39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 39:38

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ١ؕ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ؕ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 39:38 in the Quran reader

اور اگر آپ ﷺ (اے پیغمبر اسلام ! ) ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ (فوراً ) کہیں گے ، اللہ نے ، آپ ﷺ فرما دیجئے بھلا بتاؤ کہ جن لوگوں کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو اگر اللہ مجھ کو کوئی تکلیف دینا چاہے تو کیا وہ اس کی (دی ہوئی) تکلیف کو دور کرسکتے ہیں یا اللہ مجھ پر مہربانی فرمانا چاہے تو کیا وہ اس کی عنایت کو روک سکتے ہیں ؟ آپ ﷺ فرما دیجئے میرے لیے بس اللہ کافی ہے ، اس پر بھروسہ کرنے والے بھروسہ کرتے ہیں

آپ ان سے سوال کریں کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ تو کہیں گے اللہ 38۔ غور کا مقام ہے کہ قریش مکہ کو خود قرآن کریم نے مشرک کہہ ہے اور ایک بار نہیں بار بار کہا ہے اور پھر خود ہی ان مشرکوں سے باربار یہ سوال کیا ہے اور نبی کریم ﷺ کو ان سے سوال کرنے کا ارشاد فرمایا ہے جیسا کہ زیر نظر آیت میں بھی کہا گا ہے اور اس سے قبل سورة العنکبوت کی آیت 61 ، 63 ، سورة لقمان کی آیت 25 میں بھی ان سے اسی طرح سوال کرنے کا فرمایا گیا ہے اور جب بھی سوال کیا ہے خود ہی اس کا جواب دے دیا گیا کہ یہ لوگ آپ سے ضرور کہیں گے کہ ” آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا اللہ ہے “ اور یہ جواب اس لیے دیا ہے کہ وہ فی الواقع ایسا ہی مانتے اور کہتے تھے لیکن اس کے باوجود قرآن کریم نے ان کو مشرک کہا ہے تو آخر کیوں ؟ اس لیے کہ وہ یہ سب کچھ جاننے کے باوجود اللہ کے ساتھ دوسروں کو اپنے حاجت روا اور مشکل کشا تسلیم کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ان کو اللہ نے ان چیزوں کا اذن دے دیا ہے ، یہ اللہ کے پیارے اور چہیتے ہیں ، ہم ان سے عرضیاں پیش کرتے ہیں اور یہ اللہ سے ہماری عرضیاں منظور کروا دیتے ہیں۔ ہم گناہ گار ہیں ہماری اللہ نہیں سنتا یہ نیک اور بزرگ ہیں ان کی اللہ نہیں موڑتا ، اس لیے جب ہم ان کی وساطت سے مانگتے ہیںٰ تو ہم کو مل جاتا ہے۔ زیر نظر آیت میں فرمایا گیا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ان سے پوچھئے کہ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ جب اللہ تم کو اپنے قانون کے مطابق کسی دکھ اور مصیبت میں مبتلا کردیتا ہے تو جن جن کو تم پکارتے ہو وہ تمہارا دکھ دور کیوں نہیں کردیتے ؟ اگر وہ تمہارا دکھ دور کردیتے تو آخر تم کسی مصیبت اور دکھ میں کیوں مبتلا ہوتے اور تمہارے مقابلے میں جب اللہ کسی کو رحمت سے نواز دیتا ہے تو یہ لوگ جن کو تم پکارتے ہو اسی رحمت کو روک بھی نہیں سکتے اس لیے تم جس غلط فہمی میں مبتلا ہو اگر اس غلط فہمی سے نکلنا نہیں چاہتے تو میں بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہونا نہیں چاہتا اس لیے مجھے تمہارے اس نظریہ سے کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا اور نہ ہی تمہارے حاجت روا اور مشکل کشا میرا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی مار مجھے لگ سکتی ہے۔ میرے لیے اللہ کافی ہے اور اللہ کے بندے اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص چاہتا ہے کہ سب انسانوں سے زیادہ طاقتور ہوجائے اسے چاہیے کہ اللہ پر توکل کرے اور جو شخص چاہتا ہے کہ سب سے بڑھ کر غنی ہوجائے اسے چاہئے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس پر زیادہ بھروسہ رکھے بہ نسبت اس کے جو اپنے ہاتھ میں ہے اور جو شخص چاہتا ہے کہ سب سے زیادہ عزت والا ہوجائے اسے چاہئے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے زیادہ ڈرتا رہے۔ “ (ابن ابی حاتم عن ابن عباس ؓ) تینوں باتیں جو حدیث میں فرمائی گئی ہیں ان کا سننا اور کہنا تو آسان ہے لیکن ان کے مطابق انسان کا عمل کرنا نہایت ہی مشکل ہے لیکن بحمد اللہ اپنا تو تجربہ ہے کہ جو فرمایا گیا وہ بالکل حق اور سچ ہے ، دنیا کے آسرے اس کے مقابلہ میں لاش ہیں اور دنیا کا مال اس کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور بلاشبہ نبی کریم ﷺ کا فرمان پتھر پر لکیر ہے اور بلاشبہ جو آپ نے فرمایا ہے یہ قرآن کریم کی روح ہے۔ زیر نظر آیت کا اختصار یہی ہے کہ ” اے پیغمبر اسلام ! یہ لوگ آپ کو طرح طرح کی دھمکیاں دیتے ہیں اور آپ کو اپنے بزرگوں ، حاجت روائوں اور مشکل کشائوں کی اثیت رسانی سے ڈراتے ہیں تو آپ انہیں ابھی فقط اتنا کہہ دیں (حسبی اللہ) ” مجھے میرا اللہ کافی ہے “ مجھے تم جتنی اذیتیں پہنچا سکتے ہو ان میں ذرا کمی نہ کرو۔ تم اسلام کو ناکام کرنے کے لیے جو کوششیں کر رہے ہو انہیں زور وشور سے جاری رکھو ( حسبی اللہ) مجھے میرا اللہ کافی ہے۔ اسی پر میرا توکل ہے اور اس پر توکل کرنے والوں کو توکل کرنا چاہئے اور بلاشبہ اسی پر توکل کرنے والے توکل کرتے ہیں۔
Ayah 39:39

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 39:39 in the Quran reader

آپ ﷺ فرما دیجئے کہ اے میری قوم (کے لوگو ! ) تم اپنی جگہ پر اپنا کام کیے جاؤ میں بھی کام کیے جاتا ہوں ، پس تم عنقریب جان لو گے

میں بھی عمل کرتا ہوں اور تم بھی عمل کرتے رہو نتیجہ عنقریب نظر آجائے گا 39 ۔ آپ کا عمل کیا ہے ؟ اس وقت تک صرف توحید الٰہی کا درس دینا اور کفار ِ مکہ کا عمل کیا تھا ؟ آپ کے درس پر خود تو نہ نہ دینا اور دوسروں کو توجہ دینے سے منع کرنا فرمایا گیا اے پیغمبر اسلام ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم جو عمل کر رہے ہو اپنا عمل جاری رکھو اور میں و بھی اپنا عمل جاری رکھوں گا اور نتیجہ نہ آپ کے ہاتھ میں ہے اور نہ ہی میرے ہاتھ میں اور یہ یقین ہے کہ جب عمل جاری ہے تو نتیجہ کیوں نہیں نکلے گا اس لیے نتیجہ ضرور نکلے گا اور پھر جب نتیجہ نکلے گا تم پر بھی واضح ہوجائے گا ، میں بھی جان جائوں گا اور دنیا بھی اسی نتیجہ کو دیکھ لے گی کہ نتیجہ کیا رہا۔
Ayah 39:40

مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 39:40 in the Quran reader

(کہ) کس پر وہ آفت آتی ہے جو اسے (دُنیاہی میں) رسوا کر ڈالے اور کس پر (آخرت میں بھی) مستقل عذاب آتا ہے

وہ کون ہے جس پر آفت آتی ہے اور وہ کون ہے جو آخرت میں عذاب دیا جاتا ہے ؟ 40۔ یعنی دونوں طرف سے عمل جاری ہے اور نتیجہ سے یہ بات روشن ہوجائے گی کہ کون ہے وہ جس کو اس دنیا میں رسوائی ہوئی ہے اور کون ہے وہ جو آخرت کے عذاب میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ غور کیجئے کہ ان حالات میں جن حالات سے آپ دوچار تھے اس طرح دو ٹوک اور صاف صاف بات کرنا اور ساری مخالفتوں کے باوجود اپنا عمل جاری رکھنا کیا آسان کام تھا لیکن آپ نے اللہ پر توکل کرتے ہوئے اللہ کے حکم سے اپنا عمل جاری رکھا اور پھر یہ عمل سالہا سال جاری رہا اور بلاشبہ جو نتیجہ نکلا وہ آپ نے بھی ، آپ کے مخالفین نے بھی اور ساری دنیا نے بھی اس وقت اپنی آنکھوں سے دیکھا اور آج بھی ہم اس کا ذکر پڑھ رہے ہیں اور قیامت تک لوگ پڑھتے رہیں گے کہ دنیوی رسوائی بھی آپ کے مخالفین کو ملی اور اخروی عذاب میں بھی وہ یقینا مبتلا ہیں اور بحمد اللہ آپ کو اس دنیا میں بھی کامیابی حاصل ہوئی اور آخرت میں بھی حوض کوثر کے ساقی آپ ہی ہوں گے اور آپ کے وہ ساتھی جو آپ پر سچے دل سے ایمان لائے اور دل وجان سے توحید کے درس کو قبول کیا دنیوی کامیابی بھی ان کے حصہ میں آئی اور آخرت میں بھی وہ آپ کے ساتھ ہی ہوں گے۔
Ayah 39:41

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ۠ Open ayah 39:41 in the Quran reader

