Ayahs 33:66–68یوم تقلب وجوھھم فی النار یقولون لییتنا اطعنا اللہ واطعنا الرسولا وقالوا ربنلان اطعان اساتنا وکبراء نا فاضلونا السبیلا ربنا اتھم ضعفین من العذاب والعنھم لعنا کبیرا (66۔ 68)
’ تقلیب ‘ کے معنی الٹنے پلٹنے کے ہیں۔ گوشت کو آگ پر بھونتے ہیں تو اس کو کبھی ایک جانب سے بھونتے ہیں کبھی دوسری جانب سے۔ فرمایا کہ یہ گت ان کی بننے والی ہے۔ یہ دوزخ کی آگ میں اس اپنے چہروں کے بل اس طرح گھسیٹے جائیں گے کہ دونوں طرف سے ان کے چہرے بھن جائیں گے۔ چہرے کا ذکر خاص طور پر اس وجہ سے فرمایا کہ اعترافِ حق سے اعراض و استکبار کی رعونت کا سب سے زیادہ نمایاں مظہر و وہی ہوتا ہے جب اس کا حشر یہ ہونا ہے تو دوسری چیزیں اسی کے توابع میں داخل ہیں۔ فرمایا کہ آج جس قیامت کا یہ مذاق اڑا رہے ہیں جب اس طرح اس کی حقیقت ان کے لئے بےنقابہوئی تب وہ نہایت حسرت کے ساتھ یہ تمنا کریں گے کہ اے کاش ! ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی اور اپنے لیڈروں اور بڑوح کے چکمے میں آکر اپنے لئے یہ شامت نہ بلائی ہوتی ! اس دن یہ کھلم کھلا اپنی گمراہی کی ساری ذمہ داری اپنے لیڈروں اور بزرگوں پر ڈالیں گے کہ ہم نے ان کی بات مانی اور انہوں نے صحیح راہ سے ہم کو بھٹکایا اور خدا سے یہ درخوست کریں گے کہ اسے رب ! چونکہ یہی ہماری گمراہی کے باعث ہوئے ہیں اس وجہ سے تو ان کو ہمارے مقابل میں دونا عذاب دے اور جو لعنت ان کے سبب سے ہم پر ہوئی ہے اس سے بڑی لعنت تو ان پر کر۔ یہاں صرف ان لوگوں کی درخواست کا حوالہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس درخواست کا جوا جواب دے گا اس کا ذکر سورة اعتراف آیت 38 میں آیا ہے کہ لکل ضعف تم اور تمہارے لیڈر دونوں ہی دونے عزبا کے سزوار ہو۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔
یہاں مادتنا اور کبراء نا کے دو لفظ آئے ہیں۔ ’ سادۃ ‘ سے مراد تو ظاہر ہے کہ لیڈر اور سردار ہیں اور ’ کبراء ‘ سے مراد ان کے خاندانی و مذہبی پیشوا ہیں۔ ان میں سے کسی کی بھی آنکھ بند کرکے اطاعت کرنا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کو حق و باطل میں امتیاز کے لئے عقل عطا فرمائی ہے۔ اس وجہ سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اس کسوٹی سے کام لے۔ جو اس سے کام لے گا اگر وہ کہیں ٹھوکر بھی کھائے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو سہارا دے اور معاف فرمائے لیکن جو شخص آنکھیں بند کرکے اپنی باگ دوسروں کے ہاتھ میں پکڑا دے گا اس کا حشر وہی ہوگا جو اس آیت میں بیان ہوا ہے۔
Ayah 33:69یایھا الذین امنوا لا تکونا کالذین اذوا موسیٰ فبراہ اللہ مما قالوا وکان عند اللہ وجیھار (69)
