11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 11:40–43

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

(اور یہ سب کچھ ہوتا رہا) یہاں تک کہ جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا اور تنور نے جوش مارا (تو) ہم نے نوح کو حکم دیا کہ ہر قسم (کے جانوروں) میں سے (نر و مادہ کا) ایک ایک جوڑا اس (کشتی) میں سوار کرالو اور اپنے اہل و عیال کو بھی، سوائے ان لوگوں کے جن کے لئے پہلے بات کہی جا چکی ہے۔ (نیز) ان لوگوں کو بھی (بٹھا لو) جو ایمان لا چکے ہیں۔ اور تھوڑے ہی لوگ نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے۔

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

اور (نوح نے ساتھیوں سے) کہا، '' سوار ہوجاؤ اس میں، اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا ہے اور اس کا ٹھہرنا۔ بلاشبہ میرا رب (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ''۔

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) کشتی انھیں لے کر پہاڑ جیسی موجوں میں چلنے لگی اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا جو (دور) الگ (کھڑا) تھا، '' بیٹا، ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ نہ رہ ''

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

وہ بولا، '' میں کسی پہاڑ پر پناہ لے لوں گا، وہ مجھے پانی (کی زد) سے بچا لے گا ''۔ (نوح نے) کہا، '' آج کے دن اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہ رحم فرمائے (وہی بچ سکتا ہے) ، ،۔ اور (باپ بیٹے یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ) دونوں کے درمیان ایک موج حائل ہوگئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا۔

[22] تنور سے یا تو زمین مراد ہے یا یہی تنور جس میں روٹی پکائی جاتی ہے۔ [23] یعنی جن پر ان کے کفر کے پاداش میں غرق ہونے کا حکم صادر ہوچکا ہے۔
Ayah 11:44

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور (پھر اللہ کا) حکم ہوا کہ اے زمین، اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا، چناچہ پانی (کا چڑھاؤ) اتر گیا اور کام پورا ہوگیا اور کشتی (کوہ) جودی پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا کہ دور ہوئی ظالموں کی قوم !

[24] کوہ جودی جزیرہ ابن عمر اور دریائے دجلہ کے شمال مشرق کی جانب کوہستان میں واقع ہے اور آج بھی جودی ہی کے نام سے مشہور ہے۔
Ayahs 11:45–48

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

(جب نوح نے دیکھا کہ بیٹا ڈوبا چاہتا ہے تو) اس نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، '' اے میرے رب، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے ''۔

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

ارشاد ہوا، '' اے نوح، وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ تو (سرتاپا) عمل بد ہے پس ہم سے ایسی چیز کی درخواست نہ کر جس (کی حقیقت) کا تجھے علم نہیں۔ ہم تجھے سمجھائے دیتے ہیں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے ''۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

(نوح نے) عرض کیا، '' اے میرے رب، میں (ایسی جرات سے) تیری پناہ مانگتا ہوں کہ تجھ سے ایسی چیز کی درخواست کروں جس (کی حقیقت) کا مجھے علم نہیں۔ اگر تو نے (میرا قصور) معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤں گا ''۔

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

حکم ہوا، '' اے نوح، (پہاڑ سے) اتر، ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (جو) تجھ پر (نازل ہوں گی) اور ان لوگوں پر بھی جو تیرے ساتھ ہیں۔ اور (تم میں آگے چل کر) ایسے لوگ (بھی پیدا) ہوں گے جن کو ہم (زندگی کے فائدوں سے) بہرہ مند کریں گے، پھر (ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے) ہماری طرف سے انھیں درد ناک عذاب پہنچے گا ''۔

[25] یعنی تو نے مجھ سے میری اور میرے گھر والوں کی نجات کا وعدہ فرمایا ہے تو میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں سے ہے لہذا اسے بچا لے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کا بیٹا منافق تھا اور آپ کے سامنے اپنے آپ کو مومن ظاہر کرتا تھا۔ اگر وہ اپنا کفر ظاہر کردیتا تو آپ اللہ تعالیٰ سے اس کی نجات کی دعا نہ کرتے۔ اس تفسیر کی تائید اگلی آیت سے بھی ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 11:49

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جسے ہم تمہاری طرف وحی کررہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تو تم ہی اسے جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو (اور منکروں کے جہل و شرارت سے دلگیر نہ ہو) انجام کار متقیوں ہی کے لئے ہے۔

[26] اپنی قوم کی ایذا رسانی پر جس طرح نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا۔ [27] یعنی جس طرح نوح (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کا آخری انجام اچھا ہوا اور کافروں کا برا ہوا، آپ کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آ کر رہے گا۔
Ayahs 11:50–56

