Ayah 42:49آسمانوں اور زمین کی بادشاہی مالک الملک ہی کے لیے سزاوار ہے
49 ؎ حقیقت اپنی جگہ حقیقت ہوتی ہے وہ کسی کے ماننے کی محتاج نہیں ہے۔ قرآن کریم نے بار بار یہ نظریہ و عقیدہ انسانوں کو دیا ہے کہ جو کچھ آسمانوں ، زمین اور ان دونوں کے مابین ہے اس کی اصل ملکیت اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کی ہے لیکن جو لوگ عارضی طور پر اس زمین کے کچھ حصہ کے مالک قرار دیئے گئے ہیں وہ اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہیں اس لیے اس زمین میں بڑے بڑے بادشاہ ، جبار اور سردار پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنے اپنے وقت میں اپنی بادشاہی ، اپنی جباری اور سرداری کی ڈینگیں ماریں لیکن آخر ان کی یہ ڈینگیں کب تک چلتی رہیں ؟ ان کے اس طرح آنے جانے نے بھی لوگوں پر ثابت کردیا کہ کوئی شخص ان آسمانوں اور زمین کا اصل مالک نہیں ہے اور نہ ہی ان کے کسی حصہ کا اصل مالک ہے بلکہ مالک ہر شئے کا اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ومالک ہے ، جس کی ملکیت آج تک نہ بدلی اور نہ ہی اس کے بدلنے کا کوئی امکان ہے۔ اس نے جو چاہا پیدا کردیا اور جو چاہتا ہے پیدا کردیتا ہے اور جو چاہے گا پیدا کرتا رہے گا انسانوں کو جن چیزوں پر ناز ہے یہ سب کچھ بشمول انسانوں کے اس اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کی تخلیق ہے اور وہی ہے کہ جس کو چاہتا ہے یہاں سے لے جاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے لے آتا ہے اور اس لانے اور لے جانے کے بارے میں بھی وہی اور صرف وہی مختار کل ہے اور اس کی قدرت کی یہ نشانی ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق لڑکے عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے لڑکیاں اور جس کو چاہتا ہے دونوں ذکور و اناث ملا جلا کردیتا ہے اور اس کے قبضہء قدرت میں ہے کہ جس کو چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق بانجھ کردیتا ہے کہ نہ لڑکی عطا کرتا ہے اور نہ لڑکا اور اس طرح کسی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں کہ جو اس کی چاہت ہو وہی اس کو ملے اور جو اس کی چاہت نہہو وہ اس کو نہ ملے۔ غور کیجئے کہ زمانہ ترقی کرتے کرتے کہاں سے کہاں پہنچ گیا لیکن جو اعلان قرآن کریم نے کیا اس میں کوئی تبدیلی آئی ؟ تجربات انسان کرتا آیا ہے ، کر رہا ہے اور کرتا رہے گا جو چیزیں تجربات سے حاصل ہو سکتی ہیں ہو رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی لیکنجن چیزوں میں انسان تجربہ نہیں کرسکتا قرآن کریم نے ان کو تحدی سے بیان کردیا ہے اور کہہ دیا ہے کہ یہ بات کسی بھی انسان کے اختیار میں نہیں دی گئی ان کے متعلق آج تک کوئی تجربہ کامیاب نہیں ہوا اور نہ ہی کبھی ہوگا۔ حمل رہ گیا یا نہیں یہ انسان معلوم کرسکتا تھا ، حمل رہ جانے کے بعد انسان معلوم کرسکتا ہے کہ اس بار جو حمل رہا اس میں مذکر (Male) آئے گا مونث (Female) ؟ قرآن کریم نے نہیں فرمایا کہ یہ باتیں کوئی معلوم نہیں کرسکتا لیکن یہ نہیں معلوم کیا جاسکتا کہ ” I “ سے صرف لڑکے ہی پیدا ہوں گے کوئی لڑکی نہیں پیدا ہوگی یا یہ کہ لڑکیاں ہی یدا ہوں گی کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوگا یا دونوں طرح کی اولادیں ہوں گی اور اتنی ہوں گی ان میں اتنے لڑکے ہوں گے اور اتنی لڑکیاں یا یہ کہ اس کے ہاں کچھ بھی نہیں ہوگا یا دونوں طرح کی اولادیں ہوں گی اور اتنی ہوں گی ان میں اتنے لڑکے ہوں گے اور اتنی لڑکیاں یا یہ کہ اس کے ہاں کچھ بھی پیدا نہیں ہوگا۔ یہ پیدا ہونے والا لڑکا یا لڑکی اتنی مدت زندہ رہ سکیں گے اس سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتے اور فلاں مرے گا تو کس جگہ اور کس سرزمین میں مرے گا اس نوزائیدہ کو کیا کیا حالات زندگی سے گزرنا ہوگا اور یہ اور اس طرح کی بیسیوں سے بھی زیادہ سوالات ہیں جن کا جواب نہ تو انسان دے سکا اور نہ ہی کبھی دے سکے گا پھر بھی انسان اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار کرے تو کرتا رہے وہ یقینا اپنے انجام کو پہنچ کر رہے گا اور اس سے اس کی بازپرس ہوگی اور اس کے اعمال کے نتائج سے اس کو دوچار ہونا پڑے گا اور یہ بھی کہ اس کے برے اعمال کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس کے اچھے اعمال کا برا نتیجہ کبھی اس کو مل سکتا ہے۔ خیال رہے کہ جو چیزیں انسان کے علم میں ہیں دی گئیں وہ کسی انسان کے علم میں بھی نہیں دی جاسکتی تھیں اور نہ ہی کبھی دی جائیں گی۔ اس لیے جو لوگ ایسی باتوں کو نبیوں ، ولیوں ، بزرگوں ، جنوں ، فرشتوں وغیرہ کے ذمہ لگا کر یہ کہتے ہیں کہ فلاں جانتا ہے یا اس کو اس کا علم دیا گیا ہے انہی لوگوں کو قرآن کریم کی زبان میں مشرک کہا گیا ہے۔ گویا ان چیزوں کے جان لینے کے بارے میں کسی انسان بلکہ کسی مخلوق کی طرف بھی نسب کرنا درست نہیں ہے اور نہ انسانی دماغ ان سوالوں کے جواب کا متحمل ہے خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو اور کہاں ہو۔
Ayah 42:50جس کو چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے
