39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 39:18

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader

جو لوگ بات کو سنتے ہیں پھر اس کی اچھی اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں وہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی اور یہی صاحب عقل ہیں (جو عقل کے مطابق کام کرتے ہیں)

جو لوگ بات کو سنتے ہیں اور پھر اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں 18۔ دو چیزوں کے ٹکرانے سے جو چیز پیدا ہوتی ہے اس کو آواز کہتے ہیں اور وہ اچھی بھی ہوتی ہے اور بری بھی اور کان جو آواز سننے کا ایک آلہ ہیں ہر آواز کو سنتے ہیں خواہ وہ اچھی ہو یا بری۔ اس لیے زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کرنے والے لوگوں کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ جب وہ کسی بات کو سنتے ہیں تو پھر اپنی عقل و فکر اور سمجھ وسوچ سے کام لے کر ہر اس بات کی پیروی کرتے ہیں جو اچھی ہو اور ہر اس بات کو سنی ان سنی کردیتے ہیں جو اچھی نہیں ہوتی پھر وہ لوگ جو یہ امتیاز حاصل کرلیتے ہیں یہ وہی ہیں جن کے دل اللہ نے ہدایت کے لیے کشادہ کر دئیے ہیں اور ان کے سینوں میں اچھی بات جم جاتی ہے اور یہی لوگ ہیں جن کو قرآن کریم اولو الالباب کے نام سے موسوم کرتا ہے۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی بیان کیا جا چکا ہے ہمارے ہاں ان کا معیار سندیں اور ڈگریاں ہیں اور ان سے بھی بڑھ کر عہدے ، مرتبے ہیں اور کلیدی آسامیوں پر تعینات ہونا ہے اور قرآن کریم کی زبان میں عقل وفکر سے کام لینے والے لوگ ہیں خواہ ان کے پاس کوئی ڈگری اور سند موجود ہو یا نہ ہو۔ قرآن کریم کی زبان میں گدھ ان ہی لوگوں کو کہا گیا جن کے پاس کتابوں کے طومار تھے اور قوم سے وہ ڈگریاں اور سندیں رکھتے تھے اور لوگ ان کو اپنے مذہبی پیشوا جانتے اور مانتے تھے اور کتے سے مثال ان لوگوں کی دی گئی ہے جو ان ساری ڈگریوں کے ساتھ اور مذہبی پیشوائیت کے ساتھ سیاست میں بھی جمعے ہوئے تھے اور یہی سیاست ان کو دنیا کی طرف مائل کرگئی تھی۔ پہلی مثال سورة الجمعہ میں دی گئی ہے اور دوسری مثال سورة الاعراف کی آیت 176 میں۔
Ayah 39:19

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader

کیا پس جس پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی تو کیا آپ ایسے شخص کو بچا سکتے ہیں جو آگ میں پڑچکا ہو ؟ (جبکہ اللہ کے سوا کوئی بچانے والا نہیں)

وہ لوگ جن پر عذاب کا کلمہ لازم آئے گا اور کوئی بچانے والا نہ ہو گا 19۔ رہے وہ لوگ جو سیدھی راہ چلنے کے بجائے الٹی راہ چلنے کے عادی ہوچکے ہیں اور یہ محض اس انحصار اور بل بوتے پر چلتے ہیں کہ ان کی اکثریت ہے اور یہ کہ ان کا باپ دادا ایسا کرتا آیا ہے اور ان کا یہی وہ جواب ہے جو سو جوابوں سے بھی وہ بھاری سمجھتے ہیں اور اگر باپ دادا ان کے تحریرات چھوڑ گئے ہوں پھر تو ان کی دلیل ہزاروں دلیلوں سے بھی بھاری ہوجاتی ہے حالانکہ باپ دادا زبانی کہہ جائیں یا تحریر چھوڑ جائیں یا موجودہ زمانہ میں وہ جو زندہ وجاوید کر رہے ہیں جب کوئی دلیل موجود نہ ہو تو سب کی حیثیت سراب سے زیادہ نہیں ہے یا راکھ کا ذھیر کہہ لیں اور جس چیز کو دلیل کہا جاتا ہے وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی ذات اقدس ہو یا نبی ورسول ہو اور ازیں بعد جو کچھ ہے اس کو دیکھا جائے گا اور پرکھا جائے گا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اللہ کا کلام یا نبی ورسول کے پیغام سے یہ بات خلاف ہو کیونکہ قرآن کریم میں شاید ہی کوئی ایسی بات ہوگی جو تصریف آیات میں ایک بار سے زیادہ بار دہرائی نہ گئی ہو۔ بہرحال وہ ٹیڑھی راہ چلنے کے عادی حضرات وہی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا کلمہ عذاب لازم آچکا ہے اور یہ بات روز روشن سے بھی زیادہ واضح ہے کہ جس شخص پر اللہ تعالیٰ کا کلمہ عذاب ثابت ہوجائے کوئی نہیں جو اس کو اس عذاب سے بچا سکے خواہ وہ کوئی نبی ورسول ہو یا کوئی پیرو بزرگ اور خواہ خود نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کی ذات اقدس جو تمام نبیوں اور رسولوں کے بھی سردار ہیں۔ زیر نظر آیت میں آپ ہی کو مخاطب فرما کر اللہ تعالیٰ نے اس قانون کو بیان کیا ہے اور یہی قانون بار بار قرآن کریم میں دہرایا گیا ہے سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارے بھائی یہ بات کس طرح ادا کرتے ہیں کہ اللہ کے پکڑے چھڑائے محمد محمد کے پکڑے چھڑا کوئی نہیں سکدا
Ayah 39:20

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ Open ayah 39:20 in the Quran reader

لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے بالا خانے ہیں (اور پھر) ان پر مزید بالا خانے بنے ہوئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، یہ اللہ کا وعدہ ہے ، بلاشبہ اللہ (اپنے) وعدے کا خلاف نہیں کرتا

پرہیز گاروں کے لیی بالا خانے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے 20۔ (غرف) جمع ہے ( غرفۃ) کی جس کے معنی ہیں بالا خانے ، اوپر کی منزل ۔ فطرتِ انسانی میں شروع ہی سے اونچی منزل کا ایک تصور موجود ہے اگرچہ تہ خانے زیادہ کارآمد اور زیادہ مفید ثابت ہوتے ہیں اور لوگ نہ خانے بناتے بھی ہیں لیکن اس کے باوجودتہ خانوں کی بجائے بلاخانے زیادہ ” انا “ کو تسکین دیتے ہیں اور جنت میں چونکہ ہر اس چیز کا تصور پیش کیا گیا ہے جس کو انسانی طبیعت اس دنیا میں پسند کرتی ہے کیونکہ جو چیز اس کو اس دنیا میں مرغوب ہے اسی کی اس کو چاہت ہوتی ہے کہ انسان کو رہائش کے لیے نیچے سے اوپر کی منزل زیادہ پسند ہے اور خصوصا جب اس کو اترنے اور چڑھنے کی مصیبت کا سامنا بھی نہ ہو تو اس کی تسکیں اور تسلی اور بھی زیادہ ہوجاتی ہے اور خوشی میں اس سے اضافہ ہوتا ہے کہ مولانا نیچے تشریف لا رہے ہیں یا ہم اوپر ملنے کے لیے جا رہے ہیں اس لیے زیر نظر آۃ یت میں یہ تصور اجاگر کیا گیا ہے اور فرمایا جا رہا ہے کہ وہ لوگ نیک ہیں اور اپنے رب کریم سے ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے بلا خا نے ہیں بلکہ بالا خ انہوں پر مزید بالاخانے گویا مزلوں پر منزلیں ان کی رہائش کے لیے ہوں گی جو نہروں یا دریائوں کے کنارے پر ہوں گے تاکہ ان کے حسن میں مزید اضافہ ہو اور بہتے ہوئے پانی سے ان کے بالا خانوں کی ہوا تازہ بتازہ ان کو پہنچتی رہے اور پانی کی چمک دمک ان کی آنکھوں کو اور بھی ٹھنڈا کر دے گی اور بلاشبہ جنت میں ہر وہ چیز دیئے جانے کا وعدہ الٰہی ہے جس کو جنتی کی خواہش طلب کرے گی اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ کبھی خطا نہیں ہوتا گویا اللہ تعالیٰ اتنا زبردست اور طاقتور ہے کہ نہ تو اپنے وعدہ کے خلاف کرتا ہے اور نہ خلاف ہونے دیتا ہے اور یہی علامت ہے اللہ تعالیٰ کے قدر مطلق ہونے کی لیکن ملائیت اپنی پست ذہنیت کی چیز ہے کہ وہ ایفائے عہد کو کمزوری اور قدرت کے خلاف سمجھتی ہے۔ دراصل اس ملائیت کو بادشاہوں اور دنیا کے وڈیروں نے اس قدر متاثر کیا ہے کہ جب اس نے دیکھا کہ بادشاہ سلامت اور قوم کے بڑے لوگ وعدے کچھ کرتے ہیں اور کام کچھ کرتے ہیں اور خصوصا یہ کہ اکثر وہ اپنے وعدوں کا الٹ ہی کرتے ہیں اس لیے اس کے تصور میں یہ چیز جم گئی ہے کہ شاید یہ بڑے لوگوں کی عادت میں داخل ہے اور اس چیز نے ان کو بڑا بنایا ہے کہ وہ کسی اپنے کیے گئے وعدہ کے پابند نہیں دیکھے گئے تو اس نے خیال کیا کہ شاید بادشاہ اور بڑا آدمی اسی کو کہا جاسکتا ہے جو اپنے وعدوں کی پروانہ کرے اس لیے انہوں نے سمجھا کہ وہ تو بادشاہوں کا بھی بادشاہ ہے اور مالک ملک ہے اس لیے اس کو وعدہ کا پابند کہنا اس کی گستاخی کے مترادف ہے وہ آخر کسی ضابطے کا پابند ہوگا تو کیوں اور کیسے ؟ اس لیے اس نے اس بات کو ماننے ہی سے انکار کردیا کہ وعدہ کی پابندی نہ کرنا بےبس ہونے اور کمزور ہونے کی نشانی ہے جو وعدہ پورا نہیں کرتا خواہ وہ بادشاہ ہو یا وزیر ، ملک کا صدر ہو یا کوئی مذہبی پیشوا بہرحال اس کو کمزور اور محتاج ہی کہا جاسکتا ہے ملائیت کی سمجھ میں یہ بات آئے یا نہ آئے یہ دوسری بات ہے یہ وہی بات ہے کہ جس کے متعلق محاورہ ہے کہ ساون کے اندھے کو ہرا ہرا ہی سوجھتا ہے۔ اسی طرح ملاں کو وعدہ پورا کرنا کمزوری ہی کمزوری سوجھتی ہے حالانکہ فی الواقع یہ کمزوری نہیں بلکہ یہ نہایت قوی ، غالب اور قادر ہونے کی زبردست دلیل ہے۔ انسان چونکہ کمزور اور ناتواں ہے اس لیے اس سے ایفائے عہد نہ ہو سکنا ممکن ہے بلکہ بعض اوقات لازم ہے کیوں ؟ اس لیے کہ وہ کمزور اور ناتواں ہے خواہ وہ کوئی ہے اور خواہ وہ کون ہے۔
Ayah 39:21

