Ayah 42:15نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے ذریعے سے امت کے لیے خاص احکامات
15 ؎ زیر نظر آیت ان نظریات کریمات میں سے ہے جن میں بہت سے احکامات ایک ہی جگہ بیان کردیئے گئے ہیں اور ہر حکم ایک دوسرے سے بالکل جدا اور واضح ہے ہم اس جگہ ہر حکم کو علیحدہ علیحدہ بیان کریں گے تاکہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجائے اور یہ بھی کہ ان احکامات کی پابندی کرنے میں ہم کو مدد مل سکے۔ وہ احکامات درج ذیل ہیں :
1۔ { فلذلک فادع } پس اس طرح آپ ﷺ دعوت دیتے رہیں۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے ہدایت خاص کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ جس دین کی دعوت سرے نبی ور سول دیتے رہے اور جس طرح انہوں نے دعوت دی آپ ﷺ بھی اسی طرح اس دعوت کو جاری رکھیں اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی امت کے ہر فرد کے ذمہ یہ لازم ہے کہ جو شخص جس بات کو جانتا اور سمجھتا ہے وہ دوسروں تک پہنچا دے ، خود اس کے مطابق عمل کرے اور دوسروں کو اس کے مطابق عمل کی دعوت دے لیکن داعی الی اللہ کے لیے ضروری ہے کہ کوئی مانے یا نہ مانے وہ اپنا کام جاری رکھے اور اس سلسلہ میں جو دکھ بھی پہنچے اس کو رضائے الٰہی کے لیے برداشت کرے۔ اس دعوت کے بہت سے فضائل آپ ﷺ نے بیان کیے ہیں اور ایک ان میں یہ ہے کہ وہ جنت میں نبیوں اور رسولوں کے ساتھ ہوگا اور یہ وہ انعام ہے جس سے بڑا کوئی انعام نہیں ہو سکتا۔
2۔ { واستقم کما امرت } جس چیز کا آپ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے اس پر ہمیشہ قائم رہیے۔ مخالفین و معاندین آپ ﷺ کو ہٹانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے لیکن آپ ﷺ ان کی پرواہ نہ کریں اور حق پر سختی سے قائم رہیں اور اس راہ میں جو آلام و مصائب بھی برداشت کرنے پڑیں رضائے الٰہی کے لیے بخوشی برداشت کرتے رہیں یہی حکم آپ ﷺ کو سورة ہود کی آیت 112 میں دیا گیا ہے اس لیے اس کی وضاحت وہیں سے دیکھ لیں۔ سورة ہود عزوۃ الوثقی کی جلد چہارم میں ملے گی۔
3۔ { ولا تتبع اہوأئَ ہم } ” اور ان کی خواہشات کا اتباع نہ کیجئے۔ “ قریش مکہ ہوں یا یہود و نصاریٰ یہ سب لوگ اپنی اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں اور جو کچھ انہوں نے اپنے آباؤ اجداد سے پایا ہے آنکھیں بند کر کے اس کے پیچھے چلے جا رہے ہیں اور یہ بھی کہ جو کچھ وہ کرتے ہیں اس پر کوئی دلیل وبرہان ان کے پاس نہیں ہے اور آپ ﷺ کو ان کے مقابلہ میں جو کچھ دیا گیا ہے وہ من حیث العقل دلیل و حجت کے ساتھ دیا گیا ہے اور اس کے لیے سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آپ ﷺ سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو بھی بعینہٖ یہی کچھ دیا گیا تھا اس لیے آپ ﷺ کے لیے ضروری ہے کہ آپ ﷺ اس ہدایت کی پیروی کریں اور ان لوگوں کے لیے بھی ضروری ہے جو آپ ﷺ کی پیروی کرنے والے ہیں۔ یہ بات قرآن کریم میں بار بار ارشاد فرمائی گئی اور یہاں تک ارشاد فرمایا گیا کہ اگر آپ ﷺ نے علم آجانے کے بعد ان کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ تعالیٰ کی مدد آپ ﷺ سے روک لی جائے گی اگرچہ اس کا مطلب آپ ﷺ کو مخاطب کر کے آپ ﷺ کی امت کو سبق دینا تھا تاہم اتنا سخت حکم آپ ﷺ کو سنایا گیا جیسا کہ سورة البقرہ کی آیت 145 , 120 میں دیا گیا اور سورة الحاقہ کی آیت 49 , 48 میں بھی یہ حکم دیا گیا۔ پھر سورة الرعد کی آیت 73 ، سورة المومنون کی آیت 71 ، سورة القصص کی آیت 50 ، سورة الروم کی آیت 29 میں اس کی وضاحت کی گئی۔
4۔ { و قل امنت بما انزل اللہ من کتب } ” اور اس بات کا اعلان کرو کہ میں ایمان لایا ہر اس کتاب پر جو اللہ نے نازل کی۔ “ یہ چوتھا حکم ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ اس بات کا اعلان کردیں کہ میں تمہاری اور تمہارے آباؤ اجداد کی ، اپنی اور اپنے آباؤ اجداد کی خواہشوں کی پیروی نہیں کرتا میں تو ساری انسانیت کی شیراہ بندی کے لیے آیا ہوں اور یہ اس طرح ممکن نہیں ہے کہ انسانوں کے درمیان ایک مشترک ہدایت کی پیروی کی جائے اور وہ اسی طرح ممکن ہے کہ آپ ﷺ اسی دعوت کی طرف بلائیں جو سارے نبیوں اور رسولوں کی دعوت تھی کیونکہ حق ہمیشہ ایک رہا ہے اگرچہ باطل نے کئی روپ بدلے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو پیغام بھی اور جس نبی و رسول پر بھی آیا وہ ایک ہی جیسا تھا اسی لیے آپ ﷺ برملا کہہ دیں کہ میں صرف اسی کلام پر ہی ایمان نہیں لایا جو مجھ پر نازل ہوئی بلکہ میرے رب نے جو کتابیں نازل کی میں ان سب پر ایمان لاتا ہوں اور ان کو حق سمجھتا ہوں۔ ہاں ! تم کو تماہری تحریف کے متعلق بھی آگاہ کرتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں کیا تھا بلکہ تم نے خود اور تمہارے مذہبی راہنماؤں نے تم کو خوش کرنے کے لیے داخل دین کردیا ہے اور اس کا تفصیلی ذکر پیچھے سورة آل عمران اور سورة المائدہ میں بڑی وضاحت سے گزر چکا ہے۔
5۔ { و امرت لا عدل بینکم } اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل و انصاف کروں۔ “ گروہی مذاہب اور سیاست میں ، پارٹی سسٹم میں عدل و انصاف ممکن ہی نہیں۔ جس زمانہ اور جس ملک میں بھی ایسا مذہب اور ایسی سیاست پائی جائے اس زمانہ یا اس ملک میں عدل و انصاف کا جنازہ نکل جاتا ہے چونکہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی بعثت کے وقت یہ دونوں چیزیں موجود تھیں گروہی مذاہب بھی اور سیاست میں پارٹی سسٹم بھی اسی لیے وہاں عدل و انصاف عنقا ہوچکا تھا اسی لیے آپ ﷺ سے اس بات کا اعلان کرایا گیا اور جس بات کا آپ ﷺ نے اعلان فرمایا وہ بات بلاشبہ حق تھی اس لیے جس عدل و انصاف کا حکم اس آیت میں ہے اس کے کئی پہلو ہیں ایک یہ کہ جو سچائی مجھ تک پہنچی ہے اس کو میں برابر برابر تم سب کو پہنچا دوں۔ دوسرا یہ کہ محض دینی مخالفت کی وجہ سے تمہارے ساتھ بےانصافی نہ کی جائے بلکہ وہ کچھ کیا جائے جس کا تقاضا عدل و انصاف کرتا ہے اور تیسرا یہ کہ اب تک تم میں مقدمات کے فیصلہ کی جو یہ صورت جاری ہے کہ دولت مندوں اور دنیوی عزت رکھنے والوں کے ساتھ رعایت کا اور عام لوگوں کے ساتھ سختی کا قانون برتا جائے میرے اللہ نے ایسا کرنے سے مجھے منع کیا ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ عام و خاص اور امیر و غریب سب کے ساتھ یکساں اور برابری کا سلوک کیا جائے۔ دنیا نے دیکھا اور غیروں نے بھی اس کی شہادتیں دیں کہ جب اسلام کو غلبہ و اقتدار نصیب ہوا تو دوست و دشمن نے دیکھا ، اپنوں اور بیگانوں نے دیکھا اور ساری دنیا نے دیکھا کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ نے اس ذمہ داری کو کس طرح پورا کیا یہاں تک کہ خون کے پیاسوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف کیا اور عزیز و اقارب کے ساتھ بھی بےجا رعایت نہیں کی اس کی مثالیں کتب احادیث اور کتب تاریخ میں آج بھی موجود ہیں۔
