38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 38:26

یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ Open ayah 38:26 in the Quran reader

اے داؤد ! ہم نے تم کو زمین پر (اپنا) خلیفہ بنایا ہے پس تم لوگوں میں انصاف کے ساتھ حکومت کیا کرو اور اپنی خواہش نفس کی پیروی نہ کرو کہ کہیں وہ تم کو اللہ کی راہ سے بہکا نہ دیں بلاشبہ جو لوگ (خواہشات کی پیروی کر کے) اللہ کی راہ سے بہک جاتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اس لیے کہ انہوں نے روز حساب کو بھلا دیا ہے

دائود (علیہ السلام) کی حوصلہ افزائی اور آپ کے نام ہدایات خاص 26۔ زیر نظر آیت میں انسانی کے لیے بیشمار نصائح پنہاں ہیں غور کرو کہ دائود (علیہ السلام) نے دو جاہلوں کے درمیان نہایت فہم و فراست کیس تھ فیصلہ کیا اور ان کی جہالت پر ان کو کچھ نہیں کہا تاکہ معاملہ آگے نہ بڑھنے پائے اس فیصلہ کو اللہ تعالیٰ نے بہت پسند کیا اور اس پسندیدگی کے فیصلہ کا اعلان اس طرح فرمایا جا رہا ہے کہ اے دائود ! ہم نے آپ کو اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کریں اور اپنی ذاتی خواہشات کو اس میں ذرا بھی ملوث نہ ہونے دیں کیونکہ ہوائے نفس ہی وہ بلا ہے جو انسان کو راہ راست سے ہٹاکر بےراہ کردیتی ہے۔ اس طرح دائود (علیہ السلام) کو گویا بتایا جا رہا ہے کہ اے دائود (علیہ السلام) ! آپ کسی شاہی خاندان کے فرد نہیں تھے کہ آپ کو حکومت اور تخت ورثہ میں ملا ہو۔ تم کو معلوم ہے کہ تم ایک چرواہے تھے ہم نے اپنے خاص فضل و کرم سے آپکے لیے یہ راہ ہموار کی اور آپ کو طالوت لشکر میں شامل کر کے آپ کی نبوت کو چار چاند لگا دیئے اور اپنی خاص مہربانی سے تم کو بنی اسرائیل کے تاج و تخت کا مالک بنا دیا اور پھر آپ کی سلطنت کو اس قدر وسعت دی کہ بنی اسرائیل کو ختم کر کے رکھ دینے والوں کو تیرے ہاتھ سے ختم کرا دیا اور آپ کو مسند خلافت عطا کردی اور پھر اس احسان کا شکر ادا کرنے کا طریقہ بھی آپ کو بتا دیا اور تم ہمارے اسی طریقہ کے مطابق اپنی حکومت کو عدل و انصاف کے ساتھ چلائو اور اپنی پسند اور ناپسند کو اپنے فیصلوں پر اثر انداز نہ ہونے دو ۔ اگر تم نے خواہش نفس پر انصاف کو قربان کیا تو یاد رکھو کہ سیدھی راہ سے بہک جائو گے اور ہماری توفیق دامن تمہارے ہاتھ سے چھوٹ جائے گی اور جو شخص راہ حق سے بہک جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے سخت عذاب میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ غور کرو کہ قرآن کریم نے اس جگہ خلیفہ کی ذمہ داریوں کو بڑے موثر پیرائے میں بیان کردیا ہے کہ اس کا فرض اولین یہ ہے کہ وہ عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے ، فیصلہ کرتے وقت کوئی خارجی چیز ، سفارش ، رشوت ، کوئی طمع اور کوئی خوف یہاں تک کہ ذاتی مفاد کو بھی اس پر اثر انداز نہ ہونے دے اور بلاشبہ جو فیصلہ کرنے والا ایسا نہیں کرتا تو یقینا وہ روز جزاء کو فراموش کردیتا ہے اور قیامت کے روز پر اس کا ایمان نہ رہا خواہ وہ زبان سے ہزار وعدے کرے کہ ہو وقوع قیامت پر ایمان رکھتا ہے۔ اگر وہ فیصلہ کرتے وقت میزان عدل کو برابر نہیں رکھ سکتا تو یہ دعویٰ کرنے میں بہر حال وہ جھوٹا ہے اور جو شخص قیامت پر یقین نہیں رکھتا یا اسے فراموش کردیتا ہے اس کے لیے رسوائی ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی عذاب سخت ہے۔ آج آپ اپنے ملکی فیصلوں پر بھی نظر کریں اور عدلیہ کے فیصلوں کو بھی دیکھیں ، اپنی معاشرتی زندگی میں دیہات ، قصبات اور شہروں میں بڑے لوگوں کے فیصلوں پر بھی نظر ڈالیں ، اپنے قاضیوں ، مفتیوں اور پیروں مرشدوں کے فتو وں اور فیصلوں پر بھی نگاہ دوڑائیں آپ کو کہیں بھی عدل و انصاف دکھائی نہیں دے گا اور اکثر جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا معاملہ نظر آئے گا۔ چھوٹی گواہیاں اور شہادتیں ہر جگہ نظر آئیں گی ، ملک کی کوئی عدالت اس کی زد سے بچی ہوئی نہیں نظر آئے گی اور حکومتی سطح کو کوئی ادارہ ایسا نہیں جس میں جوڑ توڑ ہوتا نظر نہیں آئے گا اور فیصلہ کرنے والے کے لیے چمک کا لفظ خود حکمران استعمال کرتے نظر آ رہے ہیں اور خصوصا فی زماننا جو احکام اسلام کے نام سے نافذ ہوئے ہیں اگرچہ وہ خود اندھے ، کانے لنگڑے اور لولے ہیں اور جس طرح ان کا مذاق ارایا جا رہا ہے اس کی مثال گزشتہ کسی زمانے میں نہیں ملتی۔ تھانوں میں تعزیرات اسلام کے تحت پرچہ درج کرانے کی قیمت انگریزی قانون کے مقابلہ میں دوگنی تگنی ہے اور غلط گواہیوں اور شہادتوں کا یہ عالم ہے کہ کسی تھا نے میں جو ایف آئی آر کاٹی جاتی ہے اس میں ایک سو میں سے ایک بھی سچ نہیں ہوتی۔ پھر قانون نافذ کرنے والے قانون کے مطابق فیصلہ کرنے والے خود اس حقیقت سے سو فی صد آگاہ ہیں کہ یہاں سچ موجود نہیں ہے۔ اس صورت حال نے پورے ملک کو ایک کرب ناک عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ قرآن کریم جس میں یہ ہدایات دی گئی ہیں اس قرآن کریم کی تلاوت کر کے اس کو سامنے رکھ کر اس کو دکھا دکھا کر جھوٹ بولے جاتے ہیں کہ خدایا تیری پناہ۔
Ayah 38:27

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ Open ayah 38:27 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بےفائدہ پیدا نہیں کیا یہ ان لوگوں کا گمان ہے جو کافر ہیں چناچہ کافروں کے لیے دوزخ کے عذاب کی سزا ہے

27۔ زیر نظر آیت کے مضمون کو نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو مخاطب کر کے بیان کیا جا رہا ہے کہ آپ اپنے امتی لوگوں کو سمجھائیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کو عبث و بیکار پیدا نہیں کیا جیسا کہ آپ کے دور کے مشرک و کفار اور آپ سے پہلے کے منکرین و معاندین کا خیا ہے کہ زندگی بس یہی دنیوی زندگی ہے اس میں خوب عیش و عشرت کرلو ، خوب مزے اڑا لو ، دولت کمائو جتنی کما سکتے ہو اور حلال و حرام کے چکر میں نہ پڑو یہ تو ملائوں کی من گھڑت باتیں ہیں ، جاہ و منصب حاصل کرنے کے لیے کسی کی حق تلفی ہوتی ہے تو ہونے دو ، مکرو فریب سے کام نکلتا ہے تو نکالو ، اپنا مطمع نظر اچھی طرح قائم کرلو کہ بس فلاں چیز کو حاصل کرنا ہے اور پھر اس کو حاصل کرنے میں زندگی کھپائو۔ قیامت و یا مت کچھ نہیں ہے بس یہ ایسی ہی دھمکیاں ہیں ان لوگوں کی باتوں میں آکر اپنے مطمع نظر کا خیال نہ چھوڑ دو ۔ ان کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر یہ تمہاری باتیں درست اور صحیح ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین و آسمان کا یہ سارا نظام عبث و بیکار اور بےمقصد بنایا گیا ہے جب کہ ایک مومن اور فاسق کے درمیان کوئی فرق بھی نہیں۔ بس جو کچھ ہے وہ یہی کچھ ہے کہ دب دب کے واہ اور رج رج کے کھا۔ گویا یہ دب دب کے واہنے کے لیے صحت و تندرستی اور طاقت و قوت کی کوئی ضرورت ہی نہیں ؟ اگر ہے تو آخر وہ کس نے دی ہے جب کہ خدا کوئی نہیں ایسے واہیات لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ کان کھول کر سن لو ! اس کائنات کے خالق ہم ہیں اور ہم نے کوئی چیز بھی عبث اور بیکار پیدا نہیں کی اور یہ کہ ہمارا کوئی کام بےمقصد نہیں ہے اور ہماری کوئی بات حکمت سے خالی نہیں ہے۔ تم لوگوں کو ہم نے پیدا کیا ہے اور ہم خوب جانتے ہیں کہ ہم نے تمہاری آزمائش کرلیے اس دنیا میں تم کو لا بسایا ہے تاکہ تمہارے اعمال کا اندازہ کریں کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو۔ قیامت آئے گی اور ضرور آئے گی اس طرح جس طرح تم آگئے ہو ذرا بتائو کہ ہتم اپنی مرضی سے آئے یا اپنی مرضی سے جائو گے ؟ پھر جب تم خود بھی اپنے مرضی سے نہیں آئے اور اپنی مرضی سے نہیں جائو گے تو تم کو کیا حق ہے کہ آخر قیامت کا انکار کرو۔ بہر حال تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے اس کے حق ہونے کا کیا تعلق ہم نے تو یہ دن مقرر ہی اس لیے کیا ہے کہ اس روز متقی اور پرہیزگار ہمارے انعامات اخروی سے مالا مال ہوں اور فاسق وفاجر ذلیل و رسوا ہوں۔ حق کا بول بالا ہو اور سارے غلط فہموں کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں اور کافروں کے حصہ میں جو آگ ہے ان کو اس میں پھینک دیا جائے تاکہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس میں جلتے اور گلتے رہیں۔
Ayah 38:28

