Ayah 39:54اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو ایسا نہ ہو کہ تم کو عذاب الہٰی لپیٹ لے لے
54 گزشتہ آیت میں جو کفار ومشرکین اور دوسرے سارے انسانوں سے خطاب تھا خواہ وہ کون ، کہاں اور کیسے ہوں جب سارے انسانوں کے ساتھ رحمت الہٰی کا یہ برتائو ہے تو اہل ایمان کے ساتھ خواہ وہ کتنے گنہگار کیوں نہ ہوں اگر وہ سچے دل سے توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور شفقت کا کون اندازہ کرسکتا ہے گویا زیر نظر آیت میں بھی ان سب ہی انسانوں سے خطاب ہے بشمول مسلمانوں کے کہ اپنے رب کی طرف لوٹ آئو اور اس کے حضور سر تسلیم خم کر دو اس روز سے پہلے کہ تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا عذاب بطور نشان بن کر آجائے۔ پہلے تم اپنے رب ِ کریم کی جانب رخ موڑے ہوئے تھے اور گمراہی کے راستہ پر گامزن تھے ، اب سچے دل کے ساتھ اپنے رب کی طرف متوجہ ہو جائو اور اس کے احکام کو سچے دل ، سے قبول کرلو ایسا نہ ہو کہ سرکشی کی حالت ہی میں پیام اجل آجائے اور تم عذاب میں مبتلا کردیئے جائو اور اس وقت کوئی بھی تمہاری مدد نہیں کر دس کے گا گزشتہ قوموں کے حالات پڑھ کر اندازہ لگا لو کی متکبرین ومعاندین اسلام کے ساتھ کیا کچھ ہوا اور ان کا انجام کیسا رہا ؟
Ayah 39:55اس بہترین کلام کی پیروی کرو جو رب کریم کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے
55۔ ہر تحریر شدہ بات کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک اچھا اور دوسرا برا۔ اچھا پہلو بلاشبہ بہترین پہلو کی لائے گا اور برے پہلو ہی کو بدترین قرار دیا جائے گا اب بہترین پہلو یہ ہوا کہ جن باتوں کو کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان کو کیا جائے اور جن سے روکا گیا ہے ان کے قریب تک نہ جائے اور جو امثال اور قصص بیان کیے گئے ہیں ان سے عبرت حاصل کرے اور اس کے خلاف جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکامات سے منہ پھیرتا ہے او سنی بات کو ان سنی کردیتا ہے ، منہیات کا ارتکاب کرتا ہے اور کلام اللہ کی ہدایات کی کوئی پروا نہیں کرتا بلاشبہ وہ اس کلام کے بدترین پہلو کو اختیار کرتا ہے اور اس بات کا ذکر زیر نظر آیت میں کیا گیا ہے اور فرمایا جا رہا ہے کہ اے مخاطبین ! جن کو گزشتہ آیات میں خطاب کیا گیا ہے کہ اپنے رب کی طرف جو کچھ اتارا گیا ہے اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرو اس سے پہلے پہلے کرو کہ تم کو اچانک عذاب الہٰی اپنی لپیٹ میں لے لے اور تم دیکھتے ہی دیکھتے رہ جائو وقت گزر جانے کے بعد ہاتھ ملنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔
Ayah 39:56ڈرتے رہو کہ تم کو اپنے کیے پر افسوس نہ ہونے لگے کیونکہ جو بیجو گے وہی کاٹو گے
56۔ ایسے کام کرنے سے باز رہو جن کے کرنے کے بعد تم کو پچھتاوا ہونے لگے کی کاش ہم نے ایسا نہ کیا ہوتا اور ظاہر ہے کہ جن لوگوں نے احکام الہٰی کی پروا نہ کی اور منیہات سے باز نہ رہے اور ان کاموں کے نتیجہ کے وقت پچھتائیں گے لیکن اس وقت پتنگ کی ڈور ٹوٹ چکی ہوگی اور ہوا کے جھونکے اس کے لیے اڑے ہوں گے اور اس پر میاں محمد کا یہ مصرعہ صادق آئے گا کہ
ع ” ہتھوں چھٹی ڈور محمد گڈی وا ڑائی “
وقت گزر جانے کے بعد ہاتھ ملنے سے آخر فائدہ ؟ ہاے افسوس ! میری اس تقصیر پر جو میں اللہ رب کریم کی جناب میں کرتا رہا میں تو وہ ہوں جو الٹا مذاق اڑانے والوں میں شامل رہا۔
Ayah 39:57یا یوں کہنا پڑے کہ کاش میں ہدایت یافتہ ہو کر متقین میں داخل ہوتا
57۔ انسان جب پھنس جاتا ہے تو اس کے منہ سے افسوس کے کلمات نکلتے ہیں اور اس وقت وہ اپنی نالائقیوں پر اپنے آپ کو ملامت کرتے ہوئے منہ سے کبھی کچھ اور کبھی کچھ الفاظ نکالتا ہے اور اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ اس فطری تقاضا کا بیان جاری ہے اور افسوس کرنے والا کبھی کوئی بات منہ سے نکالے گا اور کبھی کوئی بات۔ زیر نظر آیت میں وہ کہہ رہا ہے کہ ” اے کاش ! اللہ نے مجھے ہدایت بخشی ہوتی “ افسوس کے کلمات انسان جب منہ سے نکالتا ہے تو ان کی کیفیت کچھ عجیب سے ہوتی ہے اور وہ کبھی بھی کلمات منہ سے نکالتے وقت نہیں سوچتا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں مثلا کسی کے مرنے کا اس کو پیغام ملا تو ہو کہہ دے گا کہ خدا کرے یہ جھوٹ ہی ہو اور عورتیں بین کریں گی کہ ہاہائے نا مرے۔ کہاوت ہے کہ کسی نشہ کرنے والے کو گولی لگ گئی اور وہ زخمی ہونے کے باوجود یہ کہہ رہا تھا کہ اللہ کرے جھوٹ ہو۔ انسان جب بوکھلا جاتا ہے تو اس طرح کی الٹی سیدھی منہ سے نکالتا رہتا ہے اور اپنا غم غلط کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے اور اس وقت اس طرح کی حالت سے وہ بھی دوچار ہوں گے اور اس طرح کی باتیں منہ سے نکالتے ہوں گے۔
