29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 29:23

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں (اس کی کتاب) کا اور اس سے ملنے کا انکار کیا وہی میری رحمت سے ناامید ہوں گے اور ان ہی کے لیے دردناک عذاب ہو گا

جن لوں لوگوں نے آیات قرآنی اور ملاقات الہی کا انکار کیا ان کو عذاب دیا جائے گا : 23۔ گزشتہ آیتوں پر غور وفکر کرکے بتاؤ کہ آیات قرآنی اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے کس نے انکار کیا ؟ ظاہر ہے کہ اس کا ایک اور صرف ایک ہی جواب ہے کہ ان لوگوں نے انکار کیا جو اپنے ظلم سے باز نہ آئے قرآن کریم کی تعلیمات کے خلاف وہ کفر وشرک کے مرتکب ہوئے اور اپنی پوری زندگی میں وہ ظلم وکفر اور شرک سے باز نہ آئے خواہ وہ نام کے مسلمان تھے یا یہود ونصاری یا انہوں نے اپنا کوئی نام رکھا ، اگر ان کا اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے ملاقات پر ایمان ہوتا اور آخرت کی فکر ہوتی تو وہ زندگی میں ان گناہوں اور جرائم سے باز کیوں نہ آتے ؟ زندگی میں وہ اپنے پیٹ کی خاطر لوگوں کو دھوکا میں کیوں ڈالتے اور ملاں ازم کا نام دین اسلام وہ کیوں رکھتے جب پوری زندگی اس طرح کے ظلم میں انہوں نے بسر کی اور قرآن کریم کی آیات کریمات کو دیکھ کر پڑھ کر اس طرح کے فراد چلائے اور پھر انہیں قرآن کریم کی آیات کے مطابق وہ عذاب الہی کے مستحق ٹھہرے اور قرآن کریم ان کے متعلق کہتا رہا کہ یہی لوگ ہیں جو فی الواقع رحمت الہی کے مطابق وہ عذاب الہی کے مستحق ٹھہرے اور قرآن کریم ان کے متعلق کہتا رہا کہ یہی لوگ ہیں جو فی الواقع رحمت الہی سے دور کردیئے گئے اور یہی لوگ ہیں کہ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے لیکن اس کے خلاف ملاں ازم اب بھی ان کے لئے بخشش کی امید لگائے ہوئے ہے اور وہ بھی محض اس لئے کہ اس کے پیٹ کا دھندا چلتا رہے اور ان کے پیٹ کے جہنم میں کچھ ڈلتا رہے ، اب اس درس توحید کے بعد مضمون کو دو بار اس طرح پھیر دیا گیا ہے جہاں سے اس کو چلایا گیا تھا ، توحید کا باب چونکہ سارے انبیاء ورسل کا ایک ہی طرح کی تعلیم سے بیان کیا گیا ہے اس لئے مضمون کو نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹایا گیا تھا اور اب دوبارہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف لوٹایا جا رہا ہے اور یہی بات ثابت کرتی ہے قرآن کریم گزشتہ بیانات محض اس لئے پیش کرتا ہے کہ موجودہ حالات کے مطابق ان کو بیان کر کے حاضر لوگوں کی تفہیم کرائی جائے جیسا کہ ان آیات کریمات میں کیا گیا کہ کہاں ابراہیم (علیہ السلام) اور کہاں نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کا زمانہ لیکن مضمون کو بیان کرتے ہی موجودہ حاضرین کی تفہیم بھی کرا دی گئی اس طرح لازم ہے کہ مفسرین مبلغین قرآن کریم کی آیات کو بیان کرتے وقت اپنے حالات کو پیش نظر رکھ کر تقابل بھی کرتے جائیں تاکہ موجودہ سامعین کی تفہیم کرائی جاسکے لکنا افسوس کہ ہمارے ہاں اس بات کا رواج نہیں ہم گزشتہ واقعات صرف گزشتہ واقعہ اور کہانی کی طرح بیان کرتے ہیں الا یہ کہ کہیں اپنی غرض کی بات ہو تو کچھ کہہ دیں ، اللہ تعالیٰ ہمارے ہمارے کرام کو بھی سیدھا ہونے کی توفیق عطا فرما دے تاکہ وہ ملاں ازم کی بجائے اسلام کی تعلیم لوگوں کے سامنے بیان کرسکیں اور فرعون موسیٰ کی بات کرتے وقت ‘ وقت کے فرعونوں کا تذکرہ کرکے لوگوں کو بتائیں اور ڈرائیں کہ اس مقصد کے تحت فرعون موسیٰ کا ذکر قرآن کریم میں کیا گیا ہے ۔
Ayah 29:24

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

پس اس (ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کا جواب نہیں تھا مگر یہی کہ وہ کہنے لگے اس کو قتل کر دو یا اس کو جلا دو (کیا وہ جلا سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں) پھر اللہ نے اس کو آگ [ سے بچالیا بلاشبہ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان والے ہیں

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے جواب دیا کہ اس کو پکڑ لو اور جلا دو اللہ نے اس کو بچالیا : 24۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا وعظ سنا جس کا ذکر پیچھے سورة الانعام کی آیات 74 تا 82 میں کیا جا چکا ہے جو وعظ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے کے سارے مشرک گروہوں کو مخاطب کرکے جن میں سورج کی پرستش کرنے والے ‘ ستاروں کی پرستش کرنے والے ‘ چاند کی پرستش کرنے والے اور دوسرے سارے مشرکوں کو مخاطب کر کے کیا تھا جب کہ علاقے کے اندر ہر طرح کے شرک کرنے موجود تھے بلاشبہ وہ آپس میں بہت اختلاف رکھتے تھے اور ایک دوسرے کو دوسرے کو برا بھلا کہتے نہیں تھکتے تھے لیکن ابراہیم (علیہ السلام) کا وعظ سن کر سارے متفق ہوگئے ! کس بات پر ؟ اس بات پر کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو کسی نہ کسی طرح ٹھکانے لگا دیا جائے کہ اس نے سب کو مردود قرار دے دیا ہے ۔ جب وہ متفق ہوئے تو انہوں نے انہوں نے ابراہیم کو اپنے راستے سے ہٹانے کے لئے طے کرلیا خواہ یہ طے کیا کہ اس کو قتل کردیا جائے اور خواہ یہ طے کیا کہ اس کو زندہ آگ میں جلا دیا جائے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اور کتنے واضح الفاظ میں فرمایا کہ ہم نے اس یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ سے بچالیا (فانجہ اللہ من النار) پس اللہ نے اس کو آگ سے نجات دے دی بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے جو اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان لاتے ہیں کہ جو بات اللہ تعالیٰ نے کہی وہ کبھی خطا نہیں ہوتی اور ہمیشہ وہ اپنے وقت پر پوری ہوئی دنیا جہان کے سارے لوگوں کی مخالفت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو بچانا تھا تو بچا کر دکھا دیا اور بالکل اسی طرح آج وہ مکہ والوں کی کثرت کے باوجود اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کو ان کے سارے منصوبوں اور ان کی ساری اسکیموں کو فیل کر کے بچائے گا پھر دنیا نے دیکھا کہ فی الواقع اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی اسی طرح نجات دی جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کو دی تھی لیکن افسوس کہ ہمارے مولویوں نے اس نجات پر بھی ایک نیا جھگڑا کھڑا کردیا اور اس پر لڑتے لڑتے آیت کا اصل مفہوم پورے کا پورا ضائع کردیا اور جو بات اصل بیان کرنے کی تھی اس کو ضائع کر کے آگ کے اس آلاؤ پر ساری زندگی لڑتے رہے اور اس کی لمبائی ‘ چوڑائی اور اونچائی کی داستانیں گھڑ گھڑ کر لوگوں کو بتاتے رہے اور اس طرح اصل بات کو اس طرح بلا دیا کہ جیسے کوئی بات کبھی ہوئی ہی نہ ہو۔
Ayah 29:25

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا (اے لوگو ! ) تم نے اللہ کو چھوڑ کر اوثان (بتوں اور قبروں) کو اپنا لیا ہے (محض) آپس کی دنیاوی زندگی کے تعلقات کی خاطر پھر قیامت کے روز تم ایک دوسرے (کی دوستی) سے انکار کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور تمہارا کوئی معاون اور مددگار نہ ہو گا