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ Open ayah 38:28 in the Quran reader

کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے برابر کردیں گے جو ملک میں فساد پھیلاتے پھرتے ہیں یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کے برابر کردیں گے ، (غور کرو کہ یہ برابر کیسے ہو سکتے ہیں ؟ )

کیا امن بحال کرنے والے اور فساد مچانے والے بھی برابر ہو سکتے ہیں ؟ 28۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے ان لوگوں کی مانند کردیں گے جو زمین میں فساد کرنے والے ہیں اور برے عمل کمانے والے ہیں ؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم پرہیز گاروں کو فاسقوں اور فاجروں کی مانند بنا دیں۔ اگر قیامت نہ ہو تو بلاشبہ ان سارے لوگوں میں امتیاز ممکن ہی نہیں رہتا اس دنیا میں ان دونوں اقسام کے لوگوں کا ہونا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ قیامت ضرور بپا ہوگی ورنہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا یہ قانون اندھیر نگری ہو کر رہ جائے۔ قیامت کا بپا ہونا اور جزا و سزا کا لازم ہونا ہی ان دونوں گروہوں کے وجود کا اثبات ہے تاکہ جو جزا کے مستحق ہیں ان کو جزا دی جائے اور جو لوگ سزا و عقوبت کے مستحق ٹھہریں ان کو سزا سنائی جائے۔ اس مضمون کو عروۃ الوثقی جلد چہارم سورة الرعد کی آیت 16 ، سورة ہود کی آیت 24 ، جلد ہذا سورة فاطر کی آیت 20 میں تفصیل کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے وہاں سے وضاحت دیکھ لیں۔
Ayah 38:29

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 38:29 in the Quran reader

یہ ( قرآن کریم) ایک مبارک کتاب ہے جس کو ہم نے (اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ کی طرف نازل کیا ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل رکھنے والے اس سے نصیحت حاصل کریں

یہ قرآن ایک مبارک کتاب ہے جس کو ہم نے آپ پر نازل کیا ہے 29۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کتب سماوی ہی مبارک اور برکت والی ہیں لیکن ان سب سے بڑھ کر بابرکت کتاب الٰہی قرآن کریم ہی ہے اور اس کا بابرکت ہونا اظہر من الشمس ہے۔ اس لیے کہ ساری کتب سماوی میں تحریف ہوئی اور کسی کتاب کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے نہ لی کہ اس کتاب میں کوئی تحریف نہیں کرسکے گا بلکہ ساری کتب سماوی میں قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود قرآن کریم نازل کرنے والے نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے وضاحت کے لیے دیکھیں عروۃ الوثقی ج پنجم سورة الحجر کی آیت 9 ، ج ہشتم سورة القیامہ کی آیت 19 اس کے بعد مضمون دوبارہ دائود (علیہ السلام) کے بیٹے سلیمان (علیہ السلام) کے بیان سے شروع کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ بھی نبی و رسول ہونے کے باوجود حکومت کے مالک تھے۔
Ayah 38:30

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ Open ayah 38:30 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد کو سلیمان (علیہ السلام) (جیسا بیٹا) دیا وہ نہایت ہی خوب بندہ تھا اور بلاشبہ وہ (ہماری طرف) رجوع کرنے والا تھا

دائود (علیہ السلام) کا بیٹا سلیمان بھی ایک بہت ہی اچھا آدمی تھا 30۔ گزشتہ آیات میں دائود (علیہ السلام) پر جو انعامات کیے گئے ہیں ان کا بیان تھا اور بلاشبہ انہی انعامت میں سے ایک انعام سلیمان (علیہ السلام) جیسا بٹاج بھی تھا۔ گزشتہ واقعات میں ایک اور یاہ کی بیوی کا بیان بھی تھا جس کا ذکر مفسرین نے کیا ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مفسرین نے اس بیوی کو سلیمان (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ ٹھہریا ہے جس کا نام ” بت سبع “ لیا جاتا ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر بھی پیچھے سورة الانبیاء میں گزر چکا ہے اور آپ کی سرگزشت بھی عروۃ الوثقی جلد ششم سورة الانبیاء ص 161 پر درج کی جا چکی ہے۔ زیر نظر آیت میں سلیمان (علیہ السلام) کو ( نعم العبد) کہا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف بہت ہی رجوع کرنے والا بتایا گیا ہے گویا سلیمان (علیہ السلام) اپنے والد دائود (علیہ السلام) کا صحیح وارث اور جانشین ثابت ہوا۔
Ayah 38:31

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ Open ayah 38:31 in the Quran reader

جب اس کے سامنے شام کے وقت نہایت (تیز رو) عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے

جب سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے شام کے وقت نہایت عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے 31۔ سلیمان (علیہ السلام) جب نبی و رسول بھی بنا دیئے گئے اور وقت کے بادشاہ بھی تو آپ نے جنگی گھوڑوں کو پالنے اور ان کو جنگ کے لیے تیار کرنے اور جنگی کرتب سکھانے اور سرپٹ دوڑنے کی کوشش کرانے کا ذکر بھی کیا گیا ہے ایک روز آپ نے پچھلے پہر ان دوڑانے والے جنگی گھوڑوں کی دوڑ دیکھنے کے لیے گھوڑ دوڑ میں طلب کیا زیر نظر آیت میں اسی طلب کا ذکر کیا گیا ہے۔ (صافنات) صفن سے ہے جس کے معنی لغت میں تین ٹانگوں پر برابر بوجھ ڈال کر تیسرے پیر کی کھری موڑ کر زمین کے ساتھ لگانے کے کیے گئے ہیں یعنی نہایت آرام و سکون کے ساتھ کھڑے ہونے والے اور بہت ہی تیز دوڑنے والے گھوڑے۔ (الجیاد) جواد کی جمع ہے اور خود سخاوت یعنی مال اور علم کے خرچ کرنے کو کہتے ہیں یعنی جو مال اس نے نہایت محنت سے کمایا اور سنبھال کر رکھا اور جب اللہ کے راستے میں ضرورت پیش آئی تو اس کو خرچ کردیا ، ان گھوڑوں کو بھی اسی وجہ سے ( الجیاد) کہا گیا ہے کہ یہ اپنی جمع شدہ طاقت ضرورت کے وقت خرچ کرتے ہیں جیسا مالک ان سے خرچ کرنے کو کہتا ہے۔ اسی مادہ سے لفظ (جید) بھی ہے جو روی کی نقیض ہے۔ یعنی آپ نے ایک روز دن کے پچھلے حصے میں اصیل گھوڑوں کی دوڑ دیکھنے کے لیے ان کو گھوڑ دوڑ میں لانے کا حکم دیا اور گھوڑے آپ کے سامنے پیش کیے گئے۔
Ayah 38:32

فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ Open ayah 38:32 in the Quran reader

پس وہ کہنے لگا میں نے (اس) مال کی محبت اپنے رب کے ذکر کی وجہ سے اختیار کی ہے یہاں تک کہ وہ (گھوڑے اس کی) نظر سے اوجھل ہو گئے

32۔ دوڑنے والے گھوڑے جب میدان میں لائے جاتے ہیں تو ان کو تیار کرنے کے لیے ادھر ادھر لے جانا پڑتا ہے اس طرح سے گھوڑ سوار ان کو پھراتے رہے اور آپ ان کو کافی دیر تک دیکھتے رہیے یہاں تک کہ ان کو ایک دم بھاگنے کے لیے گھوڑ دوڑ میں گھوڑ سواروں نے چھوڑ دیا اور جب تک آپ کی آنکھیں ان کو دیکھتی رہیں دیکھتی رہیں لیکن زیادہ دیر نہ گزری کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہوگئے ایسے میں جو لوگ آپ کے ارد گرد دیکھنے کے لیے حاضر ہوئے تھے ان کو مخاطب کر کے آپ نے فرمایا کہ میں جو ان گھوڑوں کو پالنے اور ان سے دوڑ کروانے اور اسی طرح ان کی دوڑ دیکھنے کے لیے اپنے قیمتی اوقات خرچ کر رہا ہوں تو یہ محض یاد الہٰی کے لیے ہے نہ کہ کھیل اور تماشا کے لیے یہ باتیں آپ کر رہے تھے کہ وہ گھوڑے آنکھوں سے غائب ہوگئے یعنی اس طرح کی باتیں آپ کرتے رہے یہاں تک کہ گھوڑے اپنی منزل مقصود پر جا کر واپس آگئے۔
Ayah 38:33

رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader

(اس نے حکم دیا کہ) ان کو میرے پاس واپس لاؤ (جب وہ واپس آئے) تو ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر (خود تھپکیاں دیتے ہوئے) ہاتھ پھیرنے لگا

گھوڑے دوڑ کر جب واپس آئے تو آپ نے ان کی گردنوں اور ٹانگوں پر تھپکیاں دیں 33۔ گھوڑے اپنی دوڑ مکمل کر کے جب واپس لوٹے تو گھوڑ سواروں کو آپ نے حکم دیا کہ ان میں سے ایک ایک کو وہ میرے پاس لاتے جائیں اور آپ کے حکم کے مطابق گھوڑے باری باری آپ کے پاس لائے گئے آپ نے ان کو دیکھ کر ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر خود بنفس نفیس تھپکیاں دیں اور کہا کہ اس طرح کرنے سے اظہار محبت ہوتا ہے جو گھوڑے بھی محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں شاباش دی جا رہی ہے اور ان کے دوڑانے والے بھی اور اس طرح یہ تھپکیاں دینے والے بھی محسوس کرتے ہیں اور اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں اس طرح آپ نے بھی کیا اور لطف اندوز ہوتے رہے۔
Ayah 38:34

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader

ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو ایک آزمائش میں ڈالا اور اس کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا (ایک بغاوت تھی جس کو دبایا گیا) پھر اس نے رجوع کیا

سلیمان (علیہ السلام) کو ایک امتحان میں ڈالا گیا اور بحمد اللہ وہ پاس ہو گیا 34۔ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) کو یہ حکومت اپنے والد ماجد سیدنا دائود (علیہ السلام) سے ملی تھی اور دائود (علیہ السلام) نے اس کو اپنی بہادری اور شجاعت کے بل بوتے اللہ کے خاص فضل و کرم سے حاصل کیا تھا جب کہ آپ طالوت کے لشکر میں شامل ہو کر جالوت کے ساتھ لڑے تھے اور آپ ہی نے جالوت کو قتل کیا تھا۔ اب بنی اسرائیل کی حکومت جو بڑھنے لگی تو جالوت کے سارے علاقے پر پھیل گئی اور ان لوگوں نے جو اس وقت طالوت کے اعوان و انصار تھے اس وقتی حکومت کو تسلیم کرلیا تھا۔ دائود (علیہ السلام) کا زمانہ گزر گیا اور سلامتن (علیہ السلام) کا دور حکومت آیا نہ معلوم ان لوگوں نے کتنی بار کوشش کی کہ کسی نہ کسی طرح سازش کر کے اس ملک کو پھر ٹکڑے ٹکڑے کردیں اور اپنی قومی حکومت قائم کریں لیکن وہ کامیاب نہ ہوئے۔ سلیمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں اس قوم کے ایک سپہ سالار نے بغاوت کردی اور یہ بغاوت اتنی زبردست تھی کہ اس نے سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا اور قریب تھا کہ وہ حکومت پر مکمل طور پر قابض ہوجاتا لیکن سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت و قوت کو مکمل طور پر خود قیادت سنبھال کر اس بغاوت کو کچلنے کے لیے پورا زور لگایا اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ سے اپنی سستی کی تلافی کرتے ہوئے توبہ و استغفار کی اور رجوع الی اللہ ہوئے اور توبہ کی کہ میری یہ کوتاہی معاف فرما دی جائے جو میں نے اتنی بڑی حکومت کا حکمران ہونے کے باوجود کی کہ ایسے آدمی کو سپہ سالار افواج مقرر کردیا جو دوسری قوم کی ہمدردی اپنے دل میں رکھتا تھا اور میں نے اس بات کو نہ سمجھا اور بلاشبہ یہ غلطیاں بہت بڑے بڑے سمجھداروں اور عقل و فکر کے پہاڑوں سے بھی سرزد ہوجاتی ہیں اور اس سے یہ سمجھ لیا جاسکتا ہے کہ ساری طاقتوں اور قوتوں سے بڑی طاقت و قوت بھی موجود ہے جو ساری طاقتوں اور قوتوں کا منبع ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے کتنے قصے اور کہانیاں بیان کیے ہیں لیکن ہم نے ان سب کی وضاحت سلیمان (علیہ السلام) کی سرگزشت میں کردی ہے جو سورة الانبیاء جلد ششم میں بیان کی گئی ہے۔ تفصیل دیکھنا مطلوب ہو تو وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 38:35

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

اور اس نے کہا اے میرے رب مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے علاوہ (میرے زمانہ میں) کسی اور کو (ایسی حکومت) میسر نہ ہو بلاشبہ تو بڑا ہی دینے والا ہے

سلیمان (علیہ السلام) کی دعا بارگاہ رب ذوالجلال والاکرام 35۔ سلیمان (علیہ السلام) نے بفضلہ اس سازش پر قابو پا لیا اور اس تحریک کو جو آپ کی اسلامی حکومت کے خلاف کام کر رہی تھی بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا اور جب اس تحریک کا مکمل خاتمہ ہوگیا تو اللہ رب العزت کی طرف رجوع ہوئے اور معافی طلب کی اور دعا مانگی کہ اے اللہ ! میری حفاظت فرما اور مجھے وہ بادشاہت عطا فرما کہ جو میرے بعد بھی کسی کو شایان شان نہیں ہے کہ وہ اس کو چھین لے بلاشبہ تو بہت ہی عطا کرنے والا ہے۔ لوگوں نے اس دعا کے متعلق پہلے تو یہ سمجھا کہ سلیمان (علیہ السلام) نے یہ دعا کہ ” اے اللہ ! مجھے اپنی حکو مت عطا فرما جو میرے بعد کسی اور کو میسر نہ ہو کہ بلاشبہ تو عطا کرنے والا ہے۔ “ حالانکہ ایسا سمجھنا بالکل غلط ہے کیونکہ گزشتہ آیت سے اس طرح کا جوڑ بالکل ختم ہوجاتا ہے جس میں سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش کا ذکر ہے اگر ان دونوں آیتوں کو نگاہ میں رکھا جائے تو بات بالکل صاف ہوجاتی ہے کہ وہ آزمائش آپ کی ملک کے اندر سازش تھی جس کا دباناسلیمان (علیہ السلام) کو مشکل نظر آ رہا تھا تا ہم اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدد کی اور سازش کو مکمل طور پر دبا دیا گیا جب فتنہ ختم ہوگیا تو سلیمان (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ! آئندہ مجھے ایسی آزمائش میں مت ڈالیے مجھے معاف فرمائیں اور میرے بعد بھی کسی کو اس اسلامی حکومت کے خلاف اس طرح کی سازش کی جرات پیدا نہ ہو کیونکہ میرے جانشین میرے بعد اس عزم و ہمت کے مالک مجھے نظر نہیں آ رہے ، تیری عطا ہی کے سہارے اس ملک کا قیام قائم رہ سکتا ہے۔ اس طرح یہ دعا عین فطرتِ انسانی کے مطابق ہے اگرچہ ہونا وہی ہوتا ہے جو علم الٰہی میں موجود ہے۔
Ayah 38:36

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

پھر ہم نے ہوا کو اس کے لیے مسخر کردیا کہ وہ اس کے حکم سے جہاں وہ (ان کشتیوں کو لے) جانا چاہتا نرم رفتار (یعنی موافقت) سے چلتی تھی

سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو مسخر کرنے کا ذکر اور اس کے تابع ہونے کی حقیقت 36۔ سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کا مسخر کرنا ایسا ہے جیسا کہ سورج ، چاند ، ستارے اور زمین کی ایک ایک چیز کو انسان کے لیے مسخر کرنے کا ذکر جگہ جگہ کیا گیا ہے۔ آپ نے اپنے دور میں سب سے بڑا بحری بیڑا بنایا اور اس کے ذریعہ سے ملک میں تجارت کو فروغ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت و فضل سے آپ کے بیڑے کے جاتے اور آتے وقت موافق ہوائوں کو چلایا جنہوں نے آپ کے بحری بیڑے کو بہت تقویت دی ہم نے آپ کے لیے ہوائوں کو مسخر کرنے کی پوری وضاحت آپ کی مختصر سرگزشت میں کردی ہے جو عروۃ الوثقی ، جلد ششم میں سورة الانبیاء کی آیت 82 کے بعد بیان کی گئی ہے تفصیل وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 38:37

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور شیاطین کو اس کے زیر فرمان کر دیا

بڑے بڑے شیاطین کو آپ کے لیے معمار اور غواص بنا دیا 37۔ پہاڑی اقوام کے قوی ہیکل لوگ جو نہایت ہی سرکش اور خود سر تھے آپ کے تابع فرمان بنا دیئے گئے اور آپ نے ان کو معماری اور غواص کا کام سکھایا اور وہ ان کاموں میں بہت ماہر ثابت ہوئے اور انہوں نے آپ کے ملک کی ترقی میں بہت بڑی شہرت حاصل کی اور بڑے بڑے کارہائے نمایاں انجام دیئے جس سے آپ کے ملک میں فن تعمیرات نے بھی ترقی کی اور غواصی میں بھی نام پیدا کیا اور اس کی تفصیل بھی آپ کی سر گزشت میں گزر چکی ہے اس کے لیے سورة الانبیاء کی طرف مراجعت کریں۔
Ayah 38:38