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:21 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں سے پانی برسایا پھر زمین میں اس کے چشمے جاری کیے پھر اسی (پانی) سے مختلف قسم کی کھیتیاں پیدا کرتا ہے پھر وہ تیار ہوجاتی ہیں تو توُ اس کو زرد دیکھتا ہے پھر (اللہ) اس کو چورا چورا کر ڈالتا ہے بلاشبہ اس میں عقل مندوں کے لیے بڑی نصیحت ہے

اللہ ہی وہ ذات ہے جو آسمانوں سے بارش برساتا ، زمین میں پانی جاری کرتا ہے 21۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ آسمان سے بارش برساتا ہے۔ انسان نے جو بارش برسنے کی ٹو لگائی ہے اور اس کی وضاحت بیان کی ہے وہ سو فی صدی صحیح ہو تو بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فلاں آدمی بارش برساتا ہے یا فلاں حکومت بارش برساتی ہے ہاں ! بارش برسانے کے لیے جو اصول و قانون اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں بنایا ہے اس اصول و قانون کا کھوج لگا نا بلاشبہ انسان کا کمال ہے اور اس کمال کا انکار کسی صورت جائز نہیں ہے بلکہ یہ انسان کا حق تھا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس قانون اور اصول کا کھوج لگاناانسان کا الہٰ یا رب ہوجانا ہے استغفر اللہ ! اگر کھانا تیار کرلینے کا یہ مطلب نہیں کہ جن چیزوں کو کھانے میں استعمال کیا گیا ان چیزوں کا پیدا کرنا اس کھانا پکانے والے کے اختیار میں ہے تو پانی برسانے کے قانون کو جان لینے سے پانی پیدا کرنا کیسے سمجھا جاسکتا ہے پھر یہ جان جانے کے بعد کہ بارش برسنے کا یہ اصول ہے نہ تو وہ بارش کو روک سکتا ہے اور نہ ہی اپنی ضرورت کو وقت بادل بنا کر برسا سکتا ہے پھر آسمان سے پانی برسانے کے بعدکس طرح زمین کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس پانی کو نگل جائے اور وہ بلاشبہ آہست آہستہ اپنے اندر کثیر مقدار اس پانی کو جذب کرلیتی ہے پھر اس پانی کو زمین کو سوتوں میں کس طرح چلا دیا ہے کہ کہیں انسان اپنی ضرورت کے مطابق کنوئیں کھود کر ، پمپ لگا کر یا ہینڈ پمپ چلا کر پانی کو اپنی ضرورت کے مطابق اس زمین سے حاصل کرلیتا ہے اور پھر اس زمین کے اندر کیا خاصیت انجذاب اللہ نے رکھ دی ہے کہ ناپاک اور گندے پانی کو خود بخود فلٹر کر کے انسان کی خدمت میں پیش کردیتی ہے اور پھر یہ کہ کس طرح زمین کے اندر کھاری ، کڑوے ، میٹھے اور ٹھنڈے سوتے چلا دیئے ہیں کہ آپس میں کبھی نہیں ملتے اور تھوڑے سے فرق کے ساتھ پانی میں زمین و آسمان کا فرق ظاہر ہوجاتا ہے اور قدرت الٰہی کے نشانات میں سے ایک یہ نشانی کہ زمین ایک زمین کے اندر پانی ایک جس پانی سے فصلوں کی تلائی کی گئی وہ پانی ایک لیکن جتنی اجناس ہیں اور جتنے پھل دار درخت ہیں سب کے ذائقے اور مزے اپنے اپنے ہیں ایک زمین ہونے اور ایک جیسا پانی پلائے جانے کا ذرا بھر بھی ان اثر نہیں نہ ایک جیسا مزا ہے اور نہ ہی ایک جیسی شکل و صورت اور نہ ہی ایک جیسے خواص اور رنگتیں پھر وہ ایک ہی فصل ہے کہ کسی وقت پانی اس کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتا ہے اگر قدرتی پانی میسر نہ آئے تو دریائوں ، نہروں ، کنوئوں ، پمپوں کے ذریعہ پانی زمین سے حاصل کر کے ان کو پلایا جاتا ہے لیکن ایک وقت ایسا بھی آجاتا ہے کہ وہی پانی اس کے لیے نہایت مضر اور نقصان دہ ثابت ہوتا ہے گویا وہی پانی جو کل زندگی کی ضمانت دے رہا تھا آج موت کا پیام ثابت ہونے والا ہے اور پھر خصوصا اسی حالت پر غور کرو جب وہ فصل پک کر تیار ہوجاتی ہے اور اس کا رنگ خود بکود زرد پڑجاتا ہے اور اگر اس کو عین وقت پر کاٹ کر کام میں نہ لایا جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو ریزہ ریزہ کردیتا ہے اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ابھی فصل پکتی نہیں کہ اللہ کا حکم اس پر نازل ہوجاتا ہے اور اولے ، برف اور کہر جیسے چیزیں اس کو دیکھتے ہی دیکھتے چورا چورا کر کے رکھ دیتی ہیں اگر انسان غور کرے تو بلاشبہ اس بات میں اس کے لیے بیسیوں سبق پنہاں ہیں لیکن اس اسباق کو وہی ازبر کرتے ہیں جو نصیحت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی لوگ ہیں جن کو قبل ازیں بھی اور اس جگہ بھی اولو الالباب کہا گیا ہے اور یہ لوگ وہی ہیں جو عقل و فکر اور سمجھ سوچ سے کام لینے کے عادی ہیں اور ہر دین کی بات کو عقل و فکر کے ساتھ سوچ سمجھ کر کرتے ہیں اور اندھے اور بہرے ہو کر اس کائنات کی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے بلکہ ہر معاملہ میں عقل و فکر سے کام لیتے ہیں۔
Ayah 39:22

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader

کیا پس جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کشادہ کردیا ہو پس وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے ، پس خرابی ہے ان کے لیے جن کے دل اللہ کی یاد کی طرف سے سخت ہیں ، یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں

جس شخص کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہوا وہی رب کی روشنی پر ہے 22۔ وہ شخص جس کو شرح صدر حاصل ہوجائے کہ اسلام ہی اصل دین ہے اور جسے اللہ نے یہ توفیق بخش دی کہ ان حقائق سے سبق حاصل کرئے اور اسلام کے دین حق ہونے پر جم جائے بلاشبہ وہی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی روشنی پر ہے۔ شرح صدر کیا ہے ؟ شرح سدر یا سینہ کا کھل جانا اس کتفی کا نام ہے کہ آدمی کے دل میں اس بات کے متعلق کوئی خلجان ، تذبذب یا شک وشبہ مطلق نہ رہے اور اسے کسی خطرہ کا احساس اور کسی نقصان کا اندیشہ بی اس بات کے قبول کرنے اور اختیار کرنے میں مانع نہ ہو بلکہ پورے اطمینان اور ایمان وایقان کے ساتھ وہ یہ فیصلہ کرلے کہ یہ چیز حق ہے لہٰذا کچھ بھی ہو اسے اس کو کرنا ہے۔ اس طرح کا فیصلہ کر کے جب آدمی اسلام کی راہ کو اختیار کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے جو حکم بھی اسے ملتا ہے وہ اسے برضا ورغبت مانتا اور کرتا ہے کتاب وسنت میں جو حقائق و عقائد اور بینات بھی اس کے سامنے آتے ہیں یہ یقین کرلینے کے بعد کہ قرآن کریم کی مراد یہی ہے اور یہ بات قبل ازیں عروۃ الوثقی ، جلد ششم میں سورة الفرقان کی آیت 73 میں خود قرآن کریم نے واضح کردی ہے کہ وہ لوگ قرآن کریم کی آیتوں پر بھی بہرے ، گونگے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے بلکہ مضمون کی تسلی کرنے کے بعد مانتے ہیں کیونکہ بےراہ رو قرآن کریم کی آیتیں پڑھ کر ہی بعض اوقات انسان کی گمراہی کا باعث ہوجاتے ہیں۔ اس لیے وہ ماننے سے پہلے ہر طرح سے تسلی کرتے ہیں اور خصوصا قرآن کریم کے اس اصول کو وہ ہمیشہ مدنظر رکھتے ہیں کہ ” قرآن کریم کی کسی بات میں بھی تضاد واختلاف نہیں پایا جاتا “ یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ قرآن کرم ایک جگہ ایک بات کہے اور دوسری جگہ اس کے خلاف دوسری بات کہہ دے کیونکہ یہی وہ بات جو کلام اللہ کو دوسرے انسانی کلاموں سے الگ کردیتی ہے بہرحال اس طرح تسلی کرلینے کے بعد جب وہ مانتے ہیں تو پھر وہ کسی نقصان پر کوئی پچھتاوا نہیں کرتے کہ اس راستہ پر چلنے سے مجھے یہ نقصان ہوا ہے۔ دنیا لاکھ ان کو یاد کرئے کہ اس راہ پر چلنے سے تم کو یہ نقصان ہے لیکن وہ جب اس راہ کو چلنے سے جو نقصان ہو اس کو نقصان نہیں بلکہ عین نفع شمار کرتے ہیں کیونکہ سیدھی راہ چلنے میں جو مصائب اور دکھ بھی آئیں ان کو بخوشی جھیلنا ہی تو ایمان ہے جس کے لیے ان کا سینہ اللہ نے کھول دیا ہے اور ان کو شرح صدر حاصل ہوچکا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ روشنی میں اپنی منزل مقصود کی طرف رواں دواں ہیں پھر ان کی راہ میں آگ کے سمندر بھی اگر حائل ہوجائیں تو وہ پرواہ نہیں کرتے اور نہ ہی راستہ تبدیل کرتے ہیں بلکہ وہ اس آگ کے سمندر میں کود جاتے ہیں اور بلاشبہ اللہ ان کو صحیح و سلامت منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ ایک نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ ! ﷺ اہل ایمان میں سے زیادہ عقل مند کون ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : وہ شخص جو موت کو کثرت سے یاد کرتا ہے اور اس کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے مزید فرمایا کہ جب انسان کے دل میں نور داخل ہوجاتا ہے تو دل کشادہ اور وسیع ہوجاتا ہے۔ (رح) آپ سے دریافت کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ ! اس کی علامت کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ شخص ہر وقت دار آخرت کی طرف متوجہ رہتا ہے اور اس دنیا سے جو انسان کو دھوکہ دینے والی ہے کنارہ کش رہتا ہے اور موت کے آنے سے پہلے ہی تیار رہتا ہے۔ (البیھقی فی شعب الایمان) پھر ان لوگوں کے مقابلہ میں وہ لوگ ہیں جن کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوچکے ہیں نہ تو اللہ تعالیٰ کی راہ چلنے کا ان کو شوق ہے اور نہ ہی کبھی وہ اس راہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ان کو کبھی خیال تک بھی نہیں آیا کہ ان کا کوئی خالق ہے اور ان کو ایک روز اس دنیا سے رخت سفر بہرحال باندھنا بھی ہے۔ ان کی حالت ایسی ہے کہ ذکر اللہ کی طرف کبھی ان کی رغبت ہی نہیں ہوتی گویا ان کے سینوں میں دل نہیں جو گوشت کا ایک لوتھڑا ہے بلکہ کوئی پتھر پڑا ہے جس پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں اور کیھ اس گمراہی سے نکلنے کا ان کے دل میں خیال بھی پیدا نہیں ہوا ، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ایسی حالت سے بچائے اور ہم کو اپنی امان میں رکھے۔ خیال رہے کہ شرح صدر کے مقابلہ میں قرآن کریم میں دو اصطلاحیں اختیار کی ہیں ایک ضیق صدر کی ور دوسری قلب کی ضیق الصدر میں کچھ خیر اور بھلائی کے نفوذ کا خیال پیدا ہوا سکتا ہے بلکہ بعض اوقات نفوذ ہوجاتا ہے لیکن قساوت قلب وہ کیفیت ہے جس میں کچھ نہ کچھ گنجائش بھی نہیں رہتی بلکہ کسی گنجائش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس جگہ اس دوسری کیفیت ہی کو بیان کیا گیا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے مخالفین کی حالت اکثر ایسی ہی تھی کہ ان پر حق بات کا کچھ بھی اثر نہیں ہوتا تھا۔
Ayah 39:23

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader

اللہ نے کتنا اچھا کلام نازل فرمایا ہے وہ کتاب ( قرآن کریم) ہے جن کی آیتیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں اور دہرائی جاتی ہیں جن کو پڑھنے سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں پھر ان کے چمڑے اور دل نرم ہو کر اللہ کی یاد میں محو ہوجاتے ہیں ، یہی اللہ کی ہدایت ہے ، اللہ جس کو چاہتا ہے اس کے ذریعہء ہدایت دیتا ہے اور جس کو اللہ گمراہ چھوڑ دے تو اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