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور ہم نے (قوم) عاد کی طرف اس کے بھائی (بندوں میں سے) ہود کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا۔ اس نے کہا کہ اے میری قوم (کے لوگو، ) اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ (اور اللہ کے ساتھ جو شریک ٹھہراتے ہو تو یہ) محض افترا پردازیاں کرتے ہو۔

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

اے میری قوم (کے لوگو، ) میں اس (بات) کے لئے تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا۔ میرا معاوضہ تو بس اسی کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، پھر کیا تم (اتنی صاف بات بھی) نہیں سمجھتے ؟

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے میری قوم (کے لوگو، ) اپنے رب سے (گناہوں کی) معافی مانگو پھر (آئندہ کو) اس کی جناب میں توبہ کرو۔ وہ تم کو خوب برستے ہوئے بادل بھیجے گا اور تم کو (مزید) قوت دے کر تمہاری (موجودہ) قوت میں اضافہ کرے گا۔ پس مجرم بن کر (اس کی بندگی سے) منہ نہ موڑو۔

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے ہود، تو ہمارے پاس کوئی دلیل لے کر تو آیا نہیں اور تیرے کہنے سے ہم اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور نہ ہم تجھ پر ایمان لانے والے ہیں۔

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ تجھ پر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑگئی ہے (اسی لئے تو ایسی بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے) ۔ (ہود نے) کہا کہ میں اللہ کو گواہ ٹھہراتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ تم نے جن دوسروں کو اللہ کے سوا شریک ٹھہرا رکھا ہے میں ان سے بیزار ہوں۔

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

تم سب مل کر میرے خلاف جو تدبیر کرسکتے ہو کرلو اور مجھے (ذرا) مہلت نہ دو ۔

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میں نے تو اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے (جو) میرا بھی رب ہے اور تمہارا رب بھی، اور کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو۔ بیشک میرا رب (عدل و انصاف کی) سیدھی راہ پر ہے۔

[28] قوم عاد اور ہود (علیہ السلام) کا ذکر سورة اعراف کے رکوع 9 آیت 65 تا 72 صفحہ 348 تا 350 میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 11:57–58

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

پھر اگر (اس پر بھی) تم نے روگردانی کی تو جو پیغام دے کر میں تمہارے پاس بھیجا گیا تھا وہ میں نے تمہیں پہنچا دیا، (اس سے زیادہ میرے اختیار میں کچھ نہیں ہے) ۔ اور (مجھے تو نظر آ رہا ہے کہ) میرا رب کسی دوسری قوم کو تمہاری جگہ دے گا اور تم اس کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکو گے۔ یقینا میرا رب ہر چیز کا نگرانِ (حال) ہے۔

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور اس کے ہمراہ جو اہل ایمان تھے اپنی رحمت سے نجات بخشی اور ان کو ایک سخت عذاب سے بچا لیا۔

[29] مطلب یہ ہے کہ اللہ جلد باز نہیں ہے اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ جس وقت رسول کی دعوت کسی شخص یا گروہ کو پہنچی اور اس نے اس کو ماننے سے انکار کیا یا ماننے میں تامل کیا اس پر فوراً عذاب کا فیصلہ نافذ کردیا گیا۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کی انفرادی حیثیت کے مطابق اور ہر گروہ کو اس کی اجتماعی حیثیت کے مطابق سوچنے سنبھلنے کے لئے کافی وقت دیتا ہے اور اس بات کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو کتنی مہلت ملنی چاہئے۔ پھر وہ مہلت جب پوری ہوجاتی ہے اور وہ شخص یا گروہ اپنی باغیانہ روش سے باز نہیں آتا تب اللہ تعالیٰ اس پر عذاب کا فیصلہ نافذ کرتا ہے۔ یہ فیصلے کا وقت اللہ کی مقرر کردہ مدت سے نہ ایک گھڑی پہلے آسکتا ہے اور نہ وقت آجانے کے بعد ایک لمحہ ٹل سکتا ہے۔
Ayahs 11:59–60

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) یہ عاد تھے جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں سے انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر سرکش نافرمان کی پیروی کرتے رہے

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

اور (آخرکار) اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگی اور قیامت کے دن بھی (لگی رہے گی) ۔ (تو) سن لو، عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا۔ سن لو، پھٹکار ہے عاد پر (جو) ہود کی قوم (تھی) ۔

[30] یہ جو فرمایا کہ عاد نے رسولوں کی نافرمانی کی حالانکہ ان کے پاس صرف ہود (علیہ السلام) کا تشریف لانا ثابت ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ تمام پیغمبر توحید اور اصول دین میں متفق ہیں۔ پس کسی ایک رسول کا انکار تمام رسولوں کا انکار ہے۔
Ayahs 11:61–62