ابراہیم (علیہ السلام) کی نصیحت جو انہوں نے قوم سے الگ ہوتے وقت ان کو کی تھی : 25۔ قوم کے لوگوں نے اپنی جگہ خفیہ تدبیریں کیں اور قدرت الہی نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تاکہ اپنے قانون کے مطابق ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کو اس زیادتی سے نجات دے تو قدرت الہی کا ہاتھ ہی کامیاب ہونا تھا اور وہی ہوا ابراہیم (علیہ السلام) کو وہاں سے ہجرت کر جانے کا حکم صادر فرمایا اور آپ ہجرت کر کے جب نکلنے والے تھے تو ایک بار دوبارہ قوم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ لوگو ! تم نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو چھوڑ کر اوثان کو اپنا لیا ہے اور جو کچھ تم نے کیا ہے محض اس دنیوی زندگی کے تعلقات کی خاطر کیا ہے کہ تم کو ایک دوسرے کی ضرورت محسوس ہوئی تاکہ تم سب مل کر میرے خلاف سازش کرسکو اور بلاشبہ تمہاری یہ دوستی اور اتحاد کا نعرہ بالکل وقتی ہے اگر تم سب کو ملکر دوستی کا ہاتھ بڑھانا ہوتا تو تم اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے لئے بڑھاتے حالانکہ تم نے شرک پر ایک دوسرے کی دوستی قائم کرلی ہے تاکہ ملکر میرے خلاف اپنی سازش کو کامیابی سے ہمکنار کر دو میں تم کو ایک بات یاد دلارہا ہوں اور عنقریب میں تم سے الگ ہوجانے والا ہوں وہ بات یہ ہے کہ قیامت کے روز تمہاری یہ دوستی ہرگز ہرگز کامیاب نہیں ہوگی بلکہ تم ایک دوسرے کی دوستی سے کھلا انکار کرو گے اور یہ کہ صرف انکار ہی نہیں کرو گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور بلاشبہ تمہارا کوئی معاون و مددگار وہاں نہیں ہوگا ۔ آپ نے یہ آخری بات ان سے کیو اور والد سے خصوصی ملاقات کرکے وہاں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکل کھڑے ہوئے ، بلاشبہ یہی ان کی مخفی تدبیروں سے بچاؤ تھا اور یہی ان کی سلگائی ہوئی آگ سے نجات کا طریقہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو القا کیا اور اس طرح آپ نے نجات پائی ۔
Ayah 29:26

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

پس لوط (علیہ السلام) اس پر ایمان لائے اور کہا (ابراہیم (علیہ السلام) نے) میں تو اپنے رب کی طرف ہجرت کر جاؤں گا بلاشبہ وہ زبردست حکمت ولا ہے

لوط (علیہ السلام) چونکہ ایمان لا چکے تھے اس لئے ہجرت کے وقت وہ بھی آپ کے ساتھ ہوگئے : 26۔ (فامن لہ لوط) سے مفسرین نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو چونکہ آگ میں ڈالا گیا تھا اور وہ آگ سے زندہ سلامت بچ کر نکل آئے تھے لہذا اس معجزہ کو دیکھ کر لوط ایمان لائے حالانکہ یہ محض ایک فرضی بات ہے جس کا یہاں کوئی ذکر نہیں ہے اس جگہ بتانا صرف یہ مقصود تھا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کی تو چونکہ لوط (علیہ السلام) بھی آپ پر ایمان لا چکے تھے یعنی آپ کی نبوت کو تسلیم کرتے تھے اس لئے ہجرت کے وقت جہاں دوسرے ایمان لانے والے آپ کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے جیسے آپ کی اہلیہ سارہ ؓ تب ہی لوط (علیہ السلام) نے بھی ساتھ ہجرت کی کیا لوط (علیہ السلام) ‘ ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے قبل کافر اور مشرک تھے ؟ فطری طور پر جو حال ابراہیم (علیہ السلام) کا تھا بلاشبہ وہی حال لوط (علیہ السلام) کا تھا دونوں چچا زاد بھائی تھے بلکہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ لوط (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے ، معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) ‘ لوط (علیہ السلام) سے عمر میں کافی بڑے تھے ، دونوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا چونکہ دونوں ہی نبی بنائے جانے والے تھے اس لئے بلاشبہ وہ پیدائشی مسلم تھے کافروں کے خاندان سے تعلق ہونے کے باوجود بچپن ہی سے کفر وشرک سے بیزار تھے لیکن بعثت ونبوت ایک منصب خداوندی ہے جو اللہ رب العزت ہی سے اعزازا دیا جاتا رہا جب تک نبوت جاری تھی ‘ وہ چونکہ اس وقت تک صرف ابراہیم (علیہ السلام) ہی کو ملا تھا اس لئے لوط (علیہ السلام) کو اس بعثت کا اقرار کرنا تھا جو آپ کے وقت میں ہوش سنبھالتے ہی موجود تھی اس لئے جیسے ہی ابراہیم (علیہ السلام) نے بعثت کا دعوی کیا تو لوط (علیہ السلام) نے فورا اس کو قبول کرلیا کہ آپ فطرتا مسلم ہوئے تھے اور آپ کے مزاج میں اسلام کے سوا اور کچھ نہ تھا جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نبوت سے پیشتر ہی کفر وشرک سے بیزار تھے بعینہ لوط (علیہ السلام) بھی بیزار تھے اور ابراہیم (علیہ السلام) کے اعلان نبوت کے ساتھ ہی آپ ابراہیم (علیہ السلام) کی نبوت پر ایمان لے آئے اور ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت کے وقت آپ نے بھی ساتھ ہی ہجرت کی اور اس کے ایک عرصہ بعد آپ کو نبی بنا کر سدوم کی طرف بھیج دیا گیا اور آپ کے سلسلہ تبلیغ سدوم ہی میں شروع کیا اور سدومیوں ہی کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے ، اس لئے آپ کے متعلق یہ سوال اٹھانا کہ آپ ایمان لانے سے قبل کافر و مشرک تھے ؟ فی نفسہ غلط ہے بلاشبہ اکثر وبیشتر نبیوں اور رسولوں کا تعلق کافر اور مشرک قوموں ہی سے تھا لیکن کوئی بنی بھی اپنی بعثت سے پہلے کفر وشرک کا مرتکب نہیں ہوا ایسے معاشرہ میں رہنے کے باوجود ہر نبی ورسول نبی ورسول کبھی مشرک نہیں ہوا بلکہ فطرت طور پر ہر نبی ورسول کفر وشرک سے بیزار پیدا ہوا اگرچہ وہ حق کا متلاشی ہوتا تھا کہ حق کیا شے ہے ؟ نبوت تک اللہ تعالیٰ نے ہر نبی ورسول ہونے والے کو کفر وشرک سے بیزار ہی رکھا اور جب نبوت عطا کی تو اس کی نبوت سے پہلی زندگی کو قوم کے سامنے بطور استشہاد پیش کیا بلاشبہ نبوت تو مجھے اب ملی لیکن نبوت سے پہلے بھی آپ کے اس معاشرہ میں رہ کر میں بذاتہ ان افعال کا مرتکب نہیں ہوا جو کفر وشرک سے کے افعال تھے اور یہی حال لوط (علیہ السلام) کا تھا لہذا یہ سوال فی نفسہ صحیح نہیں کہ لوط (علیہ السلام) ایمان لانے سے پہلے کفر وشرک میں مبتلا تھے کیونکہ ایمان لانے کا مطلب تصدیق کرنا ہے اور ظاہر ہے کہ تصدیق اسی وقت ہی ممکن تھی جب ابراہیم نبوت کا اعلان کرتے اور بلاشبہ جبھی ابراہیم (علیہ السلام) نے نبوت کا اعلان کیا تو آپ نے اس کی تصدیق کی کبھی آپ کی نبوت کا انکار نہیں کیا گویا ابراہیم (علیہ السلام) کے اعلان نبوت کے بعد لوط (علیہ السلام) نے تصدیق کرنے میں کوئی دیر نہیں کی اگرچہ لوط (علیہ السلام) کو ایک مدت کے بعد نبوت پر فائز کیا گیا ۔
Ayah 29:27

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو (ہجرت کے بعد) اسحاق اور یعقوب (علیہما السلام) عطا کیے اور اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب مقرر کردی اور اس کو ہم نے دنیا میں اس کا صلہ دیا (ابراہیم کی اولاد میں سلسلہ نبوت رکھ دیا) اور بلاشبہ آخرت میں بھی بڑے نیک لوگوں میں شامل ہو گا

