20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 20:80–82

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل، (دیکھو، ) ہم نے تم کو تمہارے دشمن (فرعون) سے نجات دی اور تم سے (کوہ) طور کی داہنی طرف کا وعدہ کیا۔ اور تم پر من وسلویٰ اتارا

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى Open ayah 20:81 in the Quran reader

(اور فرمایا کہ) کھاؤ (یہ) پاکیزہ غذا جو ہم نے تم کو دی ہے اور اس بارے میں سرکشی نہ کرو۔ (ایسا کرو گے) تو تم پر ہمارا غضب آ نازل ہوگا اور جس پر ہمارا غضب نازل ہوا تو (سمجھو کہ) وہ (جہنم کے گڑھے میں) جا گرا۔

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى Open ayah 20:82 in the Quran reader

البتہ جو شخص توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل (بھی) کرے (اور) پھر راہ راست پر (قائم بھی) رہے تو ہم اس کے (گناہوں کے) بڑے بخشنے والے ہیں۔

[30] داہنی طرف کے وعدے سے مراد ہے طور کی داہنی جانب حاضری کا وعدہ۔ نیز ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 41 [31] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 44 صفحہ 99۔
Ayah 20:83

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

(اور جب موسیٰ کوہ طور پر حاضر ہوا تو ہم نے پوچھا، ) '' اے موسیٰ ، اپنی قوم سے تم نے کیوں جلدی کی ؟

[32] جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو ہارون (علیہ السلام) کی نگرانی میں چھوڑ کر کوہ طور پر حاضری کے لئے گئے (جیسا کہ سورة اعراف کے رکوع 17 میں مذکور ہے) تو اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ کس بات نے تمہیں اپنی قوم کی طرف سے اس درجہ مطمئن کردیا کہ فوراً انھیں چھوڑ کر چلے آئے۔
Ayah 20:84

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

(موسیٰ نے) عرض کیا، '' وہ (مجھ سے دور نہیں) میرے نقش قدم پر ہیں اور میں جلدی کر کے تیرے حضور (اس لئے) آگیا ہوں کہ اے میرے رب، تو (مجھ سے) راضی ہوجائے ''۔

[33] موسیٰ (علیہ السلام) جو پیش آنے والے واقعات سے بیخبر تھے بولے کہ میں نے وقت مقررہ پر آنے میں اس لئے جلدی کی کہ تو رضا مند ہو اور قوم تو میرے نقش قدم ہی پر چل رہی ہے۔
Ayah 20:85

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

فرمایا، '' (اچھا تو سنو، ) ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو (ایک اور) آزمائش میں ڈال دیا ہے اور سامری نے انھیں گمراہ کردیا ہے۔

[34] سامری شخص کا نام نہیں جیسا کہ '' السامری '' کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے بلکہ یہ سامری قوم کا فرد تھا، اسرائیلی نہ تھا۔
Ayah 20:86

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ Open ayah 20:86 in the Quran reader

پس موسیٰ سخت غصے (اور) رنج کی حالت میں اپنی قوم کی طرف واپس آیا (اور) بولا، '' اے میری قوم کے لوگو، (یہ تم نے کیا کیا ؟ ) کیا تم سے تمہارے رب نے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ پھر کیا (ایسا ہوا کہ) تم پر (میعاد مقررہ سے) زیادہ زمانہ گزر گیا (اور تم اسے یاد نہ رکھ سکے) ؟ یا تم نے (یہ) چاہا کہ تمہارے رب کا غضب تم پر آ نازل ہو اس لئے تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کی خلاف ورزی کرنے لگے ؟ ''

[35] کہ وہ تمہیں شریعت عطا فرمائے گا۔ [36] یعنی تمہارا وعدہ تو مجھ سے یہ تھا کہ تم اللہ واحد کی پرستش کرو گے۔
Ayahs 20:87–92

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ Open ayah 20:87 in the Quran reader

وہ بولے، '' ہم نے تم سے جو وعدہ کیا تھا اس کی خلاف ورزی اپنی خوشی سے نہیں کی۔ البتہ یہ ہوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لد گئے تھے تو ہم نے ان کو پھینک دیا تھا۔ (بس اتنا ہی ہمارا قصور ہے) ''۔ چناچہ اس طرح (جب سونا فراہم ہوگیا تو) سامری نے اسے (آگ میں) ڈالا

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ Open ayah 20:88 in the Quran reader

اور ان کے لئے ایک بچھڑا (بنا کر) نکال کھڑا کیا، محض ایک (بےجان) دھڑ جس میں گائے کی سی آواز (نکلتی) تھی۔ لوگ یہ دیکھ کر بول اٹھے، '' یہ ہے ہمارا معبود اور موسیٰ کا معبود بھی مگر وہ بھول (کر کوہ طور پر چلا) گیا ''۔

اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ Open ayah 20:89 in the Quran reader

(افسوس ان کی سمجھ پر ! ) کیا وہ دیکھتے نہ تھے کہ نہ تو وہ ان کی بات کا جواب دے سکتا ہے اور نہ ان کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے ؟

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ Open ayah 20:90 in the Quran reader

اور ہارون نے (بچھڑے کی پرستش سے پہلے) ان سے کہا بھی کہ '' اے میری قوم (کے لوگو، ) اس (بچھڑے) کے ذریعے تمہاری (استقامت کی) آزمائش ہو رہی ہے، تمہارا رب تو ( اللہ) رحمن ہے پس تم میری پیروی کرو اور میرا حکم مانو ''۔

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى Open ayah 20:91 in the Quran reader

مگر انہوں نے جواب دیا کہ جب تک موسیٰ ہمارے پاس واپس نہ آجائے ہم تو اسی (کی پرستش) پر جمے رہیں گے۔

قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ Open ayah 20:92 in the Quran reader

(موسیٰ نے ہارون کو خطاب کرکے) کہا، '' ہارون، جب تم نے دیکھا تھا کہ یہ (لوگ) گمراہ ہوگئے تو تمہیں کس بات نے روکا تھا

[37] یعنی ہمارے مردوں اور عورتوں نے مصر کے رسم و رواج کے مطابق جو بھاری بھاری زیور پہن رکھے تھے وہ اس صحرا نوردی میں ہم پر بار ہوگئے تھے اس لئے ہم نے انھیں پھینک دیا تھا۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ سامری ان سے ایک عجیب و غریب چیز بنا کر ہمیں گمراہ کر دے گا۔ یہ تھا عذر ان لوگوں کا جو سامری کے فتنے میں مبتلا ہوئے۔ [38] '' ہم نے ان کو پھینک دیا تھا '' تک لوگوں کا جواب ہے۔ اس کے بعد آیت کا حصہ لوگوں کے جواب کا ٹکڑا نہیں ؟ جیسا کہ عبارت پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے بلکہ واقعہ کی تفصیل بیان کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا اپنا ارشاد ہے۔
Ayah 20:93

اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ Open ayah 20:93 in the Quran reader

کہ تم میری (ہدایت کی) پیروی نہ کرو ؟ کیا تم نے میرے کہنے کے خلاف (نہیں) کیا ؟ ''

[39] سورة اعراف کی آیت 142 صفحہ 362 میں گزر چکا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) پہاڑ پر جاتے ہوئے ہارون (علیہ السلام) سے کہہ گئے تھے کہ میرے پیچھے میری جانشینی کرنا اور لوگوں میں اصلاح کرتے رہنا اور مفسد لوگوں کے طریقے کی پیروی نہ کرنا۔
Ayahs 20:94–95

قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ Open ayah 20:94 in the Quran reader

(ہارون نے) جواب دیا، '' اے میرے ماں جائے، میری داڑھی اور سر کے بال تو نہ پکڑ۔ میں اس (بات) سے ڈرا کہ تو (آ کر) کہیں یہ (نہ) کہے کہ تو نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میرے حکم کا انتظار نہ کیا ''۔

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ Open ayah 20:95 in the Quran reader

(اب موسیٰ نے سامری سے) پوچھا، '' سامری، تیرا کیا معاملہ ہے ؟ ''

[40] ہارون (علیہ السلام) کے جواب کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ قوم کے افراد کے درمیان اتفاق و اتحاد ان کے راہ راست پر رہنے سے زیادہ اہم ہے۔ اس آیت کا یہ مطلب اگر کوئی شخص لے گا تو قرآن سے ہدایت کی بجائے گمراہی حاصل کرے گا۔ ہارون (علیہ السلام) کی پوری بات سمجھنے کے لئے اس آیت کو سورة اعراف کی آیت 150 سے ملایا جائے تو واقعہ کی یہ تفصیل سامنے آتی ہے کہ ہارون (علیہ السلام) نے لوگوں کو گمراہی سے روکنے کی پوری کوشش کی مگر انہوں نے نہ مانا بلکہ آپ کو مار ڈالنے پر آمادہ ہوگئے۔ مجبوراً آپ اس اندیشے سے خاموش ہوگئے کہ کہیں موسیٰ (علیہ السلام) کے واپس آنے سے پہلے قوم میں پھوٹ نہ پڑجائے اور خانہ جنگی برپا نہ ہوجائے۔
Ayah 20:96