50 ؎ اللہ تعالیٰ کا چاہنا کیا ہے ؟ وہی جو اس نے کسی چیز کے لیے قانون بنا دیا ہے وہی اس کی چاہت ہے کیونکہ اس کا مخلوق میں سے نہ تو کوئی مشیر ہے اور نہ ہی اس میں کوئی اس کا شریک ہے لہٰذا اس نے جو چاہا اس کا اپنی مرضی و رضا سے ایک ضابطہ مقرر کردیا اور پھر اسی ضابطہ کا اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ اعلان کروا دیا اس کو کہیں سنت اللہ کا نام دیا کہیں وعدہ کا لفظ استعمال فرمایا اور کسی جگہ اسی سنت اللہ اور وعدہ کے لفظ کو { مایشاء } کے الفاظ سے تعبیر فرمایا اور پھر سنت اللہ کی وضاحت یوں فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی سنت کبھی بدلا نہیں کرتی اور یہی بات وعدہ کے متعلق بیان فرمائی کہ اللہ کا وعدہ کبھی خطا نہیں ہوتا نہ وہ خلاف کرتا ہے اور نہ وعدہ خلافی ہونے دیتا ہے اور یہی بات { من یشاء ماشاء اللہ۔ ان شاء اللہ۔ مایشاء } کے الفاظ سے ظاہر کی گئی لیکن بدقسمتی سے ہمارے مذہبی راہنماؤں نے اس کا مفہوم بالکل اس کے برعکس سمجھا۔ ان کا واسطہ ان دنیا کے بادشاہوں ، دولت مندوں اور سرداروں سے جب پڑا تو انہوں نے دیکھا کہ یہ لوگ آج ایک بات کرتے ہیں اور کل اس کے خلاف کہہ دیتے ہیں اور کوئی ان کو کچھ نہیں کہتا یا کچھ نہیں کہہ سکتا جو انہوں نے کل کرنے کو کہا تھا آج نہیں کر رہے اور جو نہ کرنے کا اعلان کیا تھا آج وہ سب کچھ کر رہے ہیں تو ایسا کیوں ہے ؟ اس لیے وہ بادشاہ ، حکمران اور دولت مند ہیں اس لیے جو انہوں نے پہلے کیا تھا وہ بھی ان کی مرضی تھی ، جو بعد میں کیا ہے وہ بھی ان ہی کی مرضی ہے اور کوئی ان کو پوچھ نہیں سکتا اور انہوں نے اس تجربہ کو اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے پسند کرلیا کہ اللہ نے ایک بات فرمائی اور پھر دوسرے وقت کوئی اور بات فرما دی جو بالکل اس کے برعکس تھی تو اس سے کون پوچھ سکتا ہے کہ تم نے ایسا کیوں کیا ؟ وہ یہ نہ سمجھے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کا خلاف کرنا اور اپنی کہی ہوئی بات کے برعکس کچھ کہنا اپنی ذات کے لیے منع کیا ہے تو وہ کبھی ایسا نہیں کرتا اگر کہیں ایسا نظر آیا ہے تو یہ ان کی سمجھ کی غلطی ہے اور انہوں نے اپنی غلطی کو اللہ کے ذمہ لگا دیا جو غلطی پر مزید غلطی ہے اور { ماشاء } کے الفاظ کا مفہوم انہوں نے صحیح نہیں سمجھا اور جب تک خالق اور مخلوق کا فرق اچھی طرح ذہن نشین نہ کیا جائے اس وقت تک ایسی غلطیاں ہوتے رہنے کا امکان ہے پھر ملائیت نے نسلاً بعد نسل جو سمجھا ہے اس کو پڑھتے پڑھاتے چلے آ رہے ہیں اس لیے یہ نسلاً بعد نسلٍ پڑھا ہوا ان کے ذہنوں میں راسخ ہوچکا ہے جس کا نکالنا اب اتنا آسان بھی نہیں ہے اس لیے اپنی تفہیم کے خلاف وہ سوچنے کے لیے کبھی تیار ہی نہیں ہو سکتے حالانکہ { انہ علیمٌ قدیرٌ} کے الفاظ نے اس کی پوری وضاحت کردی کہ وہ ہر ایک چیز کا صیح علم رکھنے والا اور مکمل اندازہ کرنے والا ہے کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔
Ayah 42:51کسی انسان سے اللہ تعالیٰ رو در رو بات نہیں کرتا خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو اور کہاں ہو
51 ؎ رو در رو بات کرنا کیا ہے ؟ یہی کہ دو انسان آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے جس طرح بات کی جاتی ہے کریں ، کیوں ؟ اس لیے کہ انسان کی مرئی آنکھ اس کی متحمل ہی نہیں کہ وہ ذات خداوندی کو ان ظاہری آنکھوں سے دیکھ سکے خواہ وہ آنکھ کسی رسول اور نبی کی ہو اور خواہ وہ کسی دوسرے ولی و بزرگ کی اور اس کی وضاحت قرآن کریم کے دو لفظوں میں کردی گئی کہ { لا تدرکہ الابصار } کہ کوئی آنکھ اس کو دیکھ نہیں سکتی۔ اس کے باوجود یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ انبیاء و رسول کا وہ راز ہے جو عام انسان اور نبی و رسول کے درمیان خط امتیاز ہے پھر وہ شخص جو غیر نبی اور غیر رسول ہے وہ اس کی حقیقت کو تو پاہی نہیں سکتا البتہ اس کی وضاحت یہی ہے کہ انبیاء و رسول نے بھی کلام سنا ہے لکین کلام کرنے والے کو نہیں دیکھا اور اس لیے اس کو اللہ کا کلام کہا گیا ہے۔ اس کے بیان کرنے کی ضرورت یہ ہوئی کہ کفار کی طرف سے ہمیشہ یہ سوال اٹھایا گیا کہ وجہ کیا ہے کہ اللہ نبی و رسول سے بات کرتا ہے اور ہمارے رو در رو ہم سے بات کیوں نہیں کرتا ؟ زیرنظر آیت میں اس بات کی وضاحت کی جا رہی ہے کہ کفار کو یہ اعتراض ہے کہ اللہ ہم سے کیوں کلام نہیں کرتا اور وہ برملا یہ کہتے ہیں کہ { لو لا یکلمنا اللہ } تو ان کے ایسے سوالوں کا ان کو جواب دیا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان سے بھی رو در رو بات نہیں کرتا حتیٰ کہ وہ جب اپنے نبیوں اور رسولوں سے بات کرتا ہے تو بھی ایک خاص قسم کے اشارہ ہی سیبات ہوتی ہے جو نبی و رسول سمجھتا ہے اور اشارہ کرنے والا یعنی اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے۔ کسی دوسرے پر یہ بات واضح نہیں ہوتی اور کوئی بھی نبی اس حقیقت سے روشناس نہیں ہے اسی لیے اس کو ” وحی “ سے تعبیر کیا گیا ہے اور وحی کی حقیقت سمجھنے کے لیے اس مقدمہ کا سمجھنا ضروری ہے کہ وہ علوم انسانی سے ایک ماوراء چیز ہے اور جب تک یہی معلوم نہ ہو کہ علوم انسانی کے ماخذ کیا ہے جو چیز علم انسانی سے ماوراء ہے اس کو کیسے سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ کیا ہوگی ؟
علم انسانی کا ماخذ کیا ہے ؟
سمجھ لینا چاہئے کہ علم انسانی کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو بلاوساطہ ہوتا ہے اور دوسرا وہ کسی واسطہ سے حاصل ہوتا ہے۔ اب وہ علم جو بلاواسطہ حاصل ہوتا ہے اس کی تین اقسام بیان کی جاتی ہیں۔ 1۔ وجدان۔ 2۔ فطرت۔ 3۔ ہدایت اولیہ۔
وجدان کیا ہے ؟ انسان کو اپنے جسمانی وجود اور اس جسمانی وجود کی اندرونی کیفیات کا علم سب سے زیادہ یقیی طور سے ہوتا ہے۔ ہر شخص کو اپنے وجود کا یقین ہے اور اس کے اندر بھوک ، پیاس ، بیماری ، صحت ، غم ، خوشی ، خوف وغیرہ اندرونی تغیرات کا علم اس کو بلاواسطہ از خود ہوجاتا ہے اور اسی کا نام وجدان ہے۔
