Ayah 38:54بلاشبہ یہ ہمارا دیا ہوا رزق ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے
54۔ (نفاد) کی اصل ند ہے جس کے معنی ختم ہونے کے لیں ۔ اہل جنت کو رزق دیئے جانے کا بیان ہے کہ اہل جنت کی اس وقت کی خواہش کے مطابق ہرچیز ان کو کثرت سے پہنچائی جائے گی اور جو ان کی خواہش ہوگی وہ پوری ہوگی کسی چیز کے وہاں ختم ہونے کا کوئی سوال نہیں ہے نہ زندگی ختم ہوگی اور نہ ہی زندگی کی نعمتیں اور نہ ہی ان کو کمانے کے لیے کوئی محنت کرنا ہوگی گویا وہاں ” دب دب کے واہ تے رج رج کے کھا “ والا معاملہ نہیں ہوگا۔ اس میں یہ بھی بتا دیا کہ جو عمل انہوں نے اس دنیا میں کیے تھے ان کا صلہ کا وقت ہوگا اور صلہ حاصل کرنے کے لیے ان کو کوئی جدوجہد نہیں کرنا پڑے گی جیسے اس دنیا میں ریٹائر ہونے والوں کو کرنی پڑتی ہے اور پنشن حاصل کرنے کے لیے جو دھکے کھانے پڑتے ہیں یہ معاملہ وہاں بالکل نہیں ہوگا بلکہ ادھر خواہش نے جنم لیا ادھر چیز حاضر ہوگئی اس میں ہر حکومت کے لیے ایک تنبیہ موجود ہے بشرطیکہ تنبیہ حاصل کرنے کے لیے کوئی حکومت تیار بھی ہو۔ افسوس کہ یہاں ایک مشکل کو آسان کرنے کے لیے ایک نیا محکمہ کھولا جاتا ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مشکل آۃ سان ہونے کے بجائے مزید مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں کیوں ؟ اس لیے کہ حکومت جس چیز کا نام آسانی رکھتی ہے اس کو مزید مشکل بنا دیتی ہے کہ ان کے ارادہ میں اس کو آسان کرنا نہیں بلکہ مشکل کرنا ہوتا ہے بلاشبہ آپ گزشتہ حالات پر غور کر کے دیکھیں جب کسی حکومت نے مہنگائی ختم کرنا کا نام لیا تو مہنگائی مزید بڑھ گئی۔ وزیر تعلیم نے اعلان کیا کہ تیمیے اداروں میں چھٹیاں کم ہوں گی تو اسی سال دس چھٹیاں اور بڑھ گئیں ہمارے دیکھتے دیکھتے تین اعلان ہوئے اور اگر تیس نہیں تو بیس چھٹیاں بہر حال بڑھیں ہر معاملہ میں یہی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے شاید کوئی آنے والی حکومت مہنگائی برھانے کا اعلان کرے۔ چھٹیاں زیادہ کرنے کا آرڈرجاری کرے کیعن کہ اس ملک عزیز کی حکومت جو اعلان کرتی ہے اس کے برعکس رزلٹ نکلتا ہے ورنہ ہمارے ملک کے اس کالے قانون میں ابھی نہ معلوم کیا کچھ ہوگا۔ بہرحال یہ دنیا ایک ختم ہونے والی چیز ہے اور جو کچھ اس میں ہے اس کو بھی یقینا ختم ہوتا ہے کیونکہ یہاں سب کچھ ختم ہونے ہی کے لیے ہے لیکن آخرت باقی رہنے والی چیز ہے لہذا جو کچھ آخرت میں کسی کو دیا جائے گا وہ ختم نہیں ہوگا خصوصا اہل جنت کے لیے کسی چیز کے ختم ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوگا بلاشبہ یہ اعلان الٰہی ہے اور اس اعلان میں کمی بیشی ممکن نہیں ہے۔
Ayah 38:55یہ تو خیر یہ ہے لیکن سرکشوں کا ٹھکانا بہت ہی برا ہوگا
55۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کا ذکر فرمایا تھا کہ ان کو کیا کیا نعت میں عطا کی جائیں گی ان کا مختصر ذکر کیا گیا زیر نظر آیت میں لفظ (ھذا) کہہ کر اس کی طرف اشارہ کردیا کہ اہل جنت کا ذکر تو یہ تھا جس کا گزشتہ آیتوں میں ذکر کیا گیا اب ان بدنصیبوں کی بات ہو رہی ہے جن کا انجام بہت ہی خوفناک ہے کہ ان کی ساری عمریں جو ان کو دنیا میں دی گئی تھیں انہوں نے سرکشی اور نافرمانی میں گزار دیں اور اب وہ ہمیشہ ہمیشہ ایک برے مقام میں ٹھہریں گے جس سے زیادہ برا اور کوئی مقام نہیں ہو سکتا۔
Ayah 38:56اس مقام کی مزید تشریح جو سرکشوں کا ٹھکانا ہو گا
56۔ ان بدبختوں کے لیے ہر وہ چیز بیان کی گئی ہے جس کا نام سن کر ہی انسان کراہت کرنے لگتا ہے۔ بلاشبہ دوزخ میں جانے والوں میں اکثریت ان ہی لوگوں کی ہوگئی جو سیاسی طور پر و ڈیرے ہیں یا مذہبی رہنما کہلاتے ہیں اور دنیا میں انہوں نے بہت عیش و عشرت میں وقت گزارا ہے اور اسی باعث وہ قیامت کے منکر ٹھہرے ہیں اور بعض جو اقراری ہیں وہ بھی اس دنیوی عیش و عشرت میں اس قدر مگن رہے ہیں کہ آخرت کا اقرار کرنے کے باوجود اس سے غفلت میں رہے یہاں تک کہ آخرت سے انکار کرنے والوں اور ان کے درمیان کوئی فرق نہ رہا لہٰذا جب نتیجہ کا وقت آیا تو نتیجہ بھی ان کا ایک ہی جیسا ظاہر ہوا ان سب کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ ان کو جہاں پہنچنا تھا وہاں پہنچ گئے اور جہاں پہنچے اس مقام کا نام جہنم ہے جو نہایت بری جگہ ہے ٹھہرنے کی اور نہایت ہی برا بچھونا ہے جو ان کے لیے تیار کیا جا چکا ہے کہ اس سے بری نہ تو کوئی جگہ ہو سکتی ہے اور نہ ممکن ہے۔
Ayah 38:57یہ جگہ ہے اور کھولتا ہوا پانی پیپ ہے جو پینے کے لیے ان کو دی جائے گی
57۔ اب ان کی مہمانی کا زکر کیا جا رہا ہے کہ جو کچھ ان کو کھانے پینے کے لیے دیا جائے گا اس کو کھولتے ہوئے پانی اور زخمیوں کے پیپ سے تشبیہ دی جاسکتی ہے کیونکہ جس چیز کو (غساق) کہا گیا ہے اس کے متعلق مختلف بیان دیئے گئے ہیں جیسا کہ بدبودار پانی ( معجم القرآن و غریب القرآن ) دوزکیوں سے بہنے والا لہو اور پیپ (جلالین ، صاوی ، المفردات) روایات میں ہے کہ اگر غساق کا یک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو دنیا والوں کے دماغ تعفن کی وجہ سے سڑ جائیں۔ (مجمع البحار) کہا گیا ہے کہ آنسو یا انتہائی ٹھنڈک یخ بنا دینے والی سردی۔ امام بخاری (رح) نے بھی اس کی تصریح کی ہے۔ کہا گیا ہے کہ غساق دراصل ترکی لفظ ہے جس کے اصل معنی بدبودار ٹھنڈا پانی کے ہیں (شرح ادب الکاتب للجوالیقی ، الاشتقاق والتعریب) قرآن کریم میں دوسری زبانوں کے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ محض اس لیے کہ عربوں میں اس وقت استعمال ہوتے تھے اندریں وجہ ان کو عربی میں کہا جائے گا کیونکہ ہر زبان میں الفاظ دوسری زبانوں کے استعمال ہوئے ہیں مثالیں اس کی عام ہیں۔ جس چیز کو اس جگہ ” غساق “ کہا ہے دوسری جگہ اس کو (غسلین) کہا گیا ہے (الحاقہ : 26) اور (حمیم) کھولتے ہوئے پانی کو کہا جاتا ہے۔ اس لیے اس کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ اہل دوزخ کو خواہ وہ کون ہوں گے پینے کے لیے تو کھولتا ہوا پانی اور بدبودار پیپ ملے گی اور اس پر بس نہیں ہوگئی بلکہ اور بھی اذیب ناک عذاب دیئے جائیں گے جن کا نام سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور کلیجے منہ کو آتے ہیں۔
Ayah 38:58دوسری چیزیں بھی ان کے لیے اسی طرح کی ہوں گی