قیامت کا ذکر بیچ میں تذکیر و تنبیہ کے طور پر آگیا تھا اوپر سے ذکر ان منافقین کا چل رہا تھا جو نبی ﷺ اور مومنین و مومنات کو اپنی ریشہ دوانیوں اور تہمت تراشیوں سے روحانی و قلبی اذیتیں پہنچانے میں سرگرم تھے۔ اس تنبیہ کے بعد اسی مضمون کو ازسر نو لے لیا اور مسلمانوں کو متنبہ فرمایا کہ ان یہودیوں کی روش کی تقلید نہ کرو جنہوں نے قدم قدم پر حضرت موسیٰ ؑ کو اپنی تہمتوں، شکایتوں اور در پردہ سازشوں سے اذیتیں پہنچائیں لیکن اللہ نے ان کو ہر الزام و تہمت سے بری، نہایت عزت و آبرو کے ساتھ، اس دنیا سے اٹھایا یا البتہ وہ لوگ دنیا اور آخرت دونوں میں ذلیل و خوار ہوئے جنہوں نے ان کو ایذا پہنچانے کی کوشش کی۔ یہ خطاب اگرچہ عام ہے لیکن روئے سخن خاص طور پر منافقین کی طرف ہے۔
حضرت موسیٰ ؑ کو بنی اسرائیل نے جو اذیتی پہنچائی ہیں اس کا شکوہ خود حضرت موسیٰ ؑ کی زبانی بھی قرآن مجید میں مذکور ہے۔
واز قال موسیٰ لقومہ یقوم لم توذوننی وقد تعلمون انی رسول اللہ الیکم (الصف۔ 5)
اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا، اے میری قوم کے لوگو ! تم مجھے کیوں دھ پہنچاتے ہو درآنحالیکہ تمہیں اچھی طرح علم ہے کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔
تورات کی کتاب تثنیہ باب 9 میں ہے حضرت موسیٰ ؑ نے جب بنی اسرائیل کو فلسطین پر چڑھائی کے لئے ابھارا اور انہوں نے اپنی روایت کے مطابق بزدلی دکھائی تو حضرت موسیٰ ؑ نے ان کو ان الفاظ میں ملامت کی۔
’ تو (خطاب بنی اسرائیل سے ہے) اس بات کو یاد رکھ اور کبھینہ بھول کہ تو نے خداوند اپنے خدا کو بیابان میں کس کس طرح غصہ دلایا بلکہ جب سے تم ملک مصر سے نکلے ہو تب سے اس جگہ پہنچنے تک تم برابر خداوند سے بغاوت ہی کرتے رہے ہو۔
تورات میں بار بار اس بات کا ذکر آتا ہے کہ بنی اسرائیل کو جب کوئی آزمائش پیش آتی تو وہ اس کا الزام حضرت موسیٰ ؑ پر ڈال کر ان کو ہدفِ ملامت بناتے۔ مثال کے طور پر ہم یہاں بعض واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
مصر میں حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت کے بعد جب بنی اسرائیل کو آزمائشوں سے سابقہ پیش آیا تو انہوں نے ان سب کو سبب حضرت موسیٰ ؑ کو ٹھہرایا اور کہا کہ اس شخص کی بدولت ہم اس کی پیدائش سے پہلے بھی آفتوں میں مبتلا رہے اور اس کی پیدائش کے بعد بھی ہدفِ مصائب رہے۔ حضرت موسیٰ ؑ جب ان کو ملک ِ مصر سے لے کر نکلے اور مصریوں نے ان کا تعاقب کیا تو ساری قوم نے بڑبڑانا شروع کیا کہ یہ دیکھو، اس شخص نے ہمیں کہاں لا کر ہمارے مروانے کا سامان کیا ہے۔
دریا پار کرنے کے بعد جب حضرت موسیٰ ؑ طور پر تورات لینے گئے تو قوم کے ایک بہت بڑے حصہ نے کہنا شروع کیا کہ یہ شخص تو ہمیں یہاں چھوڑ کر معلوم نہیں کہاں غائب ہوگیا اور اب وہ آنے والا نہیں ہے۔ چناچہ انہوں نے سامری سے ایک بچھڑا بنوایا اور اس کی پرستش شروع کردی۔
قارون نے اپنی ایک پارٹی بنائی اور لوگوں میں یہ فتنہ پھیلایا کہ یہ شخص (حضرت موسیٰ ؑ تنہا سارے دین کے جاننے اور لوگوں کی پیشوائی کا جارہ دار بن بیٹھا ہے حالانکہ خداوند کی نظر میں سب برابر ہیں۔ اس شخص کو ہم پر کوئی امتیاز حاصل نہیں ہے۔