فطرت کیا ہے ؟ بلاشبہ ہر نوع کی مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ ایسی خصوصیتیں عطا ہوئی ہیں جو دوسری نوعوں میں نہیں پائی جاتیں اور انہی سے باہم نوعوں کا اختلاف اور امتیاز ظاہر ہوتا ہے۔ ان نوعی خصوصیتوں کا علم ہر نوع کے افراد کو بلا کسی ذریعہ اور واسطہ کے از خود ہوتا ہے اور اسی کو علماء کی اصطلاح میں فطری یا نوعی الہام اور اہل فلسفہ کی اصطلاح میں ” جبلت “ کہتے ہیں۔ حیوانات کو اپنے متعلق بہت سی باتوں کا علم از خود فطرتاً ہوتا ہے۔ غور کرو کہ پرندوں کے بچوں کو دانہ چگنا اور اڑنا کون سکھاتا ہے۔ آبی جانوروں کو تیرنے کی تعلیم کون دیتا ہے ؟ شیر کے بچہ کو درندگی کا سبق کس معلم نے پڑھایا۔ انسان کے بچہ کو پیدا ہوتے ہی رونا ، سونا ، دودھ پینا کون سکھا دیتا ہے ؟ بلاشبہ یہ جو کچھ ہے سب فطری طور پر ہے اس لیے اس کو فطرت یا جبلت سے تعبیر کرتے ہیں۔
ہدایت اولیہ کیا ہے ؟ انسان کو کچھ تمیز آنے کے بعد بلادلیل بعض ایسی باتیں از خود یا بادنیٰ تامل اس طرح معلوم ہوجاتی ہیں کہ ان میں پھر کسی قسم کا شک و شبہ راہ نہیں پاتا جیسے دو اور دو چار ہوتے ہیں۔ برابر کا برابر ہوتا ہے۔ ایک ہی وقت میں ایک چیز سیاہ اور سفدی نہیں ہو سکتی۔ ہر نئی چیز کا کوئی بنانے والا ہوتا ہے ، اسی طرح غورو فکر کرتے جاؤ تو کتیت ہی چیزیں ہیں جو ہدایت اولیہ میں بیان کی جاسکتی ہیں۔
علم انسانی کی وہ قسمیں جن کا علم اس کو کسی واسطہ سے ہوتا ہے وہ واسطہ کیا ہے ؟ بلاشبہ وہ واسطہ احساس اور عقل ہے۔ احساس کیا ہے ؟ احساس یہ ہے کہ انسان اپنے گرد و پیش کی ساری چیزوں کو محسوس کرتا ہے جس کے لیے کسی خارجی علم کی ضرورت نہیں ہوتی ان کا خون بخود احساس پیدا ہوجاتا ہے۔ عقل کیا ہے ؟ عقل کا تقاضا ہے کہ جو چیزیں مادی طور پر سامنے نہیں ہیں ان کا علم حاصل کر کے ان کو سامنے لایا جائے یا ان پر یقین کیا جائے اور اسی کو عقل کا تقاضا کہتے ہیں اور پھر اسی عقلی علم کی دو اقسام بیان کی گئی ہیں :
ایک وہ جو انسان کے جسم کے اندر جسمانی قوتیں ہیں جیسے باصرہ ، سامعہ ، شامہ ، ذائقہ اور لامسہ۔ باصرہ کا کام دیکمنا ، سامعہ کا سننا ، شامہ کا سونگھنا ، ذائقہ کا چکھنا اور لامسہ کا چھوٹا اور انہی کا نام حواس خمسہ رکھا گیا اور یہی پانچ آلات انسان کے پاس ہیں جن کے ذریعہ سے وہ ان ساری چیزوں کے متعلق علم حاصل کرتا ہے اور اسی کا نام احساس ہے۔ ہم چکھ کر مزہ پاتے ہیں سن کر آواز پہچانتے ہیں۔ دیکھ کر صورت جانتے ہیں۔ چھو کر سختی و نرمی محسوس کرتے ہیں ، سونگھ کر بُو معلوم کرتے ہیں۔ ان حواس کے ذریعہ سے جو علم ہم کو حاصل ہوتا ہے وہ کسی حد تک یقینی ہوتا ہے اور شاذ و نادر غلط بھی جس کی وضاحت بہت لمبی ہے۔ مثلاً کسی بیماری کے باعث قوت ذائقہ متاثر ہوگئی تو اس نے ایک مزہ دار چیز کو بدمزہ کردیا اور میٹھی کو کڑوی۔ تیز رفتاری کے باعث باصرہ متاثر ہوئی اور اس نے ایک جامد چیز کو ہمارے سامنے متحرک کردیا اور متحرک کو جامد بنا کر رکھ دیا جیسے تیز ریل گاڑی میں زمین اور درخت چلتے نظر آنے لگتے ہیں اور ریل جو متحرک ہے وہ ساکن دکھائی دینے لگی۔ متحرک چنگاری کا نقطہ تیز سدھی حرکت میں ہم کو ایک آتشیں خط دکھائی دیا اور گول حرکت میں ایک آتشیں دائرہ۔ اسی طرح آسمان کے چمکتے ہوئے ستارے بہت چھوٹے نظر آتے ہیں حالانکہ یہ محض دوری کی وجہ سے ہوا۔
علم بالواسطہ کی دوسری قسم وہ ہے جس کو عقل و قیاس ، غورو فکر اور استدلال کے ذریعہ سے حاصل کرتے ہیں اور اس کی بنیاد دراصل ان ہی معلومات پر ہوتی ہے جن کا علم ہم کو وجدان ، فطرت اور ہدایت اولیہ سے حاصل ہوا تھا کیونکہ انہی معلوم شدہ امور پر غیر معلوم شدہ امور کو تمثیل یا استقرار کے ذریعہ سے قیاس کر کے ان معلوم شدہ امور کی خصوصیات اور آثار کا حکم ان غیر معلوم لکین مشابہ یہ مماثل امور پر لگا کر نیا نتیجہ حاصل کرتے ہیں پھر اس کی بحث بہت لمبی ہے جس کو مختصر الفاظ میں بیان کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے لیکن اس مشکل کو اگر بیان کیا جائے تو اس سے تسکین نہیں ہوگی کیونکہ ان میں سے ہر منزل خطروں سے لبریز ہے۔ مشابہت و مماثلت میں دھوکا ہو سکتا ہے۔ اس ساری بحث کا نچوڑ غورو فکر ، بحثو نظر ، تحقیق و جستجو اور ترتیب مقدمات سب کے سب قیاس عقل کے کارکن ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ علوم شکوک و شبہات سے لبریز ہیں جیسا کہ ہم روزمرہ زندگی میں دیکھ رہے ہیں۔
اس کو اگر اختصار سے بیان کیا جائے تو اس طرح کہا جائے گا کہ وجدانیات و فطریات کے بعد محسوسات کا علم انسان کو ملتا ہے اور محسوسات کے بعد بدیہات اولیہ کا درجہ آتا ہے انسان کو اپنے اس علم میں بھی وہی اذعان و قطعیت ہوتی ہے جیسے دو اور دو چار ہوتے ہیں۔ دس پانچ کا دوگنا ہوتا ہے۔ ایک مادی چیز ایک ہی وقت میں مادی طور پر دو جگہ نہیں ہو سکتی ان بدیہات کو ہر شخص تسلیم کرتا ہے مگر اس کا علم انسانکو بچپن میں نہیں ہوتا اگرچہ اس کا ملکہ موجود ہوتا ہے لیکن اس کا علم تمیز و رشد کے بعد ہوتا ہے کیونکہ اسی وقت اس کی ضرورت پیش آتی ہے اور سب سے اخیر میں اس علم کا درجہ آتا ہے جو وجدانیات ، فطریات و بدیہات اور محسوسات پر قیاس کر کے حاصل کیا جاتا ہے اور اس علم کو علم معقولات کہتے ہیں۔ اس علم اور اس کی قوت کی کمی بیشی کا نتیجہ ہے کہ انسانی عقلیں درجہ اور مرتبہ میں متفاوت ہوتی ہیں جو ایک طرف کمی کے باعث حماقت تک پہنچ جاتی ہے اور دوسری طرف درجہ کمال کو پہنچتے ہوئے عاقل ترین طبقہ تک اونچی ہوجاتی ہے اور اس کے بعد وہ علم ہے جس کو ہم ماورائے مادہ سے تعبیر کرتے ہیں اور یہ ذریعہ ان پانچوں ذرائع علم سے بالکل الگ ہے اور اس کا مقام ان ذرائع کے عبور کرلینے کے بعد آتا ہے۔ غور کیجئے کہ آپ کا سب سے پہلا علم یعنی وجدانیات آپ کے اندرونی حواس کا نتیجہ ہے۔ دوسرا علم فطریات خالق فطرت نے خود آپ کے اندر ودیعت کیا ہے ، تیسرا علم یعنی محسوسات کا علم آپ کے ان ظاہری حواس کا نتیجہ ہے اور چوتھا علم یعنی بدیہات اولیہ آپ کے اپنے حواس اور ذہن کا ایک مشترکہ فیصلہ ہے اور پانچواں ذریعہ علم جو آپ کی عقل و ذہن کی قیاس آرائی ہے وہ آپ ہی کے اندر کے دماغی قویٰ کا عمل ہے اور اب تھوڑے سے تامل سے معلوم ہوجائے گا کہ آپ کا علم وجدان سے لے کر ذہن تک بتدریج مادیت سے ترقی کر کے ماورائے مادہ کے قریب تک پہنچتا ہے اس لیے ظاہر ہے کہ سارا کھیل جسمانی ہے اور انسانی جسم روح سے مل کر یہ ترقی کے منازل طے کرتا رہا جب مادی اور جسمانی قویٰ نے یہ کمال دکھایا تو کیا روحانی کمال روح نہیں دکھائے گا یقینا دکھائے گا اور اس کو ہم نے ” علم ماورائے عقل “ قراردیا ہے۔
غیر مادی علم کیا ہے ؟ اس کا مادہ سے کیا تعلق ہے ؟
غیر مادی علم کی سرحد اس کے بعد آتی ہے اور اس کا تعلق مادہ سے اتنا بھی نہیں جتنا معقولات اور ذہنیات کا ہے بلکہ وہ تمام تر مادہ اور مادیات سے پاک ہوتا ہے البتہ اس کا مادہ اس سے قدر تعلق ہوتا ہے کہ وہ علم مادی دل و دماغ کے آئینہ پر اپنا عکس ڈالتا ہے اور اس کے بعد مختلف مدراج بیان کیے گئے ہیں اور ان مدارج کے نام بھی تاکہ بات سمجھ میں آسکے ان درجات کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے پہلا درجہ ” فراست “ دوسرا ” حدس “ تیسرا ” کشف “ چوتھا ” الہام “ اور پانچواں درجہ ” وحی “ کا ہے۔ جس طرح انسانی علم کے مذکورہ بالا پانچ ذریعے انسان کے جسمانی قویٰ سے متعلق بیان کیے گئے ہیں اسی طرح یہ غیرمادی ذرائع انسان کے روحانی قویٰ سے وابستہ ہیں اور جس طرح آپ نے دیکھا ہے کہ وجدانیات سے لے کر عقلیات تک بہ ترتیب ہمارا ذریعہ علم خالص مادی ، کامل مادی ، کم مادی اور برائے نام مادی تک ترقی کرتا چلا گیا ہے اسی طرح فراست ، حدس ، کشف ، الہام اور وحی بھی برائے نام مادی ، روحانی سے لے کر روحانی ، کامل روحانی اور خالص روحانی تک ترقی کرتے چلے گئے ہیں۔
روحانی علم کے ان مدارج کا تعارف ذرا وضاحت کے ساتھ
1۔ فراست کے معنی ہماری زبان میں ” تاڑ جانے “ کے ہیں اور تاڑ جانے کی قوت ہر شخص میں نمایاں نہیں ہوتی مگر جس میں نمایاں ہوتی اس کی یہ کیفیت ایک ملکہ کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے جو تجربہ کی کثرت اور علم کی مہارت اور کمال کے بعد انسان کو حاصل ہوجاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کسی چیز کے دیکھنے ، سننے ، چکھنے یا چھونے کے ساتھ ہی صرف بعض علامتوں کے جان لینے سے دوسری متعدد ضروری علامتوں پر تفصیلی نظر ڈالے بغیر اتنی جلدی انسان صحیح نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ دیکھنے والے ایسا سمجھتے ہیں کہ گویا وہ غیب کی باتیں بیان کر رہا ہے حالانکہ اس کا علم تمام تر ظاہری علامتوں اور نشانیوں پر مبنی ہوتا ہے اور فراست کا ملکہ نیک و بد دونوں میں ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض ناخواندہ فراست کا ملکہ رکھتے ہیں اور بعض خواندہ فراست کے ملکہ سے بالکل کورے ہوتے ہیں کیونکہ روح بہرحال دونوں میں موجود ہوتی ہے اور نیک و بد کی فراست میں جو فرق ہوتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ نیک فراست نیک اور بد کی نیک نہیں ہوتی نبی اعظم و آخر ﷺ کا ارشاد علی ہے کہ (اتقوا فراسۃ ال مومن فانہ ینظر بنور اللہ) (ترمذی) مومن کے تاڑ لینے سے ڈرو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی روشنی سے دیکھتا ہے۔
2۔ حدس۔ فراست کے بعد حدس کا درجہ ہے۔ حدس کے ابتدائی مقدمات ذہن اور عقل ہوتے ہیں اور انہی میں غورو فکر اور تلاش و ترتیب سے نہایت تیزی کے ساتھ طے کر کے وہ آدمی نتیجہ تک پہنچ جاتا ہے کہ خود اس کو بھی اس کا احساس نہیں ہوتا کہ اس نتیجہ کے حاصل کرنے میں اس نے کوئی دماغی عمل کیا ہے اور یہ چیز بھی اکثر کامل العقل اور صائب الرائے انسانوں کو فطرتاً عطا ہوتی ہے۔
3۔ کشف۔ حدس کے بعد کشف کا درجہ ہے جس کے لفظی معنی کھولنے اور پردہ اٹھانے کے ہیں اور انسان کے نیک اعمال اور حسن اخلاق کے باعث مادیت کے ظلمانی پردہ چاک ہوجاتے ہیں اور مادی اشیاء روحانی عالم میں مشاہدہ کے طور پر نظر آنے لگتی ہیں زیادہ تر ان کا حصول رؤیا اور خواب میں ہوتا ہے لیکن ایک حالت سونے اور جاگنے کے درمیان بھی ہوتی ہے جس میں صاحب کشف کے حواس سونے والے کی طرح بیکار ہوجاتے ہیں اور رؤیا کی حالت بیدار ہوجاتی ہے اور حواس کا تعطل بلاریب اختیار نہیں ہوتا اگرچہ اس کو حاصل کرنا کسبی اور اختیاری امر ہے۔
4۔ الہام کا درجہ کشف کے بعد کا ہے۔ الہام کے لفظی معنی ڈالنے کے ہیں اور یہ وہ علم ہے جو محنت ، تلاش ، تحقیق ، غورو فکر اور ترتیب مقدمات کے بغیر ہی دل میں جم جاتا ہے۔ اس کی ابتدائی اور معمولی مثالیں وہ خیالات ہیں جو محققین علماء ، شعراء اور موجدین کے ذہن میں پر دئہ عدم سے پہلے پہل آتے ہیں اور وہ دنیا کے سامنے اپنی ایجادات ، تحقیقات اور علم و شعر کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد الٰہی ہے کہ { فالھمھا فجورھا و تقوھا } انسان کے اندر نیکی اور بدی کی قوت رکھ دی گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایجادات ، تحقیقات اور علم و شعر کی صورتیں اچھی بھی ہوتی ہیں اور بری بھی اور ظاہر ہے کہ جو برتن میں ڈالا گیا ہے جب اس سے نکلے گا تو وہی نکلے گا جو ڈالا گیا اور جب مختلف چیزیں ڈالی گئی ہیں تونکالنے والا جو نکالنا چاہے گا وہ نکل آئے گا اور ظاہر ہے کہ جس طرح پاک اور منزہ روحیں ہوتی ہیں خبیث اور ناپاک روحوں سے بھی انکار ممکن نہیں ہے۔