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ Open ayah 20:96 in the Quran reader

اس نے جواب دیا، '' میں نے وہ چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی۔ میں نے رسول کے نقش قدم (کی مٹی) سے ایک مٹھی بھر لی، پھر اسے (ڈھلے ہوئے بچھڑے میں) ڈال دیا۔ میرے جی نے مجھے ایسی ہی بات مجھائی ''۔

[41] یہاں رسول سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں جیسا کہ اکثر مفسرین کا خیال ہے۔ [42] سامری ایک مکار اور فتنہ پرداز شخص تھا۔ اس نے صرف یہی نہیں کیا کہ سونے کا بچھڑا بنا کر کسی تدبیر سے اس میں گائے کی آواز پیدا کردی اور بنی اسرائیل کے جاہل لوگوں کو دھوکے میں ڈال دیا بلکہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اپنے جال میں پھانسنا چاہا اور آپ کے سوال پر یہ افسانہ گھڑ دیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) کے نقش قدم کی مٹی کی برکت سے یہ کرامت صادر ہوئی ہے۔
Ayahs 20:97–98

قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا Open ayah 20:97 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا، '' چل (دور ہو، اس) زندگی میں تیری یہ سزا ہے کہ تو کہتا پھرے کہ (میں اچھوت ہوں) مجھے نہ چھونا۔ اور (اس کے علاوہ) تیرے لئے (عذاب قیامت کا) ایک وعدہ اور بھی ہے جو تجھ پر سے کبھی نہ ٹلے گا۔ اور دیکھ تو اپنے اس معبود کو جس (کی پرستش) پر تو جما ہوا بیٹھا ہے، ہم ابھی اسے جلائے دیتے ہیں پھر اس (کی راکھ) کو دریا میں بہا دیں گے۔

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا Open ayah 20:98 in the Quran reader

(لوگو، ) تمہارا معبود تو بس اللہ ہے جس کے سوا کوئی (اور) معبود نہیں۔ وہ اپنے علم سے ہر چیز پر چھایا ہوا ہے۔

[43] یعنی کوئی اس کے پاس نہ پھٹکے اور جو اس کے قریب جائے اسے وہ خود دور رہنے کی ہدایت کرے اور اس طرح اس دنیا میں بالکل ایک ذلیل، اچھوت اور وحشی جانور کی طرح زندگی گزارے۔
Ayahs 20:99–101

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ Open ayah 20:99 in the Quran reader

(اے پیغمبر، جس طرح ہم نے موسیٰ کا قصہ بیان کیا) اسی طرح ہم تم سے گزرے ہوئے واقعات کی خبریں بیان کرتے ہیں اور ہم نے تمہیں اپنے پاس سے ایک نصیحت نامہ عطا فرمایا ہے۔

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ Open ayah 20:100 in the Quran reader

جن لوگوں نے اس سے منہ موڑا وہ قیامت کے دن (گناہوں کا بڑا بھاری) بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے

خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ Open ayah 20:101 in the Quran reader

اور ہمیشہ اسی حال میں رہیں گے۔ اور کیا ہی برا بوجھ ہے جو یہ لوگ قیامت کے دن اٹھائے ہوئے ہوں گے۔

[44] یعنی قرآن۔
Ayahs 20:102–107

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ Open ayah 20:102 in the Quran reader

اس دن صور پھونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو (اس حال میں) جمع کریں گے کہ ان کی آنکھیں (دہشت کے مارے) نیلی (نیلی بےنور) ہوں گی۔

یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا Open ayah 20:103 in the Quran reader

وہ آپس میں چپکے چپکے کہتے ہوں گے کہ (دنیا میں) ہم لوگ (بہت) ٹھہرے ہوں گے (تو) بس دس دن۔

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ Open ayah 20:104 in the Quran reader

ہم خوب جانتے ہیں (اس مدت کو) جس کی نسبت وہ (اس دن) باتیں کررہے ہوں گے جب کہ ان میں (سب سے) بہتر رائے رکھنے والا یہ کہتا ہوگا کہ تم تو بس ایک دن (دنیا میں) رہے۔

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ Open ayah 20:105 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) لوگ تم سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں (کہ قیامت کے دن ان کا کیا حال ہوگا) ۔ تو تم (ان سے) کہو کہ میرا رب انھیں (ریزہ ریزہ کر کے) اڑا دے گا

فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ Open ayah 20:106 in the Quran reader

اور زمین کو ایسا چٹیل میدان بنا دے گا

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ Open ayah 20:107 in the Quran reader

