38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 38:87

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 38:87 in the Quran reader

نہیں ہے وہ ( قرآن کریم) مگر سارے جہانوں کے لیے ایک نصیحت ہے

قرآن کریم سارے جہانوں کے لیے ایک نصیحت ہے 87۔ قرآن کریم کی ہدایات ابدی اور لا بدی ہیں اور ان سے دنیا جہان کے سارے انسان برابر مستفید ہو سکتے ہیں یہ کسی خاص قوم ، برداری اور خاندانوں کی راہنمائی کے لیے نہیں اتارا گیا بلکہ اس کا نزول تمام جہانوں کے لیے ہے جو شخص بھی اور جہاں بھی کوئی اس سے استفادہ کرنا چاہے گا وہ استفادہ کرسکے گا اور جو قوم وشخص بھی اس کے اصول کو اپنائے گا وہ اس کے نتیجہ کو حاصل کرلے گا۔ آج یہ بات روز روشن کی طرح عیاں اور واضح ہے کہ اگر مسلمانوں نے باوجود اس کی کثرت تلاوت کے اس کی ہدایات سے عملی سستی اختیار کی ہے تو وہ اس کے نتجہ سے دوچار ہو رہا ہیں اور اس طرح جن لوگوں نے بھی اور جہان بھی ان سنہری اصولوں کو اپنانے کو کوشش کی ہے انہوں نے کامیابی حاصل کی ہے جس سے پوری دنیا کا نقسہ بدل کر رہ گیا ہے افسوس کہ ہمارے مفسرین اور علمائے گرامی قدر نے اس آیت پر اس طرح نہیں لکھا جیسا کہ ان کو لکھنا چاہیے تھا بلکہ اکثر اس سے بڑی لا پروائی سے گزر گئے ہیں اور اس پر کچھ کہنا گوارا ہی نہیں کیا بلکہ اس سنہری اصول کو جو ایک بہت بڑی نصیحت کے طور پر نازل کیا گیا اس کی صرف تلاوت ہی پر انحصار کیا گیا اور غیر مسلم قوموں نے اس کے مفہوم کو چوری کر کے اس کو پورے زور سے شائع کیا اور اس کے سنہری اصولوں کو اپنا کر دنیوی زندگی کے فوائد حاصل کیے اور کر رہے ہیں لیکن ساتھ ہی مسلمانوں کو قرآن کریم کی روح سے محروم رکھنے کی پوری کوشش کی اور کر رہے ہیں جس میں وہ ایک حد تک کامیاب بھی ہوئے اور ہو رہے ہیں۔
Ayah 38:88

وَ لَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِیْنٍ۠ Open ayah 38:88 in the Quran reader

اور کچھ عرصہ کے بعد تم کو خود (ہی) اس کا حال معلوم ہوجائے گا

کچھ عرصہ کے بعد تم کو خود ہی یہ بات معلوم ہوجائے گی 88۔ جو بات کہی جا رہی ہے اگر تم کو اس پر یقین نہیں آرہا تو آنے والے وقت میں جو تم میں زندہ ہوں گے وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ جو بات کہی جارہی ہے وہ کس طرح حرف بہ حرف پوری ہوئی ہے اور جوں جوں وقت گزرتا جائے گا اس کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے گا یہ تو دنیا کا حال ہے اور رہی وہ باتیں جو آخرت کے متعلق کہی جا رہی ہیں ان کو تم مرنے کے بعد فورا ہی معلوم کر جائو گے کہ اس دنیا سے سلسلہ منقطع ہوتے ہی اس کا پورا حال تم پر منکشف ہوجائے گا۔ دنیوی زندگی کی ہدایات کے متعلق بلاشبہ ہم نے جان لیا اور آخرت کے متعلق بھی وقت مقرر آجانے کے بعد یقینا جان جائیں گے۔ بحمد اللہ اس مضمون پر سورة (ص) کا مضمون ختم کیا جا رہا ہے۔ 21 ستمبر 1997 ء سے گائوں کی مسجد کی تعمر کا کام شروع کرایا تھا جس وجہ سے سورة ص کی تفسیر مکمل ہونے میں تاخیر ہوئی بحمد اللہ 14 اکتوبر 1997 ء کو ڈھانچہ مکمل ہوا ، چھت میں چند روز کی دیر تھی اس لیے کام بند ہوا تو یہ شروع ہوگیا اور بحمد اللہ سورة ص کی تفسیر آج بروز جمعرات قبل از صلوٰۃ طہر ختم ہوئی۔