23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفہیم القرآن

Ayah 23:74

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ راہِ راست سے ہٹ کر چلنا چاہتے ہیں۔ 71

سورة الْمُؤْمِنُوْن 71 یعنی آخرت کے انکار نے ان کو غیر ذمہ دار، اور احساس ذمہ داری کے فقدان نے ان کو بےفکر بنا کر رکھ دیا ہے۔ جب وہ سرے سے یہی نہیں سمجھتے کہ ان کی اس زندگی کا کوئی مآل اور نتیجہ بھی ہے اور کسی کے سامنے اپنے اس پورے کارنامہ حیات کا حساب بھی دنیا ہے، تو پھر انہیں اس کی کیا فکر ہو سکتی ہے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا۔ جانوروں کی طرح ان کی بھی غایت مقصود بس یہ ہے کہ ضروریات نفس و جسم خوب اچھی طرح پوری ہوتی رہیں۔ یہ مقصود حاصل ہو تو پھر حق و باطل کی بحث ان کے لیے محض لایعنی ہے۔ اور اس مقصد کے حصول میں کوئی خرابی رونما ہوجائے تو زیادہ سے زیادہ وہ جو کچھ سوچیں گے وہ صرف یہ کہ اس خرابی کا سبب کیا ہے اور اسے کس طرح دور کیا جاسکتا ہے۔ راہ راست اس ذہنیت کے لوگ نہ چاہ سکتے ہیں نہ پاسکتے ہیں۔
Ayahs 23:75–76

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اگر ہم اِن پر رحم کریں اور وہ تکلیف جس میں آج کل یہ مُبتلا ہیں ، دُور کردیں تو یہ اپنی سرکشی میں بالکل ہی بہک جائیں گے۔ 72

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

اِن کا حال تو یہ ہے کہ ہم نے انہیں تکلیف میں مبتلا کیا، پھر بھی یہ اپنے رب کے آگے نہ جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے ہیں

سورة الْمُؤْمِنُوْن 72 اشارہ ہے اس تکلیف و مصیبت کی طرف جس میں وہ قحط کی بدولت پڑے ہوئے تھے۔ اس قحط کے متعلق روایات نقل کرتے ہوئے بعض لوگوں نے دو قحطوں کے قصوں کو خلط ملط کردیا ہے جس کی وجہ سے آدمی کو یہ سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے یا بعد کا۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کے دور میں اہل مکہ کو دو مرتبہ قحط سے سابقہ پیش آیا ہے۔ ایک نبوت کے آغاز سے کچھ مدت بعد۔ دوسرا، ہجرت کے کئی سال بعد جب کہ ثمامہ بن اثال نے یمامہ سے مکہ کے طرف غلے کی بر آمد روک دی تھی۔ یہاں ذکر دوسرے قحط کا نہیں بلکہ پہلے قحط کا ہے۔ اس کے متعلق صحیحین میں ابن مسعود ؓ کی یہ روایت ہے کہ جب قریش نے نبی ﷺ کی دعوت قبول کرنے سے پیہم انکار کیا اور سخت مزاحمت شروع کردی تو حضور ﷺ نے دعا کی کہ اللھم اعنی علیہم بسبع کسبع یوسف، " خدایا، ان کے مقابلے میں میری مدد یوسف کے ہفت سالہ قحط جیسے سات برسوں سے کر "۔ چناچہ ایسا سخت قحط شروع ہوا کہ مردار تک کھانے کی نوبت آگئی۔ اس قحط کی طرف مکی سورتوں میں بکثرت اشارات ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو الانعم، 42 تا 44۔ الاعراف 94 تا 99۔ یونس، 11۔ 12۔ 21۔ النحل، 112۔ 113۔ الدخان 10۔ 16 مع حواشی۔
Ayah 23:77

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

البتہ جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ ہم اِن پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں تو یکایک تم دیکھو گے کہ اس حالت میں یہ ہر خیر سے مایوس ہیں۔ 73