Ayah 39:58عذاب کو دیکھیں گے تو افسوس سے کہیں گے کہ کاش ہم ایک بار دنیا میں لوٹ جائیں
58۔ مقام غور ہے کہ اگر مرنے کے بعد مرنے والے کو عذاب سے اس کے پیچھے رہ جانے والے چھڑا سکتے ہوتے تو کسی ایک جگہ تو قرآن کریم اس کا ذکر کرتا اور مرنے والے کی عذاب کو دیکھ کر یہ خواہش ہوتی کہ اب تو ایک صورت ہے کہ میرے پیچھے والوں کو خیال آجائے اور وہ میرا فدیہ دے کر مرنے والا جب عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا تو پکار پکار کر کہے گا کہ کاش میرے لیے ایک بار دنیا میں دوبارہ لوٹائے جانے کی کوئی صورت پیدا ہوجائے تو میں نیکوکاروں میں ہو جائوں۔ زیر نظر آیت کے الفاظ کو بار بار پڑھو اور ایک ایک لفظ کے معنی سمجھ کر ان پر غور کرو۔ اس مضمون کو ہم نے عروۃ الوثقی جلد اول تفسیر سورة البقرہ کی آیت 167 ، جلد ششم میں سورة المومنون کی آیت 97 تا 111 ، جلد ہذا سورة الشعرا کی آیت 58 کے تحت وضاحت کر چکیں ہیں ان مقامات کا مطالعہ ضرور کریں انشاء اللہ بات مزید واضح ہوجائے گی۔
Ayah 39:59افسوس کرنے والے کو قبل از وقت ہی جواب دیا جا رہا ہے جس کی یاد دہانی کرائی جائے گی
59۔ کتنا واضح اور دوٹوک جواب اس کو دیا جا رہا ہے اور اس کی بھلائی کے لیے قرآن کریم نے اس جواب کو پڑھ کر سنا دیا ہے کہ اے افسوس کرنے والے ! اب تیرے اس طرح افسوس کرنے کا کیا فائدہ ؟ ہم نے تو تیرے سامنے اپنی آیات رکھیں اور تجھے بار بار بتایا لیکن تو نے ہماری ہر بات کو جھٹلایا اور تکبر کرتے ہوئے تو نے اپنے وسیلوں اور آسروں کا ذکر کیا اور میرے بھیجے ہوئے رسولوں کی اور میری کتابوں کی تکذیب کی اور اب تیرے اس پچھتاوے کا تجھے کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ وسیلے اور آسرے تیرے کچھ کام آئیں گے ، اس مضمون کو گزشتہ آیت کے ساتھ ملا کر اور پھر اس کی تشریح تصریف آیات میں ان مقامت سے جن کا ذکر ہم نے گزشتہ حاشیہ میں کیا ہے ملا کر پڑھنے سے مزید وضاحت ہوگی ، قارئین سے گزارش ہے کہ وہ ان مقامات کے ساتھ ملا کر اس کو پڑھیں بلکہ اس کے ساتھ آنے والی آیت کو بھی ملالیں۔
Ayah 39:60اس طرح افسوس کرنے والوں کے ساتھ قیامت کے روز جو کچھ ہونے والا ہے اس کا ذکر
60۔ کسی طرح صاف صاف بتایا جا رہا ہے کہ قیامت کے روز پچھتانے والوں کو پچھتانے کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور ان کے جھوٹ گھڑنے اور جھوٹ بولنے کی پوری پوری سزا دی جائے گی اور عذاب الہٰی کو دیکھتے ہی ان کے چہرے سیاہ پڑجائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اس طرح تکبر کرنے والوں کے لیے جو دنیا میں ہم چوما دیگریء نیست کی ڈینگیں مارتے رہے دوزخ بھڑکا دی گئی ہے اور وہی ان کا ٹھکانہ قرار پایا ہے خواہ وہ کون ہیں ، کہاں ہیں اور کیسے ہیں ؟ اس کی تفصیل پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے مثلا عروۃ الوثقی جلد دوم میں سورة آل عمران کی آیت 107 ، جلد چہارم سورة الانفال کی آیت 50 ، سورة یونس کی آیت 26 ، سوری ابراہیم کی آیت 50 ، جلد پنجم سورة بنی اسرائیل کی آیت 97 ، جلد ششم سورة الانبیاء کی آیت 39 ، سورة المومنون 104 ، سورة الفرقان کی آیت 34 ، جلد ہذا سورة النحل کی آیت 90 ، سورة الاحزاب کی آیت 66 میں ان مقامات کے ساتھ جلد ہشتم میں سورة محمد کی آیت 27 ، سورة الفتح کی آیت 29 ، سورة القمر کی آیت 48 ، سورة المطففون کی آیت 24 کو دیکھ لیا جائے تو مزید وضاحت کی گئی ہے۔
Ayah 39:61اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کو عذاب الہٰی سے نجات دی جائے گی
61۔ ان جھٹلانے والوں اور کفروشرک کرنے والوں کے مقابلہ میں اہل توحید اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو بسر و چشم قبول کرنے والے ہوں گے جو قیامت کے روز کامیاب قرار پائیں گے اور برائی ان کے قریب ہی نہ ہوگی کیونکہ انہوں نے بحمد اللہ دنیا میں کوئی برائی کی ہی نہ ہوگی یا برائی ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ سے توبہ کرکے معاف کرائی ہوگئی یہی وجہ ہے کہ آج وہ ہر طرح کے غم واندوہ سے مصئون ہو گے اور یہی ہیںٰ وہ لوگ جن کے چہرے ہشاش بشاش اور خوش وخرم ہوں گے اور بلاشبہ وہ اس روز مبارکبادیوں کے مستحق ٹھہریں گے۔
Ayah 39:62اللہ تعالیٰ ہی ہرچیز کا پیدا کرنے والا اور حقیقی کارساز ہے
