23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفہیم القرآن

Ayahs 23:34–37

وَ لَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ Open ayah 23:34 in the Quran reader

اب اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت قبول کر لی تو تم گھاٹے ہی میں رہے۔ 36

اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:35 in the Quran reader

یہ تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ جب تم مر کر مٹی ہو جاؤ گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جاؤ گے اُس وقت تم (قبروں سے) نکالے جاؤ گے؟

هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:36 in the Quran reader

بعید، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جا رہا ہے

اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۪ۙ Open ayah 23:37 in the Quran reader

زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی دنیا کی زندگی یہیں ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہرگز اٹھائے جانے والے نہیں ہیں

سورة الْمُؤْمِنُوْن 36 بعض لوگوں نے یہ غلط سمجھا ہے کہ یہ باتیں وہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کرتے تھے۔ نہیں یہ خطاب دراصل عوام الناس سے تھا۔ سرداران قوم کو جب خطرہ ہوا کہ عوام پیغمبر کی پاکیزہ شخصیت اور دل لگتی باتوں سے متاثر ہوجائیں گے۔ اور ان کے متاثر ہوجانے کے بعد ہماری سرداری پھر کس پر چلے گی، تو انہوں نے یہ تقریریں کر کر کے عام لوگوں کو بہکانا شروع کیا۔ یہ اسی معاملے کا ایک دوسرا پہلو ہے جو اوپر سرداران قوم نوح کے ذکر میں بیان ہوا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ خدا کی طرف سے پیغمبری ویغمبری کچھ نہیں ہے، محض اقتدار کی بھوک ہے جو اس شخص سے یہ باتیں کرا رہی ہے۔ یہ فرماتے ہیں کہ بھائیو، ذرا غور تو کرو کہ آخر یہ شخص تم سے کس چیز میں مختلف ہے۔ ویسا ہی گوشت پوست کا آدمی ہے جیسے تم ہو۔ کوئی فرق اس میں اور تم میں نہیں ہے۔ پھر کیوں یہ بڑا بنے اور تم اس کے فرمان کی اطاعت کرو ؟ ان تقریروں میں یہ بات گویا بلا نزاع تسلیم شدہ تھی کہ ہم جو تمہارے سردار ہیں تو ہمیں تو ہونا ہی چاہیے، ہمارے گوشت پوست اور کھانے پینے کی نوعیت کی طرف دیکھنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ زیر بحث ہماری سرداری نہیں ہے، کیونکہ وہ تو آپ سے آپ قائم اور مسلم ہے، البتہ زیر بحث یہ نئی سرداری ہے جو اب قائم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اس طرح ان لوگوں کی بات سرداران قوم نوح کی بات سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھی جن کے نزدیک قابل الزام اگر کوئی چیز تھی تو وہ " اقتدار کی بھوک " تھی جو کسی نئے آنے والے کے اندر محسوس ہو یا جس کے ہونے کا شبہ کیا جاسکے۔ رہا ان کا اپنا پیٹ، تو وہ سمجھتے تھے کہ اقتدار بہرحال اس کی فطری خوراک ہے جس سے اگر وہ بد ہضمی کی حد تک بھی بھر جائے تو قابل اعتراض نہیں۔
Ayahs 23:38–40

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِ۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 23:38 in the Quran reader

یہ شخص خدا کے نام پر محض جھُوٹ گھڑ رہا ہے 361 اور ہم کبھی اس کی ماننے والے نہیں ہیں۔“

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:39 in the Quran reader

رسول نے کہا "پروردگار، اِن لوگوں نے جو میری تکذیب کی ہے، اس پر اب تو ہی میری نصرت فرما"

قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ Open ayah 23:40 in the Quran reader

جواب میں ارشاد ہوا "قریب ہے وہ وقت جب یہ اپنے کیے پر پچھتائیں گے"

سورة الْمُؤْمِنُوْن 36 (الف) یہ الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے یہ لوگ منکر نہ تھے، ان کی بھی اصل گمراہی شرک ہی تھی، دوسرے مقامات پر بھی قرآن مجید میں اس قوم کا یہی جرم بیان کیا گیا ہے، ملاحظہ سورة اعراف آیت 70 ہود آیات 53۔ 54 حم السجدہ، آیت 14، الاحقاف، آیات 21، 22۔
Ayahs 23:41–43

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:41 in the Quran reader

آخر کار ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک ہنگامہ ٴ عظیم نے ان کو آلیا اور ہم نے ان کو کچرا 37 بنا کر پھینک دیا۔۔۔۔ دُور ہو ظالم قوم!

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 23:42 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد دوسری قومیں اٹھائیں

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ Open ayah 23:43 in the Quran reader

کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ختم ہوئی اور نہ اس کے بعد ٹھیر سکی

سورة الْمُؤْمِنُوْن 37 اصل میں لفظ غُثَاء استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں وہ کوڑا کرکٹ جو سیلاب کے ساتھ بہتا ہوا آتا ہے۔ اور پھر کناروں پر لگ لگ کر پڑا سڑتا رہتا ہے۔
Ayah 23:44

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 23:44 in the Quran reader

پھر ہم نے پے درپے رسُول بھیجے۔ جس قوم کے پاس بھی اس کا رسُول آیا، اُس نے اُسے جھُٹلایا، اور ہم ایک کے بعد ایک قوم کو ہلاک کرتے چلے گئے حتٰی کہ ان کو بس افسانہ ہی بنا کر چھوڑا۔۔۔۔ پِھٹکار اُن لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے! 38

سورة الْمُؤْمِنُوْن 38 یا باالفاظ دیگر پیغمبروں کی بات نہیں مانتے۔
Ayah 23:45

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 23:45 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰؑ اور اس کے بھائی ہارونؑ کو اپنی نشانیوں اور کھُلی سَنَد 39 کے ساتھ فرعون اور اس کے اَعیانِ سلطنت کی طرف بھیجا

سورة الْمُؤْمِنُوْن 39 " نشانیوں " کے بعد " کھلی سند " سے مراد یا تو یہ ہے کہ ان نشانیوں کا ان کے ساتھ ہونا ہی اس بات کی کھلی سند تھا کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبر ہیں۔ یا پھر نشانیوں سے مراد عصا کے سوا دوسرے وہ تمام معجزات ہیں جو مصر میں دکھائے گئے تھے، اور کھلی سند سے مراد عصا ہے، کیونکہ اس کے ذریعہ سے جو معجزے رونما ہوئے ان کے بعد تو یہ بات بالکل ہی واضح ہوگئی تھی کہ یہ دونوں بھائی مامور من اللہ ہیں۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الزخرف حواشی 43۔ 44)۔
Ayah 23:46

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ Open ayah 23:46 in the Quran reader

مگر انہوں نے تکبّر کیا اور بڑی دوں کی لی۔ 40

سورة الْمُؤْمِنُوْن 40 اصل میں وَکَانُوْا قَوْماً عٓالِیْنَ کے الفاظ ہیں، جن کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ بڑے گھمنڈی، ظالم اور دراز دست تھے۔ دوسرے یہ کہ وہ بڑے اونچے بنے اور انہوں نے بڑی دوں کی لی۔
Ayah 23:47

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ Open ayah 23:47 in the Quran reader

کہنے لگے”کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں؟ 401 اور آدمی بھی وہ جن کی قوم ہماری بندی ہے۔“ 41

