56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 56:67

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 56:67 in the Quran reader

بلکہ ہم تو محروم ہی رہے ہیں

بلکہ ہم تو محروم ہی رہ گئے ہیں 76۔ { محرومون } اسم مفعول جمع مذکر ہے مرفوع۔ بد نصیبی کی وجہ سے حصول رزق سے روکے گئے ہیں۔ یہ اٹھیں باتوں میں سے ایک بات ہے جو ایسی نا گہانی آفت کے آجانے کے بعد انسان فطری طور پر اپنے منہ سے نکالتا ہے۔ یا اس کے منہ سے نکلتی ہے کہ ہائے ہم پر آفت آگئی۔ ہائے ہماری تو اصل بھی ضائع ہوگئی۔ اس طرح کی باتیں تم کرنے لگے کہ نفع تو ایک طرف رہا اصل پونجی بھی ضائع ہوگئی۔ وغیرہ وغیرہ۔
Ayah 56:68

اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَؕ Open ayah 56:68 in the Quran reader

جو پانی تم پیتے ہو (کبھی اس پر بھی) غور کیا ہے ؟

جو پانی تم پیتے ہو کبھی اس پر بھی تم نے غور کیا ہے ؟ 86۔ پانی جس پر حیوانی زندگی کا انحصار ہے بھوک سے بھی نہایت اہم چیز ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو کس قدر عام کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہماری خوراک کا بندوبست کیا ہے اسی طرح ہماری پیاس بجھانے کا انتظام بھی فرما دیا اور قدرت نے اس کے لیے کتنا بڑا نظام بنایا کہ سمندروں کے کھاری پانی اور جوہڑوں کے ناپاک پانی کو اڑا کر بھاپ بنا دیا جو ناپاک تھا وہ پاک ہوگیا اور جو کھاری تھا وہ میٹھا ہوگیا جس سے تم بھی پیتے ہو اور تمہارے مویشی بھی پیتے ہیں اور اس سے تمہاری فصلیں بھی سیراب ہوتی ہیں اور اس نظام قدرت سے تم نے بڑے بڑے تجربات حاصل کر کے بڑے بڑے کاروبار اور کار خانے چلا رکھے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ توحید الٰہی کے نشانات میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ جو پانی تم کنوئوں چشموں ‘ دریائوں اور ٹیوب ویلوں سے پیتے ہو یہ کہاں سے آتا ہے ؟ یہی تو ہے کہ بادل گھر آتے ہیں ‘ بارش برستی ہے ‘ کچھ پانی دریائوں میں بہنے لگتا ہے اور کچھ مقدار تالابوں اور جوہڑوں میں بھر جاتی ہے اور اس کا اکثر حصہ زمین میں جذب ہوجاتا ہے اور زمین کی تہ کے نیچے جا کر پانی جمع ہوجاتا ہے اور اس پانی کو ہم مختلف طریقوں سے کشید کرتے ہیں جیسے ٹیوب ویلوں ‘ ہینڈ پمپوں اور موٹروں کے ذریعہ سے لیکن اس پانی کا اصل سرچشمہ بارش ہے کہ نظام قدرت اس زمین سے پانی کو بھاپ بنا کر اڑاتی رہتی ہے اور وہی بھاپ کے ذریعہ سے کشید شدہ پانی بادلوں کے ذریعہ سے ٹپکتا ہے اور اتنا بڑا عمل جاری ہے کہ جس کے ذریعہ سے کروڑوں ٹن پانی بھاپ بن کر روزانہ اٹھا لیا جاتا ہے اور پھر بادلوں کی صورت میں لاکر ہمارے ان کھیتوں پر برسایا جاتا ہے۔ ذرا غور کرو کہ اس سارے نظام میں کس کی کاریگری کام کر رہی ہے۔ اور وہ کون ہے جس نے اتنا بڑا نظام قائم کر رکھا ہے کہ اس میں کچھ معاملہ ہوتا ہوا نظر بھی نہیں آتا اور سارا نظام بھی برابر چل رہا ہے کہ پانی کو بھاپ بنا کر ارایا جاتا ہے اور پھر بادلوں کی صورت میں زمین کے قریب لا کر بارش کی صورت میں برسایا جاتا ہے اور وہ بھی ایک خاص مقدار کے مطابق اور یہ سارا کام ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے لیکن اس اتنے بڑے کام میں کوئی شورو غوغا اور بھاگ دوڑ نظر نہیں آتی اور نہایت خاموشی کے ساتھ سارا کام ہوتا چلا جارہا ہے۔
Ayah 56:69

ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ Open ayah 56:69 in the Quran reader

کیا تم نے اس کو نازل کیا ہے یا ہم ہی اتارنے والے ہیں ؟

کیا تم اس کو اتارنے والے ہو یا ہم ہی ناذل کرنے والے ہیں ؟ 96۔ { المزن } اسم جمع بادل ‘ سفید بادل کا ٹکڑا ‘ نازل ہونے کی جگہ۔ مطلب یہ ہے کہ کبھی غور کیا ہے آپ نے کہ اس پانی کو اس کے اتارنے کی جگہ سے ہم اتار رہے ہیں یا تم اتار رہے ہو ؟ یہ سارا نظام جس سے اربوں کھربوں ٹن پانی کو ہوا اور بھاپ میں تبدیل کردیا جاتا ہے اور پھر اس بھاپ کو اس آسمان زمین کے خلا میں اس طرح پھیلا دیا جاتا ہے اور اتنا اوپر لے جایاجاتا ہے کہ دیکھنے سے کچھ نظر بھی نہیں آتا اور جب ہم اس کو بر سانا شروع کردیتے ہیں تو تمہارے ندیاں نالے تو کجابہت بڑے بڑے دریا بھی اس کو سمیٹنے سے قاصر ہوجاتے ہیں کہ تم جدھر دیکھتے ہو طغیانی ہی طغیانی نظر آتی ہے۔ آخر پانی کا اتنا بڑا ذخیرہ کہاں سنبھال کر رکھا گیا تھا ؟ اور وہ نظام جس کے تحت اس پانی کو بھاپ کی صورت میں اٹھایا گیا کوئی معمولی نظام تھا تم غور کرو کہ اس زمین پر جس پر تم بستے اور رہتے ہو کتنے آرام کے ساتھ رہ رہے ہو لیکن اس زمین سے سورج کی کرنیں اس پانی کو بھاپ بنا کر اڑا رہی ہیں ذرا تصور تو کرو کہ جس پانی کو بھاپ بنا دیا جا رہا ہو اس کے ارد گرد کوئی اس طرح آرام و سکون سے رہ سکتا ہے جس طرح تم آرام 2 و سکون کے ساتھ رہ رہے ہو اور تمہارے سامنے یہ جو جوہڑ موجود ہے اس کا پانی بھاپ بنا کر اڑایا جا رہا ہے اور چند ہی دنوں میں تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے یہ سارا پانی اٹھالیا گیا ہے اور اس کے کنارے تم آرام و سکون سے زندگی بسر کر رہے ہو نہ تم نے اس پانی کو یہاں سے اٹھتے دیکھا ہے اور نہ ہیں کہیں اس کو آتے جاتے کبھی تم دیکھتے ہو لیکن کس غیر محسوس طریقہ سے اس سارے پانی کو اٹھا لیا گیا اور پھر یہ جوہڑ جس میں تمہارا سارا دنگا پانی جمع ہوتا رہا اس کو اس طر پاک اور طاہر کردیا گیا کہ اس پر ناپاک ہونے کا تم کبھی خیال بھی نہیں کرسکتے یہ عمل کشید کیسے ہوا اور کیونکر ہوا لیکن جونہی یہ پانی برسنا شروع ہوا تو اس سے زیادہ صاف اور ستھرے پانی کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ کیا تم نے سورج کی کرنوں کا یہ کمال دیکھا ؟ اچھا یہ کمال کس نے بنایا اور کون اس کا نگران ہے ؟ فرمایا اچھی طرح سن لو اور خوب یاد رکھو کہ اس پانی کو اتارا ہے تو ہم نے ‘ اس پانی کو یہاں سے اٹھایا ہے تو ہم نے اور اس پانی کو پاک و صاف کیا ہے تو ہم نے اس میں نہ تو کوئی تمہارا دخل ہے اور نہ ہی تمہارے باپ دادے کا اور نہ ہی کسی پیرو بزرگن کا۔ یہ ساری کرشمہ سازی تو ہماری ہے لیکن ہمارے ساتھ شریک ٹھراتے وقت تم نے کبھی غور نہیں کیا کہ مخلوق کو خالق کے ساتھ کس طرح شریک ٹھہرا رہے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ بارش معلوم ہے کہ بارش برسانے کے مصنوعی طریقے بھی ایجاد ہوچکے ہیں لیکن فطری اور مصنوعی طریقے میں جو فرق ہے وہ بھی کسی سے مخفی نہیں ہے اور پھر یہ مصنوعی طریقے ایک محدود طریقہ پر کام کرتے ہیں اور ان میں وسعت نہیں ہوتی اور پھر اس طرح ہر مصنوعی طریقہ ایک اصل کی نقل کہلاتا ہے اور اصل اور نقل میں جو فرق ہوتا ہے وہ کسی سے بھی مخفی نہیں ہے اور نتیجہ بھی دونوں کا یکساں نہیں ہوسکتا۔ غور کرو کہ جب سورج چھپ جاتا ہے اور رات اپنی زلفیں پھیلا دیتی ہے ‘ تم محض محدود علاقوں میں روشنی کرنے کے لیے کتنے اخراجات برداشت کرتے ہو لیکن اس کے باوجود بجلی کی روشنی اور سورج کی روشنی میں جو فرق ہے وہ کسی سے بھی مخفی نہیں ہے اور یہی حال اس مصنوعی بارش کا ہوگا کہ ایک تو بہت مہنگی پڑے گی اور دوسرا محدود علاقہ اور محدود انداز میں ھ ہوگی اور اس کے فوائد بھی وہ نہیں نکلیں گے جو حقیقی اور اصلی بارش کے نکلتے ہیں اور جو طریقے ایجاد کیے گئے ہیں وہ طریقے بھی ان اصل طریقوں سے وضع کیے گئے ہیں جن پر بہت زیادہ مصارف اٹھتے ہیں۔
Ayah 56:70

لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 56:70 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو اسے کھاری بنا دیں پھر تم شکر ادا کیوں نہیں کرتے ؟

اگر ہم چاہیں تو اس پانی کھو کھاری بنادیں لیکن تم لوگ شکر ادا کیوں نہیں کرتے ؟ 07۔ غور کرو کہ بارش جیسا کہ پیچھے اس کی وضاحت گزر چکی ہے اس زمین پر برسائے گئے پانی سے اور سمندروں اور جوہڑوں سے پانی اٹھا کر برسائی جاتی ہے اور پھر غور کرو کہ سمندر کا پانی کتنا کھاری اور کتنا کڑوا ہوتا ہے لیکن بارش کے پانی میں کڑواہٹ اور کھاری پن کا شائبہ تک نہیں ہوتا ‘ وہ کون ہے جس نے اس پانی کو بھاپ بناتے وقت اس کی کھار اور کڑواہٹ کو اس پانی سے جدا کردیا اور اس میں اس قسم کی ہیک (Smell) اور بو وباس بھی نہیں رہنے دی۔ یہ پانی نہایت صاف اور شفاف ہوتا ہے اور بالکل میٹھا اور پانی کا اصل ذائقہ اس میں پایا جاتا ہے۔ ایک بار پھر سوچ لو کہ اس سورج کی کرنوں کو کس نے یہ سلیقہ سکھایا ہے کہ تم جب پانی کشیدہ و تفطیر کرو تو اس میں کڑواہٹ اور کھاری پن کو مت کشید کرو صرف خالص پانی کے اجزاء کو بخارات میں تبدیل کرو۔ اگر اللہ تعالیٰ یہ اہتمام نہ فرماتا تو زمین پر جہاں کھاری پانی برستا ساری زمین شور و اور کلر بن جاتی اور اس طرح پیداوار کا سارانظام درہم برہم ہوجاتا۔ اس اللہ کی کاریگری کو دیکھو کہ تمہارے ان کھاری سمندروں اور نیمپاک جوہڑوں سے کس طرح پانی کشید کیا کہ اس کی ناپاکی اور کڑواہٹ دونوں کو زائل کردیا لیکن تم ہو کہ برابر کفران نعمت کیے جاتے ہو۔ تم کو یہ بات زیب نہیں دیتی۔ تم کو چاہئے تھا کہ اپنے پروردگار کا شکر ادا کرتے تاکہ وہ تم کو اپنے احسانات سے آخرت میں بھی مالامال کردیتا۔
Ayah 56:71

اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَؕ Open ayah 56:71 in the Quran reader

جس آگ کو تم سلگاتے ہو (کبھی اس پر بھی) غور کیا ہے ؟

جس آگ کو تم سلگاتے ہو کیا تم نے کبھی اس پر بھی غوروفکر کیا ؟ 17۔ جس طرح پانی ضروریات زندگی میں سے ہے اسی طرح آگ بھی ضروریات زندگی ہی میں سے ہے اور رلاریب اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے اور انسانی زنددگی کے لیے جتنی وہ ضروری ہے وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ روشنی کا کام ہم کو دیتی ہے اور اس سے کھانے پکانے کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ صنعت و حرفت میں اس سے کام لیا جاتا ہے مختصراً یہ کہ اگر آگ کا وجود نہ ہوتا تو انسانی زندگی کا نقشہ یقینا نہ ہوتا جیسا کہ اس وقت نظر آرہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توجہ اس طرح مبذول کر ارہا ہے کہ کیا تم نے اس آگ کی طرف بھی کبھی توجہ کی جس کو تم اپنی اپنی ضرورتوں کے لیے سلگاتے ہو۔ { تورون } تم سلگاتے ہو ‘ توم روشنی کرتے ہو ایراء س جس کے معنی چقماق سے آگ نکلالنے کے ہیں مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ دراصل عرب میں دو ایسے درخت ہیں کہ اگر ان دونوں کو ملا کر ایک دوسرے سے رغرا جائے تو ان میں سے آگ کا ساشعلہ نکلتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے ہرے درخت جب آپس میں رگڑ کھاتے ہیں تو آگ کی مانند شعلہ ان سے بلند ہوتا ہے لیکن وہ اس سے جل نہیں جاتے تاہم اس سے مراد سارے درخت بھی لیے جاسکتے ہیں کیونکہ سارے درخت ہی آگ جلانے کے کام آتے ہیں اور پرانے ایندھنوں میں سے زیادہ تر ایندھن اس لکڑی سے حاصل کیا جاتا تھا اور آج جب بیشمار چیزیں ایندھن کے لیے استعمال ہوتی ہیں تو یہ ضرورت بدستور اپنی جگہ اسی طرح قائم ہے اور لکڑی جلانے کے کام آتی ہے۔ ان میں ایک کو ” مرخ “ اور دوسرے کو ” عفار “ کہتے ہیں جن کی رگڑ سے آگ پیدا ہوتی ہے۔
Ayah 56:72

ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَهَاۤ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ Open ayah 56:72 in the Quran reader

کیا اس کے درخت تم نے پیدا کیے ہیں یا ہم ہی ان کے پیدا کرنے والے ہیں

کیا اس کے درخت تم نے پیدا کیے ہیں یا ہم ان کے پیدا کرنے والے ہیں ؟ 27۔ فرمایا یہ جو درخت تمہارے جلانے کے کام آتے ہیں اور علاوہ ازیں بھی بہت سے کام تم ان سے لیتے ہو کیا تم نے ان کو پیدا کیا ہے یا ہم نے ان کو پیدا کیا ہے ؟ اب کون ہے جو یہ کہے کہ میں نے درخت پیدا کیے ہیں کیونکہ پیدا کرنا تو صرف اور صرف اللہ کا کام ہے اور اس بات کو کفارِمَکّہ بھی تسلیم کرتے تھے اور آج بھی اس بات کا کوئی انکار نہیں کرسکتا اور نہ ہی کوئی شخص ‘ کئی جماعت یا کوئی گروہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ ان درختوں کو یا فلاں چیز کو میں نے پیدا کیا ہے۔ { المنشون } اسم فاعل جمع مذکرالمنشیواحد انشاء پیدا کرنے والے۔
Ayah 56:73

نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَۚ Open ayah 56:73 in the Quran reader

ہم ہی نے تو اس کو نصیحت دینے والا اور مسافروں کے لیے نفع کی چیز بنایا

ہم نے اس کو نصیحت دینے والی اور مسافروں کے لیے نفع بخش بنایا ہے 37 { جعلنھا } ہم نے اس کو بنایا ہے ” ھا “ کی ضمیر آگ کی طرف راجع ہے یعنی ہم نے اس آگ کو بنایا نصیحت اور فائدہ کی چیز { المقوین } اسم فاعل جمع مذکر مجرور المقوی واحد { اقواء } مصدر اقواء یاقوۃ سے مآخذ۔ اس لفظ کے ترجمہ میں اہل تفسیر کا اختلافات ہے۔ صاحب معالم التنزیل نے لکھا ہے قَّی اور قواء ویران زمین کو کہتے ہیں جس میں کوئی رہنے والا نہ ہون چناچہ کہا جاتا ہے کہ اقرت الدار مکان غیر آباد ہوگیا ، رہنے والوں سے خالی ہوگیا اس لیے مقوین اس جگہ مراد ہیں مسافر اور صحرا نشین لوگ کیونکہ مسافروں اور صحرانشینوں کو آگ سے زیادہ فائدہ پہنچتا ہے کہ رات کو آگ جلاتے ہیں تو بھولے بھٹکے لوگوں کو راستہ مل جاتا ہے۔ لیکن بعض لوگوں نے کہا ہے کہ مقوین سے مراد عام فائدہ حاصل کرنے والے لوگ ہیں خواہ وہ مسافر ہوں یا مقیم اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد بھوکے لوگ ہیں کیونکہ عرب کہتے ہیں کہ اقویت منذیومین میں دو دن سے بھوکا ہوں اور بعض نے کہا ہے کہ مقوی اضداد میں سے ہے کیونکہ یہ لفظ فقیر پر بھی بولا جاتا ہے اس لیے کہ وہ مال و متاع سے خالی ہوتا ہے اور غنی کو بھی کہتے ہیں اس لیے کہ وہ صاحب قوت ہوتا ہے اور اپنے ہر مقصود کو حاصل کرنے کے اس میں قوت ہوتی ہے لیکن چونکہ اس لفظ کا استعمال فقط اس اس ایک جگہ ہی ہوا ہے اور قرآن کریم میں کسی دوسری جگہ یہ لفظ استعمال نہیں ہوا اس لیے ہم نے اس کے معنی مسافروں ہی کے لیے ہیں کیونکہ آگ مقیم لوگوں سے مسافروں کے لیے زیادہ نفع بخش ہے اور ان کا انحصار اس پر زیادہ ہے کیونکہ ویران ریگزاروں میں جب آگ جلتی ہے تو اس کی روشنی میلوں تک دکھائی دیتی ہے اور کئی راہ گیر جن کی کوئی جائے پناہ نہیں ہوتی وہ اس طرح کے اور فوائد بھی اس سے حاصل ہو سکتے ہیں۔
Ayah 56:74

