20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 20:41–48

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

اور (دیکھو، اس طرح) ہم نے تمہیں اپنے لئے تیار کیا۔

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

(اب) تم اور تمہارا بھائی (ہارون) ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ اور (دیکھو، ) ہماری یاد میں سستی نہ کرنا۔

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ کہ اس نے بہت سر اٹھا رکھا ہے۔

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

پھر (جب اس کے پاس پہنچو تو) اس سے نرمی سے بات کرنا شاید کہ وہ نصیحت قبول کرلے یا (ہمارے عتاب سے) ڈر جائے ''۔

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

(دونوں بھائیوں نے) عرض کیا، '' اے ہمارے رب، ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی (نہ) کر بیٹھے یا (اور زیادہ) سرکشی (نہ) کرنے لگے ''۔

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

فرمایا، '' ڈرو مت، ہم تمہارے ساتھ ہیں (اور سب کچھ) سنتے اور دیکھتے ہیں۔

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

پس تم اس کے پاس (بےدھڑک) جاؤ اور کہو کہ بیشک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، پس بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے اور ان کو کسی طرح کی ایذا نہ دے۔ ہم تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی اس کے لئے ہے جو (سیدھی) راہ پر چلے۔

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

ہماری طرف یہ وحی ہوئی ہے کہ عذاب (الٰہی) اس پر (نازل ہوگا) جو (اللہ کی آیتوں کو) جھٹلائے اور (اس کے حکم سے) روگردانی کرے ''۔

[11] یعنی اپنی رسالت کے لئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو مذکورہ واقعات اس لئے یاد دلائے گئے کہ انھیں معلوم ہوجائے کہ مشیت الٰہی کا ہاتھ اول دن سے انھیں پیغمبری کے لئے چن چکا ہے۔ ان کا عجیب و غریب حالات میں پیدا ہونا۔ پھر مصر سے نکلنے پر مجبور ہونا اور مدین کے بیابانوں میں زندگی بسر کرنا۔ یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ پیغمبری کی شخصیت تیار کرنے کے لئے ان ساری باتوں کی ضرورت تھی۔
Ayah 20:49

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

(چنانچہ دونوں بھائی فرعون کے پاس گئے اور اپنی دعوت اس کے سامنے پیش کی) ۔ فرعون نے پوچھا، '' (اچھا اگر ایسا ہی ہے تو بتلاؤ کہ) تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ ؟ ''

[12] قصے کی ان تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو سورة اعراف رکوع 13 آیت نمبر 100 تا 108 صفحہ 356، سورة شعراء رکوع 3-2 آیت نمبر 10 تا 51 صفحہ 762 اور سورة قصص رکوع 4 آیت نمبر 29 تا 42 صفحہ 912
Ayah 20:50

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا، '' ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی بناوٹ عطا کی پھر (اس کی) رہنمائی کی ''۔

[13] یعنی اس نے ہر مخلوق کو خاص طرح کی ساخت دی اور اس کی زندگی و بقا کے لئے جن جن باتوں کی ضرورت تھی ان سب کی راہ بھی اسے دکھا دی، یعنی ایسا وجدان، ایسے حواس اور ایسی معنوی قوتیں دے دیں جو اس کو اپنی مخصوص ساخت سے کام لینے میں اس کی رہنمائی کرتی ہیں۔ کان کو سننا، آنکھ کو دیکھنا، مچھلی کو تیرنا اور پرندے کو اڑنا اسی نے سکھایا ہے۔ بس وہ ہر چیز کا خالق ہی نہیں ہادی اور معلم بھی ہے۔
Ayah 20:51

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

(فرعون نے) پوچھا، '' اچھا تو پہلی نسلوں کا کیا حال ہوا ؟ ''

[14] یعنی اگر اب وہی صرف ایک اللہ ہے جس کا نام تم لے رہے ہو تو پچھلی قوموں نے جن کا دین تمہارے دین توحید سے مختلف تھا ان کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ کیا وہ سب گمراہ تھیں ؟
Ayah 20:52

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا، '' اس کا علم میرے رب کے پاس دفتر (اعمال) میں (محفوظ) ہے۔ میرا رب بھٹکتا ہے نہ بھولتا ہے۔ ''

[15] موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب نہایت بلیغ اور حکیمانہ ہے۔ فرعون کے سوال کا مقصد سامعین اور ان کے توسط سے پوری قوم میں نفرت و تعصب کی آگ بھڑکانا تھا۔ اگر موسیٰ (علیہ السلام) جواب میں کہتے کہ وہ سب گمراہ تھے اور قیامت میں دوزخ میں جھونکے جائیں گے تو چاہے یہ جواب حق گوئی کا زبردست نمونہ ہوتا مگر اس جواب سے فرعون کو اپنے مقصد میں کامیابی ضرور حاصل ہوجاتی۔
Ayah 20:53

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

وہ (رب ایسا ہے) جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنادیا اور اس میں تمہارے (چلنے کے) لئے راستے نکالے اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعے سے مختلف قسم کے نباتات پیدا کئے