6۔ { اللہ ربنا و ربکم } ” اللہ ہمارا رب بھی ہے اور متہارا رب بھی۔ “ یعنی ہم سب کا جب رب ایک ہے اور ہم سب کے سب اسی کے غلام و بندے ہیں اس لیے اس کے سب غلاموں اور بندوں کے لیے ایک ہی قانون ہونا چاہئے ہم کو ہمارے اعمال اور تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ ملے گا اس میں جھگڑنے اور لڑنے کی کوئی بات نیں و۔ ہم سب کو قیامت کے دن اسی مالک حقیقی کے سامنے پیش ہونا ہے جس کا کام اس کو پسند آئے گا اس کو بلاشبہ وہ انعام و اکرام دے گا اور اگر کام برا ہے جو اس کو پسند نہیں تو بلاشبہ اس کی ویسی ہی سزا بھی ملے گی۔ یاد رہے کہ عدل و انصاف کی راہ میں جو سب سے زیادہ کٹھن منزل ہے وہ یہ ہے کہ اپنے نفس کے مقابلہ میں عدل و انصاف کا سررشتہ ہاتھ سے نہ چھوٹے اور نبی اعظم و آخر ﷺ کی تعلیمات میں ابھی ایمان کی اس کٹھن منزل کی راہنمائی بھی پوری طرح ملتی ہے اور اس کی وضاحت ہم پیچھے عزوۃ الوثقی کی جلد دوم سورة النساء کی آیت 135 میں کرچکے ہیں وہاں سے دیکھی جاسکتی ہے۔
7۔ { لنا اعمالنا و لکم اعمالکم } ” ہمارے لیے ہمارے اعمال اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں۔ “ جب ہم سب کا پروردگار ایک ہے اور ہر انسان کے لیے اس کا عمل ہے تو پھر اللہ اور دین کے نام پر یہ تمام جھگڑے کیوں ہیں ؟ کیوں ایک مذہب کا پیرو دوسرے مذہب کے پیروؤں کا دشمن ہو ؟ ایک انسان دوسرے انسان سے نفرت کرے ؟ ہمارے لیے وہی ہوگا جو ہم نے اپنے عمل سے کمایا اور تمہارے لیے وہی ہے جو تم اپنے عمل سے کماؤ گے اور تم سے ہمارے اعمال کے بارے میں باز پرس نہیں ہوگی اور ہم سے تمہارے اعمال کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا جائے گا اگر اس کھلے ذہن سے تم بھی سوچو تو آخر ہم کو جھگڑنے کی ضرورت کیا ہے ؟ اس کی تفصیل عروۃ الوثقی جلد پنجم میں سورة یونس کی آیت 41 میں ہم بیان کرچکے ہیں وہاں سے دیکھ لیں۔
8۔ { لا حجۃ بیننا و بینکم } ” ہمارے اور تمہارے درمیان اب کسی بحث و تکرار کی ضرورت نہیں رہی۔ “ اسی لیے کہ ہم نے اپنا موقف پوری وضاحت سے بیان کردیا اور تحدی کے طور پر واضح کردیا کہ ہمارا وہی طریقہ تعلیم ہے جو پہلے نبیوں اور رسولوں کا تھا اتنی توضیح و تفصیل کے بعد بھی اگر تم ماننے اور تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو ہم اس سے زیادہ طول کلامی کے لیے تیار نہیں اب ہمارا اور تمہارے معاملہ اللہ کے سپرد ہے ہمیں جھگڑنے اور بحث و تکرار کی ضرورت نہیں۔
9۔ { اللہ یجمع بیننا } ” اللہ ہم سب کو جمع کرے گا۔ “ یہ ہمارا ایمان ہے اگر تم بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہو اور اس کے باوجود ہمارے پیغام سے تم کو اتفاق نہیں ہے تو ہم اس دن کا انتظار کرتے ہیں اور تم بھی اسی دن کا انتظار کرو اسی لحاظ سے بھی بحث و تکرار بےکار ہے اور تم اس بات کو بھی نہیں مانتے کہ دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کی طرف جانا ہے تو بھی تمہارے انکار سے ہمارا جمع ہونا رک نہیں جائے گا جس طرح ہم اور تم سب کو اس نے پیدا کردیا اسی طرح دوبارہ بھی پیدا کر کے ہم سب کو جمع کرے گا اور اس بات کا وہیں فیصلہ ہوجائے گا اگرچہ اس وقت کا فیصلہ تمہارے حق میں یقینا مفید نہیں ہوگا اس لیے کہ تم محض ضد اور ہٹ دھرمی کر رہے ہو جو سرا سر گھاٹے کی چیز ہے اگر کوئی دلیل تمہارے پاس موجود ہوتی تو وہ یقینا آپ لوگ پیش کردیتے جب ایسی بات کوئی موجود ہی نہیں تو محض دل لگی کے لیے باتیں کرنے سے کیا فائدہ ؟
10۔ { والیہ المصیر } ” اور اسی کی طرف (ہم سب) کو پلٹنا ہے۔ “ { المصیر } اسم ظرف مکاں ومصدر اس کی اصل ص ری رہے اور صیرٌ لوٹنے کی جگہ۔ ٹھکانا۔ قرار گاہ۔ صیرٌ ۔ صیرورۃٌ مصیر مصدر صار ماضی باب ضرب۔ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف لوٹنا ، حاضر ہونا ، مائل ہونا ، کاٹنا { المصیر } کا استعمال بطور صرف مکاں ہی کیا گیا ہے جس کے معنی ٹھکانا اور جگہ کے ہیں۔ اس میں مخالفین کو دوبارہ زندہ ہونے کا تصور بھی دیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس معاملہ میں لڑنا اور جھگڑنا مفید نہیں تم اپنا کام کرتے جاؤ اگر سمجھتے ہو کہ ہمارا پیغام درست نہیں اور ہم کو اپنا کام کرنے دو لیکن قریش مکہ اور دوسرے گروہوں نے اس بات کو تسلیم نہ کیا اور مسلسل الجھاؤ جاری رکھا اور اس کا نتیجہ جو اس دنیا میں نکلا وہ سب نے دیکھا اور سنا اور آخرت میں جو نکلے گا وہ بھی سب دیکھ لیں گے۔ زیر نظر آیت کو اگر سورة البقرہ کی آیت 255 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے اور اس میں جو دس احکامات بیان کیے گئے ہیں ان کو بھی نگاہ میں رکھا جائے تو پورے دین اسلام کی وضاحت ان دونوں آیتوں میں کردی گئی ہے۔ صاحب بصیرت حضرات کے لیے ان دونوں کا ملا کر پڑھنا اور غور کرنا ان شاء اللہ العزیز بہت مفید ہوگا تفصیل کے لیے عزوۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی مذکورہ آیت کی تفسیر دیکھیں۔
Ayah 42:16جن کا جھگڑا بالکل بےکار جھگڑا ہے ان کا ذکر اور انجام
16 ؎ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑا اور مجادلہ کرتے ہیں ان کے جھگڑنے اور مجادلہ کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ اللہ کے بارے میں جھگڑا کس نے کیا اور کیوں کیا اور کیسا کیا ؟ اللہ کے بارے میں جھگڑا سب سے پہلے نبی اعظم و آخر ﷺ کے مخاطبین اوّل قریش نے کیا اور محض اس لیے کیا کہ جو کچھ ان کے آباؤ اجداد اللہ کے بارے میں کہتے آ رہے تھے آپ ﷺ نے اس کے خلاف ان کو اللہ رب ذوالجلال والا کرام کا تعارف کرایا حالانکہ فی نفسہٖ وہ اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے سینکڑوں سے بھی متجاوز اپنے حاجت روا اور مشکل کشا بنا رکھے تھے اور پھر ان سے محبت کرنے اور ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے لیے ان کے بت بنا کر اپنے سامنے رکھتے تھے جس طرح آج کے مشرک بتوں کی بجائے ان بزرگوں کی قبروں اور تصویروں کو سامنے رکھتے ہیں۔ ان کے اس تصور کے خلاف اسلام ان کو یہ تصور پیش کرتا تھا کہ جس ذات کا نام اللہ ہے وہ ہر جگہ موجود ہے لیکن وہ کسی کو بھی ان ظاہری آنکھوں سے اس دنیا میں دکھائی نہیں دیتا کیونکہ وہ کوئی جسمانی چیز نہیں ہے اور یہ بھی کہ وہ جس طرح اپنی ذات میں وحدہ لاشریک لہ ہے اسی طرح اپنی صفات میں بھی وہ واحد اور یکتا ہے۔ اس بات سے وہ منکر تھے اور برملا کہتے تھے کہ اللہ ایسی ذات ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے ہمارے بزرگ واسطہ اور وسیلہ ہیں جب تک ان کی نذر و نیاز دے کر ان کو خوش نہ کیا جائے اس وقت تک اللہ تک رسائی ممکن ہی نہیں۔ ہم یہی بات آج تک سنتے آئے ہیں اور ہمارے باپ دادا ایسا کرتے اور کہتے آئے ہیں لہٰذا تیری یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی ہم جو ان بزرگوں کو سجدہ و سلامک رتے ہیں تو محض اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو اللہ کے قریب کردیتے ہیں۔ اسلام نے ان کو یہ تصور دیا کہ اللہ اور اس کے کسی بندہ کے درمیان مطلق دوری اور فاصلہ نہیں ہے کہ اس کے قریب جانے کے لیے کسی واسطہ اور وسیلہ کی ضرورت ہو اس لیے کہ وہ تو انسان کی شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور یہ بھی کہ وہ ہر انسان کی پکار کو سنتا اور اسے قبول کرتا ہے ضرورت ہے تو صرف اس بات کی کہ اس کے دیئے ہوئے احکامات کی پابندی کی جائے اور سچے دل سے ایمان لا کر پورے یقین کے ساتھ اس کو پکارا جائے۔
فرمایا تعجب ہے ان لوگوں پر جنہوں نے یہ جھگڑا اللہ رب العزت کو ماننے کے بعد کھڑا کردیا حالانکہ یہ بات کوئی نئی بات نہیں تھی جو ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمائی بلکہ یہ تو وہی بات تھی جو سیدنا نوح (علیہ السلام) سے لے کر سیدنا مسیح (علیہ السلام) تک سارے نبی و رسول کہتے آئے تھے اس لیے کہ سب نے وحدت خداوندی کا اعلان کیا اور اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا دوسرے معبودوں کی نفی کی جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی آمد کے وقت جتنے گروہ موجود تھے ان کے اسلاف تک یہ بات پہنچائی جا چکی تھی لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس کو یاد نہ رکھا اور اپنی اختراعی اور من گھڑت باتیں کرتے رہے لیکن ان کو اتنا خیال بھی نہ آیا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان من گھڑت اور انہونی باتوں کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ انہی من گھڑت دلیلوں کو حجۃ داحضۃ کے الفاظ سے بیان کیا گیا ہے کہ حق کی تردید کے لیے وہ اپنی طرف سے جو گھڑ کر دلائل بیان کرتے ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ وہ کوئی وزن نہیں رکھتے اور نہ ہی عقل و فکر ان کو قبول کرتی ہے۔ بلاشبہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے غضب کے مستحق ہیں اور ان کے لیے آخرت میں نہایت سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔ اگر یہ لوگ اس روش سے باز نہ آئے تو یقینا ان سے دوچار ہوجائیں گے۔
Ayah 42:17اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا جو ایک ترازو کی حیثیت رکھتا ہے
17 ؎ کتاب یعنی قرآن کریم کو حق کے ساتھ نازل کرنے سے کیا مراد ہے ؟ راغب اصفہانی (رح) نے بیان کیا ہے کہ الحق للفعل والقول : الواقع بحسب ما یحب و قدر ما یحب و فی الوقت الذی یحب (مفردات) ” کوئی قول اور فعل اسی وقت حق کہلاتا ہے جب کہ وہ اسی طرح پایا جائے جیسے چاہئے ، اس انداز سے پایا جائے جتنا مناسب اور موزوں ہو اور اسی وقت پایا جائے جب اس کی ضرورت ہو۔ “ (قرآنِ کریم { بالحق } کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو واضح کردیا کہ قرآن کریم آیا اور اس شان سے آیا جو اس کے شایان شان تھی ، ایسے دلائل وبراہین سے مزین ہو کر آیا جن کو عقل سلیم ماننے پر مجبور ہے اور عین اس وقت آیا جب ہر طرف گھپ اندھیرا چھا چکا تھا اور انسانیت کا کارواں دشت ضلالت میں بھٹک رہا تھا اور اسی وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیا آیا جب عقل انسانی اپنی طفولیت کی سرحد عبور کر کے فکرو نظر کی وادی میں قدم رکھ رہی تھی اور انسان کے حواس کو مرعوب کرنے والے دلائل سے کہیں زیادہ عقل و خرد کو مطمئن کرنے والی آیات بینات کی ضرورت تھی اور بلاشبہ قرآن کریم کو میزان بنا کر نازل کیا گیا جس نے حق کو حق اور باطل کو باطل کر دکھایا اور قیامت تک آنے والے انسانوں کے سامنے ایسی میزان رکھ دی جس کے قول میں کمی بیشی ممکن ہی نہیں ، دنیا ترقی کرتے کرتے کہیں سے کہیں پہنچ جائے لیکن اس میزان سے وہ کبھی بےنیاز نہیں ہو سکتی۔ تمام مذاہب عالم کو اس میزان پر رکھ کر تولا جائے گا تو یہ اس کے کھرے اور کھوٹے کو واضح کر دے گی اس طرح یہ آیت گویا گزشتہ آیت 15 کی مزید وضاحت کر رہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل و انصاف کروں “ اور انصاف کے لیے جس ترازو کی ضرورت ہوتی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ انہی معنوں میں قرآن کریم کو { فرقان } اور { مھیمنٌ} بھی کہا گیا ہے اور یہ بھی کہ اس جگہ صرف قرآن کریم کے لیے یہ لفظ بولا گیا ہے اور سورة الحدید کی آیت 25 میں تمام رسولوں کی طرف کتاب اور میزان نازل کرنے کا ذکر کیا گیا ہے اگرچہ وہ اس وقت کی ان ہی قوموں کے لیے تھی جن کی راہنمائی کے لیے اس کو نازل کیا گیا تاہم ان قوموں نے جو حال ان کتابوں اور میزانوں کا کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور جو حال آج کل اس کتاب و میزان کا کر رہے ہیں وہ اس سے بھی سوا ہے اگر فرق ہے تو صرف اور صرف یہ کہ اس کے متن میں تحریف اب ممکن نہیں جو پہلوں نے دل کھول کر کی ہے جس کا نتیجہ آج بھی دنیا کے سامنے ہے کہ وہ اپنی اصلی زبان میں کہیں نظر ہی نہیں آتیں اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آخری کتاب اس کے آخری رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف آ چکی ہے جس کے بعد نہ کوئی نیا اور پرانا رسول آئے گا اور نہ ہی کوئی اور کتاب نازل ہوگی رہا معاملہ قیامت کا جس کے ماننے اور آ دھمکنے سے اہل مکہ کو تعجب ہے اور وہ اس کے آنے پر یقین نہیں رکھتے کچھ عجیب نہیں کہ وہ بالکل قریب ہی آ لگی ہو اور پھر جب یہ بات سب کو ایک ہی جیسی معلوم ہے جس سے کسی ذی عقل کو انکار نہیں کہ جس کی موت آگئی گویا اس کے لیے قیامت آگئی کیا ان کے سامنے کوئی نہیں مرا کہ ان کو اس پر یقین کرنے سے تعجب ہو رہا ہے پھر جس طرح ایک کے لیے موت لازم و ضروری ہے کیا یہ ضروری نہیں کہ اس نظام کائنات کو بھی موت آجائے اور اسی چیز کا نام قیامت ہے اور جس طرح ہر ذی نفس کے لیے اچانک کسی وقت بھی موت کے آجانے کا اندیشہ ہے اسی طرح نظام کائنات کو اچانک کسی وقت موت آ سکنے پر تعجب آخر کیوں ؟ مزید وضاحت کے لیے عزوۃ الوثقی جلد ششم سورة الاحزاب کی آیت 63 کی تفسیر بھی دیکھ لیں۔
Ayah 42:18قیامت پر ایمان نہ لانے والوں ہی کو جلدی ہے کہ وہ آ کیوں نہیں جاتی