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور دوسرے (بھی جو) بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے

جنہوں نے سرکشی کی ان کو زنجیروں میں جکڑ کر قید خانہ میں ڈال دیا گیا 38۔ بلاشبہ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے بغاوت کی یا مخالفت کا عنصر ان میں زیادہ تھا اور انہوں نے سازشیں کرنے کے متعلق بھی پروگرام بنائے لیکن بحمد اللہ سلیمان (علیہ السلام) نے ان پر پوری طرح تسلط حاصل کیا اور اللہ رب ذولجلال والاکرام کے فضل و کرم سے ان کو پکڑ کر اور زنجیروں میں جکڑ کر قید و بند کی صعوبتوں میں ان کو ڈال دیا اور مدتوں تک اسی قید وبند میں پڑے رہے جس سے معلوم ہوا کہ کچھ مخالف عنصر ایسے بھی بہر حال ہوتے ہیں جن کو خوب دبا کر رکھنا پڑتا ہے اگر ان کو ذرا ڈھیل دی جائے تو وہ ایک پل بھر میں کچھ سے کچھ کردیتے ہیں اور یہ بھی کہ ہر حکومت میں بہر حال مخالف عناصر موجود ہوتے ہیں خواہ کتنی ہی بہتر سے بہتر حکومت ہو اور اسلامی خطوط کے مطابق اس کو چلایا جا رہا ہو لیکن ان عناصر کے ساتھ نرمی کسی صورت بھی جائز اور درست نہیں ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ حکمران کو یہ صلاحیت عطا فرما دے اور وہ ایسے لوگوں کا قلع قمع کرنے کے لیے نہایت سخت اقدام کرے۔
Ayah 38:39

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

یہ ہماری عطا ہے تو جسے چاہے دے دے اور جس سے چاہے روک لے تجھ پر کوئی محاسبہ نہیں ہو گا

ہماری عطا ہے کہ تو جس کو چاہے عطا کرے اور جس سے چاہے روک دے 39۔ سلیمان (علیہ السلام) کے نبی و رسول بھی تھے صرف بادشاہی نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جو احسانات آپ پر کیے وہ دنیا دار بادشاہوں کی طرح ان انعامات و احسانات کو حاصل کرنے میں اپنا کمال اور بہادری نہیں سمجھتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہی سمجھتے تھے اور جس کو وہ عطا کرتے اس کو عطا کرتے جس کو عطا کرنا چاہتے اور جس سے روکتے اپنی مرضی سے نہیں بلکہ رضائے الٰہی حاصل کرنے کے لیے روکتے تھے بلاشبہ آپ حاکم وقت اور اقتدار اعلی کے مالک بنائے گئے لیکن آپ کا حکم اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے تابع تھا اس لیے اللہ تاعلیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے سلیمان ! ہم نے یہ سب کچھ آپ کو عطا کیا ہے اور آپ کو طاقت و قوت دی ہے کہ ان قوی ہیکل دیو صفت لوگوں کو پکڑ کر ان کو کام میں لگائو اور جو ان میں آپ کے حکم کی نافرمانی کرے اس کو بیڑیوں میں جکڑ کر قید خانہ میں ڈال دے اب تیری مرضی ہے جس کو چاہے تو چھوڑ دے اور جس کو چاہے قید میں رکھے جس کو چاہے دے اور جس سے چاہے روک لے کیونکہ ہم نے آزما لیا ، دیکھ لیا اور ہم جانتے ہیں کہ تیرا کوئی کام بھی ہماری مرضی اور رضا کے خلاف نہیں ہے۔ ہماری طرف سے بھی آپ کو اجازت عام ہے آپ پر کوئی مواخذہ نہیں ہوگا گویا وہ دعا ہے جو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مانگی تھی وہ آپ کی زندگی تک تو یقینا منظور کرلی گئی کہ جس طرح کی پہلے سازشیں ہوتی رہیں ہیں اب آئندہ آپ کی زندگی میں کوئی ایسی سازش نہیں کرسکے گا آپ اس بات سے بالکل مطمئن ہو کر اپنا کیے چلے جائیں جب تک اللہ نے آپ کو مہلت دے رکھی ہے اور جتنی عمر آپ کو عطا کی گئی ہے۔
Ayah 38:40

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

اور بلاشبہ اس کے لیے ہمارے ہاں اعلیٰ مرتبہ اور بہتر انجام ہے

بلاشبہ اس کے لیے ہمارے ہاں اعلیٰ مرتبہ اور بہتر انجام ہے 40۔ فرمایا اس دنیا کی سلطنت ومملکت کا تعلق تو بہر حال اس دنیا سے ہے اور جس طرح یہ دنیا فانی ہے ان ساری چیزوں کو بھی فنا ہے ، کوئی انسان کتنا ہی مقتدر ہو اور کتنی عزت و تکریم کا مالک بنا دیا جائے بہرحال یہ دنیا بھی عارضی اور اس کا اقتدار بھی عارضی اور اس دناک کی عمر ومہلت بھی عارضی ، اس جگہ آخر ہمیشگی کس کو ہے اس لیے اس دنیا میں حکومت و سلطنت اور اس میں ہر طرح کے تصرف و اختیارات دینے پر بس نہیں بلکہ آپ کے لیے خوشخبری بھی سنا دی گئی کہ سلیمان (علیہ السلام) کو ہماری بارگاہ عزت میں بڑا قرب حاصل ہے اور انہیں حسن تاب کی خوشخبری سنا دی گئی ہے گویا اس دنیا کی حکومت و سطوت کے علاوہ سلیمان (علیہ السلام) کا انجام بھی اچھا ہوگا اور جس طرح آپ کو حکومت و سلطنت اس دنیا میں عطا کی گئی آپ کی آخری زندگی میں خیروخوبی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ یہ ابدی خوشخبری اس دنیا میں آپ کو سنا دی گئی اور یہ سلیمان (علیہ السلام) ہی کی تخصیص نہیں ہے بلکہ ہر نبی و رسول کے لیے یہ اعلان کیا گیا ہے اس ابدی انعام پر آپ کی داستان بند کردی گئی ہے۔
Ayah 38:41

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ (اے میرے رب ) مجھ کو شیطان نے ایذا اور تکلیف پہنچائی ہے

ہمارے بندے ایوب کا ذکر کرو جب اس نے اپنے رب کو پکارا 41۔ ایوب (علیہ السلام) کا مختصر تذکرہ قبل ازیں سورة الانبیاء میں گزر چکا ہے اور اس کے بعد اس جگہ ذکر کیا گیا ہے۔ ایوب (علیہ السلام) کو جب تکالیف اور مصائب نے گھیر لیا تو آپ نے بارگاہ ربِ ذوالجلال والاکرام میں مناجات کی۔ یہ وہ وقت تھا کہ آپ کو ہر قسم کے رنج و غم اور آلام نے گھیر لیا تھا لیکن آپ کی پکار کو دیکھو کہ بارگاہ صمدی میں کوئی گلہ شکوہ نہیں اور نہ ہی ان دکھ دینے والوں کی شکایت ہے۔ صبر کا دامن آپ نے تھام لیا اور غم واندوہ کے سمندر میں ڈوب کر اپنے رب کریم سے التجا کر رہے ہیں کہ اے میرے رب ! مجھے شیطان کی طرف سے بہت ہی دکھ اور عذاب پہنچ چکا ہے۔ بلاشبہ جو کچھ ہوا وہ مشیت ایزدی کے مطابق ہوا ہے۔ اگرچہ تکلیف اور مسرت ، مرض اور صھت سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے لیکن اچھی چیزوں کی نسبت تو اللہ کی طرف کی جاتی ہے اور کی جانی چاہیے اور تکلیف دہ امور کی نسبت اللہ کے بندے اپنی طرف یا شیطان کی طرف ہی کرتے ہیں کیونکہ کوئی تکلیف بھی اللہ تعالیٰ کی رضا سے نہیں آتی بلکہ مشیت سے آتی ہے اس جگہ شیطان سے مراد وہ قوم کا سردار ہے جس نے آپ کے خلاف تحریک چلائی اور آپ کو نقصان پہنچایا اور ہر دکھ اور تکلیف کو دور کرنے والا اور ٹالنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ایوب (علیہ السلام) بھی اس دکھ اور مصیبت کو ٹالنے کی اپیل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کر رہے ہیں۔ ایوب (علیہ السلام) کب ہوئے ؟ کس خاندان سے تعلق تھا ؟ آپ کا زمانہ کونسا ہے اور آپ کو کیا کیا دکھ درد اور مصیبت پہنچی ؟ وہ سردار کون تھا ؟ اس کا ذکر آپ کی سرگزشت میں کردیا گیا ہے جو سورة الانبیاء میں بیان کی گئی ہے۔ ملاحظہ ہو عروۃ الوثقی ، جلد ششم ص 212۔
Ayah 38:42

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

(ہم نے اس سے کہا) اپنے پاؤں سے ٹھوکر لگا (دیکھ) یہ ٹھنڈا پانی پینے اور نہانے کا ہے

