23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفہیم القرآن

Ayah 23:114

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

اِرشاد ہو گا”تھوڑی ہی دیر ٹھہرے ہونا۔ کاش تم نے یہ اُس وقت جانا ہوتا۔ 101

سورة الْمُؤْمِنُوْن 101 یعنی دنیا میں ہمارے نبی تم کو بتاتے رہے کہ یہ دنیا کی زندگی محض امتحان کی چند گنی چنی ساعتیں ہیں، ان ہی کو اصل زندگی اور بس ایک ہی زندگی نہ سمجھ بیٹھو۔ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے جہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے۔ یہاں کے وقتی فائدوں اور عارضی لذتوں کی خاطر وہ کام نہ کرو جو آخرت کی ابدی زندگی میں تمہارے مستقبل کو برباد کردینے والے ہوں۔ مگر اس وقت تم نے ان کی بات سنی ان سنی کردی۔ تم اس عالم آخرت کا انکار کرتے رہے۔ تم نے زندگی بعد موت کو ایک من گھڑت افسانہ سمجھا۔ تم اپنے اس خیال پر بضد رہے کہ جینا اور مرنا جو کچھ ہے بس اسی دنیا میں ہے، اور جو کچھ مزے لوٹنے ہیں یہیں لوٹ لینے چاہئیں۔ اب پچھتانے سے کیا ہوتا ہے۔ ہوش آنے کا وقت تو وہ تھا جب تم دنیا کی چند روزہ زندگی کے لطف پر یہاں کی ابدی زندگی کے فائدوں کو قربان کر رہے تھے۔
Ayah 23:115

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں فضُول ہی پیدا کیا ہے 102 اور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹنا ہی نہیں ہے؟“

سورة الْمُؤْمِنُوْن 102 اصل میں لفظ عَبَثاً کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، جس کا ایک مطلب تو ہے " کھیل کے طور پر "۔ اور دوسرا مطلب ہے " کھیل کے لیے " پہلی صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے۔ " کیا تم نے یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بطور تفریح بنادیا ہے، تمہاری تخلیق کی کوئی غرض وغایت نہیں ہے، محض ایک بےمقصد مخلوق بنا کر پھیلا دی گئی ہے۔ " دوسری صورت میں مطلب یہ ہوگا " کیا تم یہ سمجھتے تھے کہ تم بس کھیل کود اور تفریح اور ایسی لاحاصل مصروفیتوں کے لیے پیدا کیے گئے ہو جن کا کبھی کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے "۔
Ayah 23:116

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

پس بالا و برتر ہے 103 اللہ، پادشاہِ حقیقی، کوئی خدا اُس کے سوا نہیں، مالک ہے عرشِ بزرگ کا۔

سورة الْمُؤْمِنُوْن 103 یعنی بالا و برتر ہے اس سے کہ فعل عبث کا ارتکاب اس سے ہو، اور بالا و برتر ہے اس سے کہ اس کے بندے اور مملوک اس کی خدائی میں اس کے شریک ہوں۔
Ayah 23:117

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور معبُود کو پکارے، جس کے لیے اُس کے پاس کوئی دلیل نہیں 104 تو اُس کا حساب اُس کے ربّ کے پاس ہے۔ 105 ایسے کافر کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ 106

سورة الْمُؤْمِنُوْن 104 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارے اس کے لئے اپنے اس فعل کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے "۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 105 یعنی وہ محاسبے اور باز پرس سے بچ نہیں سکتا۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 106 یہ پھر اسی مضمون کا اعادہ ہے کہ اصل میں فلاح پانے والے کون ہیں اور اس سے محروم رہنے والے کون۔
Ayah 23:118

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

اے محمدؐکہو”میرے ربّ درگزر فرما، اور رحم کر ، اور تُو سب رحیموں سے اچھا رحیم ہے۔“ 107

سورة الْمُؤْمِنُوْن 107 یہاں اس دعا کی لطیف معنویت نگاہ میں رہے۔ ابھی چند سطر اوپر یہ ذکر آچکا ہے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ نبی ﷺ اور صحابہ کرام کے دشمنوں کو معاف کرنے سے یہ کہہ کر انکار فرمائے گا کہ میرے جو بندے یہ دعا مانگتے تھے، تم ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ اس کے بعد اب نبی ﷺ کو (اور ضمناً صحابہ کرام کو بھی) یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ تم ٹھیک وہی دعا مانگو جس کا ہم ابھی ذکر کر آئے ہیں۔ ہماری صاف تنبیہ کے باوجود اب اگر یہ تمہارا مذاق اڑائیں تو آخرت میں اپنے خلاف گویا خود ہی ایک مضبوط مقدمہ تیار کردیں گے۔