وحی کے لغوی معنی کسی پر اپنے دلی منشاء کو لبوں کے جنبش دیئے بغیر اخفاء اور آہستگی کے ساتھ ظاہر کردینے کا نام ہے اور اصطلاحاً اس کا اطلاق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی و رسول سے اپنی مرضی کا اخفاء اور آہستگی کے ساتھ اس کے دل تک پہنچا دینا ہے اور یہ علم کے روحانی ذریعوں کی آخری سرحد ہے اور اس کا اطلاق نیک طینت انسانوں ہی کے لیے خاص ہے۔ جس طرح علم کی تین جسمانی قسمیں یعنی وحدانیات ، حسیات اور بدیہات عام انسانوں کے ذریعہ یقینی ہیں اسی طرح روحانی ذرائع علم کے یہ تین ذرائع کشف ، الہام اور وحی انبیاء و رسل کے لیے یقینی ہیں اور اس آخری ذریعہ کا نام وحی ہے جس کے بعد اور کوئی درجہ نہیں ہے اور یہ جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ہے سب کا سب قرآن کریم کی اصطلاحیں نہیں ہیں سوائے ایک کے جس کا نام ” وحی “ ہے اور اس کو مکالمہ الٰہی کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے اور مکالمہ الٰہی کے تین درجے زیر نظر آیت میں بیان کیے گئے ہیں جس کے باعث اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ 1۔ وحی یعنی اشارہ سے بات کرنا یعنی دل میں کسی بات کا بغیر آواز اور الفاظ کے آجانا ، اسی کا نام کشف بھی ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کا پردہ کے پیچھے سے بات کرنا یعنی متکلم نظر نہیں آتا مگر غیب سے آواز مسموع ہوتی ہے اور الفاظ سنائی دیتے ہیں ، اس کا نام الہام ہے۔ 3۔ فرشتہ کے ذریعہ سے بات کرنا اس طرح کہ فرشتہ ایک خاص شکل و صورت میں نظر آتا ہے اور اس کے منہ سے وہ الفاظ ادا ہوتے ہیں جن کو سنکر رسول محفوظ کرلیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے خاص حکم و فیصلہ کے تحت یہ ہوتا ہے اور اس کا نام دراصل وحی بھی تجویذ خداوندی میں آیا ہے اور اس لفظ کا اطلاق ان تینوں صورتوں پر بھی ہوتا ہے جب کہ نبی و رسول کے ساتھ خاص ہوں اور غیر نبی و رسول کیل یے اصطلاح میں وحی کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ اصطلاح میں وحی کا لفظ الفاظ کی ادائیگی کے لیے خاص ہے اور قرآن کریم نے جہاں غیر نبی و رسول کے لیے اس کا استعمال کیا ہے تو اس سے مراد محض فطری صورت میں ودیعت کی گئی چیز کے لیے ہے جس کو الفاظ کی صورت میں بیان نہیں کیا جاتا۔
ماحصل یہ ہے کہ مکالمہ الٰہی کے یہ تینوں طریقے یعنی وحی (اشارہ) سے بات کرنا ، پردہ کے پیچھے سے بات کرنا جب کہ متکلم نظر نہ آئے اور فرشتہ کے ذریعہ سے بات کرنا ، وحی کی یہ تین اقسام ہیں۔ یہ تین مختلف قسمیں بھی ہیں اور پھر ان تینوں کا اجمالاً مشترک نام بھی ” وحی “ ہے اور ان تینوں قسموں میں ہر ایک پر اس کا اطلاق جائز اور درست ہے۔ غور کرو کہ زیر نظر آیت میں فرشتہ کے ذریعہ سے کلام کو بین وحی کہا گیا ہے اور دوسرے دونوں طریقوں میں جس طریقہ سے بھی رسول اللہ ﷺ کو کسی بات کی اطلاع دی گئی اس کو بھی وحی کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے گویا اس کا استعمال عام مکالمہ الٰہی کے لیے بھی کیا گیا ہے جو کسی نبی و رسول کے ساتھ ہو اور ظاہر ہے کہ اب یہ سلسلہ نبوت و رسالت کے ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم کردیا گیا نہ کوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی و رسول آئے گا اور نہ ہی کسی کی طرف نبوت و رسالت کی وحی کی جائے گی اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ کسی نبی و رسول سے بھی اللہ تعالیٰ نے رو در رو بات نہیں کی جو اس طرح کی کوئی بات کرتا ہے وہ سرا سر جھوٹا اور مفتری ہے اور آخرت کا معاملہ اس دنیوی معاملہ سے بالکل الگ تھلگ ہے اس کو اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 42:52قرآن کریم نبی اعظم و آخر ﷺ کی طرف وحی کیا گیا ہے
52 ؎ وحی کا نام لیتے ہی ہم کو معلوم ہوجاتا ہے کہ قرآن کریم علم کے ان درجات سے بہت اعلیٰ وارفع چیز ہے جن درجات کو مادی وسائل سے انسان حاصل کرتا ہے اور یہ بھی کہ قرآن کریم وحی کے معروف تین طریقوں میں سے آخری طریقہ کے مطابق نازل ہوا ہے اور پھر اس قرآن کریم کی وحی کو مزید بلند سے بلند تر بلکہبلند ترین کرنے کے لیے اس پر ” روح “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کی تعریف صرف امر ربی ہے گویا اس کیل یے ایک ایسا لفظ استعمال کیا گیا جس سے یہ معلوم ہوجائے کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے وحی کو اس کی اپنی ذات کا اس میں کسی طرح کا بھی عمل دخل نہیں ہے بلکہ خالصتاً امرربی ہے۔ کیونکہ اس جگہ روح سے مراد وحی ہے اور وحی کیا گیا ہے ؟ قرآن کریم۔ بس قرآن کریم کو روح سے تعبی کر کے ایک طرف یہ واضح کردیا کہ اس میں وحی کیے جانے والے کی ذات کا کوئی عمل دخل نہیں۔ ہاں ! صاحب وحی اس قابل تھا کہ اس کی طرف وحی کی جائے اور دوسری طرف یہ ظاہر کردیا کہ قرآن کریم صاحب وحی اور ان تمام انسانوں کے لیے حقیقی زندگی کا ذریعہ ہے اور حقیقی زندگی وحی زندگی ہے جو آرام و آسائش سے بھی گزرے اور اس کے پیچھے موت کا گھوڑا بھی نہ دوڑایا گیا ہو کہ معلوم ہی نہ ہو وہ کس وقت زندگی کو ختم کر کے رکھ دے۔ اس طرح یہ خود بخود ظاہر ہوگیا کہ گزشتہ تمام الہامی کتابوں اور صحیفوں کی روح بھی قرآن کریم میں داخل کردی گئی ہے کیونکہ آخری زندگی کا انحصار صرف اور صرف اسی ایک کتاب قرآن کریم پر ہے جس کی حفات کی ذمہ داری خود خالق کائنات نے اپنے ذمہ لی ہے جو قرآن کریم کا نازل کرنے والا ہے۔