سورة الْمُؤْمِنُوْن 73 اصل میں لفظ مُبْلِسُوْن استعمال ہوا ہے جس کا پورا مفہوم مایوسی سے ادا نہیں ہوتا۔ بَلَس اور اِبْلَاس کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ حیرت کی وجہ سے دنگ ہو کر رہ جانا۔ خوف اور دہشت کے مارے دم بخود ہوجانا رنج و غم کے مارے دل شکستہ ہوجانا۔ ہر طرح سے ناامید ہو کر ہمت توڑ بیٹھنا۔ اور اسی کا ایک پہلو مایوسی و نامرادی کی وجہ سے برافروختہ Desperate) (ہوجانا بھی ہے جس کی بنا پر شیطان کا نام ابلیس رکھا گیا ہے۔ اس نام میں یہ معنی پوشیدہ ہیں کہ یاس اور نامرادی (Frustration) کی بنا پر اس کا زخمی تکبر اس قدر بر انگیختہ ہوگیا ہے کہ اب وہ جان سے ہاتھ دھو کر ہر بازی کھیل جانے اور ہر جرم کا ارتکاب کر گزر نے پر تلا ہوا ہے۔
Ayahs 23:78–79

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں سُننے اور دیکھنے کی قوتیں دیں اور سوچنے کو دل دیے۔ مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو۔ 74

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا، اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے

سورة الْمُؤْمِنُوْن 74 مطلب یہ ہے کہ بد نصیبو، یہ آنکھ کان اور دل و دماغ تم کو کیا اس لیے دیے گئے تھے کہ تم ان سے بس وہ کام لو جو حیوانات لیتے ہیں ؟ کیا ان کا صرف یہی مصرف ہے کہ تم جانوروں کی طرح جسم اور نفس کے مطالبات پورے کرنے کے ذرائع ہی تلاش کرتے رہو اور ہر وقت اپنا معیار زندگی بلند کرنے کی تدبیریں ہی سوچتے رہا کرو ؟ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی ناشکری ہو سکتی ہے کہ تم بنائے تو گئے تھے انسان اور بن کر رہ گئے نرے حیوان ؟ جن آنکھوں سے سب کچھ دیکھا جائے مگر حقیقت کی طرف رہنمائی کرنے والے نشانات ہی نہ دیکھے جائیں، جن کانوں سے سب کچھ سنا جائے مگر ایک سبق آموز بات ہی نہ سنی جائے، اور جس دل و دماغ سے سب کچھ سوچا جائے مگر بس یہی نہ سوچا جائے کہ مجھے یہ وجود کیسے ملا ہے، کس لیے ملا ہے اور کیا میری زندگی کی غایت ہے، حیف ہے اگر وہ پھر ایک بیل کے بجائے ایک انسان کے ڈھانچے میں ہوں۔
Ayahs 23:80–82

وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 23:80 in the Quran reader

وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ گردشِ لیل و نہار اُسی کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ 75 کیا تمہاری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی؟ 76

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

مگر یہ لوگ وہی کچھ کہتے ہیں جو ان کے پیش رَو کہہ چکے ہیں

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

یہ کہتے ہیں "کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائیں گے تو ہم کو پھر زندہ کر کے اٹھایا جائے گا؟

سورة الْمُؤْمِنُوْن 75 علم کے ذرائع (حواس اور قوت فکر) اور ان کے مصرف صحیح سے انسان کی غفلت پر متنبہ کرنے کے بعد اب ان نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جن کا مشاہدہ اگر کھلی آنکھوں سے کیا جائے اور جن کی نشان دہی سے اگر صحیح طور پر استدلال کیا جائے، یا کھلے کانوں سے کسی معقول استدلال کو سنا جائے، تو آدمی حق تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ بھی معلوم کرسکتا ہے کہ یہ کار خانہ ہستی بے خدا، یا بہت سے خداؤں کا ساختہ و پرداختہ نہیں ہے، بلکہ توحید کی اساس پر قائم ہے۔ اور یہ بھی جان سکتا ہے کہ یہ بےمقصد نہیں ہے، نرا کھیل اور محض ایک بےمعنی طلسم نہیں ہے، بلکہ ایک مبنی بر حکمت نظام ہے جس میں انسان جیسی ذی اختیار مخلوق کا غیر جوابدہ ہونا اور بس یونہی مر کر مٹی ہوجانا ممکن نہیں ہے۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 76 واضح رہے کہ یہاں توحید اور حیات بعد الموت، دونوں پر ایک ساتھ استدلال کیا جا رہا ہے، اور آگے تک جن نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ان سے شرک کے ابطال اور انکار آخرت کے ابطال دونوں پر دلیل لائی جا رہی ہے۔
Ayahs 23:83–84

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

ہم نے بھی یہ وعدے بہت سُنے ہیں اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا بھی سُنتے رہے ہیں۔ یہ محض افسانہائے پارینہ ہیں۔“ 77