بیابان کی زندگی کے دور میں جب کھانے پینے کی تکلیف ہوئی تو انہوں نے علانیہ حضرت موسیٰ ؑ کو ملامت کی کہ کیا مصر میں ہمارے لئے قبروں کی جگہ نہیں تھی کہ تو نے ہمیں بھوک پیاس سے مرنے کے لئے یہاں بیابان میں لا کر ڈال دیا ہے۔
بیابان میں جب کھانے کے لئے من وسلویٰ اور پانی کے لئے اکٹھے بارہ چشموں کا انتظام ہوگیا تو انہوں نے پھر بڑبڑانا شروع کیا کہ اس من وسلویٰ سے تو ہماری جن سوکھ گئی، ہمیں تو مصر کے کھیرے، ککڑیاں اور لہسن پیاز یاد آتے ہیں۔
حضرت موسیٰ ؑ نے جب ان کو فلسطین پر حملہ کرنے کے لئے ابھارا تو انہوں نے کہا کہہ تم وہاں کے زور آور اور جبار باشدنوں کی تلواروں سے ہمارا قیمہ کرانا چاہتے ہو۔ ہم اس کے لئے تیار نہیں ہیں۔ لڑنا ہے تو تم اور تمہارا خدا دونوں جا کر لڑ ﷺ۔ ہم توی ہیں بیٹھتے ہیں۔
بنی اسرائیل کی اس روش پر حضرت موسیٰ ؑ نے جن درد انگیز الفاظ میں بار بار اپنے رنج و غم کا اظہار فرمایا ہے ان کو تورات میں پڑھیے تو کچھ اندازہ ہوگا کہ انہیں اپنی قوم کے ہاتھوں کیا کیا دکھ جھیلنے پڑے ہیں۔ بنی اسرائیل کی اسی طرح کی ایذارسانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہاں مسلمانوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ تم اپنے رسول کے ساتھ اس طرح کا معاملہ نہ کرو جس طرح کا معاملہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ کیا ورنہ اسی انجام سے دو چار ہوگے جس انجام سے وہ دو چار ہوئے۔
’ فتجاہ اللہ مما قالا وکان عند اللہ وجیھا ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے بالآکر حضرت موسیٰ ؑ کو ہر الزام سے بری کیا۔ ہر تہمت کے مقابلے میں ان کی سچائی، نیک نیتی اور راست بازی آشکارا ہوئی اور ان کے دشمن ذلیل و رسوا ہوئے۔ وہ اللہ کے نزدیک باوقار، باآبرو اور سرخ رو ٹھہرے۔ ان کی وجاہت دنیا میں بھی چمکی اور آکرت میں بھی روشن ہوگی۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لئے بالواسطہ بشارت ہے۔
Ayahs 33:70–71یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وقولو قولا سدیدا۔ یصلح لکم اعمالکم ویغفرلکم ذنوبکم ومن یطع اللہ ورسولہ فقد فازفوازعظماّ 70۔ 71)
یہود کی روش سے احتراز کرنے کی ہدایت کے بعد اس صحیح روش کے اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی جو اللہ اور رسول پر ایمان کا تقاضا ہے۔ فرمایا کہ اللہ سے ڈرو۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچانے والے نہ بنو۔ وہ مجرموں کو پکڑتا دیر میں ہے لیکن جب پکڑتا ہے تو کوئی اس کی پکڑ سے نہ بھاگ سکتا ہے، نہ کوئی اس سے رہائی دلا سکتا ہے۔