پیچھے ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ قرآن کریم وحی کے معروف تین طریقوں میں سے آخری طریقہ کے مطابق نازل ہوا ہے۔ وہ آخری طریقہ وحی کیا ہے ؟ اس کی وضاحت بھی پیھچے آپ پڑھ چکے ہیں کہ وحی کا آخری اور اہم طریقہ جبریل (علیہ السلام) کے ذریعہ سے بات کرنا ہے جس کے الفاظ صاحب وحی سنتا ہے اور ان کا مفہوم صاحب وحی کے دل پر نازل ہوتا جاتا ہے اور مسموع الفاظ من و عن یاد ہوتے جاتے ہیں اور یہ بات تجربہ اور مثال سے نہیں سمجھائی جاسکتی اس کا تعلق خالصتاً عقیدہ سے ہے اور ایسے کلام کو کلام رسول نہیں کہا جاسکتا بلکہ یہ کلام کلام اللہ ہے۔ اسی لیے علمائے اسلام نے اس کو وحی متلو سیت عبیر کیا ہے اور وحی کی دوسری دو اقسام یعنی اشارہ سے بات کا سمجھانا اور من وراء حجاب کوئی بات دل میں ڈال دینا وحی غیر متلو کہلاتا ہے۔ جن مفسرین نے قرآن کریم کی وحی کو ان تینوں قسم کی وحی سے تعبیر کیا ہے ہم ان سے اتفاق نہیں رکھتے کیونکہ قرآن کریم نے اپنے نازل ہونے کی صورت کو ان دونوں اقسام سے خود الگ کر کے بیان کردیا ہے اور نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ { وانہ لتنزیل رب العلمین نزل بیہ الروح الامین علی قلبک لتکون من المنذرین بلسانٍ عربی مبینٍ } (الشعراء 26: 192 تا 195) ” اور یہ ” قرآن) جہانوں کے رب کی طرف سے اتارا ہوا ہے۔ جبریل امین اس کو لے کر اترا ہے۔ تیرے دل پر تاکہ تو ڈرانے والوں میں سے ہو۔ کھول کر بیان کرنے وابی عربی زبان میں۔ “ یہ بات بالکل صاف ہوگئی کہ ” کلامِ الٰہی اقساط میں نازل ہوا “ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ رسول اللہ ﷺ کے قلب پر قرآن کریم کے نازل ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس کے معانی آپ ﷺ کے قلب پر نازل ہوگئے تھے۔ نہیں ، بلکہ الفاظ اترے ہیں اور یہ بھی کہ الفاظ اترنے کا معاملہ پورے قرآن کریم کے لیے ہے نہ کہ بعض حصہ کے لی۔۔ ہم پورے عزم و جزم سے یہ بات ایک بار پھر دہراتے ہیں کہ قرآن کریم وہ کتاب اللہ ہے جس میں معنی کے ساتھ الفاظ بھی وحی کیے گئے ہیں اور وہ الفاظ من و عن محفوظ ہیں ان کا حرف حرف اور نقطہ نقطہ { و انا لہ لحافظون } کی پیشین گوئی میں داخل ہے اس لیے اس میں الفاظ کی کمی بیشی اور حذف و اضافہ محال ہے۔ پھر جس وحی میں الفاظ نازل نہیں ہوئے بلکہ اشارہ کیا گیا ہے اور مفہوم دل میں ڈال دیا گیا ہے ظاہر ہے کہ وہ الفاظ صاحب وحی کے ہیں اور صاحب وحی کے الفاظ اور مفہوم کی اتنی حفاظت نہیں کی جانی چاہئے تھی جتنی کہ کلام اللہ کی تاکہ کلام اللہ اور کلامف رسول دونوں میں تمیز باقی رہے اور بلاریب یہی کہا گیا ہے۔
کتاب اللہ یعنی قرآن کریم کی اصل حیثیت کلی قانون کی ہے اور قانون کی حفاظت اور وضاحت کے لیے نہ صرف اس کے ایک ایک لفظ کے محفوظ رہنے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اس کے ایک ایک نقطہ ، شوشہ ، وقف ، وصل ، فصل ، عطف ، قطع ، تقدم ، تاخر اور آج کل کی اصطلاح کے مطابق ڈیش (Dash) اور کا مہ (Comma) کی بعینہٖ حفاظت کی ضرورت ہے ورنہ ذرا سے تغیر میں قانون کا مطلب کچھ کا کچھ ہو سکتا ہے اور وحی غیر متلو کی یہ کلی قانونی حیثیت نہیں ہے بلکہ وہ اس کلی قانون کی تشریحات ، تفصیلات اور جزئیات ہیں۔ اب ذرا غور کرنے سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ تشریح ، تفصیل اور وضاحت اصل قانون کی کسی ایک شق کے بھی خلاف نہیں ہو سکتی اور نہ ایسا ہو سکتا ہے کہ تشریح ، تفصیل اور وضاحت کا اصل قانون سے کوئی تعلق ہی نہ رہے یا یہ کہ اصل قانون کو وہ منسوخ کر کے رکھ دے۔ اگر کوئی تشریح ، تفصیل اور وضاحت اصل قانون کے یا قانون کی کسی شق کے خلاف ہو تو اس کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ پھر جس تشریح ، تفصیل اور وضاحت کی نسبت رسول سے کی جائے اس میں اس احتیاط کو مزید ملحوظ خاطر رکھا جائے گا اگر کوئی بات ایسی نظر آئے جس کو رسول ﷺ کی طرف نسبت دی گئی ہو اور وہ اصل قانون کی کسی ایک شق کے بھی خلاف نظر آئے تو برملا کہہ دینا چاہئے کہ یہ تشریح ، تفصیل اور وضاحت اس طرح نہیں بلکہ اس طرح ہے سامع کو سننے یا سمجھنے میں غلطی لگی ہے خواہ وہ کوئی ہے ، کون ہے اور کہاں ہے ؟ کیونکہ رسول اللہ ﷺ اصل قانون یا اصل قانون کی کسی ایک شق کے خلاف اس کی تشریح ، تفصیل اور وضاحت نہیں کرسکتے تھے اور یہ محال ہے کہ رسول اس بات کو نہ سمجھے جس کو کوئی دوسرا سمجھتا ہو اور وہ بات اس قانون کیم تعلق ہو۔ ہاں ! جو بات قانون کے متعلق نہ ہو اس کی اس جگہ بحث نہیں ہے۔
خاکم بدہن کہ میں ایسی بات کہوں کہ محدثین کو اس بات کی سمجھ نہ آئی بلاشبہ ان کا مقام بہت اونچا ہے اور ان کی عقل و فکر کا بھی احترام کرتا ہوں میرا منہ چھوٹا اور بات بڑی ہے تاہم میں یہ ضرور کہوں گا کہ جو مقام اس طریقہ تفہیم کو دینا چاہئے تھا نہ دیا گیا اور علاوہ ازیں جو کچھ کیا گیا اور جس طرح حاشیوں پر حاشیے چڑھائے گئے اور آج جن باتوں کو ” اصطلاحات المحدثین “ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ان کو ازبر کیا جاتا ہے اور ان پر بحثیں اٹھائی جاتی ہیں ہم اس اصل عظیم سے بھی دور ترہوتے چلے گئے ہیں۔ آج ذہین سے ذہین استاذ حدیث اپنے ذہین سے ذہین شاگردوں کو حدیث کا درس دیتے ہوئے یہ بتاتا جائے گا کہ احادیث کی اقسام قلت و کثرت طرق کے اعتبار سے کیا کیا نام اقسام ہیں اور پھر اس کی ہر قسم کو کتنے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان کے نام کیا کیا ہیں۔ الموقوف ، المقطوع اور المسنہ کی کا تعریف ہے۔ المقبول ، غیر المقبول یا المردود کسے کہتے ہیں اور کیوں کہتے ہیں۔ الصحیح لذاتہ ، الحسن لذاتہ ، الصحیح لغیرہ اور الحسن لغیرہ کیا ہے اور یہ کہ الصحیح لذاتہ کے ضمنی ابحاث اور اس کی متفرق اصطلاحات کیا ہیں اور کیوں ہیں ؟ متفق علیہ۔ افراد بخاری ، افراد مسلم ، اصح الاسانید ، المتف بالقرائن جو نام رکھے گئے ہیں یہ کیوں رکھے گئے ہیں اور ان کی کیا حیثیت ہے۔ اس طرح اس مضمون کو بیان کرتے کرتے ہم کہاں سے کہاں نکل جائیں گے اور ہم مولوی ، مولانا ، مولانا ، علامہ ، حضرت العلام ، مفتی ، مدرس اور مناظر کے ناموں سے موسوم ہو کر اور حسب المرتبہ ، جبہ قبہ پہن کر جب اپنی اپنی مسند سنبھالیں گے تو ” الف “ ایک حدیث کو بیان کرتے ہوئے مرفوع قرار دے گا تو ” ب “ اس کو منسوخ کہہ کر بات شروع کرے گا اور دونوں کے درمیان بحث ومناظرہ شروع ہوجائے گا اور ایک دوسرے کو وہ وہ مغلظات سنائی جائیں گی اور ایک دوسرے کو چت کرنے کے لیے وہ وہ حربے اختیار کیے جایں گے اور داؤپیچ لگائے جائیں گے جن کو اختیار کرنے اور لگانے سے انسان اسلام ہی سے خارج ہوجاتا ہے اور پھر بھی کوئی ہار ماننے کے لیے تیار نہیں ہوگا ہر ایک جیت کا نعرہ لگائے گا اور اگر سند کی بحث شروع ہوگئی تو ایک ایک راوی پر وہ جرح و قدح ہوگی کہ الامان و الحفیظ جن لوگوں کو وفات پائے سینکڑوں بلکہ ہزار سے بھی متجاوز سال گزر چکے ہیں ان کی کھلڑی اس طرح ادھیڑ کر رکھ دی جائے گی کہ گویا وہ اس وقت بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ ” الف “ اس کو امام وقت کہے گا اور ” ب “ اس کو مفتری ، جھوٹا اور کذاب کے خطاب دے گا اور یہ علمی و ادبی لڑائی بٹیروں ، مرغوں اور ریچھوں کی لڑائی سے بھی زیادہ برے طریقے سے لڑی جائے گی اور اس کے باوجود دونوں ہی جیت جائیں گے اور ایک بھی ان میں نہیں ہارے گا۔ مدت ہوئی ہمارے ہاں یہ دنگل جاری ہے اور ماشاء اللہ اس میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور حدیث کے صحیح اور ضعیف و کمزور کا حل نہ آج تک نکل سکا اور نہ ہی کبھی نکل سکے گا اور جو سیدھا اور آسان طریقہ تھا جو سب انسانوں کی سمجھ میں آسکتا تھا اس کو بالکل ترک کردیا گیا کہ آیا جو بحث جاری ہے اس کا اصل قانون سے کوئی تعلق بھی ہے یا نہیں ؟ اگر تعلق ہے تو کیا اصل قانون کی کسی شق کے یہ خلاف تو نہیں پھر اگر یہ بات اصل قانون کے خلاف نہیں ہے نہ کلی طور پر اور نہ جزوی طور پر اور اس کا اصل قانون سے تعلق بھی موجود ہے تو یہ بات جس نے بھی کہی ہے اور وہ کیسا بھی ہے بات صحیح و ہے اور اس کے مطابق عمل درست ہے اور اسلام میں اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا اور بلاریب یہ بات اسلام کی اور پیغمبر اسلام کی ہے اور جب آپ کی طرف اس کی نسبت بھی کی گئی ہے تو سونے پر سہاگہ ہے ہم اس سے بحث کریں گے تو آخر کیوں ؟ مرنے والوں کے ناموں اور ان کے کاموں پر ہم اس طرح لڑ رہے ہیں کہ نہ ہم کو اپنا ہوش رہا ہے اور نہ ہی اپنے ماحول کے زندوں کا کچھ پتہ ہے ، نہ خود کوئی کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی اپنے ماحول کے زندوں کا کچھ پتہ ہے ، نہ خود کوئی کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی اپنے ماحول کے لوگوں کو کرنے دینا چاہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگ اسلام کے نام سے بیزار ہوگئے ہیں جو سلامتی ، صلح اور آشتی کا مذہب تھا آج تفرقہ بازی اور کفر کا گہوارہ بن کر رہ گیا ہے۔ میں نے نہایت محتاط اور مختصر الفاظ میں عرض کردیا ہے حالانکہ جو کچھ عرض کیا جا رہا ہے حالات اس سے بھی بہت آگے نکل چکے ہیں۔ اللہ ہمیں قرآن کریم اور صاحب قرآن کریم کے قریب آنے کی توفیق دے اور قرآن کریم کو اللہ کی کتاب اور محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا رسول اور خاتم النبیین دل و جان سے قبول کرلینے کی توفیق عنایت فرمائے اور ہم میں سے ہر ایک خواہ وہ کون ہے ، کہاں ہے اور کیسا ہے اپنے اعمال کی طرف دیکھے کہ میں کیا کر رہا ہوں اور قرآن کریم کا حکم کیا ہے اور رسول ﷺ کا حکم قرآن کریم کے کسی ایک حکم یا حکم کی کسی ایک شق کے خلاف ہو ، ممکن ہی نہیں اس کے باوجود اگر کہیں فروغ کا اختلاف موجود ہو اور وہ نظر بھی آئے تو اس کو برداشت کرکے اپنا عمل اپنے تفہیم شدہ طریقہ کے مطابق جاری رکھا جائے یہی حسن الاخلاق ہے اور اسی کو اختیار کرنے کی اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرما دے یہی اسلام ہے جس کی تعلیم سادہ اور عام فہم ہے۔
اس جگہ جو کچھ میں نے مجمل طور پر بیان کیا ہے بلاشبہ اس میں اجمال ہے اور الفاظ بھی میرے ہیں لیکن اس کی تفصیل امام شافعی (رح) کی ” کتاب الرسالہ “ مطبوعہ مصر 1314 ھ میں بھی موجود ہے اور امام شاطبی اندلسی المتوفی 790 ھ کی اہم تصنیف ” الموافقات فی اصول الاحکام “ جلد اول مطبوعہ مصر 1314 ھ میں اور شاہ ولی اللہ (رح) کی ” حجۃ اللہ البالغہ “ میں دیکھی جاسکتی ہے یہ دونوں کتابیں پنجاب پبلک لائبریری کے عربی سیکشن میں موجود ہیں۔