58۔ گزشتہ آیت میں دوزخیوں کے پینے کا ذکر تھا کہ ان کو پینے کے لیے کیا دیا جائے گا اس لیے کہ پینا بھی ضروریاتِ انسانی میں سے ایک اہم ضرورت ہے لیکن اس طرح کی دوسری ضروریات بھی بہر حال ہیں جیسے کھانا ہے ، لباس ہے ، ازدواجی زندگی ہے ، ایک دوسرے سے میل ملاپ ہے کہ انسان ان ساری چیزوں سے خوش بھی ہوتا ہے اور رنجیدہ خاطر بھی پھر ان چیزوں مین جو چیزیں کوش کرنے والی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور جن چیزوں میں انسان کو ناخوشی ہوتی ہے وہ بھی روز روشن کی طرح عیاں ہیں اور دوزخ میں ان میں سے ہر وہ چیز ملے گی جو ضروریاتِ انسانی میں سے ہے اور ہرچیز اس طرح کی ہوگی جو باعث دکھ اور ناخوشی ہو اور جس میں خوش کی کوئی ایک چیز بھی نہ ہو کیونکہ دوزک جس چیز کا نام ہے وہ ہے ہی اس طرح کہ اس میں انسان کے لیے دیکھ اور مصیبت پر مصیبت آئے اگرچہ جو کچھ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے سب تمثیلی ہے اور اس کے تمثیلی ہونے کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ جیسا عمل ہوگا اس کے مناسب اور مشابہ اس کی جزا یا سزا ہوگی اس کی تھوڑی سی وضاحت ہم ان آیات کے بعد کریں گے جن آیات میں اس جگہ دوزخ کا ذکر کیا گیا ہے یعنی آیت 60 کے بعد۔
Ayah 38:59یہ اور اس کے بعد دوسری ایک اور فوج جو دوزخ میں داخل ہو گی
59۔ (مقتحم) کی اصل ق ح م ہے اور (مقتحم) اسم فاعل واحد مذکر ہے جس کے معنی ہیں ہولناک مقام میں گھس پڑنے والا۔ پہلا گروہ جو دوزخ میں گرایا جائے گا بلاشبہ وہی ہوگا جو پہلے داخل ہونے کے قابل ہے عام طور پر تو مفسرین نے اس سے سرداروں ہی کا گروہ مراد لیا ہے اور ییج صحیح ہے گویا سب سے پہلے بدکاروں اور بدکاروں کے سرداروں کو دوزخ میں پھینکا جائے گا ان کے پیچھے پیچھے ان کے مریدوں ، چیلوں اور جیالوں کو قطار اندر قطار یوں کہیں کہ فوج در جو ج جہنم میں جھونکا جائے گا اور جب ایک فوج ان مریدوں ، چیلون اور جیالوں کی گرائی جا رہی ہوگی تو دوزک کے درمیان سرداروں کو کہیں گے کہ یہ لو تمہارے مریدوں ، چیلوں اور جیالوں کا ایک اور چیلہ آگیا یہ سن کر وہ سرداران کو جواب دیں گے کہ ہم ان کو کیا کریں اور کیسے خوش آمدید کہیں کیونکہ ان کے لیے بھی یہ جگہ فراخ اور آرام دہ نہیں ثابت ہو سکتی کو ہن کہ جس طرح ہم اس آگ میں داخل ہوگئے اسی طرح وہ بھی اس آگ میں داخل ہونے والے ہیں مطلب ان کا یہ ہے کہ دنیا میں تو ہمارے لیے عیش و آرام اور طرح طرح کے انعامات تھے جس عیش و آرام اور ان انعامات میں سے ہمارے پاس آنے والوں کو بھی کچھ نہ کچھ حصہ مل جایا کرتا تھا اس جگہ ہمارے پاس سوائے دوزخ کی آگ کے اور ہے ہی کیا ؟ جس میں ہم ان کو شریک کریں گے جس طرح ہم دوزخ کی آگ میں جل رہے ہیں یہ ہمارے مرید ، چیلے اور جیالے بھی جلتے رہیں گے۔
Ayah 38:60بعد میں آنے والے اپنے پیروں اور راہنمائوں اور لیڈروں سے مخاطب ہوتے ہیں
60۔ بعد میں آنے والے مرید ، چیلے اور جیالے اس وقت اپنے پیروں ، رہنمائوں اور لیڈروں کو مخاطب کریں گے اور کہیں گے کہ تم پر اللہ کی پھٹکار ہو تم ہی تو ہم کو اس عذاب میں داخل کرنے والے ہو کیونکہ تمہارے باعث ہی ہم اس طرف کو آئے ہیں تم نے اپنے بیڑا بھی غرق کیا ہے اور ہمارا بھی یہ ایک ایسی برک جگہ ہے جہاں اب نہ تمہارے لیے آرام ہے اور نہ ہی ہمارے لیے گویا یہ وہی بات ہوئی کہ ” آپوی گلیوں باہمنا ججمانوی نالے “
دوزخ کیا ہے ؟ اس کی پوری وضاحت ہم پیچھے کئی ایک مقامات پر کرچکے ہیں اور یہ بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ آخرت میں جزا و سزا سب کی سب تمثیل ہوگی اور اس تمثیل کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ جیسا عمل ہوگا اس کے مناسب ومشابہ اس کی جزا یا سزا ہوگی مثلا قرآن کریم میں ہے کہ جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ان لوگوں کو دوزخ میں زخمیوں کی دھون پینے کو ملے گی اور یہ کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان دیں گے مرنے کے بعد ان کو تازہ جانیں اور حیات نو بخش دی جائے گی وہ دولت مند لوگ جن کو دھوپ کی تپش سے بچنے کے لیے قصرات و محلات اور پینے کے لیے ٹھنڈے ٹھندے مشروبات اور عزت کے مقامات عطا کیے گئے تھے اگر انہوں نے دنیا میں ان نعمتوں کے دیئے جانے کا شکر ادا نہ کیا اور حق داروں کو ھق نہ لوٹایا تو آخرت میں ان سے یہ سب سروسامان چھین لیا جائے گا اور اس کی جگہ جو دیا جائے گا وہ ایسا ہوگیا کہ : (فی سموم وحمیم وظل من یحموم لا بارد ولا کریم انھم کانوا قبل ذلک مترفین) ( الواقعہ 56 : 42 : 45) ” وہ لو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی اور کالے دھوئیں کے سایے میں ہوں گے جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ آرام دہ۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس انجام کو پہنچنے سے پہلے بہت خوش حال تھے “ جیسا کہ رویا برزخ کی حدیث میں ہے کہ آپ نے کچھ ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جن کا آدھا دھڑ تو بہت خوبصورت تھا لیکن آدھا دھڑ بہت ہی بدصورت تھا یہ وہ لوگ تھے جن کے کچھ کام اچھے اور کچھ برے تھے اس لیے ان کی بداعمالی ، بدصورتی اور نیک اعمال خوبصورتی کے رنگ میں نمایاں ہوئی ، صریح طور پر یہ اصول ان احادیث سے مستنبط ہوتا ہے چونکہ اس جگہ دوزخ کا ذکر ہے اس لیے اس جگہ برے اعمال کے برے بدلہ کا ذکر کیا گیا ہے۔
1۔ حدیث میں ہے کہ ” اہل تکبر قیامت کے دن چیونٹیاں بنا کر اٹھائے جائیں گے جن پر ہر طرف سے ذلت و خواری چھائی ہوئی ہوگی “ (ترمذی کتاب الزہد والرقاق) غور کرو کہ تکبر کی جزا ذلت و خواری سے ملے گی اور چیونٹیوں سے زیادہ حقیر و ذلیل کوئی ہستی نہیں اس لیے ان کی بڑائی اور تکبر کا معاوضہ یہ ہوگا کہ چیونٹی بن کر اٹھیں۔
بخاری مثل لہ مالہ شجاعا اقرع) گویا صفت بخل اس کے حق میں اس سانپ کی صورت اختیار کر کے اس کی تکلیف کا باعث ہوگی۔ اسی طرح آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ” جو شخص بلا وجہ بھیک مانگ کر اپنی آبروریزی کرتا ہے قیامت میں وہ اٹھے گا تو اس کے چہرہ پر گوشت نہ ہوگا۔ “ مولوم ہوا کہ دنیاوی بےشرمی و بےحیائی بےگوشت چہرہ کی صوت میں ظاہر ہوگی۔ اس طرح یہ بھی فرمایا دو بیبیوں کا وہ شوہر جو ایک کا حق ادا کرتا اور دوسری سے غفلت برتتا تھا قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کا ایک پہلو گویا مفلوج ہو کر جھک گیا ہوگا۔ (ترمذی) یعنی ایک پہلو کا عدم ادائی حق اپنی تمثیلی صورت میں ایک پہلو کی مفلوجی کیفیت میں نمودار ہوگا۔ یہ چند حوالے ذکر کیے گئے ہیں ان ہی پر جزا و سزا کے اور دوسرے جزئیات کو قیاس کرنا چاہیے سورة طہ کی آیات 124 تا 126 کی تفسیر دیکھیں عروۃ الوثقی جلد پنجم۔ غور کرو کہ دنیا میں دل کی نابینائی قیامت میں ظاہری نابینائی اور دنیا میں اللہ رب کریم کو بھولنا اور ارس کے احکام کی پرواہ نہ کرنا وہاں رحمت الہٰی کی یاد سے بھول کی شکل میں نمودار ہوگا اور یہی دنیا کے اعمال کے نتیجہ ہے جو بعنہی اسی طرح ہے جیسے اعمال تھے۔
دوزخ میں روحانی اور جسمانی دونوں سزائیں ملیں گی۔ قرآن کریم میں جن جسمانی سزائوں کا ذکر ہے وہ حسب ذیل ہیں :
