11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 11:78–80

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور (جب انہوں نے اجنبیوں کے آنے کی خبر سنی تو) قوم لوط کے لوگ دوڑے دوڑے لوط کے پاس آئے۔ اور وہ پہلے ہی سے بدکاریاں کیا کرتے تھے۔ لوط (ان کو آتا دیکھ کر) بولا کہ اے میری قوم (کے لوگو، ) یہ میری بیٹیاں (موجود) ہیں۔ یہ تمہارے لئے پاکیزہ ہیں، کچھ اللہ کا خوف کرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھی بھلا آدمی نہیں ؟

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

انہوں نے کہا، تم تو خوب جانتے ہو کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کوئی سروکار نہیں اور یہ بھی جانتے ہو کہ ہم چاہتے کیا ہیں۔

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

(لوط نے) کہا کہ کاش میرا تم پر کچھ زور چلتا یا میں کسی زبردست کا آسرا پکڑ پاتا !

[43] بیٹیوں سے مراد قوم کی لڑکیاں بھی ہوسکتی ہیں کہ نبی اپنی امت کے لئے بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ لوط (علیہ السلام) کا اشارہ خود اپنی لڑکیوں کی طرف ہو۔ بہرحال دونوں صورتوں میں یہ گمان کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو لڑکیوں سے زنا کرنے کے لئے کہا ہوگا کیونکہ ان کا یہ کہنا کہ یہ تمہارے لئے پاکیزہ ہیں ایسا مفہوم لینے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ لوط (علیہ السلام) کا منشا یہ تھا کہ اپنی شہوانی خواہش کو نکاح کے ذریعے جائز طریقے سے پورا کرو۔
Ayahs 11:81–82

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

(تب مہمانوں نے) کہا اے لوط، ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے (فرشتے) ہیں۔ (ہم تو ہم، ) ان لوگوں کی رسائی تم تک بھی نہ ہو سکے گی۔ تو (یوں کرو کہ) کچھ رات رہے اپنے اہل (و عیال) کو لے کر نکل جاؤ اور تم میں سے کوئی شخص پھر کر نہ دیکھے۔ مگر ہاں، تمہاری بیوی (ساتھ نہیں جائے گی کیونکہ) جو کچھ ان لوگوں پر گزرنا ہے وہی اس پر بھی گزرے گا۔ ان (پر عذاب) کا وعدہ صبح کا ہے (اور) صبح میں اب دیر ہی کیا ہے !

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

پھر جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو (اے پیغمبر، ) ہم نے اس بستی کو تلپٹ کر کے رکھ دیا اور اس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر لگاتار برسائے

[44] اس لئے کہ وہ کافرہ تھی اور بدمعاشوں سے ملی ہوئی تھی۔
Ayah 11:83

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

جو تمہارے رب کے ہاں (اس غرض سے) نشان کئے ہوئے تھے۔ اور یہ بستی ان ظالموں سے کچھ دور نہیں ہے۔

[45] یعنی ہر پتھر پر کوئی خاص علامت تھی جو اسے عام پتھروں سے ممتاز کرتی تھی کہ عذالب الٰہی کے پتھر ہیں۔ [46] یعنی کفار مکہ سے جو اپنے سفر شام میں برابر اس راہ سے آتے جاتے رہتے تھے جس پر یہ بستی واقع تھی۔
Ayahs 11:84–87

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور (ہم نے) مدین (والوں) کی طرف ان کے بھائی (بندوں میں سے) شعیب کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا۔ اس نے کہا کہ اے میری قوم (کے لوگو، ) اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو۔ میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں (پس کفران نعمت سے بچو) ۔ مجھے تمہارے لئے ایک گھیر لینے والے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور اے میری قوم (کے لوگو، ) ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو اور ملک میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

اگر تم ایمان والے ہو تو جو کچھ اللہ کا دیا بچ رہے وہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ اور (دیکھو، میرا کام تو صرف نصیحت کردینا ہے۔ ) میں کچھ تم پر نگہبان تو ہوں نہیں (کہ تمہیں جبراً اپنی راہ پر چلاؤں) ۔

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اے شعیب، کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ بیٹھیں جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے رہے ہیں، یا اپنے مال میں جس طرح (کا تصرف کرنا) چاہیں نہ کریں ؟ بس (سارے جہان میں) تم ہی تو ایک نرم دل اور راست باز آدمی (رہ گئے) ہو !

