33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 33:22

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ Open ayah 33:22 in the Quran reader

اور جب اہل ایمان نے جماعتوں کو دیکھا تو وہ بولے کہ یہ تو وہی چیز پیش آئی جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کر رکھا تھا۔ اور اللہ اور اس کے رسول نے بالکل سچ کہا۔ اور اس چیز نے ان کے ایمان و اطاعت ہی میں اضافہ کیا۔

ولام را المومنون الاحزاب لا قالوا ھذا ما وعدنا اللہ و رسولہ وصدق اللہ ورسولہ وما زادھم الا ایمانا و تسلیما (22) اوپر آیت 12 میں منافقوں اور حاسدوں کا قول گزر چکا ہے کہ انہوں نے دشمنوں کے اس ہجوم کو دیکھ کر علانیہ مسلمانوں میں یہ پھیلانا شروع کردیا کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جو وعدے ہم سے کیے گئے وہ سب فریب ثابت ہوئے۔ اب ان کے مقابل میں یہ سچے مسلمانوں کا تاثر بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے جب دشمنوں کے اس نرغہ کو دیکھتا تو اپنے ساتھیوں کو تسلی دی کہ یہ تو وہی امتحا ہمیں پیش آیا ہے کہ جس کی اللہ اور اس کے رسول نے پہلے سے ہمیں خبر دے دی تھی۔ یہ اشرۃ قرآن کی ان آیات کی طرف ہے جن میں مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ کامیابی کی منزل کو پہنچنے سے پہلے ان کو نہایت صبر آزما امتحانوں سے گزرنا پڑے گا۔ مثلاً سورة بقرہ میں فرمایا ہے : ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یاتکم مثل الذین خلوا من قبلکم ط منبتھم الباساء والضرا و زلزلوا حتی یقول الرسول والذین امنوا معہ متی نصر اللہ ط الا ان نصر اللہ قریب (البقرۃ : 214) کیا تم نے یہ گان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جائو گے حالانکہ ابھی تمہیں اس طرح کے حالات سے سابقہ پیش آیا ہی نہیں جس طرح کے حالات سے ان لوگوں کو سابقہ پیش آیا جو تم سے پہلے گزرے۔ ان کو فقرو وبیماری کے مصائب پہنچے۔ اور وہ اس قدر جھنجوڑے گئے کہ رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لانے چکا۔ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب نمودار ہوگی۔ آگاہ، کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔ اسی سنت کی طرف سورة عنکبوت میں یوں اشارہ فرمایا ہے۔ احسب الناس این یترکوا ان یقولوا امنا وھم لا یفتنون۔ ولقد ثنا الذین من قبلھم فلیعلمن اللہ الذین صدقوا ولیعلمن الکذبین (2۔ 3) کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ مجرد یہ کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے۔ کہ ہم ایمان لانے اور ان کی جانچ نہ ہوگی اور ہم نے ان لوگوں کو جانچو جو ان سے پہلے گزرے ! پس اللہ لازماً ممیز کرکے رہے گا ان لوگوں کو جو اپنے دعوائے ایمان میں راستباز ہیں اور ان لوگوں کو جو جھوٹے ہیں۔ ’ صدق اللہ ورسولہ ‘۔ یعنی اللہ و رسول کا وعدہ جھوٹا نہیں ثابت ہوا بلکہ بالکل سچا ثابت ہوا۔ جو لوگ اس مرحلے میں ثابت قدم رہیں گے وہ آئندہ ظہور میں آنے والے وعدوں کی صداقت بھی دیکھ لیں گے۔ کہ مسلمان قیصر و کسریٰ کے خزانوں کے مالک ہوں گے۔ ’ وما زادھم الا ایمانا وتسلیما“۔ یعنی اس امتحان نے ان کے اندر کوئی کمزوری پیدا کرنے کے بجائے ان کے ایمان و اطاعت کے جذبے میں مزید قوت پیدا کی۔ یہ امر یہاں ملحوط رہے کہ راہ حق میں جو آزمائش بھی پیش آتی ہے وہ جس طرح کمزوری کے کھوٹ کو نمایاں کرتی ہے اسی طرح صادقوں کے صدق کو بھی چلا بخشی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ٹھہرائی ہوئی سنت ہے۔
Ayah 33:23

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ Open ayah 33:23 in the Quran reader