1۔ آتش دوذخ اور اس کی سوزش کا ذکر باربار آیا ہے بلکہ ( انار) یعنی آگ گویا دوزخ کا دوسرا نام ہے اور انہی معنوں میں ( السعیر) یعنی جلتی آگ بھی بارہا مستعمل ہوا ہے اور ( عذاب الحریق) ( جلن کا عذاب) بھی بعض جگہ بیان کیا گیا ہے جیسے ( آل عمران : 181) ( الانفال : 50) (الحج : 22) (البروج : 10) اور جگہ اس طرح بھی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ( تلفح وجوھھم النار وھم فیھا کالحون) المومنون : 23 : 104) ” ان کے چہروں کو دوزخ کی آگ جھلس دے گی اور ان کی صورتیں اس میں بگڑ جائیں گی “ دوزخ کا ایک نام سقر بھی ہے جیسا کہ ارشاد الہٰی ہے کہ ( وما ادراک ماسقر لا تبقی ولا تذر لواحۃ للبشر ) (مدثر 27۔ 29) ” اور تمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے ؟ نہ وہ باقی رہنے دے گی اور نہ چھوڑے گی ، چہروں کو جھلس دینے والی ہوگی “ ایک جگہ ارشاد الہٰی ہے کہ ( کلا انھا لطی نزاعۃ للشوی ( المعارج : 15 : 16) ” ہرگز نہیں وہ شعلہ والی آگ ہے منہ کی کھال ادھیر دینے والی ہے۔ “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ ( انھا ترمی بشرر کا لقصر کانہ جمٰلٰت صفرہ ) مرسلات : 32 ، 33) ” دوزخ محل کے برابر اونچی چنگاریاں اتنی بڑی بڑی پھینکے گی جیسے زرد رنگ کے اونٹ۔ “
2۔ وہاں سایہ نہ ہوگا اور جو ہوگا وہ دکھ میں مزید اضافہ کرنے والا ہوگا۔ چناچہ ارشاد الہٰی ہے کہ ( انطلقوا الی ظل ذی ثلٰث شعب لا ظلیل ولا یغنی من اللھب (مرسلات 30 : 31) ” چلو ایک سایہ کی طرف جس کی تین پھانکیں ہوں گی وہ گھنا سایہ نہیں ہوگا اور نہ ہی تپش سے بچائے گا۔ “
3۔ وہاں ٹھنڈک نہ ہوگی جیسا کہ ارشاد الہٰی ہے کہ ( لایذوقون فیھا بردا ولا شرابا) نباء : 24) ” اس میں نہ وہ ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے اور نہ ہی کسی پینے کی چیز کا۔ “
4۔ وہاں پینے کو گرم پانی ملے گا جس سے آنتیں گلنے لگیں گی۔ ارشاد خداوندی ہے کہ ( وسقوا ماء حمیما فقطع امعائھم) (محمد : 15) ” اور وہ گرم پانی پلائے جائیں گے کہ وہ ان کی آنتوں کو کاٹ کر رکھ دے گا “
5۔ دوذخ میں نہ موت آئے گی اور نہ چین کی زندگی نصیب ہوگی جیسا کہ ارشاد الہٰی ہے کہ ( لا یموت فیھا ولا یحییٰ ) طہ : 74 ، الاعلی : 13) ” وہاں وہ نہ مریں گے اور نہ ہی جیئیں گے “ گویا بدنصیبی کی زندگی کوئی زندگی نہیں لیکن اس کو موت بھی نہیں کہا جاسکتا۔
6۔ پینے کے لے کھولتا پانی اور پیپ دی جائے گی جیسا کہ فرمایا ( الا حمیما و غساقا) نباء : 25) ” کھولتا پانی اور زخموں کا دھون یا پیپ۔ “
7۔ عذاب کو زیادہ کرنے کے لیے ان کے اوپر گرم پانی چھوڑا جائے گا فرمایا ( یصب من فوق رء وسھم الحمیم) (الحج : 19) ” ان کے سروں کے اوپر گرم پانی ڈالا جائے گا۔ “
8۔ کھانے کے لیے تھوہر کا درخت دیا جائے گا جیسا کہ قرآن کریم میں ہے (ام شجرۃ الزقوم انا جعلنھا فتنۃ للظٰلمین انھا شجرۃ تخرج فی اصل الجحیم (الصفٰت : 62 ، 64) ” یا تھوہر کا درخت ہم نے اس کو سرکشوں کے لیے آزمائش بنا دیا ہے وہ ایک درخت ہے جو دوزخ کی جڑ سے نکلتا ہے “ اور یہی بیان سورة الفرقان کی آیت 43 تا 46 میں کیا گیا ہے۔
9۔ دوزخیوں کو خار دار جھاڑی کھانے کے لیے پیش کی جائے گی جس سے بدن کو کوئی فائدہ نہ ہوگا چناچہ فرمایا گیا کہ ( لیس لھم طعام الا من ضریع لا یسمن ولا یغنی من جو ع) ( الغاشیہ : 6 ، 7) ” اور ان کے لیے کوئی کھانا نہ ہوگا لیکن خار دار جھاڑیاں جس میں نہ ہو موٹے ہوں گے اور نہ ہی بھوک اترے گی۔ “
10۔ زخموں کا دھو ون اور پیپ پینے کو ملے گا ( ولا طعام الا من غسلین) ٌ (الحاقہ : 36) ” گلے میں اٹکنے والا کھانا ہوگا۔ “
12۔ آگ کے کپڑوں کا لباس ہوگا جیسا کہ ارشاد فرمایا ( فالذین کفروا قطعت لھم ثیاب من نار) (الحج : 19) ” کافروں کے لیے آگ کے کپڑے قطع کیے جائیں گے “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ ( سرابیلھم من قطران) ابراہیم : 50) ” ان کے کرتے گندھک کے ہوں گے۔ “
13۔ ان کو وہاں لوہے کے ہتھوڑے اور گرز پڑیں گے جیسا کہ فرمایا ( ولھم مقامع من حدید) (الحج : 21) ” ان کے لیے لوہے کے ہتھوڑے یا گرز ہوں گے۔ “
14۔ دوزخیوں کے گلے میں طوق اور زنجیریں ہوں گی جیسا کہ ارشاد الہیٰ ہے کہ : (اذا لاغلال فی اعناقھم والسلسل عسحبون) (ال مومن : 17) ” جب ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی اور وہ کھینچے جائیں گے “ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ ( انا اعتدنا للکافرین سلسلا واغلا لا وسعیرا) (الدھر : 4) ” ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں ، طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے “ ایک جگہ ارشاد الہٰی ہے کہ (مقرنین فی الاصفاد) (ابراہیم : 49) ” وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔ “
یہ سب جسمانی سزائیں ہیں جن کا ذکر اس جگہ کیا گیا۔ بلاشبہ وہاں روحانی سزائیں بھی ہوں گی جو اہل نظر کی نگاہوں میں جسمانی سزائوں سے بھی بڑھ کر ہیں چناچہ آگ بھی ہوگی جو براہ راست جا کر دل پر اثر انداز ہوگی اور سمجھنے والوں کے لیے یہ عذاب جسم کے عذاب سے بھی بڑا ہے پھر خاص کر جب وہ مسلسل اور نہ ختم ہونے والا ہو۔ چناچہ ارشاد الہٰی ہے کہ : (نار اللہ الموقدۃ التی تطلع علی الافئدۃ (الھمزہ : 6 ، 7) ” اللہ کی آگ خوب بھڑکائی ہوئی جو دلوں تک پہنچے گی “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ ( واسروا الندامۃ لما راو العذاب) (یونس : 54) ” اپنی پیشانیوں کو چھپائیں گے جب اپنی آنکھوں سے عذاب کو دیکھیں گے “ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ ( کلما ارادوا ان یخرجوا منھا من غم) (الحج : 22) ” وہ جب غم کی وجہ سے دوزخ سے نکلنا چاہیں گے تو نکل نہیں سکیں گے “ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ (فالیوم تجزون عذاب الھون) (الاحقاف : 20) ” پس آج وہ ذلت کے عذٖاب کا بدلہ دیئے جائیں گے “ اور پھر اس عذاب سے بھی بڑھ کر یہ عذاب کہ ان کو معذرت پیش کرنے کی بھی اجازت نہ دی جائے گی جیسا کہ ارشاد خدا وندی ہے کہ ( لا تعتذرو الیوم) (التحریم : 7) ” آج معذرتیں پیش نہ کرو “ اور پھر یہاں تک کہ ان کو بات کرنے کی اجازت بھی نہ ہوگی چناچہ فرمایا کہ ( کلا انھم عن ربھم یومئذلمحجوبون) ( التطفیف : 15) ” ہرگز نہیں وہ اس دن اپنے رب سے پردہ میں ہوں گے “ کہ سامنے خآنے کی اجازت ہی نہ دی جائے گی یہ سب روحانی عذاب کی ایسی صورتیں ہیں جو جسمانی عذاب سے بھی بڑھ کر ہیں بشرطیکہ کوئی سمجھنے والا بھی ہو۔ گویا یہ ایسے دوزخی ہیں کہ جو نگاہ کرم سے بھی محروم رہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے گا نہ اس سے براہ راست بات ہی کرے گا یہ گویا شفیق و رحیم رب کی انتہائی ناراضی کی تصویر ہے اور اس کے احساس کو وہی جان سکتا ہے جو عشق و محبت کا زخم خورہ ہو۔ اللہ تعالیٰ اس روحانی عذاب اور اس جسمانی عذاب سے بچائے۔ (آمین) اس کے فضل و کرم سے یہی امید ہم بھی رکھتے ہیں اور اسی امید کے سہارے زندہ ہیں۔
پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ پہلے داخل ہونے والے وہی لوگ ہوں گے جو دنیا میں کھاتے پیتے اور باپ دادا والے کہلاتے تھے جن کو ہم نے سیاسی لیڈر اور مذہبی راہنما قرار دیا ہے۔ دیہات میں ان لوگوں کو چوہدری کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور ہمارے ملک میں مغربی جمہوریت کی لعنت ہے اس میں بی ڈی سے لے کر ایم این اے تک جتنے لوگ ہیں سینٹ کے ممبران اور وزراء ومشیران سب کو سمجھا جاسکتا ہے اور اسی طرح کے لوگوں کو قرآن کریم کی زبان میں مترفین کہا گیا ہے مختصر یہ کہ جن کے متعلق بچہ بڑا سب جانتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی بات چلتی ہے ، وہ ان کے مذہبی پروہت ہونے کے باعث چلتی ہو یا کھانے پینے اور زمین و برداری اور کاندان کے لحاظ سے چلتی ہو۔ بہرحال یہ لوگ اگر گمراہ ہوں تو بلاشبہ دوسروں کی گمراہی کا باعث ہوتے ہیں اس لیے یہ اس کے مستحق ہیں کہ ان کو دوزخ میں اولیت دی جائے اور بلاشبہ ان کو اولیت ہی دی جائے گی اور ان کے بعد دنیا میں ان لوگوں کی بات کو ماننے والے جن کو ہم نے مریدین ، چیلے اور جیالوں کا نام دیا ہے وہ بھی ان کے پیچھے پیچھے دوزخ کی طرف ہانک دیئے جائیں گے اور جب وہ داخل ہوں گے تو جاتے ہی ان اپنے پیروں ، مرشدوں ، گروئوں اور لیڈروں کو پہچان لیں گے تو ان کو دیکھتے ہی آگ بگولا ہوجائیں گے کیونکہ ان کی پیروی کر کے وہ یہاں پہنچے ہیں اور ان کی باتیں ماننے کے انجام سے اب وہ دوچار ہوئے ہیں۔ وہ آتے ہی کہیں گے کہ تمہارے لیے کوئی خوش آمدید نہٰں ہے اور یہ جملہ خود ہی بتا رہا ہے کہ وہ دنیا میں ان کو خوش آمدید کہتے رہے ہیں اور پھر اس طرح سخت لہجہ میں برہم ہو کر ان سے کہیں گے کہ ( انتم قدمتموہ لنا) کہ تم نے ہمارے لیے اس عذاب کو آگے کیا ہے یونی تم ہی ہمارے یہاں لانے کا باعث ٹھہرے ہو۔ دیکھو یہ کتنا برا ٹھکانہ ہے جس میں تم بھی داخل ہوگئے اور ہم کو بھی یہاں لا پھنسایا۔ اور اس میں بتانا یہ مقصود ہے کہ ہر آدمی کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ اس دنیا میں جس کو دارالعمل قرار دیا گیا ہے خود اپنی ہدایت کی راہ تلاش کرے اور اندھی تقلید مین ہرگز نہ گرے کیونکہ اندھی تقلید کرنے والوں کا ایسا حشر ہونے والا ہے اور تقلید کرنے والوں کو جن کی وہ تقلید کرتے رہے کچھ فائدہ نہیں دیں گے بلکہ اکثر ایسے ہی ہوں گے جو ان کے نقصان کا باعث ہوں ، جو اس دنیا سے رخصت ہوگئے ان کا دروازہ تو بند ہوگیا جو اس وقت موجود ہیں وہ ان آیات کریمات کو پڑھ کر ، سن کر ، سمجھ کر خود اپنی اصلاح کریں تاکہ آنے والے کل میں ان کو پچھتاوا اور حسرت نہ ہو۔
Ayah 38:61بعد میں داخل ہونے والے اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر اس طرھ دعا کریں گے
61۔ بعد میں داخل ہونے والے مریدین ، چیلے اور جیالے دوزخ میں داخل ہونے کے بعد پہلی چھڑپ تو اپنے پیروں ، وڈیروں اور مذہبی و سیاسی راہنمائوں سے لیں گے اور اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے جس دعا کو ہماری زبان میں بددعا کہتے ہیں کہ ” اے ہمارے رب ! جن بدبختوں نے ہمارے لیے یہ عذاب آگے کیا ہے ان کو ہمارے سامنے دوگنا عذاب میں مبتلا فرما کہ ان کو اس آگ میں دوہرا عذاب ملے یہ ایک فطری تقاضا ہے کہ انسان اپنے کیے پر اتنا جزبز نہیں ہوتا جتنا کہ جب پھنس جاتا ہے تو اس طرح راہنمائی کرنے والے پر جز بز ہوتا ہے اور یہی حالت ان لوگوں کی ہوگئی وہ دوزخ میں اپنے درغنوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور دکھ اور مصیبت میں مبتلا ہیں لیکن اس کے باوجود ان سے بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں جن سے دنیا میں بہت محبت کرتے تھے اور ان کے اشاروں پر چلا کرتے تھے اور جن کی اتباع کیا کرتے تھے اب دوزخ میں اپنے ہاتھوں کو کاٹ رہے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے کہ ان لوگوں کو ہم سے بھی زیادہ عذاب میں مبتلا کر دے کہ یہی لوگ ہیں جو ہمارے یہاں لانے کا باعث ہوئے ہیں۔ قرآن کریم میں متکبرین اور متصغرین کے مکالمات کا ذکر اکثر جگہ پر کیا گیا ہے اور اس کی تفصیل بھی سورة بقرہ ، سورة الانعام اور سورة القصص میں گزر چکی ہے اگرچہ ہر جگہ اس کی وضاھت کی گئی ہے کہ ان کی اس مخاصمت کا ان کو کچھ فائدہ حاصل نہ ہوگا بلکہ عذاب میں وہ برابر کے شریک ہوں گے اگرچہ بعض وڈیروں کو زیادہ عذاب دینے کا ذکر بھی آیا ہے جیسا کہ جلد ہذا میں سورة العنکبوت کی آیت 13 میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔
Ayah 38:62پھر وہ آپس میں کہیں گے کہ یار کیا وجہ ہے کہ ہم جن کو نہایت برا سمجھتے تھے وہ نظر نہیں آتے ؟
62۔ بعد میں داخل ہونے والے آپس میں ایک دوسرے سے مخاطب ہو کر کہیں گے یارو خیال کرو کہ یہ سب تو ہمارے سردار اور پیشوا ہیں جن کو ہم دیکھ رہے ہیں لیکن دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جن کو ہم شرارتی سمجھتے تھے اور ہمارے یہ سارے سردار بھی ان کو شریر ہی سمجھتے تھے لیکن وہ اس جگہ کہیں بھی نظر نہیں آرہے ۔ وہ اس جگہ کہیں بھی دکھائی نہیں دیتے۔ ان کی نظریں ان کو تلاش کریں گی لیکن وہ ان کو وہاں کیسے نظر آسکتے ہیں۔ وہ تو ماشاء اللہ جنت میں اللہ تعالیٰ کے انعامات حاصل کرچکے ہیں اور ان کے دل اب ٹھنڈے ہیں اور آنکھیں انعامات الہٰی سے مخمور ہیں انہیں جو دکھ اور مصیبتیں دنیا میں پہنچی تھیں اور جس طرح انہوں نے ان پر صبر کیا تھا اس کا صلہ وہ حاصل کرچکے ہیں۔
Ayah 38:63ان کو نہ پا کر وہ آپس میں کہیں گے کہ ہم تو ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے
63۔ دنیا میں تو ہم ان لوگوں کو دیکھتے تھے تو دیکھتے ہی ہم کو ہنسی آجایا کرتی تھی اور ان کی باتوں کا ہم مذاق اڑایا کرتے تھے کیا ان سے ہماری آنکھیں پتھرا گئی ہیں کہ وہ باوجود تلاش کرنے کے کہیں نظر نہیں آتے۔ ان کا تفصیلی ذکر عروۃ الوثقی ، جلد ششم سورة المومنون کی آیات 107 تا 111 میں گزر چکا ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 38:64دوزخیوں کا یہ مکالمہ بلاشبہ صحیح اور سچ ہے
64۔ دوذخیوں کے جس مکالمہ اور مخاصمہ کا ذکر اس جگہ کیا گیا ہے بلاشبہ بالکل اسی طرح آپس میں ہوگا اس کی تفصیلات پیچھے سورة الاعراف میں گزر چکی ہیں اگر دیکھنے کا شوق ہو تو عروۃ الوثقی جلد سوم میں سورة الاعراف کی آیت 43 سے آیت 53 تک کی تفسیر دیکھیں اس جگہ اہل دوزخ اور اہل جنت کا مکالمہ بھی آپس میں بیان کیا گیا ہے اور الاعراف والوں کا ذکر بھی وہاں موجود ہے جن کا نتیجہ کچھ لیٹ ہوگا۔
Ayah 38:65پیغمبر اسلام ! ﷺ سے توحید کا اعلان کرنے کا حکم خاص
