29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 29:48

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور تو (اے پیغمبر اسلام ! ) اس سے پہلے نہ تو کوئی کتاب پڑھتا تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتا تھا اگر ایسا ہوتا تو اہل باطل شبہ میں پڑتے (آخر اب ان کے شبہ کا سبب کیا ہے ؟ )

نبوت سے پہلے نبی کریم ﷺ نہ لکھ سکتے تھے اور نہ ہی پڑھ سکتے تھے : 48۔ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ نبوت سے پہلے نہ تو لکھنا جانتے تھے اور نہ ہی پڑھنا کیونکہ آپ ﷺ نے کسی انسان کے سامنے تہ زانو نہیں کئے کہ کسی سے لکھنا اور پڑھنا سیکھا ہو اور یہ واضح طور پر اس بات کی نشانی ہے کہ آپ ﷺ نے قرآن کریم کی عبارت میں سے کچھ بھی اپنی طرف سے بیان نہیں کیا اور نہ ہی نزول قرآن کریم سے پہلے لکھنا پڑھنا جانتے تھے کہ آپ ﷺ نے کسی سے کچھ سیکھ لیا ہو یا کسی سے کچھ پڑھ لیا یا کسی سے کچھ لکھوا لیا ہو جس کو بعد میں املا کیا گیا ہو لیکن نبوت آئی تو نبوت کے ساتھ ہی پڑھنا بھی آگیا اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبوت کے ساتھ وہبی طور پر پڑھنا آگیا نہ کہ اس کی مشق اور اس کی تعلیم لینے سے اور یہی وہ معجزانہ چیز ہے جو نبوت کے متعلق خاص ہے ۔ معروف احادیث میں تفصیل پوری وضاحت سے موجود ہے کہ جب فرشتہ کا نزول ہوا اور اس نے آپ ﷺ کے سامنے کوئی تحریر شدہ چیز پیش کرتے ہوئے کہا کہ پڑھو ‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ما انا بقاری میں پڑھا ہو انہیں پھر ایک بار نہیں تین بار یہ بات ایک دوسرے کے ساتھ دوسرے کے ساتھ دہرائی گئی اور ہر بار فرشتہ نے آپ ﷺ کو بھینچا اس قدر کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میری قوت برداشت جواب دینے لگی بلاشبہ اس کی حقیقت آپ اور میں سمجھنے سے قاصر ہیں کیونکہ ہمارے مشاہدہ میں آنے کی یہ چیز نہیں کہ ہم اس کی حقیقت معلوم کرسکیں ہمارا ایمان ہے کہ جو نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ حق ہے اور حقیقت حال اللہ جانتا ہے یا اس فرشتہ کو معلوم ہوگی یا نبی کریم ﷺ کو جن کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا ، لیکن اس کے بعد کیا ہوا ؟ آپ ﷺ نے لکھا ہوا پڑھنا شروع کردیا یا نہیں اور اس طرح آپ ﷺ کو لکھنا بھی آگیا یا نہیں ؟ اس میں اختلاف ہے اور اختلاف بھی کثیر ہے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس کے بعد آپ ﷺ کو پڑھانا آگیا تھا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کا لکھا ہوا آپ ﷺ پڑھ سکتے تھے اور بعض کا خیال ہے کہ آپ ﷺ کو لکھنا بھی آگیا تھا کہ اس کے بعد آپ ﷺ کو لکھنا بھی آگیا تھا اس کے بعد آپ ﷺ لکھ بھی سکتے تھے اگرچہ جلدی نہیں جس کا تعلق مشق سے ہے لیکن ان لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے اور جن لوگوں نے یہ لکھا ہے ان کو ان کے زمانہ میں بہت مطعون بھی کیا گیا ہے اور کفر کے فتوی بھی صادر کئے گئے ہیں اور اکثریت یہی کہتی ہے کہ نہ تو آپ ﷺ کو پڑھنا آتا تھا یعنی کسی لکھا ہوا اور نہ ہی لکھنا بلکہ وہ وحی الہی جو فرشتہ آپ ﷺ کے سامنے پڑھتا تھا اسی وقت آپ ﷺ کو ازبر ہوجاتی تھی اور اس کو آپ ﷺ آگے لکھوا دیتے تھے نہ تو آپ ﷺ کسی کا لکھا ہوا پڑھ سکتے تھے اور نہ ہی خود لکھ سکتے تھے ‘ نہ نبوت و رسالت سے پہلے اور نہ نبوت و رسالت کے بعد اور پھر تینوں فریق اپنے دلائل پیش کرتے ہیں ، کثرت چونکہ کثرت ہی ہوتی ہے وہ تو آج بھی اپنا آپ اسی طرح منوائے ہوئے ہے اور منوائے رہے گی کیونکہ کثرت کو کسی دلیل کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی وہ خود اپنی کثرت کے باعث سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے اور وہ صرف اس ایک ہی بات میں نہیں بلکہ سینکڑوں باتوں میں ہے ، ہمارے خیال میں صحیح بات ان ہی لوگوں کی ہے جو نبوت کے بعد آپ کا پڑھنا اور لکھنا دونوں کو تسلیم کرتے ہیں اور پھر صرف یہی نہیں بلکہ اس وقت کی ساری زبانیں جن میں تحریر ہوتی تھیں آپ پڑھ سکتے تھے اور بلاشبہ آپ پڑھتے رہے اور اس طرح ہمارے خیال میں آپ کو لکھنا بھی آتا تھا اگرچہ بہت ہی کم لکھتے تھے اور بلاشبہ آپ کا لکھنا ناخواندوں کی طرح کا نہیں تھا بلکہ نہایت صاف اور ستھرا تھا اور بلاشبہ یہ دونوں باتیں آپ کو وہبی طور پر عطا ہوئی تھیں اور نبوت کے ساتھ ہی دی گئی تھیں ۔ آپ ﷺ نے نبوت سے پہلے یا نبوت کے بعد کسی انسان سے لکھنا پڑھنا بلاشبہ نہیں سیکھا اس کی وضاحت ہم پیچھے عروۃ الوثقی جلد چہارم سورة یونس جلد پنجم سورة النحل ‘ سورة بنی اسرائیل ‘ جلد ششم ‘ سورة المومنون اور سورة القصص میں کرچکے ہیں تاہم اس جگہ مزید عرض کریں گے ہمارا موقف ہماری تفہیم ہے جو سمجھا ہے من وعن دیانت کے ساتھ پیش کردیا ہے لیکن کسی سے اس سلسلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور نہ ہی کسی قسم کا کسی کے خلاف کوئی فتوی ہے ۔ ہاں ! آپ کو حق ہے کہ آپ پوچھیں کہ ہمارے استدلال کی اصل بنیاد کیا ہے تو ہم ضرور عرض کریں گے کہ وہ اس طرح ہے : نبوت عطا ہوئی تو آپ ﷺ کو لکھنا پڑھنا بھی معجزانہ طور پر عطا ہوا : نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ محمد رسول اللہ ﷺ نے کسی شخص سے لکھنا یا پڑھنا نہیں سیکھا اور آپ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے ۔ دو الگ الگ باتیں ہیں ۔ بلاشبہ جہاں تک کسی سے سیکھنے کا تعلق ہے کہ آپ ﷺ نے کسی سے لکھنا اور پڑھنا نہیں سیکھا تھا بالکل صحیح ہے اور اس بات کا زمانہ گواہ ہے اور اس وقت کا سارا ماحول اور خصوصا قریش مکہ کا ایک ایک فرد اس بات کو جانتا اور مانتا تھا رہی یہ بات کہ آپ ﷺ نبوت کے بعد بھی لکھنا اور پڑھنا نہیں جانتے تھے تو یہ بالکل صحیح نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ جب تک بلکہ جس وقت تک آپ ﷺ کو نبوت کا پیغام نہیں ملا تھا چونکہ آپ ﷺ ناخواندہ تھے اس لئے نہ تو پڑھ سکتے تھے اور نہ ہی لکھ سکتے تھے لیکن جونہی آپ صلی اللہ علہی والہ وسلم کو نبوت عطا ہوئی تو معا آپ ﷺ کو لکھنا بھی آگیا اور پڑھنا بھی اور یہی آپ ﷺ کے مبعوث ہونے کا وہ پہلا معجزہ ہے جو آپ ﷺ کو عطا ہوا اور پھر یہ معجزہ آپ ﷺ ہی کو نہیں بلکہ سارے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور رسل عظام (علیہ السلام) کو حاصل ہوا ۔ وضاحت اس کی آگے آئے گی ، زیر نظر آیت میں بھی یہی کچھ بیان کیا گیا ہے اور حدیث میں اس کی وضاحت موجود ہے چناچہ بخاری شریف میں ہے کہ : عن عروۃ بن الزبیر عن عائشۃ ام لمؤمنین ؓ انھا قالت اول مابدی رسول اللہ ﷺ من الوحی الرؤیا الصالحۃ فی النوم فکان لا یری رؤیا الا جاءت مثل فلق الصبح ثم حبب الیہ الخلاء وکان یخلوا بغار حرآء فیتحنث فیہ وھو التعبدا للیالی ذواتالعدد قبل ان ینزع الی اھلہ وینزود لذلک ثم یرجع الی خدیجۃ فیتزود لمثلھا حتی جاءہ الحق وھو فی غار حراء فجاءہ الملک فقال اقرافقال فقلت ما انا بقاری قال فاخذنی فغطنی حتی بلغ منی الجھد ثم ارسلنی فقال اقرافقلت ما انا بقاری فاخذنی فغطنی الثانیۃ حتی بلغ منی الجھد ثم ارسلنی فقال اقرافقلت ما انا بقاری قال فخذنی فغطنی الثالثۃ ثم ارسلنی فقال اقرا باسم ربک الذی خلق خلق الانسان من علق اقرا وربک الاکرام فرجع بھا رسول اللہ ﷺ یرجف فوادہ ۔ ” ما انا بقاری “ کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ اس وقت تک بلاشبہ پڑھنا لکھنا نہیں آتا تھا لیکن ناموس نبوت نے جب تیسری بار (فغطنی) آپ ﷺ کو بھینچا اور سورة اقراء شروع کرائی تو پہلی دس آیتوں کے ساتھ ہی آپ ﷺ پڑھنے لگے اور پھر پڑھتے ہی رہے جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کو زندگی عطا ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ عیہک والہ وسلم اس دنیا میں رہے پڑھتے ہی رہے ۔ ” وعلم بالقلم “ کے تحت آپ ﷺ نے بلاشبہ ضرورت کے لئے لکھنا بھی شروع کردیا ” وعلم الانسان مالم یعلم “ کے تحت جتنا جاننا نبوت اور رسالت کے لئے ضروری تھا بلاشبہ وہ آپ ﷺ کو عطا کردیا گیا اور بلاشبہ یہ تینوں چیزیں آپ ﷺ کو بیک وقت بطور نبوت عطا ہوئی تھیں ان میں سے ایک بھی آپ ﷺ نے نہیں سیکھی تھی اس لئے کہ نبوت و رسالت کوئی سیکھنے کی چیز ہی نہ تھی ۔ نبوت کیا تھی ؟ ایک طیعن امر تھا جو ہونے والے نبی میں ودیعت کیا جاتا تھا : جس کو اللہ تعالیٰ نے نبی ورسول بنانا ہوتا تھا اس کی فطرت میں یہ چیز ودیعت کردی جاتی تھی اس لئے کہ نبوت و رسالت کوئی کسبی چیز ہی نہیں تھی ہر نبی ورسول کو اس وقت سے پہلے جب اس کو نبی ورسول بنا نہ دیا جاتا وہ نبی ورسول بنایا جانے والا بھی نہیں جانتا تھا کہ میں نبی یا رسول بنایا جاؤں گا بلکہ اس کو اس وقت ہی معلوم ہوتا جب اس کو ناموس نبوت و رسالت مخاطب کرتا اور اسی وقت اس کے اندر کی طبعی قوت بیدار ہوجاتی جس طرح باقی طبعی قوتیں بھی جو انسان کے اندر موجود ہیں لیکن ایک خاص وقت ایسا آتا ہے کہ وہ بیدار ہوجاتی ہیں اور جب ان میں سے کوئی قوت بیدار ہوتی ہے تو اس کے ساتھی وہ ذمہ داری اس پر لازم ہوجاتی ہے جو اس کی بیداری سے پہلے لازم نہیں ہوتی ۔ ایک انسان کا بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے اندر ماں ‘ باپ بننے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے اسی طرح عقل وفکر کی قوت اور صلاحیت بھی موجود ہوتی ہے اور اسی طرح اس کے اندر چلنے پھرنے ‘ اٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے کلام کرنے اور کلام سکھانے ‘ کھلانے پلانے اور کمانے کی ساری صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں لیکن جس قوت وصلاحیت کے بیدار ہونے کا وقت آتا ہے تو وہ بیدار ہوتے ہی وہ کام شروع کردیتا ہے اور اسی طرح وہی بچہ جو نوزائیدہ ہونے کے باعث ان ساری چیزوں سے محروم تھا آہستہ آہستہ ان سب کی سب صلاحیتوں سے بہرہ ور ہوجاتا ہے پہلا مرحلہ بیٹھنے کا ‘ دوسرا مرحلہ ایں وآں کرنے کا اور تیسرا مرحلہ کھڑا ہونے کا ‘ چوتھا مرحلہ قدم اٹھا کر رکھنے کا جب شروع ہوجاتا ہے تو ساتھ ہی وہ ایں وآں ‘ بابا ‘ امی ‘ ماما ‘ ماموں اور چچا میں تبدیل ہونا شروع ہوجاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے پھر وہ رسم ’ بسم اللہ “ تک پہنچ جاتا ہے اور مسجد ومکتب سے گزرتا اور کالج اور یونیورسٹی تک پہنچ جاتا ہے اور ادھر ساتھ ہی اس میں ماں ‘ باپ ہونے کی صلاحیت بھی انگڑائیاں لینا شروع کردیتی ہیں اور پھر جو کچھ ہوتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں کیونکہ اب عقل بھی بیدار ہے سمجھ سوچ بھی مکمل ہے ‘ نفع ونقصان کی سمجھ بھی پیدا ہوجاتی ہے اور آہستہ آہستہ وہ خود کفیل ہو کر ساری ہی باتوں میں کفیل ہوجاتا ہے ، غور کرو کہ یہ ساری چیزیں اپنے اپنے وقت پر بیدار ہوئیں صحیح لیکن کیا پہلے روز سے یہ اس بچہ میں ودیعت نہیں کردی گئی تھیں ؟ جس طرح یہ قوتیں پہلے ہی روز سے ودیعت کی گئی تھیں اور پھر ہر انسان میں وہ موجود ہونے کے باوجود ایک ہی طاقت وقوت کی نہیں تھیں بلکہ ان میں فی نفسہ کمی بیشی اور ان کے بیدار ہونے میں وقت کی کمی بیشی بھی موجود تھی اور اسی طرح وہ بیدار ہوئیں بعینہ نبوت و رسالت کی قوت وصلاحیت بھی جن کو نبی ورسول بنایا جانا علم الہی میں موجود تھا ان میں یہ صلاحیت بھی ودیعت تھی جو اپنے وقت پر اجاگر ہوگئی اور اس طبعی صلاحیت کے تحت ان کو نبوت و رسالت پر فائز کردیا جاتا تھا اور اسی کا نام اصطلاح شریعت میں معبوث ہونے سے تعبیر کیا جاتا تھا ۔ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ میں بھی یہ نبوت و رسالت کی طبعی طاقت وصلاحیت روز اول ہی سے ودیعت کی جا چکی تھی لیکن جب اس کے اظہار ہونے کا وقت آیا تو آپ ﷺ نے تخلیہ کو پسند کرنا شروع کردیا اور تفکر و تدبر کی طبعی قوت بیدار ہونا شروع ہوگئی جب وہ اپنی انتہا کو پہنچی تو وہ طبیہ چیز جس کا ملکہ نبوت و رسالت سے تعبیر کیا جاتا تھا وہ بیدار ہوئی اور اس کی انگڑائی کے نتیجہ میں ملک نبوت کے لئے ” فغطنی “ کا استعارہ استعمال ہوا اور اس تیسرے جھٹکے میں وہ مکمل طور پر بیدار ہوگیا اور ایک ہی بار آپ ﷺ کو تینوں چیزوں سے نوازا گیا اور آج سے آپ ﷺ نبوت و رسالت پر فائز ہوگئے ، آپ ﷺ کے لئے باوجود ناخواندہ ہونے کے نہ تو پڑھنا ہی کوئی مشکل رہا ‘ نہ ہی لکھنا اور نبوت و رسالت کا پیغام پہنچانا اور آپ ﷺ نے یہ تینوں کام نبوت و رسالت کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے جس قدر ضروری تھے وہ شروع دیئے اور بحمد اللہ اس ذمہ داری کو آپ ﷺ نے خوب پورا کیا اس طرح بلاشبہ آپ ﷺ امی تھے اور امی ہونے کے چار مفہوم ہیں جو ہم نے عروۃ الوثقی کی جلد سوم میں سورة الاعراف کی آیت 157 کے تحت بیان کردیئے ہیں وہاں ملاحظہ کریں ۔ آپ ﷺ میں پائے جاتے تھے اسی لئے لاریب آپ ﷺ امی تھے لیکن آپ ﷺ جاہل نہیں تھے بلکہ سب انسانوں سے زیادہ جاننے والے تھے اور اس جاننے کے ساتھ آپ ﷺ لکھنے اور پڑھنے والے بھی ہوگئے اور یہی وہ معجزہ نبوت ہے جو آپ ﷺ کے معاصرین کے سامنے پیش کیا گیا کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ اس سے پہلے کوئی کتاب نیث پڑھتے اور نہ ہی اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے (اگر آپ پڑھتے اور لکھتے ہوتے تب ان کا یہ الزام درست ہوتا) اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست شک میں پڑ سکتے تھے ۔ “ اچانک آپ ﷺ کا ان لوگوں کے سامنے پیغام رسالت ونبوت پیش کرنا ہی ان کے لئے بطور نشان کافی تھا اگر ان کو ماننا اور تسلیم کرنا ہوتا تو مزید نشانیاں طلب کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی کہ سو نشانیوں کی ایک نشانی ان کے کافی تھی ، پھر جن لوگوں کا ارادہ ماننے کا نہ ہو ان کو آخر کون منوا سکتا ہے ۔ بلاشبہ آپ ﷺ نے کسی انسان سے نبوت سے پہلے یا بعد لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا : بلاشبہ آپ ﷺ کے لئے کسی انسان کے سامنے تہ زانوں کرنے اور پڑھنا اور لکھنا سیکھنے سے آج بھی نفی کی جانی لازم وضروری ہے لیکن جس طرح بغیر کسی کسب وکمائی کے آپ ﷺ کو نبوت و رسالت عطا ہوئی اس ضمن میں لکھنا اور پڑھنا بھی ملا پھر جب آپ ﷺ کی نبوت و رسالت سے اقرار ہے تو آپ ﷺ کے لکھنے اور پڑھنے سے کیوں انکار کیا جائے جس نے اب بھی آپ ﷺ کے لکھنے اور پڑھنے سے انکار کیا بلاشبہ وہ نبوت و رسالت کے دو حصوں سے انکاری ہوگیا اور جس نے آپ ﷺ کے پڑھنے کا تو اقرار کیا ‘ لکھنے کو تسلیم نہ کیا تو اس نے نبوت کے تیسرے حصہ سے انکار کردیا اگرچہ اس کا یہ انکار کم فہمی اور ناسمجھی ہی کی وجہ سے کیوں نہ ہو ۔ اگر آپ کو اس معاملہ میں اکثریت کا ہوا آڑے ہے تو اس کی قرآن کریم نے کئی بار وضاحت فرما دی کہ جب سے اس دنیا کا نظام قائم ہے اس میں کم فہموں اور کم عقلوں ہی کی تعداد زیادہ ہے اس کی پوری وضاحت ہم پیچھے عروۃ الوثقی جلد سوم میں سورة الانعام کی آیت 116 میں کرچکے ہیں ۔ بنات قلت و کثرت کی نہیں حقیقت کو سمجھنے کی ہے اور وہ یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ باوجود کسی انسان سے لکھنا پڑھنا نہ سیکھنے کے نبوت سے پہلے تو لکھ اور پڑھ نہیں سکتے تھے ، ہر وہ شخص جس کی کچھ بھی نظر احادیث پر ہے اور اس نے علم حدیث سیکھایا پڑھا ہے وہ جانتا ہے کہ احادیث میں احد ‘ اثنین ‘ ثلاثۃ ‘ اربعۃ ‘ خمسۃ ‘ ستۃ ‘ سبعۃ ‘ ثمانیۃ ‘ تعسعۃ ‘ عشر ‘ احدعشر ‘ اثنا عشر ‘ عشرون ‘ ثلاثین ‘ ربعین ‘ خمسین ‘ ستین ‘ سبعین ‘ ثمانین ‘ تسعون ‘ مائۃ ‘ ثلاث مائۃ اربع مائۃ ‘ الف ‘ الفین ‘ ثلاثۃ الاف ‘ اربعۃ الاف ‘ خمسۃ الاف ‘ خمسین الف ‘ ستین الف (ساٹھ ہزار) الف الف (دس لکھ) اربعین الف الف (چار کروڑ) تک کی گنتی آئی ہے اور یہ کسی ناخواندہ اور نہ لکھ پڑھ سکنے والے انسان کے بس کی بات نہیں بلاشبہ اس طرح کی گنتی کو وہی بیان کرسکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بہت ہی کچھ لکھایا اور پڑھایا ہو کیونکہ آپ ﷺ کو ان اعداد کے بولنے ‘ پڑھنے اور لکھنے کا معلوم تھا اور اس معاملہ میں آپ انجان نہیں تھے ، یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے سورة یونس کی آیت 5 ‘ سورة بنی اسرائیل کی آیت 12 میں آپ ﷺ کے متعلق شمسی وقمری مہینوں ‘ سالوں اور صدیوں کے جاننے والے کی وضاحت کردی ہے کہ آپ ﷺ کو ان ساری باتوں سے اچھی طرح واقفیت تھی اور قمری وشمسی مہینوں اور سالوں کے فرق سے آپ ﷺ اچھی طرح آگاہ تھے ، وضاحت کے لئے عروۃ الوثقی جلد چہارم ‘ سورة یونس جلد پنجم ‘ سورة بنی اسرائیل کی آیت 12 کی تفسیر ملاحظہ کریں ۔ یہ بات ثابت ہے کہ آپ ﷺ لکھنا اور پڑھنا جانتے تھے اور آپ ﷺ کو سکھانے والا اللہ تعالیٰ تھا : آپ ﷺ نے ناخواندہ لوگوں کو اس طرح تعلیم دی ہے جس طرح ایک خواندہ ‘ ناخواندہ آدمی کو تعلیم دیتا ہے چناچہ حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے رمضان المبارک کے مہینہ کی وضاحت کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کے اشارہ کے ساتھ ” الشھر ھکذا وھکذا کے الفاظ ادا کئے اور ہاتھوں کو تین بار کھول کر اور بند کرکے بتایا کہ مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے اور دوسری بار پھر آپ ﷺ نے یہی طریقہ اختیار کیا لیکن دوسری بار میں آخری دفعہ ایک انگوٹھے کو بند کردیا اور اس طرح ان ناخواندہ لوگوں کو بتایا کہ کبھی مہینہ 29 دن کا بھی ہوتا ہے ۔ تعجب ہے کہ یہ مثال ہمارے مفسرین اور شارحین احادیث نے آپ ﷺ کی ناخواندگی پر محمول کی ہے جو سراسر غلط ہے ناخواندہ ‘ خواندہ لوگوں کے سامنے مثال دینے کے لئے یہ صورت اختیار نہیں کرتا بلکہ ایک خواند ہی ناخواندہ لوگوں کو اس طرح سمجھا سکتا ہے ۔ لیکن افسوس کہ ہم نے شاید بات کرنے سے پہلے کبھی سوچنے کی کوشش ہی نہیں کی ورنہ ہماری حالت ایسی نہ ہوتی کہ جو منہ میں آیا بیان کردیا اگرچہ زبان کچھ کہہ رہی ہو اور ہم کچھ کہنا چاہتے ہوں ۔ قرآن کریم اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ نبوت و رسالت ہبہ کردی گئی تو بلاشبہ وہ سب کچھ جان گئے جو نبوت و رسالت کے لئے جاننا ضروری تھا جیسا کہ ارشاد الہی ہے کہ : (آیت) ” وَکَذَلِکَ أَوْحَیْْنَا إِلَیْْکَ رُوحاً مِّنْ أَمْرِنَا مَا کُنتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتَابُ وَلَا الْإِیْمَانُ وَلَکِن جَعَلْنَاہُ نُوراً نَّہْدِیْ بِہِ مَنْ نَّشَاء مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّکَ لَتَہْدِیْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (الشوری 42 : 52) ” اور اسی طرح اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ہم نے اپنے حکم سے ایک روح تمہاری طرف وحی کی ہے تمہیں کچھ معلوم نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے مگر اس روح کو ہم نے ایک روشنی بنا دیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں اور یقینا تم سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کر رہے ہو ۔ “ اس آیت میں آپ ﷺ کے کتاب اور ایمان جاننے کی نفی کی گئی ہے کہ آپ ﷺ نہ تو کتاب سے شناساں تھے اور نہ ہی ایمان کے بارے میں آپ ﷺ کو کچھ معلوم تھا ‘ لیکن کب ؟ نبوت سے پہلے ‘ کیا نبوت کے بعد بھی آپ ﷺ نے ان دونوں چیزوں کو نہیں جانا تھا ؟ کیوں نہیں ان دونوں چیزوں کے جاننے ہی کا نام نبوت و رسالت ہے ، جس طرح اس آیت میں کتاب و ایمان کی نفی ہے اسی طرح سورة العنکبوت کی زیر نظر آیت میں پڑھنے اور لکھنے کی نفی کئی گئی ہے کہ آپ ﷺ نہ تو لکھنا جانتے تھے اور نہ پڑھنا لیکن کب ؟ نبوت سے بات کتنی واضح تھی لیکن علماء کرام اس معاملہ میں ایک جگہ اڑ گئے اور ایسے اڑے کہ سمجھنے کا نام ہی نہ لیا بلکہ گزشتہ دور میں جس نے اس کی اس طرح وضاحت کی جس طرح ہم وضاحت کر رہے ہیں تو اس وقت کے علماء کرام نے ان کو وہ مار ماری کہ وہ آج تک چیختے نظر آتے ہیں اور اس طرح چیختے ہوئے نظر آنا علمی طور پر ہے ۔ چناچہ اس جگہ ہم ایک مناظرہ کا ذکر کرتے ہیں جس سے یہ بات واضح ہوجائے گی ۔ مناظرہ جو ابو الولید الباجی اور علماء مصر کے درمیان ہوا : براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ذیقعدہ 6 ہجری میں عمرہ کرنے کا ارادہ کیا جب آپ ﷺ مکہ کے قریب ایک مقام پر پہنچے اور مکہ والوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے آپ ﷺ کو اور دوسروں کو روکنے کی کوشش کی اسی طرح بات بڑھی تو ایک فیصلہ نبی کریم ﷺ اور قریش مکہ کے درمیان طے پایا جس میں جو شروط طے ہوئیں ان میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ اس سال عمرہ نہیں کریں گے بلکہ اس جگہ سے واپس چلے جائیں گے لیکن آئندہ سال مسلمانوں کو عمرہ کی اجازت ہوگی تاہم مسلمان مکہ میں تین دن سے زیادہ نہیں ٹھہریں گے یہ اور اسی طرح کی دوسری شرطیں جب زبانی طے ہوگئیں تو ان کو تحریر کرنے کے لئے کہا گیا پھر جب ان شروط کو لکھنے کے لئے بےٹھ تو نبی کریم ﷺ کی طرف سے اس پر لکھا گیا کہ ” ھذا ما قاضانا علیہ محمد رسول اللہ ﷺ تو مکہ کے لوگوں نے اعتراض کردیا کہ ہم جب آپ کو اللہ کا رسول نہیں مانتے تو اس تحریر پر آپ کی رسالت کا ذکر کیوں ہے جب کہ آپ کو ہم محمد بن عبداللہ جانتے ہیں تو آپ ﷺ اس معاہدہ میں یہی تحریر کریں ۔ رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ کو کہا کہ آپ محمد رسول اللہ میں سے ” رسول اللہ “ کے لفظ کو ہٹا دیں اور اس کی جگہ محمد بن عبداللہ تحریر کردیں تو علی ؓ نے اس کو ہٹانے سے گریز کات تو ” فاخذ رسول ﷺ ال کتاب فلیس یحسن یکتب فکتب ھذا ما قاضی محمد بن عبداللہ لا یدخل مکۃ السلام الا السیف فی القراب (آخر تک) رسول اللہ ﷺ نے ان کے ہاتھ سے کاغذ لے لیا اگرچہ آپ ﷺ کو خوبصورت لکھنا نہیں آتا تھا لیکن آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس پر لکھنا شروع کیا کہ یہ وہ صلاح نامہ ہے ۔ اس پر محمد عبداللہ کے بیٹے نے فیصلہ کیا کہ آپ مکہ میں ہتھیار نہیں لائیں گے صرف تلواریں لاسکتے ہیں لیکن وہ بھی غلاف میں بند ہوں گے (اس طرح آخر تک) آپ ﷺ نے اس کو لکھ دیا ۔ (صحیح بخاری پارہ 17 باب عمرۃ القضا) اس حدیث کے پیش نظر سورة العنکبوت کی زیر بحث آیت سے امام ابوالولید الباجی نے استدلال کیا کہ آپ ﷺ لکھنا جانتے تھے یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس کو لکھا ‘ چناچہ تحریر ہے کہ ” وقد تسمک بظاھر ھذہ الروایۃ ابو الولید الباجی فادعی ان النبی ﷺ کتب بیدہ بعد ان لم یکن بحسن یکتب فشنع علی علماء الاندلس فی زمانہ ورموہ بالذندقۃ وان الذی قالہ یخالف القران حتی قائل قائلھم برئت ممن شری دنیا بالاخرۃ وقال ان رسول اللہ قد کتب فجمعھم الامیر فاستظھر الباجی علیھم بما لدیہ من المعرفۃ وقال لامیر ھذا لا ینافی القرآن بل یوخذ من مفھوم القران لانہ قید النفی بما قبل ورد القران فقال وما کنت تتلوا من قبلہ من کتاب ولا تحط بیمینک و بعد ان تحققت امیۃ وتقررت بذلک معجزتہ وامن الارتیاب فی ذلک لا مانع من ان یعرف الکتابۃ بعد ذلک من غیر تعلیم فنکون معجزتہ اخری وذکر ابن دحیۃ ان جماعۃ من العلماء وافقوا الباجی فی ذلک منھم شیخہ ابوذرالھروی وابو الفتح النیسابوری واخرون من علماء افریقۃ وغیرھا (بخاری مع النووی پارہ 17 ص 22) ” صلح حدیبیہ کے موقع پر جو تحریر رسول اللہ ﷺ نے لکھی جس کا ذکر حدیث شریف میں ہے اس سے ابوالولید الباجی نے استدلال کیا کہ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے ہاتھ سے تحریر کرسکتے تھے اگرچہ وہ زیادہ خوشخط نہ ہوں یا یہ کہ زود نویس نہ ہوں اور بلاشبہ آپ کا لکھنا معجزانہ لکھنا تھا کہ آپ ﷺ نے کسی سے لکھنا اور پڑھنا سیکھا نہیں تھا ۔ باجی صاحب کا یہ کہنا تھا کہ علمائے اندلس آپ کے خلاف ہوگئے اور آپ کو ملحد اور زندیق کہا گیا اور لوگوں میں تشہیر کی کہ الباجی کا یہ مسلک قرآن کریم کے خلاف ہے کیونکہ قرآن کریم میں آپ ﷺ کو امی بتایا گیا ہے ۔ حاکم وقت کو جب یہ شکایت پہنچی تو اس نے الباجی صاحب اور علماء کے درمیان مناظرہ کرایا ۔ مناظرہ میں الباجی صاحب نے علماء اندلس کے نظریہ کا رد کرتے ہوئے کہا کہ میرا یہ نظریہ قرآن کریم کے خلاف نہیں بلکہ اس کے موافق ہے اور یہ کہ صرف موافق ہی نہیں ہے بلکہ اس سے ثابت ہے ۔ پھر الباجی صاحب نے دلیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم میں (من قبلہ) کی قید لگا کر صاف بتا دیا ہے کہ قرآن کریم کے نزول سے پیشتر آپ ﷺ لکھنا اور پڑھنا نہیں جانتے تھے اور اس کلام سے خود بخود واضح ہوجاتا ہے کہ قرآن کریم کے نزول کے ساتھ ہی آپ ﷺ کو لکھنا اور پڑھنا براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکھا دیا گیا تھا کیونکہ یہ لزومات نبوت و رسالت سے تھا ۔ ابو الولید الباجی صاحب نے کہا کہ یہ تو آپ کے معجزات نبوت میں سے ایک بہت بڑا معجزہ تھا جو آپ کے زمانہ کے لوگوں کے لئے ایک زبردست دلیل تھا کہ آپ ﷺ نے کسی انسان سے ہرگز کوئی چیز نہ سیکھی تھی اور اس کے باوجود آپ ﷺ ضرورت کے لئے لکھتے بھی اور پڑھتے بھی اور یہ آپ ﷺ کی امیت کے خلاف نہیں بلکہ اس کے لئے زبردست دلیل ہے ابن دحیہ نے کہا کہ الباجی صاحب کے دلائل غالب رہے جس سے الباجی کامیاب ہوئے بلکہ آپ کے زمانہ کے بہت سے علماء نے آپ کا مسلک تسلیم کرلیا جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں شیخ ابو ذرالہروی اور ابو الفتح النیسابوری اور قاضی ابو جعفر سمنانی وغیرہ خاص کر قابل ذکر ہیں ۔ “ خصائص الکبری ج 2 ص 236 میں بھی اس واقعہ کی تفصیل ذکر کی گئی ہے اور بخاری شریف کی اس حدیث کے ضمن میں امام نووی شرح مسلم میں ص 105 ج 2 قاضی عیاض (رح) سے نقل کرتے ہیں کہ احتج بھذا اللفظ بعض الناس علی ان النبی ﷺ کتب بذلک بیدہ علی ظاھر ھذا للفظ ” کہ ظاہر الفاظ سے تو یہی بات واضح اور روشن ہوتی ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے تحریر فرمایا جیسا کہ بہت سے ذی علموں نے اس کا ذکر کیا ہے ۔ یزید بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ہم نے ایک شخص کے پاس ایک خط لکھا ہوا دیکھا جو اس طرح تحریر تھا کہ ” من محمد رسول اللہ الی بنی زھیربن اقیش انکم ان شھدتم ان الا الہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ ﷺ واقمتم الصلوۃ واتیم الزکوۃ ادیتم الخمس من المغنم وسھم النبی ﷺ وسھم الصفی انتم امنون بامان اللہ ورسولہ تو اس سے دریافت کیا کہ یہ تحریر تجھے کس نے لکھ کردی ہے تو اس نے کہا یہ نبی کریم ﷺ کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ہے اس سے کہا گیا کہ ہاں ! آپ ﷺ نے لکھوا کردی ہوگی تو وہ کہنے لگا کہ نہیں یہ تو رسول اللہ ﷺ کے اپنے دست مبارک سے لکھی گئی تھی ۔ (ابو داؤد ج 2 ص 66) ” ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجاعہ بن مرارہ کو ایک خط لکھ کردیا جسے اس کے پوتے ہلال نے خلفیہ عمر بن العزیز کو دکھایا تو فاخذہ عمرقبلہ ووضع علی عینیہ ومسح بہ وجھہ وجاء ان یصیب وجھہ موضع ید رسول اللہ ﷺ انہوں نے اسے پکڑ کر چوما اور سر آنکھوں پر لگایا کہ میں قربان جاؤں یہ میرے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں کا لکھا ہوا ہے ۔ “ (الاسماء ولکنی ص 111 ج 2) صلح حدیبیہ کے نبی کریم ﷺ نے مدینہ طیبہ جا کر بادشاہوں کو خطوط لکھے اس وقت تک ابھی انگشتری آپ ﷺ کے پاس موجود نہیں تھی اور انگوٹھا کا رواج بھی نہ تھا فقط تحریر پر دستخط ثبت ہوتے تھے لہذا آپ ﷺ نے بعض تحریریں لکھیں اور دستخط بھی کئے جس کا ثبوت صحیح روایات میں موجود ہے علاوہ ازیں درمنثور ج 5 ص 148 بحوالہ سنن بیہقی عن عبداللہ بن مسعود ؓ ‘ در منثور بحوالہ عبدالرزاق ‘ ابن جریر ‘ ابن منذر ‘ ابن ابی حاتم سے مروی ہے ۔ درمنثور ص 131 ج 3 بحوالہ ابن ابی حاتم ‘ ابو شیخ ابراہیم النخعی سے مروی ہے ‘ فتح الباری ص 22 پارہ 17 بحوالہ ابن ابی شیبہ وعمر بن شیبہ اور خصائص الکبری ص 236 ‘ ج 2 میں بحوالہ طبرانی ص 131 ج 2 میں بحوالہ ابو الشیخ مجاہد سے مروی ہے ۔ فتح الباری پارہ 17 ص 22 میں بحوالہ ابن ابی شیبہ اور یونس بن میسرہ سے مروی ہے کہ اس نے ابو کبثہ سلومی کی زبان سے سہل بن حنظلہ کا بیان سنا کہ رسول اللہ ﷺ معاویہ سے خط لکھوا کر اقرع اور عیینہ کو دیا تو عیینہ نے کہا کہ اللہ ہی جانتا ہے اس نے کیا لکھ دیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اس خط کو لے کر خود پڑھا اور فرمایا کہ جو کچھ میں نے لکھوایا ہے اس نے وہی لکھا ہے ۔ یونس (رح) نے کہا اس پر ہمارا خیال واضح ہوا کہ نبوت کے بعد اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کو تلاوت کی طرح کتابت بھی سکھا دی تھی اور یہ بات ہم نے عرض کی ہے اور یہی زیر نظر آیت سے واضح ہو رہا ہے اور یہ ہم بیان کر رہے ہیں ۔ وہم پرست ہم معجزات کے انکار کر الزام دیتے ہیں اور خود سو معجزات کے ایک معجزہ کو تسلیم کرنے سے عاری ہیں ۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ ۔ ہم کرتے ہیں آہ تو ہوتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا :
Ayah 29:49