[16] یہاں سے آیت 55 تک اللہ تعالیٰ کا خطاب براہ راست بنی نوع انسان سے ہے اور یہ طرز بلاغت قرآنی کی خصوصیات میں سے ہے۔
Ayah 20:54

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

(تاکہ ان چیزوں کو تم خود بھی) کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو (بھی) چراؤ۔ یقینا اس (سارے نظام) میں عقل رکھنے والوں کے لئے (بہت سی) نشانیاں ہیں۔

[17] یعنی عقل ہے تو سمجھ لو گے کہ یہ مضبوط اور محکم انتظامات محض اتفاق سے قائم نہیں ہوگئے گویا ان آیات میں وجود باری تعالیٰ اور توحید کی طرف توجہ دلائی۔
Ayahs 20:55–58

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے، اسی میں تمہیں واپس لے جائیں گے اور اسی سے (قیامت کے دن) تمہیں دوبارہ نکال کھڑا کریں گے۔

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) یہ واقعہ ہے کہ ہم نے فرعون کو اپنی ساری ہی نشانیاں دکھائیں لیکن وہ جھٹلاتا اور انکار ہی کرتا رہا۔

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

اس نے کہا، '' اے موسیٰ ، کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ اپنے جادو (کے زور) سے ہم کو ہمارے ملک سے نکال باہر کرے ؟

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

(اچھا) تو ہم بھی تیرے مقابلے میں ایسا ہی جادو لاتے ہیں۔ تُو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدہ ٹھہرا لے کہ نہ ہم اس کے خلاف کریں اور نہ تُو، (اور مقابلہ) کھلے میدان میں (ہو) ''۔

[18] یعنی تمہارے جد اعلیٰ آدم (علیہ السلام) کی پیدائش اجزائے ارضی سے ہی ہوئی تھی۔ یوں بھی انسان نطفے سے بنتا ہے اور نطفہ غذا سے اور غذا اجزائے زمین سے۔
Ayah 20:59

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا، '' تم سے وعدہ جشن کا (رہا) اور لوگ دن چڑھے جمع ہوں ''۔

[19] تاکہ روشنی خوب پھیل جائے اور شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہ رہے۔
Ayah 20:60

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

(یہ طے پا جانے کے بعد) فرعون (دربار سے) لوٹ گیا۔ پھر اس نے اپنا مکر (کا سامان) جمع کیا اور (وقت مقررہ پر مقابلے کے لئے) آموجود ہوا۔

[20] مکر کے سامان سے مراد ساحر اور ان کے آلات سحر ہیں۔
Ayah 20:61

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

موسیٰ نے (جادوگروں کو مخاطب کرتے ہوئے) کہا، '' شامت کے مارو، اللہ پر جھوٹی تہمت نہ لگاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں عذاب سے ہلاک کردے۔ اور جس نے بھی جھوٹ گھڑا وہ ضرور نامراد ہوا ''۔

[21] اللہ پر جھوٹی تہمت لگانے سے مراد اللہ کے معجزات کو جادو اور اس کے پیغمبر کو ساحر و کذاب ٹھہرانا ہے۔
Ayahs 20:62–66

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

(یہ سن کر) وہ اپنے (اس) معاملے میں لگے آپس میں بحث اور چپکے چپکے سرگوشیاں کرنے۔

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

(فرعون کے درباری) بولے، '' یہ دونوں (بھائی) تو محض جادوگر ہیں اور چاہتے ہیں کہ اپنے جادو (کے زور) سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کریں اور تمہارے بہترین طریق (زندگی) کا خاتمہ کردیں۔

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

پس اپنے سارے داؤ جمع کرلو اور صف باندھ کر (مقابلے میں) آجاؤ۔ آج وہی جیت گیا جو غالب رہا ''۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

(آخر جادوگروں نے) کہا، '' اے موسیٰ پہلے تم (اپنی لاٹھی) ڈالو گے یا ہم پہلے ڈالیں ؟ ''

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا، '' نہیں تم ہی پہلے ڈالو ''۔ (چنانچہ انہوں نے اپنا کرتب دکھایا اور) اچانک موسیٰ کو ان کے جادو کی وجہ سے ایسا معلوم ہوا کہ ان کی لاٹھیاں اور رسیاں (سانپ بن بن کر ادھر ادھر) دوڑ رہی ہیں۔

[22] یعنی جادوگر موسیٰ (علیہ السلام) کا کلام سن کر آپس میں بحث کرنے لگے کہ اس شخص کو کیا سمجھا جائے۔ اس کی باتیں ساحروں جیسی معلوم نہیں ہوتیں۔
Ayahs 20:67–69

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

تب موسیٰ نے اپنے دل میں کچھ اندیشہ محسوس کیا۔

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے فرمایا، '' (موسیٰ ) ڈرو مت، تم ہی غالب رہو گے۔