[47] ان کا ذکر سورة اعراف رکوع 11 آیت 85 تا 93 (صفحہ 352 تا 354) میں گزر چکا ہے۔
Ayah 11:88

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

(شعیب نے) کہا کہ اے میری قوم (کے لوگو، ) کیا تم نے (اس بات پر بھی) غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر قائم ہوں اور (پھر) اس نے مجھے اپنے پاس سے اچھا رزق بھی عطا کیا (تو پھر بھی میں چپ رہوں اور تمہیں راہ حق کی طرف نہ بلاؤں ؟ ) اور میں (ہر گز یہ) نہیں چاہتا کہ جس (بات) سے تمہیں روکتا ہوں اس سے تو تمہیں روکوں اور خود اس کے خلاف چلوں۔ میں تو اس کے سوا کچھ نہیں چاہتا کہ جہاں تک میرے بس میں ہے اصلاح حال (کی کوشش) کروں اور مجھ کو جو کچھ (عمل و اصلاح کی) توفیق ہوجاتی ہے صرف اللہ ہی (کی تائید) سے ہے۔ میں نے تو اسی پر بھروسہ کیا ہے اور (ہر معاملے میں) اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں

[48] اچھا رزق سے یہاں وحی الٰہی مراد ہے۔ جس طرح مادی رزق انسان کی مادی زندگی کے لئے ضروری ہے اسی طرح وحی الٰہی کا رزق حسن انسان کی روحانی زندگی کے لئے ضروری ہے۔
Ayahs 11:89–99

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ Open ayah 11:89 in the Quran reader

اور اے میری قوم (کے لوگو، ) میرے خلاف (تمہاری) ضد (اور عداوت) تمہارے لئے اس بات کا باعث نہ ہوجائے کہ تمہیں بھی ویسا ہی معاملہ پیش آجائے جیسا نوح یا ہود یا صالح کی قوم کو پیش آچکا ہے اور قوم لوط (کے کھنڈرات) بھی تم سے (کچھ ایسے) دور نہیں، (ان ہی کو دیکھ کر عبرت پکڑ سکتے ہو)

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ Open ayah 11:90 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اپنے رب سے (اپنے گناہوں کی) معافی مانگو اور اس کی جناب میں توبہ کرو۔ بیشک میرا رب بڑا ہی رحمت والا (اور) محبت والا ہے

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ Open ayah 11:91 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اے شعیب، تم جو کچھ کہتے ہو اس میں سے بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں بلاشبہ ہم تم کو اپنے درمیان (بہت ہی) کمزور پاتے ہیں۔ اور اگر تمہاری برادری نہ ہوتی تو ہم ضرور تمہیں سنگسار کردیتے، ہم پر تمہارا دباؤ تو ہے نہیں۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 11:92 in the Quran reader

(شعیب نے) کہا کہ اے میری قوم (کے لوگو، ) کیا اللہ سے بڑھ کر تم پر میری برادری کا دباؤ ہوا اور اللہ (تمہارے لئے کچھ نہ ہوا کہ اس) کو تم نے پس پشت ڈال دیا ؟ (خوب جان لو کہ) جو کچھ تم کررہے ہو میرے رب کے احاطہ علم سے باہر نہیں۔

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ Open ayah 11:93 in the Quran reader

اے میری قوم (کے لوگو، ) تم اپنی جگہ کام کئے جاؤ، میں بھی (اپنی جگہ) کام کئے جا رہا ہوں، جلد ہی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا اور کون (فی الحقیقت) جھوٹا ہے اور (اس وقت کا) انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:94 in the Quran reader

آخرکار جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے شعیب کو اور اس کے ہمراہ جو اہل ایمان تھے ان کو اپنی رحمت سے بچا لیا اور ظالموں کو ایک چنگھاڑ نے آلیا پس وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ Open ayah 11:95 in the Quran reader