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

حقیقت تو یہ ہے کہ یہ ( انھیں کریم کی) منور آیتیں ہیں جو ان کے سینوں میں (محفوظ) ہیں جن کو علم عطا ہوا ہے اور ہماری آیتوں سے وہی جھگڑا کرتے ہیں جو ظالم ہیں (حقیقت کو جھٹلانے والے)

قرآن کریم کیا ہے ؟ وہ روشن دلائل ہیں جو صاحب علم لوگوں کے دلوں میں محفوظ ہیں : 49۔ گزشتہ دو آیتوں میں تین نشانات معاصرین کے سامنے پیش کئے گئے تھے ایک وہ کتاب جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی ‘ دوسرا محمد رسول اللہ ﷺ کا ناخواندہ ہونا اور تیسرا لکھ نہ سکنا جس کا مجموعہ خود محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات تھی ۔ اب ان تینوں نشانات پر ان لوگوں کی شہادت قائم کی جا رہی ہے جو اس وقت وہاں موجود تھے اور اپنے زمانے میں صاحب علم کہلاتے تھے اور جن کو اس وقت کا ایک زمانہ جانتا اور مانتا تھا وہ بلاشبہ محمد رسول اللہ ﷺ کے مخالفین ومعاندین تھے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انہی لوگوں کو مخاطب کیا اور انہیں لوگوں کو نشانات الہی کا خزانہ قرار دیا کہ اس کے نشانات تم کو تمہارے دور ہی سے مہیا کئے جاسکتے ہیں اور تم خود اس بات کی زندہ وجاوید شہادت موجود ہے وہ کیا ہے ؟ وہ یہی ہے کہ اگر تم انسانیت کے حامل ہو تو یا محمد رسول اللہ ﷺ کا خواندہ ہونا اور لکھنا جاننا ثابت کرو اگر تم ان باتوں کو ثابت نہ کرسکو تو کسی ناخواندہ کو اور لکھنا نہ جاننے والے کو آن کی آن میں خواندہ اور دائیں ہاتھ سے لکھنے والا بنا کر دکھا دو اگر یہ بھی نہیں کرسکتے تو پھر اپنے دل ہی سے پوچھ لو کہ تم اس زبردست نشان کو جو تمہارے دلوں کی تہہ میں موجود ہے جھٹلا رہے ہو یا نہیں کہ ہمارا منتخب کردہ رسول محمد رسول اللہ ﷺ کل تک تو ایک ناخواندہ اور نہ لکھنے والا تھا اور آج وہ خواندہ اور لکھنے والا کیونکر ہوگیا اور وہ تمہارے سامنے جو کلام پڑھ رہا ہے وہ اس کا کلام کیونکر ثابت ہوگیا جب کہ تم سارے پڑھے لکھوں کو جمع کردیا جائے تو بھی ایسا کلام بنا کر نہیں لاسکتے ۔ یہ ہماری نشانیاں ہیں جو نشانیاں ہیں جو تمہارے دلوں کے اندر موجود ہیں اور پھر جو اتنی واضح نشانیوں کو تسلیم نہ کریں وہ کون ہیں ؟ ظالم ہی تو ہیں اور بلاشبہ وہ سارے ظالم ہیں جو قرآن کریم کے ان نشانات کو بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں جو ان کے اپنے دلوں کے اندر موجود ہیں یا تو ان نشانات کا انکار کرو اور تم کہہ دو کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات کو نہیں جانتے اور ہمارے اندر یہ نہیں رہا اگر تم اس کا انکار نہیں کرسکتے تو تم یہ بھی جانتے ہو کہ اس نے نہ تو کسی سے پڑھنا سیکھا ہے اور نہ لکھنا اور زندگی کا ایک کثیر حصہ وہ تمہارے اندر تمہارے ساتھ رہا ہے اگر اس نے کوئی سفر کیا ہے تو تم ساتھ تھے ‘ کہیں رات گزاری ہے تو تم ساتھ تھے ‘ کہیں دن گزارے ہیں تو تم ساتھ تھے اور اسی طرح کرتے کرتے چالیس سال اس کی زندگی کے گزر گئے ، اور اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ تمہارے دلوں کے اندر موجود ہے اس کے باوجود اگر تم اپنی ضد پر قائم ہو تو پھر اپنے ظالم کا اقرار کرلو ہاں ! اگر اس سے بھاگ کر جانے کا راستہ تمہارے پاس ہے تو ہم پر واضح کرو ! بلاشبہ یہ بات اتنے پتے کی تھی جس کا انکار اس کے اختیار میں نہیں تھا کیونکہ اس کی کوئی دلیل ان کے پاس موجود نہ تھی اس لئے زور دے کر ان کو کہا گیا کہ جس قرآن کریم کا تم انکار کر رہے ہو اس کا انکار تو تمہارے لئے ممکن ہی نہ تھا کیونکہ اس کا اقرار تو تمہارے دلوں کی تہوں کے اندر محفوظ ہے جس کے لئے باہر سے دلیل دینے کی کوئی ضرورت ہی نہیں اس کو کہتے ہیں کہ جادو وہ جو سر چڑھ بولے ۔ اس لئے یہ ایک ایسی دلیل ہے جو خود بول بول کر اپنے دلیل ہونے کا اعلان کر رہی ہے اور پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ آؤ اگر ہمت ہے تو مجھے ٹھکرا دو ، ہٹ دھرمی اور ضد سے نہیں کسی دلیل سے ‘ اگر تم ٹھکرا سکتے ہو ۔ پھر تعجب ہے کہ جس دلیل کے لئے معاصرین و مخالفین کو چیلنج کیا جا رہا ہے اور ان کی زبانیں گنگ ہوگئی ہیں جو کچھ بول نہیں سکتیں اسی دلیل کو ہمارا مولوی ماننے کے لئے تیار نہیں ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ اس نے اعلان کردیا ہے کہ دین میں عقل کو دخل نہیں کہ اس میں دھونس اور دھاندلی چلتی ہے اور اکثریت کے بل پر وہ دھونس اور دھاندلی ہی سے اپنا کام چلاتا ہے اور یہی اس کے لئے سو دلیلوں کی ایک دلیل ہے ۔
Ayah 29:50

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے کچھ نشانیاں کیوں نہ اتریں ؟ کہہ دیجئے کہ نشانیاں تو اللہ کے اختیار میں ہیں اور میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں

ڈھیٹ کون ہے ؟ وہی جو جھگڑ سکتا ہو اور دلیل نہ رکھتا ہو : 50۔ غور کرو جو بات اوپر ان سے کہی گئی اگر ان کے پاس عقل نام کی کوئی چیز ہوتی تو وہ قرآن کریم سے بڑھ کر بھی کوئی اور نشانی طلب کرسکتے ہیں جو ہزار دلیلوں کی ایک دلیل ہے اور پھر دلیل بھی ایسی جو ان کے اپنے دلوں کے اندر موجود ہے اگر ان کو کسی دلیل کے قبول کرنے کی توفیق ہوتی تو اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو سکتی تھی پھر جب ان کو یہ دلیل راہ راست کی طرف نہیں لے جاسکتی اور وہ علاوہ ازیں کوئی نشانی طلب کرتے ہیں تو بلاشبہ وہ ایسے ڈھیٹ ہیں کہ جب تک ان کے دل کی بات نہ ہوئی وہ کبھی اس کو دلیل ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں گے اور اپنی جہالت کے باعث بات سے بات نکالتے جائیں گے ان سے آخری بات کہہ کر پیچھا چھڑا لو کہ جو نشانی تم طلب کرتے ہو وہ اللہ رب العزت کے پاس ہے ، اور وہ تمہارا مطالبہ سن رہا ہے ‘ میرا کام تو فقط ڈرانا ہے اور وہ واضح انداز سے میں سرانجام دے رہا ہوں تمہارے دل من کی نشانی رب کریم کے پاس ہے اور جب اس کا وقت آئے گا وہ خود ہی تم کو دکھا دے گا جس سے تمہارا کام تمام ہوجائے گا کہ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری ۔
Ayah 29:51

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے ، بلاشبہ ایمان والوں کے لیے اس میں رحمت ہے اور ایک نصیحت ہے