اہل ایمان میں وہ جانباز بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کر دکھایا۔ سوا ان میں سے بعض تو اپنا عہد پورا کرچکے اور بعض منتظر ہیں۔ اور انہوں نے ذرا بھی تبدیلی نہیں کی ہے

من المومنین رجال صدقوا ما عھدوا اللہ علیہ فمنھم من قضی نحبہ ومنھم من ینتظر وما بدلوا تبدیلا (23) سورة اعراب کی تفسیر میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ لفظ رجال جب اس طرح استعمال ہوتا ہے تو وہ تضخیم شان پر دلیل ہوتا ہے، اس وجہ سے اگر اس کا ترجمہ مردانِ حق یا مردانِ کار، کیا جائے تو یہ ترجمہ لفظ کی روح کے مطابق ہوگا۔ لفظ نحب وسیع معنوں میں آتا ہے۔ عزم و ہمت، عہد و پیمان، نذر، سب اس کے مفہوم میں داخل ہے۔ امام بخاری ؒ نے اس کی تفسیر ’ عھد ‘ سے کی ہے اور یہ تفسیر لفظ کی روح اور موقع و محل کی مقتضیات کے بالکل مطابق ہے۔ اوپر آیت 15 میں منافقین کا حال بیان ہوچکا ہے کہ انہوں نے اللہ اور رسول سے یہ عہد کیا تھا کہ اب کسی جنگ کا موقع آیا تو وہ پیٹھ نہیں دکھائیں گے لیکن جب موقع آیا تو محاذ سے فرار کے بہاے ڈھونڈنے لگے۔ یہ ان کے مقابل میں اللہ کے وفادار بندوں کا ذکر ہے کہ مسلمانوں کے اندر وہ مردانِ حق بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے باندھے ہوئے عہد کو اس کی راہ میں جانیں دے کر پورا کر دکھایا اور جو ابھی یہ عہد پورا نہیں کرسکے ہیں وہ سر ہتھیلی پر لیے کھڑے ہیں کہ کب موقع آئے کہ وہ اس فرض سے سبکدوش ہوں۔ ”وما بدلوا تبدیلا اور انہوں نے اللہ سے باندھے ہوئے عہد میں سرِ مو تبدیل نہیں کی۔
Ayah 33:24

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

تاکہ اللہ راستبازوں کو ان کی راست بازی کا صلہ دے اور منافقوں کو عذاب دے اگر چاہیے یا ان کی توبہ قبول کرے (اگرہ وہ توبہ کریں) بیشک اللہ غفور رحیم ہے۔

لیجزی اللہ الصدقین بصدقھم ویعذب المنفقین ان شاء اویتوب علیھم ان اللہ کان غفورا رحیما (24) یہاں قرینہ دلیل ہے کہ فعل مخدوف ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے احزاب کا یہ طوفان اس لئے اٹھایا کہ یہ راستبازوں اور منافقوں کے درمیان امتیاز کے لئے ایک کسوٹی بنے۔ اس پر پرکھ کر اللہ تعالیٰ اپنے راستباز بندوں کو راستبازی کا صلہ دے اور منافقوں کو سزا دے اگر چاہے اور ان کی توبہ قبول کرے اگر وہ توبہ کریں۔ ’ ان شاء او یتوب علیھم ‘ میں قرآن کے اس معروف اسلوب کے مطابق جس کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ ’ یتوب علیھم کے بعد بھی ان شاء کے الفاط ہیں اگرچہ تکرار سے بچنے کے لئے وہ حذف کردیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت اس کی حکمت اور اس کی سنت کے مطابق ہے، اس وجہ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر وہ توبہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ غفور ورحیم ہے۔ وہ چاہے گا تو ان کو بخش دے گا۔ اس ٹکڑے میں منافقین کے لئے دعوتِ استغفار ہے کہ ان کے لئے اب بھی گنجائش باقی ہے۔ اگر وہ چاہیں تو استغفار و توبہ کے ذریعہ سے پھر خد کی رحمت کے مستحق ہوسکتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ دیاددہانی بھی ہے کہ تمام امور کو انحصار اللہ واحد کی مشیت ہی پر ہے اس وجہ سے جھوٹے سہاروں پر تکیہ کرنے کے بجائے وہ اپنے آپ کو اللہ ہی کے حوالہ کریں۔ اس ٹکڑے سے جن لوگوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اللہ تعالیٰ جن کو چاہے گا تو بہ و استغفار کے بغیر ہی بخش دے گا۔ انہوں نے توبہ کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی سنت کو نہیں سمجھا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس کی مشیت کو کوئی دوسرا روک یا بدل نہیں سکتا لیکن اس نے اپنے عدل و حکمت کے تحت جو قاعدے ٹھہرائے ہیں اس کی مشیت ان قاعدوں کو باطل نہیں کرتی۔
Ayah 33:25