سورة الْمُؤْمِنُوْن 40 اصل میں وَکَانُوْا قَوْماً عٓالِیْنَ کے الفاظ ہیں، جن کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ بڑے گھمنڈی، ظالم اور دراز دست تھے۔ دوسرے یہ کہ وہ بڑے اونچے بنے اور انہوں نے بڑی دوں کی لی۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 40 (الف) تشریح کے لئے ملاحظہ ہو حاشیہ 26۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 41 اصل الفاظ ہیں " جن کی قوم ہماری عابد ہے "۔ عربی زبان میں کسی کا " مطیع فرمان " ہونا اور " اس کا عبادت گزار " ہونا، دونوں تقریباً ہم معنی الفاظ ہیں، جو کسی کی بندگی و اطاعت کرتا ہے وہ گویا اس کی عبادت کرتا ہے۔ اس سے بڑی اہم روشنی پڑتی ہے لفظ " عبادت " کے معنی پر اور انبیاء (علیہم السلام) کی اس دعوت پر کہ صرف اللہ کی عبادت کرنے اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت چھوڑ دینے کی تلقین جو وہ کرتے تھے اس کا پورا مفہوم کیا تھا " عبادت " ان کے نزدیک صرف " پوجا " نہ تھی۔ ان کی دعوت یہ نہیں تھی کہ صرف پوجا اللہ کی کرو، باقی بندگی و اطاعت جس کی چاہو کرتے رہو۔ بلکہ وہ انسان کو اللہ کا پرستار بھی بنانا چاہتے تھے اور مطیع فرمان بھی، اور ان دونوں معنوں کے لحاظ سے دوسروں کی عبادت کو غلط ٹھہراتے تھے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الکہف حاشیہ 50)
Ayahs 23:48–49

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ Open ayah 23:48 in the Quran reader

پس اُنہوں نے دونوں کو جھُٹلایا اور ہلاک ہونے والوں میں جا ملے۔ 42

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 23:49 in the Quran reader

اور موسٰیؑ کو ہم نے کتاب عطا فرمائی تاکہ لوگ اس سے رہنمائی حاصل کریں

سورة الْمُؤْمِنُوْن 42 قصۂ موسیٰ و فرعون کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو البقرہ، آیات 49۔ 50۔ الاعراف 103 تا 136۔ یونس 75 تا 92۔ ہود 96 تا 99۔ بنی اسرائیل 101 تا 104۔ ظٰہٰ 9۔ 80۔
Ayah 23:50

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ Open ayah 23:50 in the Quran reader

اور ابنِ مریمؑ اور اس کی ماں کو ہم نے ایک نشان بنایا 43 اور ان کو ایک سطحِ مُرتَفَع پر رکھا جو اطمینان کی جگہ تھی اور چشمے اس میں جاری تھے۔ 44

سورة الْمُؤْمِنُوْن 43 یہ نہیں فرمایا کہ ایک نشانی ابن مریم تھے اور ایک نشانی خود مریم۔ اور یہ بھی نہیں فرمایا کہ ابن مریم اور اس کی ماں کو دو نشانیاں بنایا۔ بلکہ فرمایا یہ ہے کہ وہ دونوں مل کر ایک نشانی بنائے گئے۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے کہ باپ کے بغیر ابن مریم کا پیدا ہونا، اور مرد کی صحبت کے بغیر مریم کا حاملہ ہونا ہی وہ چیز ہے جو ان دونوں کو ایک نشانی بناتی ہے۔ جو لوگ حضرت عیسیٰ کی پیدائش بےپدر کے منکر ہیں وہ ماں اور بیٹے کے ایک آیت ہونے کی کیا توجیہ کریں گے ؟ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، آل عمران، حواشی 44۔ 53۔ النساء حواشی 190۔ 212۔ 213۔ جلد سوم، مریم، حواشی 15 تا 22 الانبیاء، حواشی 89۔ 90)۔ یہاں دو باتیں اور بھی قابل توجہ ہیں۔ اول یہ کہ حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ ماجدہ کا معاملہ جاہل انسانوں کی ایک دوسری کمزوری کی نشان دہی کرتا ہے۔ اوپر جن انبیاء کا ذکر تھا ان پر تو ایمان لانے سے یہ کہہ کر انکار کردیا گیا کہ تم بشر ہو، بھلا بشر بھی کہیں نبی ہوسکتا ہے۔ مگر حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کی والدہ کے جب لوگ معتقد ہوئے تو پھر ایسے ہوئے کہ انہیں بشریت کے مقام سے اٹھا کر خدائی کے مرتبے تک پہنچا دیا۔ دوم یہ کہ جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ کی معجزانہ پیدائش، اور ان کی گہوارے والی تقریر سے اس کے معجزہ ہونے کا کھلا کھلا ثبوت دیکھ لینے کے باوجود ایمان لانے سے انکار کیا اور حضرت مریم پر تہمت لگائی انکو پھر سزا بھی ایسی دی گئی کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دنیا کے سامنے ایک نمونہ عبرت بن گئی۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 44 مختلف لوگوں نے اس سے مختلف مقامات مراد لیے ہیں۔ کوئی دمشق کہتا ہے، کوئی الرَّملہ، کوئی بیت المقدس، اور کوئی مصر مسیحی روایات کے مطابق حضرت مریم حضرت عیسیٰ کی پیدائش کے بعد ان کی حفاظت کے لیے دو مرتبہ وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئیں۔ پہلے ہیرو دیس بادشاہ کے عہد میں وہ انہیں مصر لے گئیں اور اس کی موت تک وہیں رہیں۔ پھر از خلاؤس کے عہد حکومت میں ان کو گلیل کے شہر ناصرہ میں پناہ لینی پڑی (متی 2۔ 13 تا 23)۔ اب یہ بات یقین کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی کہ قرآن کا اشارہ کس مقام کی طرف ہے لغت میں ربوہ اس بلند زمین کو کہتے ہیں جو ہموار ہو اور اپنے گرد و پیش کے علاقے سے اونچی ہو۔ ذات قرار سے مراد یہ ہے کہ اس جگہ ضرورت کی سب چیزیں پائی جاتی ہوں اور رہنے والا وہاں بفراغت زندگی بسر کرسکتا ہو۔ اور معین سے مراد ہے بہتا ہوا پانی یا چشمہ جاری۔
Ayah 23:51

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ Open ayah 23:51 in the Quran reader

اے پیغمبرو، 45 کھاوٴ پاک چیزیں اور عمل کرو صالح، 46 تم جو کچھ بھی کرتے ہو، میں اس کو خُوب جانتا ہوں