ابراہیم کی ہجرت کے بعد جو اللہ نے آپ پر انعامات کیے ان کا ذکر : 27۔ ابراہیم (علیہ السلام) جب ہجرت کرکے اپنی قوم اور والد وخاندان سے الگ ہوگئے تو اس وقت تک ابھی آپ کی کوئی اولاد موجود نہ تھی حالانکہ شادی آپ کی موجود تھی ہجرت کے بعد آپ نے مصر سے گزرتے ہوئے بادشاہ مصر کی بیٹی کے ساتھ شادی کی اس طرح آپ کی دوسری بیوی مصر کی شہزادی ہاجرہ ؓ تھیں ہاجرہ سے اسمعیل پیدا ہوئے اور اس کے ایک عرصہ بعد اللہ نے سارہ ؓ سے آپ کو اسحاق جیسا فرزند عطا کیا اس جگہ بنو ہاجرہ کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ بنو سارہ کا ذکر کرتے ہوئے اسحاق (علیہ السلام) کے بیٹے یعقوب کا نام لیا کیونکہ اسحاق (علیہ السلام) بھی آپ کے مبشر بیٹے تھے اور آپ کو اسحاق کی خوشخبری جب سنائی گئی تو اس خوشخبری ہی میں یہ خبر بھی تھی کہ اسحاق تیرا بیٹا اتنی مدت تک ضرور زندہ رہے گا کہ اس کے اولاد پیدا ہو اور جب اس کے اولاد پیدا ہو تو اس کے پہلے بیٹے کا نام یعقوب رکھنا کیونکہ یہی نام ہماری طرف سے اس کا رکھا گیا ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے جو احسان کئے تھے ان میں سے یہ بھی ایک بہت بڑا احسان تھا جس کی نسبت آپ کے خاندان سے بھی خاص تھی کیونکہ سارہ آپ کے خاندان سے تھیں ، جیسا کہ ابراہیم علہس السلام کے ذکر میں آپ پڑھ چکے ہیں آپ کی تین بیویاں تھیں سارہ ‘ ہاجرہ اور قطورا اور تینوں بیویوں سے اللہ نے اولاد دی تھی اگرچہ سب سے پہلے اولاد جو آپ کو دی گئی وہ ہاجرہ ہی سے دی گئی تھی لیکن تینوں بیویوں کی اولادوں کو آپ نے مختلف علاقوں میں ایک دوسرے سے کافی فاصلہ پر آباد کیا اور اس طرح کرکے بعد میں آنے والے لوگوں کو درس دے دیا کہ اگر ایک سے زیادہ شادیاں کی جائیں تو ان کی اولاد میں جو ایک طرح کی فطری رقابت ہوتی ہے اس کے پیش نظر ان کی اولادوں کو ایک دوسرے کے قریب قریب آباد نہ کرنے میں کیا حکمت ہے اور اس حکمت کو سمجھتے ہوئے ان لوگوں کو اس طرح اسوہ حسنہ اپنانا چاہئے اسی میں بھلائی اور خیر ہے پھر اس احسان کا ذکر بھی فرمایا کہ ابراہیم کی نسل کے ساتھ نبوت کو ہم نے خاص کردیا اور یہ ایسی بات کہہ دی کہ اس کا تجزیہ کرنے میں زندگی کے لئے بیشمار اسباق رکھے گئے ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) کی ان تینوں بیویوں کی اولاد چونکہ ابراہیم (علیہ السلام) ہی کی نسل تھی اس لئے اس جگہ وضاحت کردی کہ جس طرح نبوت کا سلسلہ اسحاق کی نسل میں رکھا گیا اسی طرح ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے بھی رکھا گیا اور اسی طرح مدین کی نسل سے بھی مدین چونکہ بنو قطورا سے تھے اسحاق بنو سارہ میں سے اور اسماعیل بنو ہاجرہ میں سے تھے اس لئے آپ کی نسل سے نبوت کو خاص تعلق پیدا کردیا گیا گویا آپ کے بعد ضروری تھا کہ نبی آپ ہی کی نسل سے تعلق رکھے لہذا مدین میں سے شعیب (علیہ السلام) کا ذکر تفصیل سے کیا گیا بنو اسلام میں سے سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین کا اعزاز بھی نصیب ہوا کہ آپ پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا گیا اور بنو اسحاق کی نبوت کو تفصیل سے بیان کیا اور اس سلسلہ کا آخری نبی سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو قرار دیا گیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنو اسحاق میں سے کوئی نبی نہیں ہوا اور نہ ہی اب قیامت تک کوئی ہوگا اور جو بھی کوئی ایسا دعوی کرے گا بلاشبہ وہ کاذب ہی ہوگا ۔ بنو اسحاق ہی کو بعد میں بنی اسرائیل کے نام سے یاد کیا گیا اور آج ان کو بنی اسرائیل ہی کے نام سے یاد کا جاتا ہے اگرچہ وہ زیادہ تر اپنے آپ کو یہودی کے نام سے موسوم کرتے ہیں اس لئے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی آمد پر بنی اسرائیل دو حصوں میں تقسیم ہوگئے ایک حصہ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو نبی ورسول تسلیم کیا اور ایک حصہ نے ان کو تسلیم نہ کیا لہذا بنی اسرائیل دو حصوں میں تقسیم ہو کر ایک نام یہودی اور دوسرے فرقہ کا نام عیسائی یا نصاری رکھا گیا ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وفات کے بعد جب بنی اسرائیل پے در پے تنزلی کی حالت سے دوچار ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ انجام کار بابل اور اسیریا کی سلطنتوں نے ان کو غلام بنا کر زمین میں تتر بتر کردیا تو انبیاء بنی اسرائیل نے ان کو خوشخبری دینی شروع کی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ” مسیح “ آنے والا ہے جو ان کو اس ذلت سے نجات دلائے گا ان پیش گوئیوں کی بنا پر بنی اسرائیل من حیث القوم ایک مسیح کی آمد کے متوقع تھے جو بادشاہ ہو اور مخالفین سے لڑ کر ملک فتح کرے گا اور بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی طاقت کو بحال کرے گا یہ پشن گوئیاں فی الواقع انبیاء کرام کی طرف سے اس پٹی ہوئی قوم کو دی گئیں یا قومی لیڈروں نے ان کو گھڑا تاکہ بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی طاقت کو کسی سہارے سے جمع کیا جاسکے ، بہرحال ان کا وجود آج بھی تورات میں پایا جاتا ہے ، ان کا وطن کیا تھا یہ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ یہ فلسطین ہی تھا ، لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک رسول عیسیٰ (علیہ السلام) جب بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے تو وہ توقعات جوان کو دلائی گئی تھیں اس کے مطابق نہ پا کر بہت سے بنی اسرائیل عیسیٰ (علیہ السلام) کے مخالف ہوگئے اور اس مخالفت کے باعث مخالفت کرنے والوں کو اپنی شناخت کے لئے یہودیت کا لقب اختیار کرنا پڑا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو ماننے والوں نے اپنی شناخت کے لئے نصاری کا لقب اختیار کیا جن کو بعد میں عیسائی بھی کہا گیا اور آج تک دونوں جماعتوں کے یہ لقب اپنی جگہ بدستور قائم ہیں ، اس طرح کی خبروں نے بعد میں اسلام کے اندر رواج پایا اور اسلامی روایات میں داخل ہو کر اسلام کی فضا کو بھی مسموم کرنے کی بھر پور کوشش کی لیکن قومی نظریات جب کسی قوم میں من حیث القوم تسلیم کر لئے گئے ہوں تو ان کی حقیقت کو معلوم کرلینے کے باوجود خاموشی کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہوتا تاہم یہ بات سب کو معلوم ہے کہ ان نظریات نے اسلام میں کیا کیا طوفان بپا کئے اور اب کیا کچھ کر رہے ہیں حالانکہ ان کی حقیقت صاحب علم حضرات سے کچھ مخفی نہیں بہرحال اگر آپ نے اس بات کو ذہن میں رکھا تو انشاء اللہ قرآن کریم کے مطالعہ میں آپ کو بہت فائدہ دے گی اور مضمون اب ابراہیم (علیہ السلام) کی سرگزشت سے پھر کر لوط (علیہ السلام) کی سرگزشت کی طرف اشارہ دے رہا ہے ۔
Ayah 29:28

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور لوط (علیہ السلام) نے جب اپنی قوم سے کہا کہ تم بےحیائی کا کام کرتے ہو (کہ مردوں کے پاس شہوت کے ساتھ آتے ہو) جو تم سے پہلے کسی نے بھی دنیا والوں میں سے نہیں کیا

لوط (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور انہوں نے قوم کو ڈرایا : 28۔ لوط (علیہ السلام) کا تعلق نسبی اس قوم سے نہیں تھا جس قوم کی طرف آپ کو مبعوث کیا گیا تاہم زبان آپ کی مختلف نہیں تھی ، جیسا کہ پیچھے وضاحت گزر چکی لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہی اپنے علاقہ سے ہجرت کر آئے تھے مصر تک دونوں چچا بھتیجا اکٹھے رہے اور مصر سے نکلتے وقت دونوں مشورہ سے الگ الگ ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو یعنی لوط (علیہ السلام) کو سدومیوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا اور اس طرح لوط (علیہ السلام) اہل سدوم ہی کو مخاطب کرکے بات کرتے ہیں کیونکہ اس قوم کی طرف آپ مبعوث کئے گئے تھے ۔ لوط (علیہ السلام) کا سابقہ جس قوم سے پڑا وہ نہایت ذلیل ورسوا قوم تھی وہ صرف فاسق وفاجر ہی نہ تھے بلکہ بہت سے فسق وفجور کے موجد بھی تھے ، وہ ایسے گناہوں میں ملوث تھے جن گناہوں میں اس سے پہلے شاید کسی نے جھانکا بھی نہ ہوگا اور سب سے زیادہ کندے افعال ان کے غیر فطری طریقے سے شہوت نفسانی کا ازالہ تھا یہی وجہ ہے کہ جس جگہ ان کا تعارف کرایا گیا تو ان کی اس عادت کا ذکر ضرور کیا گیا ۔
Ayah 29:29