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:74 in the Quran reader

پس تو اپنے عظمت والے رب کے نام کی تسبیح کر

پس تو اپنے عظمت والے رب کے نام کی تسبیح کر 47۔ یہ خطاب نبی اعظم و آخر ﷺ کو ہے۔ پیچھے سے جو مضمون آپ پڑھتے چلے آرہے ہیں اس کے ساتھ اس کا کیا جوڑا جوڑا گیا ہے ؟ یہی کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ اپنے مؤقف پر ڈٹے رہیں اور اپنے رب کی تسبیح کرتے رہیں جہاں تک دلائل کا تعلق ہے وہ تو آپ ﷺ کے پاس ہیں لیکن ہٹ دھرم لوگوں نے کسی زمانہ میں بھی دلائل کو تسلیم نہیں کیا۔ وہ ہمیشہ اکثریت اور رسم و رواج ہی کی بات پر اڑے رہے اور یہی حال آپ ﷺ کے مخاطبین کا ہے کہ یہ ہٹ دھرمی سے کام لے کر آپ ﷺ کی بات پر کان نہیں دھرتے تو نہ دھریں آپ ﷺ بھی ان کی پروانہ کریں اور اپنا کام اپنے طریقہ پر جاری رکھیں اور اپنے پروردگار کی تسبیح میں مشغول رہییں ان منکرین و معاندین کو ہمارے سپرد کردیں یعنی ان کو ہمارے قانون کے تحت جو ڈھیل دی گئی ہے اگر یہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو نہ اٹھائیں اس طرح یہ لوگ آپ ﷺ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے جو کچھ بھی ہوگا وہ ان ہی کے ساتھ ہوگا اورت جونہی وقت گزر گیا بس ان کو پکڑ لیا جائے گا اور ان پر اس وقت سب حقیقت کھل جائے گی۔ لاتوں کے بھوت کبھی باتوں سے نہیں مانتے جب عذاب الٰہی کا جھٹکا ان کو لگے گا تو ان کی مت ٹھکانے آئے گی اگرچہ اس وقت عقل کے درست ہونے سے ان کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا بلکہ جو کچھ ہونا ہے وہ ہوچکا ہوگا آپ ﷺ کو اللہ کی تسبیح وتحمید سے جو قوت ملے گی وہی اس کا علاج ہے جس کو جاری رکھنے کا آپ ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے اور یاد رکھو کہ اللہ ربِّ کریم ہی کی وہ ذات ہے جو ہر طرح کے نقصو عیب سے پاک اور منزہ ہے اور وہی ہے جو ساری عظمتوں کا مالک ہے اور کسی کی عظمت و شان اس سے زیادہ نہیں ہے۔
Ayah 56:75

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِۙ Open ayah 56:75 in the Quran reader

پس میں قسم کھاتا ہوں ڈوبنے والے ستاروں (کے رب ) کی

نہیں ! پس میں قسم کھاتا ہوں ڈوبنے والے ستاروں کے رب کی 57۔ { فلا اقسم } میں لا کیسا ہے ؟ اس کے متعلق بہت تفصیل سے کلام کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ ” لا “ نفی کے لیے نہیں ہے بلکہ اثبات کے لیے ہے یا اس ” لا “ کے متعلق اہل لغت نے اور نحوپوں نے جس طرح کلام کیا ہے اس کا ماحصل یہ کہ ” لا “ جس کو لاء نفی جنس لا تبریہ اور لا مشابہبِاَن کہا جاتا ہے اس کا اسم فتح پر یا علامت نصب پر مبنی ہوتا ہے بشرطیکہ اسم فعال نہ ہو جیسے لاتثریب علیکم۔ قالو الاضیر۔ یا اہل یثرب لا مقام لکم۔ لا مسلمات۔ لا رجلی۔ لا مسلمی۔ میرا نی اور زجاج کے قول پر ” لا “ تبریہ کا اسم کیسا ہی ہو معرب ہوتا ہے اگرچہ تنوین نہیں پڑھی جاتی۔ لا تبریہ کی خبر خواہ ظرف اور جار مجرو ہی ہو اسم پر مقدم نہیں ہوتی۔ لا تبریہ کے اسم کی اگر کوئی صفت مذکور ہو یا کسی دوسرے اسم کا لا کے اسم پر عطف کیا گیا ہو بشرطیکہ صفت اور معطوف خبر کے ذکر سے پہلے ہو تو محل کی رعایت کر کے معطوف اور صفت کو مرفوع پڑھنا بھی جائز ہے جیسے لا رجل و امراۃ فیھا اور لا رجل ظریف فیھا اگر لا تبریہ مکرر ہو تو دونوں کو یا ایک کو بےعمل قرار دینا بھی جائز ہے جیسے لا حول لاقوۃ اگر ” لا “ تبریہ کی خبر معلوم ہو تو اکثر مخدوف ہوتی ہے جیسے لا ضیرَ ۔ فلاقوت۔ لاشی بنو تمیم تو ” لا “ تربیہ کی خبر کبھی ذکر ہی نہیں کرتے ” لا “ ناقص یعنی وہ ” لا “ جو لپس کے مشابہ ہوتا ہے۔ ” لا “ ناقصہ صرف نکرہ میں عمل کرتا ہے۔ ” لا “ عاطفہ اس کی تین شرطیں ہیں۔ (1) اس سے پہلے اثبات ہوں۔ (2) لا کے ساتھ دوسرا حرف عطف نہ ہو۔ (3) لا معلوف اور معطوف علیہ ایک جگہ جمع نہ ہو سکتے ہوں۔ ” لا “ جوابیہ جو ” نعم “ کے مقابل آتا ہے ” لا “ نفی محض اس کو مقرر ذکر کرنا مندرجہ ذیل مقامات پر لازم ہے۔ (1) اس کے بعدجملہ اسمیہ ہو جس کا پہلا جز معرفہ ہو اور ” لا “ اس کا عامل نہ ہو یا پہلا جز نکرہ ہو اور ” لا “ اس میں عامل نہ ہو۔ (2) ” لا “ کے بعد فعل ماضی ہو۔ ’ 3 ‘ خبر مفرد یا صفت یا حال پر ” لا “ داخل ہو تو ساقط کردیتا ہے اگر نہ ہو تو مجزوم کردیتا ہے ۔ کبھی ترک کی وجوبی طلب یعنی تحریم کے لیے آتا ہے۔ کبھی ترک کی تنزیہی طلب کے لیے۔ کبھی دعا کے لیے ۔ کبھی محض زائد ہوتا ہے (اگرچہ یہ بات صحیح نہیں ہے) اور کبھی صرف دھمکی دینے کے لیے ۔ ان کی مثالیں پیش کرنے سے کلام بہت لمبا ہوتا تھا اس لیے امثال پیش نہیں کی گئیں اور ویسے بھی قواعد کی باتیں قواعید ہی کی کتابوں میں مناسب معلوم ہوتی ہیں۔ یہ کلام محض اشارات کے لیے پیش کیا گیا ہے اور بتانا مقصود صرف اور صرف یہ ہے کہ جہاں پہلے بہت کلام کیا جا چکا ہے۔ وہاں مزید کلام کرنے کی گنجائش بھی ہوتی ہے اور اس کو حرام نہیں سمجھنا چاہئے۔ گزشتہ لوگوں نے جو کچھ کہا وہ بھی وحی الٰہی نہیں تھی بلکہ انھوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور اہل زبان اپنی زبان کے متعلق جو کچھ جانتے ہیں لاریب دوسرے اس قدر نہیں جانتے لیکن یہ کلام محج کسی ایک علاقہ کے لیے نہیں اترا بلکہ ساری دنیا کے لوگوں کو اس پر بات کرنے کا برابر حق ہے اور خصوصاً جہاں کلام کی گنجائش پہلے ہی بہت پیدا کردی گئی ہو وہاں مزید کلام بھی کیا جاسکتا ہے مختصر یہ کہ ہماری تفہیم کے مطابق ہر زبان میں قاعدہ موجود ہے کہ مخاطبین کی کہی ہوئی باتوں کی نفی یا ثبات شروع کلام میں کردی جائے اگرچہ ان باتوں کا وہاں ذکر موجود نہ ہو مثلاً آپ کلام شروع کرتے وقت جب یہ کہیں گے کہ ” نہیں ‘ نہیں خدا کی قسم اصل بات تو اس طرح ہے “ تو یہ نہیں ‘ دو بار جو آپ نے کہا ہے محض تاکید کے لیے کہا ہے اور نفی آپ نے ان باتوں کی کی ہے جو اس جگہ مذکور نہیں تاہم سامعین اور آپ کے ذہن میں وہ باتیں یقینا موجود ہیں اور جس بات کی آپ نے نفی کی ہے اس سے خوب واقف ہیں اور کسی کو آپ کے نہیں نہیں کہنے سے کوئی تعجب نہیں ہوا ‘ کیوں ؟ اس لیے کہ مخاطب کو خوب معلوم ہے کہ آپ نے کس بات پر نہیں نہیں کہا ہے۔ اب غور کرو کہ قرآن کریم کے متعلق کفار مّکَہ کیا کچھ کہتے تھے اور آپ ﷺ کے متعلق کیا کچھ۔ قرآن کریم کے متعلق ان کا عام تبصرہ یہ تھا کہ یہ خود محمد رسول ﷺ کا گھڑا ہوا ہے۔ یہ کہ کوئی شخص آپ ﷺ کو یہ باتیں آکر سنادیتا ہے یہ کہ اس میں کچھ بھی نہیں بس گزشتہ لوگوں کی کہانیاں ہی تو ہیں اور اس طرح کی اور باتیں وہ بناتے تھے اور یہ ان کا کہنا سب کو معلوم تھا لہٰذا ان کو جواب دیا گیا ہے کہ نہیں ایسی بات نہیں ہے جیسا کہ تم کہہ رہے ہو گویا نفی مخاطب کے زعم باطل کے کی تردید ہے اس لیے نفی کا لانا عربی زبان اور قرآن کریم میں بالکل واضح اور معروف ہے اس طرح گویا ان کے زعم باطل کی تردید کرنے کے بعد قسم سے مؤکد کر کے کہا جا رہا ہے کہ مجھے قسم ہے اس رب کی جو ستاروں کو غروب کرتا ہے بات اس طرح نہیں جس طرح تم کہہ رہے ہو ” مواقع “ جمع مضاف ‘ منزلیں ‘ فرودوگاہیں ‘ ستاروں کے غروب ہونے کی منازل۔ مفسرین نے عام طور پر اس ” لا “ کو زائد کہا ہے لیکن یہ بات ہم پیچھے بیان کرتے چلے آرہے ہیں کہ قرآن کریم میں بےمقصد کچھ نہیں کہا گیا اگر کسی بات کی تاکید کے لیے ایک بات کہی جائے تو بھی اس کو زائد نہیں کہا جاسکتا بلکہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ کلمہ تاکید کے لیے کہا گیا ہے اور تاکید وہیں کی جاتی ہے جہاں تاکید کرنے کی ضرورت ہو۔ اس طرح کلام کرنے میں ان لوگوں کی تردید بھی ہوگئی جو ستاروں کی پرستش کرتے ہیں اور ان کو انسانوں کی زندگی اور ان کے سعد ونحس ہونے پر ایمان رکھتے ہیں کہ ستاروں کو طلوع اور غروب کرنا اللہ تعالیٰ کے نظام میں داخل ہے ، ستاروں کی اختیاری بات نہیں بلکہ اللہ ربِّ ذوالجلال والاکرام نے جس بندھن میں ان کو باندھ دیا ہے وہ اس میں بندھے ہوئے ہیں اور ان کا طلوع و غروب بھی ان کے اختیار میں نہیں ہے تو وہ انسانوں کی زندگی کے لیے سعد و نحس کیسے ہو سکتے ہیں ؟ یہ سارے ڈھکو سلے ہیں جن کی کوئی اصلیت اور حقیقت نہیں ہے اور بعض مفسرین { النجوم } سے مراد قرآن کریم کے حصے بھی لیے ہیں کیونکہ قرآن کریم بھی نجماً نجماً نازل کیا گیا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کر کے اس کو بطور قسم مؤکد کیا گیا ہے اور دونوں مفہوم اپنی اپنی جگہ صحیح اور درست ہیں اور کوئی اس مفہوم میں اس کو لیتا ہے تو بھی جائز اور صحیح ہے۔ یہ بات قبل ازیں کہی جاچکی ہے کہ جہاں وسعت موجود ہو وہاں وسعت سے کام لیا جاسکتا ہے اور علاوہ ازیں بھی اس کا مفہوم سمجھا اور بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 56:76

وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌۙ Open ayah 56:76 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ ایک بڑی قسم ہے اگر تم سمجھو

اور بلا شبہ یہ ایک بڑی قسم ہے اگر تم سمجھو 67۔ بات اس کے لیے مفید ہو سکتی ہے جو اس کے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور قسم سے مؤکد کی گئی بات اسی کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے جو ضڈ اور ہٹ دھرمی سے کام نہ لیتا ہے۔ وہ لوگ جو قرآن کریم کو ایک اختراعی اور گھڑی ہوئی بات کہتے ہیں اور لوگوں کے قِصّے اور کہانیاں قرار دیتے ہیں وہ محض ضد ہی سے تو ایسا کہہ رہے ہیں ان کے پاس اس کی کوئی دلیل تو موجود نہیں ہے۔ اس لیے { لوتعلمون } یہ جملہ معترضہ کے طور پر بیان ہوا ہے جو عظمت قسم کو ظاہر کررہا ہے اور { لو } استثنائی ہے یعنی کاش کہ تم بھی اس کی عظمت کو جانتے یا سمجھے ہوئے اور نہ سمجھنے والوں کے لیے اس طرح کے حرست و افسوس کے کلمات بہر حال کہے جاتے ہیں اور یہ بات بھی ہر زبان میں پائی جاتی ہے اور آگے وہ بات بیان کی جا رہی ہے جس کو مؤکد کرنے کے لیے یہ قسمیں کھائی گئی ہیں اور اس طرح کا اظہار کیا گال ہے۔
Ayah 56:77

اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 56:77 in the Quran reader

بلاشبہ یہ قرآن کریم ہے

بلاشبہ یہ قرآن کریم ہے 77 ۔ کلام جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کیا جا رہا ہے اس کا نام قرآن ہے { قران } ن مصدر ہے یعنی پڑھنا اور کسی دوسری آسمانی کتاب کا نام قرآن نہیں ہے۔ جس طرح جزء بول کر کل مراد لے لیا جاتا ہے جیسے گردن سے ذات انسانی اور اس طرح رکوع ‘ سجود ‘ قیام اور قرآن بول کر پوری نماز بھی مراد لے لی جاتی ہے قرآن کی وجہ تسمہ کیا ہے ؟ اس کے متعلق اختلافات ہیں اور اس میں متعدد اقوال ہیں کسی نے کہا کہ قرء کے معنی جمع کرنا ہے۔ قرآن کتب سابقہ الٰہیہ کے حاصل اور مجموعہ کا نام ہے ۔ امام راغب (رح) نے فرمایا کہ قرآن تمام علوم کا مجوعہ ہے اور بعض نے کہا کہ یہ سورتوں کا مجموعہ ہے اسی لیے قرآن ہے۔ بہر حال اکثر لوگوں نے اس کا مفہوم بیان کرتے وقت جمع کا مفہوم پیش نظر رکھا ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں یہ وجہ تسمیہ صحیح نہیں ہے اس لیے کہ قرآن کریم کا نام سب سے پہلے سورة مزمل میں آیا ہے جو ترتیب نزول کیا عتبار سے تیسری سورت ہے یا زیادہ سے زیادہ پانچویں۔ آپ کہہ سکتے ہیں اور اس وقت تک نہ تو یہ سورتوں کا مجموعہ تھا اور نہ ہی کتب سابقہ کا نچوڑ اور ملخص۔ ہمارے خیال میں قرآن کہنے کی وجہ قرأت اور تلاوت ہے۔ اللہ کی کتاب عموماً جہر کے ساتھ پڑھی جانے والی ہے۔ اگر آپ غور کریں گے تو معلوم ہوجائے گا کہ آیت { ان علما جمعہ و قرانہ } سے ویسے بھی صاف ظاہر ہے کہ جمع قرآن سے قرأت قرآن الگ چیز ہے۔ (معجم القرآن) قرآن کریم کا کچھ حصہ مکی ہے کچھ مدنی یعنی 19/30 مکی ہے اور 11/30 مدنی ہے جو آپ ﷺ کی آخر عمر تک نازل ہوتا رہا اس لیے ہمارے خیال میں وہ وضاحت صحیح نہیں ہے۔ قرآن کریم کا ذکر آگیا ہے تو اس ناطہ سے یہ بیان کرنا بھی درست ہوگا کہ قرآن کریم چونکہ مکمل درس حیات ہے اس لیے تمام ضروریات زندگی کو واضح طور پر بیان کرتا ہے۔ انسانی زندگی کی چند درچند شاخوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہم کو قرآنی مضامین کے تنوع کے آٹ مظاہر نظرآتے ہیں جو کتابیں انسانی دماغ کی زائیدہ ہیں خصوصاً وسطی دور کی کتابیں ان کی طرح فصل بندی اور تبیب قرآن کی نہیں ہے۔ قرآن کریم کا رنگ خطابی بھی ہے ‘ برہانی بھی ‘ جدلی بھی ہے آئینی بھی اور تشریعی بھی ہے اور واعظانہ بھی لیکن ہر رنگ دوسرے رنگ سے اور ہر بیان دوسرے بیان سے مخلوط ہے جس طرح انسان کی ضروریات مخلوط ہیں اور بغیر تجربہ و تحلیل کے ان کی باہم وابستگی کو جدا جدا نہیں کیا جاسکتا اس طرح قرآن کریم کا تنوع بیان بھی محتاج تفصیل و تحلیل ہے ہم تحلیل کے بعد آٹھ قسم کے مضامین قرآن کریم میں پاتے ہیں (1) عقائد یعنی توحید ذات وصفات ایمان بالرسالت و ملائیکہ والبعث بعد الموت وغیرہ۔ (2) دینی فرائض نماز ‘ روزہ ‘ جج ‘ زکوٰۃ وغیرہ (3) اخلاقی احکام صدق ‘ عدل ‘ اھسان ‘ جود ‘ عدمایذا وغیرہ۔ (4) دینی اور اخروی وعدوعید (5) قرآن کریم پیش کر کے دعوت مقابلہ و مناظر۔ (6) گزشتہ قصص و حکایات عبرت آفرین کے لیے۔ (7) وعظ و ارشاد ‘ دانش آفرین حکمت اور اقوام عروج زوال کے ضوابط۔ (8) آئینی و تشریعی اور تشریعات کے چار حصے ہیں : (1) سیاسی و نظمی جیسے حکام کی اطاعت ‘ عہد و میشاق کی پابندی وغیرہ۔ (2) ضوابط فوجداری ‘ حدود و قصاص وغیرہ۔ (3) تمدنی قوانین ‘ سود ‘ میراث ‘ دصیت قرض وغرتہ کی دستاویز۔ (4) جنگی ضوابط ‘ جنگ کی تیاری ‘ آلاتِ جنگ کی فراہمی ‘ فوجی اسرار کی رازداری ‘ صلح اور صلح کی پابندی ‘ قیدیوں کا معاملہ ’ جاسوسوں سے اختیاط ‘ دشمنوں سے موالات کی ممانعت۔ یاد رہے کہ قرآن کریم جس طرح ایک مجموع کا نام ہے اسی طرح اجزائے قرآن کو بھی اسی وقت قرآن کہہ سکتے ہیں اور نزول کے زمانہ میں تو جتنا حصہ نازل ہو چکتا تھا اس کو قرآن ہی کہا جاتا تھا پورے قرآن کے نزول کا انتظار بھی رکھا تھا۔ اب چونکہ پورا قرآن ہمارے ہاتھوں میں ہے اس لیے پوری کتاب کا نام قرآن ہے لیکن کل کا اطلاق جزء پر مجاز اً کیا جاسکتا ہے۔ مختصر یہ کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ قرآن کاہنوں کے قسم کا کوئی شیطانی القاء نہیں ہے اور نہ ہی اس طرح کا گمان کرنا جائز اور درست ہے۔
Ayah 56:78

فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍۙ Open ayah 56:78 in the Quran reader

