20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 20:115–120

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

اور یہ واقعہ ہے کہ ہم نے آدم کو (بہت زمانہ پہلے) ایک حکم دیا تھا مگر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں پختگی نہ پائی۔

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس (نے نہ کیا اور) انکار کر بیٹھا۔

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

اس پر ہم نے آدم سے کہا، '' (دیکھو) یہ (ابلیس) تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں جنت سے نکلوا دے (اور) پھر تم مصیبت میں پڑجاؤ۔

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

بیشک تمہارے لئے (جنت میں) یہ ہے کہ اس میں نہ کبھی بھوکے ہوتے ہو اور نہ ننگے۔

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

اور یہاں نہ تم پیاسے ہوتے ہو اور نہ دھوپ میں رہتے ہو ''۔

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى Open ayah 20:120 in the Quran reader

پھر شیطان نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا، اس سے کہا، '' اے آدم، تمہیں بتلا نہ دوں ہمیشگی کا درخت (جس کا پھل کھا کر سدا جیتے رہو) اور ایسی بادشاہی جو کبھی زائل نہ ہو ؟ ''

[53] کہ شجر ممنوعہ کے پاس نہ جانا۔ [54] یعنی آدم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی جو خلاف ورزی کی وہ دانستہ سرکشی کی بنا پر نہیں بلکہ بھول جانے اور نامستقل مزاجی کی وجہ سے تھی۔
Ayahs 20:121–122

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ Open ayah 20:121 in the Quran reader

چناچہ دونوں (میاں بیوی) نے شجر (ممنوعہ میں) سے (اس کا پھل) کھالیا تو دونوں کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور (جب انھیں برہنگی دیکھ کر شرم محسوس ہوئی تو) وہ لگے جنت کے پتے اپنے جسم پر چپکانے۔ غرضیکہ آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور (راہ راست سے) بھٹک گیا۔

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى Open ayah 20:122 in the Quran reader

پھر اس کے رب نے اسے برگزیدہ کیا اور اس کی توبہ قبول کرلی اور راہ ہدایت دکھا دی۔

[55] یہ قصہ سورة اعراف آیت 11 تا 25 صفحہ 334، 336، 338 میں گزر چکا ہے۔
Ayah 20:123

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى Open ayah 20:123 in the Quran reader

(چنانچہ اللہ نے) حکم دیا، '' تم دونوں (فریق) یہاں سے اتر جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو (اب تم پر ایک دوسری زندگی کی راہ کھلے گی) ۔ پھر اگر ہماری طرف سے تمہیں کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی ہماری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ (دنیا میں راہ راست سے) بھٹکے گا اور نہ (آخرت میں) دکھ میں پڑے گا۔

[56] یعنی انسان اور شیطان۔ [57] یعنی جنت سے۔ [58] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 31 صفحہ 97۔
Ayahs 20:124–125

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى Open ayah 20:124 in the Quran reader

اور جو کوئی ہماری نصیحت سے منہ موڑے گا تو اس کی زندگی تنگی میں گزرے گی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں گے ''۔

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا Open ayah 20:125 in the Quran reader

وہ کہے گا، '' اے میرے رب تو نے مجھے اندھا (کر کے) کیوں اٹھایا ؟ میں تو (دنیا میں اچھا خاصا) دیکھنے والا تھا ''۔

[59] جو آدمی اللہ کی یاد سے غافل ہو کر محض دنیا کی فانی زندگی ہی کو قبلہ مقصود سمجھ بیٹھتا ہے، اس کی زندگی تنگ کردی جاتی ہے۔ گو دیکھنے میں اس کے پاس بہت کچھ مال و دولت اور سامان عیش نظر آئیں مگر اس کا دل قناعت و توکل سے خالی ہونے کی بنا پر ہر وقت دنیا کی مزید حرص، ترقی کی فکر اور کمی کے اندیشہ میں بےآرام رہتا ہے۔ کسی وقت بھی ننانوے کے پھیر سے قدم باہر نہیں نکلتا۔ موت کا یقین اور زوال دولت کے خطرات الگ سوہان روح رہتے ہیں یہاں تک کہ رات کی نیند حرام ہوجاتی ہے۔ چناچہ امریکن قوم کی یہ حالت ہے کہ مال و دولت کی فراوانی کے باوجود ذہنی سکون سے محروم ہے اور کئی کروڑ ڈالر سالانہ صرف خواب آور گولیوں پر خرچ کرتی ہے۔ [60] یہ ابتدائے حشر کا ذکر ہے پھر آنکھیں کھول دی جائیں گی۔
Ayahs 20:126–129

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى Open ayah 20:126 in the Quran reader

ارشاد ہوگا، '' (ہاں) اسی طرح (ہونا تھا) ۔ تیرے پاس جب ہماری آیتیں آئی تھیں تو تو نے انھیں بھلا دیا تھا۔ اس طرح آج تو بھی بھلا دیا گیا ہے ''۔

وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى Open ayah 20:127 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) جو شخص (حد اعتدال سے) بڑھ چلا اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہ لایا ہم اس کو (دنیا میں) ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں اور آخرت کا عذاب (دنیا کے عذاب سے) زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہے۔

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:128 in the Quran reader

پھر کیا (ان) لوگوں کو اس سے بھی ہدایت نہ ہوئی کہ ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کی (برباد شدہ) بستیوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں، (ان کے آثار ان کی نگاہوں کے سامنے ہیں) ۔ جو لوگ عقل والے ہیں ان کے لئے اسی (ایک بات) میں (تزکیہ و عبرت کی کتنی ہی) نشانیاں ہیں۔

وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ Open ayah 20:129 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ان لوگوں کے کردار تو ایسے ہیں کہ) اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے نہ ٹھہرا دی گئی ہوتی اور (عذاب کے لئے) ایک وقت مقرر نہ ہوتا ( کہ وہ قیامت کا دن ہے) تو (اسی گھڑی ان پر) ضرور عذاب (نازل) ہوجاتا۔

[61] یعنی دنیا میں ہماری آیات دیکھ سن کر یقین نہ لایا نہ ان پر عمل کیا۔ ایسا بھولا رہا کہ سب سنی ان سنی کردی۔ آج اسی طرح تجھ کو بھلایا جا رہا ہے۔ جیسے وہاں اندھا بنا رہا تھا یہاں اسی کے مناسب سزا ملنے اور اندھا اٹھائے جانے پر تعجب کیوں ہے ؟
Ayah 20:130

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى Open ayah 20:130 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر، ) جیسی باتیں (یہ کافر) کہتے ہیں ان پر صبر کرو اور اپنے رب کی حمد (و ثنا) کے ساتھ (اس کی) تسبیح (و تقدیس) کرو سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے، اور رات کی گھڑیوں میں بھی اور دن کے کناروں پر بھی تاکہ تم (ظہور نتائج سے) خوش ہوجاؤ۔

[62] حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح و تقدیس سے مراد نماز ہے۔ [63] یہ فجر اور عصر کی نمازیں ہوئیں۔ [64] یہ مغرب اور عشاء کی نمازیں ہوئیں۔ بعض مفسرین کے مطابق اس میں نماز تہجد بھی داخل ہے۔ [65] یہ ظہر کی نماز ہوئی کیونکہ اس وقت دن کے نصف اول اور نصف آخر کی حدیں ملتی ہیں۔ [66] یعنی ایسا عمل کر کے تو دیکھو۔ اس کا نتیجہ وہ کچھ تمہارے سامنے آئے گا کہ تم خوش ہوجاؤ گے۔
Ayah 20:131

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:131 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو دنیوی زندگی کی ان آرائشوں کی طرف جو ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہیں تاکہ ہم انھیں آزمائیں۔ اور (حقیقت یہ ہے کہ) تمہارے رب کی (دی ہوئی) روزی (تمہارے لئے) کہیں بہتر اور پائندہ تر ہے۔

[67] آزمائش سے مراد یہ ہے کہ کون ان نعمتوں کے حقوق ادا کرتا ہے اور کون ان کی ناقدری کرتا ہے۔
Ayah 20:132

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى Open ayah 20:132 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اپنے گھر والوں کو نماز کی تلقین کرو اور (خود بھی) اس کے پابند رہو۔ ہم تم سے کچھ روزی تو طلب کرتے نہیں (بلکہ) ہم تمہیں روزی دے رہے ہیں اور (بہتر) انجام پرہیزگاروں ہی کے لئے ہے۔

[68] یعنی ہم تم سے اپنی عبادت چاہتے ہیں اس لئے نہیں کہ اس سے ہمارا کچھ فائدہ ہے بلکہ اس لئے کہ اس سے تم میں تقویٰ پیدا ہوگا جو دنیا اور آخرت دونوں میں مستقل کامیابی کا ذریعہ ہے۔
Ayah 20:133

وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:133 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص اپنے رب کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں لاتا ؟ کیا ان کے پاس وہ دلیلیں نہیں پہنچیں جو اگلی کتابوں میں (موجود) ہیں۔

[69] یعنی نبی ﷺ ۔ [70] یعنی معجزہ جو آپ ﷺ کی نبوت پر دلالت کرے۔ [71] یعنی اگلی کتابوں میں آپ ﷺ کی بعثت کی پیشین گوئیاں جو آپ ﷺ کی رسالت پر گواہ ہیں۔
Ayahs 20:134–135

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى Open ayah 20:134 in the Quran reader

اور اگر ہم اس سے پہلے ہی ان کو کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو (یہ لوگ) ضرور یہ کہتے کہ اے ہمارے رب، تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے ہم تیرے احکام کی پیروی کرتے ؟

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ Open ayah 20:135 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان سے) کہہ دو کہ ہر ایک (انجام کار کے) انتظار میں ہے پس تم بھی انتظار کرو۔ عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ سیدھی راہ والے کون ہیں اور ہدایت یافتہ کون۔

[72] یعنی نزول قرآن اور ارسال رسول سے پہلے۔