65۔ گزشتہ آیات میں جو اہل ایمان پر لطف و کرم کیا جانے والا ہے اس کا ذکر کرنے کے بعد کفار و مشرکین کو جس دردناک اور کربناک عذاب میں مبتلا ہونا ہے اس کا بیان کرکے اب نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو مخاطب فرما کر حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ اپنی قوم کو بتا دیجئے کہ تم جس راستہ پر گامزن ہو یہ راستہ تو سیدھا جہنم کو جا رہا ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اس لیے مبعوث کیا ہے کہ میں تم کو اور ساری دنیا کے دوسرے لوگوں کو متنبہ کر دوں کہ ابھی وقت ہے تم اپنی اصلاح کرلو اور شرک و کفر سے نکل کر توحید کے راستہ کی طرف آ جائو تاکہ تم کو یہ راستہ جنت کی طرف رواں دواں کر دے اور انجام کار تم اس دنیا کی زندگی کے دن پورے کر کے عالم برزخ میں مقام علیین پر پہنچ جائو اور وہاں قیامت کا دن بپا ہونے کے بعد سیدھے جنت میں پہنچ جائو یہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی راہ ہے جو اکیلا ہی زبردست ہے اور سب کی احتیاجوں کو پورا کرنے والا ہے اور وہ بذاتہ کسی کا محتاج نہیں خواہ وہ کوئی ہو اور کہاں ہو۔ زیر نظر آیت سے مضمون سورة ہذا کے شروع سے جا کر ملا دیا گیا ہے جہاں نبی کریم ﷺ کو مخاطب کر کے بات شروع کی گئی تھی ایک بار سورت کی شروع کی آیتوں پر نظر ڈال لو بات بالکل واضح ہوجائے گی۔
Ayah 38:66وہ آسمانوں اور زمین کا رب ہے عزت والا اور بخشنے والا ہے۔
66۔ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ ان لوگوں کے سامنے اپنی تعلیم کا خلاصہ کھول کر رکھ دو جو یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور جن کو تم نے معبود بنا رکھا ہے سب کے سب اللہ کے نیک بندے تھے ان میں سے ایک بھی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں سے کسی چیز میں بھی اللہ تعالیٰ کا شریک ہو وہ اپنی ذات میں اور اپنی جملہ صفات میں یکتا ہے اور سب پر غالب ہے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب اس کا ہے کوئی اس کا شریک اور ساجھی نہیں اور کوئی اس سے زیادہ طافتور نہیں کوئی کتنا ہی برا اور کتنا ہی زیادہ گناہگار ہو جب سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردیتا ہے جب کہ اس کا وہ گناہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ خاص ہو یعنی حقوق العباد سے تعلق رکھنے والا نہ ہو وہ نہایت ہی مہربان اور اپنے بندوں سے شفقت کرنے والا ہے اور اس کی مخلوق کے ساتھ شفقت ہی کا یہ تقاضہ ہے کہ وہ حقوق العباد کو معاف نہ کرے جب تک کہ اس کے بندوں میں سے جس کے حقوق ہیں ان کو ادا نہ کردیا جائے یا صاھب حق سے حق معاف نہ کرالیا جائے۔
Ayah 38:67اے پیغمبر اسلام ! آپ کہہ دیجئے کہ یہ خبر بہت بڑی خبر ہے
67۔ (ھو) کا مرجع کیا ہے ؟ کہا گیا ہے کہ قرآن کریم ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد قیامت ہے لیکن ہمارے خیال میں خدا لگتی بات یہ ہے کہ شروع میں سورت میں کفار نے تعجب کیا تھا کہ ” یہ رسول عجیب رسول ہے جس سارے معبودوں کی جگہ صرف ایک اللہ کو معبود بنا ڈالا ہے یہ تو بڑی عجیب خبر ہے “ اس جگہ مضمون جب پیچھے کی طرف پھیرا گیا ہے اور مضمون کو پیچھے پھیرتے ہی یہ فرما دیا گیا ہے کہ ” اللہ ایک ہے اور وہ سب پر غالب ہے “ تو اس (ھو) کا مرجع بھی وہی ہے (نبوء عظیم) بھی اسی کو کہا گیا ہے یعنی اللہ وحدہ لا شریک لہ ہونے پر تم کو تعجب ہے تو ہوا کرے ہمارے نزدیک تو یہ بہت بڑی خبر ہے جو شرک کے خلاف تم کو دی جا رہی ہے۔
Ayah 38:68حالانکہ تم ہو کہ اس سے منہ پھیر رہے ہو کہ گویا ایسا ممکن نہیں
68۔ تم اس خبر عظیم سے منہ موڑتے ہو اور کہتے ہو کہ ایسا ممکن نہیں ہو سکتا لیکن تم جس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اس بات پر تمہارے پاس کوئی دلیل بھی نہیں ہے کہ اللہ وحد لا شریک لہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود بھی ہے اس لیے تم اس کو مانو یا نہ مانو بلاشبہ یہ ایک حقیقت ہے اور اگر کوئی شخص ایک حقیقت کو حقیقت تسلیم نہ کرے تو کیا اس سے وہ حقیقت حقیقت نہیں رہتی ؟ مشرکین کہتے تھے کہ معبود بہت ہٰن جن میں سے ایک اللہ بھی ہے پھر تم نے سارے معبودوں کو ختم کر کے صرف اور صرف ایک معبود کیسے بنا ڈالا ؟ ان سے کہا جا رہا ہے کہ معبود حقیقی صرف ایک ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے کیونکہ وہ سب پر غالب ہے۔ زمین و آسمان کا مالک ہے اور کائنات کی ہرچیز اس کی ملکیت میں ہے اور اس کے علاوہ اس کائنات میں جن جن ہستیوں کو تم نے معبود بنا رکھا ہے ان میں سے کوئی ہستی بھی ایسی نہین ہے جو اس سے مغلوب اور اس کی مملوک نہ ہو پھر یہ مغلوب اور مملوک ہستیاں اس غالب اور مالک کے ساتھ خدائی میں شریک کیسے ہو سکتی ہیں اور آخر کس وجہ سے ان کو معبود قرار دے دیا گیا ہے ؟ اس کا جواب نہ اس وقت کے مشرکوں کے پاس تھا اور نہ ہی آج کے مشرک اس کا کوئی جواب دے سکتے ہیں تا ہم اس حقیقت کو نہ انہوں نے تسلیم کیا اور نہ ہی آج کے مشرک تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں ، انہوں نے بھی اعراض کیا اور منہ پھیرا اور یہ بھی اعراض کرتے اور منہ پھیرتے ہیں۔
Ayah 38:69آپ کہہ دیجئے کہ مجھے اس وقت کوئی خبر نہ تھی جب فرشتے جھگر رہے تھے
69۔ ارشاد الہٰی ہے کہ ” مجھے اس وقت کی کوئی خبر نہیں جب ملاء اعلیٰ میں جھگڑا ہو رہا تھا “ یہ بات کون کہہ رہا ہے ؟ ظاہر ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کہہ رہے ہیں۔ کس سے کہہ رہے ہیں ؟ اپنی امت کے لوگوں کو مخاطب کر کے آپ فرما رہے ہیں کہ مجھے اس وقت کی کوئی خبر نہیٰں جب ملاء اعلیٰ میں جھگڑا ہو رہا تھا۔ یہ جھگڑا کس بات میں تھا ؟ کہا گیا ہے کہ تخلیق آدم کے بارے میں فرشتے آپس میں جھگرا کر رہے تھے۔ ہم ان ساری باتوں میں کسی ایک کو بھی صحیح نہیں سمجھتے کیونکہ اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کا آپس میں کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔ شیطان کا اور اللہ تعالیٰ کے کسی جھگڑے کا ذکر قرآن کریم میں نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کسی سے یا کسی کا اللہ تعالیٰ سے جھگرا ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہمارے خیال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو بتایا جا رہا ہے کہ لوگ یعنی مشرک و منافق جو ملاء اعلیٰ کے بارے میں جھگڑا پیدا کرتے ہیں اور اس طرح ملاء اعلیٰ کی کہنہ اور حقیقت معلوم کرنا چاہتے ہیں آپ کو کہا جا رہا ہے کہ آپ کہہ دیجئے مجھے تو اس طرح کی کسی بات کو کوئی علم نہیں کیونکہ مجھے غیب کی کیا خبر ؟ ظاہر ہے کہ غیب کا علم صرف اور صرف رب ذوالجلال والاکرام ہی کو ہے۔ رہی یہ بات کہ ملاء اعلیٰ کے بارے میں کفار ، منافق اور مشرک کیوں جھگڑتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ نبی کریم ﷺ جبرئیل کے آنے کا اور وحی لانے کا ذکر کرتے تھے اور آپ کا ایسا فرمانا ہی ان کے درمیان جھگڑے کا باعث تھا۔ اور اس بات کا آگے ذکر بھی کیا جا رہا ہے جو آنے والی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ اس جگہ ایک حدیث کا ذکر بھی اکثر مفسرین نے کیا ہے جو آپ کارویہ صادقہ ہے لیکن جو نتیجہ اس سے نکالا گیا ہے وہ سراسر منافی قرآن اور خصوصا اس آیت کے منافی اور یہ بھی کہ مفسرین نے اس کو رویہ قرار نہیں دیا جو سراسر ایک زیادتی پر مزید زیادتی ہے۔