ایڑی اپنی سواری کو لگائو اور ایسے مقام پر پہنچ جائو جہاں رہائش کی سہولت موجود ہے 42۔ الرکض ضرب الدابۃ بالرجل ( جامع البیان) سواری کے جانور کو ایڑی مار کر دوڑاتا ہے اور یہی ہم نے اس جگہ مراد لیا ہے۔ جب ایوب (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ اے میرے رب ! مجھ کو شیطان یعنی مخالفت گروہ کے لیڈر و سرغنہ کی طرف سے بہت ہی تکلیف پہنچی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) ہجرت کی اجازت دے کر فرمایا کہ فلاں جگہ کی طرف آپ اپنے سواری کے جانور کو ایڑی لگا کر نکل جائیے وہاں آپ کے رہنے سہنے کے سارے سامان موجود ہیں ، پینے کے ٹھنڈے اور میٹھے چشمے اور جانوروں کو چرانے کی کھلی چراگاہیں ہیں اور ہر طرح کا سامان زندگی اس جگہ بافراغت موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی نبی ورسول بھی جس جگہ سے ہجرت کر جائے دوبارہ اس جگہ آکر آباد نہیں ہوتا تھا اس لیے آپ کے ہجرت کرنے کے بعد آپ کے لوگ بھی وہاں سے ہجرت کر کے آپ کے پاس پہنچ گئے اور وہاں اس علاقہ کے لوگوں نے بھی آپ کی نبوت کو تسلیم کیا اس طرح اپنے وقت پر آپ کا وہ علاقہ جہاں سے ہجرت کر کے آپ آئے تھے وہ بھی آپ کو واپس مل گیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کی بہت مدد فرمائی اور اس میں پیش گوئی کے طور پر نبی اعظم وآخر محمد ﷺ ہم نے اس کو اہل بھی دیئے اور اس سے زیادہ دوسرے لوگ بھی
Ayah 38:43

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

ہم نے اس کو اس کے اہل دیئے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی ، اپنی خاص رحمت سے اور (اس میں) اہل عقل کے لیے درس عبرت ہے

43۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ آپ جب اس علاقہ سے ہجرت کر گئے اور جہاں ہجرت کر کے گئے وہاں کے لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کیا ، آپ کی نبوت تسلیم کی اور آپ کی اطاعت و فرمانبرداری کا ذمہ لیا اور اس دوران آپ کے وہ لوگ جن کو مقام ہجرت ہی پر چھوڑ آئے تھے سب ہجرت کر کے آپ کے پاس پہنچ گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ وہ سلوک کیا اور آپ کی دعا کو اس طرح قبولیت بخشی کہ گزشتہ تکلیف اور دکھ آپ کو یاد بھی نہ رہا اور آپ پر جو اللہ تعالیٰ نے رحمت و مہربانی فرمائی اس میں اہل عقل کے لیے بھی بہت سی نصیحتیں موجود ہیں بشرطیکہ ان نصائح کو کوئی حاسل کرنے والا بھی ہو لیکن افسوس کہ ہمارے مفسرین نے آپ کے حالات کو اسرائیلیات کے حوالے کردیا اور اسرائیلی خرافات آپ کے ذکر میں بھر دی گئیں۔ ہم نے اس کی تفصیل عروۃ الوثقی جلد ششم ص 212 میں ایوب (علیہ السلام) کی سر گزشت میں کردی ہے اس لیے بار بار بیان کرنے کی بجائے تفصیل کے لیے محولہ مقام دیکھ لیا جائے تو بات واضح ہوجائے گی۔
Ayah 38:44

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

(ہم نے کہا کہ) پراگندہ لوگوں کو اپنے ہاتھ میں لے (جمع کر) پس دشمن پر حملہ کر اور اپنے کیے ہوئے وعدوں کے خلاف مت کر بلاشبہ ہم نے اس کو صابر پایا