(اور ایسے مٹے کہ) گویا ان میں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ (تو) سن لو، پھٹکار ہے مدین (والوں) پر جیسے پھٹکار پڑی ثمود پر۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے بھیجا موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور واضح دلیل (نبوت) کے ساتھ

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف مگر وہ فرعون کے کہنے پر چلتے رہے حالانکہ فرعون کا حکم درست نہ تھا۔

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

قیامت کے دن وہ اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور (اپنی پیشوائی میں) انھیں دوزخ پہنچائے گا۔ (کیا ہی) بری جگہ ہے جس پر کوئی پہنچے !

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ Open ayah 11:99 in the Quran reader

اس (دنیا) میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگی (کہ ان کا ذکر کبھی پسندیدگی سے نہیں کیا جاتا) اور قیامت کے دن بھی (کہ عذاب کے مستحق ہوئے) ۔ (کیا ہی) برا صلہ ہے جو کسی کو ملے !

[49] اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ قوم لوط کا زمانہ بھی تم سے کچھ ایسا دور نہیں۔ ابھی حال ہی کی بات ہے۔
Ayah 11:100

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ Open ayah 11:100 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) یہ (چند) بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان میں سے (بعض تو اب تک) قائم ہیں اور (بعض کی فصل) کٹ چکی ہے۔

[50] جیسے سرزمین مصر کہ فرعونی ڈبو دیئے گئے لیکن اصل ملک آباد رہا۔ [51] جیسے قوم نوح اور قوم لوط کی بستیاں جو کٹی ہوئی کھیتی کی طرح بےنام و نشان ہوگئیں۔
Ayahs 11:101–102

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ Open ayah 11:101 in the Quran reader

ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے ہی اپنے اوپر ظلم کیا۔ تو (دیکھ لو، ) جب تمہارے رب کا حکم (عذاب) آیا تو ان کے وہ معبود کچھ بھی کام نہ آئے جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے اور ان معبودوں نے ان کے حق میں ہلاکت (وبربادی) کے سوا (کسی چیز کا) اضافہ نہ کیا۔

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ Open ayah 11:102 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) جب تمہارا رب انسانی آبادیوں کو ظلم کرتے ہوئے پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے۔ یقینا اس کی پکڑ (بڑی ہی) دردناک (اور بڑی ہی) سخت ہے۔

[52] کہ ان کی پرستش کی وجہ سے مبتلائے عذاب ہوئے۔
Ayah 11:103

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ Open ayah 11:103 in the Quran reader

(اور) حقیقت یہ ہے کہ اس میں ہر اس شخص کے لئے ایک نشانی ہے جو آخرت کے عذاب کا خوف رکھتا ہو۔ یہ (آخرت کا دن) وہ دن ہوگا جب (تمام) انسان اکٹھے کئے جائیں گے اور وہ دن ہے حاضری کا۔

[53] یعنی عبرت و نصیحت۔
Ayahs 11:104–106

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ Open ayah 11:104 in the Quran reader

ہم اسے بس ایک گنی ہوئی مدت کے لئے ملتوی کئے ہوئے ہیں۔

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ Open ayah 11:105 in the Quran reader

جب وہ دن آئے گا تو کسی کی مجال نہ ہوگی کہ بغیر اللہ کی اجازت کے زبان کھولے۔ پھر (اس دن انسانوں کی دو قسمیں ہوں گی) بعض بدبخت اور بعض نیک بخت۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ Open ayah 11:106 in the Quran reader

تو جو بدبخت ہوں گے وہ دوزخ میں جائیں گے۔ وہاں ان کے لئے چیخنا چلانا ہوگا

[54] یعنی جو مدت ہم نے بقائے دنیا کے لئے مقرر فرمائی ہے اس کے تمام ہونے تک۔
Ayahs 11:107–108

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ Open ayah 11:107 in the Quran reader

اور وہ ہمیشہ (ہمیشہ) اسی میں رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں مگر (ہاں) جس کے لئے تمہارا رب (کچھ اور) چاہے، (اور) بیشک تمہارا رب جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ Open ayah 11:108 in the Quran reader