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

ان سے کہو، بتاؤ اگر تم جانتے ہو، کہ یہ زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے؟

سورة الْمُؤْمِنُوْن 77 خیال رہے کہ انکا آخرت کو مستبعد سمجھنا صرف آخرت ہی کا انکار نہ تھا، خدا کی قدرت اور حکمت کا بھی انکار تھا۔
Ayahs 23:85–86

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

یہ ضرور کہیں گے ، اللہ کی۔ کہو، پھر تم ہوش میں کیوں نہیں آتے؟ 78

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

ان سے پوچھو، ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے؟

سورة الْمُؤْمِنُوْن 78 یعنی کیوں یہ بات نہیں سمجھتے کہ پھر اس کے سوا کوئی بندگی کا مستحق بھی نہیں ہے، اور اس کے لیے زمین کی اس آبادی کو دوبارہ پیدا کردینا بھی مشکل نہیں ہے۔
Ayah 23:87

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

یہ ضرور کہیں گے اللہ79۔ کہو، پھر تم ڈرتے کیوں نہیں؟ 80

سورة الْمُؤْمِنُوْن 79 اصل میں لفظ للہ استعمال ہوا ہے، یعنی " یہ سب چیزیں بھی للہ کی ہیں "۔ ہم نے ترجمے میں محض اردو زبان کے حسن کلام کی خاطر وہ اسلوب اختیار کیا ہے۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 80 یعنی، پھر کیوں تمہیں اس سے بغاوت کرتے اور اس کے سوا دوسروں کی بندگی کرتے ہوئے ڈر نہیں لگتا ؟ اور کیوں تم کو یہ خوف لاحق نہیں ہوتا کہ آسمان و زمین کے فرمانروا نے اگر کبھی ہم سے حساب لیا تو ہم کیا جواب دیں گے ؟
Ayah 23:88

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

اِن سے کہو، بتاوٴ اگر تم جانتے ہو کہ ہر چیز پر اقتدار 81 کس کا ہے؟ اور کون ہے جو پناہ دیتا ہے اور اُس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا؟

سورة الْمُؤْمِنُوْن 81 اصل میں لفظ مَلَکُوْت استعمال ہوا ہے جس میں ملک (بادشاہی) اور ملک (مالکیت) ، دونوں مفہوم شامل ہیں، اور اس کے ساتھ یہ انتہائی مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اس تفصیل کے لحاظ سے آیت کے پیش کردہ سوال کا پورا مطلب یہ ہے کہ " ہر چیز پر کامل اقتدار کس کا ہے اور ہر چیز پر پورے پورے مالکانہ اختیارات کس کو حاصل ہیں " ؟
Ayah 23:89

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

یہ ضرور کہیں گے کہ یہ بات تو اللہ ہی کے لیے ہے۔ کہو، پھر کہاں سے تم کو دھوکا لگتا ہے؟ 82