62۔ انسان اچھے ہوں یا برے ان کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ان کا اور ہر اس چیز کا جس سے وہ مستفید ہو رہے ہیں سب کا خالق اور سب کا پیدا کرنے والا ، محافظ و نگہبان اللہ تعالیٰ ہی ہے اور سب کی بگڑی وہی بنانے والا ہے اور اس کے سوا کوئی نہیں جو کسی دوسرے کی یا خود اپنی ہی بگڑی بنانے والے سمجھتے ہیں۔ اللہ کے نیک بندوں نے کبھی اس بات کا درس نہیں دیا بلکہ وہ تو ہمیشہ اپنا خالق ومالک بھی اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کو سمجھتے ہیں اور اسی کو بندگی کی تعلیم بھی دیتے رہے ہیں اور اب بھی دے رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثریت میں جو توحید مقبول ہے وہ قرآن کریم کی بیان کردہ نہیںٰ بلکہ تذکرہ غوثیہ کی ہے جس کا سر ہے نہ پیر چناچہ توحید کے متعلق اہل توحید کا بیان ملاحظہ ہو۔
” علم تو حید اسی کے وجود سے جدا ہے اور اس کا وجود علم سے الگ۔ توحید کیا ہے ؟ خدا کا جاننا اور اس کے قدم کو حدوث سے پہچاننا اور توحید کی غایت توحید کا انکار ہے۔ “ (جنید بغدادی بحوالہ تذکرہ غوثیہ ص 152)
” راہِ حق میں خلق نہیں اور راہ خلق میں حق نہیں۔ ایک تو شرع توحید ہے اور ایک حق توحید۔ شرع توحید کا گزرنبوت کے دریا میں ہے اور حق تو 3 حید بحر محیط ہے شرع کی راہ آلات پر ہے یعنی سمع ، بصر ، قال ، شناخت ، حال اور یہ سب اثبات چاہتے ہیں وار تیرا اثبات شرک کی نسبت رکھتا ہے اور وحدانیت شرک سے منزہ ہے۔ ایمان جو چلتا ہے تو شرک کی بھیڑ بھاڑ میں چلتا ہے اور ایمان بڑی چیز ہے مگر بےشرک کے بنتی نہیں۔ شرع توحید مانند چراغ ہے اور حق توحید مثل آفتاب پس جہاں آفتاب چمکا نور چراغ عالم عدم کو کھسکا۔ وہ ایک موجود ہے مگر عدم میں ور نور چراغ کو نور آفتاب پر کچھ حکومت نہیں ۔ شرع توحید نسخ پذیر ہے لیکن حق توحید نسخ پذیر نہیں ، زبان نسخ پذیر ہے دل سے منسوخ ہوجاتی ہے اور جب کہ مرد مقام دل میں پہنچتا ہے تو زبان گنگ ہوجاتی ہے اور جان سے دل منسوخ ہوجاتا ہے اور اس وقت جو بولتا ہے ( منہ الیہ) اسی سے اسی کی طرف ہوتا ہے اور یہ گفتگو عین میں نہیں ہے بلکہ صفت میں ہے۔ صفت بدل جاتی ہے اور عین نہیں بدلتا۔ جب پانی پر دھوپ پڑی وہ گرم ہوگیا صفت بدل گئی عین آب میں کچھ فرق نہیں پڑا۔ کسی کا وجود توحید کی شناخت کو قبول نہیں کرتا اور کسی کی مجال ہے پائے وجود میں قدم رکھے چناچہ بزرگوں نے کہا ہے اثبات التوحیدفساد التوحید یعنی توحید کا ثبات کرنا ہی توحید میں خرابی ہے۔ جو شخص اپنے ہوتے اس کی ہستی کا خطبہ پڑھتا ہے وہ اپنے شرک پر گواہی دیتا ہے اور جو شخص اس کے ہوتے اپنی ہستی کا خطبہ پڑھتا ہے وہ اپنے کفر پر مہر کرتا ہے اور جو اس ہستی کے سامنے اپنی ہستی دیکھتا ہے وہ کافر ہے اور جو اس کے ہوتے اپنی ہستی ڈھونڈتا ہے اسے پہچان نہیں۔ جس نے آپ کو دیکھا اس کو نہیں دیکھا اور جس نے اس کو دیکھا اپنے آپ کو نہ دیکھا اور اپنی یاد نہ رہی۔۔ خیال اور وہم اور گمان گرد وحدوث میں اٹے ہوئے ہیں اور توحید اپنے عالم قدس میں کشف و شنید سے پاک ہے ۔ عبارت واشارات ودید و صورت وخیال وھس وحیات یہ سب لوث بشریت رکھتے ہیں اور شناخت توحید لوث بشریت سے پاک ہے۔ اسرار مشائخ روضہ توحید ہیں نہ عین توحید۔ یہ خلقت قدرت میں نمودار ہے اور توحید مں۔ ملیا میٹ۔ اپنا انکار بھی ناممکن ہے کیونکہ قدرت کا انکار ہے اور اپنے تئیں ثابت نہیں کرسکتے کہ اس میں توحید کا بگاڑ ہے۔ نہ صورت اثبات ہے نہ صورت نفی۔ مثبت بھی ہے اور منفی بھی۔ قدرت تجھ کو دکھاتی ہے اور وحدانیت مٹاتی ہے۔ راہِ حق میں نیست ہوجانا بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ تجرید اور توحید پر نظر ہو اور وہاں منزل ہو یا وقوف ہو یا اس کو اپنا مشرب نہ بنائے۔ (ابو بکر واسطی بحوالہ تذکرہ غوثیہ۔ مقالات اہل توحیدص 152)
” جو کوئی عبادت میں توحید کی خبر دے وہ ملحد ہے اور جو کوئی اس کی طرف اشارہ کرے وہ ثنوی ہے اور جو ایما کرے وہ بت پرست اور جو اس کی بات چیت کرے وہ غافل اور جو اس سے چپ رہے وہ جاہل اور جس کو گمان ہو کہ وہ اس تک پہنچا اور کچھ حاصل ہوا وہ بےحاصل ہے اور جو نزدییے کی طرف اشارہ کرتا ہے وہ دور ہوتا ہے اور جو آپ سے پاتا ہے وہ گم گشتہ ہے اور جو کچھ وہم سے ٹٹولے یا عقل سے تولے وہ سب گھڑت ہے جیسے تم خود ہو۔ توحید موحد کے لیے مجال احدیت کا حجاب ہے۔ توحید اس لیے ٹھیک نہیں ہوتی کہ تم اس کو آپ سے طلب کرتے ہو۔ “ (ابو بکر شبلی بحوالہ تذکرہ ص 153) اسی طرح آثار واطوار اہل توحید کا بیان اس کے بھی سوا ہے۔ خیال رہے کہ جو بات کتاب وسنت میں نہیں اس کا کہنے والا کوئی ہو ، کون ہو اور کیسا ہو اس بحث کی کوئی ضرورت نہیں بلاشبہ وہ ہر حال میں مردود ہے اللہ تعالیٰ سمجھ کی توفیق عطا فرمائے اور ان ڈھکوسلوں سے بچنے کی ہمت عطا فرمائے۔