18 ؎ جن لوگوں کو قیامت کے آنے پر تعجب ہے اور وہ قیامت کے وارد ہونے ہی سے انکاری ہیں تعجب تو ان پر ہونا چاہئے کہ ایک طرف تو وہ قیامت کے آنے پر یقین ہی نہیں رکھتے بلکہ برملا کہتے ہیں کہ قیامت ویامت کچھ بھی نہیں یہ تو صرف ملاؤں کی باتوں میں سے ایک بات ہے جس کا سر ہے نہ پیر وہی اس معاملہ میں جلدی کر رہے ہیں اور بار بار کہتے نظر آتے ہیں کہ اگر اس کو آنا ہی ہے تو وہ آخر آ کیوں نہیں جاتی ؟ کوئی ان سے پوچھے کہ ایک طرف تو تم کو اس کے آنے پر یقین ہی نہیں آ رہا اور دوسری طرف تمہارا مطالبہ یہ بھی ہے کہ اگر اس کو آنا ہی ہے تو پھر آ کیوں نہیں رہی ؟ غور کرو کہ تمہارا یہ مطالبہ جائز اور درست ہے اگر اس کو آنا ہی نہیں جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے تو پھر آ کیوں نہیں جاتی کا مطالبہ سرا سر بیوقوفی نہیں تو اور کیا ہے ؟ کیا وہ یہ کہہ کر مذاق اڑا رہے ہیں اگر ایسی بات ہے تو اس طرح کے مذاق اڑانے والوں کو جلد ہی اڑا کر رکھ دیا جائے گا۔ ازیں بعد فرمایا جا رہا ہے کہ اس کے مقابلہ میں وہ لوگ بھی ہیں جن کو ہر وقت اس بات کا خطرہ اور غم لگا رہتا ہے اور وہ ڈرتے رہتے ہیں کہ ہم کو اس روز کے لیے جو تیاری کرنا چاہئے تھی وہ نہیں کی اس لیے وہ اپنے اس غم میں لرزاں و ترساں ہیں اور اس کے اچانک آجانے پر ان کو پختہ یقین ہے بلاشبہ ان کا انجام بخیر ہوگا اور خبردار ہوجانا چاہئے ان لوگوں کو جو اس کے آنے میں شک کے مرتکب ہیں کہ یہی ارتکاب ان کے گمراہی کو کہیں کا کہیں لے جائے گا اور انجام کار ان کو دوزخ کا ایندھن بنا کر رکھ دے گا پھر ان کو یقین آئے گا کہ وہ جس دن سے انکاری تھے وہ تو آگیا لیکن اس یقین کا کوئی فائدہ ؟ ” اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ “
Ayah 42:19اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اور اپنے قانون کے مطابق رزق دیتا ہے
19 ؎ انسانی حوائج و ضروریات سے اللہ تعالیٰ پوری طرح باخبر ہے کیونکہ اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور وہی ان کا رزاق و منتظم بھی ہے اور اس سے زیادہ کوئی عنایت و شفقت رکھنے والا ہو ہی نہیں سکتا بلاشبہ وہ نہایت ہی باریک بیں ہے جو انسانوں کی مخفی اور پوشیدہ ضرورتوں سے بھی واقف ہے اور ان کی کمزوریوں کو بھی اچھی طرح جانتا ہے اور انسانوں کے اتنا قریب ہے کہ کوئی انسان خود بھی اپنے آپ کو اتنا قریب نہیں ہو سکتا نہ تو اس کا اپنا کیا زیادہ دیر یاد رہتا ہے اور نہ ہی جو ابھی اس نے کرنا ہے اس سے آگاہ ہے لیکن اس کے برعکس اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے کہ جس کو ہر انسان کا کیا بھی معلوم ہے اور ابھی اس کو کرنا ہے اس سے بھی وہ اچھی طرح باخبر ہے۔ ہر ذی روح کے رزق دینے پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے اور اپنے قانون مشیت کے مطابق جس کا چاہتا ہے رزق تنگ کردیتا ہے ، جس کا چاہتا ہیرزق کشادہ کردیتا ہے۔ جب انسانوں کی ساری ضروریات رزق ہی کے ضمن میں آتی ہیں اور بہت قوت والا اور بڑا ہی زبردست ہے کہ کسی قوت والے کی قوت اور کسی زور آور کا زور اس کے سامنے نہیں چلتا اور انسانوں کے سارے انتظامی امور اسی کے دست قدرت میں ہیں اور ان انتظامی امور کا کسی کے حق و باطل ہونے سے کوئی تعلق نہیں کہ اہل حق کا رب وہ ہے تو اہل باطل کا بھی بلاشبہ رب وہی ہے اور یہ سب سوانگ اسی کے رچائے ہوئے ہیں اور سب نیک و بد کی پیشانی کے بال اسی کے دست قدرت میں ہیں۔
Ayah 42:20جو آخرت کا طالب ہے اس کو دنیا اور آخرت دونوں دی جاتی ہیں
20 ؎ ہر شخص جس چیز کی طلب کرتا ہے اسی چیز کا اس کو طالب کہا جاتا ہے اور سنت اللہ اس معاملہ میں یہ ہے کہ تلاش کرنے والا ہی حاصل کرتا ہے جیسا کہ جوئندہ یا بندہ عام محاورہ ہے۔ اسی اصول کے تحت زیر نظر آیت میں کہا گیا ہے کہ جو شخص آخرت کو طلب کرتا ہے قانون الٰہی کے مطابق اس کو یقینا آخرت ملنی چاہئے اور وہ بہرحال ملے گی اور جو کچھ اس نے آخرت کے لیے کیا ہوگا اگر وہ صحیح کیا ہے تو ہم اس کا بدلہ اس کو اس کی طلب سے بھی بڑھ کردیں گے لیکن اس کے برعکس جو شخص صرف اور صرف دنیا ہی کی طلب رکھتا ہے اس کے لیے دنیا میں وہ سب کچھ ہم نے تیار کر رکھا ہے اور وہ اپنی طلب کے مطابق اس سے حاصل کرتا ہے اور ہم اس کو دنیا میں وافر حصہ دیتے ہیں لیکن اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا کہ اس نے آخرت کو طلب ہی نہیں کیا گویا اس کے ذہن میں صرف دنیا ہی دنیا ہے اور آخرت کا کوئی تصور ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے آخرت طلب نہیں کی پھر اس کو آخر وہ کیوں دیا جائے جس کی وہ طلب نہیں رکھتا اور بلاشبہ کاٹتا وہی ہے جو بوتا ہے اور یہ بھی کہ جو کچھ بوتا ہے وہی کچھ کاٹتا ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ جو بونے والا گندم کے خرمن کھیت سے اٹھائے یا گندم بونے والا جو کے۔ یہ ایک تمثیل ہے جس کو بیان کر کے قانون خداوندی کی ایسی وضاحت کردی ہے کہ ہر شخص اپنی بساط کے مطابق اس سے سبق حاصل کرلے ایک کاشتکار ہل چلانے والے سے لے کر ایک فلاسفر تک سب کے سب حقیقت کو پا لیں۔ اس طرح اس آیت میں محض ایک اصول بتایا اور سمجھایا گیا ہے یہ نہیں کہا گیا کہ آخرت کے طالب کو دنیا بالکل طلب ہی نہیں کرنی چاہئے یا دنیا طلب کرنے والے کو آخرت کا طلب کرنا حرام ہے بحث صرف اور صرف یہ ہے کہ انسان جس چیز کی طلب کرتا ہے اس کو حاصل کرلیتا ہے کیونکہ ہر انسان کے اندر یہ صلاحیت رکھ دی گئی ہے کہ جس چیز کے لیے وہ محنت کرے گا اسی کو حاصل کرسکے گا۔ دوسری جگہ اہل اسلام کو یہ تلقین کی گئی ہے کہ تم دنیا کو بھی طلب کرو اور آخرت کو بھی تاکہ تم کو تمہاری طلب کے مطابق دونوں جگہ اس کا وافر حصہ عطا کیا جائے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ { و منہم من یقول ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاخرۃ حسنۃ و قنا عذاب النار اولئک لہم نصیبٌ مما کسبوا واللہ سریع الحساب } (البقرہ 202 , 201 , 2)