اللہ تعالیٰ نے ایسا کلام نازل فرمایا جس کی آیتیں آپس میں ملتی جلتی ہیں 23۔ ( مثانی) کا لفظ قرآن کریم میں دو بار آیا ہے ایک بار سورة الحجر کی آیت 87 میں اور دوسری بار اس جگہ ( مثانی) کیا ہے ؟ (مثانی ) جمع منصوب نکرہ مثنیٰ واحد ثنی یا ثناء مصدر ثنی کے معنی دوہرا کرنا ، تکرار کرنا ، اعادہ کرنا ، چھانٹ لینا کے ہیں اور ثنا کے معنی بار بار کسی کے اوصاف حمیدہ بیان کرنا ہے۔ ( المفردات ، تاج اور قاموس) بعض مستشرقین نے مثانی کو سریانی لفظ قرار دیا ہے جو کسی حال میں بھی صحیح نہیں ہے یہ لفظ خالصتا عربی ہے اور اسی مادہ سے بہت سے اور بھی الفاظ بنتے ہیں مثلا ثنیۃ ، ثنی ، ثناء ، چانی ، چنین ، اثننن ، مثنی ، مثنی ، مثنی ، وغیرہ وغیرہ۔ مثانی کہنے کی وجہ اکثر مفسرین نے یہ لکھی ہے کہ قرآن کریم کے مندرجات میں تکرار ہے۔ آیات کی تکرار جیسا کہ رفتار کلام ہر جگہ ایک ہے ہے اس لیے تصریف آیات میں کلام کی تکرار ، نصیحت وموعظت اور طرز نصیحت کی تکرار۔ قصص کی تکرار ، امرونہی اور وعدہ وعید کی تکرار اور تلاوت کی تکرار وغیرہ۔ مثانی کہنے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات ، صفات اور اسماء حسنیٰ کی ثناء ہے اور یہ بھی کہ قرآن کریم میں خود اس کے اعجاز وبلاغت کی ثناء جمیل ہے۔ سورة فاتحہ کو سبعا من المثانی کہنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ساتوں آیات نماز کی ہر رکعت میں لازما پڑھی جاتی ہیں اور یہ بھی کہ پڑھی جانے کے لیے چھانٹ لی گئی ہیں مثنی کے معنی چھانٹ لینا اور استثناء کرلینا دونوں صحیح ہیں۔ سید محمود آلوسی نے روح المعانی اور قاضی بیضاوی نے کشاف میں اور بعض دوسرے اہل علم نے لکھا ہے کہ اگر سورة فاتحہ کا نزول مکرر مانا جائے جیسا کہ بیان کیا گیا ہے یعنی ایک بار مکہ میں اور دوسری بار مدینہ میں تحویل قبلہ کے وقت تو تکرار نزول کی وجہ سے بھی سورة فاتحہ کو سبع مثانی کہنا صحیح ہوگا کیونکہ قاضی صاحب نے آیت (ولقد اتیناک سبعا من المثانی) (15 : 87) کا مکی ہونا تسلیم کیا ہے اور تحویل قبلہ کے وقت نزول تو بہرحال ثابت ہے اس لیے سورة فاتحہ کا مکرر النزول ہونا صحیح ہوگا اگرچہ بیضاوی کے اس استدلال میں ضعف بھی بیان کیا گیا ہے۔ امام راغب نے قرآن کریم مثانی کہنے کی وجہ یہ لکھی ہے کہ زمان ومکان کے تبدل وکائنات کے مروروزوال کے باوجود قرآن کریم ہر زوال اور ہر تغیر سے منزہ ہے اور حسب سابق بار بار اس کا اعادہ بغیر ردوبدل کے ہوتا رہتا ہے۔ قرآن کریم اب بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ نزول زمانہ میں تھا اور ایسا ہی آئندہ بھی رہے گا اور یہ بھی کہ اس کے عجائب وغرائب اور احکام وفوائد غیر منقطع ہیں ان گنت اور لامتناہی ہیں بار بار نئے نئے انکشافات ہوتے ہیں اور نئے نئے حقائق کھلتے ہیں اور بلاشبہ یہ انکشافات قیامت تک ہوتے رہیں گے اس لیے ہر وقت اور ہر زمانہ میں اس کی اس کے پڑھنے والوں کی ، اس کا علم رکھنے والوں کی اور اس پر عمل کرنے والوں کی ثناء کی جاتی رہی ہے اور کی جاتی رہے گی۔ (ماخوذ از ثناء) قرآنِ کریم کو ( مثانی) کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ سارا سنسار عرش سے فرش تک درس بصیرت ہے۔ دعوت غور ہے کہ کل جہاں کتابچہ توحید ہے صحیفہ تمجید وتحمیدہ ہے۔ آغاز و انجام پر روشنی ڈال رہا ہے ، مبدء ومنتہا کی طرف اشارہ کر رہا ہے ، قانون جزا وسزا کی تعلیم دے رہا ہے ، قادر مطلق کی قہاری وآمریت کو ظاہر کر رہا ہے ، قانون جزا وسزا کی تعلیم دے رہا ہے اور خالق کل کی خود مختار تخلیقی اور تشریعی طاقت کو بتا رہا ہے یہ سب آئینہ الوہیت ہے ، لائحہ ربوبیت ہے ، نزہت رحمانی کا مخبر ہے عطوفت ربانی کا غماز ہے۔ قرآن کریم اس کائناتی کتابچہ کی صحیح کاپی ہے ، ترجمان فطرت ہے ، صحیفہ قدرت کا قاری ہے اس لیے اس کی ہر آیت کو کائنات خارجہ کی ہر آیت سے مشابہت ہے بلکہ یہ بعینہ اس کی تعبیر ہے اس لیے اس کو کتاب متشابہ بھی کہہ سکتے ہیں اور مثانی بھی فرق ہے تو صرف یہ ہے کہ صحیفہ آفاق خاموش ہے اور کتاب حکمت ناطق ، وہ صدور احوال کا مجموعہ ہے اور یہ حقائق کی تصویر کشی کا لفظی مرقع۔ ہمارے خیال میں اس لفظ کی یہی تعبیر ہے۔ قارئین کرم اگر غور کریں گے تو اس میں وہ وسعت پائیں گے جو تفسیر عروۃ الوثقی میں پائی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ یہ تفسیر کسی ایک مکتب فکر کی ترجمانی نہیں کرتی اور ظاہر ہے کہ کوئی مکتب فکر بھی اس کو پسند نہیں کرے گا اس کا مطالعہ مسلسل وہی کرسکیں گے جو مکاتب فکر کی چھاپ سے بچنے کے باوجود اسلام کی تڑپ دل میں رکھتے ہوں گے۔ اس کو ہم نے مثانی کے تحت بیان کیا ہے کہ اس کا تعلق اس مضمون کے ساتھ خاص ہے۔ بلاشبہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے جو نہایت عمدہ کلام ہے اور اس کی آیات ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں جن میں تضاد وختلاف نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے اور نہ ہی یہ تضاد واختلاف کو برداشت کرتا ہے۔ قرآن کریم کی ہی آیت کا مطلب اس کھلی کائنات میں پیش کردیا گیا ہے اس لیے سائنس اور قرآن دونوں لازم وملزوم ہیں سائنس کا جو نظریہ قرآن کریم کے خلاف ہوگا وہ ابھی ناپختہ ہوگا اور اس میں تبدیلی لازم ہے یا قرآن کا مفہوم بیان کرنے والوں سے اس مفہوم کی غلطی ثابت ہوگی۔ قرآن کریم کی آیات اور کائنات کی آیات میں فرق ممکن نہیں ہے۔ قرآن کریم کا کمال یہ ہے کہ اس کا مطالعہ اس کے ادر رہ کر کیا جائے تو قارئین کی جلدوں کے رونگٹے فی الواقع کھڑے ہوجاتے ہیں اور خصوصا ان کی یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب قرآن کریم کی آیات اور آفاق وانفس کی آیات میں مطابقت اس کو نظر آتی ہیں بشرطیکہ وہ صاحب نظر ہو اور حیوانی نظر سے آگے بڑھ کر انسانی نظر سے دیکھ سکتا ہو اور خصوصا یہ کہ وہ دو اور دو چار روٹیوں کے چکر سے نکل چکا ہو۔ بلاشبہ ایسے ہی لوگ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کریم سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور ان کے دل اور ان کی جلدیں اللہ تعالیٰ کے ذکر کے باعث نرم پڑجاتی ہیں اور اس کتاب کی آیتیں بلاشبہ ان کے دلوں کو موہ لیتی ہیں اور ایسا کیوں نہ ہو جب کہ ان کا نازل کرنے والا وہی ہے جس نے اس کائنات کا ایک ایک ذرہ بنایا ہے اور کتاب اللہ اور کتاب کائنات میں مکمل طور پر ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور وہ ایک دوسرے کی موافقت اور تائید کرتی ہیں ان میں کسی قسم کا تضاد واختلاف نہیں ہے۔ قرآن کریم کی آیات کو بار بار پڑھنے سے دل نہیں اکتاتا اور کائنات کے ذرہ ذرہ کو دیکھنے سے آنکھیں نہیں تھکتیں ، دونوں کی لذت ایسی ہے جو دل کو بھی بھاتی ہے اور آنکھوں کو بھی ٹھنڈا کرتی ہے۔ یہ کتاب قرآن ِ کریم اور یہ کائنات آفاق وانفس ایسی چیز ہیں کہ ان سے کوئی طبیعت جس میں ذرا بھی شعور موجود ہے قطعا نہیں اکتاتی بلکہ جب بھی قرآن کریم کی کوئی آیت ان کی زبان پر آتی ہے تو کائنات کی اس کے ساتھ مطابقت رکھنے والی نشانی ان کی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتی ہے اور وہ ان دونوں کا آپس میں جوڑ دیکھ کر بےساختہ پکار اٹھتے ہیں کہ ( فتبارک اللہ احسن الخالقین) یہی وہ ہدایت ہے جس ہدایت کو دینے کے لیے اللہ نے قرآن ِ کریم نازل کیا ہے اور یہی وہ ہدایت ہے جس کا اثر براہ راست انسان کے دل پر ہوتا ہے اور یہی وہ ہدایت ہے جو اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کے قبضہ میں نہیں دی کہ وہ جس کو چاہے دے لے بلکہ وہ براہ راست خود اس کے اپنے قبضہ میں ہے اور جس کو پانے اور حاصل کرنے کے لیے تلاش و جستجو لازم وضروی قرار دی گئی ہے اور جو بھی اس کی تلاش کرتا ہے پا لیتا ہے لیکن کبھی بھی وہ روٹی ، کپڑا اور مکان کی تلاش کرنے والوں کو نہیں ملتی بلکہ انہیں لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو روٹی ، کپڑے اور مکان کی تلاش سے بےنیاز ہوچکے ہوں اور وہ اپنی جھونپڑی کو کسی بلند وبالا منزل سے بھی کم نہیں سمجھتے اور وہ اپنی روکھی سوکھی پر اس طرح قانع ہوتے ہیں کہ کسی کے حلوے اور مانڈے کی طرف وہ آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔ اس میں یاد رکھنے کی یہ بات بھی ہے کہ وہ شخص جس کو اللہ نے اپنے قانون کے مطابق گمراہ قرار دے دیا ہو اس کے لیے کوئی شخص بھی راہ دکھانے والا نہیں ہو سکتا خواہ وہ کوئی ہو اور خواہ وہ کہاں ہو کیونکہ قانون الٰہی میں کسی شخص کی ہدایت اللہ تعالیٰ نے کسی دوسرے شخص کے ہاتھ میں نہیں دی کاش کہ یہ بات آج ہمارے ان سادہ لوح مسلمان بھائیوں کی سمجھ میں بھی آجائے اور وہ اس بات کو اچھی طرح اپنے اپنے دلون میں جما لیں۔
Ayah 39:24