سورة الْمُؤْمِنُوْن 45 پچھلے دو رکوعوں میں انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد اب یٰٓاَیُّھَا الُّرُسُل کہہ کر تمام پیغمبروں کو خطاب کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کہیں یہ سارے پیغمبر یکجا موجود تھے اور ان سب کو خطاب کر کے یہ مضمون ارشاد فرمایا گیا۔ بلکہ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ہر زمانے میں مختلف قوموں اور مختلف ملکوں میں آنے والے انبیاء کو ایک امت، ایک جماعت ایک گروہ قرار دیا گیا ہے، اس لیے طرز بیان یہاں ایسا اختیار کیا گیا کہ نگاہوں کے سامنے ان سب کے ایک گروہ ہونے کا نقشہ کھنچ جائے۔ گویا وہ سارے کے سارے ایک جگہ جمع ہیں اور سب کو ایک ہی ہدایت دی جا رہی ہے۔ مگر اس طرز کلام کی لطافت اس دور کے بعض کند ذہن لوگوں کی سمجھ میں نہ آسکی اور وہ اس سے یہ نتیجہ نکال بیٹھے کہ یہ خطاب محمد ﷺ کے بعد آنے والے انبیاء کی طرف ہے اور اس سے حضور ﷺ کے بعد بھی سلسلہ نبوت کے جاری ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ تعجب ہے جو لوگ زبان و ادب کے ذوق لطیف سے اس قدر کورے ہیں وہ قرآن کی تفسیر کرنے کی جرأت کرتے ہیں۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 46 پاک چیزوں سے مراد ایسی چیزیں ہیں جو بجائے خود بھی پاکیزہ ہوں، اور پھر حلال طریقے سے بھی حاصل ہوں۔ طیبات کھانے کی ہدایت کر کے رہبانیت اور دنیا پرستی کے درمیان اسلام کی راہ اعتدال کی طرف اشارہ کردیا گیا۔ مسلمان نہ تو راہب کی طرح اپنے آپ کو پاکیزہ رزق سے محروم کرتا ہے، اور نہ دنیا پرست کی طرح حرام و حلال کی تمیز کے بغیر ہر چیز پر منہ مار دیتا ہے۔ عمل صالح سے پہلے طیبات کھانے کی ہدایت سے صاف اشارہ اس طرف نکلتا ہے کہ حرام خوری کے ساتھ عمل صالح کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ صلاح کے لیے شرط اول یہ ہے کہ آدمی رزق حلال کھائے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ " لوگو، اللہ خود پاک ہے اس لیے پاک ہی چیز کو پسند کرتا ہے " پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی اور اس کے بعد فرمایا الرجل یطیل السفر اشعث اغبر و مطعمہ حرام و مشربہ حرام و ملبسہ حرام و غذی بالحرام یمد یدیہ الی السماء یا رب یا رب فانی یستجاب لذالک۔ " ایک شخص لمبا سفر کر کے غبار آلود و پراگندہ حال آتا ہے اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعائیں مانگتا ہے، یا رب یا رب، مگر حال یہ ہوتا ہے کہ روٹی اس کی حرام، کپڑے اس کے حرام، اور جسم اس کا حرام کی روٹیوں سے پلا ہوا۔ اب کس طرح ایسے شخص کی دعا قبول ہو "۔ (مسلم، ترمذی، احمد من حدیث ابی ہریرہ ؓ)۔
Ayah 23:52

وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 23:52 in the Quran reader

اور یہ تمہاری اُمّت ایک ہی اُمّت ہے اور میں تمہارا ربّ ہوں ، پس مجھی سے ڈرو۔ 47

سورة الْمُؤْمِنُوْن 47 " تمہاری امت ایک ہی امت ہے " یعنی تم ایک ہی گروہ کے لوگ ہو۔ " امت " کا لفظ اس مجموعہ افراد پر بولا جاتا ہے جو کسی اصل مشترک پر جمع ہو۔ انبیاء چونکہ اختلاف زمانہ و مقام کے باوجود ایک عقیدے، ایک دین اور ایک دعوت پر جمع تھے، اس لیے فرمایا گیا کہ ان سب کی ایک ہی امت ہے۔ بعد کا فقرہ خود بتارہا ہے کہ وہ اصل مشترک کیا تھی جس پر سب انبیاء جمع تھے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو البقرہ، آیات 130 تا 133۔ 213۔ آل عمران، 19۔ 20۔ 23۔ 34۔ 64۔ 79 تا 85۔ النساء، 1550 تا 152۔ الاعراف 59۔ 65۔ 73۔ 85۔ یوسف 37 تا 40۔ مریم، 49 تا 59۔ الانبیاء 71 تا 93۔
Ayah 23:53

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 23:53 in the Quran reader

مگر بعد میں لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے اُسی میں وہ مگن ہے 48

سورة الْمُؤْمِنُوْن 48 یہ محض بیان واقعہ ہی نہیں ہے بلکہ اس استدلال کی ایک کڑی بھی ہے جو آغاز سورة سے چلا آ رہا ہے۔ دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ جب نوح ؑ سے لے کر حضرت عیسیٰ تک تمام انبیاء یہ توحید اور عقیدہ آخرت کی تعلیم دیتے رہے ہیں، تو لا محالہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نوع انسانی کا اصل دین یہی اسلام ہے، اور دوسرے تمام مذاہب جو آج پائے جاتے ہیں وہ اسی کی بگڑی ہوئی صورتیں ہیں جو اس کی بعض صداقتوں کو مسخ کر کے اور اس کے اندر بعض من گھڑت باتوں کا اضافہ کر کے بنالی گئی ہیں۔ اب اگر غلطی پر ہیں تو وہ لوگ ہیں جو ان مذاہب کے گرویدہ ہو رہے ہیں، نہ کہ وہ جو ان کو چھوڑ کر اصل دین کی طرف بلا رہا ہے۔
Ayahs 23:54–55

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:54 in the Quran reader

اچھا، تو چھوڑو انھیں، ڈوبے رہیں اپنی غفلت میں ایک وقتِ خاص تک۔49

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ Open ayah 23:55 in the Quran reader

کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو انہیں مال و اولاد سے مدد دیے جا رہے ہیں

سورة الْمُؤْمِنُوْن 49 پہلے فقرے اور دوسرے فقرے کے درمیان ایک خلا ہے جسے بھرنے کے بجائے سامع کے تخیل پر چھوڑ دیا گیا ہے، کیونکہ اس کو تقریر کا پس منظر خود بھر رہا ہے۔ پس منظر یہ ہے کہ خدا کا ایک بندہ پانچ چھ سال سے لوگوں کو اصل دین کی طرف بلا رہا ہے، دلائل سے بات سمجھا رہا ہے، تاریخ سے نظیر پیش کر رہا ہے، اس کی دعوت کے اثرات و نتائج عملاً نگاہوں کے سامنے آ رہے ہیں، اور پھر اس کا ذاتی کردار بھی اس امر کی ضمانت دے رہا ہے کہ وہ ایک قابل اعتماد آدمی ہے۔ مگر اس کے باوجود لوگ صرف یہی نہیں کہ اس باطل میں مگن ہیں جو ان کو باپ دادا سے ورثے میں ملا تھا، اور صرف اس حد تک بھی نہیں کہ وہ اس حق کو مان کر نہیں دیتے جو روشن دلائل کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے، بلکہ وہ ہاتھ دھو کر اس داعی حق کے پیچھے پڑجاتے ہیں اور ہٹ دھرمی، طعن، ملامت، ظلم، جھوٹ، غرض کوئی بری سے بری تدبیر بھی اس کی دعوت کو نیچا دکھانے کے لیے استعمال کرنے سے نہیں چوکتے۔ اس صورت حال میں اصل دین حق کی وحدت، اور بعد کے ایجاد کردہ مذاہب کی حقیقت بیان کرنے کے بعد یہ کہنا کہ " چھوڑو انہیں، ڈوبے رہیں اپنی غفلت میں، " خود بخود اس معنی پر دلالت کرتا ہے کہ " اچھا، اگر یہ لوگ نہیں مانتے اور اپنی گمراہیوں ہی میں مگن رہنا چاہتے ہیں تو چھوڑو انہیں۔ " اس " چھوڑو " کو بالکل لفظی معنوں میں لے کر یہ سمجھ بیٹھنا کہ " اب تبلیغ ہی نہ کر "، کلام کے تیوروں سے نا آشنائی کا ثبوت ہوگا۔ ایسے مواقع پر یہ بات تبلیغ و تلقین سے روکنے کے لیے نھیں بلکہ غافلوں کو جھنجھوڑنے کے لیے کہی جایا کرتی ہے۔ پھر " ایک وقت خاص تک " کے الفاظ میں ایک بڑی گہری تنبیہ ہے جو یہ بتارہی ہے کہ غفلت کا یہ استغراق زیادہ دیر تک نہیں رہ سکے گا، ایک وقت آنے والا ہے جب یہ چونک پڑیں گے اور انہیں پتہ چل جائے گا کہ بلانے والا جس چیز کی طرف بلا رہا تھا وہ کیا تھی اور یہ جس چیز میں مگن تھے وہ کیسی تھی۔
Ayah 23:56

نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 23:56 in the Quran reader

تو گویا اِنہیں بھلائیاں دینے میں سرگرم ہیں؟ نہیں ، اصل معاملے کا اِنہیں شعُور نہیں ہے۔ 50

