Ayah 42:27رزق کی تقسیم میں اگر باقاعدہ ایک نظام قائم نہ ہوتا تو زمین میں فساد بپا ہو جاتا
27 ؎ انسان کو جو کچھ اس دنیوی زندگی میں دیا گیا ہے وہ سب کا سب رزق ہی کے ضمن میں آتا ہے خواہ وہ سونے چاندی کے ذخائر ہوں یا غلہ جات کے ڈھیر ہوں۔ خواہوہ اولاد ہو اور خواہ اقتدار کے عہدے ہوں مختصر یہ کہ انسان کو جو کچھ بھی ملا ہے یا مل سکتا ہے سب چیزوں پر رزق کا اطلاق ہوتا ہے اگر اس رزق میں سے ہر طرح کا رزق یا کسی خاص قسم کا رزق اس طرح فراخ کردیا جاتا کہ اس کے لیے تگ و دو کرنے کا قانون نہ بنایا ہوتا اور انسانی سعی و کوشش کا اس میں عمل دخل نہ رکھا جاتا تو بلاشبہ زمین میں بغاوت پھیل جاتی اور سینگ والی بکری بےسینگ بکری کے حصہ میں کچھ نہ آنے دیتی لیکن اللہ ربِّ کریم نے اس کا ایک نظام قائم کردیا ہے کہ بڑے بڑے ذکر و فکر اور علم و عرفان کے دعوے کرنے والے صندوق کو صنگوت کہنے والوں کے دروازوں پر دستک دیتے نظر آتے ہیں اور نہایت ادب و احترام کے ساتھ ان کو سلام پیش کرتے ہیں اور دوسری طرف اس مال و متاع کے نشے میں چور ایسے بھی ہیں کہ وہ نیک اور صالح لوگوں کو کبھی خاطر میں لانے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے اور ان سے بیٹھنا ، اٹھنا اور چلنا پھرنا وہ اپنی توہین سمجھتے ہیں جس مجلس میں یہ غریب لوگ بیٹھے ہیں اس مجلس میں وہ بیٹھنا کبھی پسند نہیں کرتے۔ جس دکان پر وہ روز مرہ زندگی کا سودا سلف خریدتے ہوں وہ اس دکان کے دروازے کی طرف بھی نہیں جھانکتے وہ پھیکا پکوان خریدیں گے لیکن اونچی دکان سے۔ یہ چیزیں دیکھ کر ہم باور کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس حکمت کے تحت رزق کی تقسیم کی ہے کہ ہر فراخ رزق والا بھی محتاج ہے اس مزدور کا جس کو وہ کسی حال میں بھی برداشت نہیں کرسکتا تھا اگر اس کو اس کی محتاجی نہ ہوتی۔ اس لیے یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں ہے کہ یہ راز اللہ ربِّ کریم ہی کو معلوم تھا تو اس نے رزق کے دروازے اس طرح نہیں کھول دیئے کہ جس کا جی چاہے اور جتنا بھی چاہے وہ رزق اٹھا کرلے آئے بلکہ اس نے اس کے ساتھ انسان کی سعی و کوشش کو بھی ایک خاص طریقہ سے لگا دیا ہے اور رزق کے دروازے کی چابی بھی اپنے ہی پاس رکھی ہے پھر جتنا چاہتا ہے اتنا نازل کردیتا ہے کیونکہ آسمان رزق برساتا ہے تو اس کے حکم سے ، زمین بار آور ہوتی ہے تو اس کے حکم سے ، آسمان کو برسنے کی حالت میں لاتا ہے تو وہی لاتا ہے اور زمین کو اگانے کی حالت میں لاتا ہے تو وہی لاتا ہے۔ ان دونوں کے جوڑ کو جوڑا ہے تو اسی نے جوڑا ہے وہ بندوں کی حالت سے بھی اچھی طرح باخبر ہے اور وہ یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے اور کس نیت سے کر رہا ہے۔
Ayah 42:28لوگوں کی احتیاج کو پورا کرنے کے لیے بارش کو برساتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی برساتا ہے
28 ؎ انسان جوں جوں ترقی کرتا ہے اس کی ساری ترقیاں اس بات کی دلیل ہیں کہ انسان کہاں سے کہاں پہنچ جائے لیکن اس کی محتاجی کبھی ختم نہیں ہو سیتا۔ وہ جتنے وسائل بروئے کار لاسکتا ہے لاتا جائے اور جتنی ترقیاں کرسکتا ہے کرتا جائے پھر بھی وہ محتاج کام حتاج ہے پھر تعجب ہے کہ جوں جوں ترقی کرتا جائے اس کی احتیاج اسی قدر بڑھتی چلی جائے۔ اس نے اس دنیا کا نظام بھی کچھ اس طرح بنایا ہے کہ انسان کی طلب کبھی ختم نہیں ہو سکتی اِلاّ یہ کہ اس زمین کی مٹی اس کے منہ کو بند کر دے اور وہ کبھی بول ہی نہ سکے۔ غور کرو کہ اس نے دریا بہائے ، نہریں کھودیں ، ٹیوب ویل چلائے لیکن اگر اللہ تعالیٰ بارش کے عمل کو روک دے تو اس کو یہ ساری چیزیں کفایت کرسکتی ہیں ؟ یہ تو ایک مثال ہے اس پر غور کرتے جائیں اور ایک ایک چیز کو سامنے رکھ کر غور کریں یقینا آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ انسان کی احتیاج کبھی پوری نہیں ہو سکتی بلکہ وہ دن بدن بڑھ رہی ہے اور یقینا بڑھتی ہی جائے گی۔ کسی ایک ادنیٰ سے ادنیٰ چیز کو آپ لے لیں اور غور کریں کہ اس ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف اس نے ترقی کی اور ترقی کرتے کرتے فضاؤں کی حدود کو چیرنے لگا لیکن اس ادنیٰ سے ادنیٰ چیز کی احتیاج ابھی تک اس کی ختم نہیں ہوئی مثلاً ایک وقت تھا کہ انسان اونٹ ، گھوڑے ، گدھ ، خچر اور بغلہ کو سواری کے جانور سمجھتا تھا پھر اس نے تانگہ ، بگھی ، سائیکل ، ٹم ٹم ، ریل گاڑی ، موٹر سائیکل ، کاریں ، بسیں وینگیں ، کو چیں ، ہوائی جہاز ، جمبو جیٹ اور بیسیوں نام کی چیزیں ایجاد کیں اور ابھی کرتا ہی چلا جا رہا ہے لیکن کیا اب وہ اونٹ ، گھوڑے ، گدھے ، خچر اور بغلہ سے بےنیاز ہوگیا اور کیا ان کی اس کو کوئی ضرورت نہیں رہی آپ یقین جانیں گے یا نہیں لیکن انسان کو ان ساری چیزوں میں ہر ایک کی احتیاج پہلے سے بھی زیادہ ہے۔ کبھی وہ وقت تھا کہ پوری دنیا کی پیداوار کا انحصار محض بارش پر تھا لیکن انسان نے ترقی کی تو اس نے کنوئیں اور نہریں کھودیں ، نل اور ٹیوب ویل چلائے اور پھر بہت بڑے بڑے ڈیم تیار کیے لیکن کیا اب اس کو بارش کی احتیاج نہ رہی یا وہ پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی جب کہ اس کی ان ساری ایجادات کا انحصار اس بارش پر ہے۔ اس طرح آپ ایک ایک چیز کو سامنے رکھ کر غور کرتے جائیں اور دیکھتے جائیں تو نتیجہ سب کا یکساں رہے گا۔ اس لیے تم تسلیم کرو نہ کرو لکین یہ مشاہدہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ کارساز حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور وہی انسان کی حمد و شکر کا مستحق ہے جو انسان کی ان ساری احتیاجوں کو پورا کر رہا ہے اور جن چیزوں کے بل بوتے انسان یہ ساری ایجادات کر رہا ہے ان سب کا میٹریل (Material) بھی اسی ربِّ ذوالجلال والا کرام کا تخلیق کردہ ہے اور پھر جس ذہن و دماغ سے انسان نے ان ساری ایجادات کو ایجاد کیا ہے وہ بھی اسی ربِّ کریم کا عطا کردہ ہے اور سب سے بڑھ کر کمال اس ذات بےنیاز کا یہ ہے کہ کوئی اس کی ربوبیت و خالقیت کو تسلیم کرے یا نہ کرے وہ برابر اپنی ان صفات کا مظاہرہ کرتے چلا جا رہا ہے اور کسی کو بھی ان سے محروم نہیں کرتا پھر کیوں نہ کہا جائے کہ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔
Ayah 42:29زمین کی طرح آسمانوں میں بھی ذی روح اور چلنے پھرنے والی مخلوق موجود ہے
29 ؎ { بثَّ } کا مادہ ب ث ث ہے اور { بثَّ } کا لفظ قرآن کریم میں چار بار استعمال ہوا ہے۔ سورة البقرہ کی آیت 164 ، سورة النساء کی آیت 1 ، سورة لقمان کی آیت 10 میں اور ایک بار اس جگہ سورة الشوریٰ میں اور اس مادہ کے الفاظ قرآن کریم میں جو استعمال ہوئے ہیں { یبثُّ } (الجاثیہ :4) { المبثوث } (القارعہ :4) { مبثوثۃٌ} (الغاشیہ :16) { منبثاًّ } (القواقعہ :6) { بثی } (یوسف :86) صرف ایک ایک بار استعمال ہوئے ہیں۔ بث اس نے بکھیرا ، اس نے پھیلایا۔ بث سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اور دراصل { بث } کے معنی کسی چیز کے پراگندہ کرنے اور ابھارنے کے ہیں اس لیے ہوا سے خاک اڑانے ، غم سے بےقرار ہوجانے اور راز کے افشا کرنے کے لئے { بث } کا استعمال ہوتا ہے اور اس سے بکھیرنے کا مفہوم پیدا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے آسمانوں کام نہیں پھر یہی نہیں کہ ان سب کو پیدا کرکے چھوڑ دیا ہے نہیں بلکہ ان سب کا پورا پورا بندوبست بھی کردیا ہے کہ سردی گرمی سے بچنے کا لباس ، ضرورت اور حالات کے مطابق پنجے ، دانت اور نوکدار چونچیں عطا کردی ہیں اور پھر ان سب میں زیادہ کمزور انسان تھا جس کو عقل و فکر اور سمجھو سوچ کی فطری اور طبعی قوت عطا فرما کر سب پر فوقیت عطا کردی ہے اور یہ سب کچھ کرنے والی ذات اللہ وحدہٗ لاشریک لہ جس طرح ان ساری مخلوقات کو پھیلانے پر قادر ہے ان کو جمع کرنے پر بھی قدرت رکھتا ہے اور وہ یقینا جب چاہے گا ان کو اکٹھا کر دے گا۔ بلاشبہ اس کی ساری مخلوقات میں سے اشرف المخلوقات انسان ہے اور جو کچھ اس نے پیدا کیا ہے سب کا سب انسان ہی کے استفادہ کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے سامنے اپنے کیے کا جوابدہ ہے تو وہ بھی انسان ہی ہے اور وہی اس بات کا اہل ہے کہ اس کو نیک و بد کا صلہ دیا جائے اور وہ یقینا اس کو دیا جائے گا۔ زیر نظر آیت میں ایک بات مزید قابل غور ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کا ذکرک رنے کے بعد ان دونوں کے درمیان نہیں بلکہ ان دونوں میں چلنے پھرنے والی مخلوق کا ذکر کیا ہے پھر ان دونوں میں سے ایک یعنی زمین میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چلنے پھرنے والوں میں سے پیدا فرمایا ہے اس کو ہم دیکھ رہے ہیں لیکن آسمانوں میں بھی کیا چلنے پھرنے والی مخلوق یا مخلوقات موجود ہیں ؟ اس سوال کو اکثر و بیشتر مفسرین نے نہیں اٹھایا لیکن بعض نے اٹھایا بھی ہے ” اس کا جواب یہ ہے کہ لفظ سماء جس طرحآسمان کے لیے آتا ہے اس یطرح اس فضا کے لیے بھی آتا ہے جس میں پرندے پرواز کرتے ہیں۔ “ (تدبر ج 7 ص 171) لیکن مودودی (رح) نے تحریر کیا ہے کہ ” یہ کھلا اشارہ ہے اس طرف کہ زندگی صرف زمین پر ہی نہیں پائی جاتی بلکہدوسرے سیاروں میں بھی جانار مخلوق موجود ہے۔ “ (تفہیم ج 4 ص 505) لیکن اس تفسیر سے بہت پہلے مولانا محمد علی لاہوری (رح) نے 1922 ء میں اپنی تفسیر میں تحریر کیا کہ ” اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دیگر کرہ ہائے سماوی جانداروں سے خالی نہیں۔ “ (ترجمان القرآن ج 2 ص 1224) اور عبدالماجد دریا بادی (رح) نے تحریر فرمایا کہ ستاروں میں حیوانی آبادی اگر کسی دلیل قوی سے ثابت ہوجائے تو آیت کے معنی پر مزید روشنی پڑجائے گی۔ (تفسیر ماجدی ج 2 ص 972) شبیر احمد عثمانی رقمطراز ہیں کہ ” آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی طرح آسمانوں پر بھی جانوروں کی قسم سے کوئی مخلوق پائی جاتی ہے۔ “ (تفسیر عثمانی ص 647) مفتی محمد شفیع (رح) فرماتے ہیں کہ ” اور یہ بھی ممکن ہے کہ آسمانوں میں کچھ ایسے جانور موجود ہوں جو ابھی تک انسان کے علم میں نہیں آئے۔ “ (معارف القرآن ج 7 ص 701) مسلمان سائنس دانوں کے لیے ابھی بہت گنجائش موجود ہے اس وقت تک جو ظاہر ہوا ہے بلاشبہ وہ بھی حیران کن ہے لیکن ابھی بہت ظاہر ہونے والا ہے۔ ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے مسلمان سائنس دان کو بھی توفیق دے کہ وہ قرآن کریم کے ایسے ایشاروں پر خوب دھیان دیں اور جس بات کو اب علمائے اسلام بھی دبی زبان سے کہہ رہے ہیں اس کو زیادہ کھلی زبان سے کہنے پر قدرت حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ کی اس کائنات میں ابھی نہ معلوم کتنی مخلوق ہے جو ظاہر نہیں ہوئی اور جب وہ ظاہر ہوگئی تو کیا کیا نئے انکشافات ہوں گے عین ممکن ہے کہ انسان اس خوراک کا محتاج نہ رہے اور اس کی زندگی کا باعث کسی اور طرح کی خوراک موجود ہو اور انسان کو اس طرح کی فکر معاش نہ رہے پھر اس طرح تبدیلیاں ہوتے ہوتے وہ بالکل ہی ایک مختلف نظام کی طرف منتقل ہوجائے۔ جی چاہتا ہے کہ کچھ مزید کہہ دیا جائے لیکن شاید اس کا ابھی وقت نہیں آیا۔ آنے والے مسافروں کے لیے بھی کچھ باقی رہنا چاہئے۔ بلاشبہ قرآن کریم ابدی کتاب ہدایت ہے اور یہ بات بھی اپنی جگہ صحیح اور درست ہے کہ اب اس کے اشارات بہت تیزی سے کھلتے جا رہے ہیں اور صدیوں کی تبدیلیاں اب سالوں میں رونما ہو رہی ہیں لیکن مسلمان قوم ابھی تک بیدار نہیں ہوئی اگرچہ ہم اس سے کہہ رہے ہیں کہ ع
قم قم یا حبیبی کم تنام
Ayah 42:30جو مصیبت بھی انسانوں پر آتی ہے وہ ان کے اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہے
30 ؎ ” تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آتی ہے “۔ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کے قانون مشیت کا ہے جو اس دار فانی کے لیے بنایا گیا ہے جو نیک و بد اور امیر و غریب سب کے لیے یکساں ہے اور یہ تمام انسانوں کی اجتماعی زندگی کا فیصلہ ہے جو { اصابکم } اور { کسبت ایدیکم } کے الفاظ بالکل واضح ہے اور اس میں سمجھایا گیا ہے کہ اس دار فانی کی معاشرتی زندگی میں ہر انسان دوسرے انسان کے عمل سے متاثر ہوتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ ” الف “ کا عمل ” ب “ سے ” ی “ تک سب کو متاثر کر دے اور ” الف “ پر اس کا کوئی اثر نہ پڑے گا جس طرح دار فانی کے لیے وہ ضروری نہیں ٹھہرایا اور نہ ہی وہ ضروری ٹھہرایا جاسکتا تھا ، کیوں ؟ اس لیے کہ اس دار فانی ہی میں یہ قانون ضروری ٹھہرایا گیا ہوتا تو آخرت کی زندگی انسان کے لیے ضروری نہ ہوتی بلکہ بالکل بےفائدہ ٹھہرتی۔ اس قانون کے تحت آخرت کی زندگی لازم ٹھہری ہے کہ ہر عامل کا عمل فقط اس کو متاثر نہیں کرتا بلکہ اس سے دوسرے متاثر ہوتے ہیں ، ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ظالم ظلم کرتا ہے اور ساری زندگی ہی کرتا رہتا ہے ، اس کے ظلم سے بیسیوں ، سینکڑوں ، ہزاروں اور بعض اوقات لاکھوں اور کروڑوں انسان متاثر ہوتے ہیں اس طرح گویا عمل مکافات بھی اس کے سامنے بےکار ہو کر رہ جاتا ہے اس لئے ضروری تھا کہ اس کے لیے اپنے اس کیے کی سزا پانے کے لئے کوئی اور ماحول ، کوئی اور جگہ اور قانون ہوتا۔ اسلام نے ہم کو بتایا کہ اس دن کا نام قیامت کا دن ہے وہ دن جب قائم ہوگا نہ دنیا یہ دنیا ہوگی اور نہ آسمان یہ آسم انہوں گے بلکہ سارے کا سارا نظام ہی بدل دیا گیا ہو گا اور وہی دن ہے کہ اس دارالعمل کے کیے ہوئے اعمال کا بدلہ پورا پورا ہر عامل کو ملے گا یہ معاملہ اس دارالعمل میں اس لیے ضروری نہیں تھا کہ یہ دارالجزا ہی میں انسان کو مل سکتا تھا اور اس غرض کے لیے دارالجزا مقرر کیا گیا ہے اگر دارالعمل ہی میں ہر عامل کو اس کے عمل کہ بدلہ دیا جاسکتا ہوتا تو پھر دارالجزا کی ضرورت آخر کیا تھی ؟ یہی بات انبیاء کرام اور رسل عظام سمجھانے کے لیے آئے تھے وہ ساری ساری زندگی دکھوں ، مصیبتوں میں کاٹتے رہے اور اللہ کا یہ پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہے لوگ ان پر طرح طرح کے ظلم کرتے وہ لوگوں کے ہاتھوں قتل تک ہوتے رہے لیکن انہوں نے قتل ہونا اور جان دینا گاوارا کیا اور اس پیغام سیوہ باز نہ آئے کیونکہ ان کو دارالجزا کا پختہ یقین تھا اس لیے اپنی انفرادی ذمہ داری پوری کرتے رہے چونکہ وہ انسان تھے اس لیے دوسرے انسانوں ہی کے اعمال سے متاثر ہوتے رہے اور ظالموں کے ظلم کو برداشت کرتے رہے۔ بہرحال زیر نظر آیت میں یہی بات تفہیم کرائی گئی ہے کہ اس دارالعمل میں انسان کے ہر اچھے یا برے عمل سے دوسرے انسان بھی متاثر ہوتے ہیں اور بلاشبہ اچھے اعمال کا اچھا اثر رہتا ہے اور برے کا برا اور چونکہ ہر عامل کو اسی دارالعمل میں اس کا بدلہ دیا جانا ممکن نہیں تھا اس لیے اس کے لیے ایک دارالجزا مقرر کردیا گیا ہے پھر اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ابھی انسانوں کے بہت سے اعمال ایسے ہیں جن سے درگزر کرتا رہتا ہے کہ ان سے متاثر نہیں ہونے دیتا بلکہ اس کے اثر سے محفوظ کردیتا ہے اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کا اثر بالکل اس کے خلاف ہوتا ہے جو عمل کرنے والے کی نیت میں ہوتا ہے اور اس کی بیشمار مثالیں ہم روزمرہ زندگی میں دیکھتے رہتے ہیں۔ ایک آدمی ٹائم بم بڑی احتیاط کے ساتھ رکھتا ہے اور اس کی نیت میں یہ بات ہوتی ہے کہ فلاں مقام پر جہاں اس نے وہ ٹائم بم رکھا ہے اتنے آدمی یا فلاں فلاں آدمی اس کی زد میں آئے گا لیکن معلوم ہوجاتا ہے اور اس ٹائم بم کو پھٹنے سے پہلے کنٹرول کرلیا جاتا یا رکھنے والے سے کوئی بےاحتیاطی ہوجاتی ہے کہ وہ وقت پر نہیں پھٹتا یا جس کو مارنے کے لیے وہ سب کچھ کرتا ہے اس کا ارادہ وہاں جانے کا بدل جاتا ہے بہرحال جو وہ چاہتا ہے وہ نہیں ہو پاتا۔ غور کرو گے تو ہزاروں باتیں اور ہزاروں اعمال آپ کو ایسے مل جائیں گے جن کے متعلق قرآن کریم نے صرف دو الفاظ بول دیئے ہیں کہ { ویعفوا عن کثیر } بہت سے قصوروں سے وہ ویسے درگزر کرجاتا ہے۔
ہمارے مفسروں نے اس آیت کا مفہوم سمجھنے میں ٹھوکر کھائی ہے اور یہ سمجھے ہیں کہ شاید اس جگہ ہر انسان کے انفرادی عمل کا جو اس پر اثر پڑتا ہے یہ اس کا بیان ہے حالانکہ زیر نظر آیت میں اس کا ذکر مطلق نہیں ہے یہ حکم عام ہے اس میں کسی کو مسیٰن قرار نہیں دیا گا اور پوری انسانیت کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ یہ بات نہ سمجھنے کے باعث مفسرین کو جو پریشانیاں لاحق ہوئی ہیں اور جس طرح وہ ادھر ادھر چکر کاٹتے رہے ہیں اس کا بیان بہت لمبا ہے مثلاً ایک صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ” یہ خطاب کفار سے ہے جن کو اس دنیا میں جو تکلیفیں بھی پہنچتی ہیں ان کے اعمال کی پاداش ہی میں پہنچتی ہیں… اس آیت کا تعلق انبیاء ، صدیقین اور صالحین سے نہیں ہے ان کو جو مصائب پیش آتے ہیں وہ ان کے اعمال کی سزا کے طور پر نہیں بلکہ ابتلاء کے طور پر پیش آتے ہیں جن سے مقصود ان کے صبر کا امتحان ہوتا ہے اور یہ امتحان ان کے مدارج کی بلندی کا ذریعہ بنتا ہے۔ “ ایک بزرگ اس طرح رقمطراز ہیں کہ :