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader

کیا پس وہ شخص جو قیامت کے دن برے عذاب کو اپنے منہ پر روک رہا ہوگا (اس کا حال کیا ہوگا ؟ ) اور (اس وقت) ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب (اس کا) مزہ چکھو جو تم کماتے رہے تھے

24۔ دنیاوی کامیابیوں سے کون ناواقف ہے ؟ بلا شبہ ہم میں سے ایک نہیں جو ان دنیوی کامیابیوں سے ناواقف ہو یا اپنی بساط و طاقت کے مطابق ان کامیابیوں کو حاصل کرنے کے لیے کوشاں نہ ہو لیکن افسوس کہ آخروی کامیابیوں کی طرف ہم میں سے شاید کسی ایک کا دھیان بھی نہ ہو اور ان کامیابیوں کو شاید ہی کوئی کامیابی سمجھتا ہو حالانکہ قرآن ِ کریم کی زبان میں دنیوی زندگی کی کامیابیوں کی اس لیے کوئی وقعت نہیں کہ دنیوی زندگی بھی عارضی اور دنیوی کامیابیاں بھی عارضی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اخروی کامیابی ہی کو اصل کامیابی قرار دیتا ہے تا ہم دنیوی کامیابیوں کا تعلق بھی انسان کے کسب وکمائی سے ہے اور آخرت کی کامیابیوں کا تعلق بھی انسان کے کسب وکمائی سے ہے کیونکہ (کسب) قرآۃ نِ کریم کی اصطلاح میں جزا وسزا کا وہ استحقاق ہے جو آدمی اپنے عمل کے نتیجے میں کماتا ہے نیک عمل کرنے والے کی اصلی کمائی یہ ہے کہ وہ اللہ کے اجر کا مستحق بنتا ہے اور گمراہی وبدراہی اختیار کرنے والے کی کمائی وہ سزا ہے جو اسے آخرت میں ملنے والی ہے اس لیے بلاشبہ ظالموں اور مشرکوں کو قیامت کے روز ان کی کمائی ہی کے بدلہ میں دوذخ کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔
Ayah 39:25

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader

ان سے پہلے بھی لوگ جھٹلا چکے ہیں پھر (انجام کار) ان پر ایسی جگہ سے عذاب آیا کہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا

جھٹلانے والوں کے حصہ میں اس دنیا میں بھی عذاب ہی آتا ہے 25۔ غور کرو کہ وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے مبعوث کردہ نبیوں ، رسولوں کی مخالفت کی اور ان کے مقابلہ میں ڈٹے رہے ، ان کا انجام کیا ہوا ہے بلاشبہ ان کا انجام اس دنیا میں بھی ہلاکت ہی سے ظاہر ہوا اس کی تصدیق کے لیے سیدنا نوح (علیہ السلام) سے لے کر سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ تک کے ایک ایک نبی ورسول کی سرگزشت کا مطالعہ کیجئے آپ پر یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ مخالفین ومعاندین کو عذاب نے اس طرف سے آلیا جہاں کا ان کو وہم و گمان بھی نہ تھا اور اچانک وہ آنے والے کل میں اس طرح مٹا کر رکھ دیئے گئے جس طرح وہ کبھی اس جگہ آباد ہی نہ ہوئے تھے۔
Ayah 39:26

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے ان کو دنیا کی [ زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی بڑا ہے کاش ! یہ (لوگ) جانتے

یہ تو ان کا دنیوی عذاب تھا اور آخرت کا عذاب اس سے بھی برا ہو گا 26۔ دنیا میں ان لوگوں کو جو انبیاء ورسل کے مخالف تھے جو عذاب دیا گیا وہ تو اچانک آیا اور ان کو ہلاک کر کے رخصت ہوگیا لیکن آخرت کا عذاب تو ایسا ہے کہ وہ کبھی رخصت ہونے والا ہی نہیں اس لیے آخرت کے عذاب کو ” اکبر “ کہا گیا ہے جیسا کہ کسی نے کہا کہ اب تو گھبرا کہ یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے مر کر بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے مرنے کے بعد جب چین نہ آیا پھر تو موت کو بھی موت آچکی ہوگی اس لیے وہ دنیوی عذاب سے کہیں بہت بڑا عذاب ہوگا کاش کہ یہ بات لوگوں کی سمجھ میں آجاتی اور وہ دنیوی عذاب سے بچنے کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب سے بچنے کی بھی کوشش کرتے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت ایسی ہے جو اس قضیہ سے بالکل غافل ہے اور پیٹ کا قضیہ ان کو کسی دوسری طرف آنکھ اٹھانے کی بھی فرصت نہیں دیتا اور وہ کہولو کے بیل کی طرح اس چکر کے اندر گھوم رہے ہیں۔
Ayah 39:27

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے اس قرآن (کریم) میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں تاکہ وہ ان پر غور کریں

قرآن کریم میں ہم نے لوگوں کی نصیحت کے لیے مثالیں بیان کی ہیں 27۔ قرآن کریم میں لوگوں کے لیے طرح طرح کی مثالیں بیان کی گئی ہیں تاکہ بات ان کی سمجھ میں آسکے اور وہ اس سے نصیحت حاصل کرسکیں لیکن بہت ہی کم ایسا ہوا ہے کہ لوگوں نے کبھی ان مثالوں کے سمجھنے کی کوشش کی ہو۔ جن لوگوں کی زبان میں یہ نازل ہوا وہ بھی اس کو سرسری نگاہ ہی سے پڑھتے ہیں اور جن کی زبان میں وہ نازل ہوا انہوں نے بھی کبھی اس کو سمجھنے کو کوشش نہیں کہ بلکہ ان کو مذہبی راہنمائوں کی اکثریت نے صرف تلاوت کرلینے ہی سے اجر وثواب کا مستحق قرار دے کر سمجھنے اور سوچنے کی طرف سے ان کی رغبت ہی کو بالکل ہٹا دیا ہے گویا اس کا نزول بےسمجھے سوچے تلاوت کرنے ہی کے لیے ہوا ہے تاکہ اس کی تلاوت کر کے اپنے مردوں کو بخشوانے کی ضرورت ہو وہ ان کی طرف رجوع کرے اور ان کی اجرت کا بندوبست کرے ان کے لیے اچھے سے اچھے کھانے بھی تیار کرے اور ان کی دوسری ضروریات کا بھی خیال رکھے کو ان کہ جتنا وہ گڑ ڈالیں گے اتنا ہی میٹھا ہوگا بس وہ اپنے مرنے والے کو دیکھ لیں کہ وہ کتنا پاپی تھا۔ ظاہر ہے کہ جب مسلمانوں کو نظریہ ہی یہ دیا گیا تو وہ اس سے نصیحت کیا خاک پکڑیں گے پھر یہ بھی کہ عوام کو آخر نصیحت پکڑنے کی ضرورت بھی کیا ہے جب کہ ان کی بخشش کا سامان ان کے مرنے کے بعد ہی ہونا ان کو باور کرا دیا گیا ہے۔
Ayah 39:28

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader

(یہ) قرآن عربی (زبان میں) ہے اس میں کوئی ٹیڑھی بات نہیں تاکہ لوگ (برے انجام سے) بچیں

قرآن کریم کا نزول عربی زبان میں ہے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے 28۔ جہاں اور جس جگہ قرآن کریم کا نزول ہوا وہ لوگ وہی زبان بولتے تھے جس زبان میں قرآن کریم کا نزول ہوا اس لیے ان کے لیے بلاشبہ اس وقت سمجھنا کوئی مشکل نہیں تھا کیونکہ ان کو سمجھانے کے لیے کسی مترجم یا شارح اور مفسر کی کوئی ضرورت نہیں تھی جس پر قرآن کریم نازل ہوا تھا وہ بھی اس زبان سے اچھی طرح واقف تھا اس نے اس کے مطابق عمل کر کے ناخواندہ لوگوں کو عملی طور پر بتا دیا کہ قرآن کریم کا مفہوم کیا ہے اگر وہ اس کو سمجھنے کی ذرا بھی کوشش کرتے تو ان کے لیے تو بالکل سہل تھا کوئی بات اس میں اس طرح نہیں کی گئی کہ وہ صاف اور سیدھی نہ ہو اور اس کی آمد کا اصل مقصد بھی یہی تھا کہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں اور اپنے آپ کو دوزخ کا ایندھن بننے سے بچا لیں مکہ کے لوگ اس وقت شرک کی بیماری میں سب سے زیادہ مبتلا تھے اور مکی سورتوں اور آیتوں میں بیخ کنی کی گئی ہے باقی باتوں کو چھوا ہی نہیں گیا کیونکہ یہی ام الامراض ہے جس سے بیمار دوسری بیماریوں میں مبتلا ہوتا ہے۔
Ayah 39:29