سورة الْمُؤْمِنُوْن 50 اس مقام پر آغاز سورة کی آیتوں پر پھر ایک نگاہ ڈال لیجیے۔ اسی مضمون کو اب پھر ایک دوسرے انداز سے دہرایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ " فلاح " اور " خیر " اور " خوش حالی " کا ایک محدود مادی تصور رکھتے تھے۔ ان کے نزدیک جس نے اچھا کھانا، اچھا لباس، اچھا گھر پالیا، جو مال و اولاد سے نواز دیا گیا، اور جسے معاشرے میں نام و نمود اور رسوخ و اثر حاصل ہوگیا، اس نے بس فلاح پالی۔ اور جو اس سے محروم رہ گیا وہ ناکام و نامراد رہا۔ اس بنیادی غلط فہمی سے وہ پھر ایک اور اس سے بھی زیادہ بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے، اور وہ یہ تھی کہ جسے اس معنی میں فلاح نصیب ہے وہ ضرور راہ راست پر ہے، بلکہ خدا کا محبوب ہے، ورنہ کیسے ممکن تھا کہ اسے یہ کامیابیاں حاصل ہوتیں۔ اور اس کے برعکس جو اس فلاح سے ہم کو علانیہ محروم نظر آ رہا ہے وہ یقیناً عقیدے اور عمل میں گمراہ اور خدا (یا خداؤں) کے غضب میں گرفتار ہے۔ اس غلط فہمی کو، جو درحقیقت مادہ پرستانہ نقطہ نظر رکھنے والوں کی ضلالت کے اہم ترین اسباب میں سے ہے، قرآن میں جگہ جگہ بیان کیا گیا ہے، مختلف طریقوں سے اس کی تردید کی گئی ہے، اور طرح طرح سے یہ بتایا گیا ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو البقرہ، آیت 126، 212۔ الاعراف 32۔ التوبہ 55۔ 69۔ 85۔ یونس 17۔ ہود 3۔ 27 تا 31۔ 38۔ 39۔ الرعد 26۔ الکہف 28۔ 32 تا 43۔ 103 تا 105۔ مریم 77 تا 80۔ طٰہ، 131، 132۔ الانبیاء 44۔ مع حواشی)۔ اس سلسلے میں چند اہم حقیقتیں ایسی ہیں کہ جب تک آدمی ان کو اچھی طرح نہ سمجھ لے اس کا ذہن کبھی صاف نہیں ہو سکتا۔ اول یہ کہ " انسان کی فلاح " اس سے وسیع تر اور بلند تر چیز ہے کہ اسے کسی فرد یا گروہ یا قوم کی محض مادی خوش حالی اور وقتی کامیابی کے معنی میں لے لیا جائے۔ دوم یہ کہ فلاح کو اس محدود معنی میں لینے کے بعد اگر اسی کو حق و باطل اور خیر و شر کا معیار قرار دے لیا جائے تو یہ ایک ایسی بنیادی گمراہی بن جاتی ہے جس سے نکلے بغیر ایک انسان کبھی عقیدہ و فکر اور اخلاق و سیرت میں راہ راست پا ہی نہیں سکتا۔ سوم یہ کہ فی الاصل دار الجزا نہیں بلکہ دار الامتحان ہے۔ یہاں اخلاقی جزا و سزا اگر ہے بھی تو بہت محدود پیمانے پر اور ناقص صورت میں ہے، اور امتحان کا پہلو خود اس میں بھی موجود ہے۔ اس حقیقت کو نظر انداز کر کے یہ سمجھ لینا کہ یہاں جس کو جو نعمت بھی مل رہی ہے وہ " انعام " ہے اور اس کا ملنا انعام پانے والے کے بر حق اور صالح اور محبوب رب ہونے کا ثبوت ہے، اور جس پر جو آفت بھی آ رہی ہے وہ " سزا " ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ سزا پانے والا باطل پر ہے، غیر صالح ہے، اور مغضوب بارگاہ خداوندی ہے، یہ سب کچھ درحقیقت ایک بہت بڑی غلط فہمی بلکہ حماقت ہے جس سے بڑھ کر شاید ہی کوئی دوسری چیز ہمارے تصور حق اور معیار اخلاق کو بگاڑ دینے والی ہو۔ ایک طالب حقیقت کو اول قدم پر یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ دنیا دراصل ایک امتحان گاہ ہے اور یہاں بیشمار مختلف صورتوں سے افراد کا، قوموں کا اور تمام انسانوں کا امتحان ہو رہا ہے۔ اس امتحان کے دوران میں جو مختلف حالات لوگوں کو پیش آتے ہیں وہ جزا و سزا کے آخری فیصلے نہیں ہیں کہ انہی کو نظریات، اخلاق اور اعمال کی صحت اور غلطی کا معیار بنا لیا جائے، اور ان ہی کو خدا کے ہاں محبوب یا مغضوب ہونے کی علامات قرار دے لیا جائے۔ چہارم یہ کہ فلاح کا دامن یقیناً حق اور نیکی کے ساتھ بندھا ہوا ہے، اور بلا شک و ریب یہ ایک حقیقت ہے کہ باطل اور بدی کا انجام خسران ہے۔ لیکن اس دنیا میں چونکہ باطل اور بدی کے ساتھ عارضی و نمائشی فلاح، اور اسی طرح حق اور نیکی کے ساتھ ظاہری اور وقتی خسران ممکن ہے، اور اکثر و بیشتر یہ چیز دھوکہ دینے والی ثابت ہوتی ہے، اس لیے حق و باطل اور خیر و شر کی جانچ کے لیے ایک مستقل کسوٹی کی ضرورت ہے جس میں دھوکے کا خطرہ نہ ہو۔ انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیمات اور آسمانی کتابیں ہم کو وہ کسوٹی بہم پہنچاتی ہیں، انسانی عقل عام (Commonsense) اس کی صحت کی تصدیق کرتی ہے اور معروف و منکر کے متعلق نوع انسانی کے مشرک وجدانی تصورات اس پر گواہی دیتے ہیں۔ پنجم یہ کہ جب کوئی شخص یا قوم ایک طرف تو حق سے منحرف اور فسق و فجور اور ظلم و طغیان میں مبتلا ہو، اور دوسری طرف اس پر نعمتوں کی بارش ہو رہی ہو، تو عقل اور قرآن دونوں کی رو سے یہ اس بات کی کھلی علامت ہے کہ خد نے اس کو شدید تر آزمائش میں ڈال دیا ہے اور اس پر خدا کی رحمت نہیں بلکہ اس کا غضب مسلط ہوگیا ہے۔ اسے غلطی پر چوٹ لگتی تو اس کے معنی یہ ہوتے کہ خدا ابھی اس پر مہربان ہے، اسے تنبیہ کر رہا ہے اور سنبھلنے کا موقع دے رہا ہے۔ لیکن غلطی پر " انعام " یہ معنی رکھتا ہے کہ اسے سخت سزا دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اور اس کی کشتی اس لیے تیر رہی ہے کہ خوب بھر کر ڈوبے۔ اس کے بر عکس جہاں ایک طرف سچی خدا پرستی ہو، اخلاق کی پاکیزگی ہو، معاملات میں راستبازی ہو، خلق خدا کے ساتھ حسن سلوک اور رحمت و شفقت ہو، اور دوسری طرف مصائب اور شدائد اس پر موسلادھار برس رہے ہوں اور چوٹوں پر چوٹیں اسے لگ رہی ہوں، تو یہ خدا کے غضب کی نہیں اس کی رحمت ہی کی علامت ہے۔ سنار اس سونے کو تپا رہا ہے تاکہ خوب نکھر جائے اور دنیا پر اس کا کامل المعیار ہونا ثابت ہوجائے۔ دنیا کے بازار میں اس کی قیمت نہ بھی اٹھے تو پروا نہیں۔ سنار خود اس کی قیمت دے گا، بلکہ اپنے فضل سے مزید عطا کرے گا۔ اس کے مصائب اگر غضب کا پہلو رکھتے ہیں تو خود اس کے لیے نہیں بلکہ اس کے دشمنوں ہی کے لیے رکھتے ہیں، یا پھر اس سوسائٹی کے لیے جس میں صالحین ستائے جائیں اور فساق نوازے جائیں۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 50 (الف) اردو زبان کی رعایت سے ہم نے آیت 61 کا ترجمہ پہلے کردیا ہے اور آیت 57 تا 60 کا ترجمہ بعد میں ہے۔ کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ آیت 61 کا ترجمہ چھوٹ گیا ہے۔
Ayah 23:57