سورة الْمُؤْمِنُوْن 82 اصل الفاظ ہیں اَنّیٰ تُسْحَرُوْنَ ، جن کا لفظی ترجمہ ہے " کہاں سے تم مسحور کیے جاتے ہو "۔ سحر اور جادو کی حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک چیز کو اس کی اصل ماہیت اور صحیح صورت کے خلاف بنا کر دکھاتا ہے اور دیکھنے والے کے ذہن میں یہ غلط تاثر پیدا کرتا ہے کہ اس شے کی اصلیت وہ ہے جو بناوٹی طور پر ساحر پیش کر رہا ہے۔ پس آیت میں جو سوال کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کس نے تم پر یہ سحر کردیا ہے کہ یہ سب باتیں جاننے کے باوجود حقیقت تمہاری سمجھ میں نہیں آتی ؟ کس کا جادو تم پر چل گیا ہے کہ جو مالک نہیں ہیں وہ تمہیں مالک یا اس کے شریک نظر آتے ہیں اور جنہیں کوئی اقتدار حاصل نہیں ہے وہ اصل صاحب اقتدار کی طرح، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر تم کو بندگی کے مستحق محسوس ہوتے ہیں ؟ کس نے تمہاری آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے کہ جس خدا کے متعلق خود مانتے ہو کہ اس کے مقابلے میں کوئی پناہ دینے والا نہیں ہے اس سے غداری و بےوفائی کرتے ہو اور پھر بھروسہ ان کی پناہ پر کر رہے ہو جو اس سے تم کو نہیں بچا سکتے ؟ کس نے تم کو اس دھوکے میں ڈال دیا ہے کہ جو ہر چیز کا مالک ہے وہ تم سے کبھی نہ پوچھے گا کہ تم نے میری چیزوں کو کس طرح استعمال کیا، اور جو ساری کائنات کا بادشاہ ہے وہ کبھی تم سے اس کی باز پرس نہ کرے گا کہ میری بادشاہی میں تم اپنی بادشاہیاں چلانے یا دوسروں کی بادشاہیاں ماننے کے کیسے مجاز ہوگئے ؟ سوال کی یہ نوعیت اور زیادہ معنی خیز ہوجاتی ہے جب یہ بات پیش نظر رہے کہ قریش کے لوگ نبی ﷺ پر سحر کا الزام رکھتے تھے۔ اس طرح گویا سوال کے ان ہی الفاظ میں یہ مضمون بھی ادا ہوگیا کہ بیوقوفو ! جو شخص تمہیں اصل حقیقت (وہ حقیقت جسے تمہارے اپنے اعترافات کے مطابق حقیقت ہونا چاہیے) بتاتا ہے وہ تو تم کو نظر آتا ہے جادوگر، اور جو لوگ تمہیں رات دن حقیقت کے خلاف باتیں باور کراتے رہتے ہیں، حتیٰ کہ جنہوں نے تم کو صریح عقل اور منطق کے خلاف، تجربے اور مشاہدے کے خلاف، تمہاری اپنی اعتراف کردہ صداقتوں کے خلاف، سراسر جھوٹی اور بےاصل باتوں کا معتقد بنادیا ہے۔ ان کے بارے میں کبھی تمہیں یہ شبہ نہیں ہوتا کہ اصل جادو گر تو وہ ہیں۔
Ayah 23:90

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

جو امرِ حق ہے وہ ہم ان کے سامنے لے آئے ہیں، اور کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں۔ 83

سورة الْمُؤْمِنُوْن 83 یعنی اپنے اس عقل میں جھوٹے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو بھی الوہیت (خدائی کی صفات، اختیارات اور حقوق، یا ان میں سے کوئی حصہ) حاصل ہے۔ اور اپنے اس قول میں جھوٹے کہ زندگی بعد موت ممکن نہیں ہے۔ ان کا جھوٹ ان کے اپنے اعترافات سے ثابت ہے۔ ایک طرف یہ ماننا کہ زمین و آسمان کا مالک اور کائنات کی ہر چیز کا مختار اللہ ہے، اور دوسری طرف یہ کہنا کہ خدائی تنہا اسی کی نہیں ہے بلکہ دوسروں کا بھی (جو لامحالہ اس کے مملوک ہی ہوں گے) اس میں کوئی حصہ ہے، یہ دونوں باتیں صریح طور پر ایک دوسرے سے متناقض ہیں۔ اسی طرح ایک طرف یہ کہنا کہ ہم کو اور اس عظیم الشان کائنات کو خدا نے پیدا کیا ہے، اور دوسری طرف یہ کہنا کہ خدا اپنی ہی پیدا کردہ مخلوق کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا، صریحاً خلاف عقل ہے۔ لہٰذا ان کی اپنی مانی ہوئی صداقتوں سے یہ ثابت ہے کہ شرک اور انکار آخرت، دونوں ہی جھوٹے عقیدے ہیں جو انھوں نے اختیار کر رکھے ہیں۔
Ayah 23:91

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے، 84 اور کوئی دوسرا خدا اُس کے ساتھ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی خلق کو لے کر الگ ہو جاتا، اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے۔ 85 پاک ہے اللہ اُن باتوں سے جو یہ لوگ بناتے ہیں