Ayah 38:70میری طرف سوائے اس کے کچھ وحی نہیں کیا جاتا کہ میں ڈرانے والا ہوں
70۔ آپ نے فرمایا میں جو کچھ بیان کرتا ہوں وہ وہی ہے جو میری طرف وحی کیا گیا ہے اور یہ کہ میں غیب کی خبریں جو بیان کرتا ہوں تو خود بخود نہیں بیان کرتا بلکہ وہی کچھ بیان کرتا ہوں جو مجھے رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے وحی کی جاتی ہے اور میں سوائے اس کے کچھ نہیں کہ ایک ڈرانے والا ہوں تاکہ تم کفر وشرک سے باز آجائو اور ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی نہ کرو اور یہ ڈرانا میرا یہی ہے کہ تم وہ لوگ ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات ہونے کا شرف بخشنا ہے اور فرشتے جن کے بارے میں تم جھگڑا کرتے ہو تمہارے خادم بنائے گئے ہیں تمہارا مقام فرشتوں سے کہیں بلند ہے تمہاری اصل بلاشبہ مسجود ملائکہ ہے اور تمہارا وجود ان سے کہیں زیادہ بابرکت ہے یہ بات تم کو قرآن کریم میں بار بار باور کرائی گئی ہے اور ایک بار پھر اس جگہ اس نظریہ کو تازہ کرلو تاکہ اگر حقیقت تم پر مستور ہوچکی ہے تو تم پر ایک بار پھر واضح ہوجائے۔
Ayah 38:71جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے بشر کو مٹی سے پیدا کرنے کا ذکر کیا
71۔ اس جگہ انسان کی پیدائش کا ذکر کرنے کے باعث لوگوں نے فرشتوں اور اللہ کے درمیان اس بحث کر جھگڑا قرار دے دیا حالانکہ یہ ذکر قرآن کریم میں بیسیوں بار کیا جا چکا ہے اور اس کی تفاصیل بھی پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہیں لیکن ان میں سے کسی بات کو جھگڑا اور مخاصمت قرار نہیں دیا جاسکتا ہم قبل ازیں اس کی وضاحت کرچکے ہیں کہ یہ صرف انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کو بیان کرنا مقصود ہے اور انسان کو اس کی اصلیت سمجھانا مقصود ہے اس کے لیے انسان کے اندر ودیعت کی گئی قوتوں کو الگ الگ مشخص قرار دیا ہے تاکہ اس کی حقیقت کو انسان جز بز کر کے سمجھ لے کیونکہ یہ اس کی اپنی ذات ہی کی تھیوری ہے جس کو اکثر و بیشتر بھول جاتا ہے اور تفہیم کے اس طریقہ کی وضاحت قبل ازیں ہم نے عروۃ الوثقی ، جلد اول کی سورة البقرہ کی آیات 29 سے 39 تک ، جلد سوم میں سورة الاعراف کی آیت 11 سے 25 تک ، جلد چہارم میں سورة الحجر کی آیت 26 سے 44 تک ، جلد پنجم میں سورة بنی اسرائیل کی آیت 61 تا 65 ، سورة الکہف کی آیت 50 سے 53 تک ، سورة طہ کی آیت 116 سے 122 تک کردی ہے۔ اس واقعہ کو سمجھنے کے لیے ان مقامات کا مطالعہ کریں۔
Ayah 38:72فرشتوں سے کہا گیا کہ جب اس میں روح پھونک دوں تو تم فرمانبرداری کا اظہار کرنا
72۔ جب اس انسان کو میں صحیح سالم اور ہر لحاظ سے درست کردوں تو تم اس کے لیے فرمانبرداری کا اظہار کرنا اور اس کو علت ٹھہرا کر اللہ تعالیٰ کو سجدہ ادا کرنا کہ اس نے انسان کو عقل و فکر سے ہرچیز پر فوقیت بخش دی ہے اور اس کائنات کی ہرچیز کو اس کے لیے مسخر کردیا گیا ہے۔
Ayah 38:73فرشتوں نے اللہ کے حکم کو سر آنکھوں پر قبول کیا اور ہدایت الہٰی پر عمل کیا
73۔ زیر نظر آیت نے دو باتوں کی وضاحت کردی ایک یہ کہ فرشتے ایسی طاقتیں اور قوتیں ہیں جن میں سرکشی اور خود سری سرے سے پائی ہی نہیں جاتی گویا وہ نہایت فرمانبردار قوتیں اور طاقتیں ہیں یہی وجہ ہے کہ ان سب نے حکم الہٰی کو سر آنکھوں پر رکھا اور حکم الہٰی پر عمل کیا اور بلاشبہ انسان کو یہی طاقت وقوت نیکی کی راہ پر گامزن کردیتی ہے لیکن انسان جن قوی کا مجموعہ ہے اس میں دوسری طاقت کو بھی ودیعت کیا گیا ہے جس کو ابلیس کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور جو طاقت سراسر خود سر اور سرکش ہے اس لیے انسان کے اندر یہ کش مکش فطری طور پر جاری ہے اور اسی کش مکش کے باعث وہ اشرف المخلوقات قرار پایا ہے کہ برائی کی طاقت رکھنے کے باوجود نیکی کی طرف جب وہ رغبت کرتا ہے اور برائی سے اجتناب کرتا ہے تو اسی باعث اس کو یہ شرف عطا کیا گیا ہے اور اس جنس انسان سے جب وہ طاقت و قوت غلبہ پا جاتی ہے جو طاقت و قوت ابلیس کہلاتی ہے تو وہ انسانیت کی بلند منزل سے اٹھا کر اس کو قعرمذلت میں پھینک دیتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دنیاوی زندگی تو اس کی جیسی ہو وہ ہوتی ہی ہے لیکن اخروی زندگی کی ذلت اس کو ضرور حاصل ہوتی ہے کیونکہ انانیت اور کفر کا یہی نتیجہ ہوتا ہے۔
Ayah 38:74ابلیسی طاقت و قوت کو مخاطب کر کے اس طرح سوال پوچھا گیا
74۔ ابلیسی طاقت و قوت کو مخاطب کرنے والا کون ہے ؟ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ تعالیٰ کا اس طرح پوچھنا ہی انسانی شرف وعزت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اگر تخلیق آدم کوئی معمولی کام ہوتا تو اللہ رب العزت فرشتوں کے ذریعہ سے یہ بات پوچھتا لیکن قرآن کریم میں یہ خطاب ہر جگہ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی کیا گیا ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ رب کریم کا بنفس نفیس یہ استفسار کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ایک نہایت ہی افضل و اشرف کام تھا اور اس بات کی ہم پہلے وضاحت کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بنفس نفیس کسی کو خطاب اللہ تعالیٰ کے جسمانی ہونے کی دلیل نہیں بلکہ انسانی تفہیم اور کام کی اہمیت کے مطابق یہ الفاظ بیان کیے جاتے ہیں اور یہی حال اللہ تعالیٰ کے ہاتھ پائوں اور چہرہ ہونے کے متعلق ہے جیسا کہ زیر نظر آیت میں ( خلقت بیدی) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور بلاشبہ یہ بھی شرف انسانی ہی کو ظاہر کرنے کے لیے ہیں اور دونوں ہاتھوں کے استعارہ سے اس امر کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس نئی مخلوق میں اللہ تعالیٰ کی شان تخلیق کے دو اہم پہلو کی نشاندہی کی گئی ہے ایک یہ کہ اسے جسم حیوانی عطا کیا گیا جس کی بنا پر وہ حیوانات کی جنس میں سے ایک نوع ہے دوسرے یہ کہ اس کے اندر ایسی روح ڈال دی گئی جس کی بنا پر وہ اپنی صفات میں تمام ارضی مخلوقات سے اشرف و افضل ہوگیا۔ اس مبالغہ کے باعث کہیں اللہ تعالیٰ کے خرچ کرنے کو دونوں ہاتھوں سے خرچ کرنا ارشاد فرمایا اور کہیں دونوں ہاتھوں کو اللہ تعالیٰ کے دائیں قرار دے دیا گیا اس سے کسی شکل و صورت کا تصور سوائے نادانی و جہل کے کچھ نہیں ہے سوال کی نوعیت میں استفسار اس طرح کیا جا رہا ہے کہ کیا تو بڑا بن رہا ہے یا تو ہے ہی کچھ اونچے درجے کی ہستیوں میں سے ؟ یہ محض اسی طاقت وقوت کی نافرمانی کے باعث کہا گیا ہے۔