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ Open ayah 23:57 in the Quran reader

جو اپنے ربّ کے خوف سے ڈرے رہتے ہیں، 51

سورة الْمُؤْمِنُوْن 51 یعنی وہ دنیا میں خدا سے بےخوف اور بےفکر ہو کر نہیں رہتے کہ جو دل چاہے کرتے رہیں اور کبھی نہ سوچیں کہ اوپر کوئی خدا بھی ہے جو ظلم اور زیادتی پر پکڑنے والا ہے، بلکہ ان کے دل میں ہر وقت اس کا خوف رہتا ہے اور وہی انہیں برائیوں سے روکتا رہتا ہے۔
Ayah 23:58

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:58 in the Quran reader

جو اپنے ربّ کی آیات پر ایمان لاتے ہیں، 52

سورة الْمُؤْمِنُوْن 52 آیات سے مراد دونوں طرح کی آیات ہیں، وہ بھی جو خدا کی طرف سے اس کے انبیاء پیش کرتے ہیں، اور وہ بھی جو انسان کے اپنے نفس میں اور ہر طرف آفاق میں پھیلی ہوئی ہیں۔ آیات کتاب پر ایمان لانا ان کی تصدیق کرنا ہے، اور آیات آفاق و اَنْفُس پر ایمان لانا ان حقیقتوں پر ایمان لانا ہے جن پر وہ دلالت کر رہی ہیں۔
Ayah 23:59

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 23:59 in the Quran reader

جو اپنے ربّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے، 53

سورة الْمُؤْمِنُوْن 53 اگرچہ آیات پر ایمان سے خود ہی یہ لازم آتا ہے کہ انسان توحید کا قائل و معتقد ہو، لیکن اس کے باوجود شرک نہ کرنے کا ذکر الگ اس لیے کیا گیا ہے کہ بسا اوقات انسان آیات کو مان کر بھی کسی نہ کسی طور کے شرک میں مبتلا رہتا ہے۔ مثلاً ریا، کہ وہ بھی ایک طرح کا شرک ہے۔ یا انبیاء اور اولیاء کی تعلیم میں ایسا مبالغہ جو شرک تک پہنچا دے۔ یا غیر اللہ سے دعا اور استعانت۔ یا برضا ورغبت اربابٌ مِن دون اللہ کی بندگی و اطاعت اور غیر الہٰی قوانین کا اتباع۔ پس ایمان بآیات اللہ کے بعد شرک کی نفی کا الگ ذکر کرنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ اللہ کے لیے اپنی بندگی، اطاعت، اور عبودیت کو بالکل خالص کرلیتے ہیں، اس کے ساتھ کسی اور کی بندگی کا شائبہ تک لگا نہیں رکھتے۔
Ayah 23:60

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ Open ayah 23:60 in the Quran reader

اور جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل اُن کے اِس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے ربّ کی طرف پلٹنا ہے۔ 54

سورة الْمُؤْمِنُوْن 54 عربی زبان میں " دینے " (ایتاء) کا لفظ صرف مال یا کوئی مادی چیز دینے ہی کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ معنوی چیزیں دینے کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے، مثلاً کسی شخص کی اطاعت قبول کرلینے کے لیے کہتے ہیں کہ اٰتیتہ من نفسی القبول کسی شخص کی اطاعت سے انکار کردینے کے لیے کہتے ہیں اٰتیتہ من نفسی الابائۃ۔ پس اس دینے کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ وہ راہ خدا میں مال دیتے ہیں، بلکہ اس کا مطلب اللہ کے حضور طاعت و بندگی پیش کرنے پر بھی حاوی ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے آیت کا پورا مفہوم یہ ہوا کہ وہ اللہ کی فرمانبرداری میں جو کچھ بھی نیکیاں کرتے ہیں، جو کچھ بھی خدمات انجام دیتے ہیں، جو کچھ بھی قربانیاں کرتے ہیں، ان پر وہ پھولتے نہیں ہیں، غرور تقویٰ اور پندار خدا رسیدگی میں مبتلا نہیں ہوتے، بلکہ اپنے مقدور بھر سب کچھ کر کے بھی ڈرتے رہتے ہیں کہ خدا جانے یہ قبول ہو یا نہ ہو، ہمارے گناہوں کے مقابلے میں وزنی ثابت ہو یا نہ ہو، ہمارے رب کے ہاں ہماری مغفرت کے لیے کافی ہو یا نہ ہو، یہی مطلب ہے جس پر وہ حدیث روشنی ڈالتی ہے جو احمد، ترمذی، ابن ماجہ، حاکم اور ابن جریر نے نقل کی ہے کہ حضرت عائشہ نے نبی ﷺ سے دریافت کیا " یا رسول اللہ ! کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص چوری اور زنا اور شراب نوشی کرتے ہوئے اللہ سے ڈرے " ؟ اس سوال سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ اسے یَأتُوْنَ مَا اَتَوْا کے معنی میں لے رہی تھیں، یعنی " کرتے ہیں جو کچھ بھی کرتے ہیں "۔ جواب میں نبی ﷺ نے فرمایا لا یا بنت الصدیق و لٰکنہ الذی یصلی و یصوم و یتصدق وھو یخاف اللہ عزو جلّ ، " نہیں، اے صدیق کی بیٹی اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر اللہ عزوجل سے ڈرتا رہتا ہے "۔ اس جواب سے پتہ چلا کہ آیت کی صحیح قرأت یَأتُوْنَ نہیں بلکہ یُؤْتُوْنَ ہے، اور یہ یُؤْتُوْنَ صرف مال دینے کے محدود معنی میں نہیں ہے بلکہ طاعت بچانے کے وسیع معنی میں ہے۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ ایک مومن کس قلبی کیفیت کے ساتھ اللہ کی بندگی کرتا ہے۔ اس کی مکمل تصویر حضرت عمر ؓ کی وہ حالت ہے کہ عمر بھر کی بےنظیر خدمات کے بعد جب دنیا سے رخصت ہونے لگتے ہیں تو خدا کے محاسبے سے ڈرتے ہوئے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر آخرت میں برابر سرابر بھی چھوٹ جاؤں تو غنیمت ہے۔ حضرت حسن بصری ؒ نے خوب کہا ہے کہ مومن طاعت کرتا ہے پھر بھی ڈرتا رہتا ہے اور منافق معصیت کرتا ہے پھر بھی بےخوف رہتا ہے۔
Ayah 23:61

اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ Open ayah 23:61 in the Quran reader

بھلائیوں کی طرف دوڑنے والے اور سبقت کر کے انہیں پالینے والے تو در حقیقت وہ لوگ ہیں

سورة الْمُؤْمِنُوْن 54 (الف) واضح رہے کہ آیت 61 کا ترجمہ آیات 57 سے پہلے کیا جاچکا ہے۔ یہاں سے آیت 62 کا ترجمہ شروع ہوتا ہے۔
Ayah 23:62