سورة الْمُؤْمِنُوْن 84 یہاں کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہ ارشاد محض عیسائیت کی تردید میں ہے۔ نہیں، مشرکین عرب بھی اپنے معبودوں کو خدا کی اولاد قرار دیتے تھے، اور دنیا کے اکثر مشرکین اس گمراہی میں ان کے شریک حال رہے ہیں۔ چونکہ عیسائیوں کا عقیدہ " ابن اللہ " زیادہ مشہور ہوگیا ہے اس لیے بعض اکابر مفسرین تک کو یہ غلط فہمی لاحق ہوگئی کہ یہ آیت اسی کی تردید میں وارد ہوئی ہے۔ حالانکہ ابتدا سے روئے سخن کفار مکہ کی طرف ہے اور آخر تک ساری تقریر کے مخاطب وہی ہیں۔ اس سیاق وسباق میں یکایک عیسائیوں کی طرف کلام کا رخ پھرجانا بےمعنی ہے۔ البتہ ضمناً اس میں ان تمام لوگوں کے عقائد کی تردید ہوگئی ہے جو خدا سے اپنے معبودوں یا پیشواؤں کا نسب ملاتے ہیں، خواہ وہ عیسائی ہوں یا مشرکین عرب یا کوئی اور۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 85 یعنی یہ کسی طرح ممکن نہ تھا کہ کائنات کی مختلف قوتوں اور مختلف حصوں کے خالق اور مالک الگ الگ خدا ہوتے اور پھر ان کے درمیان ایسا مکمل تعاون ہوتا جیسا کہ تم اس پورے نظام عالم کی بیشمار قوتوں اور بےحد و حساب چیزوں میں، اور ان گنت تاروں اور سیاروں میں پا رہے ہو۔ نظام کی باقاعدگی اور اجزائے نظام کی ہم آہنگی اقتدار کی مرکزیت و وحدت پر خود دلالت کر رہی ہے۔ اگر اقتدار بٹا ہوا ہوتا تو صاحب اقتدار میں اختلاف رونما ہونا یقیناً ناگزیر تھا۔ اور یہ اختلاف ان کے درمیان جنگ اور تصادم تک پہنچے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔ یہی مضمون سورة انبیاء میں اس طرح بیان ہوا ہے کہ لَوْ کَانَ فَیْھِمَآ اٰلِھَۃٌ اِلَّا اللہُ لَفَسَدَتَا، (آیت 22)۔ " اگر زمین اور آسمان میں اللہ کے سوا دوسرے خدا بھی ہوتے تو دونوں کا نظام بگڑ جاتا "۔ اور یہی استدلال سورة بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے کہ لَوْ کَانَ مَعَہ اٰلِھَۃٌ کَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا الیٰ ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلاً۔ (آیت 42) " اگر اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہوتے، جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں، تو ضرور وہ مالک عرش کے مقام پر پہنچنے کی کوشش کرتے "۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، بنی اسرائیل، حاشیہ 47۔ جلد سوم، الانبیاء، حاشیہ 22۔
Ayahs 23:92–93

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

کھُلے اور چھُپے کا جاننے والا، 86 وہ بالا تر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ تجویز کر رہے ہیں

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

اے محمدؐ، دعا کرو کہ "پروردگار، جس عذاب کی اِن کو دھمکی دی جا رہی ہے وہ اگر میری موجودگی میں تو لائے

سورة الْمُؤْمِنُوْن 86 اس میں ایک لطیف اشارہ ہے اس خاص قسم کے شرک کی طرف جس نے پہلے شفاعت کے مشرکانہ عقیدے کی، اور پھر غیر اللہ کے لیے علم غیب (علم ماکان و ما یکون) کے اثبات کی شکل اختیار کرلی۔ یہ آیت اس شرک کے دونوں پہلوؤں کی تردید کردیتی ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، طٰہٰ ، حواشی 85۔ 86۔ الانبیاء حاشیہ 27)۔
Ayahs 23:94–97

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

تواے مرے ربّ، مجھے اِن ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیو۔“ 87

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم تمہاری آنکھوں کے سامنے ہی وہ چیز لے آنے کی پوری قدرت رکھتے ہیں جس کی دھمکی ہم انہیں دے رہے ہیں

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

اے نبیؐ، برائی کو اس طریقہ سے دفع کرو جو بہترین ہو جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہیں

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور دعا کرو کہ "پروردگار، میں شیاطین کی اکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں

سورة الْمُؤْمِنُوْن 87 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذاللہ اس عذاب میں نبی ﷺ کے مبتلا ہوجانے کا فی الواقع کوئی خطرہ تھا، یا یہ کہ اگر آپ یہ دعا نہ مانگتے تو اس میں مبتلا ہوجاتے۔ بلکہ اس طرح کا انداز بیان یہ تصور دلانے کے لیے اختیار کیا گیا ہے کہ خدا کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق چیز۔ وہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا مطالبہ کیا جائے، اور اگر اللہ اپنی رحمت اور اپنے حلم کی وجہ سے اس کے لانے میں دیر کرے تو اطمینان کے ساتھ شرارتوں اور نافرمانیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ درحقیقت وہ ایسی خوفناک چیز ہے کہ گناہ گاروں ہی کو نہیں، نیکوکاروں کو بھی اپنی ساری نیکیوں کے با وجود اس سے پناہ مانگنی چاہیے۔ علاوہ بریں اس میں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اجتماعی گناہوں کی پاداش میں جب عذاب کی چکی چلتی ہے تو صرف برے لوگ ہی اس میں نہیں پستے، بلکہ ان کے ساتھ ساتھ بھلے لوگ بھی بسا اوقات لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ لہٰذا ایک گمراہ اور بدکار معاشرے میں رہنے والے ہر نیک آدمی کو ہر وقت خدا کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ کچھ خبر نہیں کہ کب کس صورت میں ظالموں پر قہر الٰہی کا کوڑا برسنا شروع ہوجائے اور کون اس کی زد میں آجائے۔
Ayah 23:98

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

بلکہ اے میرے ربّ، میں تو اِس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں۔“ 88

سورة الْمُؤْمِنُوْن 88 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، الانعام، حواشی 71، 72۔ جلد دوم، الاعراف، حواشی 138۔ 150 تا 153۔ یونس، حاشیہ 39۔ الحجر، حاشیہ 48۔ النحل، حواشی 122 تا 124۔ بنی اسرائیل، حواشی 58 تا 63۔ حٰم السجدہ، حواشی 36 تا 41۔
Ayah 23:99

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

(یہ لوگ اپنی کرنی سے باز نہ آئیں گے)یہاں تک کہ جب اِن میں سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ”اے میرے ربّ، مجھے اُسی دنیا میں واپس بھیج دیجیے 89 جسے میں چھوڑ آیا ہوں

سورة الْمُؤْمِنُوْن 89 اصل میں رَبِّ ارْجِعُوْنِ کے الفاظ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو خطاب کر کے جمع کے صیغے میں درخواست کرنے کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ یہ تعظیم کے لیے ہو، جیسا کہ تمام زبانوں میں طریقہ ہے۔ اور دوسری وجہ بعض لوگوں نے یہ بھی بیان کی ہے کہ یہ لفظ تکرار دعا کا تصور دلانے کے لیے ہے، یعنی وہ اِرْجِعْنِیْ اِرْجِعْنِیْ (مجھے واپس بھیج دے، مجھے واپس بھیج دے) کا مفہوم ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض مفسرین نے یہ خیال بھی ظاہر کیا ہے کہ رَبِّ کا خطاب اللہ تعالیٰ سے ہے اور ارْجِعُوْنِ کا خطاب ان فرشتوں سے جو اس مجرم روح کو گرفتار کر کے لیے جا رہے ہوں گے۔ یعنی بات یوں ہے " ہائے میرے رب، مجھ کو واپس کرو "۔
Ayah 23:100

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

اُمید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا 90“۔۔۔۔ ہر گز نہیں، 91 یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ بَک رہا ہے۔ 92 اب ان سب(مرنے والوں)کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک۔ 93