کیا ان کے لئے کتاب کفایت نہیں کرتی جو ہم نے نازل کی ہے ؟ : 51۔ قرآن کریم کو وہ نہیں مانتے یہ دوسری بات ہے کیونکہ نہ ماننے والوں کا علاج نشانی نہیں بلکہ ڈنڈا ہے اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے یہ اس وقت تک نہیں برستا جب تک اس کے برسنے کا وقت نہ آجائے ، رہا قرآن کریم کا نشان ہونا تو وہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ جن لوگوں نے اس کو مانا اور تسلیم کیا اور من حیث العقل تسلیم کیا اور اس کی ہدایات پر انہوں نے عمل کیا ان انسانوں کی زندگیاں کتنی پاک ہوگئیں اور مذہب وملت کی جو غرض ہے وہ بلاشبہ پوری ہوگئی ایک صداقت کے صداقت ہونے کا اصلی نشان تو یہی ہے کہ اسے قبول کرنے والے اس سے فائدہ اٹھائیں اور جو لوگ سیدھی راہ چلنے کے عادی نہیں ہوئے ان کے لئے کوئی دلیل بھی کبھی دلیل نہیں ہوتی اور بلاشبہ یہ کتاب رحمت اور نصیحت ہے مگر ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں اور نصیحت کو نصیحت سمجھ کر قبول کرتے ہیں ۔
Ayah 29:52

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے (جس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے) وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کا انکار کرتے ہیں وہی لوگ گھاٹے میں ہیں

ان ہٹ دھرموں سے کہہ دو کہ تمہارے اور میرے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے : 52۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ﷺ آپ ان منکرین ومعاندین سے برملا کہہ دیں کہ مجھے اپنی صداقت کے لئے اس سے بڑھ کر کسی دلیل کی کوئی ضرورت نہیں جو دلیل میں نے تمہارے سامنے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے پیش کردی ، میرے لئے یہی دلیل کافی ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کفایت کرتی ہے جس پر آسمان و زمین کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے جن لوگوں کی عادت ثانیہ میں داخل ہے کہ انہوں نے باطل پر ایمان لانا ہے اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا انکار کرنا ہے ان کو وہی کرنا ہے جو ان کی سرشت میں داخل ہے ان کے کھائے کا علاج میں نہیں کرسکتا یہی لوگ ہیں جن کے متعلق اعلان الہی ہے کہ : (آیت) ” خسر الدنیا والا خرۃ ذلک ھو الخسران المبین “۔ (22 : 11)
Ayah 29:53

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور یہ لوگ تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں اور اگر اس کا ایک وقت متعین نہ ہوتا تو ان پر عذاب آچکا ہوتا وہ (ایک روز) اچانک ان پر آ کر رہے گا اور ان کو خبر بھی نہ ہو گی

عذاب وہ طلب کرتے ہیں تو وہ وقت مقرر سے پہلے ممکن نہیں ‘ بس آنے ہی والا ہے : 53۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ﷺ یہ آپ ہی کی قوم کا مطالبہ نہیں کہ وہ عذاب تم لے کیوں نہیں آتے ساری گمراہ قوموں کی یہی حالت رہی ہے کہ جب وہ دلائل کے میدان میں شکست کھا گئیں تو اپنا دل بہلانے کے لئے جھٹ یہ مطالبہ کردیا کہ تم وہ عذاب لے کیوں نہیں آتے جس کا بار بار وعدہ دیئے چلے جاتے ہو سب قوموں کو یہی جواب دیا گیا اور یہی جواب آپ کی قوم کے لئے بھی کفایت کرے گا کہ تم اتنی جلدی نہ کرو اس لئے کہ عذاب آنے کا ایک وقت مقرر ہے اور جب تک وہ مقررہ وقت آ نہیں جاتا ہم موم کی ناک نہیں کہ تمہاری چڑ چڑھانے سے جلدی کردیں گے نہیں ایسا نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا لیکن ہاں ! جب وہ مقرر وقت آجائے گا تو اس کے آنے میں ذرا دیر نہیں ہے کیونکہ یہ جن لوگوں کے دلوں پر پڑتا ہے اس طرح چھا جاتا ہے کہ ہٹنے کا نام نہیں لیتا جب تک وہ خود اس کو ہٹانے کی کوشش نہ کریں اور بلاشبہ نہ پہلوں نے یہ کوشش کی ہے اور نہ ہی یہ لوگ کریں گے ۔
Ayah 29:54

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

اور یہ تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں اور یقینا دوزخ کافروں کو گھیر لینے والی ہے

یہ جلدی کرتے کس چیز کی ہیں دوزخ تو ان کو پہلے ہی گھیرے ہوئے ہے : 54۔ بیل تو پہلے ہی سخت مریلا ہے اور ان کی ریشہ دوانیوں سے وہ کھل بھی چکا ہے پھر یہ کتنے بیوقوف ہیں کہ اس کو دعوت بھی دیتے ہیں کہ آبیل مجھے مار تعجب ہے جس عذاب کے لئے یہ جلدی مچا رہے ہیں وہ تو ان کو چوطرفہ گھیر چکا ہے اور ان کی زندگی کا دیا بجھنے ہی والا ہے پھر ادھر دیا بجھا اور ادھر سیدنا سجین میں ۔ ان منکرین کو جلدی کرنے کی ضرورت کیا ہے اگر ان کو زیادہ ہی جلدی ہے تو یہ آگے بڑھ کر اپنی زندگی کا دیا گل کردیں بلاشبہ وہ اپنے آپ کو عذاب میں گرفتار پائیں گے اور اب وہ ان کے اپنے دلوں کے اندر موجود ہے لیکن یہ ایسے نامراد ہیں کہ انہوں نے دل کی طرف کبھی جھانک کر دیکھا ہی نہیں وہ باہر ہی سے تلاش کرتے پھر رہے ہیں ‘ کتنے بیوقوف ہیں کہ ” بچہ بغل میں اور ڈھنڈورا شہر میں ۔ “
Ayah 29:55

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

جس روز عذاب ان کو اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے گھیر لے گا اور وہ کہے گا کہ جو کچھ تم کرتے تھے اب اس کا مزہ چکھو (تو وہ سوائے خاموشی کے کیا کریں گے ؟ )

وہ دن آنے ہی والا ہے کہ ان کو اوپر اور نیچے سے وہ ڈھانپ لے گا : 55۔ وہ دوزخ جو تمہارے لئے سلگائی گئی ہے وہ کہیں دور نہیں ہے وہ تو تمہارے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے اور ذرا غور کرو کہ تمہارے اعمال تم سے کتنے دور ہیں ؟ بس تمہارے عمل کا دروازہ بند ہونے کی دیر ہے کہ تمہارے اوپر بھی آگ ہی آگ ہوگی اور تمہارے نیچے بھی آگ ہی آگ ہوگی اور اسی وقت تمہاری سرکشی کا تم کو پتہ چل جائے گا اور تمہارے سر کا بھوت اترنے میں ذرا دیر نہیں لگے گی اور تمہاری یہ ساری سرکشی ہرن ہوجائے گی :
Ayah 29:56

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے میرے بندو ! جو ایمان لائے ہو بلاشبہ میری زمین کشادہ ہے ، پس میری ہی عبادت کرو

میرے بندو جو ایمان لائے ہو زمین بہت وسیع ہے تم کو میری عبادت کرنا ہے : 56۔ ایمان والوں کو مخاطب کرکے بذریعہ رسول اللہ ﷺ ان سے راز ونیاز کی بات کہی جارہی ہے کہ تم میرے بندے ہو اور مجھ ہی پر ایمان لائے ہو تم پر جو ظلم ڈھائے جا رہے ہیں بلاشبہ ان سے پہاڑوں کے دل بھی لرز جاتے ہیں تو بلاشبہ تم پہاڑ نہیں ہو بلکہ تمہارا عزم وجزم پہاڑوں سے بہت زیادہ وزنی اور بہت ٹھوس ہونا چاہئے لیکن اس کے باوجود اگر یہاں نہیں تو وہاں سہی جہاں تم میری عبادت آسانی سے بجا لاسکو تمہارے رب کی زمین تمہاری زمین ہے اور اس کی وسعت کی کوئی انتہا نہیں تم کو ہر حال میں میری عبادت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے اونٹ خواہ کسی کروٹ بیٹھے اور جو ہو سو ہو تم وہاں پہنچ جاؤ جہاں بےخوف وخطر میری عبادت کرسکو ‘ اٹھو ہمت مرداں مدد خدا ۔ تم ان مذہبی پیشواؤں کا دھیان نہ کرو جو تم کو جان بچانے کے لئے کفر کرلینے پر آمادہ کرنے کے فتوے دیتے ہیں بلکہ تم کفر کو ستانے کے لئے اپنی جانوں کو قربان کرو کیونکہ جان ایسی چیز ہی نہیں جس کو ہمیشہ کے لئے باقی رکھا جاسکے ، یہ پیشوایان مذہب ہیجڑے ہیں اور تم کو ہیجڑے بنانا چاہتے ہیں ، اٹھو تم قوم کے غازی بنو اور شہیدوں میں داخل ہوجاؤ یا اس زمین تک پہنچ جاؤ جہاں میری عبادت بجا لانے میں تم کو کوئی روک نہ ہو تمہارا نعرہ ملک خدا مالک ما است کا ہے تم ایک جگہ قید ہو کر کیوں رہ گئے ۔
Ayah 29:57

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے پھر تم سب کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