Ayah 39:63اللہ تعالیٰ ہی کے لیے آسمان و زمین کی چابیاں ہیں ، کافر خسارہ میں ہیں
63۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کرکے چھوڑ نہیں دیا بلکہ وہ خود ہر ایک چیز کا نگہبان ہے اور ہرچیز کی خبر گیری وہ خود کر رہا ہے جس طرح وہ ہر ایک چیز کا خالق ہے اسی طرح وہ ہر ایک چیز کا منتظم ومنصرم بھی ہے جس طرح رب ذوالجلال والاکرام کے پیدا کرنے سے ہر ایک چیز وجود میں آئی اسی طرح وہ اس کے باقی رکھنے سے باقی ہے ، اسی کی پرورش کرنے سے پھل پھول رہی ہے اور اسی کی حفاظت ونگرانی میں کام کر رہی ہے۔ (مقالید) قلد سے ہے اور قلادہ ہر وہ چیز ہے جو گلے میں لٹکائی جائے اور جو چیز کسی کا احاطہ کرلے اور مقالید کے معنی ہیں وہ چیز جس کے ساتھ وہ آسمانوں اور زمین کا احاطہ کرتا ہے اور اس کے معنی خزانے اور چابیاں بھی کیا جاتا ہے اور مقصود اس کا یہ ہے کہ ہرچیز اللہ رب کریم کے قبضہ قدرت میں ہے کہ وہی ہر ایک چیز کی حفاظت کرتا ہے اور یہ کہ اس کے ساتھ کوئی نہیں جو اس کام میں اس کا شریک وسہیم ہو لیکن افسوس کہ لوگوں نے ایک نہیں ہزاروں اور لاکھوں انسانوں ، جنوں ، پریوں اور کائنات کی تقریبا ہر ایک چیز کو اس کام میں شریک بنایا اور سہیم ٹھہرایا اور بدقستی سے مسلمان کہلانے والوں میں بھی کثیر طبقہ انہی لوگوں کا ہے جو اس طرح کی اوہام پرستی میں مبتلا ہیں حالانکہ قرآن کریم کی زیر نظر آیت اور اس جیسی دوسری آیات کے مطابق ایسا سمجھنے اور کرنے والے سب کے سب نہایت ہی خسارہ میں ہیں کیونکہ ان کا خسارہ عاقبت کا خسارہ ہے جہاں اس خسارہ کے پورا ہونے کی کوئی شکل و صورت نہ ہوگی اور نہ ہی کوئی ضمانت دینے والا موجود ہوگا۔
Ayah 39:64اے جاہلو ! کیا مجھے بھی غیر اللہ کی عبادت کا حکم دیتے ہو ؟
64 جاہل کون ہے ؟ وہی جو ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لے کر بغیر کسی دلیل کے اپیہ بات پر اڑا رہے جاہل ہے۔ عام طور پر لوگ ناخواندہ انسان کو اور ان پڑھ کو جاہل کہہ دیتے ہیں حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے بڑے بڑے پڑھے لکھے اور تعلیمی ڈگریاں رکھنے والے بھی اسلام کی نگاہ میں ناخواندہ اور ان پڑھ اور جاہل ہو سکتے ہیں بلکہ اکثریت انہی لوگوں کی ہے جو پڑھے لکھے جاہل ہیں اور قرآن کیریم کی مراد بھی انہی جاہلوں سے ہے کیونکہ ان کی جہالت نہایت ہی سخت ہوتی ہے اور کوئی جاہل سے جاہل بھی جو اسلام کا نقشہ سمجھ بیٹھا ہے اس کو چھوڑنے کے لیے ہرگز تیار نہیں اگرچہ اس کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہو۔ یہی وہ جائل لوگ اس وقت بھی تھے جو اپنے آپ کو بہت بڑے جاننے اور سمجھنے والے سمجھتے تھے ایسے لوگوں نے نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو بھی صائبی اور لا مذہب کا فتوی دیا اور مشورہ دیا کہ آپ اپنے باپ دادا کے دین کو ہی اصل دین سمجھیں اور وہی کچھ کریں جو ہم کر رہے ہیں اور وہی کچھ کہیں جو ہم کہہ رہے ہیں اور ایسے لوگوں کی اب بھی کوئی کمی نہیں ہے بلکہ آۃ ج بھی اس سب کا مطالبہ اور سب کا کہنا یہی ہے کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں یا کہہ رہے ہیں وہی صحیح ہے باقی سارے لوگ غلط ہیں اور پھر تعجب یہ ہے کہ ایسا کہنے کے لیے وہ کوئی دلیل بھی نہیں رکھتے۔ اس لیے کہ سارے ادیان میں صرف اور صرف اللہ رب کریم ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے اور کسی نے بھی غیر اللہ کی عبادت کا حکم نہیں دیا بلکہ ہر ایک نے اس سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے اور یہی جواب نبی اعظم وآخر محمد ﷺ نے آپ کو دیا اور ایسا کہنے والوں کو جاہل بھی قرار دیا کہ جو انہوں نے بات کی وہ سراسر جہالت کی تھی ۔ قرآن کریم نے ان کی دلیل کا بھی ذکر کیا ہے کہ وہ کیا تھی یہی کہ اے پیغمبر ! جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں فقط آپ ہی کہہ رہے ہیں اور کوئی نہیں کہتا اور جو ہم کہہ رہے ہیں وہ زمانہ کہتا اور کرتا ہے اس سے زیادہ وزنی دلیل ان کے پاس بھی نہیں تھی اور آج کے جاہلوں کے پاس بھی نہیں ہے۔
Ayah 39:65میری اور میرے سے پہلے لوگوں کی طرف وحی کی گئی تھی کہ شرک کے قریب نہ جانا