” اور ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح چاہتے ہیں ، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا لے ، تو یقین کرو ایسے ہی لوگ ہیں جنہیں ان کے عمل کے مطابق دنیا و آخرت کی فلاح میں حصہ ملتا ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا قانون اعمال کی جانچ میں سست رفتار نہیں ہے وہ ہر انسان کو اس کے عمل کے مطابق جلد ہی نتیجہ دے دینے والا ہے۔ “ دنیا اور آخرت کی طلب کرنے والوں کو ہم نے اہل اسلام کہا ہے ، کیوں ؟ اس لیے کہ آخرت پر پختہ یقین اور دنیا و آخرت دونوں میں صحیح بدلہ دینے والے اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کے اعتراف ہی کا نام اسلام ہے اور اسی نظریہ کے حامل لوگوں کو اہل اسلام کہا جاتا ہے اور محولہ آیت میں اس اصل عظیم کی پوری وضاحت کردی گئی ہے کہ خدا پرستی اور دینداری کی راہ دنوای معیشت اور دنیوی فلاح و ترقی کے خلاف نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسی کامل زندگی پیدا کرنا چاہتا ہے جس میں دنیا و آخرت دونوں کی سعادتیں موجود ہوں۔ اس سے سمجھ لینا چاہئے کہ اس معاملہ میں یہ ایک عالمگیر گمراہی ہے کہ لوگ یا تو افراط میں پڑجاتے ہیں یا تفریط میں اور ان دونوں ہی صورتوں میں راہ اعتدال گم ہوجاتی ہے یا تو دنیا کا انہماک اس درجہ بڑھ جاتا ہے کہ انسان آخرت سے یک قلم بےپرواہ ہوجاتا ہے یا آخرت کے استغراق میں اس قدر آگے نکل جاتا ہے کہ ترک دنیا اور رہبانیت کا دم بھرنے لگتا ہے لیکن دین حق کی راہ عمل بالکل اعتدال کی راہ ہے اور صحیح اور درست زندگی اسی شخص کی ہے جو اپنے ربِّ کریم سے دنیا اور آخرت دونوں کی سعادتیں چاہتا ہے۔ اس کی وضاحت دوسری جگہ خود قرآن کریم نے کردی ہے۔
جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
(الاسراء 18:17 تا 20) ” جو کوئی فوری فائدہ اس دنیا میں چاہتا ہے تو جس کو ہم دینا چاہیں اور جتنا دینا چاہیں اسی دنیا میں دے دیتے ہیں پھر آخر کار اس کے لیے جہنم تیار کردی گئی ہے وہ اس میں داخل ہوگا بدحال ٹھکرایا ہوا۔ لیکن جو کوئی آخرت کا طالب ہوا اور اس کے لیے جیسی کچھ کوشش کرنی چاہئے ویسی کوشش کی نیز وہ ایمان بھی رکھتا ہے تو اس کے لیے دائمی کامیابیاں ہیں اور ایسے ہی لوگ ہیں جن کی کوشش مقبول ہوگی۔ ہم ہر ایک فریق کو اپنی پروردگاری بخشائشوں سے دنیا میں مدد دیتے ہیں ان کو بھی جو صرف دنیا ہی کے پیچھے پڑگئے اور ان کو بھی کہ جو آخرت کے طالب ہوئے اور راہ حق پر چلے اور یاد رکھیے کہ آپ کے رب کی بخشش عام کسی پر بھی بند نہیں ہے۔ “ غور کیجئے کہ بات کو کس طرح واضح کردیا گیا اور بتا دیا گ اس کہ نتائج عمل کے لحاظ سے انسانوں کے دو گروہ ہوگئے ہیں ایک گروہ وہ ہے جس کی ساری طلب دنیا کی چند روزہ زندگی ہی کے لیے ہے اور دوسرا گروہ وہ ہے جو یقین رکھتا ہے کہ اس زندگی کے بعد بھی ایک اور زندگی ہے اس لیے اس دوسری زندگی کی سعادت کا بھی وہ طالب ہے جہاں تک دنیا کی زندگی کا تعلق ہے ہمارا قانون یہ ہے کہ دونوں کے آگے یکساں طریقہ پر دنوبی نتائج کا دروازہ کھول دیا ہے اور سب کو کارخانہء ربوبیت کا فیضان مل رہا ہے انہیں بھی جو صرف اور صرف دنیا کے ہو کر رہ گئے ہیں اور انہیں بھی جو آخرت کے طالب ہوئے لیکن جہاں تک آخرت کی سعادتوں کا تعلق ہے پہلے کے لیے محرومیاں ہوں گی ، دوسرے کے لیے کامرانیاں پھر اس حقیقت سے بھی پردہ الٹا دیا کہ سعادت اخروی کی شرائط کیا ہیں ؟ فرمایا دو شرطیں ہیں اول یہ کہ سعادت اخروی کے لیے کوشش کرے لیکن کیسی کوشش ؟ ویسی کوشش جو اس کے لیے صحیح کوشش ہو سکتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی وحی نے واضح کردی ہے دوسری یہ کہ اللہ پر اور اس کی صداقتوں پر ایمان ہو اس سے معلوم ہوگیا کہ آخرت کی سعادت کی کوئی سعی بغیر ان دو شرطوں کے مقبول نہیں ہو سکتی اور یہی زیر نظر آیت کا ماحصل ہے جس کی تفسیر اس جگہ کی جا رہی ہے۔ مزید وضاحت کے لیے عزوۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی آیت 202 , 201 جلد پنجم میں سورة بنی اسرائیل کی آیت 18 تا 20 کی تفسیر دیکھ لیں۔
Ayah 42:21کیا ان کے لیے ایسے شرکاء بھی ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین بنانے کا ذمہ لیا ہے ؟
21 ؎ { شرعوا } انہوں نے راہ ڈالی شرعٌ سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ اس صورت کی آیت 13 میں گزر چکا ہے کہ { شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحاً والذی او حینا الیک } الخ۔ ” اس نے تمہارے لیے دین کا وحی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور اے پیغمبر اسلام ! ہم نے آپ ﷺ کی طرف اس کو وحی کیا ہے۔ “ اس آیت میں دوسرے کئی ایک نبیوں اور رسولوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ شریعت انہیں باتوں کا نام ہے جو انبیاء و رسل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سینازل کی گئیں اور ان کے مطابق اعمال کرنے کا انسانوں کو حکم دیا گیا اور زیر نظر آیت نے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرما دیا کہ اگر اللہ کے نبیوں اور رسولوں کے راستہ سے ہٹ کر کسی دوسرے انسان کے بنائے ہوئے راستہ پر چلا جائے تو یہ شرک ہے اور جن کے بنائے ہوئے راستہ کو اختیار کیا جائے ان کو گویا اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کی صفات میں شریک کرنا ہے خواہ ان کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا نہ سمجھا جائے اور ان کی نذر و نیاز بھی نہ دی جائے اور ان کے نام کے وظیفے بھی نہ پڑھے جائیں۔ بات کتنی صاف اور کتنی واضح ہوجاتی ہے اگر کوئی شخص دیانتداری سے اس کو سمجھنا چاہئے تو اس کا سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ قرآن کریم میں انسانوں کو اجتماعی زندگی گزارنے کے جو طریقے بتائے گئے ہیں ان کو چھوڑ کر غیروں کے طریقوں کے مطابق زندگی بسر کرنا اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے قانون کو چھوڑ کر غیروں کے دیئے ہوئے قانون کی پابندی کرنا کھلا شرک ہے اور جن کے قانون پر عمل کیا جائے ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا ہے اگر اس کی یہ وضاحت صحیح اور درس ت ہے تو ایمانداری سے یہ بتایا جائے کہ کیا اس ملک کے حکمران جو حکم چلا رہے ہیں اور جس قانون کے خود پابند ہیں اور اپنی رعایا کو اس کا پلابند کرنا چاہتے ہیں اس سے وہ کھلے مشرک نہیں ہیں جو خود شرک کرر ہے ہیں اور عوام کو اس شرک کرنے پر مجبور کر رہے ہیں اگر حکمران مشرک ہیں اور قانون شرک کا چل رہا ہے تو ملک عزیز کو اسلامی مملکت کہنا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے ؟ اگر اس کی یہ وضاحت صحیح نہیں ہے جو اوپر ہم نے عرض کی ہے تو اس کی صحیح وضاحت کردی جائے تاکہ ہماری غلطی دور ہوجائے۔ ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ کوئی اس کی ہمت نہیں کرے گا ، کیوں ؟ اس لیے کہ وہ اس کی ہمت کر ہی نہیں سکتا کہ اسلام کو اللہ کا دین کہنے کے باوجود زیر نظر آیت کی تشریح کسی اور طریقہ سے کرسکے اور یہ ثابت کر دے کہ اللہ کے قانون کو چھوڑ کر غیر اللہ کے قانون کی پابندی کرتے رہنے سے اسلامی حکومت متاثر نہیں ہوتی اور اس کو اسلامی حکومت کہا جاسکتا ہے۔ ذرا مزید غور کرو کہ وہ قانون جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے بنایا اور پھر انبیاء کرام اور رسل عظام کے ذریعہ سے اس کو لوگوں تک بھی پہنچا دیا اس کے باوجود اس قانون کو اگر کسی اسمبلی میں لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ اس اسمبلی کے ممبر اس کی وضاحت کریں کہ آیا اس کو نافذ کیا جائے یا نہ کیا جائے اور پھر اسمبلی اس کی وضاحت اس طرح کر دے کہ یہ قانون نافذ العمل نہیں تو اس اسمبلی میں اس قانون کا اس مقصد کے لیے پیش کرنا کیا ہے ؟ اس کو نافذ العمل ہونے کے قابل نہ سمجھنے والے ممبران کی حیثیت کیا ہوتی ہے ؟ اس ملک عزیز کے علماء گرامی قدر سے اور مفتیانِ شرع متین سے ایک بار نہیں سو بار پوچھو لیکن وہ نہ تو اس کی وضاحت کر کے اس کو غلط قرار دینے کی جرأت کریں گے اور نہ ہی دلائل سے اس کو غلط ثابت کریں گے۔ ہاں ! زیادہ سے زیادہ وہ جو کچھ کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایسے سوالات اٹھانے والے کو مجنون ، پاگل ، سرپھرا ، سحر زدہ اور علاوہ ازیں بہت کچھ کہہ دیں گے اور کچھ نہیں کہیں گے تو ان وقت کے فرعونوں کو کچھ نہیں کہیں گے ، کیوں ؟ اس لیے کہ وہ انہی وقت کے فرعونوں کے ہاتھ قوم کو بیچ کر خود قارون بنے بیٹھے ہیں اور قارون تب ہی قارون رہ سکتا ہے جب فرعون کی ہاں میں ہاں ملائے اور دولت کے ڈھیر جمع کرتا جائے۔
اچھا وقت کے فرعون بھی جو کچھ کرسکتے ہیں کرلیں اور قارون بھی ان کی ہاں میں ہاں ملا کر دولت کے انبار جمع کرلیں لیکن قرآن کریم کے اس حکم کو بھی کان کھول کر سن لیں کہ اللہ نے ان کو ہرگز ہرگز اس کی اجازت نہیں دی۔ یہ لوگ جن قواعد و ضوابط کی پیروی کر رہے ہیں یہ اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ انگریز سرکار کے بنائے ہوئے ہیں اور انگریزوں ہی سے انہوں نے حاصل کیے ہیں اور وہی ان کے نگران و محافظ ہیں کہ کہیں یہ لوگ ان کو ترک نہ کردیں اگر اللہ ربِّ کریم کی طرف سے ان کو ایک وقت تک مہلت دینے کا قانون طے نہ پایا ہوتا تو ان کو کبھی کی سزا سنا دی گئی ہوتی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک فیصلے کا دن مقرر کردیا ہوا ہے اور جب تک وہ دن آ نہیں لیتا یہ لوگ اس مہلت کے دوران جو کرنا چاہتے ہیں کرلیں اور بلاشبہ ان ظالموں کے لیے اللہ نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ بہتر ہوتا کہ اور لوگ نہیں تو توحید کے دعویداروں اور شرک کی تردید کرنے والوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ متحد ہو کر شرک کی اس بھیانک صورت کا بھی سر کوٹ دیتے لیکن افسوس کہ یہ شرک ان کو راس آگیا اور وہ اپنے شرکاء سے رشوت کھا کر خاموش ہوگئے۔ لیکن اس روز یقینا وہ بھی انہیں مشرکوں کے ساتھ اپنے زمرہ کی قیادت کر رہے ہوں گے اور اس وقت ان کی حالت دیدنی ہوگی ، آگے آنے والی آیت کو بغور پڑھو۔
Ayah 42:22یہ ظالم جب اپنے کیے میں پھنسے ہوں گے تو ان کی حالت دیدنی ہوگی
22 ؎ آج تو یہ ظالم ان وقت کے فرعونوں کے ساتھ مل کر قارون کا کردار ادا کرر ہے ہیں اور دولت کے ڈھیر جمع کر کے بہت خوش ہیں اور اپنے حواریوں میں بیٹھے پھولے نہیں سماتے ، ان کی حالت اس وقت دیدنی ہوگی جب وہ اپنے ان کرتوتوں کے باعث دھر لیے جائیں گے اور ان کو مشرکوں کو دیئے جانے والے عذاب میں برابر کا شریک قرار دیا جائے گا اور مشرکوں کے ان سارے گروہوں میں وہ بھی شریک نظر آئیں گے اور ان کے مقابلہ میں وہ لوگ جو سچے دل سے اللہ پر ایمان لائے اور وہ شرک کی ان ساری اقسام میں سے کسی قسم میں بھی داخل نہیں ہوئے وہ جنت کے باغوں میں خوشیاں منا رہے ہوں گے اور ان کو اپنے پروردگار کے پاس وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے اور اس روز وہ اللہ کے خاص فضل و کرم میں ہوں گے جو سارے انعاموں میں سے بڑا انعام ہے۔ ہاں ! بلاشبہ وہ فضل کبیر ہے جس کے باعث انہوں نے روکھی سوکھی کھا کر دولت کے ڈھیروں پر پاؤں رکھ دیا اور اس کو دنیا کا حقیر مال اور گندگی کا ڈھیر سمجھتے ہوئے ناک پر رومال رکھ کر آگے گزر گئے۔
Ayah 42:23فضل الکبیر کی مزید وضاحت جو ربِّ کریم نے خود فرما دی
23 ؎ قیامت کے روز جو اللہ تعالیٰ کے فضل کبیر کے مستحق قرار پائیں گے اس کی وضاحت خود اللہ تعالیٰ نے فرما دی ہے کہ یہی وہ اصل خوشخبری ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو سنائی جا رہی ہے۔ ہاں ! اللہ کے وہ بندے جو اللہ پر ایمان لائے اور اچھے اعمال کیے وہ آج ہی ان خوشخبریوں میں اس قدر مگن ہیں کہ وہ دنیا کے ان فرعونوں اور قارونوں کو دیکھ کر خوش ہونے والوں کو بزبان قال کہہ دیتے ہیں۔ { و یلکم ثواب اللہ خیرٌ لمن امن و عمل صالحاً و لا یلقھا الا الصبرون } (80:28) ” افسوس ! تم پر اللہ کا دیا ہوا بدلہ اس کے لیے بہتر ہے جو ایمان لاتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے اور یہ سوائے صبر کرنے والوں کے اور کسی کو نہیں ملتا۔ “
{ قل لا اسئلکم علیہ اجراً الا المودۃ فی القربیٰ } کہہ دیجئے اے پیغمبر اسلام ! کہ میں تم سے اس کام پر کوئی اجر نہیں مانگتا۔ ہاں ! قرابت کی محبت ضرور چاہتا ہوں۔ وہ کام کیا ہے جس پر آپ ﷺ کسی اجر کے طالب نہیں ؟ اس کام سے مراد وہ جدوجہد اور سرتوڑ کوشش ہے جو آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے لوگوں کو عذاب الٰہی سے بچانے اور جنت کی بشارت سنانے کی کر رہے تھے اور یہ اعلان اللہ تعالیٰ نے ہر نبی و رسول سے اس منصب نبوت و رسالت پر فائز کرت ہوئے کرایا ہے اور اس اعلان کی اصل غرض وغایت یہ ہے کہ وہ ہر شخص جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے دین کا کام کرے وہ اس پر لوگوں سے کوئی مزدوری طلب نہ کرے اور جو بھی اس کی مزدوری لوگوں سے وصول کرے گا گویا اس نے وہ کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نہیں کیا بلکہ لوگوں کی خوشنودی کے لیے کیا اور ظاہر ہے کہ جب اس نے لوگوں کی خوشنودی کے لیے ایک کام کیا تو وہ کام اللہ کا نہ ہوا بلکہ ان لوگوں کا ہوگیا اور آج جو لوگ اس منصب پر کام کر رہے ہیں وہ بلاشک و شبہ لوگوں کی خوشنودی ہی کے لیے کرر ہے ہیں اسی لیے لوگ جس طرح خوش ہوتے ہیں وہ وہی کچھ کرتے ہیں اور لوگوں نے جو مذہبی رسومات اختیار کرلی ہیں وہ ان رسومات کی ادائیگی میں دن رات مصروف کار ہیں اور منہ مانگی مزدوری حاصل کر رہے ہیں اور قرآن کریم کے اس اعلان کی کھلی مخالفت کر کے اپنے لیے دوزخ کا ایندھن کٹھا کرنے میں مصروف ہیں۔