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تم مردوں سے بد فعلی کرتے ہو اور (نسل کی) راہ منقطع کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں برے کام کرتے ہو (اجتماعی بدفعلی) تو اس کا جواب ان کے پاس اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ بول اٹھے اگر تم (منع کرنے میں) سچے ہو تو ہم پر اللہ کا قہر نازل کر دو (اور کبھی یہ کہہ دیا کہ ان پاکبازوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو)

تم لوگ کتنے بےغیرت ہو کر مجلس کے اندر غیر فطری فعل کے مرتکب ہوتے ہو : 29۔ یہ لوگ ایسے نامراد تھے کہ اس طرح کے غیر فطری فعل کو مجلس کے اندر کرنے میں بھی قباحت نہیں سمجھتے تھے بلکہ فخر محسوس کرتے تھے اور اس کے علاوہ راہ زنی ‘ قزاقی وغیرہ بھی ان کا پیشہ تھا اور جو جو بیماریاں ان لوگوں میں تھیں وہ بلاشبہ اجتماعی تھیں یعنی پوری قوم کے لوگ اس میں ملوث تھے جو ان افعال سے پرہیز کرتا اس کو تضحیک کا نشانہ بناتے ۔ لوط (علیہ السلام) نے جب اس قوم کو سمجھایا تو بجائے اس کے کہ یہ لوگ اپنی برائیوں سے باز آتے یا کم از کم یہ کہ ان برائیوں پر نادم ہی ہوتے ۔ ان کو کبھی ان افعال پر ندامت نہ ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ لوط (علیہ السلام) کو انہوں نے اس طرح جواب دیا کہ لاؤ بھائی اس عذاب کو جس کی بار بار رٹ لگا رہے ہو جب تو دیکھتا ہے کہ ہم تیرے کہنے میں آنے والے نہیں تو اب دیر کیوں کرتا ہے کیوں نہیں آتا وہ عذاب جس کا بار بار ہم کو وعدہ دیتا رہا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تیری ایک بڑ ہے جس میں کوئی صداقت نام کی چیز موجود نہیں اگر تیرے پاس صداقت ہوتی تو تو دیر کیوں کرتا ۔ لوط (علیہ السلام) نے قوم کے اس طرح کے جملے سن کر رب کریم سے اپیل کی جب کہ آپ کی اپیل کے الفاظ آنے والی آیت میں بیان کئے گئے ہیں ۔
Ayah 29:30

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

(لوط نے) عرض کی اے میرے پروردگار ! ان مفسد لوگوں کے خلاف میری مدد فرما

لوط (علیہ السلام) نے مفسرین کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی : 30۔ لوط (علیہ السلام) قوم کی زیادتیوں کو برداشت کرتے کرتے تھک گئے اور قوم نے آپ کی ایک نہ مانی ‘ انجام کار لوط نے اللہ سے مدد طلب کی اور یہ وہی مدد تھی جس کا اللہ نے ہر نبی ورسول سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ اپنے فرائض کو ادا کرو اگر قوم نے تمہاری بات نہ مانی تو انجام کار میں تمہاری مدد کروں گا ، اسی مدد کے نتیجہ میں قوم کو عذاب الہی نے اچانک آدبایا۔
Ayah 29:31

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لے کر آئے (تو) انہوں نے کہا کہ ہمیں تو اس بستی کے رہنے والوں کو غارت کرنا ہے بلاشبہ اس میں بسنے والے (لوط کے لوگوں کے سوا) بڑے ہی بدکار لوگ ہیں

لوط (علیہ السلام) نے ایک مدت تک قوم کو سمجھایا لیکن انجام کار اللہ سے ملتجی ہوئے : 31۔ لوط (علیہ السلام) ایک مدت تک قوم کے لوگوں کو سمجھاتے رہے لیکن قوم سے ایمان لانے والوں کی تعداد چند گنتی کے لوگ تھے باقی پوری کی پوری قوم ایک ہی ڈگر پر جا رہی تھی انہوں نے لوط (علیہ السلام) کی ایک نہ سنی بلکہ اکثر اوقات وہ لوط (علیہ السلام) کو دھمکیاں ہی دیتے رہے کہ ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دینا چاہئے کہ یہ لوگ بڑے پاکباز بنے بیٹھے ہیں اور بالآخر انہوں نے کھلے الفاظ میں عذاب کا مطالبہ بھی شروع کردیا تو لوط (علیہ السلام) نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اے میرے رب ! ان مفسدوں کے مقابلہ میں میری مدد فرما کہ میں ان کی اصلاح سے مایوس ہوچکا ہوں اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبولیت بخشی اور قوم کی ہلاکت کا وقت جو مشیت ایزدی میں طے تھا بلاشبہ وہ بھی آگیا تو اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کی ہلاکت کا اعلان فرما دیا کہ اب اس قوم کے دن گنے جا چکے ہیں ہدایت ان کے مقدر میں نہیں بلکہ ہلاکت ان کا مقدر بن چکی ہے : اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری اور قوم لوط کی ہلاکت
Ayah 29:32

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اس میں تو لوط بھی ہیں ؟ وہ بولے کہ ہمیں معلوم ہے کہ وہاں کون کون رہتا ہے ہم اس کو اور اور اس کے گھر والوں کو سوائے اس کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی (ہلاک کرنے آئے ہیں)

32۔ قرآن کریم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کی خوشخبری کا مختلف مقامات پر ذکر کیا ہے ایک ہاجرہ کے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کی خوشخبری کا اور دوسرے اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری کا ذکر کیا جو سارہ ؓ کے بطن سے پیدا ہوئے ، اس جگہ ابراہیم (علیہ السلام) کو جو بیٹے کی خوشخبری دی گئی ہے وہ کون سے بیٹے تھے دوسری جگہ اس کی وضاحت گزر چکی ہے جیسے سورة ہود میں اور خصوصا اسحاق (علیہ السلام) کی سرگزشت میں اس کا ذکر گزر چکا ہے کہ یہ اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری ہے جو اسماعیل (علیہ السلام) سے تیرہ یا سولہ سال چھوٹے تھے ، بہرحال اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری سنانے کے لئے بھیجے گئے اور ساتھ ان فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت کی خبر بھی ابراہیم (علیہ السلام) کو سنائی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری سنانے کے بعد ان کو یہ بھی بتایا کہ ہم قوم لوط کی ہلاکت کی اطلاع دینے کے لئے اب لوط (علیہ السلام) کی طرف جا رہے ہیں تو ابراہیم کو ایک طرح کا خوف محسوس ہوا تو فورا کہا کہ اس قوم میں تو لوط (علیہ السلام) بھی ہیں اگر اس بستی کی ہلاکت کا وقت آچکا ہے تو لوط (علیہ السلام) کا کیا بنے گا ؟ فرشتوں نے جواب دیا کہ بلاشبہ اس بستی میں لوط (علیہ السلام) بھی ہیں اور ہمارے علم میں ہے اور ہمارا کام ہی کیا ہے ؟ یہی کہ ہم لوط (علیہ السلام) کو متنبہ کریں گے کہ وہ اس بستی کو چھوڑ کر نکل جائیں اور اپنے لوگوں کو بھی ساتھ لے جائیں جو ان پر ایمان لائے ہیں تاکہ وہ اس ہلاکت سے بچ جائیں لیکن ہاں یہ بات ہمارے علم میں لائی گئی ہے کہ لوط (علیہ السلام) کی بیوی ہلاک ہونے والوں میں ہوگی کیونکہ وہ لوط (علیہ السلام) کے ساتھ وہاں سے نکلنے والی نہیں ہے اس بات میں اس کا اشارہ بھی ملتا ہے کہ لوط (علیہ السلام) کی بیوی کو باوجود بیوی ہونے کے دلی لگاؤ لوط (علیہ السلام) کے ساتھ نہیں تھا اور یہی بات اس کی ہلاکت کا سبب ہوئی ۔ اس سے ہم کو یہ سبق بھی حاصل ہوتا ہے کہ اگر شادی ہوجانے کے بعد میاں بیوی میں ازدواجی تعلقات کی بحالی موجود ہو اور اس کے علاوہ دلی طور پر کلی ہم آہنگی نہ بھی میسر آئے تو نباہ کرنا ہی چاہئے اور حتی المقدور فریقین کو طلاق کے متعلق سوچنا کوئی اچھی بات نہیں بلکہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے اسوہ حسنہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ بہت کچھ برداشت کرکے اپنا وقت گزارتے رہے اور طلاق جیسے اقدام کی کوشش نہیں کی اور دوسرا سبق ہم کو یہ بھی ملتا ہے کہ کسی نبی ورسول سے کتنا ہی گہرا تعلق کیوں نہ ہو اگر تعلقات والے کے اپنے حالات و اعمال اچھے نہ ہوں تو وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے محض اس نبی ورسول کے تعلق کے باعث نہیں بچ سکتا بلکہ اس طرح کے سارے تعلقات اس دنیا کی زندگی تک محدود ہیں آخرت میں اعمال کا عوض ہی ہر شخص کو ملنا ہے خواہ وہ کوئی ہو ۔ اس لئے جو لوگ محض حسب ونسب کا لحاظ رکھتے ہوئے اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ ہمیں یہ تعلق ہی آخرت میں کفایت کرے گا وہ محض دھوکے اور فریب میں مبتلا ہیں یہ کسی حال میں بھی صحیح نہیں ہے ۔ یہ تعلق خواہ کتنا ہی قریب کا کیوں نہ ہو ہرگز ہرگز مفید نہیں ہوگا جیسا کہ نوح (علیہ السلام) کے بیٹے ‘ ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ اور لوط (علیہ السلام) کی بیوی کا ذکر کرکے قرآن کریم نے واضح کردیا ہے لیکن افسوس کہ ہم سیکھنے والا سبق قرآن کریم سے بہت کم ہی سیکھتے ہیں ۔
Ayah 29:33