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اور اللہ نے کافروں کو ان کے غصہ کے ساتھ، بالکل بےنیل مرام، پسپا کردیا اور جنگ کے لئے اللہ مسلمانوں کی طرف سے خود کافی ہوگیا اور اللہ قوی و غالب ہے۔

ورد اللہ الذین کفروا بغیظھم لم ینالوا خیرا ط وکفی اللہ المومنین القتال وکان اللہ قویا عزیزا (25) ’ الذین کفروا ‘ سے مراد احزاب کے شرکاء ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ غصہ اور بغض وعناد سے بھرے ہوئے آئے تھے کہ مسلمانوں کو کچا ہی کھا جائیں گے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے غصہ کے ساتھ ہی ان کو پسپا کردیا، وہ اس کا کوئی حصہ بھی نکال نہ سکے۔ ’ لم ینالوا خیرا ‘ یعنی ان کے منصوبے تو بڑے بڑے تھے لیکن ان کے کسی منصوبے میں ان کو ذرا بھی کامیابی نہیں ہوئی۔ ’ وکفی اللہ المومنین القتال ‘۔ یعنی دشمنوں کے اس خطرناک حملہ کے دفاع کے لئے مسلمانوں کو خود کوئی لڑائی نہیں لڑنی پڑی بلکہ ان کی طرف سے لڑنے کے لئے اللہ تعالیٰ ہی کافی ہوگیا۔ اس نے اپنی باد تند اور اپنے ملائکہ کی افواجِ قاہرہ کے ذریعہ سے دشمنوں کے قدم اکھاڑ دیے اور وہ مایوس و نامراد پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے۔ ’ وکان اللہ قویا عزیزا ‘ یہ تمہید کے مضمون وکفی باللہ وکیلا کی یاددہانی ہے کہ اللہ تعالیٰ قوی اور غالب و مقتدر ہے، اس وجہ سے اس کے بندوں کو چاہیے کہ اس پر پورا بھروسہ رکھیں۔ اگر وہ اس کے بھروسہ پر اس کی راہ میں اٹھیں گے تو وہ ان کے بےیارومدگار نہیں چھوڑے گا بلکہ عناصرِ کائنات اور پنے ملائکہ کو وہ ان کی مدد کے لئے بھیج دے گا۔
Ayahs 33:26–27

وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ Open ayah 33:26 in the Quran reader

اور اللہ نے ان اہل کتاب کو جنہوں نے کافروں کی مدد کی ان کے قلعوں سے اتارا اور ان کے دلوں کو مرعوب کردیا۔ کچھ کو تم قتل کرتے ہو اور کچھ کو قید۔

وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ Open ayah 33:27 in the Quran reader

اور ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے مالوں کا وارث تم کو بنایا۔ علاوہ ازیں اور بھی زمین ہے جس پر تمہارے پائوں ابھی نہیں پہنچے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