ہم نے تو آپ ﷺ پر یہ کتاب لوگوں کی ہدایت کے لیے حق کے ساتھ نازل کی ہے پس اب جو راہ ہدایت اختیار کرتا ہے وہ اپنے لیے کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کی گمراہی (کا وبال) اس کے سر ہے اور آپ ﷺ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں

اے پیغمبر اسلام ! ہم نے آپ پر کتاب حق کے ساتھ نازل کی ہے 41۔ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جار ہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ہم نے جو کتاب آپ پر نازل کی ہے وہ سراپا حق ہے اور لوگوں کی ہدایت کے لی اس کو نازل کیا گیا ہے۔ اب اس کی روشنی سے جو فائدہ اٹھائے گا اس میں خود اس کا بھلا ہوگا اور جو آنکھوں پر پٹی باندھے رہے گا تو عمر بھر اس زندگی میں ٹھوکریں کھاتا رہے گا اور انجام کار ایک ایسے گڑھے میں گرے گا جہاں سے کبھی نہیں نکل سکے گا لیکن اصولی بات یہ ہے کہ جو ہدایت پائے گا اس کا اپنا فائدہ ہے اور جو ہدایت کے قریب نہیں آئے گا وہ خود ہی نقصان اٹھائے گا اور پھر اس کے لیے آپ کو وکیل اور ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ آپ کو پوچھا جائے کہ فلاں آدمی کیوں شرک کرتا رہا اور فلاں آدمی فسق وفجور کی دلدل میں کیوں پھنسا رہا ؟ آپ کا کام صرف اور صرف پیغام پہنچانا ہے وہ آپ نے دلنشیں انداز ، موثر طریقہ اور بڑی دلسوزی اور اخلاص کے ساتھ پہنچا دیا اور آپ نے اپنا فرض بطریق احسن ادا کردیا اب ان کی گمراہی کے بارے میں آپ سے کسی طرح کی پوچھ گچھ نہیں ہوگی کیونکہ ہدایت پر لگا دینا آپ کے فرائض منصبی میں سے نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ جو بات نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کے اختیار اور بس میں نہیں دی گئی اس پر کسی دوسرے سے استفسار کیوں کر ہوگا۔
Ayah 39:42

اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا١ۚ فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 39:42 in the Quran reader

اللہ ہی جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور ان (جانوں) کو بھی جن پر موت طاری نہیں ہوئی نیند کے وقت (قبض کرتا ہے) پھر ان کو روک لیتا ہے جن پر موت کا حکم صادر ہوچکا اور دوسری (جانوں) کو ایک وقت معین تک چھوڑ دیتا ہے ، بلاشبہ اس میں لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں (بڑی ہی) نشانیاں ہیں ، (وہ جوں جوں غور کریں گے تو واضح ہوتی جائیں گی)

روحوں کے قبض کرنے کا اختیار اللہ تعالیٰ کو ہے چاہے روک لے چاہے چھوڑ دے 42۔ روح کا قبض کرنا دو طریقہ پر ہے ایک نیند کی حالت میں اور ایک موت کی حالت میں۔ نیند کی حالت میں جب روح قبض ہوتی ہے تو انسان کا احساس ، شعور ، فہم وادراک اور اختیار و ارادہ سب معطل ہوجاتے ہیں اور اسلام کی زبان میں سوئے ہوئے آدمی کو مرفوع القلم قرار دیا گیا ہے۔ اس ارشاد الٰہی سے یہ احساس دلایا جارہا ہے کہ اے انسان ! تیری زیست اور موت دونوں میں سے ایک پر بھی تجھ کو کنڑول حاصل نہیں ہے اور جب تو ڈینگیں مانے لگتا ہے تو اپنی اس حالت پر تجھے کبھی خیال نہیں آیا کہ تو کتنی بےبس اور بےاختیار چیز ہے ابھی تو اپنے آپ سے باہر ہو رہا ہے اور ابھی تو نیند یا موت کی آغوش میں بےبس پڑا ہے اور پھر تعجب ہے کہ اگر تو اس بےبسی کے عالم میں نہ جائے تو بھی بےبس اور بےاختیار ہوجاتا ہے اور ہر جتن کرتا ہے کہ یہ بےبسی اور بےاختیاری کا عالم تجھ پر طاری ہو معلوم ہوا کہ تو بہت جلد بھول جانے والا ہے تب ہی تو اس طرح کی حرکتیں کرتا ہے اور پھر اس حالت سے کوئی انسان بھی نہیں جو باہر ہو وہ نیک ہے یا بد ، عالم ہے یا جاہل ، امیر ہو یا فقیر اور ظٓہر ہے کہ کوئی انسان بھی خواہ وہ کون ہو اور کہاں ہو یہ ضمانت نہیں رکھتا کہ رات کو جب وہ سوئے گا تو صبح لازما اٹھے گا اور کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ ایک گھڑی بر میں اس پر کیا آفت آنے والی ہے اور ایک سانس کے بعد دوسرا سانس آئے گا یا نہیں ؟ اس کی ہر حالت اس بےبسی کے علام میں ہے لیکن اس کو اپنی بےبسی کبھی بھول کر بھی یاد نہیں آتی حالانکہ ایسا بارہا دیکھا گیا ہے کہ ایک گھر میں شادی کی خوشیاں منائی جا رہی ہیں اور اچانک اس گھر کی خوشیاں صف ماتم میں بدل گئی ہیں اور یہ بھی کہ ایک کھانا بارات کے لیے تیار ہو رہا ہے لیکن وہی کھانا آہوں اور سسکیوں میں کھایا گیا ایسا کیوں ہوا اور کیسے ہوا ؟ ایسے ہی کہ جس کے قبضہ میں روحیں تھیں اس نے ان روحوں میں سے کسی روح کو روک لیا ، اگر وہ سویا تھا تو صبح کو کسی کے جگانے سے بھی نہیں جاگے گا کہ اس کے لیے موت کا فیصلہ نافذ ہوگیا تھا۔ اسی طرح کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ ایک گھڑی بھر میں اس پر کیا آفت آسکتی ہے اور دوسرا لمحہ اس پر زندگی کا ہونا ہے یا موت کا ؟ ہر وقت سوتے میں جاگتے میں ، گھر بیٹھے یا کہیں چلتے پھرتے آدمی کے جسم کی کوئی اندرونی خرابی یا باہر سے کوئی نامعلوم آفت اچانک وہ شکل اختیار کرسکتی ہے جو اس کے لیے پیام موت ثابت ہو۔ اس طرح جو انسان اس قدر بےبس ہے وہ کیسا سخت نادان ہے اگر اس بےبسی کے بعد بھی وہ اپنے رب کریم سے غافل ہے یا بالکل منحرف ہے۔ اس طرح انسان اگر اپنی حالت پر غور کرے گا تو اس کو معلوم ہوجائے گا کہ اس زندگی اور موت کے کھیل میں اس کے لیے ان گنت نشانیاں ہیں لیکن ان نشانیوں سے وہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو غور وفکر سے کام لیتے ہیں۔ افسوس کہ اس غور وفکر پر مذہبی پروہتوں نے بین لگا دیا ہے اور عوام کو یہ باور کرادیا ہے کہ دین میں غور وفکر کی قطعا ضرورت نہیں کیونکہ غور وفکر عقل کا کام ہے اور عقل کے بیری عقل ہی سے کام لینا منع قرار دیتے ہیں تاکہ ان کا بناوٹی دین و مذہب عقل وفکر کی زد میں نہ آجائے۔ بہرحال مذہب کے ٹھیکہ دار کچھ بھی کہیں اللہ تعالیٰ کا حکم ہر وقت ذہن نشین ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو عقل و فکر سے کام لینے کی تاکید فرمائی ہے۔
Ayah 39:43

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ١ؕ قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 39:43 in the Quran reader

کیا انہوں نے اللہ کے سوا اور سفارشی بنا لیے ہیں ، آپ فرما دیجئے کہ اگرچہ یہ سفارشی نہ قدرت ہی رکھتے ہوں اور نہ کچھ سمجھتے ہی ہوں

تعجب ہے کہ ان لوگوں نے اپنے پاس سے بےبس انسانوں کو سفارشی بنا لیا ہے 43۔ تعجب کیا جا رہا ہے ان لوگوں پر جنہوں نے اپنے طور پر یہ خود ہی فرض کرلیا ہے کہ فلاں فلاں ہستی اللہ تعالیٰ کے ہاں بری زور آور ہے جن کی سفارش کسی طرح بھی ٹل نہیں سکتی اور ان فرضی سفارشیوں میں بعض نے تو فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں بتایا اور یہ عقیدہ بنا لیا کہ لڑکی کی سفارش ساری سفارشوں سے بڑی سفارش ہوتی ہے لہٰذا فرشتے اللہ کی لرکیاں ہیں اور یہی ہماری سفارش اللہ کے ہاں کریں گی کیونکہ ہم ان کو سفارشی مانتے اور سمجھتے ہیں بعض نے اللہ کی نرینہ اولاد قرار دے کر اس کو سفارشی بنا لیا جیسا کہ عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو سمجھا ان سب کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا جا راہا ہے کہ تم عجیب دماغ کے لوگ ہو کہ ایسے لوگوں کو تم نے معبود بنا لیا ہے اور پھر ان کو اپنے سفارشی مقرر کرلیا ہے جن کے اختیار میں کچھ بھی نہیں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور تم کتنے عقل کے کورے ہو کہ تم نے مخلوق کو خالق کا ہم پلہ مان لیا ہے اور اس پر مزید یہ کہ وہ مرنے کے ساتھ ہی ہر طرح کی ملکیت اور دنیوی عقل و فکر سے بھی محروم ہوگئے کیونکہ ان کا تعلق اس دنیا سے منقطع ہوگیا۔ تم نے جو ان کے بت ، قبریں اور شبیہیں بنا رکھی ہیں یہ سب کی سب بھی ہر قسم کے فہم و شعور اور قوت واختیار سے محروم ہیں۔
Ayah 39:44

قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 39:44 in the Quran reader

آپ ﷺ فرما دیجئے کہ سفارش تو سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے اس کی حکومت آسمانوں اور زمین میں ہے پھر تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے

اے پیغمبر اسلام ! آپ کہہ دیجئے کہ شفاعت کا اختیار کلی تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے 44۔ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کے ذریعہ سے اس طرح کے نظریات گھڑنے والوں کو پیغام پہنچایا جا رہا ہے کہ خوب کان کھول کر سن لو کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کا یہ ذور نہیں ہے کہ اس کے حضور سفارشی بن کر اٹھ سکے کجا یہ کہ اپنی سفارش منوا لینے کی طاقت بھی اس میں ہو۔ ہاں ! یہ بات اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ وہ جسے چاہے سفارش کی اجازت دے اور جسے چاہے نہ دے اور یہ بھی کہ جب تک اس کی طرف سے اجازت نہ ملے کوئی نہیں جو کسی دوسرے کے کہنے پر سفارش کے لیے کھڑا ہوجائے اور اس کی سفارش پیش کر دے پھر جن کو تم نے بزعم خویش سفارشی بنا لیا ہے ان کی کیا مجال کہ وہ تمہاری سفارش پیش کردیں۔ اللہ ہی کہ لیے زمین و آسمان کی بادشاہی اور حکومت ہے اور تم سب کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
Ayah 39:45

وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 39:45 in the Quran reader

اور جب اللہ وحدہ (لا شریک لہ) کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کے قلوب گرانی محسوس کرتے ہیں اور جب ایک (اللہ) کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس وقت یہ خوش ہوتے ہیں

جب اللہ وحدہ لا شریک لہ کا ذکر آتا ہے تو مشرکوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں 45۔ بلاشبہ یہ بات اس وقت بھی تھی جب قرآن کریم نازل کیا جا رہا تھا اور آج بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر کیا جاتا ہے تو مشرکین کے دل گھٹنے لگتے ہیں۔ ان کے چہروں پر افسردگی چھا جاتی ہے اور رنگ زرد پڑجاتا ہے اور ماتھے ہیں کہ شکنوں سے پر ہوجاتے ہیں ، گال غصہ سے بھر جاتے ہیں اور ان کی حالت وکیفیت دیدنی ہوتی ہے ، ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ فرمایا اس لیے کہ ان لوگوں کا آخرت پر ایمان نہیں ہوتا اور اس دنیا میں جو انہوں نے آسرے اور سہارے بنا رکھے ہیں ان کی نفی ان کو کسی حال میں بھی پسند نہیں آتی اور جب اس مجلس میں یا کسی دوسری مجلس میں اللہ رب کریم کے سوا ان کے ان حاجت روائوں اور مشکل کشائوں کا ذکر آجاتا ہے تو وہ خوشیاں منانے لگتے ہیں اور بغلیں بجانے لگتے ہیں اور زور دار نعرے لگانے لگتے ہیں اور آہ ، آہ اور واہ واہ کی صدائیں آنے لگتی ہیں اور ان کے چہرے خوشی سے دمک اٹھتے ہیں اور ان پر تمتماہٹ پیدا ہوجاتی ہے اور اس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ان کی دلچسپی اور محبت کس سے ہے اور فراڈ کس سے کر رہے ہیں۔
Ayah 39:46

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 39:46 in the Quran reader

آپ ﷺ فرما دیجئے ، اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ، پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں کی ان باتوں میں جن میں یہ جھگڑتے رہتے ہیں فیصلہ فرما دے ، (تیرے سوا کسی سے اس کا فیصلہ ممکن نہیں)

اللہ ہی ان کے درمیان فیسلہ کرے گا جس میں یہ لوگ اختلاف کرتے ہیں 46۔ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ خود اپنے پیارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کو دعا سکھا رہے ہیں کہ مشرکوں کی کارستانیوں کو دیکھ کر جب دل تنگ ہوجائیں اور ان کو سمجھا سمجھا کر تھک جائیں تو اپنے رب ذوالجلال والاکرام سے اس طرح دعا کیا کریں ” اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ، پوشیدہ اور حاضر کے جاننے والے تو اپنے بندوں کی ان باتوں میں جن میں یہ جھگڑتے ہیں فیصلہ فرما دے “ کہ تیرے سوا کسی اور سے یہ فیصلہ ممکن نہیں کیونکہ ان کو ہزار بار کوئی سمجھائے لیکن یہ سمجھ ہی نہیں سکتے اس لیے کہ ان کا اختلاف ایسا نہیں جو کسی دلیل پر مبنی ہو بلکہ انہوں نے حق کو تسلیم نہ کرنے کی سوگند کھائی ہے اور اپنی قسم پر بغیر کسی دلیل وحجت کے قائم رہنا چاہتے ہیں اگر ان سے دلیل طلب کی جائے تو روٹھ کر صرف یہ بات کہہ دیتے ہیں کہ اگر یہ شرک ہے تو ہم سو بار اس کو کریں گے کیونکہ ہمارے باپ دادا اس کو کرتے آئے ہیں کیا ہمارے باپ دادا مشرک تھے اور ان بےدینوں کے دین کا اسلام ہے ؟
Ayah 39:47

وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ Open ayah 39:47 in the Quran reader

اور اگر ظالموں کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی ہو تو وہ لوگ قیامت کے دن سخت عذاب سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے سب کا سب دے ڈالیں اور (تب بھی) ان پر اللہ کی طرف سے وہ (عذاب) ظاہر ہوگا جس کا ان کو سان گمان تک نہ تھا

یہ ظالم اگر قیامت کے روز پوری دنیا بھی بدلہ میں دے دیں تو عذاب سے نہیں بچ سکتے 47۔ (ظلموا) سے مراد وہی ظالم ہیں جو اس کھلے شرک کے مرتکب ہوئے جن کا ذکر گزشتہ آیات میں ہوتا چلا آرہا ہے فرمایا اب تو یہ لوگ جھگڑا کر رہے ہیں اور حق کو حق تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور جب ان کو توحید کا درس دیا جاتا ہے تو ان کے تیور بدل جاتے ہیں اور طرح طرح کی باتیں بنانے لگتے ہیں ، قیامت کے روز جب ان کو عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا اس وقت یہ لوگ چاہیں گے کہ اگر ان کے پاس دنیا کی ساری دولت بھی ہو تو وہ دے کر اس عذاب سے بچنے کی کوئی تدبیر کریں حالانکہ اس وقت کہاں وہ اور کہاں اس دنیا کی دولت لیکن اگر ان کے پاس دنیا کی دولت موجود بھی ہوتی تو وہ ساری نہیں بلکہ اتنی مزید بھی اکٹھی کر کے دے دیتے کہ اس عذاب سے بچ جائیں تو ان سے قطعا قبول نہ کی جاتی اور اس عذاب سے وہ کبھی چھٹکارا نہیں پا سکتے اس وقت ان پر حقیقت حال کھل جائے گی کہ ان کے ساتھ وہ کچھ ہوا جس کا وہ گمان نہیں رکھتے تھے اور جس کی ان کو قطعا امید نہیں تھی۔ وہ سب کچھ ان پر روشن ہوجائے گا جس کے لیے وہ جھگڑتے تھے اور قیامت کے روز سب کچھ پیش کرنے والے وہی تو ہیں جو دنیوی زندگی میں فی سبیل اللہ ایک دمڑی تک دینے کے لیے تیار نہ تھے بلکہ دوسروں کو دینا تو درکنار وہ دمڑی بچانے کے لیے ساری زندگی کپڑے کی بجائے اپنی چمڑی ہی استعمال کرتے رہے ، سردیوں میں مستعار آگ مانگ کر اور گرمیوں میں مفت کا پانی استعمال کر کے۔
Ayah 39:48

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 39:48 in the Quran reader

اور (اس دن) ان پر جو وہ برے کام کرتے تھے ظاہر ہوجائیں گے اور جس (عذاب) کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہ انہیں آ گھیرے گا

ان کی وہ ساری برائیاں ظاہر ہوجائیں گی جو وہ کماتے رہے تھے 48۔ دنیوی زندگی میں جو انہوں نے کمائی کی وہ اس وقت بھی سب پر روشن تھی لیکن ان کی دولت ، خاندان اور برادری واقتدار آڑے آیا اور کسی کو بولنے نہ دیا ہر ایک کے منہ پر مہر لگی رہی اور سب نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور اگر کوئی اللہ کا بندہ بول پڑا تو انہوں نے اپنے کارندوں ہی سے اس کی زبان کھنچوا دی لیکن جب ساری دنیا کے لوگ میدان حشر میں موجود ہیں اور سب کے سامنے ان کے پول کھولے جا رہے ہیں اور وہ ہیں کہ بےبسی کی تصویر بنے کھڑے ہیں اور عذاب ہے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے کھڑا ہے اور یہ عذاب ان کے اس استہزاء و مذاق کا نتیجہ ہے جو وہ دنیا میں ان اللہ کے بندوں سے کرتے رہے۔
Ayah 39:49

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا١٘ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ١ؕ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:49 in the Quran reader

پس جس وقت انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی خاص نعمت عطا کرتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ یہ تو مجھ کو میرے علم کی بنا پر ملا ہے ، نہیں بلکہ یہ تو اس کی آزمائش تھی (کہ اس کی نظر کہاں پڑتی ہے) لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے

ایسے انسانوں کی حالت ہی یہ ہے کہ پکڑے گئے تو چیخنے لگے ، چھوڑے گئے تو خوش ہو گئے 49۔ ایسے انسانوں کی حالت جن کا ذکر گزشتہ آیت میں کیا گیا دنیوی زندگی میں اس طرح رہی کہ جب کسی تکلیف میں مبتلا ہوئے تو اس وقت اپنے رب کریم کو پکارنے لگے اور گڑگڑا کر اور رو رو کر دعائیں مانگنے لگے اور فریادیں کرنے لگے اور جب اس عذاب سے اس دکھ اور مصیبت سے نجات مل گئے اور اللہ تعالیٰ نے انعامات کی بارش برسا دی تو اس وقت بھی ان کے منہ سے یہ بات نہ نکلی کہ اللہ نے احسان فرمایا اور میری مشکل آسان کر کے مجھے اپنی نعمتوں سے نوازا بلکہ اس وقت بھی وہ اپنی قابلیت کی ڈینگیں مانے لگے اور اپنی ماہرت لوگوں کو جتانے لگے اور کہا تو یہی کہا کہ یہ ساری خوشحالی ، یہ بنگلہ ، یہ کو ٹھی اور کار اور اسی طرح زندگی کی ساری سج دھج اور رونق ہماری اپنی ذاتی کمائی ہے۔ ہم نے یہ کیا تو ایسا ہوگیا اور ہم نے وہ کیا تو ویسا ہوگیا اور اس ایسے ویسے میں ہے کیا ؟ یہی کہ دھوکا اور فراڈ سے قرض منظور کرایا اور بعد میں رو پیٹ کر پارٹی کے رکھ رکھائو میں معاف کرایا ، لاکھوں قرض اٹھا کر ایم پی اے کی سیٹ جیتی اور کروڑوں لے کر سیٹ فروخت کردی اور قرض مفت میں معاف کرالیا ، رشوت دے کر کوئی اونچی آسامی خرید لی اور اسی پوسٹ سے جس کے لیے لاکھوں دیا تھا تو کروڑوں کمایا۔ ہمارے اس ملک عزیز میں جو شخص حرام حلال کی تمیز نہ کر کے ایک لاکھ جمع کرلے اور پھر وہ ساری رقم ایک بار رشوت میں جھونک دے تو راشی بن کر ایک کروڑ کمانا اس پر فرض ہوتا ہے اور یہ اس کا حق سمجھا جاتا ہے ہاں ! اس سے تجاوز کرے تو پھر لاکح رشوت لینے والا پوچھ سکتا ہے کہ تم نے اپنے حق سے تجاوز کیوں کیا ؟ اس طرح کی بداعتدالیاں کر کے ان کی عادت ثانیہ بن جاتی ہے کہ ان کو مصنوعی رونا ، مصنوعی ہنسنا خوب آجاتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسے سارے لوگ فریب خوردہ ہیں جو حقیقت حال سے بیخبر ہیں اور ان کو معلوم ہی نہیں و ہوتا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ سب کچھ نوٹ کیا جا رہا ہے اور ان کی ایک ایک حرکت لکھی جا رہی ہے اور ان کے یہ عہدے اس لیے بڑھ رہے ہیں کہ وہ آزمائش سے اگر نہیں نکلنا چاہتے تو ساری زندگی اس میں مبتلا رہیں اور پھر ایک ہی بار جب ان کی نظریں اس زندگی سے بند ہوں تو آنے والی زندگی میں سب کچھ ان کے سامنے پیش کردیا جائے اور ان کو اپنا رشوت دینا بھی اور رشوت لینا بھی دونوں دکھا دیئے جائیں اور ان سے کہا جائے کہ اس کا حساب تم کو اس جگہ چل کر کرنا ہے جس کا نام ہم نے دوزخ اور جہنم رکھا ہے۔
Ayah 39:50

قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:50 in the Quran reader

بیشک ان سے قبل بھی لوگ ایسا ہی کہا کرتے تھے (ان کو بھی اپنی اہلیت اور دولت پر ناز تھا) سو ان کا کمایا ان کے کچھ بھی کام نہ آیا

جو انہوں نے کہا یہی بات ان کے پہلے لوگوں نے کہی تھی 50۔ جس طرح کی باتیں یہ لوگ کر رہے ہیں بالکل اسی طرح کی باتیں ان لوگوں نے بھی کہی تھیں جو ان سے پہلے تھے اور اس ناشکری اور ناقدری کے باعث ان سے وہ نعمتیں چھین لی گئی تھیں اور اس کے بعد ان کو ہولناک عذاب سے اچانک دوچار کردیا گیا تھا اور ان کو ان کی علمی قابلیت اور دانشمندی ، ان کا مال و دولت اور ان کا خاندانی وقار اور ان کے عہدوں کی بھر مار نہ بچا سکی اور ہماری گرفت سے یقینا یہ لوگ بھی نہیں بچ سکیں گے نہ تو وہی لوگ ہم کو عاجز کر پائے اور نہ ہی یہ لوگ عاجز کرسکیں گے۔ انسان ہر حال میں انسان ہے خواہ وہ کتنی ترقیاں حاصل کر جائے۔ کوئی دانش مند سے دانش مند بھی اگر پہاڑ سے ٹکر مارے گا تو وہ اپنا ہی سر پھوڑے گا ، پہاڑ کا وہ کیا بگاڑے گا اس طرح وہ لوگ اپنے اپنے ظلم کی بھینٹ چڑھ گئے اور یہ لوگ بھی اپنے ظلم کی بھینٹ چڑھ جائیں گے نہ پہلوں نے کوئی اللہ تعالیٰ کا نقصان کیا اور نہ ہی یہ کوئی نقصان کرسکیں گے بلاشبہ ان کی ڈینگیں ان کے کچھ کام نہ آئیں اور ان کی ڈینگیں ان کے کچھ بھی کام نہیں آئیں گی۔
Ayah 39:51

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ؕ وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ۙ وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 39:51 in the Quran reader

پھر ان کے (برے) اعمال کی برائیاں انہیں پر پڑیں اور ان (کفار مکہ) میں سے جو ظالم ہیں ان پر عنقریب ان کے اعمال بد کا وبال پڑے گا اور وہ (اللہ کو اپنی تدبیروں سے کبھی بھی) ہرا نہ سکیں گے

پہلوں کو ان کے کیے کی سزا ملی اور ان کو اس کے کیے کی سزا ملے گی 51۔ گزشتہ قوموں کے لوگ بھی اسی طرح کی ڈینگیں مارتے تھے جس طرح کی یہ لوگ ڈینگیں مار رہے ہیں پھر جب ان کی شامت آئی تو ان کی ساری قابلیت دھری کی دھری رہ گئی جس قابلیت کے وہ دعویدار تھے اور ان کا سارا بھرم کھل گیا اور آج اے پیغمبر اسلام ! آپ کے زمانہ کے لوگ بھی وہی کچھ کر رہیے ہیں تو ظاہر ہے کہ ان کا انجام بھی یقینا وہی ہوگا جو گزشتہ قوموں کے لوگوں کا ہوا تھا۔ کیا ان کی صلاحیتیں ان کے کام آئیں جو ان کی صلاحیتیں ان کے کام آئیں گی حالانکہ ہٹ دھرمی کا نام صلاحیت نیں ھ ہوتا نہ ان ہی میں کوئی صلاحیت نام کی شے تھی اور نہ ہی ان میں ہے اور ہٹ دھرمی کو اگر کوئی صلاحیت کہتا ہے تو آج نہیں تو کل اس پر واضح ہوجائے گا کہ کہنے کہلانے سے کچھ نہیں ہوتا معاملہ سارا کسب و کمائی کا ہے وہ اچھا ہے تو نتیجہ اچھا اور اگر وہ برا ہے تو نتیجہ برا ہی نکلے گا۔ اللہ تعالیٰ کو عاجز قرار دینے والے خود چت ہوجائیں گے اور دنیا دیکھ لے گی کہ عاجز کون ہے ؟
Ayah 39:52

اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 39:52 in the Quran reader

کیا انہیں علم نہیں کہ اللہ جس کو چاہتا ہے فراخی سے رزق عطا کرتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) نپا تلا دیتا ہے ، بلاشبہ اس میں ایمان والوں کے لیے بڑی ہی نشانیاں ہیں

کیا ان کو معلوم نہیں ہے کہ اللہ ہی ہے جو رزق کو تنگ کرتا ہے اور کشادہ کرتا ہے 52۔ رزق کی تنگی اور فراخی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک قانون بنا دیا ہے اور اسی قانون کے تحت وہ رزق کشادہ کرتا ہے اور اسی قانون کے تحت وہ رزق تنگ کرتا ہے یہ بات اچھی طرح ان کو ذہن نشین کرلینی چاہیے کیونکہ اس کا تعلق کسی انسان کے نیک ہونے یا بد ہونے سے نہیں ہے۔ رزق کی تنگی اور فراخی کا معیار اگر عقل ہوتی تو بےعقل اور نادان لوگ اس دنیا میں بھوکوں مر جاتے ، پڑھے لکھے اور حساب کے ماہر سارا رزق اکٹھا کر کے لیے جاتے اور ان پڑھ اور حساب کتاب سے ناواقف سارے کے سارے ننگ ہوجاتے اور ان کو نان جویں بھی میسر نہ آتی حالانکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے اور حساب و کتاب کے ماہر ان پڑھوں اور انگوٹھا لگانے والوں کے ہاں ملازم ہیں اور ان کی خدمت کر کے چائے کی پیالی پی رہے ہیں۔ بلاشبہ تقسیم رزق بھی اس کی حکمت ہے اور اللہ تعالیٰ کی اسی حکمت میں صدہا نشانیاں ہیں لیکن ان نشانیوں سے وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کے دل میں نور ایمان کی رمق موجود ہے۔ اس مضمون کی اگر وضاحت مطلوب ہو تو تفسیر عروۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی آیت 245 ، جلد چہارم سورة رعد کی آیت 29 جلد پنجم سورة بنی اسرائیل کی آیت 30 ، جلد ششم سورة القصص کی آیت 82 ، جلد ہذا سورة العنکبوت کی آیت 62 ، سورة الروم کی آیت 37 ، سورة سبا کی آیت 36 ، 39 کا مطالعہ کریں۔
Ayah 39:53