اور جو لوگ نیک بخت ہوں گے تو وہ جنت میں جائیں گے اور اس میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں مگر (ہاں) جس کے لئے تمہارا رب (کچھ اور) چاہے۔ یہ (جنت اللہ کی) عطا ہے جس کا کبھی خاتمہ ہی نہیں۔

[55] '' جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں '' یہ الفاظ محاورے کے طور پر ہمیشگی کے لئے استعمال ہوتے ہیں، ورنہ ظاہر ہے کہ زمین و آسمان اس وقت فنا ہوچکے ہوں گے اس لئے لفظی معنی مراد نہیں۔
Ayah 11:109

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ Open ayah 11:109 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر، ) یہ لوگ جو (اللہ کے سوا دوسری ہستیوں کی) پرستش کرتے ہیں اس کے بارے میں تم کسی شک میں نہ پڑنا۔ یہ تو (بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے) اسی طرح پرستش کررہے ہیں جس طرح (ان سے) پہلے ان کے باپ دادا پرستش کرتے تھے اور (قیامت کے دن) ہم ان (کے اعمال کے نتائج) کا حصہ انھیں بےکم وکاست پورا پورا دینے والے ہیں۔

[56] یعنی بہ تقاضائے بشریت تم کو یہ واہمہ نہ گزرے کہ اس کثرت سے جو بت پرستی ہو رہی ہے تو اتنے لوگوں نے ایک غلط بات پر کیونکر اجماع کرلیا۔ آگے بتلا دیا کہ یہ لوگ بھیڑ چال کے طور پر ایک دوسرے کی اندھی تقلید کرتے چلے آ رہے ہیں۔
Ayahs 11:110–113

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس کے بارے میں (بھی) اختلاف کیا گیا (جس طرح آج اس کتاب کے بارے میں کیا جا رہا ہے جو تمہیں دی گئی ہے) ۔ اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے نہ ٹھہرا دی گئی ہوتی تو ان (اختلاف کرنے والوں) کے درمیان (کبھی کا) فیصلہ کردیا گیا ہوتا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ یہ لوگ اس (قران کے بارے میں) الجھن ڈالنے والے شک میں (پڑے ہوئے) ہیں۔

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

اور یقین کرو، تمہارا رب ان سب کو ان کے اعمال کا بدلہ پورا پورا دے کر رہے گا کیونکہ جو کچھ یہ لوگ کررہے ہیں اس کو (سب) خبر ہے۔

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر، ) تم (راہ راست پر) قائم رہو جیسا کہ تم کو حکم ہوا ہے اور وہ (لوگ بھی) جو تائب ہو کر تمہارے ساتھ (ہو لئے) ہیں، اور حد سے نہ بڑھو۔ یقین کرو جو کچھ بھی تم لوگ کررہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

(مسلمانو، ) ان ظالموں کی طرف (ذرا بھی) نہ جھکنا ورنہ دوزخ کی آگ تمہیں بھی آ لگے گی، اور (یاد رکھو، ) اللہ کے سوا تمہارا کوئی کارساز نہیں، پھر (اگر اس سے بچھڑے تو کہیں سے) تمہیں مدد نہ ملے گی۔

[57] وہ ٹھہرائی ہوئی بات یہی ہے کہ پورا عذاب آخرت میں ہوگا۔ [58] وہ فیصلہ یہی کہ منکرین پر عذاب اسی دنیا میں آگیا ہوتا۔
Ayah 11:114

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر۔ بیشک نیکیاں گناہوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ (ایک طرح کی) یاددہانی ہے ان لوگوں کے لئے جو ذکر (الٰہی) کرنے والے ہیں۔

[59] دن کے دونوں سروں پر سے مراد صبح اور مغرب ہیں اور کچھ رات گزرنے پر عشاء کا وقت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ حکم اس زمانے کا ہے جب نماز کے لئے ابھی پانچ وقت مقرر نہیں کئے گئے تھے۔ معراج کا واقعہ جس میں پنج وقتہ نماز فرض ہوئی اس کے بعد پیش آیا۔