موت سے کون بچا ہے جو تم بچ سکو گے سب کو ہماری طرف آنا ہے : 57۔ یہ پیشوایان مذہب ہی نہیں اس دنیا میں بڑے بڑے لوگ آئے جنہوں نے زندگی کے لئے بہت سروسامان اکٹھے کئے غور کرو کہ کیا پھر ان کو موت نے چھوڑا ۔ بلاشبہ یہ زندگی فانی ہے چاہے وہ شاہ ہو یا گدا ‘ ہر شخص نے ایک نہ ایک روز موت کا پیالہ ہونٹوں سے لگانا ہے اور اگر کوئی نہیں لگائے گا تو ان پیشوایان مذہب کی طرح ان کے گلے میں انڈیل دیا جائے گا اور وہ وقت ہوگا کہ گھر بار بھی چھوٹ جائے گا فرزند و زن اور دوست و احباب بھی سب پیچھے رہ جائیں گے ۔ تف ہے تم پر کہ تم ان ساری چیزوں کو حالت اضطرار میں چھوڑو کیا اس سے بہتر اور خوشی خوشی اس کی رضا کے لئے جان قربان کرنے کے لئے تیار ہوجاؤ تاکہ اس کے اجر کے مستحق قرار پا سکو ۔ جان دی پر دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا :
Ayah 29:58

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کو یقینا ہم بہشت کے بالاخانوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے کیا ہی اچھا بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کا

ایمان لانے والوں کو ہم بلاشبہ بالاخانوں میں جگہ دیں گے : 58۔ جو لوگ ایمان لانے کے بعد نیک عمل کئے بلاشبہ نیک عمل ہر حال میں نیک عمل ہی ہے لیکن آخرت کے لئے اس کا اجر اسی صورت مل سکتا ہے جب نیک عمل کرنے والے کا آخرت پر ایمان ہو اگر اس کا ایمان آخرت پر نہ ہو تو اس کی جزا اس کو اس دنیا میں مل جائے گی اور آخرت میں اس کے لئے کچھ نہیں ہوگا ۔ ایک آدمی غلہ کا مالک ہے اور زمین کا بھی وہ زمین کو اس قابل بناتا ہے کہ اس میں بیج آگ سکے اور پھر بیج بھی ڈال دیتا ہے تو ضرور اس کو اس کا پھل ملے گا لیکن جس نے زمین تیار نہیں کی یا زمین اس کے پاس نہیں تھی تو اس نے پتھر پر بیج ڈال دیا بیج تو دونوں نے ڈالا لیکن خسارہ میں کون ہوا اور فائدہ میں کون رہا ؟ یہی مثال اس شخص کی ہے جس نے کوئی نیک عمل تو کیا لیکن آخرت کے لئے تو اس نے کچھ تیاری ہی نہیں کی تھی لہذا اس کا وہ اچھا عمل (بیج) بار آور نہیں ہوگا اگرچہ اس کے اچھا ہونے سے کوئی انکار نہیں ہے اس لئے فرمایا جو لوگ ایمان لائے ‘ آخرت پر یقین کیا اور اس کے بعد اس نیت سے اچھا عمل کیا تو اس کو دنیا میں بھی اس کا حصہ ملے گا اور آخرت میں بھی اس کا عمل بار آور ہوگا اور ان کو ان کے اعمال کے عوض جنت کے بالاخانوں میں ٹھہرایا جائے گا اور ان باغات کے نیچے یعنی سامنے نہریں بھی جاری ہوں گی اور یہ علامت ہے ان باغوں کی خوبصورتی اور شادابی کی اور وہ بلاشبہ ان باغات میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی ان سے نکالے نہیں جائیں گے اور یہ جو ان کو اجر ملا ہے تو بلاشبہ یہ ان کا اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے اور اللہ کا فضل ان پر یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اچھا عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائی ورنہ ان جیسے کتنے ہی تھے جو نیک عمل کے قریب بھی نہیں گئے تھے اور آج وہ ان کی آنکھوں کے سامنے دوزخ میں جل بھن رہے ہیں ۔
Ayah 29:59

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صبر کیا اور اپنے پروردگار (کی رحمت) پر بھروسہ رکھتے ہیں

یہ لوگ ہیں صبر کرنے والے اور اپنے رب پر بھروسہ کرنے والے : 59۔ یہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کے مناقب میں کہا جا رہا ہے کہ بلاشبہ جب یہ لوگ ایمان لائے تھے اس وقت ایمان لانا لوہے کے چنے چبانا تھا اور ان کو مفتیان شرع متین یہ فتوی دینے والے بھی تھے کہ ان حالات میں ایمان کے اعلان کی ضرورت نہیں لیکن انہوں نے جان کی بازی لگا کر اور اپنی جان پر کھیل کر ایمان کا اعلان کیا اور پھر ان کو جو کچھ اس کے عوض میں پیش آیا انہوں نے بخوشی سر آنکھوں پر اس کو قبول کیا اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جان کی بازی لگا دی آج ان کے اجر دیئے جانے کا دن ہے اور بلاشبہ سب کو دکھا کر ان کے اعمال کا بدلہ ان کو دیا جائے گا اور اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کا اجر ہی بہتر اجر ہوگا ۔
Ayah 29:60

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

اور (غور کرو) کتنے جانور ہیں جو اپنی روزی اٹھائے نہیں پھرتے ، اور اللہ ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی اور وہی سننے والا جاننے والا ہے

کتنے چلنے پھرنے والے ہیں کہ اپنا رزق وہ اٹھائے نہیں پھرتے : 60۔ لہو ولعب کے جتنے دنیا میں پائے گئے ہیں ان سب میں اولیت مال کو ہے ۔ لھو کے اصل معنی غفلت کے ہیں ۔ عربی زبان میں یہ لفظ اس شغل کے لئے بولا جاتا ہے جس سے آدمی کو دلچسپی اتنی بڑھ جائے کہ وہ اس میں منہمک ہو کر دوسری تمام چیزوں سے غافل ہوجائے اور بلاشبہ مال کا شغل اتنا زبردست ہے کہ اس کے آنے اور ملنے کی امید پر انسان ساری دلچسپیوں کو بھول جاتا ہے اور اس کی ایسی دھن اس پر سوار ہوتی ہے جو ہر طرف سے اس کو غافل کردیتی ہے لیکن انسان کو کبھی بھول کر بھی یہ خیال نہیں آیا کہ اللہ تعالیٰ کی ان گنت ایسی مخلوق ہے جس کو اس طرح کی کوئی دھن نہیں لیکن کھانے کو اس کو بھی ملتا ہے اور اس کی زندگی بھی بلاشبہ گزر رہی ہے انسان جس کی جسامت کا وزن من سوا من سے لے کر دیڑھ دو من تک عام ہے اور اس سے زیادہ بہت شاذ اور اس کی جسامت سے کئی گنا جسیم جانور موجود ہیں ایسے بھی ہیں جو چارہ کھانے والے ہیں اور ایسے بھی جو صرف گوشت کھانے والے ہیں لیکن ان سب کا وقت اللہ تعالیٰ گزارتا ہے ہے ۔ سردی آتی ہے اور گرمی بھی گزرتی ہے ‘ بارش بھی ہوتی ہے اور دوسری آسمانی بلیات بھی لیکن ان کو کبھی کوئی فکر لاحق نہیں ہوتی اور انسانوں میں بھی اگرچہ بہت ہی کم سہی لیکن ایسے لوگ موجود ہیں جن کو اس طرح کی فکر شدت سے لاحق نہیں ہوتی لیکن اس کے مقابلے میں ایسے کتنے انسان ہیں جن کی دولت کا حساب ان کے پاس موجود نہیں لیکن ہوس مال ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی اور ان کا پیٹ ہے کہ بھرا ہی نہیں جاتا ۔ بہرحال زیر نظر آیت میں سارے انسانوں کو مخاطب کرکے کہا جا رہا ہے کہ اس دھرتی پر کتنے چلنے پھرنے والے ہیں کہ وہ اپنا رزق انسانوں کی طرح اٹھائے نہیں پھرتے اگر اللہ ان کا رازق ہے تو بلاریب تمہارا بھی رازق ہے وہ سب کی شکایت کو سنتا ہے اور سب کی ضروریات کا علم رکھتا ہے ۔ اس لئے انسان کو ہر وقت مال ہی کی فکر میں مبتلا نہیں رہنا چاہئے بلکہ اس دنیوی مال سے زیادہ اس کو آخرت کی فکر لازم ہے اگر وہ انسان ہے اور اس سے بڑھ کر مسلمان بھی ہے تو دنیا کی حقیقت تو اس کی نظر میں اتنی نہیں ہونی چاہئے جتنی کہ آخرت کی کیونکہ دنیا کی زندگی تو چند روزہ زندگی ہے اور اس کے مقابلہ میں آخرت کی زندگی ابدی اور ہمیشگی کی ہے لیکن کبھی اس نے موازنہ کرکے بھی دیکھا کہ اس دنیوی زندگی کے لئے جو وہ بھاگ دوڑ کرتا ہے وہ کتنی ہے اور آخرت کی فکر اس کو کس قدر دامن گیر ہے پھر انسان کے سوا اس دنیا میں جتنی مخلوق ہے اس ساری مخلوق کی زندگی جو کچھ ہے وہ اس دنیا کی زندگی ہے آخرت کا وہاں کوئی تصور ہی نہیں پھر جس کی زندگی فقط دنیا کی زندگی ہے اس کی اتنی بےفکری اور جس کی زندگی سے وہ کتنا غافل ہے ۔ ذرا غور کرو کہ یہ عقل مندی ہے یا سراسر بےعقلی کی بات ہے ۔ اس لئے لازم ہے کہ اگر انسان کو ایک جگہ خطرہ ایمان ہو تو وہ اس جگہ کو چھوڑ کر ایسی جگہ کو اپنا مسکن بنائے جہاں ایمان کا خطرہ باقی نہ رہے یا کم ہوجائے ، یہی نظریہ تھا جس نے مسلمانوں کو مکہ سے ہجرت کرکے کبھی حبش میں رہائش پذیر ہونے پر مجبور کیا اور کبھی وہ مکہ سے مدینہ النبی کی طرف ہجرت کرنے لگے اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لئے وہ مکہ سے نکل کھڑے ہوئے ، غور کرو کہ قدرت کا نظام معشیت بھی کتنا عجیب ہے کہ مہاجرین کو ہجرت کئے ہوئے ابھی تین چار سال ہی گزرے تھے کہ ان کو اللہ نے اتنا مال دیا کہ وہ مدینۃ النبی کے بسنے والوں سے بھی زیادہ مالدار ہوگئے اور یہ حالت اب بھی ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ 48 ء میں ہجرت کرکے پاکستان آنے والوں کے پاس چار آنے کی رقم اور ایک وقت کا کھانا بھی موجود نہ تھا لیکن آج وہ اس ملک کے بسنے والوں سے بہت آگے نکل چکے ہیں لیکن انسان یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے ‘ سنتا ہے اور اس کی ہوس ہے کہ ختم ہونے کو نہیں آتی ، قرآن کریم نے دوسری جگہ انسان کی اس حالت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ” تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے یہاں تک کہ اس فکر میں تم لب گور تک پہنچ جاتے ہو ۔ ہرگز نہیں عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا ۔ “ (102 : 1 تا 3) حلال و جائز معیشت کی فکر جائز لیکن ایک حد تک اور قناعت کی دولت کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہئے کھانے کو دو وقت روٹی اور سر چھپانے کے لئے مکان اللہ عطا کر دے تو اس کا شکر بجا لاتے ہوئے جائز حد تک دنیوی کاموں میں منہمک رہنا چاہئے لیکن آخرت سے غافل ہو کر نہیں بلکہ دنیوی زندگی سے زیادہ اس کی فکر رکھتے ہوئے ، خوب سن لو اور اچھی طرح یاد رکھو کہ غنا کبھی مال و دولت سے کسی کو میسر نہیں آیا غنی وہی ہے جو دل کا غنی ہے اور صبر و قناعت کی دولت ساری دولتوں سے بڑی دولت ہے اگر کسی کو میسر آئے ، خزانے بھرے ہوئے ہوں اور دل میں ہر وقت مال کا کھٹکا لگا رہے تو اس سے غنا میسر نہیں آسکتا ۔ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور رسل عظام (علیہ السلام) بھی آخر انسان ہی تھے وہ بادشاہ بھی تھے تو ذاتی مال ان کی ملکیت میں نہیں تھا اور فقر وفاقہ میں تھے تو بھی دل کی قناعت سے مالا مال تھے اور اس کے باوجود جتنی انسانی ضروریات ہیں وہ سب کی سب ان کو لاحق تھیں اور بلاشبہ وہ اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرتے تھے لیکن اس دنیا سے جب وہ رخصت ہوئے تو ان کے پاس دولت کا کوئی خزانہ موجود نہیں تھا جو کچھ تھا وہ بیت المال میں تھا جو قوم کا مال تھا نہ کہ ان کا ذاتی مال مگر ہاں ! جو ان میں سے کسی نے کچھ وراثت میں پایا ہو تو یہ دوسری بات ہے ۔ اللہ سے دعا ہے کہ اے اللہ ! مجھ سیاہ کار کو بھی قناعت کی دولت سے مالا مال فرما دے کہ میرا پختہ ایمان ہے کہ یہ دولت جس کو حاصل ہوگئی اس نے دولت کا کثیر حصہ پالیا ۔ (آیت) ” ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔ ربنا لا تحمل علینا اصرا کما حملتہ علی الذین من قبلنا ۔
Ayah 29:61