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 39:53 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) آپ ﷺ فرما دیجئے (میری طرف سے کہ) اے میرے بندو ! جنہوں نے (اُلٹے کام کر کے) اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں (حد سے تجاوز کیا ہے) اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو ، بلاشبہ اللہ سب گناہ بخش دے گا ، بیشک وہ بڑا بخشنے والا ، پیار کرنے والا ہے

میرے بندوں کو کہہ دو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے کہ وہ رحمت سے مایوس نہ ہوں 53۔ زیر نظر آیت رحمت بےپایاں کا ذکر کھول کر کر رہی ہے اس لیے ضروری ہے کہ اچھی طرح سمجھ لیا جائے کہ رحمت الہٰی کیا ہے ؟ قرآن ِ کریم کہتا ہے کہ کائناتِ ہستی میں جو کچھ بھی خوبی و کمال ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ رحمت الہٰی کا ظہور ہے۔ بلاشبہ جب ہم کائناتِ ہستی کے اعمال و مظاہر پر غور کرتے ہیں تو سب سے پہلی حقیقت جو ہمارے سامنے آتی ہے وہ اللہ رب کریم کا نظام ربوبیت ہے کیونکہ فطرت سے ہماری پہلی شناسائی ربوبیت ہی کی ذریعہ ہوتی ہے لیکن جب علم و ادراک کی راہ میں چند قدم آگے بڑ تھے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ربوبیت سے بھی زیادہ وسیع اور عام حقیقت جو یہاں کارفرما ہے وہ رحمت ہے کیونکہ ربوبیت بھی اس کے فیضان کا ایک گوشہ ہے۔ ربوبیت کیا ہے ؟ فرمایا کائناتِ ہستی کی پرورش ہے لیکن کائناتِ ہستی میں صرف پرورش ہی نہیں ہے بلکہ پرورش سے بڑھ کر ایک زیادہ بنانے ، سنوارنے اور فائدہ پہنچانے کی حقیقت کام کر رہی ہے ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی فطرت میں بناء ہے ، اس کے بنائو میں خوبی ہے ، اس کے مزاج میں اعتدال ہے ، اس کے افعال میں خواض ہیں ، اس کی صورت میں حسن ہے ، اس کی صدائوں میں نغمہ ہے ، اس کی بو میں عطر بیزی ہے ، اس کی کوئی بات نہیں جو اس کارخانہ کی تعمیر و درستگی کے لیے مفید نہ ہو۔ پس یہ حقیقت جو اپنے بنائو اور فیضان میں ربوبیت سے بھی زیادہ وسیع اور عام ہے قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ رحمت ہے اور خالق کائنات کی رحمانیت اور رحیمیت کا ظہور ہے بلاشبہ تعمیر وتحسین کائنات رحمت الٰہی کا نتیجہ ہے زندگی اور حرکت کا یہ عالم گیر کارخانہ وجود ہی میں نہ آتا اگر اپنے ہر فعل میں بننے بنانے ، سنورنے سنوارنے اور ہر طرح بہت واصلح ہونے کا خاصہ نہ رکھتا۔ فطرتِ کائنات میں یہ خاصہ کیوں ہے ؟ اس لیے کہ بنائو ہو بگاڑ نہ ہو ، درستگی ہوبرہمی نہ ہو لیکن کیوں ایسا ہو کہ فطرت بنائے اور سنوارے بگاڑے اور الجھائے نہیں ؟ یہ کیا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے درست اور بہتر ہی ہوتا ہے خراب اور بدتر نہیں ہوتا ؟ انسان کے علم و دانش کا کاوشیں آج تک یہ عقدہ حل نہ کرسکیں ، فلسفہ و نظر کا قدم جب کبھی اس حد تک پہنچا دم بخود ہو کر رہ گیا لیکن قرآن کریم کہتا ہے اس لیے کہ فطرتِ کائنات میں رحمت ہے اور رحمت کا مقتضی یہی ہے کہ خوبی اور درستگی ہو بگاڑ اور خرابی نہ ہو۔ انسان کے علم و دانش کی ساوشیں بتلاتی ہیں کہ کائناتِ ہستی کا یہ بنائو اور سنوار عناصر اولیہ کی ترکیب و ترکیب کے اعتدال اور تسویہ کا نتیجہ ہے ، مادہ علام کی کمیت میں بھی اعتدال ہے ، کیفیت میں بھی اعتدال ہے ، یہی اعتدال ہے جس سے سب کچھ بنتا ہے اور جو کچھ بنتا ہے خوبی اور کمال کے ساتھ بنتا ہے ، یہی اعتدال و تناسب دنیا کے تمام تعمیری اور ایجابی حقائق کی اصل ہے وجود ، زندگی ، تندرستی ، خوشبو ، نغمہ ، بنائو اور خوبی کے بہت سے نام ہیں مگر حقیقت ایک ہی ہے اور وہ اعتدال ہے لیکن فطرتِ کائنات میں یہ اعتدال و تناسب کیوں ہے ؟ کیوں ایسا ہوا کہ عناصر کے وقائق جب ملیں تو اعتدال و تناسب کے ساتھ ملیں اور مادہ کا خاصہ یہی ٹھہرا کہ اعتدال و تناسب ہو ، انحراف و تجاوز نہ ہو ؟ انسان کا علم دم بخود اور متحیر ہے لیکن قرآن کریم کہتا ہے ، یہ اس لیے ہوا کہ خالق کائنات میں رحمت ہے اور اس لیے کہ اس کی رحمت اپنا ظہور بھی رکھتی ہے اور جس میں رحمت ہو اور اس کی رحمت ظہور بھی رکھتی ہو تو جو کچھ اس سے صادر ہوگا اس میں خوبی اور بہتری ہی ہوگی ، حسن و جمال ہی ہوگا ، اعتدال وتناسب ہی ہوگا ، اس کے خلاف کچھ نہیں ہو سکتا۔ فلسفہ ہمیں بتلاتا ہے کہ تعمیر و تحسین فطرتِ کائنات کا خاصہ ہے اور خاصہ تعمیر چاہتا ہے کہ بنائو ہو ، خاصہ تحسین چاہتا ہے کہ جو کچھ بنے خوبی و کمال کے ساتھ بنے اور یہ دونوں خاصے ” قانون ضرورت “ کا نتیجہ ہیں۔ کائناتِ ہستی کے ظہور و تکمیل کے لیے ضرورت تھی کہ تعمیر ہو اور ضرورت تھی کہ جو کچھ تعمیر ہو حسن و خوبی کے ساتھ ہو ، یہی ” ضرورت “ بجائے خود ایک علت ہوگئی اور اس لیے فطرت سے جو کچھ ظہور میں آتا ہے ویسا ہی ہونا ضروری تھا۔ لیکن اس تعلیل سے بھی تو یہ عقدہ حل نہیں ہوا ؟ سوال جس منزل میں تھا اس سے صرف ایک منزل اور آگے بڑھ گیا ، تم کہتے ہو ، یہ جو کچھ ہر رہا ہے اس لیے ہے کہ ” ضرورت “ کا قانون موجود ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ” ضرورت “ اس بات کی مقتضی ہوئی کہ خوبی اور درستگی ہو بگاڑ اور برہمی نہ ہو ؟ انسانی علم کی کاوشیں اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں ایک مشہور فلسفی کے لفظوں میں ” جس جگہ سے یہ ” کیوں “ شروع ہوجائے سمجھ جائو کہ فلسفہ کے غور وخوض کی حدود ختم ہوگئیں “ لیکن قرآن کریم اس سوال کا جواب دیتا ہے ، وہ کہتا ہے یہ ” ضرورت “ رحمت وفضل کی ضرورت ہے۔ رحمت چاہتی ہے کہ جو کچھ ظہور میں آئے بہتر ہو اور نافع ہو اس لیے جو کچھ ظہور میں آتا ہے بہتر ہوتا ہے اور نافع ہوتا ہے۔ پھر یہ حقیت بھی واضح رہے کہ دنیا میں زندگی اور بقاء کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے جمال و زیبائی ان سے ایک زائد تر فیضان ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ جمال وزئبائش بھی یہاں موجو ہے پس یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ سب کچھ قانون ضرورت ہی کا نتیجہ ہے ضرورت ، زندگی اور بقا کا سروسامان چاہتی ہے لیکن زندہ اور باقی رہنے کے لیے جمال وزئبائش کی کیا ضرورت ہے ؟ اگر جمال وزیبائش بھی یہاں موجود ہے تو یقینا یہ فطرت کا ایک مزید لطف و احسان ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فطرت صرف زندگی ہی نہیں بخشی بلکہ زندگی کو حسین ولطیف بھی بنانا چاہتی ہے پس یہ محض زندگی کی ضرورت کا قانون نہیں ہو سکتا یہ اس ” ضرورت “ سے بھی کوئی بالاتر ” ضرورت “ ہے جو چاہتی ہے کہ رحمت اور فیضان ہو قرآن کریم کہتا ہے یہ رحمت کی ” ضرورت “ ہے اور رحمت کا مقتضی یہی ہے کہ وہ سب کچھ ظہور میں آئے جو رحمت سے ظہور میں آنا چاہیے جیسا کہ ارشاد الہٰی ہے کہ : ( قل لمن ما فی السموات والارض قل اللہ کتب علی نفسی الرحمۃ) ( الانعام : 6 ، 12) ” آسمان و زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کے لیے ہے ؟ اے پیغمبر اسلام ! کہہ دیجئے اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے لیے ضروری ٹھہرا لیا ہے کہ رحمت ہو۔ ‘ ‘ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا : (ورحمتی وسعت کل شیء) (الاعراف 7 : 156) ” اور میری رحمت دنیا کی ہرچیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ “ اس سلسلہ میں سب سے پہلی حقیقت جو ہمارے سامنے نمایا ہوتی ہے وہ کائناتِ ہستی اور اس کی تمام اشیاء کا افادہ وفیضان ہے یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ فطرت کے تمام کاموں میں کامل نظم ویکسانیت کے ساتھ مفید اور بکار آمد ہونے کی خاصیت پائی جاتی ہے اور اگر بہ حیثیت مجموعی دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا یہ تمام کار گاہ عالم صرف اسی لیے بنا ہے کہ ہمیں فائدہ پہنچائے اور ہماری حاجت روائیوں کا ذریعہ ہو اور قرآن ِ کریم نے بہت سے جگہوں پر اس کی وضاحت کی ہے جیسا کہ سورة الجاثیہ 45 کی آیت 13 میں وضاحت کی گئی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کائناتِ ہستی میں جو کچھ بھی موجود ہے اور جو کچھ بھی ظہور میں آتا ہے اس میں سے ہرچیز کوئی نہ کوئی خاصہ رکھتی ہے اور ہر حادثہ کی وکئی نہ کوئی تاثیر ہے اور پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ یہ تمام خواص و موثرات کچھ اس طرح واقع ہوتے ہیں کہ ہر خاصہ ہماری کوئی نہ کوئی ضرورت پوری کرتا اور ہر تاثیر ہمارے لیے کوئی نہ کوئی فیضان رکھتی ہے۔ سورج ، چاند ، ستارے ، ہوا ، بارش ، دریا ، سمندر ، پہاڑ سب کے خواص وفوائد ہیں اور سب ہمارے لیے طرح طرح کی راحتوں اور آسائشوں کا سامان بہم پہنچا رہے ہیں۔ قرآن کریم نے اس کی وضاحت بھی بہت سے مقامات پر کردی ہے اور انہی مقامات میں سے ایک مقام سورة ابراہیم 14 کی آیت 31 تا 34 تک کا ہے جو قابل ملاحظہ ہے۔ زمین کو دیکھو کہ اس کی سطح پھولوں اور پھلوں سے لدی ہوئی ہے۔ تہ میں آب شیریں کی سوتیں بہہ رہی ہیں ، گہرائی سے سونا چاندی نکل رہا ہے وہ اپنی جسامت میں اگر شہ مدور ہے لیکن اس کا ہر حصہ اس طرح واقع ہوا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسطح فرش بچھا دیا گیا ہے ، اس کی وضاحت قرآن کریم کی سورة الرعد کی آیت 3 ، 4 میں کی گئی ہے اور اسی طرح سورة الاعراف کی آیت 9 میں بھی موجود ہے۔ سمندر کی طرف نظر اٹھائو تو اس کی سطح پر جہاز تیر رہے ہیں ، تہ میں مچھلیاں اچھل رہی ہیں ، قعر میں مرجان اور موتی نشو ونما پا رہے ہیں۔ اس کی وضاحت آپ کو سورة النحل کی آیت 13 میں ملے گی۔ حیوانات کو دیکھو ، زمین کے چارپائے ، فضا کے پرند ، پانی کی مچھلیاں سب اس لیے ہیں کہ اپنے اپنے وجود سے ہمیں فائدہ پہنچائیں۔ غذا کے لیے ان کا دودھ اور گوشت ، سواری کے لیے ان کی پیٹھ ، حفاظت کے لیے ان کی پاسبانی ، پہننے کے لیے ان کی کھال اور اون ، برتنے کے لیے ان کے جسم کی ہڈیاں تک مفید ہیں جس کا ذکر قرآن کریم نے سورة النحل کی آیت 5 تا 8 میں اور سورة النحل کی آیت 66 اور آیت 80 میں تفصیل سے کیا ہے۔ ایک انسان کتنا ہی محدود اور غیر متمدن زندگی رکھتا ہو لیکن اس حقیقت سے بیخبر نہیں ہو سکتا کہ اس کا گردو پیش اسے فائدہ پہنچا رہا ہے۔ ایک لکڑہارا بھی اپنی جھونپری میں بیٹھا ہوا نظر اٹھاتا ہے تو گویا اپنے احساص کے لیے بہتر تعبیر نہ پائے لیکن یہ حقیقت ضرور محسوس کرلیتا ہے۔ وہ جب بیمار ہوتا ہے تو جنگل کی جڑی بوٹیاں کھا لیتا ہے ، دھوپ تیز ہوتی ہے تو درختوں کے سایے میں وقت پاس کرلیتا ہے ، بیکار ہوتا ہے تو پتوں کی سرسبزی اور پھولوں کی خوشنمائی سے آنکھیں سینکنے لگتا ہے ، پھر یہی درخت ہیں جو اپنی شادابی میں اسے پھل بخشتے ہیں ، پختگی میں لکڑی کے تختے بن جاتے ہیں ، کہنگی میں آگ کے شعلے بھرکا دیتے ہیں۔ ایک ہی مخلوق بنائی ہے جو اپنے منظر سے نزہت و سرور بخشتی ہے ، اپنی بو سے ہوا کو معطر کرتی ہے ، اپنے پھل میں طرح برح کی غذائیں رکتھی ہے ، اپنی لکڑی سے سامان تعمیر مہیا کرتی ہے اور پھر خشک ہوجاتی ہے تو اس کے جلانے سے آگ بھڑکتی ، چولہے گرم کرتی ، موسم کو معتدل بناتی اور اپنی حرارت سے بیشمار اشیاء کے پکنے ، پگھلنے اور تپنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ پھر وہ فوائد ہیں جو تمہیں اپنی جگہ محسوس ہو رہیں لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ فطرت نے یہ تمام چزئیں کن کن کاموں اور کن کن مصلحتوں کیلیے پیدا کی ہیں اور کار فرمائے عالم کار گاہ ہستی کے بنانے اور سنوارنے کے لیے ان سے کیا کیا کام نہیں لے رہا ہے ؟ مختصر سے مختصر یہ کہ اس کائنات کی تخریب بھی تعمیر کے لیے ہے یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ دنیا عالم کون و فساد ہے یہاں ہر بننے کے ساتھ بگڑنا ہے اور ہر سمٹنے کے ساتھ بکھرنا لیکن جس طرح سنگ تراش کا توڑنا پھوڑنا بھی اس لیے ہوتا ہے کہ خوبی و دلآویزی کا ایک پیکر تیار کر دے اسی طرح تمام کائناتِ عالم کا بگاڑ بھی اس لیے ہے کہ بنائو اور خوبی کا فیضان ظہور میں آئے تم ایک عمارت بناتے ہو لیکن اس بنانے کا مطلب کیا ہوتا ہے ؟ کیا یہی نہیں ہوتا کہ بہت سی بنی ہوئی چیزیں بگاڑ دی گئیں ؟ چٹانیں اگر نہ کاٹی جائیں ، بھٹے اگر نہ سلگائے جاتے ، درختوں پر آرا اگر نہ چلتا تو ظاہر ہے کہ عمارت کا بنائو بھی ظہور میں نہ آتا پھر یہ راحت و سکون جو تمہیں ایک عمارت کی سکونت میں حاسل ہوتا ہے کس صورت حال کا نتیجہ ہے ؟ یقینا اس شور و شر اور ہنگامہ و تخریب کا جو سروسامانِ تعمیر کی جدوجہد نے عرصہ تک جاری رکھا تھا اگر تخریب کا یہ شور وشر نہ ہوتا تو عمارت کا عیش و سکون بھی وجود میں نہ آتا۔ پس یہی حال فطرت کی تعمیری سرگرمیوں کا بھی سمجھو وہ عمارت ہستی کا ایک ایک گوشہ تعمیر کرتی رہتی ہے۔ وہ اس کارخانہ کا یک ایک کیل پرزہ ڈھالتی رہتی ہے۔ وہ اس کی درستگی و خوبی کی حفاظت کے لیے ہر نقصان کا دفعیہ اور ہر فساد کا ازالہ چاہتی ہے ، تعمیر و درستگی کی یہی سرگرمیاں ہیں جو تمہیں بعض اوقات تخریب و نقصان کی ہولناکیاں دکھائی دیتی ہیں حالانکہ یہاں تخریب کب ہے ؟ جو کچھ ہے تعمیر ہی تعمیر ہے۔ سمندر میں تلاطم ، دریا میں طغیانی ، پہاڑوں میں آتش فشانی ، جاڑوں میں برف باری ، گرمیوں میں سموم ، بارش میں ہنگامہ ابروباد تمہارے لیے خوش آئند مناظر نہیں ہوتے لیکن تم نہیں جانتے کہ ان میں ہر حادثہ کائناتِ ہستی کی تعمیر و درستگی کے لیی اتنا ہی ضروری ہے جس قدر دنیا کی کوئی مفید سے مفید چیز تمہاری نگاہ میں ہو سکتی ہے۔ اگر سمندر میں طوفان نہ اٹھتے تو میدانوں کو زندگی و شادابی کے لیے ایک قطرہ بارش میسر نہ آتا۔ اگر بادل کی گرج اور بجلی کی کڑک نہ ہوتی تو باران رحمت کا فیضان بھی نہ ہوتا۔ اگر آتش فشاں پہاڑوں کی چوٹیاں نہ پھٹتیں تو زمین کے اندر کا کھولتا ہوا مادہ اس کرہ کی تمام سطح کو پارہ پارہ کردیتا۔ تم بول اٹھو گے کہ یہ مادہ پیدا ہی کیوں کیا گیا ؟ لیکن تمہیں جاننا چاہیے کہ اگر یہ مادہ نہ ہوتا تو زمین کی قوت نشو ونما کا ایک ضروری عنصر مفقود ہوجاتا۔ یہی حقیقت ہے جس کی طرف قرآن ِ کریم نے جابجا اشارات کیے ہیں ، مثلا وہ کہتا ہے کہ : (ومن ایتہ یریکم البرق خوفاوطمعا وینزل من السماء ماء فیحیی بہ الارض بعد موتھا ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون) (الروم 30 : 24) ” اور دیکھو اس کی قدرت و حکمت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ بجلی کی چمک اور کڑک نمودار کرتا ہے اور اس سے تم پر خوف اور امید دونوں کی حالتیں طاری ہوجاتی ہیں اور آسمان سے پانی برساتا ہے اور پانی کی تاثیر سے زمین مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھتی ہے بلاشبہ اس صورت حال میں ان لوگوں کے لیے جو عقل وبینش رکھتے ہیں حکمت الہٰی کی بڑی ہی نشانیاں ہیں۔ “ میری دکھیاری بہن رضیہ اب تم بھی غور کرو کی تمہارے جواں سال یا سر کا اچانک ایکسیڈنٹ اور اسی جگہ موت نے صرف آپ ہی کو نہیں رلایا بلکہ بہت سے دوسروں کو بھی رلا گیا اور میرے جیسے ماموں کو اس نے کئی روز تک بالکل مبہوت کر کے رکھ دیا کہ نہ قلم میں طاقت رہی اور نہ ہی ہاتھ میں گرفت قلم۔ 22 اکتوبر 1997 ء بروز بدھ موازی 19 جمادی الاخری 1418 ھ کی نماز عشاء سے چند منٹ قبل جب میرے کان نے یہ خبر سنی تو یکبارگی میرا دل تڑپ کر رہ گیا وہ سماں اللہ رب ذوالجلال والاکرام کسی دشمن پر بھی نہ لائے لیکن آخر کسیے نہ لائے جب کہ ہم سب مرنے ہی کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ ہاں ! تیرا یا سر تیرے لیے ، میرے لیے اور بہت سے دوسرے دلوں کے لیے بظاہر نقصان نظر آیا اور پھر نقصان بھی ایسا جو کبھی پورا ہونے والا نہ ہے اگر تو غور کرے ، میں غور کروں اور وہ سارے دل غور کریں جن دلوں میں بظاہر بہت بڑا نقصان نظر آیا تو بلاشبہ سب جان جائیں گے کہ یہ نقصان ، نقصان کب ہے ؟ ہاں ! میرا کانپتا ہوا دل اور لرزتا ہوا قلم کبھی یہ بات تسلیم نہیں کرتا کہ ہو ہمارا نقصان کر گیا۔ ہرگز نہیں وہ تو ہمارا نقصان کر ہی نہیں سکتا تھا اور یقینا اس نے ہمارا نقصان نہیں کیا بلکہ وہ تو اپنا نشاں مٹا کر ہمارا فائدہ کر گیا۔ ۔۔ میری بہن رضیہ یقین جان کہ وہ تیرا بہت ہی بڑا فائدہ کر گیا۔ وہ تو ابھی بالکل پھول کی طرح معصوم تھا ، وہ تیرے لیے ، اپنے غمزدہ باپ کے لیے ، اپنے بہن بھائیوں کے لیے اور ماموئوں کے لیے عاصم بن کر رخصت ہوگیا۔۔ رضیہ میری بہن آ ، اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی زبان اقدس سے یہ ابد الآباد تک زندہ رہنے والا کلام سن تاکہ تجھے معلوم ہوجائے کہ تیرے یاسر نے تیرا کوئی نقصان نہیں کیا ، میرا کوئی نقصان نہیں کیا ، اس لیے کہ وہ ہمارا نقصان کر ہی نہیں سکتا تھا۔ یاسر اور وہ کسی کا نقصان کرے کیسے مان لوں ؟ جب کہ یاسر کے معنی ہی آسانی پیدا کرنے والے کے ہیں۔ عن ابی موسیٰ ؓ ان رسول اللہ ﷺ قال اذا مات ولد العبد قال اللہ تعالیٰ لملائکتہ قبضتم ولد عبدی ؟ فیقولون نعم ، فیقول قفضتم ثمرۃ فرادی ؟ فیقولون نعم فیقول ماذا قال عبدی ؟ فیقولون حمدک واسترجع فیقول اللہ تعالیٰ ابنوا لعبدی بیتا فی الجنۃ وسموہ بیت الحمد ( رواہ الترمذی وقال حدیث حسن) ” ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی بندہ کے کسی بچہ کا انتقال ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہتا ہے کہ میرے بندہ کے لخت جگر کو تم لے آئے ؟ وہ کہتے ہیں ہاں ! پھر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ تم اس کے دل کا ٹکڑا لے آئے ؟ فرشتے کہتے ہیں ہاں ! تو اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کہ اس وقت میرا بندہ کیا کر رہا تھا ؟ فرشتے کہتے ہیں کہ اس نے تیری حمد کی اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھی پھر اللہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے کہ تم میرے اس بندہ کے لیے جنت میں ایک محل تیار کرو اور اس محل کے اوپر بیت الحمد تحریر کردو ۔ “ اور ایک حدیث میں ہے کہ : عن ابی ھرہرۃ ؓ ان رسول اللہ ﷺ قال یقول اللہ تعالیٰ ما لعبدی المئومن عندی جزائک اذا قضیۃ من اھل الدینا ثم احتسبہ الا الجنۃ ( رواہ البخاری) ” ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے جب میں اپنے کسی محبوب بندہ کی کوئی محبوب چیز اس سے لے لیتا ہوں اور وہ راضی برضا ہو کر صبر کرتا ہے تو اس کا اجر وصلہ سوائے جنت کے اور کیا ہو سکتا ہے ؟ عزیزی رضیہ ! اب تو سمجھ لے کہ تیرا یا سر جب تیری محبوب چیز اور تیرے دل کا ٹکڑا تھا ، جب اس کی روح کے متعلق رب زوالجلال والاکرام نے فرشتوں سے پوچھا اور انہوں نے وہی کچھ بتایا جو حدیث رسول میں موجود ہے تو اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے فرشتوں سے پوچھا اور انہوں نے وہی کچھ بتایا جو حدیث رسول میں موجود ہے تو اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے تیرے لیے جنت میں وہ محل تعمیر کردیا تو اس کا باعث کون ہوا ؟ ظاہر ہے کہ تیرا ” یاسر “ تو اب بتا کہ تیرا اس نے نقصان کیا ؟ بلاشبہ نہیں بلکہ اس نے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر کے تیرے لیے وہ بھلائی کردی جو یقینا اس کے اختیار میں بھی نہ تھی۔ مبارک ہے تیرا یاسر اور مبارک ہے تو ماں جس نے یاسرکو جنم دیا۔ اب تو صبر کر جا ، میں صبر کر جائوں اور صبر کرے ہر وہ دل جس کو یاسر کی جواں سالہ موت نے رلایا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ اب تم غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ فطرت صرف بناتی اور سنوارتی ہی نہیں بلکہ اس طرح بناتی اور سنوارتی ہے کہ اس کے ہر بنائو میں ھسن و زیبائی کا جلوہ اور اس کے ہر ظہور میں ظر افروزی کی نمود پیدا ہوگئی ہے۔ کائناتِ ہستی کو اس کی مجموعی حیثیت میں دیکھو ، اس کے ایک ایک گوشہ خلقت پر نظر ڈالو ، اس کا کوئی رخ نہیں جس پر حسن و رعنائی نے ایک نقاب زیبائش نہ ڈال دیا ہو۔ ستاروں کا نظام اور ان کی سیرو گردش ، سورج کی روشنی اور اس کی بو قلمونی ، چاند کی گردش اور اس کا اتار چڑھائو ، فضائے آسمانی کی وسعت اور اس کی نیرنگیاں ، بارش کا سماں اور اس کے تغیرات ، سمندر کا منظر اور دریائوں کی روانی ، پہاڑوں کی بلندیاں اور وادیوں کا نشیب ، حیوانوں کے اجسام اور ان کا تنوع ، نباتات کی صورت آرائیاں اور باغ وچمن کی رعنائیاں ، پھولوں کی عطر بیزی اور پرندوں کی نغمہ سنجی ، صبح کا چہرہ خنداں اور شام کا جلوہ محجوب غرض کہ تمام تماشا گاہ ہستی حسن کی نمائش اور نظر اخروی کی جلوہ گاہ ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے گویا اس پردہ ہستی کے پیچھے حسن افروزی و جلوہ آرائی کی کوئی قوت کام کر رہی ہے جو چاہتی ہے کہ جو کچھ بھی ظہور میں آئے حسن وزیبائش کے ساتھ ظہور میں ؤہئے اور کارخانہ ہستی کا ہر گوشہ نگاہ کے لیے نشاط ، سامع کے لیے سرور اور روح کے لیے بہشت راحت و سکون بن جائے۔ دراصل کائناتِ ہستی کا مایہ خمیر ہی حسن و زیبائی ہے۔ فطرت نے جس طرح اس کے بنائو کے لیے مادی عناصر پیدا کیے اسی طرح اس کی خوبروئی اور رعنائی کے لیے معنوی عناصر کا بھی رنگ و روغن آراستہ کردیا۔ روشنی ، رنگ ، خوشبو اور نغمہ حسن و رعنائی کے وہ اجزا ہیں جن سے مشاطہ فطرت چہرہ وجود کی آرائش کررہی ہے مشاطہ رابگو کہ ہر اسباب حسن یار چیزے فزوں کندہ کہ تماشا بمارسد زیر نظر آیت نے ان لوگوں کو مخاطب کیا ہے جو اپنی جانوں پر خود زیادتیاں کرتے ہیں اور ان کو ( یا عبادی) کہہ کر بتلا دیا ہے کہ انسان کتنی ہی غلطیوں اور برائیوں میں ڈوب چکا ہو بہر حال وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہے خواہ وہ کوئی ہے ، کون ہے اور کہاں ہے اور یہ کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی خالق ومالک ہے اس لیے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو کہ رحمت الہٰی کی وسعت بےپایاں ہے اگرچہ اس درس سے دوسری آسمانی کتابیں خالی ہیں یا ان کے ماننے والوں نے ان کو خالی کردیا ہے۔ اس وقت اگر کوئی تھکے ماندوں کو آرام کی خوشخبری دیتا ہے تو قرآن کریم تمام قسم کی خطا کاریوں اور زیادتیوں پر رحمت کی خوشخبری سناتا ہے۔ کس قدر کمال تعلیم اسلامی کا ہے کہ رحمت الہٰی کا دروازہ تو اتنا وسیع کھولا مگر یہ زیادتیوں پر رحمت کی خوشخبری سناتا ہے۔ کس قدر کمال تعلم اسلامی کا ہے کہ رحمت الہٰی کا دروازہ تو اتنا وسیع کھولا مگر یہ نہیں کہ کفارہ کی طرح ساتھ ہی گناہ پر جراءت کا باب بھی وا کردیا ہو بلکہ رجوع الی اللہ شرط رکھی ہے جیسا کہ آئندہ اس کی وضاحت آرہی ہے۔ اس ضمن میں افراط وتفریط کے دو پہلو اسلام سے قبل موجود تھے۔ افراط عیسائی مذہب نے کی کہ جو شخص کفارہ پر ایمان لے آئے پھر جو گناہ چاہے کرتا جائے اس پر کوئی مواخذہ ہی نہیں ہے اور دوسرا یہود وہنود نے کہ جتنی مدت چاہے توبہ کرے اور گناہوں کی معافی کے لیے روئے اور چلائے مگر خدا معاف ہی نہیں کرتا۔ بلاشبہ اسلام کی تعلیم میں نہ تو افراط ہی ہے اور نہ تفریط ، اس لیے اس نے اس کی پوری پوری وضاحت کردی اور سچی توبہ سے نہ صرف گناہ مٹنے کا اشارہ دیا بلکہ سچی توبہ ایک بہت بڑا نیک عمل بتا کر اس پر اجر کی تحدی بیان کردی کہ بلاشبہ وہ شخص صرف اس بات کا مستحق نہیں کہ صرف اس کا گناہ محو کردیا جائے بلکہ وہ انعام کا بھی مستھق ہے کہ اس کو انعام بھی دیا جائے اور وہ انعام اس کے گناہوں کے مٹا دینے کے اعلان کے بعد جنت میں داخل کردینے کا ہے جس سے بڑا کوئی انعام نہیں ہو سکتا۔ بلاشبہ جب نفسانی جذبات مشتعل ہوجاتے ہیں تو بڑے بڑے دانش مندوں سے انتہائی قبیح حرکتیں سرزد ہوجاتی ہیں ، معصوم فقط انبیاء کرام ہی ہوتے ہیں اور جب انتقام کے شعلے بھڑکتے ہیں تو بڑے بڑے حلیم الطبع لوگوں کے ہاتھ سے بھی عدل و انصاف کا دامن چھوٹ جاتا ہے۔ غلط ماحول کے باعث غلط نظریات دل میں جم جاتے ہیں۔ ان حالات میں اگر کوئی شخص گناہوں اور بدکردار یوں سے اپنا دامن آلودہ کرلے اور اس کے لیے توبہ کا دروازہ بند کردیا جائے تو وہ اپنی اصلاح کی طرف متوجہ نہیں ہوگا اور گناہ وعصیان کی دلدل میں بڑی بےباکی سے بڑھتا ہی چلا جائے گا اس طرح خود بھی برباد ہوگا اور کئی معصوم زندگیوں کو بھی دفن کر کے رکھ دے گا۔ اس طرح اگر یہ بات کسی کے ذہن نشین ہوجائے کہ گناہ کرنے سے کوئی مضرت نہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت واسعہ کے سامنے ہمارے ان گناہوں کی کیا حقیقت ہے۔ ہم کچھ بھی کرتے رہیں وہ بخش دے گا اور جنت کے دروازے ہمارے لیے کھول دیئے جائیں گے تو ایسا انسان بھی عمر بھر اپنی نفسانی خواہشات کے ہاتھوں میں کھلونا بنا رہتا ہے ، خونریزی ، بدکاری ، راہزنی ، حق تلفی سے انسے کوئی نفرت نہیں رہتی ، لوگوں کے حقوق پامال کرنے کے باوجود اور مالک میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکانے کے باوجود اس کے دل میں خلش بھی پیدا نہیں ہوتی جو اس کو بےچین کر دے۔ یہ دونوں کیفیتیں انسان کے لیے سم قاتل ہیں اس طرح وہ نہ فقط دوسروں کے لیے وبال جان بن جاتا ہے بلکہ اپنی ذات پر بھی ظلم عظیم کا مرتکب ہوتا ہے ، اس کو جو تعمیری صلاحیتیں اور نیکی کی قوتیں بخشی گئی تھیں ان سے اگر وہ صحیح کام لیتا تو آسمان شہرت پر مہرو ماہ بن کر چمکتا اور قیامت تک دنیا اس کی نیکیوں کو یاد کرتی ، اسے دعائیں دیتی اب وہ بیکار پڑی رہیں اور برگ وبار لائے بغیر ختم ہوگئیں۔ اسلام جو دین فطرت ہے جس کا مقصد اولین فرد کی صحیح نشو ونما اور راہنمائی کرنا ہے تاکہ سلجھے ہوئے اور اصلاح یافتہ افراد سے ایک ایسی قوم معرض وجود میں آئے جو قیادت امم کی ذمی داری سنبھال سکے اور ساری انسانیت کی راہنمائی کا فریصہ ادا کرسکے اس لیے اسلامنے انسان کو نہ تو بالکل بےلگام چھوڑ دیا ہے کہ وہ خرمستیاں کرتا رہے ، چمن حیات کی نازک اور معصوم کلیوں کو مسلتا رہے اور ان کی رنگت ونکہت کو لوٹتا رہے اور اس کے باوجود دل میں اپنی بخشش کا بھی یقین رکھے اور نہ ہی اسلام نے انسان کو مایوسیوں اور ناامیدیوں کے گہرے گڑھے میں دھکیل دیا ہے بلکہ صحیح خطوط پر اس کی تربیت کا پروگرام پیش کیا۔ ایک طرف اسے اپنے اعمال نیک و بد کا ذمہ دار ٹھہرایا اور اسے ان نتائج سے آگاہ کیا جو اس کو اچھے یا برے اعمال پر سنت الہٰی کے مطابق مترتب ہو کر رہیں تے تاکہ کوئی کام کرنے سے پہلے وہ ان نتائج کا بھی اچھی طرح جائزہ لے لے اور یہ دیکھ لے کہ کیا وہ ان نتائش کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس کے ساتھ اس کو مایوس بھی نہیں ہونے دیا اس لیے اسے بتادیا کہ گناہوں اور بدکاریوں سے تائب ہو کر جب اور جہاں سے وہ نئی پاکیزہ زندگی کا آغاز کرنا چاہے اسے اس کا موقع دیا جائے گا۔ اس آیت میں ان لوگوں کو نید رحمت دی جا رہی ہے جو عمر بھر اپنے اوپر زیادتیاں کرتے رہے ، جن کے شب وروز فسق وفجور میں بسر ہوتے رہے ، جنہوں نے کفر وشرک کا ارتکاب کر کے اپنے آپ کو بالکل برباد کردیا ایسے لوگوں کو کہا جا رہا ہے کہ آئو میری رحمت کا دروازہ تمہارے لیے کھلا ہوا ہے اگر تم سچے دل سے تائب ہو کر نئی اور پاکیزہ زندگی شروع کرنے کا عزم کرچکے ہو تو تمہارے گناہ بیشمار اور نہایت سنگین کیوں نہ ہوں معاف کردیئے جائیں گے تمہیں یہاں سے مایوس نہیں لوٹایا جائے گا۔ اس آیت کی تفسیر میں مضمون زیادہ ہی بیان کردیا گیا ہے تا ہم کوئی بات بلا ضرورت نہیں کی گئی اور نہ ہی رطب ویابس بیان کیا گیا ہے تا ہم ایک بات اب بھی رہ گئی تھی جو پیش خدمت ہے نہایت افسوس کے ساتھ عرض ہے کہ بعض مفسریں نے (یعبادی ) کے لفظ کی بہت ہی عجیب تفسیر بیان کردی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو خود ” اے میرے بندو “ کہہ کر خطاب کرنے کا حکم دیا ہے اس لیے سمجھ لینا چاہیے کہ سب انسان نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کے بندے ہیں ، مطلب یہ ہے کہ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو اللہ نے حکم دیا ہے کہ آپ ساری دنیا کے انسانوں کو میرے بندے کہہ کر خطاب کرو کہ اے میرے بندو ! گویا اس جگہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خطاب نہیں بلکہ خود محمد رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا ہے کہ ان لوگوں کو میرے بندے کہہ کر بلائو اس لیے عبدالرسول اور عبدالنبی نام تو خود اللہ تعالیٰ نے انسانوں کا رکھا ہے حالانکہ ایسا کہنا کسی حال میں بھی صحیح نہیں ہے بلکہ یہ تو قرآن کریم کے ساتھ صاف صاف مذاق اور استہزاء ہے کہ قرآن کریم بار بار اس بات کی نفی کرتا ہے کہ کسی نبی و رسول کوہ یہ حق نہیں کہ وہ لوگوں کو اپنے بندے بنا لے بلکہ وہ تو باربار یہی حکم دیتا ہے کہ ” اللہ کے بندے بن جائو “ اور یہ کہ ” رب والے ہو اجائو “ تفصیل اس کی عروۃ الوثقی جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 79 میں ملے گی۔