” مزید توحیج کے لیے یہ بیان کردینا بھی ضروری ہے کہ جہاں تک مومن مخلص کا تعلق ہے اس کے لیے اللہ کا قانون اس سے مختلف ہے اس پر جو تکلیفیں اور مصیبتیں بھی آتی ہیں وہ سب اس کے گناہوں ، خطاؤں اور کوتاہیوں کا کفارہ بنتی چلی جاتی ہیں۔ “ ان کو یہ توضیح کیوں کرنی پڑی اس لیے کہ وہ آیت کا مفہوم اس طرح سمجھے جیسا کہ انہوں نے تحریر کیا کہ ” واضح رہے کہ یہاں تمام انسانی مصائب کی وجہ بیان نہیں کی جا رہی بلکہ روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جو اس وقت مکہ معظمہ میں کفر و نافرمانی کا ارتکاب کر رہے تھے ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ تمہارے سارے قصوروں پر گرفت کرتا تو تمہیں جیتا ہی نہ چھوڑتا۔ “ ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ ” اس آیت میں ایسے لوگوں کی آنکھوں سے غفلت کا پردہ اٹھایا جا رہا ہے اور انہیں کہا جا رہا ہے کہ ذرا اپنے اعمال نامے پر ایک سرسری نظر ڈالو ، ذرا اپنے گریبان میں جھانکو یہ حقیقت خود عیاں ہوجائے گی کہ تمہیں تمہارے کرتوتوں کی سزا مل رہی ہے اللہ تعالیٰ تو بڑا کریم ہے اس نے تمہاری بیشمار غلطیوں اور سرکشیوں کو معاف کردیا ہے اگر تمہیں تمہاری بدکاریوں کی پوری سزا دی جاتی تو تمہارا نام و نشان بھی مٹ گیا ہوتا۔ “ ایک بزرگ ارشاد فرماتے ہیں کہ ” یہ خطاب عاقل بالغ لوگوں کو ہے گنہگار ہوں یا نیک مگر نبی اس میں داخل نہیں (اور نہ ہی چھوٹے بچے شامل ہیں) ان کے واسطے اور کچھ ہوگا۔ “ ایک صاحب زیر نظر آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ ” یہ آیت ان لوگوں کے لیے مخصوص ہے جن سے گناہ سرزد ہو سکتے ہیں انبیاء (علیہ السلام) جو گناہوں سے معصوم ہیں یا نابالغ بچے اور مجنون جن سے کوئی گناہ نہیں ہوتا ان کو جو تکلیف و مصیبت پہنچتی ہے وہ اس حکم میں داخل نہیں اس کے دوسرے اسباب اور حکمتیں ہوتی ہیں۔ “ ہم نے ان حوالوں میں مفسرین کرام اور تفاسیر کا حوالہ نہیں دیا لیکن یہ وہی تفاسیر ہیں جو متداول ہیں اور پیچھے بہت سے مقامات پر ان کے حوالے دیتے ہی آ رہے ہیں جو قارئین ان کا مطالعہ کرچکے ہیں یا کریں گے ان پر تفصیل واضح ہوجائے گی ہم کو سب کا احترام ہے اگر ہم اختلاف رکھتے ہیں تو اس کا کوئی یہ مطلب یہ سمجھے کہ ہمارے دل میں ان کا احترام نہیں ہے۔ ہاں ! ہم اندھی تقلید کے قائل نہیں اور اختلاف کے وقت ناموں کے ذکر کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ہم اس کو مناسب سمجھتے ہیں صرف اپنی تفہیم بیان کردینا کفایت کرتا ہے۔ یہ قارئین کی صوابدید ہے کہ وہ اگر ہمارے مفہوم سے متفق نہیں تو چاہیں جس تفہیم سے وہ متفق ہیں اس کو درست اور ہمیں غلط کہہ دیں ہماری التجا صرف یہ ہے کہ وہ جو کچھ کہیں وہ دلیل کے ساتھ کہیں اور ہمیں بھی آگاہ کردیں۔ ہم ان شاء اللہ اس پر مزید غور کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں جب تک اس دنیا میں موجود ہیں۔
اللہ کے نیک بندوں ، صالحین و متقین لوگوں یہاں تک کہ نبیوں اور رسولوں کو اس دنیا میں جن مصائب وپریشانیوں میں مبتلا ہونا پڑا بلاشبہ وہ انسانوں ہی کے اعمال کے باعث تھا اور ان نیک لوگوں کے مخالفین و معاندین سارے کے سارے انسان ہی تھے اور جنس انسانی ہی سے ان کا تعلق تھا انہوں نے ان کو محض اس لیے یہ تکالیف پہنچائیں اور یہاں تک کہ ان میں سے بعض کو قتل بھی کردیا کہ وہ ان کو برائیوں سے روکتے اور منع کرتے تھے ان کو توحید الٰہی کا درس دیتے تھے جو ان کو پسند نہیں تھا چونکہ دنیا کی طاقت ، دولت اور ثروت ان کے پاس تھی ، انہوں نے ان سہاروں کے باعث ان پر بہت مظالم ڈھائے اور اللہ کے نیک بندے اللہ کی رضا کے لیے ان کو برداشت کرتے رہے اور یہ ظلم و ستم ڈھانے والے اس دنیا میں عذاب الٰہی سے دوچار ہوئے اور آخرت بھی ان کی برباد ہوگئی کہ یقینا آخرت ہی میں ان کے برے عمل کی پوری پوری سزا دی جائیگی۔ رہی وہ تکلیفیں اور بیماریاں جو انسانوں ، حیوانوں ، بچوں ، بوڑھوں ، نیکوں اور بدوں کو طبعی طور پر آتی ہے تو ان میں بھی انسانوں کے اعمال کا دخل ہوتا ہے ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے تاہم اس میں اللہ تعالیٰ کا ایک طبعی قانون ہے جو اپنا کام کر رہا ہے انسانوں کو ان چیزوں کا تدارک کرتے رہنا چاہئے جتنا کہ وہ کرسکتے ہیں۔ اعمال تو بہرحال اعمال ہیں اگر ذرا غور کیا جائے تو انسانوں کے نظریات ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں جو مرئی چیز نہیں ہیں۔ ہم اس وقت جس عذاب میں مبتلا ہیں وہ محض نظریات کا لایا ہوا عذاب ہے کہ مخالفین اسلام نے نہایت گہری سازش کے تحت ہماری قوم کو ایسے نظریات دیئے ہیں جنہوں نے ہماری سیاست اور مذہب دونوں کو سخت گزند پہنچائی ہے اور ان کی پوری ہیئت بدل کر رکھ دی ہے۔
Ayah 42:31تمہارے کیے کا وبال بھی تم انسانوں ہی پر پڑتا ہے تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے
31 ؎ یہ بات بھی تمام نسل انسانی کو مخاطب کر کے کی جا رہی ہے کہ تمہاری ان کارستانیوں اور بداعتدالیوں کا وبال بھی تم ہی لوگوں پر پڑتا ہے تم اللہ تعالیٰ کو کسی معاملہ میں عاجز نہیں کرسکتے اس نے جو قوانین بنا دیئے ہیں ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے سے اللہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں ہے جتنا نقصان ہے وہ انسانوں کا اپنا ہی نقصان ہے۔ یہ اعمال انسانی کے نتائج کا ذکر ہے ورنہ کوئی کافر سے کافر انسان بھی بزبان قال یہ نہیں کہتا کہ میں اللہ کو عاجز کرنے کے لیے یہ کام کرنا چاہتا ہوں یہ دوسری بات ہے کہ کوئی ربِّ کریم کی ذات ہی سے انکاری ہو یا وہ اللہ ربِّ کریم کی ذات سے تو انکاری نہ ہو جس کے ساتھ وہ بات کر رہا ہو اس کے متعلق یہ سمجھے کہ جو بات یہ اللہ رب العالمین کے نام سے کر رہا ہے یہ بات اللہ کی نہیں ہو سکتی اور اس گمان کے باعث کوئی بات وہ زبان سے کہہ دے ہاں ! انسانوں میں سے بعض انسانوں کے اعمال ایسے ہوس کتے ہیں جن سے اس بات کا ثبوت نکلتا ہو جس کا ذکر اس آیت میں کیا جا رہا ہے اس لیے ایسے انسانوں کو بتایا جا رہا ہے کہ جب تم ایسے اعمال کرو گے تو چونکہ اعمال کے ساتھ نتائج وابستہ ہیں وہ نتائج بھی برآمد ہوں گے جو ان اعمال کے ساتھ وابستہ کردیئے گئے ہیں اور پھر جب نتائج ظاہر ہوں گے تو اللہ کے سوا کوئی مائی کے لال کی یہ ہمت نہیں ہوگی وہ تمہاری دوستی کے باعث تمہاری مدد کے لیے میدان میں آجائے اور ان نتائج سے تم کو دوچار نہ ہونے دے نہ یہ ممکن ہے کہ تم کو بچا کر نتیجہ اپنے سر لے لے اور نہ یہ کہ نتیجہ بھی روک دے یا موخر کر دے اگر اس راز کو انسان سمجھ جائے تو وہ کوئی قدم رضائے الٰہی کے خلاف اٹھا ہی نہ سکیں اور یہ بات بھی پوری نسل انسانی ہی کو مخاطب کر کے کہی جا رہی ہے کہ کسی ایک قوم یا کسی ایک گروہ کو مخاطب نہیں کیا گیا یہ بات دوسری ہے کہ کون یہ کارستانیاں اور بداعتدالیاں کر رہا ہے اور کون نہیں اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے پاس محفوظ ہے جو حساب ظاہر ہونے کے روز ظاہر ہو کر رہے گا اور ہر ایک کی پارسائی کا راز کھل جائے گا بلاشبہ سچ فرمایا گیا کہ { من زحزح عن النار فقد فاز }
Ayah 42:3232 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کے زمانہ میں بھی عربوں کے ہاں بحری تجارت ہوتی تھی اگرچہ وہ اتنے بلند پیمانہ پر نہ تھی تاہم وہ لوگ سمندری کشتیوں میں سفر کرتے تھے اور کشتیاں اگرچہ انسان ہی بناتے ہیں اور انسان ہی سوار ہوتے ہیں لیکن اگر انسان ذرا غور کرے تو اس کو معلوم ہوجائے کہ جس میٹریل (Material) سے یہ کشتایں تیار کی جاتی ہیں وہ کس نے تیار کیا ہے ؟ ایجادات کا سارا انحصار تو خام مال پر ہے اگر یہ خام مال نہ ہوتا تو کوئی شخص کیا کوئی چیز ایجاد کرلیتا ؟ وہ عقل و فکر جس کے بل بوتے پر انسان یہ سب کچھ کر رہا ہے وہ کہاں سے آئی ؟ وہ قدرتی ہوائیں جو ان کشتیوں اور سمندروں کو موافق آنے سے دنوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرا دیتی ہے وہ کس کے قبضہء قدرت میں ہیں ؟ وہ پانی جس پر یہ کشتیاں اور جہاز تیرتے ہوئے بلند سے بلند محلات کی طرح نظر آتے ہیں اس پانی میں یہ خاصیت کس نے رکھی ؟ انسان کا اس سارے قصہ میں کیا کردار ہے ؟ یہی کہ اس نے خداداد عقل و فکر سے اس خام مال کو ایک خاص طریقہ سے جوڑ دیا جب کہ ان چیزوں کے جڑنے کی صلاحیت اللہ نے رکھ دی تھی۔ اس صلاحیت کے باعث اس نے اس سے کام لے لیا بلاشبہ یہ انسان کا ایک کمال ہے لیکن اصل کمال تو اس ربِّ کریم کا ہے جس نے انسان کو بنایا جو میٹریل (Material) اس نے استعمال کیا اس کو بھی ، پھر کتنی ناقدری ہے کہ انسان اپنے کیے کو تو ایک بہت بڑا کمال تصور کرے لیکن جس نے یہ سب کچھ بنایا ہے اس کی طرف دھیان ہی نہ دے حالانکہ جس اللہ نے یہ سب کچھ بنایا ہے اس کے قبضہء قدرت میں اب ہر ایک چیز ہے اگر وہ چاہے تو ہوا کو حکم دے دے اور وہ ایک پل بھر میں اس سارے بنے ہوئے کھیل کو غرق کر کے رکھ دے اور نتیجہ یہ نکلے کہ نہ کشتی رہے اور نہ کشتی والا جیسا کہ آگے ذکر آ رہا ہے۔
Ayah 42:33اللہ تعالیٰ صرف ہوا کو رُک جانے کا حکم دے تو انسان کا سارا نشہ ہرن ہو جائے