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

تمہارے داہنے ہاتھ میں جو (لاٹھی) ہے اسے (میدان میں) ڈال دو کہ جو (ڈھونگ) ان لوگوں نے بنایا ہے وہ اسے ہڑپ کر جائے۔ انہوں نے جو کچھ بنایا ہے وہ تو جادوگر کا فریب ہے اور جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا خواہ وہ کسی راہ سے آئے ''۔

[23] اندیشہ اس وجہ سے کہ جب جادوگروں نے بھی سانپ بنا لئے اور میرا عصا بھی بہرحال سانپ بنے گا تو دیکھنے والے مقابلہ برابر کا سمجھیں گے۔ حق کا غلبہ کیسے ہوگا۔
Ayah 20:70

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

(چنانچہ موسیٰ کی لاٹھی نے اژدھا بن کر جادوگروں کے سانپوں کو نگل لیا) تو (یہ دیکھ کر) جادوگر بےاختیار سجدے میں گرپڑے اور بول اٹھے، '' ہم ایمان لے آئے ہارون اور موسیٰ کے رب پر ''۔

[24] جادوگر فن کے جاننے والے تھے۔ اصول فن کے اعتبار سے فوراً سمجھ گئے کہ یہ سحر نہیں ہوسکتا، یہ سحر سے بڑھ کر کوئی چیز ہے۔ دل میں ایمان آیا اور بےاختیار سجدے میں گرگئے۔
Ayahs 20:71–76

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا، '' تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا ؟ ضرور یہ تمہارا گرو ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے اچھا (دیکھو میں کیا کرتا ہوں) ، میں تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے سیدھے کٹواؤں گا اور تمہیں کھجور کے تنے پر سولی دوں گا۔ پھر تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم دونوں میں کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے ''۔

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

(جادوگر) بولے، '' ہم ہرگز تجھے ترجیح نہ دیں گے ان روشن نشانیوں پر جو ہمارے سامنے آئیں اور اس ذات پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے تو جو کچھ کرنے والا ہے کر گزر۔ تو بس (زیادہ سے زیادہ) اس دنیا کی زندگی کا فیصلہ کرسکتا ہے (اس سے زیادہ تیرے اختیار میں کچھ نہیں) ۔

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

ہم تو اپنے رب پر ایمان لا چکے تاکہ وہ ہمارے گناہ معاف کردے اور (خاص کر) جادوگری (کا گناہ) جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا۔ (ہمارے لئے) اللہ ہی بہتر ہے اور وہی باقی رہنے والا ہے ''۔

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ جو شخص (جرم کفر کا) مجرم ہو کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوگا اس کے لئے دوزخ ہے جس میں وہ نہ تو مرے گا اور نہ ہی زندہ رہے گا۔

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو اس کے حضور مومن کی حیثیت سے حاضر ہوگا (اور) اس نے نیک عمل (بھی) کئے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جن کے لئے بلند درجے ہیں

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

(یعنی) ہمیشگی کے باغ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی (اور وہ) ان میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ یہ ہے صلہ اس شخص کا جو (زندگی میں ہر طرح کی آلودگیوں سے) پاک رہا۔

[25] یعنی ایک طرف میرا عذاب اور دوسری طرف موسیٰ کے رب کا عذاب۔ فرعون کا خیال تھا کہ جادوگروں کو خوفناک سزا سے ڈرا کر ان سے یہ اقبال کرا لے کہ واقعی یہ ان کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ملی بھگت تھی۔ اور وہ مل کر اس کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔ ہاری ہوئی بازی جیت لینے کے لئے فرعون نے یہ آخری داؤ لگایا۔
Ayah 20:77

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو راتوں رات (مصر سے نکال) لے جاؤ اور ان کے (گزرنے کے) لئے سمندر میں (لاٹھی مار کر) سوکھا رستہ بنا لینا۔ تو تم کو (کسی کے) تعاقب کا خوف ہوگا اور نہ (سمندر کے بیج سے گزرتے ہوئے) ڈر لگے گا۔

[26] یہ اس وقت کا ذکر ہے جب گزشتہ واقعات کو ایک عرصہ ہوچکا ہے اور فرعون پر موسیٰ (علیہ السلام) کی ساری تبلیغی کوششیں بےاثر ہوچکی ہیں اور فرعون نے بنی اسرائیل کو آزادی دینے سے انکار کردیا ہے۔ [27] یعنی بنی اسرائیل کو۔ [28] اس واقعہ کی تفصیل سورة شعراء صفحہ 862 میں مذکور ہے۔
Ayahs 20:78–79

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

پھر (جب موسیٰ اپنی قوم کو لے کر نکل گیا تو) فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔ پس سمندر کا پانی ان پر چھا گیا جیسا کچھ چھا جانے والا تھا۔

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

اور (حقیقت یہ ہے کہ) فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا، سیدھی راہ نہیں دکھائی تھی۔

[29] یعنی پانی ان کے سروں سے اونچا ہوگیا اور وہ غرق ہوگئے۔