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور (اسی طرح) ہم نے (قوم) ثمود کی طرف اس کے بھائی (بندوں میں سے) صالح کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا۔ اس نے کہا کہ اے میری قوم (کے لوگو، ) اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اس نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور اس میں تمہیں بسا دیا۔ پس اسی سے (گناہوں کی) معافی مانگو پھر (آئندہ کو) اس کی جناب میں توبہ کرو۔ یقین کرو میرا رب (ہر ایک کے) قریب ہے اور (ہر ایک کی دعاؤں کا) قبول کرنے والا ہے۔

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اے صالح، اس سے پہلے تو تو (ایسا آدمی) تھا جس سے ہم لوگوں کو (بڑی بڑی) امیدیں تھیں (اور ہم سمجھتے تھے کہ تو فخر قوم ثابت ہوگا) ۔ کیا تو ہمیں روکتا ہے کہ ہم ان (معبودوں) کی عبادت نہ کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے چلے آئے ہیں ؟ (یہ کیسی عجیب بات ہے ! ) تو جس (دین) کی طرف ہمیں بلا رہا ہے ہمیں تو اس میں (بڑا ہی) شک ہے جس نے ہمیں (سخت) تردد میں ڈال رکھا ہے۔

[31] قوم ثمود اور صالح (علیہ السلام) کا ذکر سورة اعراف کے رکوع 10 آیت 73 تا 79 صفحہ 350 تا 352 میں گزر چکا ہے۔ [32] یعنی زمین کے بےجان مادوں کی ترکیب سے تمہارا جسم بنایا۔ [33] یعنی میرا رب بندوں کی عرض و معروض صرف سنتا ہی نہیں بلکہ اپنا فیصلہ بھی صادر کرتا ہے۔ پھر تم یہ کیسی حماقت میں پڑے ہو کہ اس کے لئے واسطے، وسیلے اور سفارشی تلاش کرتے پھرتے ہو۔ یاد رہے کہ یہی مضمون سورة بقرہ آیت 186 صفحہ 54 میں بھی بیان ہوا ہے۔
Ayahs 11:63–65

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

(صالح نے) کہا کہ اے میری قوم (کے لوگو، ) تم نے (اس بات پر بھی) غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر (قائم) ہوں اور اس نے مجھے اپنی رحمت سے بھی نوازا ہے تو پھر کون اللہ کے مقابلے میں میری مدد کرے گا اگر میں اس کی نافرمانی کروں ؟ پس (یہ فرمائش کر کے کہ میں دعوت توحید ترک کردوں) تم میرے خسارہ میں اضافہ ہی کرو گے۔

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور اے میری قوم (کے لوگو، دیکھو، ) یہ اللہ کی (بھیجی ہوئی) اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی ہے، پس اسے کھلا چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں (جہاں چاہے) چرتی پھرے اور اسے کسی طرح کا نقصان پہنچانے کی نیت سے بھی چھونا مت ورنہ فوراً ایک عذاب تمہیں آپکڑے گا۔

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

پھر انہوں نے اس (اونٹنی) کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں تو (صالح نے) کہا، (اچھا) تین دن اپنے گھروں میں فائدہ اٹھا لو (پھر تم پر عذاب آ کر رہے گا) یہ (اللہ کا) وعدہ ہے جو (ہرگز) جھوٹا نہ ہوگا۔

[34] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو اسی سورة کے حواشی 8 اور 15۔ [35] اگر میں تمہاری فرمائش پر عمل کروں تو سوائے نقصان کے اور کیا ہاتھ آئے گا۔
Ayahs 11:66–68

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

پھر جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے صالح کو اور اس کے ہمراہ جو اہل ایمان تھے ان کو اپنی رحمت سے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے بھی (نجات دے دی۔ اے پیغمبر، ) بلاشبہ تمہارا رب ہی قوت والا (اور) زبردست ہے۔

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک چنگھاڑ نے آلیا جس سے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

(اور ایسے مٹے کہ) گویا ان میں (کبھی) بسے ہی نہ تھے۔ (تو) سن لو، ثمود نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا۔ سن لو، پھٹکار ہے ثمود پر !

[36] یعنی روز قیامت۔
Ayah 11:69

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور (یہ واقعہ ہے کہ جب) ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر آئے تو انہوں نے (ابراہیم سے) کہا (تم پر) سلام ہو۔ (ابراہیم نے) کہا، (تم پر بھی) سلام ہو۔ پھر کچھ دیر نہ گزری کہ وہ ایک بھنا ہوا بچھڑا (مہمانوں کی ضیافت کے لئے) لے آیا۔

[37] اس سے معلوم ہوا کہ وہ فرشتے انسانی شکل میں آئے تھے۔ اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) نے انھیں اجنبی مہمان سمجھ کر ضیافت کا انتظام کیا۔
Ayah 11:70