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اور اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے اور سورج اور چاند کو کسی نے کام پر لگایا ہے ؟ تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ، پھر (اللہ کو چھوڑ کر) کہاں جھوٹ باندھے چلے جا رہے ہو ؟

زمین وآسمان کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ وہ جواب دیں گے ‘ اللہ : 61۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اگر آپ ان سے یعنی مکہ کے مشرکین سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ اور وہ کون ہے جس نے سورج اور چاند کو ان کے کام پر لگا دیا ؟ تو وہ یعنی مشرکین فورا جواب دیں گے اور ذرا تامل نہیں کریں گے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ‘ سورج اور چاند کو ان کے کام پر لگانے والا اللہ ہے اللہ کے سوا کوئی اور نہیں ہے پھر آپ ان سے کہہ دیجئے کہ پھر تم کہاں دھکے کھاتے چلے جا رہے ہو ۔ اصل میں (یؤفکون) استعمال ہوا ہے جس کی اصل (افک) ہے جس کے معنی جھوٹ ‘ بہتان ‘ کسی چیز کا اس کی اصل جانب سے منہ پھیرنے کا نام (افک) ہے اس لئے جو بات اپنی اصل صورت سے پھر گئی اس کو (افک) کہیں گے جھوٹ اور بہتان میں چونکہ یہ صفت بدرجہ اتم موجود ہے اس لئے ان کو بھی افک کہا گیا ۔ اس طرح (یؤفکون) کے اصل معنی ہوئے پھیرے جاتے ہو “ (فانی یؤفکون) پھر تم کہاں پھیرے جاتے ہو گویا کہ تم آوارہ پھیرے جاتے ہو اور آوارہ پھرنا ہی دراصل دھکے کھانا ہے ۔ زیر نظر آیت میں جو سوال کئے گئے ہیں وہ کن سے ہیں ‘ ظاہر ہے کہ کفار مکہ سے یا مشرکین مکہ سے پھر کفار مکہ نے یا مشرکین مکہ نے کیا جواب دیا ؟ یہی کہ آسمانوں کا پیدا کرنے والا زمین کا بچھانے والا ‘ سورج چاند کو فرمانبردار کرنے والا وہ بھی اللہ ہی کو مانتے تھے اس لئے انہوں نے ان سوالوں کا جواب ” اللہ “ کے لفظ سے دیا۔ معلوم ہوا کہ وہ اس کائنات کو بنانے والا اور اس کا سارا نظام چلانے والا اللہ ہی کو مانتے اور تسلیم کرتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ کافر اور مشرک تھے آخر کیوں ؟ اس لئے کہ اس عقیدہ کے باوجود وہ اللہ کے نبیوں ‘ رسولوں اور اولیاء کرام کو اپنے حاجت روا اور مشکل کشا مانتے تھے ان کے بت بنا کر ان کی یاد تازہ رکھنے کے لئے اپنے رکھتے تھے ان کے واسطے اور وسیلے اللہ تعالیٰ کے سامنے ڈالتے تھے ، بالکل صحیح لیکن آج ہم مسلمانوں کی اکثریت کیا کر رہی ہے ؟ وہی کچھ جو کچھ وہ کر رہے تھے ہاں ! فرق ہے تو یہ کہ انہوں نے اپنے بزرگوں اور ولیوں کے بت بنا کر سامنے رکھے تھے ہم نے ان کی قبرین چونے گچ کرکے ان پر روضے بنا کر سامنے رکھا ہے ۔ بلاشبہ آج کے قبروں کے پجاریوں اور اس وقت کے بتوں کے پجاریوں میں ایک ذرہ بھر فرق موجود نہیں ۔ پھر وہ مشرک اور کافر اور ہماری اکثریت جو یہ سب کچھ کر رہی ہے یہ سب کے سب پکے مسلمان ‘ آخر کیوں اور کیسے ؟ ان کو رسول اکرم ﷺ کی زبان سے اس لئے یہ بات کہلوائی گئی کہ پھر تم یہ جھوٹ کیوں گھڑ رہے ہو اور آج وہی بات ہم ان موجودہ مشرکوں کو بھی کہہ سکتے ہیں کہ پھر تم یہ جھوٹ کیوں گھڑ رہے ہو ‘ تم بزرگوں اور ولیوں کی قبروں پر کیوں جاتے ہو ‘ وہاں منتیں کیوں مانتے ہو ‘ ان کی قبروں کو غسل کیوں دیتے ہو ‘ ان پر غلاف کیوں چڑھاتے ہو ‘ ‘ ان پر چراغاں کیوں کرتے ہو ‘ بلاشبہ ان مشرکوں نے تو ان مشرکوں کو بھی بہت پیچھے چھوڑ دیا تعجب ہے ان مشرکوں پر کہ جو ان کو تو مشرک اور کافر ہی مانت ہیں لیکن اپنے آپ کو پکے مومن اور مسلم تصور کرتے ہیں کہتے ہیں اور جانتے ہیں ، بہرحال یہ لوگ کچھ کہیں قرآن کریم کی زبان میں جیسے وہ مشرک اور کافر تھے ویسے ہی یہ لوگ بھی مشرک و کافر ہیں ، ہاں ! بلاشبہ وہ مشرک و کافر بھی اللہ تعالیٰ کے بندے تھے اور آج کے یہ کافر و مشرک بھی اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس دنیوی نظام میں جو کچھ پیدا کیا ہے وہ اپنے سارے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے ۔ اس وقت کے مشرک و کافر ہوں خواہ اس وقت کے مومن ومسلم اور اسی طرح خواہ اس وقت کے مشرک و کافر ہوں یا مومن ومسلم اس دنیوی زندگی کے لئے جو شخص بھی جتنی کوشش کرے گا بلا امتیاز اس کا بدلہ پائے گا خواہ وہ کوئی ہو اور کون ہو ۔ اس کی مزید وضاحت آنے والی آیت پیش کر رہی ہے اس کو غور سے پڑھیں ۔