’ وقولو قولا سدیدا ‘ یعنی ایمان لانے کے مدعی بنے ہو تو وہ بات کہو جو اس ایمان کا براہ راست تقاضا ہے اور اس کا سیدھا سادہ لازمی مطالبہ ہے۔ یہ اشارہ سمعنا واطعنا کے اعتراف و اقرار کی طرف ہے۔ اس اقرار سیایمان کی تصدیق ہوتی ہے اور آگے کے لء ہدایت کی راہیں کھلتی ہیں۔ اس میں یہود کے قول ’ سمعنا وعصینا ‘ پر ایک لطفی تعریض بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہود کی بات بالکل الٹی تھی۔ وہ ایمان کے مدعی تھے لیکن ان کا کلمہ گویا ’ سمعنا وعصینا ‘(ہم نے سنا اور نافرمانی کی) تھا۔ تم ایمان کی سیدھی روش اختیار کرنا چاہتے ہو تو اپنا کلمہ اور شعار ’ سمعنا واطعنا ‘ (ہم نے سنا اور مانا) بنائو۔
’ یصلح لم اعمالکم ویغفرلکم ذنوبکم ‘ یہ اس قول سدید ‘ کا ثمرہ بتایا ہے کہ اگر تم اپنے قول و عمل کے تضاد کو دور کرلو گے تو اللہ تمہارے اعمال کو برومند کرے گا، تمہاری ہر کل سیدھی ہوجائے گی اور تمہارا ہر قدم صحیح سمت میں اٹھے گا۔ اس صورت میں اگر تم سے کوئی غلطی بھی صادر ہوگی تو اللہ تعالیٰ تمہاری غلطیوں سے درگزر فرمائے گا۔ اللہ ان لوگوں کو نفس اور شیطان کے حوالے نہیں کرتا۔ جو سیدھی راہ اختیار کرنا چاہتے ہیں
’ ومن یطع اللہ ورسولہ فقد فازفوزا عظیما“۔ اس ٹکڑے نے کلام کے تدریجی ارتقاء کے اصول پر واجح کردیا کہ ’ قول سدید ‘ سے مراد سمعنا واطعنا کا قار ہی ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ سمع وطاعت کا قرار کرنے کے بعد زندگی کے ہر مرحلے میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ وہبہت بڑی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کوئی خسارے کا سودا نہیں ہے بلکہ یہ ابدی بادشاہی کی کلید ہے تو جس کو بازی جیتنی ہو وہ جیتے۔
Ayahs 33:72–73انا عرضنا الاما نۃ علی السموات والارض والجبال فابین ان یحملنھا واشفقن منھا واھملھا الانان انہ کان ظلوما جھولا لیعذب اللہ المنفقین والمنفقت والمشرکین والمشرکت ویتوب اللہ علی المومنین والمومنت وکان اللہ غفورا رحیما (72۔ 73)
اب یہ انسان کا اصلی شرف واضح فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عہد اطاعت کا امین ہے۔ یہ عہد، اختیارو ارادہ کی آزادی پر مبنی ہے اس وجہ سے وہی اس کا سزا وار ٹھہرا۔ اس لئے کہ عہد کا اہل وہی ہوتا ہے جس کو اختیار و ارادہ کی آزادی حاصل ہو۔ جو مخلوقات مجبور و مقہور ہیں ان سے کسی عہد و میثاق کا سوال نہیں پیدا ہوتا۔ یہ عہد اللہ تعالیٰ نے تمام ذریت آدم سے لیا ہے اور یہ عہد اس خلافت کی بنیاد ہے جو اس زمین میں آدم اور ذریت آدم کو حاصل ہوئی اور اسی خلافت کے مقتضیات کو بروئے کار لانے کے لئے اللہ تالیٰ نے آدم ؑ سے اپنی ہدایت اور کتاب و شریعت نازل کرنے کا وعدہ فرمایا اور ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی فرمائی کہ جو میری ہدایت کی پیروی کرین گے وہ جنت کے وارث ٹھہریں گے اور جو اس کی خلاف ورزی کریں گے وہ سب جہنم میں جھونک دیے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اسی وعدے کو پورا کرنے کے لئے اپنے نبی و رسول بھیجے جنہوں نے اپنی اپنی امتوں سے اس عہد اطاعت و بندگی کی تجدید کرائی اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اس کے نتائج سے آگاہ کیا۔