33 ؎ اللہ ربِّ ذوالجلال جس کے قبضہء قدرت میں ہر ایک چیز ہے کہ اگر وہ ہوا کو ساکن کر دے اور اس کے اس قدرتی دباؤ اور حرکت کو روک دے تو انسان کا سارا نشہ اتر جائے کیونکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ ہوا ہی کے انحصار پر انسان زندہ ہے اور یہ ہوا ہی کے کردار کے باعث سارا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ ہوا ساکن ہوجائے تو یہ تمہاری کشتیاں پانی کی سطح پر اس طرح رک جائیں کہ کسی قسم کی حرکت کر ہی نہ سکیں۔ اللہ کرے کہ انسان کے حالات سازگار ہی رہیں اور ناسازگار نہ ہوجائیں ورنہ انسان کا سارا کیا کرایا کھیل ختم ہو کر رہ جائے گا۔ بلاشبہ انسان آج بھی خواہ وہ کتنا ترقی پذیر ہوچکا ہے لیکن حالات کی ناسازگاری سے اس کو واسطہ پڑتا ہی رہتا ہے اگر وہ غور و فکر کرے تو کتنی ہی نشانیاں ہیں جو اس کی اصلاح کے لیے کفایت کرتی ہیں۔
غورو فکر کرنے والوں کے لیے اس مثال کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے
Ayah 42:3434 ؎ جس طرح ہوا کا ساکن ہوجانا انسان کے لیے ضرر رساں ہے اسی طرح اگر وہ تیز و تند ہوا کو بھیج دے تو پھر کیا ہو ؟ ظاہر ہے کہ ہلاکت ہی ہو گویا ہوا کا رک جانا ہلاکت اور ہوا کا تندو تیز ہوجانا بھی ہلاکت۔ بلاشبہ انسان نے سٹیم ، بجلی اور ایٹمی توانائی حاصل کرلی ہے لیکن جب امر الٰہی کسی چیز کو ہلاک کرنا چاہے تو کیا ان چیزوں کی طاقت ہے کہ اس کو تباہی سے بچا لیں بلکہ حقیقت آج بھی یہی ہے کہ یہ ساری چیزیں جس طرح حفاظت و نگہبانی کر رہی ہیں اسی طرح وہ ایک چیز کی ہلاکت کا باعث بھی ہو سکتی ہیں کیا اڑتے ہوئے جہاز کریش (Ccash) نہیں ہوتے اور کیا بحری جہاز چلتے چلتے غرق نہیں ہوجاتے۔ آخر وہ کونسی طاقت ہے جو باعث مزاحمت ہوجاتی ہے ؟ انسان ذرا غور و فکر کرے تو اس کو سب کچھ یاد آجائے کتنی بار یہ دیکھا گیا ہے کہ وہی غذا جو انسان کی زندگی کا باعث ہے اور اس کے جسم کو طاقت بہم پنچاتی ہے بعض اوقات وہی غذا انسان کے لیے جان لیوا ثابت ہوجاتی ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہی ہے کہ اس نے یہ سارا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جب وہ اس کو ختم کرنا چاہے تو آن کی آن میں کچھ سے کچھ ہو کر رہ جاتا ہے۔ وہی سواری جو انسان کو پچاس ، سو اور ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے لے جا رہی ہوتی ہے جب تک وہ چاہتا ہے معاملہ چلتا رہتا ہے اور جب وہ روکنا چاہے تو اس کو ذرا بھی دیر نہیں لگتی بہرحال انسان مانے یا نہ مانے جو کچھ ہے وہ اسی کے فضل و کرم سے ہے ؎
سمندر ان کے ، جہاز ان کے ، ہوائیں ان کی ، فضائیں ان کی
گرہ بھنور کی کھلے تو کیونکر ، گرہ ہے تقدیر کا بہانہ
Ayah 42:35جب وقت آجاتا ہے تو بڑے بڑے منکروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں
35 ؎ انسان باتیں بناتا رہتا ہے اور اپنی کامیابیوں کے تانے جوڑتا رہتا ہے اور اپنی چلتی گاڑی کے نشہ میں مگن رہتے ہوئے جو اس کے منہ میں آتا ہے کہہ دیتا ہے لیکن جب اس کی پکڑ کا وقت آجاتا ہے تو وہی انسان جو اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کی ذات میں باتیں بنا رہا ہوتا ہے منہ بسورنے اور ہاتھ جوڑنے لگ جاتا ہے۔ قرآن کریم نے یہ باتیں تفہیم کرانے کے لیے ہم کو بہت مثالیں دی ہیں اور ہر ممکن سمجھانے کی کوشش کی ہے چناچہ ایک دو مثالیں سورة الکہف میں بہت تفصیل سے بیان کی گئی ہیں کہ اکڑنے والوں اور اترانے والوں کا جب نشہ اللہ تعالیٰ اتارتا ہے تو پھر کیا سے کیا ہوجاتا ہے۔ تفصیل کے لئے عزوۃ الوثقی جلد پنجم سورة الکہف کی آیات 32 تا 48 کا مطالعہ کریں اور اسی طرح کی مثالیں آگے سورة القلم میں بھی آرہی ہیں۔
Ayah 42:36دنیا کیا ہے ؟ چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات
36۔ انسان کو جو کچھ دیا گیا اور جو کچھ اس نے ایجاد کیا اس کی حقیقت ہی آخر کیا ہے ؟ یہی کہ جو چار دن کی زندگی اس کو دی گئی ہے اس نے اسی ادھیڑ بن میں خرچ کردی ادھر سے اٹھاتا اور ادھر لگاتا رہا اور اس نے بہت ہی کچھ کامیابی حاصل کی تو یہی کہ دولت و ثروت کے ڈھیر اکٹھے کر لئے۔ رہنے کے لیے کو ٹھیاں اور محل تعمیر کیے ، قلعے اور بارہ دریاں تعمیر کرلیں ، سواری کے لیے ریل گاڑیاں ، کاری ، بسیں اور ہوائی جہاز تیار کیے۔ روشنیوں کے لیے توانائی پیدا کی اور قمقمے جلا لیے لیکن آخر یہ جو کچھ ہے اس سب کی حقیقت کیا ہے ؟ یہی کہ چار دن کی زندگی کی آسانیاں پیدا کرلیں اور یہ چار دن تو ٹھاٹھ باٹھ سے گزار لیے کیا ان میں سے کوئی ایسی چیز بھی ہے جو اس کے لیے آخرت میں نفع رساں ہو سکتی ہو ؟ بلاشبہ ان ایجادات کو وہ اللہ کا فضل سمجھے جس اللہ نے اس کو پیدا کیا اور اس کے لیے اس سارے میٹریل (Material) کو بنایا ، اس کی معرفت حاصل کرنے کے لیے وہ یہ سب کچھ کرتا تو اس کی دنیا روشن ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی آخرت بھی سنور جاتی کہ اس نے اللہ کی دی ہوئی عقل الہل کی دی ہوئی اشیاء ، اللہ کی دی ہوئی صلاحیت کے ساتھ ان کو جوڑ کر ایک چیز ایجاد کی جس سے اس کو بھی فائدہ حاصل ہوا اگرچہ وہ عارضی ہے اور اس کے ابنائے جنس کو بھی فائدہ پہنچا تو یقینا یہی ایجادات اس کے لیے بھلائی کا باعث ہو سکتی تھیں لیکن بدقسمتی سے اس نے سارا کمال اپنا ہی سمجھا اور یہی کہتا رہا کہ میں نے ایسا کیا تو ایسا ہوگیا ، میں نے یہ کیا اور میں نے وہ کیا حالانکہ جو اس نے کیا اس سارے کیے کا انحصار اسی ذات پر تھا جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا لیکن بدبخت نے اس ذات کو بھلا دیا اور اس حیقتد کو سمجھنے کی کوشش نہ کی کہ یہ جو کچھ ہے وہ ذات الٰہی سے ہے اور مجھے جو کچھ ملا ہے وہ اور یہ بھی کہ جو کچھ میں نے ایجاد کیا ہے اس سب کی حقیقت بہرحال فنا ہے اور باقی اس کو رہنا ہے جو سب سے اول تھا جو اس ساری کائنات کے نظام کو بنانے اور چلانے والا ہے۔ اسی نظریہ کا نام ایمان تھا اور یہ دولت لازوال اس کو حاصل ہوجاتی تو جس طرح اس کی دنیا سنورتی اس کی آخرت بھی درست ہوجاتی اور وہی اس کا ملجا و مادیٰ ہوتا اور اس ذات الٰہ پر وہ توکل کرتا اور بلاشبہ صاحب ایمان اسی پر توکل اور بھروسہ کرتے ہیں۔
Ayah 42:37کیا ہی ہیں وہ لوگ جو بڑے بڑے گناہوں سے بچتے اور اللہ سے بخشش طلب کرتے ہیں
37 ؎ گزشتہ آیت میں ایمان باللہ کا ذکر تھا کہ جو لوگ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے دونوں کا واضح فرق کیا ہے اور زیر نظر آیت میں اس کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ وہ ایمان والے کون ہیں ؟ وہی جو بڑے بڑے گناہوں سے جن کو کبائر کا نام دیا گان ہے اجتناب کرتے ہیں اور بدکاریوں اور بےحیائیوں کے قریب بھی نہیں جاتے اور ایسے حال میں کہ جب ان کو کوئی غصہ دلاتا ہے اور اس غصہ کے اثر سے غضبناک ہوجاتے ہیں تو اس وقت بھی وہ غصہ دلانے والوں پر اپنے غصہ کا اظہار نہیں ہونے دیتے بلکہ اللہ سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور غصہ دلانے والوں کو رضائے الٰہی کے لیے معاف کردیتے ہیں۔ ایمان کی علامتیں جو اس آیت اور گزشتہ آیت میں بیان کی گئی ہیں ان کے پیش نظر ہر انسان اپنے ایمان کا خود جائزہ لے سکتا ہے کہ اس کے ایمان کی کیا حالت ہے ؟ ایمان کا پہلا تقاضا جو گزشتہ آیت میں بیان کیا گیا وہ اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام پر بھروسہ کرنا بتایا گیا ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں اور ان کی دوسری حالت یہ بتائی جا رہی ہے کہ گناہوں اور خصوصاً کبائر کے قریب بھی نہیں جاتے اور اسی طرح بدکاریوں اور بےحیائیوں کو اپنے قریب نہیں آنے دیتے اور تیسری حالت پہلی دونوں حالتوں سے زیادہ اہم اور مشکل ہے کہ جب انہیں ستایا جاتا ہے اور اشتعال دلایا جاتا ہے تو اس وقت بھی وہ غصہ میں آ کر اپنے آپے سے باہر نہیں ہوتے بلکہ نہایت دلیری کے ساتھ اس کو رضائے الٰہی کے لیے برداشت کر جاتے ہیں اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ غصہ اور اشتعال دلانے والوں کو بغیر ان کی معافی طلب کیے معاف کردیتے ہیں۔ یہ تینوں باتیں ایسی ہیں کہ ہر انسان ذرا کوشش کرے اور اپنا تجزیہ خود کرنے کی ہمت کرے تو اپنی حالت سے بخوبی واقف ہو سکتا ہے اور ابھی مزید ان کی خوبیاں ذکر کی جا رہی ہیں ان کو بھی ساتھ ملا لیا جائے تو اپنی حالت معلوم کرنے میں مزید مدد مل سکتی ہے۔ خیال رہے کہ اس طرح انسان اگر اپنی حالت کا خود جائزہ لیتا رہے تو جتنی اصلاح خود انسان اپنی کرسکتا ہے اتنی اصلاح کسی حال میں بھی ممکن نہیں ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ اگر انسان اپنا جائزہ نہ لے خواہ وہ کون ہو ، کیسا ہو اور کہاں ہو تو اس کی اصلاح ممکن ہی نہیں۔ اس لیے نہایت خوش بخت ہے وہ انسان جو خود اپنا جائزہ لیتے رہنے کا عادی ہو اور جب تک وہ اس دھرتی پر زندہ ہے اس کو اپنا جائزہ لیتے ہی رہنا چاہئے کیونکہ بھرے ہوئے کو انڈیل دینے میں کوئی زیادہ وقت نہیں لگتا۔