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

پھر جب ہمارے بھیجے ہوئے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وہ ان کی وجہ سے مغموم ہوا اور ان کے سبب سے بہت دل تنگ ہوا (بھیجے ہوئے بھی پہچان گئے) اور بولے کہ تم کچھ اندیشہ نہ کرو ، نہ غمگین ہو ، ہم تم کو اور تمہارے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے تمہاری بی بی کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی (اور وہ سب گرفتار عذاب ہوں گے)

ابراہیم (علیہ السلام) سے فارغ ہو کر یہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوئے : 33۔ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے یہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے روانہ ہو کر سدوم میں سیدھے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے یہ نو وارد لوگ تھے اور نو وارد لوگوں کے ساتھ اس بستی والوں کا جو سلوک ہوتا تھا اس کا ذکر عروۃ الوثقی جلد پنجم کی سورة الحجر کی آیات 61 تا 79 تک اور جلد چہارم میں سورة ہود کی آیات 76 تا 83 تک تفصیل سے گزر چکا ہے ، مختصر یہ کہ یہ نو وارد اپنی ظاہری شکل و صورت سے ایسے تھے کہ ان لوگوں کی رغبت ان کی طرف ہوگئی اور لوط (علیہ السلام) پہلے اس حیص بیص میں تھے کہ اگر قوم کو خبر ہوگئی تو وہ کیا کریں گے کہ مہمان کی ذمہ داری تو بہرحال میزبان پر ہوتی ہے گویا لوط (علیہ السلام) بھی ان کو پہچان نہ سکے کیونکہ ابھی تک کسی معاملہ میں لوط (علیہ السلام) سے ان کی گفتگو نہیں ہوئی تھی اور وہی ہوا جس کا کھٹکا لوط (علیہ السلام) نے محسوس کیا تھا قوم کے لوگ جب لوط (علیہ السلام) کے ہاں آنے لگے اور لوط (علیہ السلام) پر اس کا اثر نو وارد لوگوں نے محسوس کیا تو وہ کہنے لگے کہ اے لوط ! آپ گھبرائے نہیں ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں تاکہ آپ کو مطلع کردیں کہ آج رات آپ کو یہاں سے نکل جانا ہوگا کیونکہ آپ کی قوم کی ہلاکت کا وقت آچکا ہے تم خود بھی یہاں سے ہجرت کر جاؤ اور اپنے لوگوں کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤ اور یاد رکھو کہ وہی بچے گا جو آپ کے ساتھ اس جگہ سے نکل جانے پر راضی ہوا اور جو یہاں رہ گیا وہ عذاب کی زد میں ضرور آئے گا ہاں ! ہم کو اطلاع دی گئی ہے کہ آپ کی بیوی آپ کے نکل جانے پر راضی نہیں ہوگی اور وہ اپنے میکے والوں کے ساتھ ہی رہے گی اور اس طرح وہ بھی عذاب الہی میں ہلاک کی جانے والی ہے اور اس طرح وہ پیغام پڑھ کر لوط (علیہ السلام) کو انہوں نے سنا دیا جو وہ لے کر لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے تھے ۔
Ayah 29:34

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

بلاشبہ ہم اس بستی کے لوگوں پر آسمان سے ایک عذاب ان کی بد اعمالیوں کے باعث نازل کرنے والے ہیں

فرشتوں نے وہ پیغام لوط (علیہ السلام) تک پہنچا دیا جو وہ پہنچانے کے لئے آئے تھے : 34۔ فرشتوں نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا پیغام لوط (علیہ السلام) تک پہنچایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد یہ ہے کہ ” اس بستی سدوم کے لوگ چونکہ فسق وفجور میں اور گناہوں میں ملوث ہیں اس وجہ سے ہم ان پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اور آج رات کے آخری حصہ میں اس کو تہس نہس کرکے رکھ دیا جائے گا جس کی صورت یہ ہوگی کہ ان پر پتھروں کی بارش ہوگی اور زلزلہ اور سخت چیخ کے ساتھ ان کا کام تمام ہوجائے گا اور اس بستی کو زمین اندر کی طرف اس طرح جذب کرلے گی کہ اس کی جگہ گہرا سمندر بن کر رہ جائے گا ۔ “ اور بلاشبہ وہی ہوا جس کی آنے والوں نے اطلاع دی تھی اور تفصیل اس کی گزشتہ محولہ مقامات پر گزر چکی ہے ۔ وہاں سے ملاحظہ کرلیں ۔
Ayah 29:35

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے اس بستی کے کچھ واضح نشان عقل والوں کے لیے چھوڑ دیئے ہیں

ان لوگوں میں کھلی نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں : 35۔ قصص قرآنی کی غرض زیر نظر آیت میں بیان کردی گئی کہ اگر تم ذرا بھی عقل و فکر سے کام لو تو تم کو معلوم ہوجائے کہ اس قوم کی حالت کیا ہوئی اور کیوں ہوئی ؟ حالت یہ ہوئی کہ اس وقت جہاں وہ بستیاں آباد تھیں اب وہاں بحر میت کے نام سے یا بحر لوط کے نام سے ایک گہرا سمندر موجود ہے بلاشبہ جو کچھ ہوا وہ سنت اللہ کے مطابق ہوا لیکن وہاں کے رہنے والوں ہی میں بچ جانے والے بھی تھے وہ کیوں بچ گئے اور جو غرق ہوئے وہ کیوں ؟ لوط (علیہ السلام) کی بات ماننے والوں کو بچالیا گیا اور نہ ماننے والوں کو زمین نگل گئی ہاں ! بلاشبہ آتش فشاں پھٹا اور وہی ان کی تباہی کا باعث ہوا لیکن وہ لوگ بھی تو اسی بستی میں رہتے تھے جو بچا لئے گئے اس لئے کہ انہوں نے لوط (علیہ السلام) کی بات کو سچ مانا اور جو لوط (علیہ السلام) نے ان کو حکم دیا کہ اس کو بےچون وچرا سرما تھے پر رکھا اور اسے قبول کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب اس علاقہ پر آفت آنے والی تھی تو لوط (علیہ السلام) کی اس بات کو ایک ہزیان سمجھا اور اپنی حالت پر بدستور قائم رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چند گھنٹوں کے اندر ان کا کام تمام کردیا گیا ، اس بات کو اگر عقل وفکر کے ساتھ دیکھا جائے تو قیامت پر سچے دل سے یقین آجانا ایک فطری چیز ہے جس سے انکار ممکن ہی نہیں اور اسی طرح کا سبق انبیاء کرام کے سارے قصص کو کہیں ذرا تفصیل کے ساتھ اور کہیں بالکل اشاروں اور استعاروں میں کیوں بیان کیا اور اگر ہماری نگاہ اس بات پر ہوتی تو ہم ان قصص کو پڑھ کر سمجھ کر اپنی اصلاح کرلیتے جس مقصد کے لئے ان کو اس طرح بیان کیا گیا تھا ، لوط (علیہ السلام) ہی کے قصہ کو لے لیجئے اس میں ہماری زندگی کے کتنے اسباق پنہاں تھے ہم نے ان اسباق کا ذکر لوط (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت کے تحت بیان کردیا ہے ملاحظہ ہو عروۃ الوثقی جلد چہارم ص 637 تا 650۔
Ayah 29:36

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا پس اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی بندگی کرو اور آخرت کے دن کی امید رکھو اور زمین پر فساد مت پھیلاتے رہو