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 23:62 in the Quran reader

ہم کسی شخص کو اس کی مقدرت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے، 55 اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے ، جو (ہر ایک کا حال)ٹھیک ٹھیک بتا دینے والی ہے، 56 اور لوگوں پر ظلم بہرحال نہیں کیا جائے گا۔ 57

سورة الْمُؤْمِنُوْن 55 اس سیاق وسباق میں یہ فقرہ اپنے اندر بڑی گہری معنویت رکھتا ہے جسے اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ پچھلی آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ بھلائیاں لوٹنے والے اور سبقت کر کے انہیں پالینے والے دراصل کون لوگ ہیں اور ان کی صفات کیا ہیں۔ اس مضمون کے بعد فوراً ہی یہ فرمایا کہ ہم کسی کو اس کی مقدرت سے زیادہ کی تکلیف نہیں دیتے، یہ معنی رکھتا ہے کہ یہ سیرت، یہ اخلاق اور یہ کردار کوئی فوق البشری چیز نہیں ہے۔ تم ہی جیسے گوشت پوست کے انسان اس روش پر چل کر دکھا رہے ہیں۔ لہٰذا تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم سے کسی ایسی چیز کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو انسانی مقدرت سے باہر ہے۔ انسان کو تو مقدرت اس رویے کی بھی حاصل ہے جس پر تم چل رہے ہو، اور اس کی بھی حاصل ہے جس پر تمہاری اپنی قوم کے چند اہل ایمان چل رہے ہیں۔ اب فیصلہ جس چیز پر ہے وہ صرف یہ ہے کہ ان دونوں امکانی رویوں میں سے کون کس کا انتخاب کرتا ہے۔ اس انتخاب میں غلطی کر کے اگر آج تم اپنی ساری محنتیں اور کوششیں برائیاں سمیٹنے میں صرف کردیتے ہو اور بھلائیوں سے محروم رہ جاتے ہو، توکل اپنی اس حماقت کا خمیازہ بھگتنے سے تم کو یہ جھوٹی معذرت نہیں بچا سکے گی کہ بھلائیوں تک پہنچنے کا راستہ ہماری مقدرت سے باہر تھا۔ اس وقت یہ عذر پیش کرو گے تو تم سے پوچھا جائے گا کہ اگر یہ راستہ انسانی مقدرت سے باہر تھا تو تم ہی جیسے بہت سے انسان اس پر چلنے میں کیسے کامیاب ہوگئے۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 56 کتاب سے مراد ہے نامہ اعمال جو ہر ایک شخص کا الگ الگ مرتب ہو رہا ہے، جس میں اس کی ایک ایک بات، ایک ایک حرکت، حتیٰ کہ خیالات اور ارادوں تک کی ایک ایک حالت ثبت کی جا رہی ہے۔ اسی کے متعلق سورة کہف میں فرمایا گیا ہے کہ وَ وُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَیَقُولُوْنَ یٰوَیْلَتَناً مَالِ ھٰذا الْکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّلَا کَبِیْرِۃً اِلَّآ اَحْصٰھَا۔ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِراً وَلَا یَظُلِمُ رَبُّکَ اَحَداً۔ ، " اور نامہ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا، پھر تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اس کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہونگے کہ ہائے ہماری کم بختی، یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی یا بڑی حرکت ایسی نہیں رہ گئی جو اس میں درج نہ ہو۔ جو جو کچھ انہوں نے کہا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے، اور تمہارا رب کسی پر ظلم کرنے والا نہیں ہے "۔ (آیت 49)۔ بعض لوگوں نے یہاں کتاب سے مراد قرآن لے کر آیت کا مطلب خبط کردیا ہے۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 57 یعنی نہ تو کسی کے ذمے کوئی ایسا الزام تھوپا جائے گا جس کا وہ درحقیقت قصور وار نہ ہو، نہ کسی کی کوئی ایسی نیکی ماری جائے گی جسکے صلے کا وہ فی الواقع مستحق ہو، نہ کسی کو بیجا سزا دی جائے گی اور نہ کسی کو حق کے مطابق بجا انعام سے محروم رکھا جائے گا۔
Ayah 23:63

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 23:63 in the Quran reader

مگر یہ لوگ اس معاملے سے بے خبر ہیں۔ 58 اور ان کے اعمال بھی اُس طریقے سے (جس کا اُوپر ذکر کیا گیا ہے)مختلف ہیں۔ وہ اپنے یہ کرتُوت کیے چلے جائیں گے

سورة الْمُؤْمِنُوْن 58 یعنی اس امر سے کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں، کہہ رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں، یہ سب کچھ کہیں درج ہو رہا ہے، اور کبھی اس کا حساب ہونے والا ہے۔
Ayah 23:64

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ Open ayah 23:64 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم اُن کے عیّاشوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے 59 تو پھر وہ ڈکرانا شروع کر دیں گے 60

سورة الْمُؤْمِنُوْن 59 " عیاش " یہاں " مُتْرَفِیْن " کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ " مترفین " اصل میں ان لوگوں کو کہتے ہیں جو دنیوی مال و دولت کو پا کر مزے کر رہے ہوں اور خدا و خلق کے حقوق سے غافل ہوں۔ اس لفظ کا صحیح مفہوم لفظ عیاش سے ادا ہوجاتا ہے، بشرطیکہ اسے صرف شہوت رانی کے معنی میں نہ لیا جائے بلکہ عیش کوشی کے وسیع تر معنوں میں لیا جائے۔ عذاب سے مراد یہاں غالباً آخرت کا عذاب نہیں بلکہ دنیا کا عذاب ہے جو اسی زندگی میں ظالموں کو دیکھنا پڑے۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 60 اصل میں لفظ " جُؤَار " استعمال کیا گیا ہے جو بیل کی اس آواز کو کہتے ہیں جو سخت تکلیف کے وقت وہ نکالتا ہے۔ یہ لفظ یہاں محض فریاد و فغان کے معنی میں نہیں بلکہ اس شخص کی فریاد و فغان کے معنی میں بولا گیا ہے جو کسی رحم کا مستحق نہ ہو۔ اس میں تحقیر اور طنز کا انداز چھپا ہوا ہے۔ اس کے اندر یہ معنی پوشیدہ ہیں کہ " اچھا، اب جو اپنے کرتوتوں کا مزا چکھنے کی نوبت آئی تو بلبلانے لگے "
Ayah 23:65

لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 23:65 in the Quran reader

61 اب بند کرو اپنی فریاد و فغاں، ہماری طرف سے اب کوئی مدد تمہیں نہیں ملنی

سورة الْمُؤْمِنُوْن 61 یعنی اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔
Ayah 23:66

قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ Open ayah 23:66 in the Quran reader

میری آیات سُنائی جاتی تھیں تو تُم (رسُول کی آواز سُنتے ہی)اُلٹے پاوٴں بھاگ نکلتے تھے، 62

سورة الْمُؤْمِنُوْن 62 یعنی اس کی بات سننا تک تمہیں گوارا نہ تھا۔ یہ تک برداشت نہ کرتے تھے کہ اس کی آواز کان میں پڑے۔
Ayah 23:67

مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ Open ayah 23:67 in the Quran reader

اپنے گھمنڈ میں اُس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اُس پر باتیں چھانٹتے 63 اور بکواس کیا کرتے تھے

سورة الْمُؤْمِنُوْن 63 اصل میں لفظ " سٰمِراً " استعمال کیا گیا ہے۔ سمر کے معنی ہیں رات کے وقت بات چیت کرنا، گپیں ہانکنا، قصے کہانیاں کہنا۔ دیہاتی اور قصباتی زندگی میں یہ راتوں کی گپیں عموماً چوپالوں میں ہوا کرتی ہیں، اور یہی اہل مکہ کا بھی دستور تھا۔
Ayah 23:68