Ayah 38:75ابلیس کی طف سے جواب اور ( انا خیر منہ ) کی بےجا بڑا اور بکواس
75۔ بعینہ یہی الفاظ سورة الاعراف کی آیت 16 میں گزر چکے ہیں اور سورة الاعراف عروہ الوثقی کی تیسری جلد میں ملے گی وہاں سے وضاحت دیکھ لیں۔
Ayah 38:76فرمایا تو یہاں سے نکل جا تو مردود ہے تیرے رہنے کے یہ جگہ نہیں
76۔ زیر نظر آیت میں وہی بات بیان کی جارہی ہے جس کے متعلق آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص خود اپنے آپ کو (انا عالم) کہے وہ جاہل ہوتا ہے۔ ابلیسی طاقت وقوت نے بھی یہی کہا کہ ” میں اس سے بہتر ہوں “ اور یہی جملہ اس کے کہتر ہونے کو ثابت کر گیا اس لیے کہ انسانی خوبیوں میں سے یہ بھی ایک خوبی ہے کہ انسان اپنے آپ کو بڑا نہ کہے کیونکہ اپنے منہ میاں مٹھو بننا کوئی خوبی کی بات نہیں بلکہ ادنیٰ اور گھٹیا ہونے کی نشانی ہے۔
Ayah 38:77اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہاں سے نکل جا تو پھٹکارا ہوا ہے
77۔ زیر نظر آیت میں لفظ ( رجیم) کا استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی پھینکا ہوا یا مارا ہوا کے ہیں اور محاورہ میں یہ لفظ اس شخص کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جسے مقام عزت سے گرایا گیا ہو اور اس طرح وہ ذلیل و خوار کردیا گیا ہو اس کی مزید تشریح سورة الاعراف کی آیت 13 ، 14 میں ملے گی وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 38:7878۔ زیر نظر آیت نے اس بات کی پوری پوری وضاحت کردی کہ بات کا یہ سارا سوانگ اس دنیوی زندگی کے اتار چرھائو بیان کنرے اور اس کی تفہیم کرانے کے لیے رچایا گیا ہے تاکہ انسان کو اس کی اپنی زندگی اور اپنی حقیقت واضح ہوجائے کہ وہ کیا ہے ؟ اور دنیا کے ان سارے باپ دادا والوں کی حقیقت اس نے واضح فرما دی کہ یہ طاقت و قوت کا نام جو رکھا گیا وہی نام لعنت خداوندی کی نشاندہی کرتا ہے اور نیز اس سے آپ نے اخروی زندگی کے لزوم کو بھی ثابت کردیا کہ دنیا تب ہی دنیا ہے جب کہ آخرت اس کے ساتھ موجود ہے کیونکہ ہرچیز کی نقیض اس کے وجود کا اثبات کرتی ہے۔ صرف اور صرف ایک ہی واجب الوجود ہے جو اپنی نقیض نہیں رکھتا اور اس کی صحیح پہچان بھی یہی ہے ورنہ دنیا کی ہرچیز اپنی نقیض سے پہچانی جاتی اور شناخت کی جاتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی لعنت کا لفظ ہی اس کی رحمت کی وسعت کو بیان کر رہا ہے۔
Ayah 38:79شیطان نے کہا کہ اے میرے رب ! مجھے دوبارہ اٹھائے جانے تک مہلت دے
79۔ زیر نظر آیت نے یہ راز مزید کھول دیا کہ اس جگہ ابلیس یا شیطان جس طاقت یا قوت کو کہا گیا ہے وہ بذاتہ ایک مخلوق ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہی نے تخلیق کیا ہے اور اسی کی مشیت سے وہ اجازت یافتہ ہے اگرچہ منبع برائی ہے تاہم نیکی بھی اس کے وجود کی مرہون منت ہے اگر یہ شر کی طاقت وقوت نہ ہوتی تو نیکی اور خیر کا وجود بھی خود بخود معدوم ہوجائے ۔ بلاشبہ اس کا ہونا ناگزیر تھا۔ اسی طاقت اور قوت کو مشخص کر کے بیان کرنے ہی سے ہر انسان کی تفہیم ممکن تھی اور یہی طریقہ اختیار کیا گیا اگرچہ فی نفسہ وہ مشخص نہ ہو۔ اس کی مزید وضاحت سورة الحجر میں ملے گی۔
Ayah 38:80اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابلیس کو ڈھیل دیئے جانے کا اعلان قرآنی
80۔ اللہ تعالیٰ سے اس کا مہلت طلب کرنا اور رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے مہلت کا دیا جانا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا ہونا ناگزیر تھا کہ اس دنیا میں ہرچیز کی ایک نقیض ہے اور اس نقیض سے اس کا وجود قائم ہے خیر و نیکی کو باقی رکھنے کے لیے اس کا وجود بھی ناگزیر تھا اس لیے اس کو دوبارہ اٹھائے جانے تک مہلت دی گئی مطلب یہ ہے کہ جب تک اس دنیا کا نظام قائم ہے اس وقت تک اس کا باقی رہنا لازم وضروری ہے اور بلاشبہ وہ کسی کے مٹانے سے بالکل مٹ نہیں سکتی۔ یہ ایک پیرایہ تفہیم کے لیے اختیار کیا گیا ہے اگر یہ بات سمجھ میں آجائے تو انسان اپنے آپ کو اپنی ذات کو سمجھ سکتا ہے ورنہ وہ اپنی ذات کے سمجھنے سے قاصر رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ برائیاں خود کرتا ہے اور نام ابلیس کا بدنام کرتارہتا ہے اور پوری زندگی اپنی اصلاح نہیں کر پاتا کیونکہ وہ حقیقت سے اکثر نا آشناہی رہتا ہے اور ملائیت نے یہ بات سمجھانے کی کوشش نہیں کی یا وہ خود ہی اس راز سے نا آشنا ہے۔
Ayah 38:81عطا کی گئی ڈھیل اور مہلت کا وقت بھی متعین کردیا گیا
81 ۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے ابلیس کا مہلت طلب کرنا اس کی فطرت کے تقاضا کا بیان ہے اور اسی فطرت کے تقاضا کے مطابق اس کو ڈھیل ومہلت ملنا بھی ناگزیر تھا چناچہ اس کی مطلوبہ مہلت اس کو اس دنیا کے قیام تک دی گئی اور جب قدرت خداوندی نے اس کو ڈھیل دے دی تو اب کون مائی کا لال ہے کہ اس کو معدوم کرسکے گویا جب تک انسان اس دنیا میں موجود ہے اس کے دم کے ساتھ اس کا دم ہے۔ قرآن ِ کریم کی یہ آیت اور اس جیسی دوسری آیات کریمات اس پر کھلی دلیل ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے یہ ارشادات کہ وہ انسان کے جسم میں اس طرح چلتا ہے جس طرح خون چلتا ہے اس کی مزید وضاھت پیش کردیتے ہیں اور انہی آیات و احادیث کی روشنی میں جب ہم کہتے ہیں کہ وہ انسان کے جسم میں موجود ہے اور خارج از انسان کوئی چیز نہیں اس تفہیم کے لیے یہ سوانگ رچا کر اس کو مشخص بیان کیا گیا ہے جو عین فطرتِ انسانی کے مطابق ہے تو ملائیت لٹھ لے کر ہمارے پیچھے لگ جاتی ہے کہ شاید ان کی ملائیت پر یہ ایک حملہ ہے حلان کہ ملاں اگر انسان ہے تو یہ اس کی فطرت کا بھی بیان ہے کیونکہ فطرتِ انسانی ہی کے لیے یہ پیرایہ اختیار کیا گیا ہے تاکہ ہر ذہن وفکر کا زانسان اس کی تفہیم کرسکے اور بات کو عام فہم کر دیناہی کلام الہٰی کا کمال ہے جو دوسرے کلام میں نہیں ملتا۔
Ayah 38:82مہلت ملنے کے بعد ابلیس اپنی ابلیسیت پر قانع ہو گیا