اہل مدین کی طرف شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث کیا گیا تو انہوں نے توحید الہی کا درس دیا : 36۔ ہم اس کی وضاحت پیچھے کتنے مقامات پر کرچکے ہیں کہ مدین ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹوں میں سے ایک بیٹے کا نام تھا اور آپ کے یہ بیٹے بنو قطورا کے نام سے ذکر کئے گئے ہیں کیونکہ قطورا نامی سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تیسری بیوی تھی ، حجاز کے اندر آج بھی ایک علاقہ مدین کے نام سے موجود ہے یہ انہی کی نسبت سے مدین کہلاتا ہے اس قبیلہ میں شعبے (علیہ السلام) مبعوث کئے گئے انہوں نے قوم کو توحید الہی کا درس دیا اور یوم آخرت کو سچے دل سے تسلیم کرنے کی ہدایت دی آپ کی قوم کی معروف بیماریاں کم تولنا ‘ کم ماپنا ‘ چیزوں میں ملاوٹ کرنا ‘ دین کے پیمانے الگ اور لینے کے پیمانے الگ رکھنا تھیں آپ نے ان ساری بیماریوں سے قوم کو بچانے کی سرتوڑ کوشش کی اور انہی بیماریوں کے باعث قوم کو مفسدین قرار دیا کیونکہ اس سے فساد فی الارض لازم آتا ہے اور فساد بپا کرنے والے ہی کو مفسد کہا جاتا ہے چونکہ یہ بیماریاں پوری قوم کے اندر موجود تھیں اس لئے آپ نے ان کو مفسدین کا نام دیا اور فساد سے باز آنے کی تلقین کی قوم نے آپ کی ایک نہ سنی اور یہ سلسلہ ایک مدت تک جاری رہا افسوس کہ ہم شعیب (علیہ السلام) کی سرگزشت کو پڑھتے ہیں ‘ پڑھاتے ہیں ‘ سناتے ہیں لیکن آپ کی قوم کی مجموعی بیماریاں آج ہماری قوم میں بھی موجود ہیں بلکہ ان سے ہم بہت آگے نکل چکے ہیں اور زیادہ تر اس وقت بھی یہ کام ان ہی لوگوں کا تھا جو قوم میں برسرآوردہ لوگ تھے اور آج بھی قوم مسلم کے وڈیروں کی اکثریت خصوصا اس ملک عزیز میں تو ہر وڈیرا اور قوم کا لیڈر اس بیماری میں ملوث ہے لیکن کوئی نہیں جوان کی طرف انگلی اٹھائے اور انکو روکنے میں اپنی ہمت کے مطابق کوشش کرے اور ان لوگوں کو ان کے انجام سے آگاہ کرے ۔
Ayah 29:37

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

پھر اس کی قوم نے اس کو جھٹلایا تو ان کو ایک زلزلے نے آپکڑا ، پس صبح کے وقت وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے آپ کی ایک نہ مانی جس کے نتیجہ میں ان کو بھی ہلاک کردیا گیا : 37۔ شعیب (علیہ السلام) کی دعوت کو اکثریت نے ماننے سے انکار کردیا اور خصوصا قوم کے وڈیروں نے آپ کی مخالفت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ۔ شعیب (علیہ السلام) کی دعوت کا تفصیلی ذکر عروۃ الوثقی جلد سوم سورة الاعراف کی آیات 85 تا 92 جلد چہارم سورة ہود کی آیات 84 تا 95 اور اسی سورة ہود میں شعیب (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت کے عنوان سے آپ کا تفصیلی ذکر بھی آیا ہے نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کے مخالفین پوری مکی زندگی میں طرح طرح سے تنگ کرتے رہے اور ظاہر ہے کہ جب نہ چھیڑنے والے کو کوئی اس قدر تنگ کرے تو اس کا تنگی محسوس کرنا ایک فطری عمل ہے ۔ اس لئے بار بار آپ کو سابق انبیاء کرام کی داستانیں اشارات ہی اشارات میں بتائی گئی تھی اور اس کی اصل حقیقت یہ ہے کہ بلاشبہ مخاطب تو آپ ہی کو کیا گیا لیکن دراص آپ کے ذریعہ سے آپ کی امت کے ان افراد کو بتانا مقصود ہے جو دین اسلام کی دعوت کے لئے اپنے آپ کو خاص کرتے ہیں گویا ہر طالب علم جو دین اسلام کا طالب علم ہے اس کو یہ بات بار بار دہرائی جا رہی ہے کہ یہ راستہ اختیار کرنا لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے اور یہ منزل نہایت ہی مشکل اور نہایت حد تک صبر آزما ہے لیکن افسوس کہ جب سے دین اسلام کو ایک پیشہ کے طور پر اپنا لیا گیا اس وقت سے لے کر اس کی اس افادیت کو بالکل ملیامیٹ کردیا گیا اور ہوتے ہوتے آج یہ پیشہ دینا کے سارے پیشوں سے آسان تر ہوگیا اور چند رسوم کا نام اسلام رکھ دیا گیا اور ان رسوم کی ادائیگی کے لئے جو وقت مقرر کئے گئے آج وہی دین کے گویا ٹھیکیدار ہیں اور ان کا کام صرف ان رسومات کو ادا کرانا ہے یہی وجہ ہے کہ اسلامی درسگاہیں اس وقت اس اسلام کے سوا کچھ اور ہی پڑھا رہی ہیں اور ان درس گاہوں کے مہتمم حضرات چندوں پر گزر بسر کر رہے ہیں اور اپنے مدرسوں میں اپنے فکر کی رسومات کو ادا کرنے کے لئے لوگ تیار کر رہے ہیں اور ایک خاص وضع قطع بنا کر کہ جو جس فرقہ نے اپنے لئے اپنا لی ہے اس کے لئے تیار کرکے مساجد میں منتقل کرتے چلے جا رہے ہیں اور یہ لوگ وہی ہیں جن کو ملک کے اندر کوئی دوسری جاب ” Job “ ملنے کی امید نہیں ہوتی تو وہ یہ آسان ترین راستہ استعمال کرکے روزگار مہیا کرتے ہیں اور پھر اس پر قانع ہو کر بیٹھ جاتے ہیں اور اب یہ پیشہ دوسرے پیشوں سے زیادہ سہل وآسان نظر آتا ہے اور غریب لوگ جو اپنی اولاد کے اخراجات برداشت کرنے سے عاری ہیں اور اس پیشہ کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ روز بروز فرقہ بندی جنم لے رہی ہے اور آئے دنوں ان فرقہ بندیوں کو مضبوط تر کیا جا رہا ہے جس کا نتیجہ نہایت ہی خطرناک حد تک خراب نکل رہا ہے اور ابھی مزید خطرناک نکلے گا آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ؟ ظاہر ہے کہ یہ پیشہ اپنانے والے تو اس کو کبھی چھوڑنے کے لئے تیار نہیں لیکن ہماری حکومت بھی اس معاملہ میں مخلص نہیں کہ فرقہ بندی کم ہو اور ملک میں امن وامان ہو بلکہ ہر اسلامی ملک اور خصوصا برصغیر کے ممالک میں روز افزوں ترقی ہو رہی ہے اور غیر مسلم معاون ملک چاہتے ہیں کہ ہماری حالت مزید خراب ہو لہذا وہ اس بگاڑ کیلئے دن رات سکیمیں تیار کر رہے ہیں اور اس طرح کی ہر وہ رقوم حاصل کر رہے ہیں اور ذرا خیال نہیں کرتے کہ اس کا انجام کیا ہوگا ؟ بات شعیب (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کی تھی اور ہم چلتے چلتے بہت دور نکل گئے ، نہیں نہیں ہم دور نہیں گئے بلکہ ہم اسی جگہ کھڑے ہیں جہاں کھڑا رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان قصص کو قرآن کریم میں بیان فرمایا چونکہ ہمارے علماء نے اس بات کو اجاگر ہی نہ کیا اور نہ ہی تقابل کرکے اپنی قوم کو یہ بتایا کہ آج ہماری قوم بھی انہی خطوط پر چل رہی ہے جن خطوط پر چل کر سارے سابق انبیاء کرام کی امتیں تباہ وبرباد ہوئیں اور ہم بھی انہیں اعمال کو اپنا کر تباہ وبرباد ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ ہماری قوم باوجود ان دینی درسگاہوں کے دن بدن اسلام میں کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جا رہی ہے لیکن ہم ایسی غفلت میں پڑے ہیں کہ ہمارا بھول کر بھی کبھی اس طرف دھیان نہیں گیا اور جو شخص اس خطرہ کی بات کرتا ہے اس کے پیچھے ہم اس قدر الزامات لگا دیتے ہیں کہ وہ انہیں الزامات میں دب کر رہ جاتا ہے ۔
Ayah 29:38

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور قوم عاد اور ثمود کو (بھی ہلاک کیا گیا) اور (یہ حقیقت) ان کے گھروں سے (جو کھنڈر بنے پڑے ہیں) تم پر روشن ہے اور ان کے اعمال کو شیطان نے ان کی نظروں میں خوشنما کر دکھایا تھا پھر ان کو راہ (حق) سے (بھی) روک رکھا تھا اور وہ بڑے ہوشیار (بنے ہوئے) تھے

عاد اور ثمود بھی اس دنیا میں آئے اور اپنے حصہ سے خوب فائدہ اٹھایا : 38۔ عاد ‘ ہود (علیہ السلام) کی قوم کا نام ہے اور ثمود ‘ صالح (علیہ السلام) کی قوم کا اور بلاشبہ یہ دونوں نبی نوح (علیہ السلام) کے بعد اور ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے گزرے ہیں دونوں نبیوں یا دونوں قوموں کا تذکرہ قرآن کریم میں سورة الاعراف ‘ سورة ہود اور الشعراء میں تفصیل سے گزر چکا ہے اور ان دونوں نبیوں کی مختصر سرگزشت عروہ الوثقی جلد چہارم سورة ہود میں گزر چکی ہے ۔ ہود (علیہ السلام) کے لئے ص 596 اور صالح (علیہ السلام) کے لئے ص 614 ملاحظہ کریں ، بلاشبہ شیطان نے ان دونوں قوموں کی مت بھی خوب ماری کہ انہوں نے حق کو پہچان کر اس کے قبول کرنے سے انکار کیا ۔
Ayah 29:39

