود کر جب موسم آئے تو جو چیز تم بونا چاہتے ہو اس کا بیج اس کھیت میں جس تم ہل چلاتے رہے بکھیر دو اور وہ تم بہر حال بکھیر دیتے ہو۔
Ayah 56:64

ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ Open ayah 56:64 in the Quran reader

کیا تم اس کو اگاتے ہو یا ہم ہی اس کے اگانے والے ہیں

کیا تم اس کو اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں ؟ 64۔ پھر ہم پوچھتے ہیں کہ کیا ان بیجوں کو اگانا بھی تمہار اختیار میں ہے ؟ تم کسی دہقان اور کسی کاشتکار سے اب بھی پوچھ کر دیکھ لو وہ تم کو یہی کہے گے کہ یہ بات تو اللہ کے اختیار میں ہے اور اللہ ہی ان بیجوں کو اگاتا اور ان پر پھل پھول لگاتا ہے اور یہ اس کی کرشمہ سازی ہے کہ وہ ہم کو ایک من سینکڑوں من غَّلہ عطا کردیتا ہے۔ غور کرو کہ ایک دہقان کی توجہ بھی کس طرح عقل و فکر کی طرف مبذول کرائی جا رہی ہے کہ جتنی عقل اللہ نے تم کو دی ہے اس سے کام لے کر ذرا تم یہ تو بتائو کہ تمہارے اس بوئے ہوئے بیج کو اگاتا کون ہے ؟ اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور وقوع قیامت دونوں کی طرف اسی دہقان کی توجہ مبذول کرادی کہ کھیتی باڑی کے متعلق تو تم کو تفصیلی علم ہے کہ تمہارا صرف اور صرف اتنا ہے کہ زمین میں ہل چلائو ‘ اس کو کھود اور پھاڑو اور وقت آنے پر اس میں بیج ڈال دو اس کے بعد اس کے پک کر تیار ہونے تک جو حیران کن تغیرات وقوع پذیر ہوتے ہیں کیا ان میں تمہارا بھی کوئی عمل دخل ہے۔ ان کے لیے جتنی حرارت ‘ ٹھنڈک ‘ روشنی ‘ ہوا اور رطوبت وغیرہ کی ضرورت ہے ان کو مناسب مقدار میں اور بروقت کون مہیا کرتا ہے ؟ تم کرتے ہو ‘ تمہارے دیوی دیوتا یا پیرو مرشد کرتے ہیں ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو تم اللہ کی وحدانیت کا انکار کیوں کرتے ہو ؟ اور اس کے ساتھ غیروں کو شریک کیوں ٹھہراتے ہو۔ پھر تم نے کبھی یہ غور بھی کیا ہے کہ جو ذات الہٰ اس دانہ کو جو زمین سے نمی حاصل کر کے گل جانے کے قریب ہوتا ہے اس کو کس طرح ایک تن آور درخت بنادیتا ہے کیا اس کے لیے یہ بات مشکل ہے کہ وہ انسان کو خاک میں ملنے کے بعد اس وقت پر جس کا تعین اس نے کیا ہے نئی زندگی عطا فرمادے۔ غور کرو کہ کیا یہ دعوت اسلام نہیں ہے ؟ اگر ہے اور یقینا ہے تو کیا اس میں عقل و فکر کو دعوت نہیں دی جا رہ ہے اگر دی جا رہی ہے تو پھر عقل و فکر سے کام لینا کیونکہ ممنوع قرار دیا گیا ؟
Ayah 56:65

لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ Open ayah 56:65 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو اس کو چورا چورا کردیں پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ (اور جو کچھ ہونا تھا وہ ہوجائے)

