11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 11:115–118

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور صبر کرو کیونکہ اللہ نیکوکاروں کا اجر (کبھی) ضائع نہیں کرتا۔

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

پھر ایسا کیوں نہیں ہوا کہ جو امتیں تم سے پہلے ہو گزری ہیں ان میں اہل خیر باقی رہے ہوتے کہ (لوگوں کو) ملک میں فساد کرنے سے روکتے ؟ (سو ایسے لوگ تھے تو سہی) مگر تھوڑے جنہیں ہم نے (عذاب سے) بچا لیا اور ظالم جس نازونعمت میں تھے اسی کے پیچھے پڑے رہے اور (وہ سب احکام حق کے) مجرم تھے۔

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تمہارا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق ہلاک کر مارے اور ان کے باشندے (اپنی اور دوسروں کی) اصلاح میں لگے ہوں۔

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اگر تمہارا رب چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک امت بنا دیتا (اور سب لوگ ایک دین پر ہوتے لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ اس نے ایسا نہ چاہا) چناچہ لوگ ہمیشہ (آپس میں) اختلاف کرتے رہیں گے

[60] صبر کرنے سے یہاں مراد کافروں اور منکروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ہے۔
Ayahs 11:119–123

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 11:119 in the Quran reader

مگر (ہاں) جس پر تمہارے رب نے رحم فرمایا (تو وہ حقیقت پالے گا) ۔ اسی لئے تو اس نے انھیں پیدا کیا ہے، اور (اسی اختلاف فکر و عمل کا نتیجہ ہے کہ) تمہارے رب کی (وہ) بات پوری ہوگئی (جو اس نے کہی تھی) کہ ہم دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھردیں گے۔

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:120 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) رسولوں کی سرگزشتوں میں سے یہ قصے جو ہم تمہیں سناتے ہیں ان سے ہم تمہارے دل کو تقویت دیتے ہیں اور ان (قصوں کے ضمن) میں (ایک تو جو) حق بات (تھی وہ) تمہارے پاس پہنچی اور (اس کے علاوہ ان میں) اہل ایمان کے لئے نصیحت اور یاددہانی (بھی) ہے۔

وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ١ؕ اِنَّا عٰمِلُوْنَۙ Open ayah 11:121 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان سے کہہ دو کہ تم اپنی جگہ کام کئے جاؤ ہم اپنی جگہ کام کئے جاتے ہیں

وَ انْتَظِرُوْا١ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 11:122 in the Quran reader

اور تم بھی (نتیجے کے) منتظر رہو (اور) ہم بھی منتظر ہیں۔

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 11:123 in the Quran reader

اور (یاد رکھو، ) آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کا علم اللہ ہی کو ہے اور سارے معاملات اس کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ تو (اے پیغمبر، ) تم اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو۔ جو کچھ تم کررہے ہو تمہارا رب اس سے غافل نہیں ہے۔

[61] آیت 116 میں انسانی آبادیوں کی تباہی کا جو سبب بیان کیا گیا ہے اس پر یہ اعتراض کیا جاسکتا تھا کہ ان میں اہل خیر کا نہ ہونا یا کم پایا جانا بھی تو آخر اللہ کی مشیت سے تھا پھر اس کا الزام ان تمام آبادیوں پر کیوں رکھا جائے ؟ کیوں نہ اللہ نے ان کے اندر بہت سے اہل خیر پیدا کردیئے ؟ اس کا جواب اس آیت میں یہ دیا گیا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام انسانوں کو حق پر جمع کردیتا اور دنیا میں بس ایک ہی قوم اہل حق کی رہتی۔ لیکن اللہ کی مشیت انسان کے بارے میں یہ ہے ہی نہیں ورنہ پھر رسولوں اور دعوت حق کی ضرورت ہی کیا تھی۔ انسان کے بارے میں اللہ کی جو مشیت ہے وہ یہ کہ اسے اپنی پسند کے مطابق نیکی اور بدی کی راہوں پر چلنے کی آزادی دی جائے اور ان میں سے جو راہ بھی وہ اپنے لئے پسند کرے اس پر چل سکے اللہ کا یہ دستور نہیں کہ کوئی انسان خود تو چلنا چاہے بدی کی راہ پر اور اللہ زبردستی اس کو خیر کے راستے پر موڑ دے۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ کو سمجھا دیا گیا کہ آپ اہل ضلال کے وجود پر غم و حیرت نہ کریں کیونکہ اہل حق کے مقابلے میں اہل ضلال بھی برابر پیدا ہوتے رہیں گے۔ [62] یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا حوالہ ہے جو ابلیس کے جواب میں ارشاد ہوا تھا اور جس کی تفصیل دوسرے مقام پر ہے کہ ابلیس نے آدم کو سجدہ سے انکار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ ذریت آدم پر ایسے گھیرے ڈالوں گا کہ تو ان میں سے کسی کو اپنا شکرگزار نہیں پائے گا۔ اللہ نے اس دھمکی کے جواب میں فرمایا کہ ایسے تمام جنوں اور انسانوں سے جہنم کو بھر دوں گا۔