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

تو کیا اِن لوگوں نے کبھی اِس کلام پر غور نہیں کیا؟ 64 یا وہ کوئی ایسی بات لایا ہے جو کبھی ان کے اسلاف کے پاس نہ آئی تھی؟ 65

سورة الْمُؤْمِنُوْن 64 یعنی کیا ان کے اس رویے کی وجہ یہ ہے کہ اس کلام کو انہوں نے سمجھا ہی نہیں اس لیے وہ اسے نہیں مانتے ؟ ظاہر ہے کہ یہ وجہ نہیں ہے۔ قرآن کوئی چیستان نہیں ہے، کسی ناقابل فہم زبان میں نہیں ہے۔ کسی ایسے مضمون اور موضوع کلام پر مشتمل نہیں ہے جو آدمی کی سمجھ سے بالا تر ہو۔ وہ اس کی ایک ایک بات اچھی طرح سمجھتے ہیں اور مخالفت اس لیے کرتے ہیں کہ جو کچھ وہ پیش کر رہا ہے اسے نہیں ماننا چاہتے، نہ اس لیے کہ انہوں نے سمجھنے کی کوشش کی اور سمجھ میں نہ آیا۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 65 یعنی کیا ان کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک نرالی بات پیش کر رہا ہے جس سے انسانی کان کبھی آشنا ہی نہ ہوئے تھے ؟ ظاہر ہے کہ یہ وجہ بھی نہیں ہے۔ خدا کی طرف سے انبیاء کا آنا، کتابیں لے کر آنا، توحید کی دعوت دینا، آخرت کی باز پرس سے ڈرانا، اور اخلاق کی معروف بھلائیاں پیش کرنا، ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو تاریخ میں آج پہلی مرتبہ رونما ہوئی ہو، اور اس سے پہلے کبھی اس کا ذکر نہ سنا گیا ہو۔ ان کے گرد و پیش عراق، شام اور مصر میں انبیاء پر انبیاء آئے ہیں جنہوں نے یہی باتیں پیش کی ہیں اور یہ لوگ اس سے ناواقف نہیں ہیں۔ خود ان کی اپنی سر زمین میں ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) آئے، ہود اور صالح اور شعیب (علیہم السلام) آئے، ان کے نام آج تک ان کی زبانوں پر ہیں، ان کو یہ خود فرستادہ الٰہی مانتے ہیں، اور ان کو یہ بھی معلوم ہے کہ وہ مشرک نہ تھے بلکہ خدائے واحد کی بندگی سکھاتے تھے۔ اس لیے درحقیقت ان کے انکار کی یہ وجہ بھی نہیں ہے کہ ایک بالکل ہی انوکھی بات سن رہے ہیں جو کبھی نہ سنی گئی تھی۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو الفرقان، حاشیہ 84۔ السجدہ، حاشیہ 5۔ سباء، حاشیہ 35)۔
Ayah 23:69

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

یا یہ اپنے رسُول سے کبھی کے واقف نہ تھے کہ (اَن جانا آدمی ہو نے کے باعث)اُس سے بِدَکتے ہیں؟ 66

سورة الْمُؤْمِنُوْن 66 یعنی کیا ان کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ ایک بالکل اجنبی آدمی جس سے یہ کبھی کے واقف نہ تھے، اچانک ان کے درمیان آکھڑا ہوا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے مان لو۔ ظاہر ہے کہ یہ بات بھی نہیں ہے۔ جو شخص یہ دعوت پیش کر رہا ہے وہ ان کی اپنی برادری کا آدمی ہے۔ اس کی نسبی شرافت ان سے مخفی نہیں۔ اس کی ذاتی زندگی ان سے چھپی ہوئی نہیں۔ بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے کی سرحد تک وہ ان کے سامنے پہنچا ہے۔ اس کی صداقت سے۔ اس کی راستبازی سے، اس کی امانت سے، اس کی بےداغ سیرت سے یہ خوب واقف ہیں۔ اس کو خود امین کہتے رہے ہیں۔ اس کی دیانت پر ان کی ساری برادری بھروسہ کرتی رہی ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ وہ نہایت شریف اور نہایت نیک آدمی ہے۔ حلیم ہے، حق پسند ہے، امن پسند ہے، جھگڑوں سے کنارہ کش ہے، معاملے میں کھرا ہے، قول وقرار کا پکا ہے، ظلم نہ خود کرتا ہے نہ ظالموں کا ساتھ دیتا ہے، کسی حق دار کا حق ادا کرنے میں اس نے کوتاہی نہیں کی ہے۔ ہر مصیبت زدہ، بیکس، حاجت مند کے لیے اس کا دروازہ ایک رحیم و شفیق ہمدرد کا دروازہ ہے۔ پھر وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ نبوت کے دعوے سے ایک دن پہلے تک بھی کسی نے اس کی زبان سے کوئی ایسی بات نہ سنی تھی جس سے یہ شبہ کیا جاسکتا ہو کہ کسی دعوے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اور جس روز اس نے دعویٰ کیا اس کے بعد سے آج تک وہ ایک ہی بات کہتا رہا ہے۔ کوئی پلٹی اس نے نہیں کھائی ہے۔ کوئی رد و بدل اپنے دعوے اور دعوت میں اس نے نہیں کیا ہے۔ کوئی تدریجی ارتقاء اس کے دعوؤں میں نظر نہیں آتا کہ کوئی یہ گمان کرسکے کہ آہستہ آہستہ قدم جما جما کر دعو وں کی وادی میں پیش قدمی کی جا رہی ہے۔ پھر اس کی زندگی اس بات پر بھی گواہ ہے کہ جو کچھ اس نے دوسروں سے کہا ہے وہ پہلے خود کر کے دکھایا ہے۔ اس کے قول اور عمل میں تضاد نہیں ہے۔ اس کے پاس ہاتھی کے دانت نہیں ہیں کہ دکھانے کے اور ہوں، اور چبانے کے اور۔ وہ دینے کے باٹ الگ اور لینے کے الگ نہیں رکھتا۔ ایسے جانے بوجھے اور جانچے پرکھے آدمی کے متعلق وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ " صاحب دودھ کا جلا چھاچھ کو پھونک پھونک کر پیتا ہے، بڑے بڑے فریبی آتے ہیں اور دل موہ لینے والی باتیں کر کے اول اول اعتبار جما لیتے ہیں، بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ سب محض چکمہ ہی چکمہ تھا، یہ صاحب بھی کیا خبر اصل میں کیا ہوں اور بناوٹ کا ملمع اترنے کے بعد کیا کچھ ان کے اندر سے نکل آئے، اس لیے ان کو مانتے ہوئے ہمارا تو ماتھا ٹھنکتا ہے "۔ (اس سلسلے میں مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، الانعام، حاشیہ 21۔ یونس، حاشیہ 21۔ بنی اسرائیل، حاشیہ 105)۔
Ayah 23:70

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

یا یہ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ مجنُون ہے؟ 67 نہیں، بلکہ وہ حق لایا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہے

سورة الْمُؤْمِنُوْن 67 یعنی کیا ان کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ واقعی وہ محمد ﷺ کو مجنون سمجھتے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ یہ بھی اصل وجہ نہیں ہے، کیونکہ زبان سے چاہے وہ کچھ ہی کہتے رہیں، دلوں میں تو ان کے دانائی وزیر کی کے قائل ہیں۔ علاوہ بریں ایک پاگل اور ایک ہوش مند آدمی کا فرق کوئی ایسا چھپا ہوا تو نہیں ہوتا کہ دونوں میں تمیز کرنا مشکل ہو۔ آخر ایک ہٹ دھرم، اور بےحیا آدمی کے سوا کون اس کلام کو سن کر یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ کسی دیوانے کا کلام ہے، اور اس شخص کی زندگی کو دیکھ کر یہ رائے ظاہر کرسکتا ہے کہ یہ کسی مخبوط الحواس آدمی کی زندگی ہے ؟ بڑا ہی عجیب ہے وہ جنون (یا مستشرقین مغرب کی بکواس کے مطابق مرگی کا وہ دورہ) جس میں آدمی کی زبان سے قرآن جیسا کلام نکلے اور جس میں آدمی ایک تحریک کی ایسی کامیاب راہ نمائی کرے کہ اپنے ہی ملک کی نہیں، دنیا بھر کی قسمت بدل ڈالے۔
Ayah 23:71