جو لوح محفوظ میں محفوظ ہے

بلا شبہ وہ لوح محفوظ میں بھی محفوظ ہے 87۔ { المکنون } کا لفظ اس سورت کی آیت 32 میں بھی گزر چکا ہے۔ اسم مفعول واحد مذکر کن اور کنون مصدر۔ چھایا ہوا ‘ صاف ستھرا اور محفوظ جیسے کوئی چیز چھپا کر رکھی گئی ہو۔ { کتاب } ہر لکھی ہوئی چیز پر بولا جاتا ہے اور اسی طرح اللہ کی کتاب ‘ لوح محفوظ قرآن کریم۔ قرآن کریم کے علاوہ کتاب اس جگہ کے معنی لوح محفوظ کے ہیں یعنی آپ ﷺ کے سینہ مبارک پر اس کا نزول ہوا ہے اور لوح محفوظ میں بھی یہ قرآن کریم محفوظ ہے { لوح مخفوظ } وہی ہے جس کو دوسری جگہ { ام الکتاب } بھی کہا گیا ہے۔ حقیقت اس کی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ اس کی اصل حقیقت کو کھول کر سامنے رکھ دے اور قرآن کو گزشتہ آیت میں قرآن کریم کہا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ کریم اللہ تعالیٰ کا وصف ہے جس سے مراد اللہ تعالیٰ کا احسان و انعام ہے اور زیر نظر آیت میں وہ قرآن کا وصف بیان ہوا ہے اور قرآن اللہ کی کتاب یعنی کلام ہے اس لیے اس کے متعلق یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ ذریعہ انعام و احسان ہے اور لاریب یہ بات صحیح اور درست ہے کہ اللہ کا یہ کلام دنیا والوں کے لیے اس کا انعام و احسان ہی ہے اور دنیا کی ساری ترقیوں کا راز بھی اس کے اندر رہے چاہے کوئی اس بات کو تسلیم کرے یا نہ کرے۔
Ayah 56:79

لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ Open ayah 56:79 in the Quran reader

اس کو وہی چھوتے ہیں جو پاک (دل) ہیں

اس کو وہی لوگ چھوتے ہیں جو پاک ہیں 97۔ { المطھرون } اسم مفعول جمع مذکر مرفوع تطہیر مصدر وہ جن کو پاک کردیا گیا ہے ۔ پاک کیے ہوئے لوگ ۔ لا یمسہ ای لا یطلبہ اس کو نہیں چھوتے یعنی اس کی طلب نہیں رکھتے مگر وہ لوگ جن کو پاک کردیا گیا ہے یعنی جن کے دل پاک ہیں اور کفر و شرک کے قریب بھی نہیں بھٹکتے وہی اس کو طلب کرتے اور چاہتے ہیں۔ اس کو پسند کرتے ہیں۔ اس سے سند حاصل کرتے ہیں۔ اس کو طلب کرتے ہیں۔ قرآن کریم کو باوضو پڑھنا چاہئے۔ آیا بےوضو اس کو ہاتھ لگایا جاسکتا ہے یا پڑھا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ یہ سوال اس جگہ اٹھائے گئے ہیں اور پھر ان کے مختلف جواب بھی دیئے گئے ہیں اور اس پر بحس و کلام بھی کیا گیا ہے لیکن زیر نظر آیت ان میں سے کسی 8 چیز کی بھی متحمل نہیں ہے تاہم یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جن لوگوں نے بغیر وضو قرآن کریم کو پڑھنے یا اس کی کسی آیت کی تلاوت کرنے سے منع کیا ہے ان کے پاس کوئی اصل نہیں ہے اور جس طرح انھوں نے استدلال کیا ہے وہ طرق استدلال بھی صحیح نہیں ہے۔ ممانعت اور چیز ہے اور بہتر اور اولیٰ کا مفہوجم اور ہے ۔ ہم اس معاملہ میں صرف دو باتیں کریں گے اول یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر قل کو خط لکھا جس میں { یا اہل ال کتاب تعالوا } الخ (3 : 46) کی آیت لکھی تھی۔ کافر تھا اگر اور مشرق کو مصحف کو ہاتھ لگانا اور چھونا جائز نہ ہوتا تو آپ ﷺ یہ آیت کبھی ہر قل کو تحریر نہ کرتے کیونکہ جو حکم قرآن کریم ہے وہ حکم اس کی ہر آیت کے لیے ہے ۔ ہر آیت ظاہر ہے کہ ہر آیت قرآن کریم ہی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی زندگی کا معمول تھا جو تاحین حیات رہا کہ آپ ﷺ جب تجہد کے لیے اٹھتے تو سورة آل عمران کی آخری دس آیات کریمات تلاوت فرماتے اگر وضو کے بغیر قرآن کریم کی زبانی تلاوت جائز نہ ہوتی تو آپ ﷺ سو کر اٹھتے تو کبھی قرآن کریم کی آیات کی تلاوت نہ کرتے کیونکہ آپ ﷺ کے سینہ اقدس پر قرآن کریم نازل ہوا ہے اور آپ ﷺ اس کے حکم کے خلاف کبھی نہیں کرسکتے تھے اور یہ دونوں احادیث متعلق علیہ ہیں۔ قرآن کریم دراصل ایک قانون کی کتاب ہے جس کی ہر وقت اور ہر جگہ ضرورت ہے اس کو پیش کرنا ‘ اس سے استدلال کرنا ‘ اس کی تلاوت کرنا ‘ غیر مسلموں کو سمھانا ‘ بتانا سب جائز اور درست ہے فضائل میں کچھ کہا جائے وہ بات دوسری ہے لیکن اس طرح کے بین (Bane) جو قرآن کریم پر لگاگئے ہیں اس کے نتائج مثبت نہیں بلکہ منفی نکلیں گے۔ بچوں نے اس کو حفظ کرنا ہے ‘ بچیوں نے اس کو پڑھانا ہے ‘ اس کی منزل یاد کرنا ہے ‘ اس کو حکما پیش کرنا ہے اور سننا اور سنانا ہے ہر وقت کوئی شخص بھی باوضو رہے گا تو یہ بات تکلیف مالا یطاق میں آئے گی۔ صحیح بات یہی ہے کہ قرآن کریم میں کوئی شخص ردوبدل اور تغیر نہیں کرسکتا اور جو شخص اس سے حقیقت طلب کرے گا وہ یقینا پائے گا اور جو زائد باتوں میں الجھا رہے گا اس کو کچھ حاصل نہیں ہوگا ‘ جس طرح آج قوم مسلم کی حالت ہے۔
Ayah 56:80

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 56:80 in the Quran reader

وہ پروردگار عالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے

وہ پروردگارِ عالم کی طرف سے نازل کیا گیا ہے 08۔ مصدر بمعنی اسم مفول { تنزیل } بمعنی منزل ہے۔ وہ اللہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اس کی وضاحت آپ کو عروۃ الوثقی جلد ششم سورة الشعراء کی آیت 012 میں ملے گی۔ گزشتہ کتابوں کو جو مضامین اس میں آگئے ہی وہ بالکل صحیح اور درست ہیں ‘ جو اکام اس مین دیئے گئے ہیں ان کا بجا لانالازم و ضروری ہے اور جن باتوں سے اس نے روکا ہے ان سے رکنا ضروری ہے۔ جو باتیں دوسری آسمانی کتابوں میں ایسی ہیں جن کو قرآن کریم نے بیان نہیں کیا ان میں کس قدر تحریف ہوچکی ہے اس کوئی ضمانت نہیں ہے اور نہ ہی وہ قابل حجت ہیں۔ یہ اس طرح کی وحی نہیں ہے جس طرح کی وحی شیاطین اپنے ساتھیوں اور دوستوں کو کرتے ہیں۔ لاریب اس کا سرچشمہ لوح محفوظ ہے جس تک ملائکہ اعلیٰ کے سوا کسی کی بھی رسائی نہیں ہے اور اس کا نزول محمد رسول اللہ ﷺ کے دل پر ہوا ہے اور اس کا اثر بھی براہ راست دل ہی پر ہوتا ہے۔ یہ قانون کی کتاب ہے جس کو زندوں کے لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ وہ اس کے مطابق اعمال کرسکیں۔
Ayah 56:81

اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَۙ Open ayah 56:81 in the Quran reader

کیا اس کلام کے متعلق تم مداہنت سے کام لے رہے ہو ؟

کیا اس کلام کے بارے میں تم مداہنت سے کام لے رہے ہو ؟ 18۔ { مدہِنون } اسم فاعل جمع مذکر مرفوع ادھان مصدر باب افعال ، بےوقعت ‘ سرسری سمجھنے والے ‘ چکنی چپڑی باتیں بنانے والے ‘ مکھن لگانے والے۔ ادھان کے معنی ہیں کسی چیز کو بےوقعت ‘ ناقابل توجہ سمجھنا ، نری کرنا ‘ چکنی چپڑی باتیں بنانا۔ ایک شاعر نے کہا ہے کہ… پختہ دانش اور قوت بہتر ہے کسی چیز کو بےوقعت سمجھ ناقابل توجہ قرار دینے سے اور ضعف اور بزدلی سے اصل میں دھن تیل کو اور دھن تیل لگانے کو کہتے ہیں۔ تیل کی مالش کا استعمال اپنے حقیق معنی کے علاوہ دو مجازی معنی میں بھی ہوتا ہے (1) کسی چیز کا خفیف ‘ ہلکا اور تھوڑا سا استعمال جیسے دھن المطر الارض زمین کو بارش نے کس قدر گیلا کردیا یعنی زمین پر ایک ہلکا چھینٹا پڑگیا۔ (2) دھوکا دینا ، باتیں بنانا ‘ کسی کو مکھن لگانا اور آیت میں یہی معنی مراد ہیں۔ (راغب) مختصر مطلب یہ ہے کہ ” یہ قرآن کریم جو نہایت بزرگی والی کتاب ہے جس کو تمہارے پروردگار نے نہایت اہتمام کے ساتھ نازل کیا ہے اور جس کا مقصد وحید تمہاری ہدایت اور اصلاح ہے کیا تم اس سے بےا اعتنائی برت رہے ہو ؟ کیا تم اس قدر بد ذوق اور ناکرہ ہو کہ جو چیز تمہاری اصلاح ، تمہارے فائدہ کے لیے ہے اس کو ٹھکرا رہے ہو اور اس سے بےاعتنائی کر رہے ہو۔ اس سے زیادہ صاف اور ستھری بات تم کو کسی دوسری جگہ کب اور کہا ملے گی۔
Ayah 56:82

وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 56:82 in the Quran reader

اور (اس کی) تکذیب کو تم نے اپنا حصہ بنا لیا ہے

کیا اس کی تکذیب کو تم نے اپنا حصہ بنا لیا ہے ؟ 28۔ رزق کیا ہے رزق کبھی تو عطا جاری کو کہتے ہیں خوا دنیوی ‘ خواہ اخروی ‘ کبھی حصہ کو کہتے ہیں اور کبھی جو پیٹ میں پہنچ کر غزا بن جاتی ہے اس کو اب غور کرو اس جگہ کیا مراد ہے ؟ ہمارے خیال میں اس جگہ حصہ ہی مراد ہو سکتا ہے کیونکہ اس جگہ بطور سوال پوچھا جا رہا ہے کہ قرآن کریم جو سراسر رحمت خداوندی ہے اور اللہ کا انعام و احسان ہے کیا ؟ اس میں تمہارا حصہ یہی ہے کہ تم اس کو جھٹلاتے ہو مطلب یہ ہے کہ یہ روٹی اور کھانا تو تمہارے لیے پکایا گیا اور تیار کیا گیا تھا لیکن تم اس کے کھانے اور استعمال کرنا کرنے سے انکاری ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے حصہ میں اس کا جھٹلانا ہی آیا ہی اس کا کھانا اور استعمال کرنا نہیں آیا اور اب غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوگا کہ آج بد قسمتی سے یہی کچھ مسلماوں کے حصہ میں آیا ہے کیونکہ انھوں نے اس کو استعمال کرنے سے عملی طور پر مکمل انکار کردیا ہے۔ آج بد قسمتی سے قرآن کریم کے متعلق ہر طرح کی بحث اٹھائی جاتی ہے لیکن اگر اس سے استفادہ نہیں کیا جا رہا تو یہی نہیں کیا جا رہا کہ جس مقصد کے لیے اس کا نزول ہوا تھا اس کو مسلمانوں نے مکمل طور پر بھلا دیا۔ اس کا مقصد نزول کیا تھا ؟ یہی کہ { انتم الاعلون ان کنتم مومنین } (3 : 931) ” تم ہی سب سے سر بلند ہو اگر تم سچے مومن ہو ؟ “ قرآن کریم کو ماننے کا اگر وہ نتیجہ نہیں نکل رہا تو سمجھ لینا چاہئے کہ ہمارا ماننا صحیح نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ ماننے کا مطلب یہی ہے کہ اس کے مطابق عمل ہو اور ہمارے اعمال قرآن کریم کے مطابق نہیں کیونکہ ہم نے تو اس کو زندوں کے لیے سمجھا ہی نہیں اور عمل کرنا تو زندوں کا کام ہے نہ کہ مردوں کا اس لیے مسلمان تسلیم کریں یا نہ کریں بہر حال آج ان کے حصہ میں قرآن کریم کی تکذیب کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج قوم مسلم ہی وہ قوم ہے جو دنیا کی پست ترین قوم بن کر رہ گئی ہے۔
Ayah 56:83

فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ Open ayah 56:83 in the Quran reader

پس اب تمہاری (جان) حلق تک آپہنچتی ہے

پس جب تمہاری جان حلق تک آپہنچتی ہے 37۔ جان حلق کو پہنچانا یعنی موت کا وقت قریب آجانا۔ بلغتوہ پہنچتی ہے بلوغ سے ماضٰ کا صیغہ واحد مؤنث غائب مراد اس سے جان ہی ہے یعنی جب تمہاری جان حلق تک پہنچتی ہے تم مرنے کے قریب آجاتے ہو۔ یہ وقت کیا وقت ہی یہ وقت وہی جزا و سزا کے قریب آجانے کا ہے جس کو تم یا تو بالکل مانتے ہی نہ تھے یا مانتے بھی تھے تو ازراہ مذاق کیونکہ تم جو کھچ کر رہے تھے وہ نہایت آزادی کے ساتھ کر رہے تھے گویا تم کسی قانون کے پابند نہیں اور نہ ہی تم کو یہ دنیا چھوڑنا ہے اور نہ ہی اد زندگی کے متعلق تم سے کسی کسی نے کچھ پوچھنا اور استغسار کرنا ہے ۔ لیکن تمہارے اس مذاق اڑاتے اڑاتے وہ وقت آجاتا ہے جس کو موت کا وقت کہتے ہیں اور تمہاری جان ہنسلی تک پہنچ جاتی ہے اور ہر دیکھنے والا بھی اندازہ لگالیتا ہے کہ اب حضرت بس رخصت ہونے کو ہیں اور ابھی ان کے سارے مذاقوں کا نشہ اترنے ہی والا ہے اور جس چیز سے وہ انکار کرتے تھے وہ حقیقت ظاہر ہونے والی ہے اور جس مال و منال کو یہ اپنا سمجھتے تھے بس وہ دوسروں کا ہونے ہی والا ہے۔
Ayah 56:84

وَ اَنْتُمْ حِیْنَئِذٍ تَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 56:84 in the Quran reader

اور تم اس وقت دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ جاتے ہو

اور تم اس وقت دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ جاتے ہو 48۔ یہ خطاب ان لوگوں سے بھی ہو سکتا ہے جو موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں کہ جب تک وہ صحیح اور درست تھے وہ اس وقت کا مذاق ہی اڑایا کرتے تھے اور ان لوگوں سے بھی ہو سکتا ہے جو موت کی کشمکش میں مبتلا ہونے والے کے اردگرد بیٹھے ہیں اور مرنے والے کی اس حالت کو دیکھ رہے ہیں اور ان کا اس کے ساتھ جو رشتہ ہے اس کو ٹوٹتا ہوا وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور اس کو سارے اقارب اور عزیز و رشتہ دار نہ تو اس کے کچھ کام آرہے ہیں اور نہ ہی وہ ان کے روکے رُک رہا ہے بس بےبسی کے عالم میں وہ یعنی مرنے والا ان کو کو دیکھ رہا ہے اور یہ ارد گرف بیٹھنے والے اس کی حالت کو دیکھ رہے ہیں۔ غور کرو کہ کتنی صاف اور کھری بات جو قرآن کریم نے کہی ہے اور کسی طرح کا اس میں کوئی ابہام نہیں ہے اور ایسا نقشہ کھینچا ہے جس کو آپ نے اور میں نے کئی بار اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ جو لوگ اس جان کو اس جسم سے کوئی الگ چیز تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ان کو اس آیت پر غور کرنا چاہئے اور بار بار یہ سوچنا چاہئے کہ ان پر بھی یہ وقت یقینا آئے گا ‘ یہ حلق تک پہنچنے والی چیز کیا ہے اور جس کو تم نکلتے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو وہ کیا شے ہے ؟ کیا اس کے نکل جانے کے بعد اس ڈھانچے میں کوئی کمی اور کوئی تبدیلی واقع ہوئی ہے ؟ کیا اس کے اعضاء میں کوئی فرق آگیا ہے ؟ یہ تو تم خد بھی کہتے ہو کہ موت آئی ، وہ موت کیا ہے جو آئی ؟ اور یہ جو تم خود بھی کہتے ہو کہ اس کی جان نکل گئی وہ کیا شے ہے جو اس کے جسم سے نکل گئی اور کچھ نکلا نہیں تو تم آخر یہ جو نکل گئی کہہ رہے ہو سفید جھوٹ بول رہے ہو کہ نکلا وکلا تو اس سے کچھ بھی نہیں اور تم خواہ مخواہ یہ کہہ رہے ہو اور اللہ تعالیٰ غلط بیانی کر رہا ہے جو یہ کہہ رہا ہے کہ { بلغت الحلقوم } اگر نفس یہی ہے جو تمہارے سامنے پڑا ہے ‘ جان یہی ہے جو تمہارے سامنے ہے تو اس کو تم قبر میں رکھو گے یا اس کو جلا کر راکھ کر کے گنگا پر چڑھا دو گے۔ وہ نکلنے والی چیز کیا تھی ؟ اور وہ نکل کر کدھر گئی ؟ اگر آپ یہی سوال مجھ سے کریں گے تو میں بالکل صاف صاف کہوں گا کہ وہ ربِّ ذوالجلال والاکرام کی طرف لوٹ گئی۔ لاریب ہم نے اس کو نہ تو آتے دیکھا اور نہ جاتے کیونکہ وہ کوئی مرتی چیز نہیں تھی ‘ وہ امرالٰہی تھا اور ہم نے دیکھا کہ جس سے وہ رخصت ہوا وہ نہ تو حرکت کرسکا اور نہ کچھ کہہ سکا اور اس کے رخصت ہونے کے بعد وہ بالکل بےکار ہوگیا اور ہم نے بیکار سمجھ کر اس کو قبر کے سپرد کردیا اور یہ قبر میں رکھنا محض اس کا اکرام ہے جس کا ظاہر داری کے ساتھ اور ہماری زندگی کے ساتھ اس کا تعلق ہے مرنے والے کو اس طرح کچھ نفع اور نقصا نہیں ہے کیونکہ نفع و نقصان کی چیز وہی تھی جو ربِّ کریم کی طرف لوٹ گئی۔
Ayah 56:85

وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 56:85 in the Quran reader

اور ہم تمہاری نسبت زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم دیکھ نہیں سکتے