اگر ہم چاہیں تو اس کو چورا چورا کردیں پھر تم باتیں بناتے رہ جائو 65۔ { تفکھون } تم تعجب کرتے ہو ‘ تم تعجب کرو گے ‘ تم باتیں بناتے ہو ‘ تم باتیں بنائو گیتف کہ جس کے معنی تعجب کرنے پیشمان ہونے اور باتیں بنانے کے ہیں مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ بیضاوی لکھتے ہیں کہ تفکہ طرح طرح کے میووں سے نقل کرنے کے ہیں اور بطور استعارہ نقل مجلس کے لیے باتیں بنانے کو بھی تفکہ کہا جاتا ہے۔ (انورالحزیل قاضی بیضاوی ج 2 ص 301 طبع مصر) عطا ‘ کلبی ‘ مقاتل اور فراء نے یہاں تعجب کرنے کے معنی کیے ہیں۔ مجاہد ‘ حسن بصری اور قتادہ نے { تفکہوں } کا ترجمہ تندمون سے کیا ہے یعنی تم نادم ہونے لگو گے اور عکرمہ نے باہم ملامت کرنے کے کیے ہیں ابن کیسان نے غم گین اور حزین ہونے کے اور کسائی نے تفکہ کے معنی مافات پر تاسف کرنے کے معنی کیے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کھیتوں کو جو تم بوتے ہو تمہارا کام ان کو محض بونا ہے ان کو اگانا اور پروان چڑھانا تمہارا کام نہیں ہے اور یہ بات تم بھی اچھی طرح جانتے ہو کہ ایک بار نہیں کئی ایک بار تم نے زندگی میں دیکھا ہوگا کہ تم نے فصل بوئی اور ہم نے اس کو اگایا اور بڑھایا یہاں تک کہ تمہارے کھیت لہلہانے لگے۔ لاریب تم نے اس کھیت پر محنت کی اور مال بھی خرچ کیا لیکن یہ محنت کیوں کی اور مال کیوں خرچ کیا ؟ اس توقع پر کہ اس سے مجھے بہت آمدنی ہوگی لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا ؟ یہ کہ جب فصل پکنے کے قریب ہوگئی تو ہم نے آسمانی بلیات کو نازل کر کے اُص کو چورا چورا کردیا اور جہاں سے تم بہت نفع حاصل کرنے کی امید لگائے بیٹھے تھے وہاں سے تم کو اتنا بھی وصول نہ ہا کہ تم اپنا لگایا ہوا خرچ بھی پورا کرسکو اس طرح گویا تمہارا اصل زر بھی گیا اور نفع بھی اور تم افسوس کرتے اور ہاتھ ملتے رہ گئے اور طرح طرح کی باتیں کرنے لگے لیکن افسوس تم پر کہ جو بات تم کو سمجھانا مقصود تھی وہ تم پھر بھی نہ سمجھ سکے { حطاماً } ریزہ ریزہ اور چورا چورا کردینا جو چیز ریزہ ریزہ ہوجائے اور روندی جائے اس کو حطاماً کہتے ہیں اور یہحطم سے مشق ہے جس کے معنی توڑنے اور ریزہ ریزہ کرنے کے ہیں۔ ظلتماصل میں ظللتم تھا بکسرلام اور دو لام کا ایک جگہ اکٹھا ہونا ثقیل تھا اور پھر کسرہ میں اور بھی ثقل تھا لہٰذا لام اول کو حذف کردیا گیا اور حرف ظا اپنے فتح پر باقی رہا اگرچہ یہ حذف شذو زقیاس میں داخل ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ آخر فعل ساکن ہو۔ مطلب یہ ہے کہ تم نے سارا دن جو محنت و مشقت اس کھیت پر کی تھی وہ اکارت چلی گئی۔
Ayah 56:66

اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَۙ Open ayah 56:66 in the Quran reader

(کہ) ہم تو تاوان میں پڑ گئے

ہم تاوان میں پڑ گئے 66۔ اوپر { تفکہوں } کہا تھا جس کے معنی ہم نے کیے ہیں کہ تم نے باتیں بنانا شروع کردیں اور اب ان باتوں کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ وہ باتیں کس طرح کی ہیں جو انھوں نے بنانا شروع کیں کہ ہم تو اس دفعہ قرض میں دب کر رہ گئے۔ ہمارا تو سب کیا کرایا اکارت چلا گیا۔ ہم تو تباہ و برباد ہوگئے۔ اب کف افسوس نہ ملیں گے تو اور کیا کریں گے ؟ اگر کہیں سے قرضہ نہ اٹھائیں گے تو اور کیا کریں گے ؟ { مغرمون } تاوان زدہ ہونا۔ اصل مادہ غ ر م ہے اور اغرام مصدر ہے اور اسی سے غراماً پہیم تکلیف میں مبتلا ہونا۔