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور حق اگر کہیں اِن کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہو جاتا 68۔۔۔۔ نہیں، بلکہ ہم ان کا اپنا ہی ذکر اُن کے پاس لائے ہیں اور وہ اپنے ذکر سے منہ موڑ رہے ہیں۔ 69

سورة الْمُؤْمِنُوْن 68 اس مختصر سے جملے میں ایک بڑی بات کہی گئی ہے جسے اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دنیا میں نادان لوگوں کی بالعموم یہ روش ہوتی ہے کہ جو شخص ان سے حق بات کہتا ہے وہ اس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔ گویا ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بات وہ کہی جائے جو ان کی خواہش کے مطابق ہو، نہ کہ وہ جو حقیقت اور واقعہ کے مطابق ہو۔ حالانکہ حقیقت بہرحال حقیقت ہی رہتی ہے خواہ وہ کسی کو پسند ہو یا ناپسند۔ تمام دنیا کی متفقہ خواہش بھی کسی واقعہ کو غیر واقعہ اور کسی امر حق کو غیر حق نہیں بنا سکتی، کجا کہ حقائق اور واقعات ایک ایک شخص کی خواہشات کے مطابق ڈھلا کریں اور ہر آن بیشمار متضاد خواہشوں سے ہم آہنگ ہوتے رہیں۔ حماقت مآب ذہن کبھی یہ سوچنے کے زحمت گوارا نہیں کرتے کہ حقیقت اور ان کی خواہش کے درمیان اگر اختلاف ہے تو یہ قصور حقیقت کا نہیں بلکہ ان کے اپنے نفس کا ہے۔ وہ اس کی مخالفت کر کے اس کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، اپنا ہی کچھ بگاڑ لیں گے۔ کائنات کا یہ عظیم الشان نظام جن اٹل حقائق اور قوانین پر مبنی ہے ان کے زیر سایہ رہتے ہوئے انسان کے لیے اس کے سوا کوئی ظاہر ہی نہیں ہے کہ اپنے خیالات، خواہشات اور طرز عمل کو حقیقت کے مطابق بنائے، اور اس غرض کے لیے ہر وقت دلیل، تجربے اور مشاہدے سے یہ جاننے کی کوشش کرتا رہے کہ حقیقت نفس الامری کیا ہے۔ صرف ایک بیوقوف ہی یہاں یہ طرز فکر و عمل اختیار کرسکتا ہے کہ جو کچھ وہ سمجھ بیٹھا ہے، یا جو کچھ اس کا جی چاہتا ہے کہ ہو، یا جو کچھ اپنے تعصبات کی بنا پر وہ فرض کرچکا ہے کہ ہے یا ہونا چاہیے، اس پر جم کر رہ جائے اور اس کے خلاف کسی کی مضبوط سے مضبوط اور معقول سے معقول دلیل کو بھی سننا گوارا نہ کرے۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 69 یہاں لفظ ذکر کے تین معنی ممکن ہیں اور تینوں ہی صحیح بیٹھتے ہیں 1 ذکر بمعنی بیان فطرت۔ اس لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم کسی دوسرے عالم کی باتیں نہیں کر رہے ہیں بلکہ ان کی اپنی ہی حقیقت اور فطرت اور اس کے مقتضیات ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں، تاکہ وہ اپنے اس بھولے ہوئے سبق کو یاد کریں، مگر وہ اسے قبول کرنے سے کترا رہے ہیں۔ ان کا یہ فرار کسی غیر متعلق چیز سے نہیں بلکہ اپنے ہی ذکر سے ہے۔ 2 ذکر بمعنیٰ نصیحت۔ اس کی رو سے آیت کی تفسیر یہ ہوگی کہ جو کچھ پیش کیا جا رہا ہے یہ ان ہی کے بھلے کے لیے ایک نصیحت ہے، اور ان کا یہ فرار کسی اور چیز سے نہیں اپنی ہی بھلائی کی بات سے ہے۔ 3 ذکر بمعنی شرف و اعزاز۔ اس معنی کو اختیار کیا جائے تو آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم وہ چیز ان کے پاس لائے ہیں جسے یہ قبول کریں تو ان ہی کو عزت اور سرفرازی نصیب ہوگی۔ اس سے ان کی یہ روگردانی کسی اور چیز سے نہیں، اپنی ہی ترقی اور اپنے ہی اٹھان کے ایک زرین موقع سے رو گردانی ہے۔
Ayahs 23:72–73

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

کیا تُو ان سے کچھ مانگ رہا ہے؟ تیرے لیے تیرے ربّ کا دیا ہی بہتر ہے اور وہ بہترین رازق ہے۔ 70

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

تُو تو ان کوسیدھے راستے کی طرف بلا رہا ہے

سورة الْمُؤْمِنُوْن 70 یہ نبی ﷺ کی نبوت کے حق میں ایک اور دلیل ہے۔ یعنی یہ کہ آپ اپنے اس کام میں بالکل بےلوث ہیں۔ کوئی شخص ایمانداری کے ساتھ یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ آپ یہ سارے پاپڑ اس لیے بیل رہے ہیں کہ کوئی نفسانی غرض آپ کے پیش نظر ہے۔ اچھی خاصی تجارت چمک رہی تھی، اب افلاس میں مبتلا ہوگئے۔ قوم میں عزت کے ساتھ دیکھے جاتے تھے۔ ہر شخص ہاتھوں ہاتھ لیتا تھا۔ اب گالیاں اور پتھر کھا رہے ہیں، بلکہ جان تک کے لالے پڑے ہیں۔ چین سے اپنے بیوی بچوں میں ہنسی خوشی دن گزار رہے تھے۔ اب ایک ایسی سخت کشمکش میں پڑگئے ہیں جو کسی دم قرار نہیں لینے دیتی۔ اس پر مزید یہ کہ بات وہ لے کر اٹھے ہیں جس کی بدولت سارا ملک دشمن ہوگیا ہے، حتّیٰ کہ خود اپنے ہی بھائی بند خون کے پیاسے ہو رہے ہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک خود غرض آدمی کے کرنے کا کام ہے ؟ خود غرض آدمی اپنی قوم اور قبیلے کے تعصبات کا عَلَم بردار بن کر اپنی قابلیت اور جوڑ توڑ سے سرداری حاصل کرنے کی کوشش کرتا، نہ کہ وہ بات لے کر اٹھتا جو صرف یہی نہیں کہ تمام قومی تعصبات کے خلاف ایک چیلنج ہے، بلکہ سرے سے اس چیز کی جڑ ہی کاٹ دیتی ہے جس پر مشرکین عرب میں اس کے قبیلے کی چودھراہٹ قائم ہے۔ یہ وہ دلیل ہے جس کو قرآن میں نہ صرف نبی ﷺ کی، بلکہ بالعموم تمام انبیاء (علیہم السلام) کی صداقت کے ثبوت میں بار بار پیش کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو الانعام، آیت 90۔ یونس 72۔ ہود 29۔ 51۔ یوسف 104۔ افرقان 57۔ الشعراء، 109۔ 127۔ 145۔ 164۔ 180۔ سباء 47۔ یٰسین 21۔ ص، 86 الشوریٰ 23، النجم 40 مع حواشی۔