29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 29:62

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

اللہ ہی اپنے بندوں میں سے (وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم) جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور تنگ کردیتا ہے بلاشبہ اللہ ہرچیز کا علم رکھتا ہے

رزق کا کشادہ کرنے والا اور تنگ کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہے جو علم رکھنے والا ہے : 62۔ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی بعثت کا اعلان کیا تو گزشتہ قوموں کے لوگوں کی طرح جن لوگوں نے آپ کی نبوت و رسالت کو تسلیم کیا وہ غریب لوگ ہی تھے اور ظاہر ہے کہ ایمان لانے کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ اس کو راتوں رات امیر بنا دیا جائے ، ان غریب مسلمانوں کو تنگ کرنے کے لئے کفار مکہ ان کو کہتے تھے کہ تم خدائے حق کے پرستار ہو اور وہ ہرچیز کا مالک ہے اگر اس بات میں ذرا بھی صداقت ہوتی تو تمہاری خستہ حالی کا یہ عالم نہ ہوتا تم اپنی حالت پر غور کرو کہ کھانے کو روٹی اور پہننے کو کپڑا تم کو میسر نہیں اور جن لوگوں سے کچھ ملنے کی تم کو توقع تھی وہ تم نے خواہ مخواہ ختم کرلی اس طرح تم لوگ اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مار رہے ہو اور یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ ضرورت مند کو اس کی ضرورت کا احساس دلوایا جائے اور وہ پوری بھی نہ کی جائے تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہے کفار مکہ نے تو اپنا کام کیا اور بلاشبہ ان کا مقصد نیک نہیں تھا بلکہ ان غریب مسلمانوں کو ان کے دین سے پھیرنا تھا ۔ ۔ اللہ تعالیٰ نے ان غریب مسلمانوں کی ہمت بندھائی اور ان کو سمجھایا کہ رزق کا معاملہ ایمان کے ساتھ وابستہ نہیں کیا گیا اس کے لئے تمہارے اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے جو قانون بنایا ہے اس قانون میں رزق کا تعلق کفر و ایمان کے متعلق نہیں ‘ کفر و ایمان کا تعلق صرف آخرت کے ساتھ ہے یہ بات اللہ کے علم میں ہے کہ کس کو کتنا رزق بہم پہنچانا ہے اس میں کتنی کشادگی ہے اور کتنی تنگی اس لئے وہ بلاشبہ اپنے قانون کے مطابق جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے کشادہ کردیتا ہے جس کو زیادہ ملتا ہے اس کو کیوں ملتا ہے اور جس کو کم ملتا ہے اس کو کم کیوں ملتا ہے ؟ اس میں اس کی حکمت کام کر رہی ہے اور وہ کسی کو کم دے کر آزماتا ہے اور کسی کو زیادہ دے کر ‘ آزمائش میں دونوں ہیں اگر انسان کے لئے یہ آزمائش نہ ہوتی تو انسان کبھی مکلف نہ ہوتا انسان کے مکلف ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اس کی آزمائش کی جانا لازم وضروری ہے اور وہ سب کی ہو رہی ہے اور ہوتی رہے گی ۔ ہم نے اس کی تفصیل عروۃ الوثقی جلد چہارم میں سورة الرعد کی آیت 26 میں کردی ہے جلد پنجم میں سورة بنی اسرائیل کی آیت 30 میں بھی اس کا بیان ہوچکا ہے اسی طرح جلد ششم میں سورة القصص کی آیت 82 میں بھی ہوچکا ہے اس لئے محولہ آیات کی تفسیر دیکھ لیں ۔
Ayah 29:63

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور اگر توُ ان سے پوچھے کہ آسمان سے پانی کس نے برسایا ؟ پھر اس سے مردہ زمین کو (کس نے) زندگی بخشی تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ، کہہ دیجئے کہ تمام اچھی تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں لیکن اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے

بارش برسانے والا اور زمین کو کاشت کے قابل بنانے والا کون ہے ؟ وہ جواب دیں گے اللہ : 63۔ یہ سوال بھی آیت 61 کی طرح مشرکین مکہ اور کفار مکہ ہی سے ہے اور اس لئے ہے کہ وہ آسمان سے بارش برسانے والا اور زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے اور تسلیم کرتے تھے اور ان کو توجہ دلائی گئی ہے کہ جب تم اتنے بڑے نظام کے چلانے والا اور اس کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے اور تسلیم کرتے ہو تو پھر تمہاری حاجت روائی اور مشکل کشائی آخر وہ کیوں نہیں کرسکتا ۔ تعجب ہے تم پر کہ اتنے بڑے عالم کا پیدا کرنے والا اور اس کا نظام چلانے والا تو تم اللہ تعالیٰ ہی کو قرار دو اور جب تمہاری چھوٹی چھوٹی حاجات و ضروریات کا وقت آئے تو تم غیر اللہ کو ان حاجات و ضروریات کا پورا کرنے والا تصور کرو کیا جس نے تم کو پیدا کیا ہے اور جس نے تمہارے ساتھ یہ حاجات و ضروریات لگا دی ہیں وہ ان کو پورا نہ کرسکے اور اس نے ان کے پورا کرنے کے لئے نبیوں ‘ رسولوں ‘ ولیوں اور بزرگوں کو مقرر کیا ہو اور اس لئے تم لوگ ان کے مرنے کے بعد ان کی یاد کو قائم رکھنے کے لئے ان کے بت تراش کر یا قبریں بنا کر یا شبیہیں تیار کرکے ان سے اپنی حاجات اور ضروریات کو پورا کرنے یا کرانے کی اپیلیں کرو ۔ تف ہے تم پر کہ تم اتنی موٹی سی بات کو بھی نہیں سمجھتے کہ اس نے تم کو بنایا اور تمہاری حاجات و ضروریات دوسروں پر چھوڑ دیں اس نے تمہارے لئے گائے اور بھینس بنائی لیکن اس کے تھنوں میں تکلیف ہو تو اس کے دور کرنے کے لئے نور شاہ کو مقرر کردیا ؟ افسوس ہے تم پر کہ تم کیسی باتیں گھڑتے ہو ۔ کفار مکہ کو یہ جواب دے کر نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی تعریف بلند کریں اور الحمد للہ کہیں کہ تمہارے معاندین و مخالفین نے بھی بڑے بڑے کاموں کے کرنے والا تو اللہ ہی کو قرار دیا ، ذرا ان پر محنت کرو اور ان کو ان چھوٹے چھوٹے کاموں کو سرانجام نہیں دے سکتی ۔ اگر نہیں دے سکتی تو آخر کیوں ؟ اگر دے سکتی ہے تو تم دوسروں کے ذمہ کیوں لگاتے ہو ؟ کیوں کہ کہا جائے کہ اس کی حقیقت یہ ہے کہ ان کی اکثریت نادانوں کی ہے لیکن اپنی نادانی کو تسلیم بھی نہیں کرتے ۔
Ayah 29:64

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور یہ دنیا کی زندگی کیا ہے ؟ کچھ بھی نہیں کھیل اور تماشا ہی تو ہے اور اصل زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے کاش ! یہ لوگ بھی سمجھتے (تو اس طرح بہک نہ جاتے)