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور قارون ، فرعون اور ہامان (ہلاک ہو وئے) اور بلاشبہ موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے لیکن انہوں نے زمین پر سرکشی کی اور وہ ہم سے (نکل کر) بھاگ نہ سکے

قارون ‘ فرعون اور ہامان کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) آئے : 39۔ قارون ‘ فرعون اور ہامان تینوں کا ایک زمانہ تھا فرعون وقت کا بادشاہ تھا جو اپنے آپ کو رب الارباب کہلاتا تھا اور قارون وہامان دونوں اس کے وزیر مملکت تھے جو اس کو رب الارباب مانتے اور تسلیم کرتے تھے ، موسیٰ (علیہ السلام) بادشاہ وقت کے پاس یعنی فرعون کے پاس بھیجے گئے آپ نے فرعون کی تفہیم کرانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن اس نے ایک نہ مانی ۔ قارون ‘ موسیٰ (علیہ السلام) ہی کی قوم کا آدمی تھا یعنی بنی اسرائیل میں سے ایک فرقہ تھا بلاشبہ اس نے پوری قوم بیچ کر اتنی دولت اکٹھی کرلی کہ شاید اس سے بڑا امیر فرعون کی مملکت میں اور نہ تھا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی تفہیم کی بھی کوشش کی لیکن اس کو بھی موسیٰ (علیہ السلام) کا پیغام راس نہ آیا اور وہ بھی اپنی ڈگر سے باز نہ آیا ہامان کے متعلق قرآن کریم نے کچھ نہیں کہا کہ وہ کیا تھا ؟ آیا فرعون کا کوئی وزیر تھا اگر تھا تو کس قوم سے تھا فقط اس کا نام ذکر کیا ہے اور اتنی بات ذکر کی ہے کہ فرعون نے ہامان کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ (آیت) ” فاوقد لی یاھامان علی الطین فاجعل لی صرحالعلی اطلع الی الہ موسی) (القصص 28 : 28) ” اے ہامان ! ذرا اینٹیں پکڑ کر میرے لئے ایک اونچی عمارت بنوا شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکون ۔ “ پھر اس کی وضاحت کہیں نہیں کی گئی کہ آیا فی الواقع اس نے عمارت بنوائی یا نہیں بنوائی کیونکہ اس کی اس بات سے ضروری نہیں معلوم ہوتا کہ اس نے یہ عمارت بنوائی ہو کیونکہ اس نے ساتھ ہی یہ کہہ دیا تھا کہ ” میں تو موسیٰ کو جھوٹا سمجھتا ہوں ۔ “ تاہم مفسرین نے بغیر کسی دلیل کے یہ ضرور لکھا ہے کہ اس نے عمارت بنوائی اور فرعون نے اس عمارت پر چڑھ کر ایک تیر پھینکا تیر خون آلودہ واپس آیا اور فرعون نے تضحیکا یہ بھی کہا کہ دیکھو میں نے موسیٰ کے خدا کو قتل کردیا ہے لیکن اس کی اصل کیا ہے ؟ کچھ معلوم نہیں نہ تو یہ بات قرآن کریم سے معلوم ہوتی ہے اور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں یہ مذکور ہے تاہم ایک کہاوت ضرور ہے ۔ بہرحال ہامان کا اس سے زیادہ کوئی تعارف ہم کو معلوم نہیں ۔ زیر نظر آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب روشن دلائل لے کر ان کے پاس آئے تو انہوں نے ناحق زمین میں غرور وتکبر کیا لیکن ہم سے آگے بڑھنے والے نہیں تھے اور ظاہر ہے کہ یہ بات بالکل حق ہے کیونکہ خالق اور مخلوق میں یہ امتیاز تو قائم ہے اور قائم رہے گا کہ مخلوق کچھ بھی کرے آخر مخلوق ہے وہ خالق سے آگے کیوں کر بڑھ سکتی ہے ۔ آج سائنس نے حیرت انگیز حد تک ترقی کرلی ہے لیکن اس ساری ترقی کا اصل راز کیا ہے ؟ یہی کہ اللہ تعالیٰ نے وہ وہ چیزیں مخلوق کو دی ہیں جو آج تک کسی کو معلوم نہیں تھیں اور ان میں ایسی ایسی صلاحیتیں ودیعت کردی ہیں اور جو کچھ اس وقت تک معرض وجود میں آیا ہے کسی ایک چیز کے بھی خالق سائنس دان نہیں ہیں بلکہ ان کو معلوم کرنے والے ہیں اور جو کچھ اس وقت تک معلوم معرض وجود میں آیا ہے کسی ایک چیز کے بھی خالق سائنس دان نہیں ہیں بلکہ ان کو معلوم کرنے والے ہیں اور معلوم کرکے ان کے خواص کی ٹوہ انہوں نے لگائی ہے ۔ وہ بھی جس چیز سے ٹوہ لگا رہے ہیں وہ خدا داد چیز ہے یعنی عقل انکی اپنی تیار شدہ اور تخلیق کردہ چیز نہیں لیکن لوگ ہیں کہ ان کی معلومات پر تو حیران و ششدر ہیں لیکن قدرت الہی جس نے یہ سب کچھ اس فضا کے اندر پیدا کردیا ہے اس پر دھیان نہیں دیتے کہ یہ سارا کمال تو اسی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا ہے جس نے اس قدر چیزیں مخلوق کر کے اس فضا کے اندر رکھ دی ہیں جن کو انسان جو اشرف المخلوق ہے کلی طور پر ابھی معلوم بھی نہیں کرسکا اور سائنس دان چونکہ اسلامی ذہن نہیں رکھتے وہ اپنی معلوم بھی نہیں کرسکا اور سائنس دان چونکہ اسلامی ذہن نہیں رکھتے وہ اپنی معلوم کردہ چیزوں کو اس خالق حقیقی کی طرف نسبت نہیں دیتے نہ اپنی ذات کی اور نہ اپنی معلومات کی اور علماء کرام ہیں کہ وہ ان سارے سائنس دانوں کو شیطان قرار دے کر ان پر کفر کا فتوی لگانا آتا ہے اور وہ فورا جڑ دیتے ہیں جو بلاشبہ علم کی بات نہیں بلکہ سراسر جہالت ہے اور اللہ ہی جانتا ہے کہ یہ جہالت ہمارا پیچھا کب چھوڑے گی ۔
Ayah 29:40

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

پھر ہر ایک کو ان کے گناہوں (کے باعث) ہم نے پکڑا تو ان میں سے بعض پر ہم نے ہوا کے ساتھ پتھر برسائے اور بعض وہ تھے جن کو ایک سخت چیز نے پکڑ لیا اور ان میں سے کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کسی کو دریا میں غرق کیا ، اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا یہ لوگ خود اپنے اوپر ظلم ڈھاتے رہے تھے (اپنے ظلم کی پاداش میں وہ پکڑے گئے)

ان میں سے ہر ایک اپنے وقت پر پکڑا گیا کیونکہ وہ خود ہی اپنے پر ظلم کرنے والے تھے : 40۔ بلاشبہ ان قوموں کو اور ان قوموں کے ان مذکورہ سرغنوں کو پکڑ لیا گیا جو وقت ہم نے ان کو پکڑنے کے لئے رکھا تھا اگرچہ ان کی پکڑ کے مختلف طریقے رکھے گئے تھے کیونکہ ان کے گناہوں کی نوعیت مختلف قسم کی تھی بعض پر ہم نے تیز وتند ہوا بھیجی جس کے اندر پتھر اور کنکر بھی تھے کسی کو ایک نہایت ہی سخت قسم کی مہیب آواز نے آلیا کہ ان کو سرگرداں کرکے بھسم کردیا ‘ کسی کو زمین میں دھنسا دیا گیا یعنی ایسا ذلیل و خوار کیا کہ اس کی دولت اس کی رسوائی سے ذرا بھی بچا نہ سکی جیسے قارون کا ذکر کرکے دوسری جگہ بات واضح کردی اور بعض کو پانی میں غرق کردیا گیا جیسا کہ فرعون کے واقعہ میں وضاحت موجود ہے لیکن ان سب کو جو کچھ پیش آیا وہ ان کا اپنا ہی کیا دھرا تھا ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا تھا وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے اور بلاشبہ ظلم کی نسبت کسی حال میں بھی خالق حقیقی کی طرف جائز نہیں بلکہ ہمیشہ انسان خود ہی اپنی جان پر ظلم کرنے والا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو رحمت ہر وقت انسان پر منڈلاتی رہتی ہے اور وہ بلاشبہ اسی کے سہارے زندہ ہے غور کرو کہ اللہ رب العزت کی مخلوقت کردہ چیزوں سے فائدہ حاصل کرنا اور پھر اس کی مخلوق کو مخلوق قرار نہ دینا کتنا بڑا ظلم ہے اور یہ ظلم وہ طبقہ کر رہا ہے جو اس کائنات میں سب سے زیادہ ترقی پذیر متصور ہوتا ہے ایک طرف اس طبقہ کی یہ ترقی اور دوسری طرف اپنی جانوں پر اتنا بڑا ظلم ‘ اگر اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے قانون امہال کا اعلان نہ کردیا ہوتا تو نہ یہ سائنس دان طبقہ موجود ہوتا اور نہ ہی ان کی یہ ساری ایجادات ظہور میں آتیں ۔ کمال ہے اس احسن الخالقین کا جس نے یہ بھان متی کا سوانگ رچایا اور اپنی مخلوق کو اس طرح کی جسارت کرنے کی اجازت مرحمت فرما دی جس طرح کی جسارت یہ طبقہ کر رہا ہے اور سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود اس ناظم اعلی اور خالق مطلق سے مسلسل انکار کئے جا رہا ہے ۔
Ayah 29:41