ہم نے کہا کہ پراگندہ لوگوں کو جمع کر کے مخالف گروہ پر اپ حملہ کردو 44۔ زیر نظر آیت میں دو لفظ (ضغث) اور ( تحنث) کے آئے ہیں ان الفاظ کی بحث تو آپ کو ایوب (علیہ السلام) کی سرگزشت میں ملے گی جہاں ہم نے مفسرین کے مفہوم کی تردید کرتے ہوئے اصل اور صحیح مفہوم بھی بیان کردیا ہے اور اس آیت کا مطلب و مفہوم بھی واضح کردیا ہے۔ اس جگہ صرف وہ بات عرض کرنا ہے جو ہمارے مفسرین نے بیان کی ہے جس کا ملخص یہ ہے ” امام احمد (رح) نے کتاب الزید میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایوب (علیہ السلام) کی بیماری کے زمانہ میں ایک بار شیطان ایک طبیب کے روپ میں ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ملا تھا اسے انہوں نے طبیب سمجھ کر درخواست کی اس نے کہا اس شرط سے کہ اگر ان کو شفا ہوجائے تو یوں کہہ دینا کہ تو نے ان کو شفا دی میں اور کچھ نذرانہ نہیں چاہتا۔ انہوں نے ایوب (علیہ السلام) سے اس طبیب کا ذکر کیا ، علاج بتایا اور جو بات اس نے صحت ملنے کے بعد کہنے کو کہی تھی وہ سب عرض کی۔ ایوب (علیہ السلام) نے بیوی سے کہا خدا کی بندی وہ تو شیطان تھا میں عہد کرتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھ کو شفا دے دی تو میں تجھ کو سو کوڑے ماروں گا اور یہ بات آپ نے قسم کھا کر کہی کیونکہ آپ کو سخت رنج ہوا اس سے کہ میری بیماری کی بدولت شیطان کا یہاں تک حوصلہ بڑھا کہ خاص میری بیوی سے ایسے کلمات کہلوانا چاہتا ہے جو ظاہرا موجب شرک ہیں گو تاویل سے مشرک نہ ہوں۔ اگرچہ ایوب ازالہ دعا کے لیے پہلے بھی دعا کرچکے تھے مگر اس سے واقعہ سے اور زیادہ ابتہال اور تضرع سے دعا کی اور اللہ نے آپ کو کلی صحت مند ہونے کا طریقہ بتایا آپ نے ایسا کیا تو آپ کو صحت مل گئی اور صحت آجانے کے بعد آپ کو خیال پیدا ہوا کہ اگر قسم پوری کرتا ہوں تو خواہ مخواہ ایک بےگناہ کو مارنا پڑتا ہے اور قسم توڑتا ہوں تو گناہ کا ارتکاب ہوتا ہے۔ جب آپ اس مشکل میں پھنس گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس مشکل سے اس طرح نکلالا کہ انہیں حکم دیا کہ ایک جھاڑو لو جس میں سو تنکے ہوں جتنے کوڑے تم نے مارنے کی قسم کھائی تھی اس جھاڑو سے اپنی بی بی کو ایک ضرب (نہایت پیار) کے ساتھ لگا دو تاکہ تمہاری قسم بھی پوری ہوجائے اور اس کو کوئی تکلیف بھی نہ ہو ۔ ہمارے پرانے اور نئے مفسرین نے یہ کہانی تحریر کرنے کے بعد اس کو قرآن کریم کا حیلہ قرار دیا ہے اور اس کی بہت تعریف کی ہے اور ہمارے فقہاء نے اس آیت کو اصل قرار دے کر اس پر اپنی کتاب الحیل کی بنیاد رکھی ہے اور کتاب الحیل میں جو جو حیلے بہانے بیان کیے گئے ہیں ان کی تفصیل بہت لمبی ہے اور ہمارے مفسرین ، ہمارے مفتیانِ شرع متین ، ہمارے علمائے کرام اور ہمارے پیروں ، بزرگوں نے جو جو اس سے فوائد حاصل کئے ہیں ان کی داستان بھی بہت لمبی ہے اور آج تک مذہبی راہنما اور ٹھیکہ دار جو فوائد ان سے حاصل کر رہے ہیں ص وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ ہمارے سید مودودی (رح) رقم طراز ہیں کہ ” بعض لوگوں نے اس آیت کو حیلہ شرعی کے لیے دلیل قرار دیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ایک حیلہ ہی تھا جو ایوب (علیہ السلام) کو بتایا گیا تھا لیکن وہ کسی فرض سے بچنے کے لیے بلکہ ایک برائی سے بچنے کے لیے بتایا گیا تھا لہٰذا شریعت میں صرف وہ حیلے جائز ہیں جو آدمی کو اپنی ذات یا کسی دوسرے شخص سے ظلم اور گناہ اور برائی کو دفع کرنے کے لیے اختیار کیے جائیں۔ “ سید صاحب نے اس کی وضاحت نہیں فرمائی کہ وہ کونسی برائی تھی جس کے لیے اللہ میاں کو اپنے بنی ایوب (علیہ السلام) کو حیلہ سکھانا پڑا اور وہ برائی کس نے کی تھی ؟ ظاہر ہے کہ وہ ایوب (علیہ السلام) ہی تھی جو اللہ تعالیٰ کا ایک نبی تھا اب سوال یہ ہے کہ کیا نبی بھی برائی کرتا ہے ؟ پھر اگر برائی ہوجائے تو اس کے لیے علاج کیا ہے آج تک تو یہی قرآن و حدیث میں پڑھتے ، سنتے آئے تھے کہ اس کا علاج توبہ لیکن سید صاحب (رح) کے بقول برائی کا ازالہ توبہ نہیں بلکہ حیلہ اور بہانہ ہے۔ سید صاحب (رح) نے ایسا کیوں لکھا ؟ اس لیے کہ انہوں نے زندگی میں جو برائیاں کیں ہماری مراد ان کی ذاتی برائیوں سے نہیں بلکہ قومی برائیوں سے ہے ان کے لے و وہ ہمیشہ حیلے اور بہانے ہی کرتے رہے توبہ آپ کو نصیب نہیں ہوئی اور وہ کیسے نصیب ہو سکتی تھی کہ انہوں نے برائی کا ازالہ توبہ کو سمجھا ہی نہ تھا بلکہ وہ حیلہ اور بہانہ ہی کو برائی کا ازالہ سمجھتے تھے اور وہی کرتے رہے لیکن سید صاحب (رح) کی قومی برائیوں میں سے ایک ایک برائی ایسی ہے کہ اب وہ اس طرح جڑ پکڑ چکی ہے کہ اس کا پورا پورا ثواب سید صاحب کو مل رہا ہے اور ملتا رہے گا کیونکہ آپ کے سارے حیلے قرآن کریم کی اس تفہیم کے تابع تھے۔ آپ کے حیلوں کی پوری تفصیل تو اس جگہ بیان نہیں کی جاسکتی البتہ نشاندہی کے لیے دو تین حیلوں کا اس جگہ ذکر کردینا ضروری ہے تاکہ قارئین کرام یہ نہ سمجھیں کہ ہم نے سید صاحب (رح) کے بارے میں جو تحریر کیا ہے وہ سراسر زیادتی ہے اور ظلم ہے اور آپ کی جماعت سے شاید ہم کو کوئی کدورت ہے۔ حاشاء اللہ کہ ایسا کوئی بات ہو ، سید مودودی (رح) کی عزت و احترام ہمارے دل کی گہراہیوں تک موجود ہے آپ کی خوبیوں کا ہمیں اعتراف ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہماری عقیدت اندھی عقیدت نہٰں اور کسی کی عزت و احترام کا مطلب ہم یہ نہیں سمجھتے کہ اس کی اندھی تقلید کی جائے اور اس کی ہر بات پر صاد ڈال دیا جائے۔ یہ بات ہم کو اس لیے تحریر کرنا پڑی کہ عقیدہ و نظریہ ہی ایک ایسی چیز ہے جس کا نہایت گہرا اثر انسان کے اعمال پر پڑتا ہے اس لیے جب کوئی قوم یا فرد غلط عقیدہ و نظریہ قائم کرلیتا ہے تو اس کا نقصان بہت بڑا ہوتا ہے جس کا ازالہ ناممکن نہیں تو نہایت مشکل ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے مذہبی راہنمائوں کا جب عقیدہ و نظریہ یہ ہوا کہ حیلے اور بہانے بوقت ضرورت جائز اور درست ہوتے ہیں اور انہوں نے اس نظریہ اور عقیدہ کے لیے قرآن کریم کو بنیاد قرار دے دیا تو باقی کیا رہ گیا ؟ اب ہر آنے والے عالم کی مرضی کی بات ہے کہ وہ ایک حیلہ کرے اور اس کے دلائل قائم کر کے قرآن کریم کی اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات سے سند جواز پیش کر دے اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے علمائے کرام یہی کچھ کر رہے ہیں یہاں تک کہ ان کی پوری زندگی کا ہر پہلو اور ہر ایک عمل اس پالیسی پر قائم ہے خواہ وہ علماء کسی فرقہ اور کسی گروہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں۔ عوام تو کالانعام ہیں ان کو کیا معلوم کہ ہمارے مذہبی پیشوائوں کا یہ سارا عمل اس حیلہ اور بہانہ کے سان پر چڑھایا گیا ہے اس لیے وہ اس طرح کی دلیلیں پیش کر رہے ہیں۔ بہر حال اس کی تفصیلات تو اس قدر ہیں کہ اگر ان میں الجھگئے تو بات کبھی ختم نہیں ہوگی ہم سید مودودی (رح) کے دو تین حیلوں کا ذکر کرنا ہے تاکہ جو بات ہم نے کہی ہے اس کی دلیل ہمارے بھائیوں اور بزرگوں کو معلوم ہو سکے اگرچہ ہم کو یہ بھی معلوم ہے کہ اس کا کچھ اثر نہیں ہوگا کیونکہ ایسی باتوں کا اثر بہت کم ہی ہوا کرتا ہے ، عقیدت درمیان میں حائل ہوجاتی ہے۔ 1۔ ایک وقت تھا کہ ہندوستان کی تقسیم کی باتیں زبان زد خاص و عام تھیں اور کانگریس اور مسلم لیگ کی پینگیں زور و شور سے چڑھائی جا رہی تھیں تو سید مودودی (رح) زور شور سے ان دونوں کے خلاف لکھ رہے تھے اور کسی کی حمایت کو کفر سمجھتے تھے اور آپ کا موقف تھا کہ ” شرک ہونے کی حیثیت انگریزی اقتدار اعلٰی اور جمہوری اقتدار اعلٰی میں کوئی فرق نہیں ہے لہٰذا ان لوگوں کی دعوت سراسر غیر اسلامی بلکہ مخالف اسلام ہے۔ “ (ترجمان القرآن جنوری 1941) غور کیجیے کہ جو بات شرک تھی وہ چند سال بعد عین اسلام ہوگئی ، کیوں اور کیسے ؟ اس حیلہ کے تحت جو مولانا کے خیال میں اللہ تعالیٰ نے خود ایوب (علیہ السلام) کو سکھایا اور جو حیلہ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو ( کذلک کدنا لیوسف) کہہ کر سکھایا۔ ظاہر ہے کہ ضرورت کے وقت اگر اللہ میاں اپنے نبیوں اور رسولوں کے اس طرح کے حیلے سکھاتا رہا ہے تو سید مودودی (رح) آخر خالصتا شرک کو کیوں خالصتا اسلام نہیں بنا سکتے اس سے زیادہ جواز کی صورت آخر اور کیا ہو سکتی ہے۔ 2۔ جب تک جماعت اسلامی جمہوری اقتدار کی مخالف تھی اس ملک کے باشندے جو اسلام کو اپنی قومیت سمجھتے اور کہتے تھے وہ مسلمان کہلانے کے حق دار نہ تھے لیکن جونہی سید مودودی (رح) کو اسلامی جمہوریت کا پٹا اپنے گلے میں ڈالنا پڑا اور انہوں نے اللہ میاں کے بنائے ہوئے حیلہ کے مطابق اپنے گلے میں ڈال لیا تو وہ سارے لوگ پکے مسلمان ہوگئے اور خصوصا ان کے اسلام میں تو کوئی شک و شبہ نہ رہا جنہوں نے سید مودودی (رح) کی جماعت کو ووٹ دیا اگرچہ باقی کا ایمان پھر بھی مشتبہ رہا حالانکہ اس جمہوری اقتدار کا قلادہ پہننے سے پہلے سید مودودی (رح) واضح الفاظ میں لکھتے رہے کہ : ” دراصل اصطلاحا و نسلا مسلمان ہونا اور چیز ہے اور نظریہ حیات و مقصد زندگی کا اسلامی ہونا بالکل ایک دوسری چیز ہے جو لوگ روح و اخلاق کے لحاظ سے مسلم نہ ہوں بلکہ محض اصطلاحی و نسلی حیثیت سے مسلمان ہوں ان کو اگر بیرونی اثر و اقتدار سے کامل آزادی نصیب بھی ہوجائے اور اگر ان کے جمہور کو خود اپنی پسند کے مطابق نظام حکومت قائم کرنے کا پورا اختیار بھی حاصل ہو تب بھی حکومت الہٰی وجود میں نہیں آسکتی وہ اپنے دنیوی مفاد کے پرستار ہوتے ہیں نہ صرف یہ کہ ان میں حق و صداقت کے لے اپنے مفاد کو قربان کرنے کی طاقت نہیں ہوتی بلکہ اس کے برعکس جب کبھی ان کی اغراض دنیوی سے حق اور صداقت کا تصادم ہوتا ہے وہ حق کو چھوڑ کر ہمیشہ اس طرف جاتے ہیں جس طرف ان کی اغراض پوری ہوتی ہیں جہاں ایسے لوگوں کی اکثریت ہو وہاں کبھی یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ عام انتخاب میں ان کے ووٹوں سے وہ صالحین منتخب ہوں کے جو منہاج نبوت پر حکومت کرنے والے ہوں۔ جمہوری انتخاب کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے دودھے کو ہلا کر مکھن نکالا جاتا ہے۔ اگر دودھ زہریلا ہو تو اس سے جو مکھن نکلے گا قدرتی بات ہے کہ وہ دودھ سے زیادہ زہریلا ہوگا۔ “ ( ترجمان القرآن جنوری 1941) لیکن جوں ہی جماعت اسلامی نے جمہوری اقتدار میں حصہ لیا تو سارے لوگ پکے اور سچے مسلمان ہوگئے اور وہ جو زہر تھا سب امرت ہوگیا ، کیسے ؟ اس حیلہ کے تحت جو اللہ میاں نے اپنے نبی ایوب (علیہ السلام) کو اور یوسف (علیہ السلام) کے بتایا اور سید مودودی (رح) کے ہاتھ یہ نسخہ آگیا۔ 3۔ نظریہ جہاد کے متعلق جو تبدیلی سید مودودی (رح) کے نظریہ میں آئی وہ بھی یقینا اسی حیلہ کا باعث تھی کیونکہ جماعت نے اپنا صحیح اسلامی نظریہ جہاد استعمال کر کے دیکھا تو ہر طرف سے لوگوں نے جماعت اسلامی کو نشانہ بنایا تو جماعت کے قائد و راہنما بوکھلا گئے اور حیلہ الٰہی کے تحت اس کا ایسا رنگ بدلا کہ اب اپنی جماعتی فکر اور ملک کی فکر دامن گیر نہ رہی یہاں تک کہ اپنی اور اپنے ملک کے باشندوں کی اصلاح کو چھوڑ کر جہاد کا نعرہ اپنانا ذریعہ معاش بنا لیا کہ گزشتہ فروگزاشتوں کا ازالہ ہو سکے۔ اس حقیقت کو ہر پڑھا لکھا آدمی سمجھتا ہے ہم اس بحث کو لمبا نہیں کرتا چاہتے۔ یہ تو سید مودودی (رح) کی حیلہ سازیاں تھیں اور دوسری مذہبی جماعتوں کی حیلہ سازیاں اس سے بھی زیادہ عیاں ہیں بلکہ اس دور میں تو مذہبی قائدین و رہنما انہی حیلہ سازیوں کے باعث نئی نئی جماعیں بنا رہے ہیں اور نئے نئے قائدین میں آئے دنوں اضافہ ہو رہا ہے اور ہر ایک جماعت کی دس دس جماعتیں بن رہی ہیں لیکن ان حیلہ سازیوں سے استفادہ میں سب برابر کے شریک ہیں کیونکہ یہی ایک نسخہ ہے جو سب کے لیے یکساں مفید ہے خواہ کوئی گرم مزاج رکھتا ہو یا سرد ، کوئی سوادی مزاج کا حامل ہو یا صفراوی کا کیونکہ یہ مرکب سب کے لیے ایک ہی طرح مفید ہے اور سو بیماریوں کا ایک ہی علاج ۔ بہر حال آپ زیر نظر آیت میں براہ راست غور کریں گے اور ان مذہبی گروہ بندیوں سے ہٹ کر یا خالی الذہن ہو کر دیکھیں گے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ قرآن ِ کریم کی اس آیت میں نہ تو کسی قسم کو کوئی ذکر ہے اور نہ ہی کسی جھاڑو کو مار کر قسم پوری کرنے کا کوئی حیلہ یہ ہدایات ہیں جو ایوب (علیہ السلام) کو ہجرت کے وقت دی جارہی ہیں اور نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو ہجرت کی پیش گوئی کی طرف اشارہ دیا جارہا ہے اور طریقہ سمجھایا جا رہا ہے جو آپ نے خوب سمجھا ہے اور اس حکم کے مطابق ہجرت کی ابتدا فرمائی ہے۔
Ayah 38:45