دنیا کی زندگی کیا ہے ؟ ایک کھیل اور تماشا ‘ حقیقی زندگی تو آخرت ہی کی ہے : 64۔ ذرا غور کرو کہ یہ دنیا کی زندگی کیا ہے ؟ ایک حباب ہی تو ہے جو پانی پر تشکیل پا گیا ہے ابھی موجود ہے اور ابھی غیر موجود اور پھر گیا تو ایسا گیا کہ دوبارہ کبھی اس کی واپسی نہ ہوئی اگر زندگی ایسی ہے تو اس کی لذتوں کا کیا حال ہوگا ذرا پھر غور کرو کہ آج شہنائیاں بج رہی ہیں تو کل ماتم بھی تو ہیں پھر اس زندگی پر اس قدر فریفتہ اور اس کے مقابلہ میں آخرت کی زندگی جس کے بعد کبھی موت ہی نہیں ہوگی اس کا کبھی بھول کر بھی خیال نہیں آیا کیا آپ نے کبھی اس حقیقت پر بھی غور کیا ؟ کیا یہ کھیل اور تماشا ہی نہیں ہے کہ لمحہ بھر کے لئے بڑی رونق اور چہل پہل ہے اور دیکھنے والوں کی کافی بھیڑ اور بہت رش ہے لیکن جونہی کھیل ختم ہوا میدان خالی رہ گیا ۔ کتنا نادان ہے وہ جو اس تماشا گاہ کو اور اس محفل کو ہمیشہ کی محفل اور ہمیشہ کی رونق سمجھ بیٹھا ہے ۔ بلاشبہ یہ حال اس دنیا کا ہے جس میں آج ہم تم اور سب معاصرین رہ رہے ہیں لیکن آنے والے کل میں ہم تم اور سب معاصرین میں سے ایک بھی یہاں موجود نہیں ہوگا گویا ہم سب نے جو کھیلنا تھا وہ کھیل لیا لیکن جب ہی آنکھ بند ہوئی تو ہماری زندگی کا حساب لینے والے پہنچ گئے اور ہماری تھی ہی کیا کہ ساری کی ساری کھیل تماشا میں گزر گئی اور جس مقصد کے لئے ہم سب انسانوں کو یہاں بھیجا گیا وہ تو ہم کو کبھی بھول کر بھی یاد نہ آیا لیکن اب کیا ہوگا ۔ قرآن کریم ہم کو کہتا ہے کہ اس وقت تماشا گاہ سے دار آخرت کی طرف جانے والے کو ہوش آئے گا تو وہ پکارنے لگے گا کہ (رب ارجعونی) (23 : 99) ” اے میرے رب مجھے اس دنیا میں واپس بھیج “ کیوں ؟ اس لئے کہ میں وہاں جا کر اس تماشا میں دو بار شریک ہوجاؤں ؟ نہیں فرمایا وہ کہے گا کہ (آیت) ” لعلی اعمل صالحا فیما ترکت “۔ (23 : 100) امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا ۔ معلوم ہوا کہ ہم نے جس کو کھیل تماشا سمجھا تھا وہ تو ہماری امتحان گاہ تھی لیکن ہم نے تو اس کو کبھی بھی امتحان گاہ نہیں سمجھا لیکن یہ کہنے والے کو کہا جائے گا (آیت) ” کلا انھا کلمۃ ھو قائلھا “۔ (22 : 100) ” ہرگز نہیں یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ بک رہا ہے “۔ زیر نظر آیت میں فرمایا کہ دنیا کی زندگی کی تو کچھ بھی حقیقت نہیں ہے اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے جس کے بعد موت نہیں کاش کہ یہ لوگ بھی اس حقیقت کو سمجھتے ہوتے کہ جہاں اس وقت ہم کو بھیجا گیا ہے یہ گھر ہمارے لئے بالکل عارضی ہے اور اس کو آج نہیں تو کل ہم کو چھوڑ دینا ہے اور اس حباب کی مانند دوبارہ اس جگہ سے ہمارا گزر کبھی نہیں ہوگا تو شاید ان کو کھیل وتماشا نہ سمجھا جاتا یہ مضمون پیچھے نہایت تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے اس لئے یہاں زیادہ تفصیل کی ضرورت نہیں اگر تفصیل دیکھنا ہو تو عروۃ الوثقی جلد سوم میں سورة الانعام کی 32 ‘ الاعراف کی آیت 53 ‘ جلد چہارم سورة ابراہیم کی آیت 44 ‘ 45 ‘ جلد ششم میں سورة المومنون کی آیت 100 سے 106 تک ‘ سورة الشعراء کی آیت 102 وغیرہ میں دیکھ سکتے ہیں ۔
Ayah 29:65

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

پھر جب یہ (لوگ) کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں تو اللہ پر خالص اعتقاد رکھ کر اسے پکارتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ ان کو (طوفان سے) نجات دے کر خشکی میں پہنچا دیتا ہے تو ذرا دیر لگائے بغیر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں

جب کشتی میں سوار ہو کر ہوا کا تھپیڑا کھاتے ہیں تو خالص اللہ کو یاد کرتے ہیں : 65۔ مشرک اس وقت کے ہوں یا اس وقت کے ‘ ان کی عادات ثانیہ میں یہ داخل ہے کہ جب بھی کہیں پھنس جاتے ہیں مثلا یوں سمجھو کہ کشتی میں سوار ہوئے اور کشتی عین سمندر کے درمیان جا کر کسی لہر کے دباؤ میں آگئی اور لگی ہچکولے کھانے تو اس وقت خالصتا اللہ کو پکارنے لگے کہ اے اللہ ! اے روز جزا کے مالک حقیقی ہم کو اس مصیبت سے بچا لے اور اب وہ کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کا نام نہیں لیتے ہاں ! بلاشبہ اس وقت کے مشرک ایسے وقت میں کسی غیر اللہ کا نام نہیں لیتے ہوں گے لیکن اس وقت کے مشرکوں کی یہ بات نہیں ۔ فرمایا پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو اس مصیبت اور کرب والم سے نجات دے دیتا ہے اور وہ خشکی کے پہنچتے ہی دوبارہ انہیں شریکوں کو پکارنے لگتے ہیں بلاشبہ ان مشرکوں کو اس وقت اللہ کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا تھا اور سب کو چھوڑ کر خالص اللہ سے فریادیں کرنے لگے ہیں بلاشبہ ان مشرکوں کو اس وقت نازک وقت میں بھی غیر اللہ ہی کو پکارتے نظر آتے ہیں ہاں ! ان کے لئے صرف ایک وقت ایسا رہ گیا ہے کہ جب وہ کسی کو اللہ کے سوا نہیں پکارتے اور وہ ہے موت کا وقت کہ جب کسی کو موت سے دو چار کردیا جائے تو ان کو کہا بھی جائے کہ (من راق) کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ہے تو اس کو لے آؤ (وظن انہ الفراق) (75 : 25) ” کہ یہ دنیا سے جدائی کا وقت ہے “ لیکن کوئی نہیں جو کھڑا ہو کر کہہ دے کہ ایسے وقت میں مجھے بلا لو میں تمہارے کام آجاؤں گا ہرگز نہیں بلاشبہ قرآن کریم اعلان کرتا ہے کہ ان سے کہا جائے گا کہ (آیت) ” فلولا ان کنتم غیر مدینین ، ترجعونھا ان کنتم صدقین “۔ (56 : 86 ‘ 87) ” واقعی تم کسی کے محکوم نہیں ہو جو تمہیں مرنے کے بعد جزا سزا دے سکتا ہو تو تم اس جانے والے کو واپس کیوں نہیں سمجھنا وہ سمجھ کے قریب آنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتا ۔
Ayah 29:66

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

تاکہ جو ہم نے ان کو دیا ہے اس کی ناشکری کریں اور زمین میں فائدہ اٹھاتے رہیں پس عنقریب یہ (لوگ) جان لیں گے

اچھا وہ ناشکریاں کرلیں اور فوائد حاصل کرلیں عنقریب وہ جان لیں گے : 66۔ اس سلسلہ کی آخری بات ان سے کی جا رہی ہے کہ اچھا کرلو ناشکریاں اور اٹھا لو فائدے اور لطف اندزویاں آخرتم یہ سب کچھ کتنی دیر تک کرو گے بلاشبہ ! آج نہیں تو آنے والے کل تم پکڑ لئے جاؤ گے اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ ” کرتے رہو جو کچھ تم چاہو تمہاری ساری حرکتوں کو اللہ دیکھ رہا ہے ۔ “ (41 : 40) آخر تم جو کرنا چاہتے ہو کب تک کرتے رہو گے جب ہماری پکڑ کا وقت آئے گا تو تمہارا سارا نشہ ہرن ہوجائے گا ۔
Ayah 29:67

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

کیا لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنا دیا ہے حالانکہ ان کے ارد گرد سے لوگ اچک لیے جا رہے ہیں پھر کیا وہ باطل پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں

ہم نے ان کے لئے حرم کو امن کی جگہ بنایا لیکن ناقدروں نے قدر نہ کی : 67۔ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ مکہ والوں کو اپنا ایک عظیم احسان یاد دلایا جا رہا ہے کہ پوری دنیا میں اس قدر کہیں امن کی جگہ نہیں جس طرح کی جگہ ہم نے ان کو حرم بنا کردی لیکن یہ اتنے زبردست ناشکرے اور ناقدر شناس ہیں کہ ان کو ذرا شرم نہیں آئی کہ ہم کیا کر رہے ہیں ‘ مخلوق میں سے جن کو انہوں نے اپنے اولیاء کرام سمجھا ہے ان کے بت بنا کر اپنے پاس رکھ لئے ہیں اور بیت اللہ میں ان کو لا رکھا ہے حالانکہ ان کے اردگرد جو حالت ہے وہ ان سب کی آنکھوں سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے باطل پر ایمان لانے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ساتھ کفر کرنے کو اپنے اوپر لازم کرلیا ہے کہ ہم کو وہی کرنا ہے جس سے ہم کو منع کیا گیا ہے بلاشبہ ضدی لوگوں کی یہی نشانی ہے کہ جو ان کو کرنے کے لئے کہا جاتا ہے وہ نہیں کرتے اور جس سے ان کو منع کیا جائے اس کو کرنا وہ لازم اور ضروری سمجھتے ہیں بلاشبہ اس کا علاج دنیا میں تو یہی ہے کہ جو نہ کروانا چاہتے ہو وہ کرنے کا ان کو حکم دے دو تو بلاشبہ وہ اس کو کبھی نہیں کریں گے اس طرح ان کی ضد بھی پوری ہوئی اور تمہارا مطلب بھی حل ہوگیا اور آخرت میں ان کا علاج دوزخ کی آگ ہی ہو سکتا ہے کہ وہی جگہ ضدی لوگوں کے رہنے کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ بلاشبہ تم ان کو دوزخ سے بچانے کی کوشش کرتے ہو لیکن وہ اس کی طرف دوڑ رہے ہیں اور بھاگ کر گرنا چاہتے ہیں ۔
Ayah 29:68