82۔ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی ابلیسیت کی پوری پوری وضاحت کر کے انسان کو یہ بات سمجھا دی کہ شر اور برائی کا کام کرنے کے بعد اس پر اصرار کرنا اور اس کے ارتکاب کو تسلیم نہ کرنا ابلیسیت ہے اب تو خود اپنا تجزیہ کر کے دیکھ لے کہ تو کس بات پر قانع ہو رہا ہے اگر تیری حالت ایسی ہی ہے کہ شر اور برائی کرلینے کے بعد تو مصر ہے تو انسان ہونے کے باوجود تو شیطان کا چیلا ہے اور اگر شر اور برائی کے ارتکاب کے بعد تجھے تاسف ہوا اور تو شرما گیا اور اپنے ارتکاب جرم کو تسلیم کرلیا اور اپنے رب کریم کے سامنے ہار مان لی ، چت ہوگیا تو تو نے مقصود زندگی پا لیا اگر ملائیت کو یہ تسلیم نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ یہ اس کی انا کا مسئلہ ہے جو سراسر ابلیسیت ہے کیونکہ اس نے سب سے پہلے ( انا خیر منہ) کہا تھا اور اس کو مشخص کر کے یہی بات سمجھائی گئی تھی کہ ارتکاب گناہ اتنا گناہ نہیں ہے جتنا ارتکاب کرنے کے بعد اس کو چھپانا اور گناہ تسلیم ہی نہ کرنا گناہ ہے۔ گویا گناہ کا ہوجانا انسانیت ہے اور گناہ کرنے کے بعد اس کو رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے بھی تسلیم نہ کرنا ابلیسیت ہے اور گناہ کو کرنا دونوں میں بہت برا فرق ہے تا ہم گناہ ہوجائے یا گناہ کیا جائے دونوں صوتوں میں سچے دل سے توبہ ہی اس کا ازالہ ہے اگر اللہ تعالیٰ سچے دل کے ساتھ تا ہم گناہ ہوجائے یا گناہ کیا جائے دونوں صورتوں میں سچے دل سے توبہ ہی اس کا ازالہ ہے اگر اللہ تعالیٰ سچے دل کے ساتھ تا ہم گناہ ہوجائے یا گناہ کیا جائے دونوں صورتوں میں سچے دل تو بہ ہی اس کا ازالہ ہے اگر اللہ تعالیٰ سچے دل کے ساتھ توبہ نصیب فرما دے اور گناہ پر قانع ہوجانا فعل ابلیس ہے جس کا اس جگہ بیان ہے۔ ابلیس اپنے گناہ کے اس فعل پر قانع ہوگیا اور اعلان کردیا کہ اب میرا کام انسانوں کو اغوا کرنا ہے اور سرکشی پر قائم رکھنا اور بلاشبہ فطرت شر کا یہی تقاضا تھا جو اس نے کہا اور جو اس نے کیا۔
Ayah 38:83ابلیس نے اپنے دعویٰ سے اللہ کے بندوں کو خارج کردیا
83۔ ابلیس کا دعویٰ اپنی فطرت کے مطابق تھا کہ جب میں مجسمہ شر ہوں اور ڈھیل ومہلت مجھ کو تو نے دے ہی دی ہے تو اب میں اپنا کام پورے زور وشور سے جاری کروں گا اور تیرے ان انسانوں کو جن کو تو نے اشرف المخلوقات قرار دیا ہے ان کو گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا گویا یہ انسان کی اندرونی اس طاقت و قوت کا اعلان ہے جس کو ابلیس کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور تفہیم کے لیے اس کو مشخص کیا گیا ہے اس نے انسانوں کو گمراہ کرنے کا جو دعویٰ کیا تھا اس دعویٰ سے اللہ کے ان بندوں کو خود ہی خارج کردیا جو کبھی گناہ نہیں کرتے اور اگر ان سے گناہ ہوجاتا ہے تو وہ اس پر کبھی اصرار نہیں کرتے بلکہ اسی وقت اس گناہ کا سرسچی توبہ سے کوٹ دیتے ہیں اور جو گناہ ہوگیا تھا اس کے ہوجانے پر کسی کا گلہ نہیں کرتے بلکہ براہ راست اپنی غلطی تسلیم کرلیتے ہیں کہ اسی طاقت وقوت کی بےراہ روی ہے جس طاقت و قوت کہ ابلیس کہہ کر ان کی تفہیم کرائی گئی تھی۔
Ayah 38:84اللہ تعالیٰ نے اس کو خبردار کردیا کہ میرا کہنا ہی حق ہے
84۔ ابلیس کی اس بات کو کہ میں تیرے ان انسانوں کو جن کو تو نے اشرف المخلوقات ٹھہرایا ہے گمراہ کرنے کی پوری پوری کوشش کروں گا اور میں اپنا جال تو سب پر یکساں پھینکوں گا لیکن تیرے خالص بندے میرے اس جال میں نہیں پھنسیں گے کیونکہ انہوں نے توبہ کا ڈنڈا اپنے ہاتھ میں پوری طاقت سے پکڑ لیا ہے اس لیے وہ میرے اس جال میں آنے والے نہیں اور کہیں آ بھی گئے تو اس توبہ کے ڈنڈے سے جال کو توڑ دیں گے اللہ تعالیٰ نے اس کے اس قول کو سچ بتایا اور (فالحق) کا لفظ بول کر واضح کردیا کہ کوئی کتنا برا کیوں نہ ہو جس سچی بات کو وہ کہتا ہے وہ اس کے کہنے سے جھوٹ نہیں ہوجاتی بلکہ وہ جہاں جائے سچ ہی رہتی ہے خواہ اس کا کہنے والا کوئی ہو لیکن افسوس کہ آج ہمارے علمائے اسلام اس اصول کو بالکل فراموش کرچکے ہیں اور انہوں نے جو قواعد و ضوابط سچ اور جھوٹ کے پرکھنے کے قائم کیے ہیں ان میں اس کی قطعا گنجائش نہیں چھوڑی کہ سچ ہر حال میں سچ ہی ہوتا ہے خواہ اس کا کہنے والا کوئی ہو اور جھوٹ ہر حال میں جھوٹ ہی ہوتا ہے خواہ اس کا کہنے والا کوئی ہو اور یہ کہ نہایت سچا انسان بھی کبھی بھول کر ہی سہی جھوٹ کہہ سکتا ہے اور نہایت ہی جھوٹا انسان بھی کبھی کوئی سچی بات کہہ دیتا ہے لیکن اس جھوٹے کے سچی بات کہہ دینے سے سچی بات پر کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ وہ ہر حال میں سچ ہی رہتی ہے۔ غور کرو کہ ابلیس جو مجسمہ برائی اور شر ہے جب اس نے ایک بات کہی جو بلاشبہ سچی تھی تو اللہ تعالیٰ نے بھی اس سچ کو سچ تسلیم کیا اور اس کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تو نے بھی یہ سچ کیا اگرچہ تو بہت جھوٹ کہنے والا ہے تا ہم میری بات بھی کان کھول کر سن لے میں ہمیشہ سچ کہتا ہوں اور پھر سچی بات آنے والی آیت میں بیان کردی۔
Ayah 38:85فرمایا میں بلا حیل و حجت تجھے اور تیری پیروی کرنے والوں کو دوزخ پہنچا دوں گا
85۔ فرمایا اے ابلیس ! میری وہ سچی بات یہ ہے کہ میں تجھے اور تیرے ان سارے متبعین کو خواہ وہ کون ہوں گے اور کہاں ہوں گے اور کتنے ہوں گے ان سب کو دوزخ رسید کردوں گا اور بلاشبہ دوزخ تم سب سے بھر جائے گی اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہ ہوگی اب تجھے اور تیرے سارے متبعین کو یہ بات طرح یاد رکھ لینی چاہیے کیونکہ میرے طرف سے جو بات کہی جاتی ہے وہ پتھر پر لکیر ہوتی ہے اور اس کے لیے ہونا لازم وضروری ہے اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ تیری پیروی کرنے والوں میں کون لوگ ہوں گے اور اس کے باوجود میں یہ اعلان کر رہا ہوں۔
Ayah 38:86اے پیغمبر اسلام ! آپ بھی اعلان کردیں کہ میں پیغام الہٰی پر کوئی مزدوری طلب نہیں کرتا
86۔ یہ اعلان وہی اعلان ہے جو سارے انبیاء و رسل سے کرایا گیا اور نبی اعظم وآخر محمد ﷺ نے بھی اس کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے بار بار دہرایا اور صرف دہرایا ہی نہیں گیا بلکہ اس پر سختی کے ساتھ قائم بھی رہے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نبوت و رسالت کا پیغام پہنچایا اور دنیا پر ثابت کردیا کہ میں اس معاملہ میں بےغرض انسان ہوں۔ آپ کی مکی زندگی میں قریش کے سرداروں کی طرف سے کئی بار یہ کوشش کی گئی کہ آپ کو جتنا مال و دولت چاہیے ہو اکٹھا کردیتے ہیں اور اپنا قائد و راہنما بھی تسلیم کرلیتے ہیں کئی بڑے سے بڑے خاندان قریش کی مصابرت آپ چاہتے ہوں تو پیش کردیتے ہیں آپ اپنے پیغام میں تھوڑی سی لچک ڈال دیں یا اگر چاہیں تو اللہ میاں سے یہ نرمی کرا دیں لیکن ان کی ساری اسکیمیں فیل ہوگئیں اور آپ نے ان کی کسی بات پر کان نہ رکھا اور زیر نظر آیت میں مزید یہ بھی فرمایا گیا کہ میں ان لوگوں میں سے بھی نہیں ہوں جو اپنی بڑائی قائم کرنے کے لیے جھوٹے دعوے لے کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور وہ کچھ بن بیٹھتے ہیں جو فی الواقع وہ نہٰں ہوتے اور آپ کی پوری زندگی اس پر شاہد وگواہ ہے کہ آُ نے جو فرمایا وہ بلاشبہ حق اور سچ فرمایا اور آپ کے اس سچ کا غیروں نے بھی اعتراف کیا اور مخالفین ومعاندین نے بھی واضح الفاظ میں اس کی تصدیق کی۔ اس کی شہادت کے لیے قیصر کے دربار میں ابو سفیان کی سفارت کے بیان کو دیکھ لیں۔