سورة الْمُؤْمِنُوْن 90 یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آیا ہے کہ مجرمین موت کی سرحد میں داخل ہونے کے وقت سے لے کر آخرت میں واصل بجہنم ہونے تک، بلکہ اس کے بعد بھی، بار بار یہی درخواستیں کرتے رہیں گے کہ ہمیں بس ایک دفعہ دنیا میں اور بھیج دیا جائے، اب ہماری توبہ ہے، اب ہم کبھی نافرمانی نہیں کریں گے، اب ہم سیدھی راہ چلیں گے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو الانعام، آیات 27۔ 28۔ الاعراف، 53۔ ابراہیم، 44، 45۔ مومنون، 105 تا 115۔ الشعراء، 102۔ السجدہ، 12 تا 14۔ فاطر، 37۔ الزمر، 58۔ 59۔ المومن، 10 تا 12۔ الشوریٰ ، 44۔ مع حواشی)۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 91 یعنی اس کو واپس نہیں بھیجا جائے گا۔ از سرنو عمل کرنے کے لیے کوئی دوسرا موقع اب اسے نہیں دیا جاسکتا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دنیا میں دوبارہ امتحان کے لیے آدمی کو اگر واپس بھیجا جائے تو لامحالہ دو صورتوں میں سے ایک ہی صورت اختیار کرنی ہوگی۔ یا تو اس کے حافظے اور شعور میں وہ سب مشاہدے محفوظ ہوں جو مرنے کے بعد اس نے کیے۔ یا ان سب کو محو کر کے اسے پھر ویسا ہی خالی الذہن پیدا کیا جائے جیسا وہ پہلی زندگی میں تھا۔ اول الذکر سورت میں امتحان کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اس دنیا میں تو آدمی کا امتحان ہے ہی اس بات کا کہ وہ حقیقت کا مشاہدہ کیے بغیر اپنی عقل سے حق کو پہچان کر اسے مانتا ہے یا نہیں، اور طاعت و معصیت کی آزادی رکھتے ہوئے ان دونوں راہوں میں سے کس راہ کو انتخاب کرتا ہے۔ اب اگر اسے حقیقت کا مشاہدہ بھی کرا دیا جائے اور معصیت کا انجام عملاً دکھا کر معصیت کے انتخاب کی راہ بھی اس پر بند کردی جائے تو پھر امتحان گاہ میں اسے بھیجنا فضول ہے اس کے بعد کون ایمان نہ لائے گا اور کون طاعت سے منہ موڑ سکے گا۔ رہی دوسری صورت، تو یہ آزمودہ را آزمودن کا ہم معنی ہے جو شخص ایک دفعہ اسی امتحان میں ناکام ہوچکا ہے اسے پھر بعینہ ویسا ہی ایک اور امتحان دینے کے لیے بھیجنا لاحاصل ہے، کیونکہ وہ پھر وہی کچھ کرے گا جیسا پہلے کرچکا ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ 228۔ الانعام، حواشی 6۔ 139۔ 140۔ جلد دوم، یونس، حاشیہ 26)۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 92 یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے کہ " یہ تو اب اسے کہنا ہی ہے۔ " مطلب یہ ہے کہ اس کی یہ بات قابل التفات نہیں ہے۔ شامت آجانے کے بعد اب وہ یہ نہ کہے گا تو اور کیا کہے گا۔ مگر یہ محض کہنے کی بات ہے۔ پلٹے گا تو پھر وہی کچھ کرے گا جو کر کے آیا ہے۔ لہٰذا اسے بکنے دو۔ واپسی کا دروازہ اس پر نہیں کھولا جاسکتا۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 93 " برزخ " فارسی لفظ " پردہ " کا معرب ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اب ان کے اور دنیا کے درمیان ایک روک ہے جو انہیں واپس جانے نہیں دے گی، اور قیامت تک یہ دنیا اور آخرت کے درمیان کی اس حد فاصل میں ٹھہرے رہیں گے۔
Ayah 23:101

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جونہی کہ صُور پھونک دیا گیا، اِن کے درمیان پھر کوئی رشتہ نہ رہے گا اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔ 94

سورة الْمُؤْمِنُوْن 94 اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ باپ باپ نہ رہے گا اور بیٹا بیٹا نہ رہے گا۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس وقت نہ باپ بیٹے کے کام آئے گا نہ بیٹا باپ کے۔ ہر ایک اپنے حال میں کچھ اس طرح گرفتار ہوگا کہ دوسرے کو پوچھنے تک کا ہوش نہ ہوگا کجا کہ اس کے ساتھ کوئی ہمدردی یا اس کی کوئی مدد کرسکے۔ دوسرے مقامات پر اس مضمون کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ وَلَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْماً ، " کوئی جگری دوست اپنے دوست کو نہ پوچھے گا، " (المعارج، آیت 10) اور یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْ مَئِذٍ بِبَنِیْہِ وَصَاحِبَتِہ وَاَخِیْہِ وَفَصِیْلَتَہِ الَّتِیْ تُؤْوِیْہِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعاً ثُمَّ یُنْجِیْہِ ، " اس روز مجرم کا جی چاہے گا کہ اپنی اولاد اور بیوی اور بھائی اور اپنی حمایت کرنے والے قریب ترین کنبے اور دنیا بھر کے سب لوگوں کو فدیے میں دے دے اور اپنے آپ کو عذاب سے بچا لے " (المعارج آیات 11 تا 14) اور یَوْمَ یَفِرُّ المَرْءُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہ وَاَبِیْہِ وَصَاحِبَتِہ وَبَنِیہ لِکُلِّ امْرِئٍ مِّنھُمْ یَوْمَئِذٍ شَانٌ یُّغْنِیْہِ ، " وہ دن کہ آدمی اپنے بھائی اور ماں اور باپ اور بیوی اور اولاد سے بھاگے گا۔ اس روز ہر شخص اپنے حال میں ایسا مبتلا ہوگا کہ اسے کسی کا ہوش نہ رہے گا " (عبس، آیات 34 تا 37)۔
Ayah 23:102