65۔ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ اپنے ان جاہل مخاطبین کو ارشاد فرما رہے ہیں کہ تم مجھے شرک کی طرف دعوت دیتے ہو اور میں تمہاری شرک کی دعوت کیونکہ قبول کرسکتا ہوں جب کہ تمہارے پاس کوئی دلیل بھی موجود نہیں ہے صرف اس ورطے سے تم کہہ رہے ہو کہ سارے لوگ اسی طرح کرتے ہیں حالانکہ یہ کوئی دلیل نہیں ہے کہ اس کو سب لوگ کرتے ہیں دلیل تو میرے پاس ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے وحی کی گئی ہے اور پھر صرف مجھے ہی نہیں میرے سے پہلے سارے انبیاء ورسل کو بھی وحی کی گئی تھی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا اور پھر صرف یہی نہیں کہ منع کیا گیا ہے بلکہ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرے سارے اعمال ہی ضبط کرلیے جائیں گے گویا شرک اتنی بڑی اور بری چیز ہے کہ اس سے نہ صرف یہ کہ شرک ہی گناہ ہوگا بلکہ انسان کے وہ اعمال جو اس نے صحیح اور درست کیے ہوں گے وہ بھی ضائع ہو جائین گے اور ان کا بھی کوئی فائدہ نہیں رہے گا۔ مثلا ایک بچہ امتحان دیتا ہے وہ سیکنڈ یا تھرڈ پوزیشن میں پاس ہوجاتا ہے ، اس کو کسی اچھی جگہ نہ تو داخلہ ملتا ہے اور نہ ہی ملازمت تا ہم وہ یہ تو کہہ سکتا ہے کہ میں نے میڑک ، ایف۔ اے یا بی۔ اے کیا ہے لیکن اگر اس کے پاس مارک ہی نہ ہوں تو جو نمبر اس نے حاصل کیے ہیں کیا وہ اس کے کام آجائیں گے یا اکارت جائیں گے ؟ بلاشبہ وہ اکارت چلے جائیں گے اور ان کا اس کو کچھ بھی فائدہ نہیں ہوگا۔ مشرک کے لیے دوزخ جب لازم ہوگئی تو اس کے اچھے اعمال کا نتیجہ کیا رہا اور اس کو ان اچھے اعمال کا فائدہ کیا ہوا ؟ اسی طرح ارشاد فرمایا گیا کہ مشرک کے سارے نیک اعمال بھی اکارت جائیں گے اور بلاشبہ یہ خسارہ اتنا بڑا خسارہ ہے جس کے پورا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
Ayah 39:66اے پیغمبر اسلام اللہ کی عبادت کر اور شکر کرنے والوں میں ہوجا
66۔ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے اور آپ کے ذریعہ سے آپ کی امت کے ہر فرد کو مخاطب کیا جا رہا ہے تاکہ آپ اس حکم کا اعلان عام کردیں کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے شکر گزار بندوں میں داخل ہو جائو اس سے یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ کی عبادت کرنا ہی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے اور جو اللی کی عبادت نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا اور اس طرح جو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی نہیں کرتا گویا عابد اور شاکر لازم وملزوم ہیں۔
Ayah 39:67جن لوگوں نے شرک کیا گویا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر نہ کی جس قدر کا وہ مستحق ہے
67۔ اگر کوئی شخص اللہ کی بھی عبادت کرتا ہے اور غیر اللہ کو بھی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتا ہے تو اس نے اللہ تعالیٰ کی وہ قدر نہ کی جو اس کی قدر کرنے کا حق ہے کیونکہ اس نے ایک وہ کام کیا جس میں سراسر شرک پایا جاتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ نہ کوئی شریک وہیم ہے اور نہ ہی اس کا کوئی امکان ہے مشرک نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی حیثیت کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کہ کہ اللہ رب العزت کا مقام کتنا بلند ہے اور وہ حقیر ہستیاں کیا شے ہیں کہ اس نے خالق اور مخلوق کو ایک ہی طرح کا سمجھ لیا حالانکہ خالق اور مخلوق میں ایک ہونے کی کوئی صفت نہیں پائی جاتی ہے اور خالق اور مخلوق کا کوئی موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات والا صفات وہ ہے جس کے قبضہ قدرت میں قیامت کے روز تمام آسمان و زمین ہوں گے اور کوئی نہیں ہوگا جس کے قبضہ میں ایک انچ زمین یا آسمان بھی ہو یعنی پوری کائنات پر صرف اور صرف اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا قبضہ اقتدار ہوگا اور اس کے سوا سب کی بادشاہی اور حکومتیں ختم ہوجائیں گی اس اقتدار اور تصرف کی تصویر کشی کے لیے مٹھی میں ہونے اور ہاتھ پر لپٹے ہونے کا محاورہ استعمال کیا گیا ہے جس طرح ایک بچہ کسی گدنک کو اپنی مٹھی میں لے لیتا ہے اور اس کے لیے یہ ایک معمولی کام ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کوئی مادی چیز ہے جس طرح اللہ تعالیٰ مادی چیز نہیں اسی طرح اس کا ہاتھ بھی مادہ کا بنا ہوا نہیں ہے بلکہ یہ ایک تصور ہے جس کی تصویر کشی کی گئی ہے اور لوگوں کو سمجھایا گیا ہے کہ قیامت کے روز تمام انسان جو آج اللہ رب کریم کی عظمت و بزرگی کا اندازہ کرنے سے قاصر ہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ زمین و آسمان قدرت خداوندی کے سامنے لا شئی ہیں جس طرح انسان کا مٹھی میں گیند گولے لینا کچھ حقیقت نہیں رکھتا اسی طرح اللہ رب کریم کے سامنے تمام آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس گیند کی مانند ہے جس کو بچہ ہاتھ میں لے کر سارا سارا دن گھماتا رہتا ہے اور یہ بیان محض تفہیم کے لیے ہے ورنہ نہ تو اللہ تعالیٰ کا مرئی ہاتھ ہے کہ اس کو اتنا بڑا قرار دیا جائے اور نہ دنیا یا کوئی دوسرا سیارہ اتنا چھوٹا کردیا جائے گا اور طریق بیان کا مفہوم یہی ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے کہ وہ جس وقت چاہے اور جو چاہے کرے کیونکہ وہ کسی کے حکم کا پابند نہیں ہاں ! اپنے فیصلے کے خلاف وہ کوئی کام نہیں کرتا اس لیے کہ وہ سب پر غالب اور طاقتور ہے اور خلافِ وعدہ ایک کمزوری ہے جس سے اللہ تعالیٰ پاک ہے اور بلاشبہ وہ ہر طرح کی شرکت سے بہت ہی بلند وبالا ہے اگرچہ یہ بات مشرکین کی سمجھ میں نہ آئے۔
Ayah 39:68(نفخ الصور) کیا ہے اور وہ کب ہوگا اور کیونکہ ہوگا ؟
68۔ قرآن کریم میں صور پھونکنے کا ذکر کئی بار آیا ہے جیسا کہ زیر نظر آیت میں بھی ہے۔ (صور) کے لفظی معنی نر سنگھا کے ہیں جو ایک سینگ کی شکل کی چیز ہوتی ہے اور اس میں پھونگ لگانے سے ایک مہیب قسم کی آواز نکلتی ہے جو دور تک سنائی دیتی ہے اور اصل اس کی یہ ہے کہ قدیم الایام میں بابلیوں ، کنعانیوں ، آرامیوں ، عبرانیوں وغیرہ تمام قوموں میں بادشاہی جلال وجلوس اور اعلان جنگ وغیر کے موقع پر یہ بگل بجایا جاتا تھا اس لیے بگل بجانا نر سنگھا پھونکنا شاہی جلال کے اظہار یا غیر معمولی خطرہ کا اعلان ہے اور تورات نے بھی یہ لفظ بار بار استعمال کیا ہے۔ زیر نظر آیت میں دو بار ( نفخ صور) کا زکر آیا ہے ایک بار ( نفخ صعق) کا اور دوسری بار ( نفخ قیام لرب العالمین) کا اور بعض جگہ (نفخ فزع) کا ذکر بھی آیا ہے جو سب سے پہلے ہوگا اور ترتیب اس کی یہی ہے کہ پہلا (نفخ فزع) ہے اور دوسرا ( نفخ صعق) اور تیسرا ( نفخ قیام لرب العالمین) اور تفصیل اس کی ہم نے جلد ششم میں سورة حج کی آیت میں کردی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔
احادیث میں نبی اعظم وآخر محمد ﷺ نے بتایا ہے کہ نفخ صور کے تین مواقع ہیں۔ ایک نفخ فزع جس میں عام سراسیمگی پیدا ہوجائے گی۔ دوسرا نفخ صعق جس سے تمام ذی روح مر جائیں گے اور ایک بھی زندہ نہیں رہے گا تیسرا نفخ قیام رب العالمین جس سے سب لوگ یعنی انسان و جن زندہ ہو کر رب العالمین کے حضور پیش ہوجائیں گے۔ پہلے نفخ کی تفصیل سورة الحاقہ ، سورة الزلزال ، سورة النازعات ، سورة الواقعہ میں تفصیل سے آئے گی اور دوسرے دو کا ذکر سورة الانعام آیت 73 ، سورة ابراہیم آیت 48 ، سورة الکہف آیت 99 ، سورة طہ آیت 102 ، سورة الحج آیت 1 ، سورة المومنون آیت 101 اور سورة النمل آیت 87 میں گزر چکا ہے اور نفخ قیام رب العالمین کا ذکر اس جگہ (نفخ فیہ اخری فاذا ھم قیام ینظرون) میں آگیا ہے اور سورة النمل میں تینوں نفخہ کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 39:69زمین اللہ تعالیٰ کے نور سے روشن ہوجائے گی اور فیصلہ کردیا جائے گا
69۔ زمین سے مراد یہ زمین نہیں کیونکہ زمین تو بہر حال فنا ہوجائے گی البتہ اس زمین کا کوئی بدل ضرور ہوگا جس کو اس زمین ہی کی طرح زمین قرار دیا گیا ہے اور وہ زمین وہی ہوگی جس کے متعلق دوسری جگہ بیان کیا گیا ہے کہ اس میں نشیب و فراز نہیں ہوں گے اور وہ پوری کی پوری ہتھیلی کی طرح صاف ہوگی جو میدان حشر میں ظاہر کی جائے گی اور اس نور سے مراد چاند اور سورج کا نور نہیں بلکہ وہ کوئی خاص قسم کی روشنی ہوگی جس کی حقیقت رب ذوالجلال والاکرام کے سوا کوئی نہیں جانتا ہم اس کے متعلق یہی کہہ سکتے ہیں کہ اس جگہ نور رب سے چمک اٹھنے سے مراد ہوسکتی ہے کہ وہ نتائج جو اس وقت تک آنکھوں سے مخفی تھے ظہور پذیر ہوجائیں گے اور یہ بھی کہ ال کتاب سے اس جگہ مراد اعمال نامہ ہی لیے جاسکتے ہیں اور نبیوں اور رسولوں کو ان کی امتوں پر شہادت دینے کے لیے حاضر کردیا جائے گا اور دوسرے گواہوں میں سے وہ ہر طرح کے گواہ ہیں جن کا ذکر قرآن کریم نے جگہ جگہ کیا ہے جن میں وہ فرشتے بھی ہیں اور ہر انسان کے اپنے اعضا بھی جو ایک فعل کے کرنے کا منظر پیش کردیں گے تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے اور پوری آیت کا مفہوم اور ان سارے استعارات کی تعبیر یہی ہے کہ مکمل طور پر انصاف کیا جائے گا کسی طرح کی ناانصافی نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی انسان کے اندر کسی طرح کا کوئی شک و شبہ رہنے دیا جائے گا کہ وہ دل میں ہی یہ خیال کرے کہ میرے ساتھ انصاف نہیں ہوا بلکہ کوئی جنتی ہے یا دوزخی اس معاملہ میں ابہام نہیں رہنے دیا جائیگا ہر ایک پر اپنی حقیقت واضح ہوجائے گی اور کسی پر ایک ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا جس سے معلوم ہوا کہ ظلم ناانصافی کا دوسرا نام ہے یا یہ کہ ہر ناانصافی کو ظلم کہا جاسکتا ہے۔