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:29 in the Quran reader

اللہ نے ایک مثال بیان کی ہے کہ ایک (غلام) مرد ہے جس میں کئی (لوگ) شریک ہیں (جو) مختلف المزاج ہیں اور ایک شخص (ایسا) ہے جو خاص ایک ہی شخص کا (غلام) ہے ، کیا ان دونوں کی حالت یکساں ہو سکتی ہے ؟ تمام اچھی تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (سمجھتے)

لوگوں کی تفہیم کے لیے ایک مثال اس جگہ مزید بیان کی گئی ہے 29۔ شرک کیا ہے ؟ اللہ وحدہ لا شریک لہ کی ذات وصفات میں کسی دوسری کو شریک کرنا شرک کہلاتا ہے اور یہی وہ روحانی بیماری ہے جو تمام روحانی بیماریوں کی ماں ہے اور ساری روحانی بیماریوں سے زیادہ مہلک ثابت ہوتی ہے اور روح بیمار ہو تو جسم کی صحت و توانائی بالکل بیکار ہوجاتی ہے اگرچہ بیمار کو اس کا احساس تک نہ ہو۔ اس کی مثال قرآن کریم نے دو انسانوں کے مفروضہ سے بیان کی ہے ایک انسان وہ ہے جس میں ایک سے زیادہ کئی ایک آدمی شریک ہیں اور وہ سب کا ملازم وکارندہ ہے اور سب کے حکم کی تعمیل اس کے ذمہ لازم و ضروری ہے اس کے مقابلہ میں ایک دوسرا آدمی ہے جو اپنے لیے ایک اور صرف ایک ہی آقا رکھتا ہے اسی کا اس کو حکم ماننا ہے اور اسی کے حضور ہر وقت کھڑے رہنا ہے تاکہ وہ جس بات کا حکم دے اس کو فورا تعمیل کرے۔ فرمایا ان دونوں شخصوں کی حالت پر ذرا تم خود بھی غور کرلو کہ کیا وہ شخص آسانی میں ہے جو سب لوگوں کا ایک ہی طرح کا ملازم ہے یا وہ شخص جو صرف ایک کے حضور اس کا حکم ماننے کے لیے تیار کھڑا ہے۔ یہ بات ہر آدمی جس کے سر میں معمولی دماغ بھی موجود ہے تسلیم کرے گا کہ جس شخص کے بہت سے مالک یا آقا ہوں اور ہر ایک اس کو اپنی اپنی طرف کھینچ رہا ہو اور ہر ایک کی خواہش بھی یہی ہو کہ میرا کام وہ پہلے کر دے اور کام بھی ہر ایک کا علیحدہ علیحدہ ہو تو اس آدمی کا کیا بنے گا ؟ یہی کہ ایک کا کام کرے گا اور باقی سب کی جھڑکیاں کھائے گا اور اگر دوسرے کی طرف جائے گا تو جھڑکیاں بھی کا ئے گا اور کام بھی کرے گا اور بلاشبہ اس کی مثال وہی ہوگی جو جوتے بھی کھا گیا اور پیاز بھی کہ یہ شخص ہر وقت کام میں بھی مصروف ہے اور ہر وقت دوسروں کی جھڑکیاں بھی کھائے جا رہا ہے اور یہ شخص جب اس کو دیکھے گا جو صرف ایک آقا اور مالک رکھتا ہے کہ کام تو بلاشبہ وہ بھی کرتا ہے لیکن کتنے آرام کے ساتھ کہ جب اس کو کسی کام کے کرنے کا حکم ملتا ہے تو آرام و سکون کے ساتھ اٹھتا ہے اور اپنے آقا کے کام میں مصروف ہوجاتا ہے تو اس پر کیا گزرے گی جو ہر وقت کام میں بھی مصروف ہے اور ہر وقت جھڑکیاں بھی کھائے جا رہا ہے اور یہ مثال اس لیے بیان کی گئی کہ وہ انسان جو ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے اور صرف اسی کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگا ہوا ہے وہ بلاشبہ بہت ہی آرام کی زندگی گزار رہا ہے اگرچہ وہ بھی خادم ، نوکر اور غلام ہی ہے اور دوسرا مختلف درباروں ، خانقاہوں اور زندہ و مردہ ، بزرگوں اور پیروں کے مزاروں کی طرف آنے جانے میں مصروف ہے اور اطمینان نام کی چیز اس کو بالکل میسر نہیں ہے۔ بلاشبہ یہ ایک سادہ اور عام فہم مثال ہے جسے سمجھنے کے لیے کسی برے غور وتامل کی ضرورت نہیں ہے اس لیے یہ بات کسی شخص کے لیے بھی سمجھنا مشکل نہیں رہتی کہ جو اطمینان ، امن و آرام ایک اللہ کی بندگی میں ہے وہ بہت سے خدائوں کی بندگی میں اسے کبھی میسر نہیں آسکتا اور ان دونوں کی مثال بھی بلاشبہ ایک جیسی نہیں ہو سکتی۔ سب اچھی تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے خاص ہیں اور وہی اچھی تعریفوں کا سزاوار ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے اور باوجود اس بات کے سمجھ لینے کے اس کے مطابق عمل نہیں کرتے اور توحید الٰہی کو چھوڑ کر شرک کی لعنت میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ قابل غور امر تو یہ ہے کہ جب قرآن کریم بار بار یہ بیان کرتا ہے کہ اکثریت ہمیشہ ( لا یعقلون) اور ( لا یعلمون) کی ہے تو پھر جو نظام بھی اس اکثریت کے بل بوتے پر نافذ ہوگا وہ انہی لوگوں کا نافذ کردہ ہوگا جو ( لا یعقلون) اور ( لا یعلمون) ہیں تو پھر وہ نظام صاحب عقل وفکر اور اولو الالباب لوگوں کا کیسے ہو سکتا ہے جب کہ ان کی ہمیشہ اقلیت رہی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ پیٹ خواہ وہ کس کا بھی ہو بہرحال اس کے دماغ کے مقابلہ میں بہت بڑا ہے لیکن پیٹ کو بڑا سمجھ کر اگر کوئی شخص دماغ کا کام اس سے لینا شروع کر دے تو وہ دماغ کا کام شروع کر دے گا یا باوجود چھوٹا ہونے کے دماغ کو ہی اپنے کام سر انجام دینا ہوگا اور اگر پیٹ بڑا ہے تو اس کو باوجود بڑا ہونے کے اپنا ہی کام کرنا ہوگا۔ پھر اس جگہ پہنچ کر ہمارے بڑے بڑے عقل وفکر والے لوگوں کی مت آخر کیوں ماری جاتی ہے کہ وہ اس نظام کو جو سراسر غرر فطری ہے اتار پھینکنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اس کو اپنے گلے کا ہار بنا لیتے ہیں اور اپنے اصل مقام چھوڑ کر اتنا نیچے اترنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دے دی ہے اور عقل وفکروالے مقام کو چھوڑ کر محض دنیا کے اس بےکار عہدہ کی خاطر ( لا یعلمون) اور ( لا یعقلون) کی اکثریت میں گھس آئے ہیں اور وہی ڈنگروں ، ڈھوروں والے کام شروع کردیئے ہیں جو اکثریت نہ جاننے اور نہ سمجھنے کے باعث کر رہی تھی۔ ہم پوچھتے ہیں کہ کیا یہ لوگ ( کالانعام بل ھم اضل) کے مصداق نہیں ٹھہرتے ؟ یہ لوگ اگر اپنی اس حرکت سے باز نہیں آتے ، جانوروں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں تو ہم کو بھی ان کا شمار اسی زمرہ میں کرنا چاہیے جس زمرہ میں وہ کود اپنی مرضی سے گھس آئے ہیں اور عقل وفکر کو خیر باد کہہ دیا ہے۔ آج کل جتنے مذہب اسلام کے ٹھیکہ دار ہیں جب وہ فطرت کے خلاف اکثریت کے اس زمرہ سے مستفید ہونا چاہتے ہیں وہ کان کھول کر سن لیں کہ وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں اگرچہ وہ مذہبی جاعتوں کے قائدین اور رہنما قرار پاتے ہیں اور ان کے نام نشرواشاعت کے ذرائع میں سر فہرست آتے ہیں اور ان کو ان عہدوں پر مبارکبادیاں پیش کی جاتی ہیں عند اللہ ان کی حقیقت یہی ہے جو قرآن ِ کریم نے واضح کردی ہے۔
Ayah 39:30

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ Open ayah 39:30 in the Quran reader