زیر نظر آیت میں نبی کریم ﷺ پر قرآن کریم کے نزول سے پہلے کی حالت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ” اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے “ جس کا صاف اور واضح مطلب یہی نکلتا ہے کہ آپ ﷺ کو نبوت پر سرفراز ہونے سے قبل اس بات کا قطعاً کوئی تصور نہیں تھا کہ میں رسول بنایا جاؤں گا اور میری طرف اللہ تعالیٰ کا فرشتہ کو وحی لے کر آئے گا اور میں ہی خاتم النبیین ہونے والا ہوں اگرچہ آپ ﷺ کے متعلق کتب آسمانی میں بشارات موجود تھیں لیکن آپ ﷺ کو اس بات کا علم کب تھا ؟ بلاشبہ آپ ﷺ وحی الٰہی کے آنے سے قبل ناخواندہ تھے اگرچہ جاہل نیں تھے جیسا کہ عام طور پر لوگوں کا خیال ہے کہ ناخواندگی کو جہالت سے تعبیر کرتے ہیں حالانکہ یہ بات بھی صحیح نہیں کیونکہ ہر ناخواندہ جاہل اور ہر جاہل ناخواندہ نہیں ہوتا اگر ذرا غور اور نظر عمیق سے دیکھا جائے تو خواندہ جاہلوں کی آج بھی کمی نہیں ہے اور ناخواندہ عقل و فکر والے اس وقت بھی موجود تھے اور آج بھی موجود ہیں۔ بہرحال قرآن کریم کی روشنی نے آتے ہی ایک لحظہ کے اندر ناخواندگی کو ختم کر کے خواندہ بنا دیا اور اللہ تعالیٰ کے اس نور کلام نے آپ ﷺ کے سینہء اقدس کو اس طرح جگمگا دیا کہ آپ ﷺ اس مخلوق کے اندر ایک روشنی کا مینار بن گئے جس کی کرنیں دور دور تک پھیلتی چلی گئیں لیکن اس روشنی سے وہی راہ دیکھ سکا جس کے اندر سیدھی راہ کی تڑپ موجود تھی اور اس کا دل روشنی کو چاہتا تھا۔ شپرہ چشم لوگوں نے اس روشنی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیں اور وہ اپنی پہلی حالت کو بھی کھو گئے اور کفر میں تیزگام ہو کر رہ گئے۔ جس طرح سارے انسان نبی و رسول نہیں ہو سکتے کیونکہ رسالت کوئی کسبی چیز نہیں ہے بلکہ ایک وہبی امر تھا جس کو اب ختم کردیا گیا اس طرح ہر انسان اس روشنی سے بھی مستفید نہیں ہو سکتا چونکہ اس سے استفادہ کے لیے اس کی تڑپ ، لگن اور خواہش کا ہونا ضروری ہے اس لیے جس شخص کے دل میں اس کی لگن ، تڑپ اور خواہش موجود ہے اسی کو یہ روشنی حاصل ہوتی ہے ، دوسرا اس سے محروم رہتا ہے۔ یہی ہوا کہ جن کے دل میں یہ بات موجود تھی انہوں نے آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کو دعویٰ کرتے ہی تسلیم کر ل اس اور جن کے دلوں میں آپ ﷺ کے دعویٰ پر تنقید تھی انہوں نے تنقید شروع کردی کہ ایک ہمارے ہی جیسا انسان ہے جو ہماری طرح پیدا ہوا ، ہماری طرح کھاتا پیتا ہے ، ہماری طرح اٹھتا بیٹھتا اور چلتا پھرتا ہے وہ نبی و رسول کیسے بن گیا اور پھر خصوصاً جب دنیا کی ہرچیز ہمارے پاس موجود ہے ، لوگ ہماری بات سننے کے لیے ہر وقت تیار ہیں ، ہم کو چھوڑ کر اس کو کیسے نبوت و رسالت مل گئی اور ہم کو وہ کیوں نہ مل سکی اور انہی سوالوں میں گم سم مخالفت کے لیے کمربستہ ہوگئے۔
بلاشبہ آپ ﷺ ویسے بھی کتاب سے واقف نہیں تھے کہ آپ ﷺ نے کسی سے لکھنا اور پڑھنا نہیں سیکھا تھا اور آپ ﷺ نے پہلی آسمانی کتابیں بھی نہیں پڑھی تھیں اور رواج کے پڑھنے لکھنے سے بھی آپ ﷺ شناساں نہ تھے اور ایمان کی جزئیات کا بھی آپ ﷺ کو علم نہیں تھا اور ویسے بھی کتاب اور ایمان کا تعلق نہایت گہرا ہے کیونکہ کتاب اگر جسم ہے تو ایمان اس کی روح ہے اور جسم اور روح کے الحاق سے زندگی تعبیر ہے اور دونوں کے الگ الگ ہوجانے کا نام پہلے ہی موت ہے اس لیے دونوں سے بیخبر ی کا اعلان کردیا گیا۔ نورِ ہدایت اس جگہ قرآن کریم ہی کو کہا گیا ہے جو حقیقت میں ایمان کا ایک قالب ہے۔ اس طرح جب آپ ﷺ کتاب اور ایمان سے روشناس ہوگئے اور دونوں ہی آپ ﷺ کے اندر بھر دیئے گئے جہاں آپ ﷺ ناخواندہ تھے وہاں خواندہ ہوگئے ، جہاں لکھنا نہیں جانتے تھے آپ ﷺ کو لکھنا آگیا اس طرح آپ ﷺ ایمان کی حقیقت سے اس طرح آگاہ کردیئے گئے کہ اب صرف اور صرف آپ ﷺ ہی سے یہ نور ہدایت پھیلتا نظر آتا ہے۔ اسی نور ہدایت کو نبوت سے تعبیر کیا گیا ہے جو تاقیام قیامت جاری وساری رہے گا۔ آپ ﷺ کا وجود اقدس اگرچہ موجود نہ رہا تاہم آپ ﷺ کی نبوت کی روشنی ہمیشہ جاری وساری رہے گی اور کتاب کا اپنی اصلی حالت میں قائم رہنا بھی اسی لیے لازم ٹھہرا دیا گیا تاکہ نور نبوت کبھی مانند نہ پڑے بلکہ اسی طرح تاباں رہے جس طرح آپ ﷺ کی موجودگی میں تھا ، اب بھی ہے اور رہتی دنیا تک رہے گا اور جس راہ کی طرف آپ ﷺ نے ہدایت فرمائی ہے وہی راہ سیدھی راہ ہے اور وہی راہ باقی رہنے والی راہ ہے۔
Ayah 42:53یہ وہ صراط مستقیم ہے جو آسمان و زمین کے مالک کی دی ہوئی راہ ہے
53 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کی اختیار کردہ راہ وہی راہ ہے جو صراط مستقیم سے تعبیر ہے اور یہ راہ کسی ایرے غیر نتھو خیرے کی دی ہوئی راہ نہیں بلکہ اس راہ کو متعین کرنے والا وہ ربِّ ذوالجلال والا کرام ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے ، مالک ہے اور منتظم ہے کہ اس کے قائم کرنے سے یہ سب کچھ قائم ہے اور ہر کام اور ہر حکم کا اس ذات الٰہ کی طرف پھر کر جانا لازم و ضروری ہے۔ قرآن کریم اس کی دی ہوئی کتاب ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ اسی کے بھیجے ہوئے رسول اور رسالت اسی کے دیئے گئے پیغام کا نام ہے۔ جو اس پیغام کے مطابق زندگی بسر کرے گا وہ اللہ تعالیٰ اس کی کتاب ، اس کے رسول اور اس کی طرف لوٹ کر جانے پر ایمان لائے گا اور جس کے اعمال اس کے لائے ہوئے پیغام کے خلاف ہوں گے وہ سو نہیں ہزار بار دعوے کرے اس کو سچا نہیں کہا جاسکتا وہ خواہ کون ہو ، کہاں ہو اور کیسا ہو۔
بحمد اللہ اسی مضمون پر ہم سورة الشوریٰ کی تفسیر کو ختم کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم کو قرآن کریم کی اس ہدایت کے ساتھ وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے رسول مکرم ، نبی اعظم و آخر ﷺ کے لائے ہوئے اس بقعہء نور سے روشنی حاصل کرتے رہنے کی توفیق بخشے۔ { رب اشرح لی صدر و یسرلی امری و احلل عقدۃً من لسانی یفقہوا قولی۔ رب یسر ولا تعسیرو تمم بالخیر }
عبدالکریم اثری
قبل از صلوٰۃ ظہر 21 دسمبر 1997 ء