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور حق کی جب وہ اس کے پاس پہنچ چکا ہے تکذیب کرے کیا کافروں کا ٹھکانا جہنم نہیں ہے ؟ (یقینا جہنم ہی ہے)

اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے ؟ 68۔ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ نے دعوی نبوت و رسالت کیا ہے تو کس کے حکم سے ؟ ظاہر ہے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے حکم سے لیکن آپ کے اس دعوی کو جن لوگوں نے قبول نہیں کیا اور وہ کسی دلیل سے اسے قبول کرنے کے لئے تیار بھی نہیں تو آخر اس کا علاج کیا ہے ؟ یہی کہ ان سے برملا کہہ دیا جائے کہ نبی کریم ﷺ نے دعوی رسالت کیا ہے اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے اور اب ظاہر ہے کہ اس کے دو ہی مفہوم اور مطلب نکل سکتے ہیں ایک یہ کہ رسول اللہ ﷺ کا دعوی غلط ہے اور وہ اللہ کے نام پر جھوٹ باندھ رہا ہے ۔ بات ایسی ہے اگر رسول اللہ صلی اللہ علہا والہ وسلم کا دعوی غلط ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی اور ظالم نہیں ہو سکتا اور اگر اس کا دعوی حقیقت پر مبنی ہے اور تم اسے جھٹلا دیتے تو ظاہر ہے کہ پھر تم سے بڑھ کر اور کوئی ظالم نہیں ہو سکتا اور اس کا تجزیہ کرنے کے بعد نتیجہ یہ نکلے گا کہ تم ہی لوگوں نے کفر کیا ہے اور تم ہی لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور حق سے مراد اس جگہ قرآن کریم بھی ہو سکتا ہے اور نبوت و رسالت بھی پھر اگر نبوت و رسالت مراد ہے تو ظاہر ہے کہ اس سے مراد خود نبی کریم ﷺ ہی کی ذات لی جاسکتی ہے اور ان دونوں کو بھی مراد لیا جاسکتا ہے ۔
Ayah 29:69

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 29:69 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم ضرور اپنا راستہ دکھا دیتے ہیں اور بلاشبہ اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے

جو لوگ ہماری راہ میں جہاد کرتے ہیں ہم انہیں سیدھی راہ دکھا دیتے ہیں : 69۔ جن لوگوں نے محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کی طلب میں اس کے دین کو قائم کرنے کے لئے اپنے نفسی شیطان اور دوسری طاغوتی طاقتوں سے لڑتے ہوئے تن من دھن سے پوری سعی اور کوشش کی ہے اللہ تعالیٰ انہیں تنہا نہیں چھوڑے گا یقینا ان کی دستگیری اور راہنمائی فرمائے گا ان کے لئے اپنی طرف آنے کی راہیں کھول دے گا ‘ یقینا اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کا حامی اور مددگار ہے ۔ چونکہ جہاد کے بارے میں ہم نے تفصیلی گفتگو عروۃ الوثقی جلد ششم میں سورة الحج کی آخری آیت میں کردی ہے اس لئے آپ کی توجہ اس کی طرف مبذول کرائی جا رہی ہے کہ وہاں سے ملاحظہ کریں اور اسی مضمون پر سورة العنکبوت کی تفسیر کو ختم کیا جا رہا ہے ۔ واللہ الحمد ۔ عبدالکریم اثری : یکم جولائی 1997 ء بروز منگل ‘ قبل از صلوۃ ظہر :