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں ان کی مثال مکڑی کی سی ہے جس نے گھر بنایا اور بلاشبہ تمام گھروں میں سب سے کمزور مکڑی کا گھر ہوتا ہے ، کاش وہ (اس مثال پر غور کرتے اور اس کی حقیقت کو) سمجھتے

ان نافرمانوں کی مثال ایسی ہے جیسے مکڑی کا جالا ایک بےحقیقت لیکن دیکھنے میں حیرت زا : 41۔ اوپر اشارات ہی اشارات میں مختصر سا ذکر مختلف اقوام کا کیا گیا اور ان کی عملی خرابیوں کی طرف انگشت نمائی کی گئی کہ ان میں یہ یہ خرابی موجود تھی اور بعض جگہ پر ان کا تفصیلی ذکر کرکے وضاحت بھی کردی گئی جس کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی اخلاقی کمزوری کی کیا حالت تھی اور بعض جگہ پر ان کا تفصیلی ذکر کے وضاحت بھی کردی گئی جس کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی اخلاقی کمزوری کی کیا حالت تھی اور وہ کس قسم کی تھی اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ان بدکاریوں کا اصل باعث ان کے عقیدہ کی خرابی تھی اور پھر عقیدہ کی خرابی میں سرفہرست جس خرابی کا ذکر آتا ہے وہ یہ کہ ان کا توحید الہی پر ایمان نہیں تھا اور قیامت پر بالکل یقین نہیں تھا اور یہی دونوں عقیدے انسانی عمل کی اصل ہیں یہ کہ ان کا توحید الہی پر ایمان نہیں تھا اور قیامت پر بالکل یقین نہیں تھا اور یہی دونوں عقیدے انسانی عمل کی اصل ہیں یہ دونوں عقیدے موجود ہی نہ ہوں یا نہ ہونے کے برابر ہوں تو انسان انسانوں کی فہرست سے نکل کر حیوانوں کی صف میں کھڑا کیا جاتا اگرچہ وہ شکل و صورت کے اعتبار سے انسان نظر آتا ہے لیکن شکل و صورت کے علاوہ یا یوں کہئے کہ حیوان ناطق کے علاوہ اس میں اور عام حیوانوں بیل ‘ گھوڑے اور اونٹ اور اس کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ چونکہ وہ حیوان ناطق ہے اس لئے بلاشبہ دوسرے حیوانوں اور ایسے انسانوں کے درمیان یہی حد فاصل رہ جاتی ہے اس لئے انسان حیوانی زندگی مزے سے گزارتے ہیں ۔ ایسے انسانوں کی نہ تو اس وقت کمی تھی اور نہ ہی آج کوئی کمی ہے بلکہ ایسے انسانوں کی فہرست میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے اور قوم مسلم کے وہ و ڈیرے خواہ وہ مزہبی پیشوایان ہوں یا سیاسی لیڈر اور دوسرے عیش و عشرت سے زندگی بسر کرنے والے انسان جن کو رزق کی فراوانی حاصل ہے جس میں زیادہ تر آج کل کی زبان میں سائنس دان طبقہ بھی سرفہرست آتا ہے اور ان میں وہ بھی شامل ہیں جو غیر اللہ کی پرستش کرتے ہیں اور کراتے ہیں سب کو شامل کرکے ان کی مثال بیان کی جا رہی ہے اور یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ ان کی مثال مکڑی کے گھر سے دی جاسکتی ہے کہ ایسے ہیں جیسے مکڑی کا گھر ہو کہ کسی مخلوق کے لئے وہ موت کا سامان ہے اور کسی کے لئے عیش گاہ اور حقیقت صرف اتنی ہے کہ ذرا ہوا کا جھونکا آیا تو وہ ہلنا شروع ہوگیا اور مکڑے نے اپنی حرکت کو تیز سے تیز تر کردیا ۔ اب غور کرو کہ اس کی کمزوری کو دیکھو تو معلوم ہو کہ اس سے زیادہ کوئی چیز کمزور دنیا میں موجود ہی نہیں لیکن جن کے لئے وہ موت کا سامان ہے ان کی اڑان کو وہ آن کی آن میں ختم کر کے رکھ دیتا ہے اور لوگوں نے اس پر کبھی غور ہی نہیں کیا کہ یہ اتنا ہو کر کیا سے کیا کر رہا ہے ۔ اب غور کرو کہ ان وڈیروں کی کارستانیاں کیا ہیں اور یہ اتنی عقل وفکر کے مالک جنہوں نے زمین کا چپہ چپہ چھان مارا ہے اور کتنی مخلوق ہے جس کے تعارف کا وہ باعث ہیں لیکن اس کے باوجود اس مخلوق کو وہ مخلوق تسلیم کرنے کو ماننے کے لئے تیار ہی نہیں اور دوسری طرف وہ مشرکین ہیں جو خالق تو مانتے ہیں لیکن اس خالق کو جو دراصل ان سب اشیاء کا خالق حقیقی ہے اس کو چھوڑ کر مخلوق ہی میں سے کسی کو خالق قرار دے بیٹھتے ہیں اور ادہام پرستی نے ان کا ایسا بیڑا غرق کیا ہے کہ نہ ان کو دین کا چھوڑا ہے نہ دنیا کا ۔ کسی نے اس کی نسبت جنوں کے ساتھ کی اور کسی نے فرشتوں کے ساتھ اور جو اس سے آگے بڑھے انہوں نے انسانوں ہی میں سے بعض انسانوں کو اس خدائی میں شریک ٹھہرا دیا اور ان کی شبیہہ کے لئے اور اپنے دل کو اطمینان دینے کے لئے کبھی بت تراشے اور کبھی قبریں بنائیں اور ان پر قبے بنا کھڑے کئے حالانکہ ان کی دراصل کوئی حقیقت نہیں مگر یہ کہ ایک وہم ہی وہم ہے ۔ جس کی مثال اس عنکبوت کے گھر ہی سے دی جاسکتی ہے جیسا کہ اس جگہ دی گئی ہے ۔
Ayah 29:42

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

بلاشبہ وہ جس چیز کو بھی اللہ کے سوا پکارتے ہیں اللہ اسے جانتا ہے اور بڑے غلبہ والا اور حکمت والا ہے

جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں ان کی اصل سے اللہ تعالیٰ ہی واقف ہے : 42۔ ایسے بدبخت اور بداطوار لوگ جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر لوگوں کو اپنا معبود اور حاجت روا اور مشکل کشا بناتے ہیں ان کے بت بنا کر سامنے رکھتے یا ان کی قبروں کے طواف کرتے ہیں اور ان سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں کہ جب ہم پر کوئی افتاد پڑے گی تو وہ آگے بڑھ کر ان کی بچا لیں گے بلاشبہ ان کی یہ ساری توقعات مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہیں وہ ان لوگوں کو عذاب الہی سے ہرگز ہرگز نہیں بچا سکیں گے اور لاریب اللہ سے تعلق توڑ کر غیروں سے تعلق جوڑنے والے اور ان پر بھروسہ کرنے والے ایسے ہی ہیں جیسے وہ نادان جو ریت پر محل تیار کرنا چاہتے ہیں ۔ ان کے متعلق اللہ جانتا ہے اور ان کی ناتوانی اور کمزوری سے وہ خوب آگاہ ہے اور یہ لوگ معلوم نہیں کس وہم میں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کرکے چھوڑ نہیں دیا بلکہ اچھی طرح ان سے واقف حال ہے اور ان کی ایک ایک حرکت کو وہ جانتا ہے بلاشبہ وہی سب پر غالب ہے ‘ زور آور ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ (الحکیم) بھی ہے اس لئے خاص حکمت کے تحت وہ سب کو برابر ڈھیل پر ڈھیل دیئے جا رہا ہے اور کسی پر فورا گرفت نہیں کرتا کہ گرفت کے لئے اس نے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے ۔