وانزل الذین ظھروھم من اھل الکتب من صیا صیھم وقذف فی قلوبھم الوعب فریقا یقتلون وتاسرون فریقا وارثکم ومنھم ودیارھم واموالھم و ارضا چم تطوھا ط وکان اللہ علی کل شئی قدیرا (26۔ 27) یہ بنو قریضہ کی طرف اشارہ ہے۔ ہم پیچھے ذکر کر آئے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ معاہدہ امن و صلح کر رکھا تھا لیکن جب احزاب نے اپنی مجتمع قوت کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ کیا کہ ان کو ہمیشہ کے لئے جڑ پیڑ سے اکھاڑ کے رکھ دیں تو انہوں نے بھی معاہدہ کو بالائے طاق رکھ کر احزاب کا ساتھ دیا۔ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مشہور یہودی لیڈر حی بن اخطب نضری بنو قریضہ کے سردار کعب بن اسد سے ملا اور اس کو ساتھ دینے کے لئے اس نے ابھارا۔ پہلے تو اس نے معاہدہ کے سبب سے کچھ تذبذب کا اظہار کیا لیکن حی بن اخطب نے یہ پٹی پڑھائی کہ میں تمہی لوگوں کی خاطر تو سارے عرب کو اکٹھا کرکے مدینہ پر چڑھا لایا ہوں، اگر تمہی نے اس نہم میں ساتھ نہ دیا تو پھر میری اس تمام دوڑ دھوپ کا حاصل کیا ! مسلمانوں کو ہمیشہ کے لئے نیست و نابود کردینے کا یہ آخری موقع ہے، اگر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو پچھتائوں گے اور اس پچھتانے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ! حی بن اخطب کا یہ جادو کارگر ہوگیا اور بنو قریظہ بھی معاہدہ توڑ کر حملہ آوروں میں شامل ہوگئے۔ مسلمانوں کے لئے یہ چیز مزید پریشانی کا باعث ہوئی۔ مدینہ کے بالکل قریب ان کے قلعے اور گڑھیاں تھیں اور لڑنے والے افراد کی بھی ان کے پاس کافی تعداد تھی۔ ان کی شرکت سے دشمنوں کا حوصلہ دو چند ہوگیا اور مسلمانوں کے لئے یہ آزمائش بہت ہی صبر آزما بن گئی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی تائید غیبی سے جس طرح تمام پارٹیوں کو پسپا ہونا پڑا اسی طرح انہیں بھی پسپا ہونا پڑا۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ محاذ سے واپسی کے معا بعد نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ آپ بنو قریظہ حملہ کریں۔ آپ نے مسلمانوں کو فوراً حملہ کردینے کا حکم دے دیا اور بنو قریضہ کا محاصرہ کرلیا گیا۔ یہ محاصرہ تقریباً 25 دن جاری رہا۔ بالا اخر انہوں نے مرعوب ہو کر حضرت سعد بن معاذ ؓ کا حکم مان لیا کہ وہ جو فیصلہ کردیں ان کو منظور ہوگا۔ حضرت سعد ؓ نے فیصلہ کیا کہ ان کے تمام قابل جنگ افراد قتل کریے جائیں اور بقیہ کو لونڈی غلام بنا لیا جائے۔ اس فیصلہ کی فوراً تعمیل کی گئی۔ اسی واقعہ کی طرف آیت میں اشارہ ہے۔ ’ من صیاصیھم۔ ‘ سیصۃ ‘ مرغ کے پنچے کو کہتے ہیں۔ اسی سے جمع ’ صیاصی ‘ ہے جو بیل کے سینگوں کے لئے بھی آتا ہے اور پھر ترقی کرکے دفاعی حصارات، قلعوں اور گڑھیوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ بنو قریضہ پہلے تو اپنے قلعوں میں محضور ہوگئے لیکن محاصرے سے تنگ آکر بالآخر ان کو مجبوراً ان سے نکلنا پڑا اور اپنے آپ کو اپنے اہل و عیال سمیت مسلمانوں کے حوالہ کرنا پڑا۔ ’ وقذف فی قلوبھم الرعب ‘ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں اس طرح مسلمانوں کا رعب ڈال دیا کہ حضرت سعد ؓ کے فیصلہ کے خلاف ان کو چوں کرنے کی بھی جرأت نہ ہوسکی۔ مسلمانوں کا رعب ڈال دیا کہ حضرت سعد ؓ کے فیصلہ کے خلاف ان کو چوں کرنے کی بھی جرأت نہ ہوسکی۔ مسلمانوں نے بغیر کسی ادنیٰ ماحمت کے، ان کے قابل جنگ افراد کو قتل کرکے بقیہ کو لونڈی غلام بنا لیا۔ ’ وارثکم امضھم و دیارھم اموالھم اور ان کا پورا علاقہ، ان کے تمام مکانات و حصارات اور ان کے ہر قسم کے اموال و اثاثات کے ساتھ، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے قبضے میں دے دیا۔ ’ وارضا لم تطنوھا ‘۔ یہ بشارت ہے مستبقل کی فتوحات کی۔ فرمایا کہ یہ نقد عاجل تو جو کچھ تمہیں ہم نے بخشا وہ تم نے دیکھ لیا لیکن ابھی اور ابھی علاقے تمہارے قبضہ میں آئیں گے حق تک تمہارے قدم ابھی نہیں پہنچے ہیں لیکن ان کی وراثت ہم نے تمہارے لئے مقدر کر رکھی ہے۔ یہ اشارہ خیرب، مکہ اور روم و شام وغیرہ کی فتوحات کی طرف ہے۔ ’ وکان اللہ علی کل شئی قدیرا ‘۔ یعنی یہ جو کچھ تم نے اپنی آنکھوں دیکھا کافی ہے یہ اطمینان پیدا کرنے کے لئے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، کوئی اس کے ارادے میں مزاحم نہیں ہوسکتا، اس وجہ سے اہل ایمان کو چاہیے کہ اس پر پورا پورا بھروسہ رکھیں۔
Ayahs 33:28–29