بلاشبہ آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے

اے پیغمبر اسلام ! آپ کو بھی مرنا ہے اور ان لوگوں کو بھی 30۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ جو بات ان کو تفہیم کرا رہے ہیں یہ لوگ اس کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں۔ آپ ان کو ایک صاف اور سیدھی بات کی دعوت دیتے ہیں ، ان کو مثالیں دے کر سمجھاتے ہیں اور یہ لوگ ہیں کہ اپنی ہٹ دھرمی پر بدستور قائم ہیں اور آپ کی بات کو بزور رد کر رہے ہیں اور اس کھلی صداقت کو دبانے کے لیے تمہارے درپے آزار ہیں معلوم ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟ اس لیے کہ یہ محاورہ بالکل صحیح ہے کہ لاتوں کے بھوت باتون سے نہیں مانتے۔ آپ ان کو باتوں ہی باتوں میں سمجھانا چاہتے ہیں اور اس طرح کی باتوں پر وہ کان دھرنے کے نہیں ہیں ۔ اب آپ ان کی طرف سے بےغم ہوجائیں بلاشبہ آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی ہم نے جو مہلت دے دی ہے وہ بہرحال گزر جائے گی اور جب آپ اور یہ ہمارے پاس پہنچ جائیں گے تم ان کا انجام دیکھو گے کہ کیا ہوا اور یہ بھی تمہارے انعام واکرام کو اپنے آنکھوں سے دیکھ لیں گے اگرچہ اس سے ان کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا تا ہم حالات ان سے پوشیدہ نہیں رہیں گے۔ یہ لوگ تو یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ کل آپ مرجائیں گے تو آپ کی اس تحریک کو آگے بڑھانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ یہ ان کی خام خیالی ہے اللہ تعالیٰ کی چلائی ہوئی تحریک کو کون روک سکتا ہے اور رہے یہ لوگ اور ان کی اولادیں تو یہ سب کچھ ہوا ہوجائے گا ، نہ ان کا نام ہوگا اور نہ ان کی اولادوں کا۔ آپ بھی اگرچہ نفس نفیس نہیں ہوں گے تا ہم آپ کے نام کو باقی رکھنا باقی رہنے والے کا کام ہے اور مرنے والے اس حقیقت کو نہیں سمجھتے۔
Ayah 39:31

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ Open ayah 39:31 in the Quran reader

پھر تم سب قیامت کے دن اللہ کے روبرو اپنے اختلافات پیش کرو گے

آخر کار تم سب کو اللہ کے حضور جمع ہونا ہے اور اپنا اپنے مقدمہ بھی پیش کرنا ہے 31۔ قیامت کا آنا لازم ہے اور پھر تم سب کو اپنے رب کے حضور پیش ہونا بھی ضروری ہے تمہارے ان سارے جھگڑوں کا فیصلہ کردیا جائے گا اور اس وقت حق اور باطل کھل کر سامنے آجائے گا اس وقت وہ حق کو حق تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اس لیے کہ جو اختیار ہم نے ان کو دیا ہے اسی اختیار کے باعث وہ ایسا کر رہے ہیں اور یہ ہمارا دیا ہوا اختیار ہی دراصل ان لوگوں کی آزمائش ہے اور آزمائش میں فیل ہونے والوں کا انجام کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے آج نہیں تو کل یقینا واضح ہوجائے گا اور اسی عبارت پر قرآن کریم کے پاروں کی تقسیم میں سے تیسواں پارہ ختم ہو رہا ہے۔
Ayah 39:32

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:32 in the Quran reader

پس اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے ؟ اور جب سچی بات اس کو پہنچ جائے تو اس کو جھٹلائے کیا (ایسے) منکروں کا ٹھکانا دوزخ نہیں ہے ؟

اللہ پر جھوٹ باندھنے اور سچائی کو جھٹلانے سے زیادہ بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے ؟ 32۔ ظلم اور زیادتی ہر حال میں ہی ظلم اور زیادتی ہے خواہ وہ کسی کے ساتھ ہوتا ہم اس کے درجات میں بھی بڑا فرق ہے یہ لوگ چور بھی ہیں اور چتر بھی ایک تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کی لائی ہوئی سچائی کو قبول نہیں کیا اور مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹے بہتان بھی تراشتے ہیں اور غلط باتیں بھی منسوب کرتے ہیں کیا ایسے کافروں کے لیے جہنم کے سوا بھی کوئی ٹھکانا ہو سکتا ہے ؟
Ayah 39:33

وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 39:33 in the Quran reader

اور وہ شخص جو سچی بات لے کر آیا اور جس نے اس (سچی بات) کو سچ مانا وہی لوگ متقی ہیں

وہ شخص جو سچائی لے کر آیا اور جن لوگوں نے اس سچائی کو قبول کیا وہی متقین ہیں 33۔ سچائی لے کر آنے والا کون ہے ؟ وہی نبی اعظم وآخر محمد ﷺ جن کے سینہ اقدس پر قرآن کریم نازل کیا گیا اور آپ نے اس سچائی کو لوگوں تک پہنچایا اور پھر وہ لوگ جنہوں نے اس سچائی کی سب سے پہلے تصدیق کی اور صحابہ کرام کی جماعت قرار پائی یہی وہ متقی اور پرہیز گار لوگ ہیں جن کے اتقاء اور پرہیزگاری کا اعلان رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے کیا گیا ہے۔ ایک سچائی ہر حلل میں اور ہر دور میں سچائی ہی رہے گی لیکن وہ لوگ جو سچائی کو ظاہر ہوتے ہی مان گئے اور اس کی تصدیق کی اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروانہ کی ان کے درجات ان کے مقابلہ میں جنہوں نے دیر تک سوچنے سمجھنے کی کوشش کی اور ہر طرح کی مخالفت میں بھی حصہ لیا اور آخر کار مجبورا اس سچائی کو قبول کرلیا دونوں میں جو فرق ہے وہ بالکل واضح ہے۔ زیر نظر آیت نے صحابہ کا مقام اور صحابہ کے درجات دونوں کی پوری پوری وضاحت کردی کہ اول اول ہی ہوتا ہے اور آخر تو بہرحال آخر ہی ہوگا اگرچہ دیر آمدی درست آید ہم کہہ سکتے ہیں تا ہم مدارج کے فرق سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 39:34

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَۚۖ Open ayah 39:34 in the Quran reader

ان کے لیے ان کے پروردگار کے پاس وہ سب کچھ ہے جو وہ چاہیں گے ، نیکوکاروں کا یہی بدلہ ہے

سچائی کی تصدیق کرنے والے اپنے رب کے پاس وہ کچھ پائیں گے جس کی ان کو خواہش ہو گی 34۔ وہ لوگ جنہوں نے اس سچائی کو تصدیق کی جس سچائی کو لے کر محمد رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے اگرچہ مدارج کے لحاظ سے ان کے درجات میں فرق ہوگا تاہم ان کے جو انعامات رکھے گئے ہیں ان سے وہ برابر مستفید ہوں گے اور ان کے درجات کا لحاظ ضرور رکھا جائے گا لیکن یہ وعدہ تو سب سے موجود ہے کہ جو ان کی خواہش ہوگی وہ ان کے سامنے پیش کردیا جائے گا اور یہ بھی نہیں کہ کسی خواہش کے لیے ان کو انتظار کرنا پڑے رہی یہ بات کہ اس وقت ان کی خواہش کیا ہوگی ؟ اس کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ہاں ! اس وقت دنیا میں انسان کو جن چیزوں کی خواہش ہوتی ہے انہیں کا نام لے سکتے ہیں اور قرآن کریم نے بھی ہم کو محظوظ کرنے کے لیے انہیں چیزوں کا نام لیا ہے جن سے ہم اس زندگی میں متعارف ہیں اور ان کے حظ اور لطف کو جانتے ہیں اس لیے بلاشبہ یہ بیان عین فطرت کے مطابق ہے اور پھر ہم پر یہ بات بھی واضھ کردی ہے کہ جو کچھ اہل جنت کو پیش کیا جائے گا یہ انہیں کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہوگا اور چونکہ وہ محسنین میں شامل تھے ان کے ساتھ مزید احسان بھی کیا جائے گا اور مزید انعامات کا ذکر آگے آرہا ہے۔
Ayah 39:35

لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 39:35 in the Quran reader

تاکہ ان لوگوں نے جو برے عمل کیے تھے انہیں اللہ ان سے دور کر دے اور ان کے نیک اعمال کا بدلہ ان کو عطا فرمائے جو (دُنیاوی زندگی میں) وہ کیا کرتے تھے