زیر نظر آیت میں جہاں اس بات کی نفی کی گئی ہے کہ میں تم سے کسی مزدوری کا خواہاں نہیں ہوں وہاں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہاں میں تم سے قرابت کی محبت ضرور چاہتا ہوں۔ رہی یہ بات کے قرابت کی محبت کیا ہے ؟ اس میں ہمارے مفسرین نے بہت لمبا کام کیا ہے اور اس کے مختلف مطالب بیان کئے ہیں اگر ان سب کا احصاء کیا جائے تو اس کے لیے ایک لمبے مضمون کی ضرورت ہے خصوصاً جب ان کو بیان کرنے کے بعد ان کا تجزیہ بھی کیا جائے تو کلام بہت ہی طویل ہوجائے گا اور یہ بحث بھی یہاں فضول ہے پھر یہ بھی کہ نفی کس مزدوری کے طلب کرنے کی گئی ہے قرابت کی محبت کسی بات کی مزدوری نہیں ہے بلکہ قرابت کے حقوق میں سے ایک حق ہے جو آپ کا غصب کیا جا رہا تھا اور وہ موقع و محل کی مناسبت سے آپ ﷺ نے ان کو جتا دیا ہے کہ میرا قرابت کا حق جو تم نے چھین رکھا ہے میں چاہتا ہوں کہ تم اس کو بحال کر دو اور اس کے لیے { مودۃ فی القربیٰ } کا لفظ بہت ہی موزوں ہے کہ وہ حق قرابت قرابت کی محبت ہی کے باعث قائم ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں ودیعت کردی ہے اور حقوق و فرائض کی فہرست چونکہ بہت طویل ہے اور اس فہرست کے متعلق قرابت کی محبت بھی ہے اس لیے آپ ﷺ نے اس کا ذکر کیا ہے اور یہ بات اس سے پہلے قریش کی مجلس خاص میں بھی بہت دفعہ ہوچکی تھی کہ اہل قریش کو محمد ﷺ کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے بلکہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دینا چاہئے اگر وہ کامیاب ہوگیا تو من حیث القوم وہ قریش ہی کی کامیابی ہے اور اگر وہ ناکام ہوتا ہے تو خود بخود اپنے انجام کو پہنچ جائے گا اور تمہارا تعاون چونکہ اس کے ساتھ نہیں ہے اس لیے اس کی ناکامی میں بھی تمہارا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ اس وقت آپ ﷺ کی مراد بھی فقط یہی ہے کہ تم اگر میری دعوت کو تسلیم نہیں کرتے اور اس کو غور سے سننے کے لیے تیار نہیں تو کم از کم اتنا تو خیال کرو کہ میرے اور تمہارے درمیان ایک قرابت کا رشتہ قائم ہے جو فطری رشتہ ہے تم اس فطری رشتہ کی محبت کو بھی غصب کر رہے ہو حالانکہ اس کا حق تم کو عام سوسائٹی کے لحاظ سے بھی نہیں پہنچتا اور یہ وہی بات ہے جو خود اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے فرمائی کہ ” اے بنی اسرائیل ! اس کلام پر ایمان لاؤ جو میں نے نازل کیا ہے اور جو اس کلام کی تصدیق کرتا ہوا نمایاں ہوا ہے جو تمہارے پاس موجود ہے اور ایسا نہ کرو کہ اس کے انکار میں پہلا قدم جو اٹھے وہ تمہارا ہی ہو۔ “ رسول اللہ ﷺ نے قریش کو مخاطب کر کے قرابت کے اشتراک کی طرف توجہ دلائی ہے جو ایک فطری بات ہے اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے اپنے پیغام کی یکسانیت اور اشتراک کی طرف توجہ دلائی ہے جو ایک فطری چیز ہے۔
زیر نظر آیت میں جو بات بیان کی گئی ہے بعینہٖ یہی بات قرآن کریم نے دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمائی ہے کہ { قل ما اسئلکم علیہ من اجرٍ الامن شآء ان یتخذ الی ربہ سبیلاً } (الفرقان :57) ” اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان سے کہہ دیں کہ میں اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں طلب کرتا مگر ہاں ! یہ کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کی راہ اختیار کرلے۔ “ ظاہر ہے { من شآء ان یتخذ الی ربہ سبیلاً } جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کی راہ اختیار کرے کسی طرح بھی مزدوری اور اجرت نہیں ہو سکتی البتہ ایک بات کرنے کا طریقہ ہے کہ جس بات کو آپ ﷺ کرنا چاہتے تھے اس کے لیے ایک راہ نکال لی ہے کہ شاید وہ اس طرح بات سننے کے لیے تیار ہوجائیں اور یہ بات ہر نبی و رسول کی دلی خواہش تھی کہ قوم تک بات پہنچانے کے لیے کوئی نرم گوشہ مل جائے جس سے بات قوم تک پہنچ جائے کہ شاید وہ اس طرح دوزخ کا ایندھن بننے سے بچ جائیں۔ اور اس اسلوب بیان کی وضاحت سورة المومنون کی آیت 71 سے 74 تک کے مضمون کو پڑھنے سے صحیح سمجھ میں آ سکیش ہے۔ اس لیے جلد ششم میں سورة المومنون کی محولہ آیات کی تفسیر غور سے پڑھ لیں بات مزید واضح ہوجائے گی۔ ان شاء اللہ العزیز۔
جو کچھ مفسرین نے زیر نظر آیت کے مفہوم میں بیان کیا ہے اس کو ان کی تفاسیر میں دیکھا جاسکتا ہے یہاں اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں البتہ ایک بات جو ہمارے پرانے مفسرین نے زیادہ پسند کی ہے وہ یہ ہے کہ ” میں تم سے اس کام پر کوئی اجر اس کے سوا نہیں چاہتا کہ تم میرے اقارب سے محبت کرو۔ “ بلاشبہ آپ ﷺ کے اقارب میں سے جو آپ ﷺ پر ایمان لائے ان کی محبت ہر مسلمان کے دل میں ہونی چاہئے اور بحمد اللہ ہے اور اس میں افراط وتفریط کی آمیزش بھی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ افراط عیسائیت ہے اور تفریط یہودیت لیکن بدقسمتی سے اس معاملہ میں قوم مسلم افراط کا شکار بھی ہوئی اور تفریط کا بھی جو کسی حال میں بھی جائز اور درست نہ تھی اور نہ ہے اور نہ ہونی چاہئے۔ رہے وہ لوگ جو آپ ﷺ کے قریبی تھے لیکن آپ ﷺ پر ایمان نہ لائے تو ان سے محبت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور یہ بھی کہ اسلام میں حسب و نسب کے قرب سے اعمال صالحہ اور فرمانبرداری کے قرب کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے ہاں ! حسب و نسب کا قرب بھی ہو اور اعمال صالحہ اور فرمانبرداری کا قرب بھی تو وہ بلاشبہ سونے پر سہاگہ ہے۔ آپ ﷺ کے اہل بیت اور صحابہ کرام ؓ کی جائز اور صحیح محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے لیکن یہ کسی حال میں بھی نبی اعظم و آخر ﷺ کی نبوت و رسالت کا اجر نہیں۔ ہاں ! اس کو شجر ایمان کا ثمر کہا جاسکتا ہے اور بار آور ہونے والے درخت کا بار آور ہونا خوشی کا باعث ہے اللہ کرے کہ یہ تا قیام قیامت بار آور ہوتا رہے اور خیال رہے کہ جب بھی اہل بیت کا ذکر آئے تو اس میں امہات المومنین سرفہرست رہیں گی اور ان کے بعد الاقرب فالاقرب۔ اس لیے زیر نظر آیت میں اس نظریہ کا کوئی تصویر نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس طرح کی بحث چھیڑنا قرآن کریم کی روح سے دور ہونا ہے کیونکہ یہ سورت مکی ہے اور مکہ میں جو صورت حال تھی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور جن اقارب کو یہاں مفسرین نے گنوایا ہے ان میں بیشتر ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اور جو موجود تھے ان میں بیشتر آپ ﷺ کے نظریہ کے سخت مخالفت تھے۔
{ مودۃ } کا لفظ قرآن کریم میں سات بار استعمال ہوا ہے ایک تو اس جگہ سورة الشوریٰ میں۔ 2۔ سورة النساء کی آیت 73۔ 3 سورة المائدہ کی آیت 82۔ 4۔ سورة العنکبوت کی آیت 25۔ 5۔ سورة الروم کی آیت 21۔ 6 ، 7۔ سورة المتحنہ کی آیت ایک اور آیت 7 میں۔ ان جگہوں کا مطالعہ کرنے سے ان شاء اللہ ہمارے اختیار کیے گئے مطلب کی مزید وضاحت ہوجائے گی اور اس کے مفہوم کی وسعت سے دل اس بات پر جم جائے گا کہ جو ہم نے عرض کیا ہے وہی قرآن کریم کی اصل مراد ہے اور آنے والا مضمون بھی اس زیر نظر آیت کا گواہ ہے۔