Ayah 39:70ہر جان کو جو اس نے کیا ہے اس کا پورا پورا صلہ دیا جائے گا
70۔ پورا پورا ادا کردینے میں یہ تو لازم وضروری ہے کہ جو کسی کا حق بنتا ہے اس سے ایک ذرہ برابر بھی اس کو کم نہ دیا جائے لیکن اگر اس کو اس کے حق سے زیادہ دے دیا جائے تو یہ پورا پورا ادا کردینے کے منافی نہیں ہے۔ یہ اس لیے عرض کرنا پڑا کہ کوئی سرسڑا یہ اعتراض نہ کر دے کہ ایک نیکی کا عوض دس گنا تو اکم ازکم ہے اور زیادہ کی حد مقرر نہیں تو پھر وہ پورا پورا کیسے ہوا وہ تو بہت زیادہ ہوا لیکن چونکہ وہ کم نہ ہوا اس لیے ظلم نہ ہوا۔ خیال رہے کہ زیادہ دینے اور زیادہ لینے میں بہت بڑا فرق ہے اور حق سے زیادہ لینا ظلم ہے اور کسی کو حق سے زیادہ ادا کردینا احسان ہے اور احسان پورا پور ادا کرنے کے منافی نہیں ہے اور وضاحت اس کی بہت تفصیل طلب ہے۔
Ayah 39:71فیصلہ ہو چکنے کے بعد کافروں کو دوزخ کی طرف ہانک لے جایا جائے گا۔
71۔ (زمر) کی جمع ہے زمرہ۔ کفر کی بہت سی اقسام ہیں اور ہر قسم کے کفر کے لوگوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کردیا جائے گا گویا ہم نشینی اور محبت کا وہاں بھی خیال رکھا جائے گا تاکہ ہم نشین اچھی طرح ایک دوسرے کی شناخت کرسکیں اور ایک جگہ ایک جیسے مقام پر ان کو رکھا جائے گا اور پھر پورے نظم وضبط کے ساتھ ان کو گروہ گروہ کی صورت میں چلایا جائے گا اور یکے بعد دیگرے گروہ داخل ہوں گے تو ہر گروہ سے دوزخ کے دربان سوال کریں گے کہ کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں بھیجے گئے تھے جو تم کو تمہارے رب کی آیتیں پڑھ کر سنایا کرتے تھے اور تم کو اس دن کے پیش آنے والے واقعات سے ڈرایا کرتے تھے ؟ اس سوال کے جواب میں وہ دوزخی گروہ کے لوگ ان کارندوں کو جواب دیں گے کہ (بلیٰ ) کیوں نہیں ؟ یعنی بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے پیغمبر اور رسول ہمارے پاس آئے تھے لیکن ہم نے ان کی ایک نہ سنی تھی بلکہ ہم نے ان کا کھلا انکار کیا تھا اس لیے آج اسی انکار کے باعث کلمہ ال عذاب کافروں پر لازم آگیا اور بدبختوں پر حکم ازلی پور ہوگیا۔
Ayah 39:72کہا جائے گا کہ جہنم میں داخل ہو جائو کہ تکبر کرنے والوں کا یہی ٹھکانا ہے
72۔ جہنم میں داخل ہونے والے ہر گروہ کے تصدیق کرلینے کے بعد اور اتمام حجت کے بعد ان کو دوزخ میں اتر جانے کے لیے کہا جائے گا اور یہ بات ہم نے قبل ازیں کئی بار عرض کی ہے کہ داخل ہونے کے بعد بلاشبہ وہ چاہیں گے کہ کسی صورت یہاں سے نکل سکیں لیکن وہاں سے نکل بھاگنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی اس لیے ہم نے جہنم کو چوہوں کے پنجرے سے مشابہت دی ہے کہ داخل ہونے والا تو آسانی سے داخل ہوجائے لیکن وہاں سے نکل کسی مشکل طریقہ سے بھی نہ سکے۔ اس جگہ کہا گیا ہے کہ اس کے بعد دوزخ کے دربان ان سے کہیں گے کہ اچھا اب جہنم میں داخل ہو جائو اور بلاشبہ اب تم کو وہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہنا ہے اور یہ کہ تمہارے جیسے متکبرین ہی کی خاطر اس کو تیار کیا گیا ہے جو حق کو حق سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے اور یہ گویا دوزخ میں داخل ہونے والوں کے لیے دربانوں کی ناراضی کا باعث ہے کہ تم کیسے لا پرواہ لوگ تھے جنہوں نے ساری حجتوں کو بالائے طاق رکھ دیا تھا اور اپنی مرضی کی تھی۔
Ayah 39:73اہل جنت کو جنت کی طرف روانہ کردیا جائے گا وہ بھی گروہ گروہ چلیں گے
73۔ اہل جنت کے بھی مختلف گروہ تشکیل پائیں گے کیونکہ بعض مزاجوں میں صلوٰۃ کی طرف زیادہ رغبت ہوگی اور بعض کی روزہ کی طرف اس طرح ان گنت دین کے کام ہیں اور پھر کشی کو کسی کام کا زیادہ شوق ہوگا ، کسی کو کسی کام کا اس رغبت اور شوق کے باعث ہی ان کے گروہ تشکیل دیئے جائیں گے اگرچہ وہ سب لوگ ہی متقی اور پرہیز گار ہوں گے اور ہم مشرب ہونے کا لطف جب اہل دوزخ سے بھی نہیں چھینا جائے گا تو ظاہر ہے کہ اہل جنت کو وہ کیوں نہ عطا کیا جائے گا اس لیے ان کو بھی گروہ گروہ میں تشکیل پانے کے بعد یکے بعد دیگرے روانہ کیا جائے گا اور جب وہ چلتے چلتے جنت کے قریب آئیں گے اور ان کو جنت میں داخل کیا جائے گا تو اہل جنت کو جنت کے دربان سلام پیش کریں گے کہ تم پر سلامتی ہو کہ اب تم جنت میں نہایت مزے سے رہو گے اور ہر طرح سے تمہاری پذیرائی ہوگی اور نہایت آزادی کے ساتھ تم کو وہاں رکھا جائے گا اور اپنے علاقہ میں نہایت خوش وخرم رہو گے اور تمہاری چاہت کے مطابق تم کو وہ سب کچھ پیش کیا جائے گا جس کی تم کو طلب ہوگی اور یہاں سے تم کو کبھی نہیں نکالا جائے گا اور ظاہر ہے کہ وہ دارالعمل تو ہوگا نہیں کہ کسی کو کوئی کام کاج کرنا ہوگا بلکہ اپنی خوشی سے جہاں تم چاہو گے رہو گے اور کسی خواہش کے پورا کرنے کے لیے کہیں چل کر نہیں جانا ہو اگا بلکہ جو خواہش ہوگی وہ اسی وقت اسی جگہ پوری کردی جائے گی۔ بلاشبہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے کبھی کوئی گناہ کیا ہی نہ ہوگا اور ایسے بھی ہوں گے جن سے اگر کچھ سرزد بھی ہوگا تو معافی مانگ کر اس کو محو کرا لیا گیا ہوگا اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کے حق میں اگر کوئی کمی ہوگی تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا اور اہل جنت کے طہارت و پاکیزگی کے لیے بہت سے استعارات واشارات بیان کیے گئے ہیں اور طرح طرح کی توجہیات بیان کی گئی ہیں اور سب کی مراد ایک ہی ہے کہ وہ بہت صاف و پاک ہوں گے بلحاظ ظاہری اجسام کے بھی اور اندرونی طور پر بھی اس وجہ سے ان کو پاک وصاف مقام پر ہی رکھا جائے گا۔
Ayah 39:74اہل جنت ، جنت میں داخل ہو کر اللہ تعالیٰ کی تعریف و توصیف کے گیت گائیں گے
74۔ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوجائیں گے اور جنت کے اندر وہ انعاماتِ الٰہی پائیں گے جو نہ تو کسی آنکھ نے دیکھے ہوں گے اور نہ ہی کسی کان نے سنے ہوں گے اور نہ ہی کسی دل میں ان کا تصور آیا ہوگا اور ظاہر ہے کہ ان انعامات کو حاصل کرنے کے بعد اپنے تقوٰی اور پرہیزگاری کے باعث ان کو حمد الٰہی کے ترانے گانے چاہئیں اور وہی وہ گائیں گے اور آپس میں کہیں گے جو ہم سے وعدہ کیا تھا وہ آج سچ ہوگیا اور رب کریم نے ہم کو جنت الفردوس کی فلاں زمین کا وارث بنا دیا اور اب ہم اپنی وراثت میں جہاں چاہیں جاسکتے ہیں ہم پر کوئی ممانعت نہیں اور اہل جنت کے مدارج اگرچہ الگ الگ ہوں گے لیکن وہاں ہر درجہ کے لوگ دوسرے درجہ کے لوگوں سے میل ملاقات کرسکیں گے اور اپنی خواہش کے مطابق ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے اور جس کا جس سے زیادہ پیار ہوگا وہ اس کے ساتھ رہے گا اور اس کا قرب اس کو یقینا مرسر آئے گا اور بلاشبہ اچھے اعمال کرنے والوں کو اچھا ہی اجر عطا کیا جائے گا۔
Ayah 39:7575۔ یہ اس منظر کا زکر ہے جس منظر میں اللہ رب ذوالجلال والاکرام اپنے عرش جلالت پر جلوہ افروز ہوں گے اور فرشتے عرش کو گھیرے ہوئے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید اور تہلیل کے ترانے گاتے ہوں گے اور تمام لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور یہ بیان استعارہ ہے جلالت ِشان کے لیے تاکہ انجان بھی جان جائیں کہ اس سلسلہ میں کوئی بات سوائے استعارہ واشعارہ کے نہیں کی جاسکتی کیونکہ ایک ان دیکھی ، ان سمجھی ذات اقدس کے بیان کے لیے دیکھے اور سمجھے الفاظ ہی بیان کئے جاسکتے ہیں ان دیکھے اور ان سمجھے الفاظ ہماری استطاعت سے بالکل باہر ہیں اس لیے اس کی حقیقت پر بحث نہیں کی جاسکتی جب یہ بات اصولی طور پر واضح ہوچکی کہ اللہ کریم اور آخرت کی کوئی چیز بھی انسان کی دیکھی ہوئی نہیں ہے جو کچھ ہے سب استعارہ ہی استعارہ ہے اور ہم مجبور ہیں کہ ان استعارات سے کام لیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی بڑی شخصیت اپنے تخت پر جب براجمان ہو اور ایک ہی طرح کے لوگوں کا جم غفیر اس کی نعت گا رہا ہو تو ہم کو بہت بھلا معلوم ہوتا ہے جس سے آنکھوں کو نور اور چمک اور دل کو راحت و سرور حاصل ہوتا ہے اس لیے اس کے لیے یہی استعارہ ہمارے لیے اخت اور کیا گیا تاکہ رب ذوالجلال والاکرام کی جلالتِ شان کو ہم سمجھ سکیں اور اس منظر سے محفوظ ہو سکیں۔ روایات میں آتا ہے کہ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ اکثر رات کے وقت سورة بنی اسرائیل اور سورة الزمر پڑھا کرتے تھے۔ ( رواہ الترمذی ، والنسائی والحاکم)
زیر نظر آیت سورة الزمر کی آخری آیت ہے اور آخرت میں رویت باری تعالیٰ کے مضمون پر یہ سورت ختم ہو رہی ہے اور اسی طرح اہل جنت کا اپنے اعزہ و اقارب کو جنت میں دیکھنے کا ذکر بھی احادیث میں موجو ہے اور ایک دوسرے کی پہچان اور بات چیت کا ذکر بھی پایا جاتا ہے۔ اس سورة کی تفسیر کے دوران مسجد کا کام بھی جاری رہا اور ہمارا عزیز یاسر بھی ہم سے رخصت ہوا جس کے غم میں شریک ہونے کے لیے کراچی کا سفر کیا اور دوسرے اعزہ و اقارب کی ملاقات کے ساتھ اب ہم عزیز یاسر سے بھی قیامت ہی کے روز ملنے کی امید رکھتے ہیں اور اسی امید پر اس سورت کی تفسیر کو ختم کیا جا رہا ہے۔
عبدالکریم اثری
30 اکتوبر ، 1997 ء