کہ تم اس میں نہ کہیں کجی دیکھو گے اور نہ اونچ (نیچ) ۔

[45] یعنی نرسنگھا۔ لوگوں کو اکٹھا کرنے کا پرانا دستور یہ چلا آتا ہے کہ نرسنگھا پھونکا کرتے ہیں۔ ایسی ایک چیز قیامت کے دن پھونکی جائے گی۔ پہلی دفعہ پھونکنے پر سب پر موت طاری ہوجائے گی۔ دوسری دفعہ پھونکنے پر سب جی اٹھیں گے اور زمین کے ہر گوشے سے نکل نکل کر میدان حشر کی طرف دوڑنے لگیں گے یہاں ذکردوسری دفعہ صور پھونکے جانے کا ہے۔
Ayahs 20:108–109

یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا Open ayah 20:108 in the Quran reader

اس دن سب لوگ بلانے والے کے پیچھے ہو لیں گے۔ اس کے سامنے (کسی کا) کوئی ٹیڑھا پن نہ رہے گا اور (اللہ) رحمن کے (جلال کے) آگے (سب کی) آوازیں دب کر رہ جائیں گی اور (اس کے سناٹے میں قدموں کی) آہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے۔

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا Open ayah 20:109 in the Quran reader

اس دن (کسی کی) سفارش کام نہ آئے گی مگر جس کو ( اللہ) رحمن (اس کی) اجازت دے اور اس کا بولنا پسند فرمائے۔

[46] مراد ہے صور پھونکنے والا فرشتہ۔ [47] یعنی کوئی ذرا بھی اکڑ دکھا نہ سکے گا کہ اس کے حکم میں توقف کرے۔
Ayah 20:110

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا Open ayah 20:110 in the Quran reader

وہ لوگوں کے اگلے پچھلے حالات کو جانتا ہے اور لوگ (اپنے) علم سے اس کا احاطہ نہیں کرسکتے۔

[48] یعنی اس کے علوم و معلومات کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ ایسے بہت سے امور ہیں جو اللہ تعالیٰ کو معلوم ہیں اور بندوں کو معلوم نہیں۔ پس مخلوقات کے وہ سب احوال بھی اس کو معلوم ہیں جن پر سفارش کی قابلیت یا عدم قابلیت مرتب ہے۔ تو جو اس کا اہل ہوگا اس کے واسطے سفارش کی اجازت ہوگی ورنہ نہیں۔
Ayahs 20:111–112

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

اور (اس دن) لوگوں کے سر اس حی ّو قیوّم کے آگے جھک جائیں گے اور نامراد ہوگا وہ جو (اس دن کسی طرح کے) ظلم کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

اور جس کسی نے نیک عمل کئے ہوں گے اور وہ ایمان بھی رکھتا ہوگا تو اسے نہ (کسی طرح کی) بےانصافی کا اندیشہ ہوگا اور نہ (کسی طرح کی) حق تلفی کا۔

[49] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 172 صفحہ 112۔
Ayah 20:113

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور (دیکھو، جس طرح ہم نے روز محشر کے احوال صاف صاف سنا دیئے) اسی طرح ہم نے (پورا) قرآن (صاف زبان) عربی (میں) نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح سے (لوگوں کو انکار و بدعملی کے نتائج سے) خبردار کیا ہے تاکہ وہ (گمراہی سے) بچیں یا اس کے ذریعے سے ان (کے دلوں) میں (اپنے انجام کی طرف) غور (و فکر) پیدا ہو۔

[50] اور یہ غور و فکر آگے بڑھتے بڑھتے ہدایت پر لے آئے۔
Ayah 20:114

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

پس بڑا عالی شان ہے اللہ، بادشاہ حقیقی (جس نے ایسا عظیم الشان قرآن اتارا اور اپنی رعایا کو ایسی کھری اور سچی باتیں ان کے فائدے کے لئے سنائیں) ۔ اور (اے پیغمبر، ) قرآن (پڑھنے) میں قبل اس کے کہ تم پر اس کی وحی پوری ہو جلدی نہ کیا کرو، اور دعا کرتے رہو کہ اے میرے رب، میرا علم اور زیادہ کر۔

[51] جب جبرائیل قرآن کریم لے کر نازل ہوتے تھے تو رسول اکرم ﷺ ان کے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے اور جلدی کرتے تھے تاکہ خوب یاد ہوجائے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور سورة قیامہ میں مزید تسلی فرما دی کہ اس کا یاد رکھوانا اور لوگوں تک پہنچوانا ہمارا ذمہ ہے۔ [52] یہاں ایک تقریر ختم ہوگئی اور اگلی آیت سے دوسری تقریر شروع ہوتی ہے۔