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

اُس وقت جن کے پلڑے بھاری ہوں گے 95 وہی فلاح پائیں گے

سورة الْمُؤْمِنُوْن 95 یعنی جن کے قابل قدر اعمال وزنی ہوں گے۔ جن کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے زیادہ بھاری ہوگا۔
Ayah 23:103

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈال لیا۔ 96 وہ جہنّم میں ہمیشہ رہیں گے

سورة الْمُؤْمِنُوْن 96 آغاز سورة میں، اور پھر چوتھے رکوع میں فلاح اور خسران کا جو معیار پیش کیا جا چکا ہے اسے ذہن میں پھر تازہ کر لیجیے۔
Ayahs 23:104–107

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

آگ اُن کے چہروں کی کھال چاٹ جائے گی اور اُن کے جبڑے باہر نکل آئیں گے۔۔۔۔”97

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

"کیا تم وہی لوگ نہیں ہو کہ میری آیات تمہیں سنائی جاتی تھیں تو تم انہیں جھٹلاتے تھے؟"

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

وہ کہیں گے "اے ہمارے رب، ہماری بد بختی ہم پر چھا گئی تھی واقعی ہم گمراہ لوگ تھے

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے پروردگار، اب ہمیں یہاں سے نکال دے پھر ہم ایسا قصور کریں تو ظالم ہوں گے"

سورة الْمُؤْمِنُوْن 97 اصل میں لفظ کالِحُوْنَ استعمال کیا گیا ہے۔ کالح عربی زبان میں اس چہرے کو کہتے ہیں جس کی کھال الگ ہوگئی ہو اور دانت باہر آگئے ہوں جیسے بکرے کی بھنی ہوئی سری۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ سے کسی نے کالح کے معنی پوچھے تو انہوں نے کہا اَلَمْ تَرَ اِلَی الرأس المشیط ؟ " کیا تم نے بھنی ہوئی سری نہیں دیکھی " ؟
Ayahs 23:108–110

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ جواب دے گا”دُور ہو میرے سامنے سے، پڑے رہو اِسی میں اور مجھ سے بات نہ کرو۔ 98

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

تم وہی لوگ تو ہو کہ میرے کچھ بندے جب کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار، ہم ایمان لائے، ہمیں معاف کر دے، ہم پر رحم کر، تُو سب رحیموں سے اچھا رحیم ہے

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

تو تم نے ان کا مذاق بنا لیا یہاں تک کہ اُن کی ضد نے تمہیں یہ بھی بھُلا دیا کہ میں بھی کوئی ہوں، اور تم ان پر ہنستے رہے

سورة الْمُؤْمِنُوْن 98 یعنی اپنی رہائی کے لیے کوئی عرض معروض نہ کرو۔ اپنی معذرتیں پیش نہ کرو۔ یہ مطلب نہیں ہے ہمیشہ کے لیے بالکل چپ ہوجاؤ۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ ان کا آخری کلام ہوگا جس کے بعد ان کی زبانیں ہمیشہ کے لیے بند ہوجائیں گی۔ مگر یہ بات بظاہر قرآن کے خلاف پڑتی ہے کیونکہ آگے خود قرآن ہی ان کی اور اللہ تعالیٰ کی گفتگو نقل کر رہا ہے۔ لہٰذا یا تو یہ روایات غلط ہیں، یا پھر ان کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد وہ رہائی کے لیے کوئی عرض معروض نہ کرسکیں گے۔
Ayahs 23:111–112

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

آج اُن کے اُس صبر کا میں نے یہ پھل دیا ہے کہ وہی کامیاب ہیں۔“ 99

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

پھر اللہ تعالی ان سے پوچھے گا "بتاؤ، زمین میں تم کتنے سال رہے؟"

سورة الْمُؤْمِنُوْن 99 پھر اسی مضمون کا اعادہ ہے کہ فلاح کا مستحق کون ہے اور خسران کا مستحق کون۔
Ayah 23:113

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے”ایک دن یا دن کا بھی کچھ حصہ ہم وہاں ٹھہرے ہیں، 100 شُمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیے۔“

سورة الْمُؤْمِنُوْن 100 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، طٰہٰ ، حاشیہ 80۔