اہل جنت کے ان اعمال کے مٹادیا جائے گا جو بحیثیت انسان کمزوری کے باعث ہوئے۔ 35۔ انسانی کمزوریوں سے ایک انسان ہونے کے ناطے انسان مشکل ہی سے بچ سکتا ہے انسان کے لیے یہ بات اس کے کمالات میں سے ہے کہ جب کوئی غلطی اس سے سرزد ہو تو وہ اس پر مصر نہ ہو بلکہ فورا اس کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ازالہ کی فکر کرے اگر وہ غلطی کسی انسان سے متعلق ہے تو اسی انسان کے سامنے کھلے دل سے ہار مان لے اور اگر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے متعلق ہے تو اس کے سامنے تائب ہوجائے ، معافی طلب کرنے والا بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ اس نے کوئی غلطی کی ہی نہ ہو بلکہ معافی طلب کر کے اس کے عوض وہ ایک بہت بڑی نیکی کا مستحق قرار پاتا ہے اور اس کا درجہ عند اللہ بڑھ جاتا ہے تا ہم اگر کوئی کمزوری اس کی رہ گئی ہے تو وہ قیامت کے روز وعدہ الٰہی کے مطابق محو کردی جائے گی جیسا کہ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کسی بات کا فرمانا بلاشبہ اس کا وعدہ ہی ہے۔ زیر نظر آیت میں فرمایا جا رہا ہے کہ ان محسنین پر جو مزید کرم ہوگا وہ یہ ہوگا کہ ایمان لانے سے پہلے جو جرم اس سے سرزد ہوئے تھے اور جن گناہوں کا ارتکاب انہوں نے کیا تھا ان سب کو ڈھانپ دیا جائے گا اور ایمان لانے کے باعث اور سچے دل سے توبہ کرنے کے باعث ان کے عوض میں ان کو اچھا بدلہ بھی دیا جائے گا اور پھر جو نیکیاں انہوں نے کی ہوں گی ان کا صلہ بھی ان کو ملے گا۔ اللہ تاعلیٰ کے کرم وجود کا کیا کہنا کہ ایک شخص ساری عمر برباد کرنے کے بعد اور ہر طرح کے جرائم کرنے کے بعد بھی ایمان لاتا ہے اور سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو اس کو شرمسار نہیں کیا جاتا اور نہ ہی خالی ہاتھ واپس کیا جاتا ہے بلکہ اس کی گود بھی بھر دی جاتی ہے اور اس کے لیے آغوش رحمت کو کشادہ کردیا جاتا ہے ، اس کے سابقہ نامہ اعمال کی سیاہی دھو دی جاتی ہے اور اس پر اپنے خاص فضل و کرم کی بارش برسائی جاتی ہے۔ اس طرح جو انہوں نے اعمال کیے ہوتے ہیں ان کے صلہ میں ان کو بہت بڑھا چرھا کردیا جاتا ہے جو آخری زندگی میں کام آنے والا ہے ، اس طرح بار بار یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ آخرت کی زندگی دنیوی زندگی کا ماحسل ہے جس کو نتیجہ اور صلہ ہی کہا جاسکتا ہے۔
Ayah 39:36

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ١ؕ وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ Open ayah 39:36 in the Quran reader

کیا اللہ اپنے بندہ کے لیے کافی نہیں ہے ؟ اور (یہ منکر) آپ کو اس (اللہ) کے سوا اوروں سے ڈراتے ہیں اور اللہ جس کو (اپنے قانون کے مطابق) گمراہ کرے اس کو کوئی راہ دکھانے والا نہیں

نادان آپ کو ڈراتے ہیں ، کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں ہے ؟ 36۔ زیر نظر آیت میں ایک بہت پرانی گمراہی کا ذکر کیا جا رہا ہے یہ گمراہی گزشتہ قوموں میں بھی عام تھی خود نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی تھی اور آض بھی بدستور قائم ہے۔ گزشتہ قوموں کے ذکر میں بھی آپ پڑھ چکے ہیں کہ تقریبا ہر قوم نے اپنے نبی سے یہ بات کہی کہ ہمیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تجھے ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار لگ گئی ہے یا یہ کہ اگر آپ نے یہ تبلیغ اسی طرح جاری رکھی تو ضرور ایسا ہوگا کہ ہمارے بزرگوں سے کسی کی مار تم کو لگ جائے گی اور یہی بات نبی اعظم وآخر محمد ﷺ سے کفار مکہ نے کہی تھی کہ تم ہمارے بزرگوں کی شان میں جو گستاخیاں کرتے ہو اور ان کے خلاف زبان کھولتے ہو تمہیں معلوم نہیں ہے کہ یہ کیسی باکرامت اور بزرگ ہستیاں ہیں ، ان کی توہین جس نے بھی کی وہ برباد ہوگیا تم بھی اگر ان باتوں سے باز نہ آئیت و یہ تمہارا تختہ الٹ دیں گے خیال رہے کہ آپ نے ان کے بزرگوں کی کیا توہین کی ؟ یہی کہ ان کو باور کرایا کہ جن لوگوں کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا جانتے ہو ان میں سے ایک بھی نہیں جو کسی کا حاجت روا اور مشکل کشا ہو۔ آپ کا یہ فرمانا ان کے نزدیک ان کے بزرگوں کی توہین تھی حالانکہ اس میں توہین کی کوئی بات نہیں بلکہ اس کے مقابلہ میں ان ان کو مشکل کشا ماننا اور حاجت روا سمجھنا ان کی توہین ہے کیونکہ جو بات انہوں نے نہ کہی تھی وہ ان کے زمہ لگائی گئی۔ یہی بات آج کے زمانہ کے مشرک کہتے ہیں ان کو جب یہ بات کہی جاتی ہے کہ نہ تو سیدنا علی ؓ تمہارے مشکل کشا ہیں اور نہ حسن ؓ اور حسین ؓ میں سے کوئی مشکل کشا ہے اور نہ ہی علی ہجویری ، شہباز قلندر ، لطیف بھٹائی ، مجدد الف ثانی ، سید عبدالقادر جیلانی اور صابر کلیری تمہارے حاجت روا ہیں بلکہ تمہارا حاجت روا اور مشکل کشا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے جو ان سب کا بھی حاجت روا اور مشکل کشا تھا تو ہمارے زمانہ کے مشرک یہی کہتے ہیں کہ یہ لوگ دراصل نبیوں ، ولیوں اور بزرگوں کے گستاخ ہیں اور یقینا ان کو انہی ہمارے بزرگوں میں سے کی کی مار لگ گئی تب ہی تو یہ اس طرح کی بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں اور یہ بات نہ ان کی سمجھ میں آئی اور نہ ہی ان کی سمجھ میں آتی ہے کہ ان ہی بزرگوں میں سے ہم کو کسی کی مار لگی ہوگی تو ان کے متعلق ہم ایسی باتیں نہ کہتے۔ بہرحال زیر نظر آیت میں ایسا کہنے والوں کو یہ جواب دیا جا رہا ہے کہ کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے ؟ یعنی بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندے کے لیے کافی ہے وہ جس کا ساتھی ہو اس کو کب کسی کی مار لگ سکتی ہے۔ آپ کو اس طرح ڈرانے والے دراصل خود گمراہ ہوچکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق جو گمراہ ہوچکے ہیں ان کی سیدھی راہ پر کون لاسکتا ہے اور مشرکین کی مت اسی طرح ماری جاتی ہے کہ وہ خود گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو گمراہ کہتے ہیں۔
Ayah 39:37

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ Open ayah 39:37 in the Quran reader

اور جس کو اللہ راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا کیا اللہ غالب (اور ان کافروں سے) بدلہ لینے والا نہیں ؟

جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے دے اس کو کوئی گمراہ نہیں کر سکتا 37۔ اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دے دے اس کو کوئی گمراہ نہیں کرسکتا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو ہدایت دی اور لوگوں کے لیے ہادی بنا کر بھیج دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی تبلیغ کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود جن کی مت ماری گئی ہے وہ آپ کو بھی گمراہ سمجھتے اور کہتے ہیں ، کیوں ؟ اس لیے کہ وہ ان کے اور ان کے آباء و اجداد کے بنائے ہوئے معبودوں کو اور ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو تسلیم نہیں کرتے اور توحید الہٰی کا درس دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے اور جن کو تم نے اپنے مشکل کشا اور حاجت روا اور بگڑی بنانے والا سمجھا ہے وہ سب تو اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اسی کے سامنے عاجزی کرتے اور گڑگڑاتے ہیں۔ یہ تو ہدایت سے ان کی محرومی کا کرشمہ ہے کہ ان احمقوں کو اپنے بنائے اور ٹھہرائے ہوئے معبودوں کی طاقت و عزت کا تو بڑا خیال ہے مگر انہیں اس بات کا خیال نہیں آۃ یا کہ اللہ تعالیٰ بھی ایک زبردست ہستی ہے اور اس کے ساتھ شرک کر کے جو اس کی توہین کر رہے ہیں اس کی یہی سزا انہیں مل سکتی ہے کیونکہ اللہ تعلایٰ ہی وہ ذات ہے جو سب پر غالب ہے اور اس کو انتقام لینے سے کوئی نہیں جو باز رکھ سکے اگر وہ انتقام لینا چاہے۔