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور وہ بہترین بندہ تھا ، بلاشبہ وہ (اللہ کی طرف) رجوع رہنے والا تھا

ہمارے بندوں میں ابراہیم ، اسحٰق اور یعقوب کا ذکر کیجیے جو صاحب عمل تھے 45۔ زیر نظر آیت میں تین رسولوں کا ذکر کیا گیا ہے یہ تینوں باپ ، بیٹا اور پوتا ہیں اور تینوں کے بارے میں ایک ہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ وہ ہاتھوں والے اور صاحب بصیرت تھے۔ ہاتھ سے مراد ہماری زبان میں قوت وقدرت لی جاتی ہے اور ہاتھوں والا ہونے کا مطلب سب جانتے ہیں کہ صاحب قوت وقدرت ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو نبی و رسول بھی بنایا اور صاحب طاقت و قوت اور قدرت بھی کہ وہ اپنے دور میں صاحب جاہ و جلال تھے اور صاحب اولاد بھی۔ یہ تو ان کی دنیوی طاقت وقدرت تھی اور دینی لحاظ سے نبی و رسول ہونا خود اس بات کی دلل ہے کہ گناہوں سے بچنے کی طاقت و قوت بھی رکھتے تھے اور دنیا میں اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے بھی جس طاقت و قوت کا انہوں نے مظاہرہ کیا وہ بھی بلاشبہ انہیں کا حصہ تھا۔ یوں تو سارے بنی اور رسول معصوم ہوتے ہیں اور سب کے سب صاحب بصیرت اور عمل کرنے والے لیکن ان کی صفات کو واضح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ان صفات میں دوسرے بہت سے نبیوں اور رسولوں سے ممتاز تھے کیونکہ صفات میں بعض کو بعض پر فوقیت اور افضلیت حاصل ہونا خود قرآن ِ کریم کی تعلیم کے مطابق ہے۔ ذی الایدی کہہ کر ہمارے نکمے مذہبی پیشوائوں کو کام کرنے کا اشارہ دیا لیکن انہوں نے اس کے معنی ہی بدل دیئے تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔
Ayah 38:46

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

اور ہمارے بندوں ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا ذکر کیجئے جو بڑی قوت اور بصیرت والے لوگ تھے

ان سب کو اللہ تعالیٰ نے آخرت کی یاد کے لیے منتخب کیا تھا 46۔ اللہ تعالیٰ نے اس سب کو اپنی خصوصی نعمت کے ساتھ مخصوص کیا تھا یعنی ان سب کو آخرت کی یاد بخشی تھی اور وہ ہر وقت اور ہر آن اپنی آخرت کی زندگی کو بہتر بنانے کی فکر میں متفکر رہتے تھے اور ان کی تمام سرفرازیوں کی اصل وجہ یہی تھی کہ ان کے اندر دنیا طلبی اور دنیا پرستی کا شائبہ تک نہ تھا ان کی ساری فکر و سعی آخرت ہی کے لیے تھی وہ خود بھی اس کو یاد رکھتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کی یاد دلاتے تھے یہی وجہ تھی کہ اللہ نے ان سب کی دنیا بھی سنوار دی اور آخرت بھی یقینا سنوار دی اور یہ وہ مرتبے ہیں جو دنیا کے طالبوں کو کبھی حاصل نہیں ہو سکتے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو شخص آخرت کی فکر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی دنیا بھی اگر چاہے تو سنوار دیتا ہے اور آخرت بھی لیکن جو صرف دنیا کی طلب رکھتا ہے اس کی دنیا سنورے یا نہ سنورے لیکن آخرت میں اس کے حصہ میں کوئی چیز نہیں اس کی مزید وضاحت عروۃ الوثقی جلد اول تفسیر سورة البقرہ کی آیت 200 میں دیکھ سکتے ہیں۔
Ayah 38:47

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

ہم نے ان کو بالخصوص (آخرت کے) گھر کی یاد کے لیے چن لیا تھا

یہ سب لوگ اللہ تعالیٰ کے بہترین لوگوں میں سے تھے 47۔ انبیاء و رسل سارے ہی برگزیدہ اور منتخب شدہ انسان تھے اور بار بار ان کا اس طرح ذکر کرنا یہ باور کرانا ہے کہ ان کا تعلق نسل انسانی ہی سے تھا انسانوں سے ماوراء یہ کچھ نہیں تھے اور یہ بھی کہ انسان ہی وہ مخلوق ہے جو ساری مخلوقات میں سے منتخب شدہ مخلوق ہے گویا انسان اشرف المخلوقات ہے اور یہ لوگ دنیا جہان کے انسانوں میں سے منتخب شدہ انسان تھے تا ہم انسان ہی تھے انسان کے علاوہ کچھ نہ تھے اور یہ جو اوہام پرست ان کو انسان کہنا گناہ سمجھتے ہیں تو یہ اپنی انسانیت کے پیش نظرا یسا کہتے ہیں حالانکہ دراصل وہ خود ننگ انسانیت ہیں جن کو انسان کہنا بھی انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ لگانا ہے کہ ان کے اعمال ان کو انسان کہنے کی نفی کرتے ہیں اگرچہ وہ شکل و صورت سے انسان نظر آتے ہیں۔
Ayah 38:48

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور وہ ہمارے ہاں منتخب اور پسندیدہ لوگوں میں سے تھا

اسماعیل ، الیسع اور ذو الکفل بھی پسندیدہ لوگوں میں سے تھے 48 ۔ اسماعیل (علیہ السلام) تو وہی ہیں جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے صاحبزادے اور اسحٰق (علیہ السلام) کے بھائی تھے جس طرح اسحٰق (علیہ السلام) بنو سارہ کہلائے اسماعیل (علیہ السلام) بنو حاجرہ کہلائے اور الیسع (علیہ السلام) کے نسب نامہ کو اس طرح بیان کیا گیا کہ الیسع بن عدی بن شوتم بن افرائیم بن یوسف بن یعقوب بن اسٰحق بن ابراہیم اور یہ وہی ہیں جن کا نام تورات میں یسعیاہ کہا گیا ہے لیکن تورات میں ان کو عمومی کا بیٹا لکھا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الیسع حضرت الیاس (علیہ السلام) کے نائب تھے اول عمر میں انہی کے ساتھ رہے اور الیاس (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے ان کو نبی منتخب کیا گیا۔ الیسع (علیہ السلام) کا تذکرہ کتب تاریخ و سیر میں بالکل مختصر تحریر ہوا ہے یہاں تک کہ ان کی عمر اور تبلیغ کے متعلق بھی کچھ وضاحت نہیں ہے سورة الانعام کی آیت 86 اور سورة ص کی زیر نظر آیت میں فقط ان کا نام آیا ہے جو انبیاء کی فہرست میں بیان ہوا ہے۔ ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر پیچھے سورة الانبیاء جلد ششم میں گزر چکا ہے اور ان کی مختصر سرگزشت بھی تحریر کی گئی ہے بہر حال ان سب کا شمار پیغمبروں اور نبیوں میں ہوتا ہے اور زیر نظر آیت میں بھی ان کا نام ہی مذکور ہے۔
Ayah 38:49