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس کی طرف نہیں بڑھتے تو وہ ان سے بدگمان ہوا اور جی ہی جی میں ان سے ڈرا۔ انہوں نے کہا، خوف نہ کر۔ ہم تو (اللہ کی طرف سے) قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

[38] مہمانوں کے کھانے پر ہاتھ نہ بڑھنے کی وجہ سے ابراہیم (علیہ السلام) تاڑ گئے تھے کہ وہ فرشتے ہیں اور کیونکہ فرشتوں کا انسانی شکل میں آنا غیر معمولی حالات ہی میں ہوا کرتا ہے اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) کو خوف ہوا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ سے یا آپ کی بستی والوں سے ایسا قصور سرزد ہوگیا ہے جس پر گرفت کے لئے فرشتے انسانی صورت میں بھیجے گئے ہیں۔
Ayah 11:71

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

ابراہیم کی بیوی (جو) کھڑی ہوئی (یہ گفتگو سن رہی) تھی ہنس پڑی۔ پھر ہم نے اس کو (ان ہی فرشتوں کے ذریعے سے) اسحاق (بیٹے) اور اسحاق کے بعد یعقوب (پوتے) کی خوشخبری دی۔

[39] یعنی اندیشے کے دور ہوجانے سے خوش ہوگئیں۔
Ayahs 11:72–73

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

وہ بولی '' ہائے میری کم بختی ! کیا (اب) میرے اولاد ہوگی حالانکہ میں بڑھیا ہوگئی ہوں اور یہ (جو) میرے شوہر ہیں (یہ بھی) بوڑھے (ہیں) ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے ''۔

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

وہ بولے، '' ارے تم اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو ؟ اے (ابراہیم کے) گھر والو، تم پر اللہ کی (خاص) رحمت اور اس کی برکتیں ہیں۔ بلاشبہ اللہ بڑا قابل تعریف اور بڑی شان والا ہے۔

[40] اصل میں یویلتٰی استعمال ہوا ہے جس کا ترجمہ ہمارے ہاں کی زنانہ بول چال کے مطابق کیا گیا ہے۔ عربی میں اسے اظہار تعجب پر بولتے ہیں۔
Ayahs 11:74–76

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

پھر جب ابراہیم (کے دل) سے خوف دور ہوگیا اور (اولاد کی) خوشخبری (بھی) ملی تو وہ لگا قوم لوط کے بارے میں ہم سے جھگڑنے۔

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم بڑا ہی بردبار، بڑا ہی نرم دل (اور ہر حال میں اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا تھا۔

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

(آخر کار ہمارے بھیجے ہوئے فرشتوں نے کہا کہ) اے ابراہیم، اس بات کا خیال چھوڑ دو ۔ تمہارے رب کا حکم آچکا ہے اور (اب) ان لوگوں پر ایسا عذاب آنے والا ہے جو (کسی طرح) ٹالے نہیں ٹل سکتا۔

[41] یعنی ادھر سے مطمئن ہوئے تو فوراً قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث شروع کردی جس کا خلاصہ سورة عنکبوت میں بیان فرمایا کہ فرشتوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو مطلع کیا کہ ہم ان بستیوں کو ہلاک کرنے آئے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) بولے کہ ان میں تو خود لوط موجود ہیں پھر ایک پیغمبر کے موجود ہوتے کیسے ہلاک کی جاسکتی ہیں۔ فرشتوں نے کہا کہ ہم سب کو جانتے ہیں جو وہاں رہتے ہیں۔ لوط اور اس کے متعلقین کو وہاں سے علیحدہ کر کے عذاب نازل کیا جائے گا۔ اس بحث کو یہاں جھگڑے سے تعبیر فرمایا جس سے صاف ظاہر ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنی فطری شفقت اور رحمدلی سے اس قوم پر ترس کھا کر اللہ تعالیٰ کی جناب میں کچھ سفارش کرنا چاہتے تھے۔ اس کا جواب دیا کہ اس کا خیال چھوڑ دو ۔ ان ظالموں کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ اب اللہ کا حکم واپس نہیں ہوسکتا۔ ان پر عذاب آ کر رہے گا۔
Ayah 11:77

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) لوط کے پاس پہنچے تو (ان کا آنا) اسے برا لگا ان کی وجہ سے دل تنگ ہوا اور بولا، یہ (آج کا دن) تو بڑی مصیبت کا دن ہے۔ ''

[42] اس لئے کہ فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل میں لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تھے اور آپ اس سے بیخبر تھے کہ وہ فرشتے ہیں۔ لہذا لوط (علیہ السلام) کو قوم کے لوگوں کی خباثت اور بدعملی کا خیال کر کے اپنے مہمانوں سے متعلق اندیشہ ہوا کہ ان بےچاروں کی کیسی بےعزتی ان نابکاروں کے ہاتھ ہوگی۔