اور ہم تمہاری نسبت مرنے والے کو زیادہ قریب ہیں لیکن تم دیکھ نہیں سکتے 58۔ ہر انسان کے قریب جتنے عزیز و اقارت اور یہاں تک کہ خود اس کی اپنی ذات ہوتی ہے اس سے زیادہ قریب اللہ ربِّ کریم ہی ہوتا ہے کیونکہ وہی ان سب کا خالق ومالک ہے کوئی شخص اپنی ذات کا بھی مالک اور خالق نہیں ہے اور علاوہ ازیں بھی اگر غور کیا جائے تو اس کی دلیلیں بہت ہیں کہ انسان کی اپنی ذات سے بھی اللہ تعالیٰ زیادہ قریب ہوتا مثلاً اہر ایک انسان کے متعلق اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ اس کو کیا کچھ کرنا ہے اور اس کے ساتھ کیا کیا کچھ پیش آنے والا ہے لیکن کسی انسان کو بھی علم نہیں کہ کل یعنی ابھی آنے والے وقت میں اس کو اپنی ذات کے سات کیا کچھ ہونے والا ہے ؟ جو کچھ انسان کرلیتا ہے وہ اگر آج نہیں تو کل بھول سکتا ہے کہ میں نے کیا کیا ہے اور کیا کہا ہے لیکن اللہ تعالیٰ انسان کے ہر عمل ‘ فعل اور قول سے واقف ہے وہ کبھی کسی کے متعلق نہیں بھولتا اور نہ ہی بھول سکتا ہے ۔ انسان نہایت عزم و جزم کے ساتھ ایک پروگرام بناتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اس کے پروگرام کو اس طرح فنح کردیتا ہے کہ کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی اور اس کے پروگرام فنح ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ان باتوں سے یہ خوب اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ لاریب یہ بات صحیح ہے کہ انسان خود بھی اتنا اپنے قریب نہیں جتنا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اس کے قریب ہے پھر دوسروں کی تو بحث ہی ختم ہوجاتی ہے۔ زیر نظر آیت میں مرنے والے کے قریب بیٹھنے والوں ہی کو مخاط کر کے کہا جا رہا ہے کہ تم اس مرنے والے کے اتنے قرب نہیں ہوتے جتنے کہ ہم اس کے قریب ہوتے ہیں لیکن اس دنیا میں چونکہ ہم کسی کو دکھائی نہیں دے سکتے اس لیے تم بھی ہم کو نہیں دیکھ سکتے۔ اللہ کی ذات تو لطیف سے بھی لطیف ہے ‘ اس کے تو دکھائی دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن ہم میں سے تو کوئی شخص اس مرنے والے کی جسم سے جب روح جدا ہوتی ہے تو بھی اس روح کو کوئی نہیں دیکھ سکتا اور محض اس کے نہ دیکھنے ہی کے باعث بعض لوگ اس بات ہی سے انکار کر جاتے ہیں کہ روح بذاتہ کوئی چیز نہیں ہے جو اس جسد عضری سے الگ ہو ۔ لیکن ان سے کوئی اگر یہ پوچھ لے کہ اگر تم دیکھ کر ہی ہر ایک چیز کو مانتے اور تسلیم کرتے ہو تو اس طرح تو ہر انسان کو اس دنیا میں بیشمار چیزوں سے واسطہ پڑتا ہے لیکن جن سے اس کو واسطہ پڑتا ہے نہ تو وہ خود ان کو دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے کو وہ دکھا سکتا ہے ہاں ! وہ خود بھی جانتا ہے اور دوسروں کو بھی بتاتا ہے اور اس کے جاننے اور دوسروں کو بتانے ہی سے تعین کیا جاتا ہے کہ فی الواقع اس کو جس چیز سے سابقہ پڑا ہے وہ ایک چیز ہے اگرچہ نہ وہ خود دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی دوسروں کو دکھا سکتا ہے۔ محض اس کے کہنے اور بتانے ہی سے دوسرے یقین کرتے ہیں حالانکہ اس کے ایک طاقت اور قوت ہونے سے کسی کو بھی انکار نہیں ہے اور لاریب اس قوت کا تعلق بھی اس کی روح سے ہے نہ کہ براہ راست جسم سے۔ ہاں روح کے وساطہ سے جسم کے ساتھ تعلق ہونا ایک دوسری بات ہے۔ غور کریں کہ آپ کہتے ہیں کہ میرے بازو میں درد ہے لیکن اگر آپ سے مطالبہ کیا جائے کہ اس کو دکھائو تو یقینا آپ اس کو دکھا نہیں سکتے۔ آپ کہتے ہیں کہ مجھے سردی لگ رہی ہے لیکن آپ سے مطالبہ کیا جائے کہ دکھائو کہ کہاں سردی لگ رہی ہے تو کبھی آپ دکھا نہیں سکتے۔ اسی طرح غور کرتے جائو تو بیسیوں چیزیں ایسی نکل آئیں گی کہ محض آپ کے کہنے سے دوسرے یقین کریں گے لیکن آپ سے اگر کہا جائے کہ بعض چیزیں بغیر دیکھے بھی مانی جاتی ہیں اور ماننی پڑتی ہیں بلکہ ماننی چاہئیں تو آپ اس سے خواہ مخواہ انکار کردیتے ہیں۔ پھر تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ بات کہنے والا اللہ ربِّ کریم ہے نہ کہ کوئی دوسری ذات۔ اس کی مزید وضاحت ان شاء اللہ سورة قیامہ میں آئے گی اور سورة ق میں بھی پیچھے گزر چکی ہے وہاں سے ملاخطہ کرلیں۔
Ayah 56:86

فَلَوْ لَاۤ اِنْ كُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَۙ Open ayah 56:86 in the Quran reader

پھر اگر تم کسی کے قانون کے پابند نہیں ہو ؟

پھر کیا تم کسی قانون کے پابند نہیں ہو ؟ 68۔ { مدینین } اسم مفعول جمع مذکر مجرور۔ زیر حکم مسخر محکوم۔ کسی قانون کے پابند۔ یعنی اگر تم کسی کے زیر حکم اور مسخر نہیں ہو۔ (زجاج ( اگر تم کسی کے مملوک نہیں ہو۔ (لسان) دراصل اس کی اصل دی ن ہے اور دین کے معنی قانون کے صحیح اور درست ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس مرنے والے پر اللہ کا قانون وارد ہوچکا ہے اور اسی قانون کے مطابق اس کی جان نکالی جا رہی ہے اگر تم کو یہ بات صحیح اور درست نظر نہیں آتی اور تمہارا یقین اس پر نہیں ہے ، تم کسی کے ہاتھوں مجبور نہیں ہو پھر اس کو جانے کیوں دے رہے ہو ؟
Ayah 56:87

تَرْجِعُوْنَهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 56:87 in the Quran reader

تو اس (مرنے والے) کی روح کو کیوں نہیں لوٹا لیتے اگر تم سچے ہو ؟

تم اس کو لوٹا کیوں نہیں لیتے اگر تم سچے ہو ؟ 78۔ غور کرو کہ یہ کس کو لوٹائے جانے کا کہا جا رہا ہے اس مرنے والے کے جسم کو یا جان کو ؟ اگر جسم اور جان ایک ہی چیز ہیں تو جسم تو تمہاری آنکھوں کے سامنے پڑا ہے یہ تو کہیں گیا ہی نہیں اور نہ ہی کہیں جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کے جانے کا کوئی ارادہ ہے اس کو تو تم خود ہی کہیں لے جائو گے جدھر بھی لے جائو گے۔ اس کو ممی (Mumme) بنانا چاہتے ہو تو بنالو ‘ اس کو جلانا چاہتے ہو تو جلالو ‘ اس کو دفن کرنا چاہتے ہو تو کرلو ‘ اس کو بوٹی بوٹی اور بیرہ بیرہ کرنا چاہتے ہو تو کرلو یعنی اس کے ساتھ جو کچھ کرو گے خود ہی کرو گے یہ تو کہیں نھی نہیں جائے گا اور نہ ہی جاسکے گا پھر تم نے روکنا ہے تو کس کو اور تم سے اللہ ربِّ کریم جو کچھ کہہ رہا ہے کہ اگر تم کسی ضابطہ کے پابند نہیں ہو تو اس کو روک لو اگر تم روک سکتے ہو ؟ جب اس سے کچھ نکلا ہی نہیں تو اللہ تعالیٰ کا یہ کلام کیا آپ سے مذاق کر رہا ہے ؟ رُوح اگر جسم سے الگ کوئی چیز نہیں تو یہ کس کے روکنے کا آپ کو کہا جا رہا ہے اور تحدی اور چیلنج کیا جا رہا ہے کہ تم سب کے سب مل کر بھی اگر اس کو روکنا چاہو تو نہیں روک سکو گے اور تحدی اور چیلنج کیا ہے ؟ یہی کہ اگر تم نے اس جانے والی چیز کو روک لیا تو تم سچے اور اگر تم روک نہ سکے تو تم جھوٹے اور تم کتنے چالاک نکلے تم نے سرے سے کسی چیز کے جانے ہی سے انکار کردیا کہ کوئی چیز جاہی نہیں رہی تو ہم روکیں تو آخر کس کو ؟ اچھا اس طرح ایک تمہارا ارشاد ہے اور دوسری طرح اللہ کا کلام ‘ اب ہم سچ مانیں تو کس کو ؟ تمہاری بات کو کہ کوئی چیز جا ہی نہیں رہی یا اللہ کی بات کو کہ اس کو روک لو۔ { ترجعونھا } لاریب ہمارا تو ایمان بالغیب ہے کہ جسم سے الگ کوئی چیز ہے جس کو روح یا جان کہتے ہیں اور بعض اوقات قرآن کریم اس کو نفس سے بھی تعبیر کرتا ہے لیکن ہر جگہ نہیں بہر حال اس کو ہم اگرچہ سمجھ نہیں سکتے کہ یہ بات ہماری سمجھ میں آنے والی نہیں ہے اور بھی بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں اور مشاہدہ میں آنے والی نہیں ہیں لیکن ان کو مانتے ہیں اور ان کو ماننے پر مجبور محض ہیں کیونکہ ہمارے علم کی ان تک رسائی نہیں ہے اس طرح ہم اس کو بھی جانتے ہیں اور مانتے ہیں لیکن دیکھ نہیں سکتے اور نہ ہیں دکھا سکتے ہیں۔ ہمارا یمان محض بالغیب ہے اس لیے اس کو یعنی جان کو یا روح کو ہم جانتے ہیں کہ یہ جسم سے کوئی الگ چیز ہے اس کو روکنے کا کہا جا رہا ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ یہ امر الٰہی اور قانون خداوندی ہے اس کو ہم سب مل کر بھی روک نہیں سکتے اور نہ ہی کبھی روک سکیں گے وار نہ ہی انسان کے کنٹرول (Control) کی یہ چیز ہے۔ ہاں اس کو ماننا اور اس پر یقین لانا ضروری ہے اور وہ ہم مان رہے ہیں اور تسلیم کر رہے ہیں۔
Ayah 56:88

فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 56:88 in the Quran reader

پس ہاں ! اگر وہ (مرنے والا) مقرب بندوں میں سے ہے

پس ہاں ! اگر وہ یعنی مرنے والا مقرب بندوں میں سے ہے 88۔ اس سورت کے شروع میں آپ تفصیل کے ساتھ پڑھ چکے ہیں ‘ سن چکے ہیں ‘ دیکھ چکے ہیں ‘ کہ سارے مرنے والے انسانوں کو جتنے گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے ایک گروہ کو { مقربین } اور { اولین } کے نام سے یاد کیا گیا ہے دوسرے گروہ کو { اصحاب الیمین } سے اور تیسرے گروہ کو { اصحاب الشمال } سے گویا آدم (علیہ السلام) سے لے کرتا قیامت جتنے لوگ اس دنیا میں آئے ‘ آرہے ہیں اور آئیں گے سب کو ان تین بڑے گروپوں میں تقسیم کیا جائے گا اور ان تینوں گروہوں کی تفصیل بھی پیچھے گزر چکی ہے۔ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آنے والا ہے اس کا ذکر بھی آپ پڑھ چکے ہیں ۔ اب موت کے ذکر کی بعد ان تینوں کا اختصار کے ساتھ دوبارہ ذکر کیا جا رہا ہے۔ تاکہ تم کو اس بات کا یقین آجائے کہ ہر ذی نفس جو مکلف ہے اس کے مرنے کی بعد جس چیز سے اس کو سابقہ پڑے گا اس کی وضاحت کی جائے اور تم پر ثابت کر دیاجائے کہ ہر ایک کے لیے موت ہے خواہ ان تین گروہوں میں سے کسی گروہ سے بھی اس کا تعلق ہو موت سے تو کسی کو بھی مفر نہیں ہے لیکن ہاں ! موت کے بعد جو کچھ ان کو پیش آنے والا ہے اس میں زمین و آسمان سے بھی زیادہ فرق ہے اس کو اچھی طرح کان کھول کر سن لو اور اپنے بارے میں آپ ہی فیصلہ کرلو کہ تم کس گروہ میں جانا چانتے ہو لیکن اس فیصلہ کا تعلق تمہارے اعمال سے ہے نہ کہ خالی اعلان سے کیونکہ ان میں داخل ہونے والوں کے لیے اعمال ضروری نہیں ہیں۔ مقربین کی تفصیل تم پیچھے پڑھ چکے ہو پھر ایک بار نظر دوڑائو اور خوب سن لو کہ اگر مرنے والے کا تعلق مقربین سے ہوا تو اس کے لیے کیا ہوگا۔
Ayah 56:89

فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ١ۙ۬ وَّ جَنَّتُ نَعِیْمٍ Open ayah 56:89 in the Quran reader

اس کے لیے تو آرام اور آسائش مقدر ہے اور نعمتوں والی جنت بھی

اس کے لیے تو آرام و آسائش مقرر ہے اور نعمتوں والی جنت میں 98 ہم نے اوپر وضاحت سے عرض کردیا ہے کہ یہاں پہنچ کر دو گروہ جاتے ہیں ایک جسم اور جان یا روح کو دو الگ الگ چیزیں مانتے ہیں اور ایک گروہ جسم و جان یا روح کو ایک ہی چیز تصور کرتا ہے تاہم اوپر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے ہم اس گروہ میں شامل ہیں جو جسم و جان یا روح کو الگ الگ دو چیزیں تسلیم کرتا ہے اس لیے ہم پورے ایمان و ایقان سے کہتے ہیں کہ جان نکلتے ہی اس کو ربِّ کریم کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے اور جسم انسانوں کے پاس رہ جاتا ہے اس جسم کے ساتھ انسان اپنے رسم و رواج کے ساتھ جو کچھ بھی کرتے ہیں سب پر روشن ہے اور جان کا تعلق اگر اس نے نیک اور صالح جسم کو چھوڑا ہے تو عالم بالا میں مقام علیین میں اس کو ٹھہرایا جاتا ہے اور اگر اس کا تعلق کسی برے اور بد جسم کے ساتھ تھا تو اس کو مقام سجیین مہیا کیا جاتا ہے۔ قیامت تک ان کو انہی دونوں مقامات پر رہنا ہے ہاں نیک اور صالح جسموں سے الگ ہونے والی ارواح کا تعلق جنت کے ساتھ برے جسموں سے الگ رہنے والی ارواح کا تعلق دوزخ کے عذاب سے جو ڑدیا جاتا ہے حقیقت اس کی اللہ جانتا ہے کیونکہ یہ عالم غیب کا مسئلہ ہے عالم شہود کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں اور یہ محض اس لیے کہا جا رہا ہے تاکہ دونوں قسم کی ارواح اپنے اپنے مقام کو اچھی طرح جان لیں اور سمجھ لیں کہ انجام کار ان کا سابقہ کس جگہ سے پڑنے والا ہے اور اس سے خوف کھا کر جو اپنی اصلاح چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے خیال میں مداخلت بیجا ہے کیونکہ اس جگہ مقام بحث نہیں مجض مقام تفہیم ہے اور جس طرح کسی کی ہوجائے اس کو مبارک ہے ۔ رُح اور ریحان سے مراد راحت و آرام ہی یعنی عالم دنیا سے رخصت ہوتے ہی جب عالم آخرت کے ساتھ اس کا تعلق قائم ہوگیا تو نعمتوں والی جنت سے ان کا رابطہ بھی قائم کردیا گیا ۔ آپ اس کو اس طرح سمجھ لیں کہ وہ شخص جو کسی ایسے عہدہ پر فاز نہ ہو لیکن کسی ایسے عہدہ پر فائز ہونے والے اس کے تعلقات ہوں تو اس کو ان تعلقات سے بھی کوئی خوشی ملتی ہے یا نہیں اور اس طرح ایک شخص کسی مصیبت اور دکھ میں براہ راست تو مبتلا نہیں ہوا لیکن اس سے کوئی خاص تعلق رکھنے والا اگر کسی مصیبت اور دکھ میں مبتلا ہوجائے تو آیا اس کو بھی اس سے کچھ حصہ فطری طور پر مل جاتا ہے یا نہیں۔ دونوں صورتوں میں آپ کا جواب یقینا ہاں ہی ہو سکتا ہے لاریب جو کچھ کیا وہ جسم و جان دونوں نے مل کر کیا ان میں سے کسی ایک نے فقط نہیں کیا لیکن دونوں اپنی اپنی جفہ مجرم و ملزم یا خوشی و مسرت میں ہیں۔ جسم کو موت آگئی اور روح کو موت نہیں ہے جو لوگ تسلیم کرتے ہیں ان کو حق ہے کہ وہ روح کے متعلق جس طرح کے جسم سے وہ جدا ہوئی ہے اس کا تصور قائم کریں اور جو دونوں کی موت کے قائل ہیں ان کا معاملہ ان کے ساتھ ہے اس لیے ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ جو مقربین کی روحیں ہیں ان کا رابطہ مرتے ہی جنت کے ساتھ قائم ہوجاتا ہے اور زیر نظر آیت میں یہی بات ارشاد فرمائی جا رہی ہے اور وضاحت اس کے پیچھے گزشتہ آیات میں ہم کر آئے ہیں اس لیے اس جگہ اشارہ ہی سے بات کہہ رہے ہیں اور جنت کے آرام و آسائش کو دیکھ کر وہ بحمداللہ خوش و خرم ہیں اور وہ کبھی دنیا میں واپسی کا سوچ بھی نہیں سکتیں۔
Ayah 56:90

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِۙ Open ayah 56:90 in the Quran reader

اور اگر وہ اصحاب یمین میں سے ہے

اگر وہ { اصحاب الیمین } میں سے ہیں 09 ۔ مقربین و سابقی کے بعد { اصحاب الشمال } کی بات سنائی جا رہی ہے اور ان کو جو کچھ جنت میں انعامات دیئے جائیں گے ان کی تفصیل آپ پیچھے بھی پڑھتے آرہے ہیں اور اس سورت کی آیت 72 تا 04 بھی ان ہی کے انعامات و اکرامات کا ذکر گزر چکا ہے اس جگہ تو ان کے اس دنیا سے رخصت ہوتے ہی جو مقام ان کی ارواح کو میسر آئے گا اس کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ جونہی وہ رب کریم کی طرف مراجعت کریں گے تو جاتے ہی ان پر سلامتی کی صدائیں شروع ہوجائیں گی اور فرشتے مبارکبادیاں پیش کریں گے اور عین ممکن ہے کہ ان سے پہلے جانے والوں کی ارواح بھی ان میں شامل ہوں جو ان کو اہلا سھلامرحبا کہیں گے۔ ان کے مقامات اگرچہ مقربین و سابقین سے درجہ میں کم ہوں گے لیکن بحمداللہ ساتھ دونوں کا ایک ساتھ ہی ہوگا جس میں قرب کے باعث آمدرورفت جاری رہے گی۔
Ayah 56:91

فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:91 in the Quran reader

تیرے لیے سلامتی اور امن ہے کہ تو دا ہنی (طرف) والوں سے ہے

تیرے لیے سلامتی اور امن ہے کہ تو داہنی طرف والوں سے ہو گا 19۔ یہ فرشتوں اور دوسری نیک ارواح کی طرف سے جو اہلا سہلا مرحبا کی صدائیں بلند ہوں گی ان کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ ان کو مخاطب کر کے کہا جائے گا اے اہل یمین تمہارے لیے سلامتی ہی سلامتی ہے۔ یہ گویا اختصار ہے اہل یمین کے انعامات و احسانات کا جن کا ذکر پیچھے اسی سورت کی آیات 72 تا 04 میں گزر چکا ہے اور جن کا ماحصل سلامتی ہی سلامتی ہے کہ اس میں سب کچھ داخل ہے اور یہ بھی کہ وہانعامات تو ان کو جنت میں ملیں گے جب میدان حشر میں فیصلہ کے بعد براہ راست سیدھا جنت میں داخلہ ہوگا اس وقت تو سلامتی کی خوشخبری پیش کی جا رہی ہے تاکہ پھول اپنی خوشبو سے پہچانا جاسکے اور لاریب یہ خوشخبری بھی اپنی جگہ بہت بڑی اہمیت رکھیتی ہے کہ نتیجہ (Result) آئوٹ ہونے سے قبل نتہجا معلوم ہوجائے تو اس کی خوشی سے کون انکار کرسکتا ہے۔