فرمایا ” جو شخص بھی نیکی کرتا ہے ہم اس کے لیے اس میں خوبی بڑھاتے ہیں بلاشبہ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور قدر دان ہے۔ “ { یقترف } کی اصل ق رہے جس کے معنی کھانے ہیں { یقترف } واحد مذکر غائب ماضرع مجزوم { یقترف } مصدر (افتعال) کمائے گا۔ اس طرح گویا آپ ﷺ نے قریش سے بات کرتے ہوئے مخاطبین کو بتا دیا کہ تمہاری نیکی سے اللہ تعالیٰ کا کوئی فائدہ یا تمہاری برائی سے اللہ کا کوئی نقصان نہیں ہوگا ، نیکی کا فائدہ ہے تو وہ بھی تمہارا اور برائی کا نقصان ہے تو وہ بھی تمہارا۔ ہاں ! اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کا یہ خاص فضل و کرم ہے کہ وہ نیکی کرنے والوں کے اجر میں اضافہ فرماتا ہے اس لیے جب اس نیکی کا اس کو اجر ملے گا تو وہ پہچان بھی نہیں پائے گا کہ اتنا اجر میری نیکیوں کا ہو سکتا ہے اس کی وضاحت احادیث میں خوب کی گئی ہے اور نیکی کو مادہ جانور سے تشبیہہ دے کر سمجھایا گیا ہے کہ جس طرح ایک مادہ جانور سے بیسیوں ، سینکڑوں اور ہزاروں بن جاتے ہیں اسی طرح چھوٹی نیکی بڑھتے بڑھتے پہاڑ بن سکتی ہے بشرطیکہ تم نے اس کو زندہ رہنے دیا اور یہی بات اس جگہ ارشاد فرمائی کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی درگزر کرنے والا اور قدر دان ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ تمہاری ایک نیکی کو بھی بڑھا کر بہت بڑا کردیتا ہے جب کہ تم اس کی رضا کے لیے وہ نیکی کرو اور ظاہر ہے کہ اس میں کسی شخص کے حسب و نسب کا کوئی تعلق نہیں بلکہ بلکہ یہ ضابطہء عام کا بیان ہے اور یہی ہمارا مطلوب باین ہے۔ فللہ الحمد۔
Ayah 42:24کفار آپ ﷺ پر الزام لگاتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے
24۔ مثل ہے کہ چور کو چور ہی سوجھتا ہے۔ جن لوگوں کا کام دن رات نئے نئے جھوٹ گھڑتا ہے کیا ان کو نبی اعظم و آخر ﷺ بھی اپنے ہی جیسا ایک جھوٹ گھڑنے والا آدمی نظر آیا ہے ؟ ان کو معلوم نہیں کہ جھوٹ کے پاؤں کہاں ؟ کیا یہ نہیں جانتے کہ جھوٹ کی ناؤ نہیں چلتی ؟ دراصل یہ خود جھوٹے ہیں اس لیے اگر یہ لوگ جھوٹ نہ بولیں تو ان کے پیٹ اپھر جاتے ہیں لیکن ان کو اچھی طرح سن لینا چاہئے کہ جھوٹے کا منہ کالا ، سچے کا بول بالا بھی مثال عام ہے۔ کفار نے آپ ﷺ کے دعویٰ رسالت کو جھٹلاتے ہوئے کہا کہ محمد ﷺ نے یہ جو دعویٰ رسالت کیا ہے تو یہ سرا سر اللہ پر جھوٹ باندھا ہے۔ اگر بات ایسی ہوتی جیسے یہ لوگ کہہ رہے ہیں تو اللہ نے آپ ﷺ کے دل پر کبھی کی مہر لگا دی ہوتی کیونکہ قانون الٰہی یہ ہے کہ جھوٹ اور افتراء کرنے والے کے دل پر اللہ مہر لگا دیتا ہے جیسے ان لوگوں کے دلوں پر مہریں لگا دی گئی ہیں جو نیکی کی دعوت کو قبول نہیں کرتے اور نیکی کی دعوت دینے والے پر الزام دیتے ہیں کہ تم جھوٹ گھڑ رہے ہو۔ حالانکہ وہ بظاہر تسلیم کریں یا نہ کریں انکے دل اس بات کو مانتے اور تسلیم کرتے ہیں کہ محمد ﷺ زبان کے سچے ، امانت کے پکے ، نیکی کرنے والے اور نیکی کی دعوت دینے والے ہیں۔ آپ سیدنا نوح (علیہ السلام) کی سرگزشت سے شروع کرکے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) تک کی سرگزشت تک ایک ایک کو پڑھتے چلے جائیں آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ نے کس طرح جھوٹ کو جھوٹ اور سچ کو سچ کر دکھایا اس سے یہ بات سمجھ کر کہ یہ سنت اللہ ہے کہ وہ باطل کو مٹاتا اور حق کو اپنے فرمانوں سے حق کر دکھاتا ہے اس لیے آپ ﷺ اے پیغمبر اسلام ! ان کی ان باتوں سے دل تنگ نہ ہوں اور جو یہ کہتے ہیں ان کو کہنے دیں اور آپ ﷺ اپنا کام پوری دلجمعی کے ساتھ کرتے جائیں۔ آپ ﷺ کا رب جانتا ہے کہ آپ ﷺ پر اس طرح کے الزامات لگانے والوں نے کیا کچھ سوچ کر آپ ﷺ پر یہ الزام لگایا ہے وہ ان کی ساری کوششوں سے خوب اچھی طرح واقف ہے اور آپ ﷺ یقین رکھیں کہ وہ کبھی اس سازش میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور انجام کار جھوٹوں کا منہ کالا ہوگا۔
Ayah 42:25اللہ نے اپنے قانون کے مطابق ان کو ڈھیل دے رکھی ہے اگر وہ توبہ کرنا چاہیں تو کر لیں
25 ؎ مخالفین جب آپ ﷺ پر اس طرح کے الزامات دے رہے تھے ان میں بلاشبہ ایسے لوگ بھی تھے جو بعد میں ایمان لانے والے تھے اس لیے اس بذات الصدور ذات نے ان کے ایمان لانے کے لیے خود ہی گنجائش پیدا کردی کہ یہ گنجائش پہلے ہی پیدا کی جا چکی تھی اس وقت اس کے اعلان کا وقت تھا اس لیے بروقت اس کا اعلان کردیا کہ اگر وہ سب یا ان میں سے کوئی بھی جو سچے دل سے توبہ کرنا چاہے وہ توبہ کر کے اپنے کیے اور کہے پر خود ربر پھیر دے یا لکیر لگا دے تو یقینا اس کو معاف کردیا جائے گا کیونکہ اللہ ربِّ کریم سب کا اللہ اور رب ہے اور بندے خواہ کتنے ہی برے اور گناہوں میں لت پت ہوں بہرحال اسی کے بندے ہیں اور جب تک ناک میں دم باقی ہے اس نے سب کے لیے یکساں ڈھیل دے رکھی ہے کہ وہ اپنے کیے سے باز آجائیں تو اللہ کو معاف کر دے گا اور ان کے گناہوں کو معاف کر دے گا اور اس طرح کے جو الزامات انہوں نے لگائے ہیں اگر وہ چ سے دل سے توبہ کرلیں تو ان سے درگزر کردی جائے گی وہ ان کے پہلے کیے گئے اعمال سے بھی اچھی طرح واقف ہے اور آئندہ بھی جو کچھ وہ کریں گے وہ اس کو جانتا ہے اور ان کی ہر حالت سے وہ اچھی طرح واقف ہے۔
Ayah 42:26ایمان لانے والوں اور اچھے عمل کرنے والوں کو وہ اپنے فضل سے نوازے گا
26 ؎ کوئی شخص بھی جب ایمان لانے کے بعد ربِّ ذوالجلال والا کرام سے اپنے گزشتہ گناہوں کی معافی چاہتا ہے تو یقینا وہ اس کو معاف کردیتا ہے اس لیے کہ وہ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا اور ان کو قبولیت بخشتا ہے اور نیک عمل کرنے والوں کے برے اعمال کو وہ مٹا دیتا ہے۔ توبہ کرنے سے پہلے انہوں نے جو کچھ بھی کیا اس میں سے اگر وہ حقوق العباد کے متعلق ہے تو وہ ایمان لانے کے ساتھ اس کا احساس کریں گے کہ اپنی زیادتیوں کی اصلاح کرتے ہوئے ان لوگوں سے معاف کرا لیں جن سے انہوں نے زیادتی کی ہے اور حقوق اللہ میں سے اللہ ربِّ کریم کا پہلے ہی اعلان موجود ہے کہ سچے دل سے توبہ کرنے والوں کی میں توبہ قبول کرتا ہوں تو وہ یقینا ان کے یہ گناہ معاف کر دے گا جب تک اس دنیا کی زندگی میں وہ زندہ ہیں کسی وقت بھی اپنی اصلاح توبہ سے کرسکتے ہیں اور رہے وہ لوگ جو اپنے کفر پر قائم رہنا چاہتے ہیں یا اب وہ کفر کے ساتھی بن رہے ہیں تو ان کی اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے ہیں اور کوئی نہیں جو ان کو اس عذاب سے بچا سکے بلاشبہ جو دل کے زندہ ہیں وہ اس دعوت کو قبول کریں گے اور جن کے دل مردہ ہو چکی ہیں اگر وہ آج نہیں سمجھ رہے تو یقینا آنے والے کل کو وہ بھی جان جائیں گے۔ اس کی مزید وضاحت دیکھنا مطلوب ہو تو عزوۃ الوثقی جلد سوم ، سورة الانعام کی آیت 36 کا بغور مطالعہ کریں اور اس کی تفسیر دیکھیں۔