اس عہد کی بنیاد چونکہ انسان کے ارادہ کی آزادی پر ہے اس وجہ سے اس کی حیثیت شمشیر دو وم کی ہے۔ اگر انسان اپنے ارادہ کی آزادی کے ساتھ اپنے رب کی بندگی کے عہد کو پورا کرے تو اللہ کے نزدیک اس سے کوئی اونچا نہیں اور اگر وہ اس عہد کو پورا نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے خدا کی بخشی ہوئی سب سے بڑی عذت کو اپنے لئے سب سے بڑی ذلت بنا لیا۔
ہر عہد ایک امانت ہے اور ہر امانت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ اس کی بابت امانت رکھنے والا ایک دن پرسش کرے کہ اس کی امانت کا حق ادا کیا گیا ہے یا اسمیں خیانت کی گئی ہے۔ یہ چیز ایک روز جزاء وسزا کو مستلزم ہوئی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ایک دن سب کو اکٹھا کرے گا اور ان کے اعمال کے ریکارڈ ان کے سامنے رکھ کر فیصلہ فرمائے گا کہ کون کافر و منافق ہیں جو دوزخ کے سزوار ہیں اور کون مومن و مخلص ہیں جو جنت کے حق دار ہیں۔
’ ان عرضنا الامانہ علی السموات والارض والجبال فابین ان یحملھا واشفقن منھا۔ ‘
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اطاعت بالاختیار کی یہ امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے سامنے بھی پیش کی تھی لیکن وہ اس عظیم ذمہ داری کے اٹھانے سے ڈرے اور اپنی معذرت پیش کردی کہ ان کو اس بار گراں سے معاف رکھا جائے۔ آسمانوں و زمین اور پہاڑوں کو یہ معذرت زبان حال سے بھی ہوسکتی ہے اور زبان قال سے بھی۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کی زبان حال و قال دونوں سمجھتا ہے۔ قرآن میں اس بات کی تصریح ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے لیکن ان کی تسبیح کو صرف اللہ تعالیٰ ہی سمجھتا ہے۔ دوسرے اس کو نہیں سمجھتے۔
اسی طرح ہر ذمہ اری کے تحمل کے لئے ایک خاص صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ اگر وہ صلاحیت موجود نہ ہو تو اس کا تحمل ممکن نہیں ہے۔ آپ ہر زمین میں ہر چیز کی کاشت نہیں کرسکتے۔ زمین کا ایک معمولی ٹکڑا آپ کے ایک تخم کا امین بن جاتا ہے اور وہ آپ کی امانت کو نہ صرف محفوظ رکھتا ہے بلکہ اس کو نشوونما اور فروغ دیتا ہے۔ لیکن وہی تخم اگر آپ ایک وسیع سمندر، ایک عظیم پہاڑ یا ایک لق و دق صحرا میں ڈال دیں تو وہ اس کو نشوونما نہیں دے سکتے بلکہ وہ تخم ضائع جائے گا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر کسی چیز کے اندر ایک چیز کے قبول کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو وہ اس کے لازماً ابا کرے گی۔ مثلاً ہماری آنکھ ایک کا ص درجے کی روشنی کا تحمل کرسکتی ہے، اگر روشنی کی مقدار اس سے بڑھ جائے تو نگاہ خیرہ ہوجائے گی۔ اسی طرح ہمارا جسم ایک خاص درجے کی حرات یا برودت برداشت کرسکتا ہے، اگر حرارت یا برودت اس سے زیادہ ہوجائے تو ہمارا جسم اس کو قبول کرنے سے اباء بی کرے گا اور اس سے ڈرے گا بھی۔ ہمارے معدے میں خاص طرح کی چیزوں کے قبول کرنے کی ـصلاحیت ہے۔ اگر ہم ان کے سوا کوئی دوسری چیز اس میں ڈالنے کی کوشش کریں تو، خواہ بجائے خود وہ کتنی ہی قیمتی چیز ہو، معدہ اس کا متحمل نہیں ہوسکے گا۔ یہی حال آسمان و زمین اور پہاڑوں کا، اس امانت کے معاملے میں ہوا۔ ان کے اندر اس کے اٹھانے کا ظرف نہیں تھا اس وجہ سے انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا۔
’ وحملھا الانسان۔ یہ انسان کا شرف بیان ہوا ہے کہ جس بار امانت کو آسمان و زمین، دریا اور پہاڑ نہ اٹھا سکے اس کو انسان نے اٹھا لیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان اگرچہ اپنے وجود مادی کے اعتبار سے اس کائنات کی ایک نہایت حقیر ہستی ہے لیکن اپنے معنوی صلاحیتوں کے اعتبار سے آسمانوں سے اونچا، زمین سے وسیع اور پہاڑوں سے زیادہ مضبوط و سربلند ہے۔ چناچہ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز اس کے لئے مسخر کی گئی لیکن وہ کسی کے لئے بھی مسخر نہیں کیا گیا بلکہ رب کائنات کے سوا کسی کے آگے اس کا جھکنا اس کے لئے باعث ننگ قرار پایا۔
’ انہ کان ظلوما ھولا، یہ انسان کی اس صلاحیت کی طرف اشارہ ہے جس کی بنا پر وہ اس امانت کا اہل قرار پایا۔ وہ یہ ہے کہ یہ امانت مقتضی تھی کہ انسان کے اندر متضادداعیے موجود ہوں تاکہ اس کی آزمائش ہوسکے کہ وہ ان متضاد داعیوں کی کشاکش کے اندر اپنے رب کی اطاعت بالا اختیار کے عہد کو کس طرح نباہتا اور اس کی ذمہ داریوں سے کس طرح عہدہ برآہوتا ہے۔ چناچہ وہ ’ ظلوم ‘ و جہول ‘ بنایا گیا۔ ظلم، عدل و حق کا ضد ہے اور ’ جہل ‘ اور علم اور علم کا ضد ہے۔ ظلوم اس کو کہیں گے جو عدل وحق کا شعور رکھتے ہوئے ظلم کا مرتکب ہونے والا ہو۔ اسی طرح جہول، اس کو کہیں گے جو علم و حلم کی صلاحت کے باوصف جہل اور جذبات سے مغلوب ہوجانے والا ہو۔ یہی کشاکس انسان کی آزمائش ہے اور یہ اس کے تمام شرف کی بنیاد ہے۔ اگر وہ ظلم کی راہ اختیار کرنے کی آزادی رکھنے کے باوجود محض اپنے رب کی رضا کی خاطر دل کی راہ پر استوار رہتا ہے اور اپنے سفلی جذبات کے اتباع کی آزادی کے باوجود، محض اپنے رب کے خوف سے، اپنے جذبات پر قابو رکھتا ہے تو لاریب اس کا مرتبہ فرشتوں سے بھی اونچا ہو اس لئے کہ ان کو خدا کی بندگی کی راہ میں کسی کشمکش سے دوچار ہونا نہیں پڑتا۔ ان کا راستہ بالکل ہموار اور ان کا مزاج ظلم وجہل کے دواعی سے بالکل نا آشنا ہے لیکن انسان اگر بندگی کرتا ہے تو ہر قدم پر وہ اپنے نفس اور شیطان سے لڑ کر کرتا ہے اس وجہ سے اس کی بندگی فرشتوں کی بندگی سے اونچی ہے۔ علی ٰ ہذا القیاس انسان اپنے اس اختیار کے سبب سے جس طرح سب سے زیادہ اونچا ہے اسی طرح وہ سب سے زیادہ نیچا بھی ہوجائے گا اگر و اپنے اس اختیار کی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا نہ کرسکے۔ یہی حقیقت سورة تین میں اس طرح واضح فرمائی گئی ہے۔
لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ثم ردعن اسفل سفلین الا الذین امنوا و عملوالصلحت (4۔ 6)
اور ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا، پھر اس کو اسفل سافلین میں گرا دیا البتہ وہ لوگ اس سے محفوظ رہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے۔
لیعذب اللہ المنفقین والمنفقت والمشرکین والمشرکت ویتوب اللہ علی المومنین والمومنت وکان اللہ غفورا رحیما۔ ‘ یہ نتیجہ بیان ہوا ہے اس امانت کا کہ اس کا لازمی نتیجا یہ ہے کہ ایک ایسادن آئے جس میں انسان اس امنت سے متعلق مسئول ہو کہ اس نے اس کا حق ادا کیا یا نہیں۔ تاکہ وہ لوگ جنہوں نے اس کے معاملے میں منافقت کی روش اختیار کی ہو یا شرک کے مرتکب ہوں وہ اپنی اس خیانت و بدعہدی کی سزا بھگتیں، خواہ مرد ہوں یا عورتیں اور وہ لوگ جنہوں نے رسوخ ایمان کے ساتھ اس کا حق ادا کیا ہو وہ اپنے رب کی رحمت کے سزاوار ٹھہریں، عام اس سے کہ وہ مردوں میں سے ہوں یا عورتوں میں سے۔
ہم دوسرے مقام میں یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ ’ توبہ ‘ کا صلہ جب ’ علی ‘ کے ساتھ آتا ہے تو یہ ’ رحم ‘ کے مفہوم پر بھی متضمن ہوجاتا ہے۔ اس وجہ سے یہ اہل ایمان کے لئے بشارت ہے کہ ہرچند یہ ذمہ داری ہے تو بہت بھاری لیکن اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ اس نے اپنے باایمان بندوں اور بندیوں کے لئے توبہ کی راہ بھی کھلی رکھی ہے۔ اگر وہ اپنی کسی کمزوری کے سبب سے کسی ظلم یا جہل کے مرکتب ہوں گے اور پھر توبہ کرلیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرکے ان پر رحم فرمائے گا۔
ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ یہ سورة قرآن حکیم کی مشکل سورتوں میں سے ہے اور میں اس پر قلم اٹھانے سے گبھراتا رہا ہوں۔ اگرچہ اس کی مشکلات، اپنے علم کے حد تک، میں نے بہت پہلے حل کرلی تھیں لیکن یہ تردد سراسرا دامن گیر رہا کہ دل و دماغ میں جو کچھ ہے قلم اس کو ادا بھی کرسکے گا یا نہیں۔ اب یہ فیصلہ تو کتاب کے صاحب نظر قارئین کرسکیں گے کہ میں مشکلات سے عہدہ برآہوسکا یا نہیں اور ہوسکتا تو کس حد تک لیکن میں نے کوشش بہت کی ہے۔ میری خواہش تھی کہ ابھی اس پر مزید غوروفکر جاری رکھوں، لیکن اب اس امانت کے ادا کرنے کا آخری وقت آچکا تھا اس وجہ سے جو کچھ ذہن میں تھا اس کو سپرد قرطاس کردیا ہے۔ جو باتیں صحیح معلوم ہوں ان کو قبول کیجئے اور جہاں کوئی لغزش محسو ہو اس کو نظر انداز فرمائیے۔ انسان بہرحال ظلوم و جہول ہے۔ اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے، اس سے التجا ہے کہ غلطیوں سے درگزر فرمائے۔ واٰخر دعوٰنا ان الحمد اللہ رب العلمین۔
رحمان آباد…17 سوال، 1394 ھ، 3 نومبر 1974 ء، اتوار 9 بجے صبح