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

اور آپ ﷺ اسماعیل ، الیسع اور ذوالکفل (علیہم السلام) کا ذکر بھی کیجئے اور یہ سب کے سب نیک لوگوں میں سے تھے

یہ تذکار بطور نصیحت ہیں کہ نیک لوگوں کا ٹھکانا بہت عمدہ ہے 49۔ ان سب انبیاء و رسل کا ذکر دنیا کے انسانوں کے لیے اور خصوصا مسلمانوں کے لیے ان کی پاکیزہ زندگیوں کی یاد کو تازہ کرتا ہے اور ان کے اسوہ حسنہ سے ان کو راہنمائی حاصل ہوتی ہے بلاشبہ یہ سب لوگ پرہیزگار تھے جن کا ٹھکانا بہت عمدہ ہے اور ان کی پاکیزہ زندگیاں انسانوں کی ہمیشہ راہنمائی کرتی رہی ہیں اور اب بھی کر رہی ہیں اگر کوئی شخص ان سے راہنمائی حاصل کرنا چاہے ان کے اخروی انعامات کا تذکرہ آنے والی آیتوں میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 38:50

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہیں

ان کے لیے ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہیں 50۔ گز شتہ آیات میں جن انبیاء ورسل کا بیان تفصیل سے یا بطور نام گزرا ہے یہ وہی لوگ ہیں جو سدا بہار باغات میں ہوں گے اور ان کے لیے وہاں کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی اور ان پر انعامات کے دروازے کبھی بند نہیں ہوں گے ان کی دنیوی زندگی کی پاکیزگی کا نتیجہ ان کو اخروی زندگی میں دیا جائے گا کیونکہ اخروی زندگی دراصل دنیوی زندگی کا نتیجہ ہے کیونکہ دنیا دارالعمل ہے اور آخرت دارالجزاء ہے۔ چونکہ انہوں نے دنیاوی زندگی احکام الہٰی کی پابندی کے ساتھ گزاری اور پیغاماتِ الہٰی لوگوں تک پہنچائے اب در الجزاء میں ان کے لیے کوئی روک روکاوٹ نہیں ہوگی اور ان کی چاہت کے سارے سامان وہاں موجود ہوں گے اور چاہت کو پورا کرنے کے لیے ان کو کوئی عمل نہیں کرنا ہوگا بس ان کو خواہش پیدا ہوئی کہ اس کے ازالہ کے لیے وہ چیز حاضر باش ہوگئی لیکن وہاں چاہت کیسی ہوگئی ؟ اس کا علم اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کے پاس ہے اس دنیا میں رہنے والا انسان جب تک اس دنیا میں موجود ہے اخروی چاہت کے متعلق وہ کچھ بیان نیں و کرسکتا کہ وہ مشاہدہ کی چیز نہیں ہے اور وہم و خیال میں وہی چیز آسکتی ہے جس کو آنکھ نے مشاہدہ کیا ہو اس لیے یہ معاملہ ایمان بالغیب کا ہے اور اس کا بیان اگر کچھ ممکن ہے تو انہی چیزوں کی مشابہت سے ممکن ہے جو اس دارالعمل میں ہمارے مشاہدے میں آرہی ہیں یہی وجہ ہے کہ جہاں خروی انعامات کا ذکر کیا گیا ہے اور انہی چیزوں کی مشابہت سے کیا گیا ہے یا زیادہ سے زیادہ اس کو لذت الاعین یا قرۃ العین کہا گیا ہے اور اس کو ہم نے تکمیل خواہشات کا نام دیا ہے۔
Ayah 38:51

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

وہ وہاں (باغات میں) تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اور طرح طرح کے میوے اور مشروبات کا حکم کرتے ہوں گے

باغات میں وہ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اور جس پھل کو طلب کریں گے وہ پیش کردیا جائے گا 51۔ باغات میں ان کے لیے ایک طرح کے پھل نہیں بلکہ طرح طرح اور قسم قسم کے پھل ہوں گے۔ وہ اس طرح بیٹھے ہوں گے جو آرام دہ بیٹھنا ہوتا ہے چونکہ جس بیٹھنے سے ہم اس دنیا میں متعارف ہیں ، وہی بیٹھنا سب سے زیادہ آرام دہ بیٹھنا ہے جو تکیہ لگا کر بیٹھنا ہوتا ہے اس لیے اس جگہ اس طرح بیٹھنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ تکیہ لگا کر انسان بیٹھا ہوا اور پھر اس طرح بیٹھ کر جو وہ طلب کرے اس کے سامنے حاضر کردیا جائے تو اس کی انا کو نہایت تسکین ہوتی ہے اس لیے ارشاد فرمایا کہ وہ وہاں تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اور جس پھل کی طلب کریں گے وہ حاضر پائیں گے اس لیے ہم نے ان باغات کو سدا بہار باغات کہا ہے۔ غور کرو کہ جوں جوں قیامت کے قریب ہم جا رہے ہیں توں توں وہ باتیں خود بخود حکم الہٰی کے مطابق پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہیں کہ اب بہت سے پھل تقریبا اس دنیا میں سدا بہار کے طور پر دیکھنے میں آ رہے ہیں شاید ہی کوئی پھل ہوگا جو پورا سال نظر نہ آتا ہو بہت سے پھل ، میوہ جات ، سبزیاں اور ترکاریاں ایسی ہیں جو پورا سال دیکھنے میں آتی ہیں اور جوں جوں وقت گزر رہا ہے اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے بعض پھل ایک دو ماہ تک نظر نہ آتے ہوں گے اور بعض تین چار ماہ تک لیکن آہستہ آہستہ یہ مدت کم ہوتی نظر آتی ہے بلکہ ہر سال آٹھ دس دن کا فرق کم ہوتا نظر آرہا ہے اور اس طرح شاید بیسویں صدی کے شروع میں یہ خلا بھی پر ہوجائے اور پھر تعجب یہ ہے کہ سب کچھ وہ ہاتھ کر رہے ہیں جو قیامت کے تصور سے بھی ناواقف ہیں یا واقف ہیں تو کھلے طور پر اس سے انکاری ہیں اگرچہ وہ خود اس کی عملی تصدیق میں حصہ لے رہے ہیں ان کی دنیوی آنکھ کھلی ہے لیکن اخروی آنکھ پر پردہ پڑا ہوا ہے کاش کہ ان کا یہ پردہ اٹھ جائے۔
Ayah 38:52

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والی (باحیا) ہم سن بیویاں ہوں گی

ان کے پاس نیچی نگاہوں والی ہم سن بیویاں ہوں گی 52۔ دنیوی زندگی میں مرد عورت کے بغیر اور عورت مرد کے بغیر کامل انسان نہیں کہلا سکتے خواہ دنیا کی راحت و سامان کتنا اور کیسا ہو اور پھر جو مرد اور عورت شرعی لحاظ سے ایک دوسرے کے شریک زندگی ہونے کا عہد کرتے ہیں اس عہد کی پابندی لازم و ضروری ہوجاتی ہے اگر دونوں میں سے کوئی ایک بھی خیانت کرے گا تو وہ مستوجب سزا ہوگا اور دونوں ہی کا سکون بھی اس سے برباد ہوگا اس لیے ایک نیک خصال عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے خاوند کی فرمانبردار اور اس کے دل کو موہ لینے والی ہو اور اس کی ساری نسوانی عادات و خصائل اپنے خاوند کے لیے مختص ہوجائیں اور اس طرح مرد کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی بیوی کی ناز و ادا کا احترام کرتے ہوئے اس کے معاملات میں اس کے شریک زندگی ہونے کا پورا پورا ثبوت فراہم کرے۔ عورت کے ناز وادا میں اس کی نگاہوں کا نیچا رہنا اور اپنی نظر شفقت کو خاوند کے لیے خاص کردینا ہی ( قاصرات الطرف) ہے۔ اس طرح عورت کی الھڑ جوانی یعنی 17 ، 18 سال کی عمر کی دوشیزہ تو خاوند کے لیے زیادہ ہی جازب نظر اور جاذب طبع ہوتی ہے اور ایسا عمروں کا توافق اور ایک دوسرے کا پورا پورا احترام اور ایک دوسرے کی خواہش کا پاس اس میں واقعی ایک عجیب منظر پیش کرتا ہے۔ زیر نظر آیت کے الفاظ انہی باتوں کے توافق و مطابقت کا تقاضا کرتے ہیں اور اس دنیوی خواہش کے پیش نظر آخرت کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان بھی ان الفاظ میں پیش کیا گیا جو فطرت کے عین تقاضوں کے مطابق ہے۔
Ayah 38:53

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

(دیکھ لو) یہ وہی انعامات ہیں جن کا تم سے روز حساب آنے پر وعدہ کیا گیا تھا

یہ وہی چیزیں ہیں جن کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ حساب کے روز تم کو ملیں گے 53۔ اہل جنت کو جنت میں یہ سارے انعامات ان کی خواہشات کے مطابق دینے کے بعد ان کو باور کرایا جا رہا ہے کہ یہ سب کچھ تم کو جو دیا گیا ہے اس وعدہ کے مطابق ہے جو وعدہ تم سے دنیوی زندگی میں دینے کا کیا گیا تھا مطلب یہ ہے کہ جو وعدہ ہم نے تم سے کیا تھا وہ پورا ہوا یا نہیں ہوا ؟ یقینا پورا ہوا اور اس وعدہ کے مطابق یہ سارے انعامات تم پر کیے گئے اور اس وعدہ کے پورا کیے جانے کی خبر بھی تم کو اس زندگی میں دی گئی۔