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینتوں کی طالب ہو تو آئو، میں تمہیں دے دلا کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کی طالب ہو تو اطمینان رکھو کہ اللہ نے تم سے خوبی کے ساتھ نباہ کرنے والیوں کے لئے ایک اجرِ عظیم تیار کر رکھا ہے۔

4۔ آگے کا مضمون۔ آیات 28۔ 35 اوپر کے پیرے میں عام مسلمانوں کو اللہ اور رسول کی اطاعت پر مجتمع کرنے کے بعد آگے ازواج نبی ﷺ کو خطاب کرکے ان کو منافقین اور منافقات کے فتنوں سے ہوشیار رہنے کی تلقین فرمائی ہے کہ ان کی کو ششیہ ہے کہ ازواج نبی ؓ کے دلوں میں بھی طلب دنیا کی بیماری پیدا کریں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے رسول کی رفاقت کے لئے اس لئے چنا ہے کہ وہ اس کتاب و حکمت کی تعلیم کا ذریعہ نہیں جو اللہ کے رسول سے انہیں حاصل ہو رہی ہے۔ اللہ کے ہاں ان کا مرتبہ بہت اونچا ہے اگر انہوں نے اپنے فریضہ منصبی کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ اسی طرح ان کے لئے سزا بھی بہت ہی سخت ہے اگر ان سے کوئی جرم صادر ہوا…اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت یایھا النبی قل لازواجک ان کنتن تردن الحیوۃ الدنیا وزینتھا فتعالین امتعکن واسرحکن سراحا جمیلا وان کنتن تردن اللہ ورسولہ والدارالاخرۃ فان اللہ اعد للمحسنت منکن اجرا عظیما (28۔ 29) ہمارے مفسرین نے ان آیات کا پس منظر یہ بتایا ہے فتح خیبر کے بعد جب مسلمانوں کو فی الجملہ معاشی کشادگی حاصل ہوئی تو آنحضرت ﷺ کی ازواج نے بھی آپ سے مطالبہ کیا کہ ان کو بھی زندگی کی راحتوں اور زینتوں سے متمتع ہونے کا موقع دیا جائے۔ ان کے اس مطالبہ پر بطور عتاب یہ آیات نازل ہوئیں۔ ہمارے نزدیک کئی پہلوئوں سے یہ بات نہایت کمزور ہے۔ اول تو قرینہ دلیل ہے کہ یہاں جن حالات پر تبصرہ ہو رہا ہے وہ ہجرت کے چوتھے یا پانچویں سال سے تعلق رکھنے والے ہیں اور غزوہ خندق اور بنو قریضہ کے حالت زیر بحث آئے ہیں آگے حضرت زید ؓ اور حضرت زینب ؓ کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ ان تمام واقعات کا تعلق 5 ھ؁ سے ہے۔ خیبر ابھی فتح نہیں ہوا تھا۔ اوپر آیات 67 کیا لفاظ اور ضا لم تطئوھا کے تحت خود مفسرین ہی نے یہ تصریح کی ہے کہ یہ فتح خیبر کی پیشگی بشارت ہے۔ دوسرا یہ کہ مطالبہ اگر مجرد نان نفقہ میں فی الجملہ توسیع کے لئے تھا تو یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جس پر ان کو یہ نوٹس دے دیا جائے کہ ان کو دے دلا کر ہمیشہ کے لئے رخصت کردیا جائے۔ اس طرح کی بات پر اول تو کسی تنبیہ کیسزاوار ہی نہیں تھیں اور اگر تمہیں بھی تو زیادہ سے زیادہ اس نصیحت کی مستحق تھیں کہ نبی کی معیت مطلوب ہے تو انہیں صبرو قناعت کی زندگی اختیار کرنی پڑے گی۔ تیسرا یہ کہ امہات المومنین ؓ کے متعلق یہ سوء ظن نہیں کیا جاسکتا کہ ان پر دنیا کی راحتوں اور زنیتوں کا شوق کسی دور میں اتنا غالب آگیا ہو کہ وہ اس کا مطالبہ لے کر اٹھ کھڑی ہوئی ہوں اور معاملہ اتنا سنگین ہوگیا ہو کہ خود اللہ تعالیٰ کو اس میں مداخلت کرنی پڑی ہو اور نوبت اس نوٹس تک پہنچ گئی ہو جو ان آیات میں ان کو دیا گیا۔ بہرحال یہ شان نزول ہمارے نزدیک قابل توجہ نہیں ہے۔ نہ آیت کے الفاظ سے اس کی تائید ہوتی ہے، نہ وقت کے حالات سے۔ ہم یہاں اس سورة کی روشنی میں وقت کے بعض خاص حالات کی طرف اشارہ کریں گے جن سے ان آیات کا صحیح موقع و محل سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اس پوری سورة پر تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں منافقین کی ریشہ دوانیاں جس طرح عام مسلمانوں کو اسلام اور نبی ﷺ سے بدگمان و برگشتہ کرنے کے لئے بہت بڑھ گئی تھیں اسی طرح منافقات کے ذریعے سے انہوں نے آنحضرت ﷺ کی گھریلو زندگی کے سکون کو درہم برہم کرنے کے لئے بھی بڑی خطرناک مہم چلا رکھی تھی۔ منافق عورتیں امہات المومنین ؓ کے گھروں میں جاتیں اور نہایت ہمدردانہ انداز میں ان سے کہیتیں کہ آپ لوگ شریف اور معزز گھرانوں کی بٹیاں ہیں لیکن آپ لوگوں کی زندگی ہر راحت و لذت سے محروم، بالکل قیدیوں کی طرح گزر رہی ہے۔ اگر آپ دوسرے گھروں میں ہوتیں تو آپ کی زندگی بیگمات کی طرح نہایت عیش و آرام اور ٹھاٹ باٹ کے ساتھ گزرتی۔ ساتھ ہی وہ یہ وسوسہ اندازی بھی کرتیں کہ اگر یہ (محمد ﷺ آپ کو طلاق دے دیں تو بڑے بڑے رئیس اور سردار آپ لوگوں سے نکاح کریں گے اور آپ لوگوں کی زندگیاں قابل رشک ہوجائیں گی۔ آگے کی آیات سے یہ بات بھی سامنے آئے گی کہ منافقین کو بھی جب کبھی نبی ﷺ کے گھروں میں جانے اور آپ کی ازواج مطہرات سے بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر انکے اندر کچھ نہ کچھ وسوسہ اندازی کی ضرور کوشش کرتے۔ ان کوششوں سے ان کا اصلی مقصد تو آنحضرت ﷺ کی گھریلو زندگی کے اندر کوئی اس طرح کا فتنہ کھڑا کرنا تھا جس طرح کا فتنہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے متعلق کھڑا کردیا تھا، جس کی تفصیلات سورة نور میں آپ پڑھ چکے ہیں، ورنہ ادنیٰ درجے میں یہ فائدہ تو ان کو بد یہی طور پر نظر آتا تھا کہ اس سے ازواج نبی ؓ کے اندر بےاطمینانی پیدا ہوگی اور کیا عجب کہ اس طرح کوئی ایسی شکل نکل آئے کہ وہ آپ کی ازواج کے ساتھ نکاح کرنے کا جو مذموم ارادہ رکھتے ہیں وہ پورا ہوجائے۔ منافقین و منافقات کی ان چالوں سے اگر یہ امہات المومنین ؓ بالکل بیخبر نہیں تھیں، بعض تلخ تجربے ان کو ہوچکے تھے، لیکن شریف، کریم النفس اور باحیا لوگوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص ان کے سامنے اگر ہمدردی و خیر خواہی کے انداز میں بات کرتا ہے تو وہ اس کے کھوٹ سے واقف ہوتے ہوئے بھی، اس کو جواب نرمی ہی سے دیتے ہں۔ امہات المومنین ؓ بھی اپنی کریم النفسی کے سبب سے ان لوگوں کو نرمی ہی سے جواب دیتیں جس سے یہ کمینے لوگ اس طمع خام میں مبتلا ہوجاتے کہ ان کا پروپیگنڈا کامیاب ہو رہا ہے اور وہ بہت جلد اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے۔ یہ حالات تھے جن میں یہ آیات اتری ہیں۔ ان میں جو باتیں فرمائی گئی ہیں ان کو سنانا تو مقصود ہے دراصل ان منافقین اور منافقات کو جن کو ریشہ دوانیوں کے تاروپودا ان میں بکھیرے گئے ہیں، لیکن وہ پس پردہ تھے اس وجہ سے قرآن نے ان کو مخاطب کرنے کے بجائے نبی ﷺ اور ازواجِ نبی ؓ کو مخاطب کرکے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا۔ یہاں بلاغتِ کلام کے اس اسلوب کو یاد رکھیے کہ بسا اوقات ظاہر الفاظ کے اعتبار سے کلام میں خطاب کسی سے ہوتا ہے۔ لیکن اس میں کوئی عتاب مضمع ہوتا ہے تو اس کا رخ کسی اور طرف ہوتا ہے۔ اس پس منظر کو سامنے رکھ کر اب آیات کے مفہوم پر غور کیجئے۔ نبی ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ اے نبی ! تم اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کے عیش اور اس کی زینتوں کی طالب ہو تو آئو، میں تمہیں دے دلا کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں اور اگر تم اللہ، اس کے رسول اور دار آخرت کی کامرانیوں کی طالب ہو تو یاد رکھو کہ تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کے حقوق کو اچھی طرح ادا کرنے والی اور آخرت کی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر پہنچانے والی ہوں گی، اللہ نے ان کے لئے جو اجرِ عظیم تیار کر رکھا ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے آزادی کا یہ اختیار نامہ ازواجِ مطہرات کے سامنے رکھ دیا اور سب سے پہلے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے سامنے رکھا جو آپ کو سب سے زیادہ محبوب تھیں۔ آپ ﷺ نے ان کو یہ ہدایت بھی فرمائی کہ وہ اس کے جواب میں جلدی نہ کریں بلکہ اپنے والدین سے بھی مشورہ کرلیں، اس کے بعد جواب دیں۔ لیکن حضرت صدیقہ ؓ نے بغیر کسی توقف کے جواب دیا کہ مجھے اس معاملے میں کسی کے مشورے کی کیا ضرورت ہے۔ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں ! منافقین نے سب سے زیادہ جادو تو انہی پر چلانے کی کوشش کی ہوگی، جب ان کا جواب ان کی تمام توقعات پر پانی پھیر دینے والا ثابت ہوا تو تابہ و دیگراں چہ رسدً اس طرح قرآن نے ایک طرف تو منافقین کی ان ریشہ دوانیوں کا ہمیشہ کے لئے سدِ باب کردیا جو وہ ازواج مطہرات کے درمیان کر رہے تھے دوسری طرف اس امتحان کے ذریعے سے یہ حقیقت بھی واضح کردی کہ ازواج مطہرات ؓ ، سب بلا استثناء اللہ و رسول اور آخرت کی طالب تھیں۔ اسی چیز نے ان کو اللہ کے رسول کے ساتھ وابستہ کیا تھا اور یہ وابستگی اتنی مستحکم تھی کہ اس نیا کی کوئی طمع اس کو توڑ نہیں سکتی تھی۔ اس ساری بحث کا خلاصہ یہ نکلا کہ ان آیات میں ازواج مطہرات ؓ پر دنیا طلبی کے جرم میں کوئی عتاب نہیں ہوا ہے، جیسا کہ لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ یہ اللہ و رسول کی طرف سے ان کو آزادی کا پروانہ دے کر ان کے اعلیٰ کردار کا مظاہرہ کرایا گیا تاکہ ان منافقین کے حوصلے ہمیشہ کے لئے پست ہوجائیں جو اس طمع خام میں مبتلا تھے کہ ازواج نبی ؓ کو دنیا کی کسی طمع کے پھندے میں پھنسا کر اپنی طف مائل کیا جاسکتا ہے۔ اس اعلانِ تخیر کے بعد گویا ہر ایک کو حوصلہ آزمائی کا موقع دے دیا گیا لیکن سب پر ثابت ہوگیا کہ اہل بیت رسالت کا انتخاب خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور اس حرم کے اندر کسی کے لئے کسی دراندازی کی گنجائش نہیں ہے۔ ’ وان کنتن تردن اللہ ورسولہ والدار الاخرہ فان اللہ اعد للمحسنت منکن اجرا عظیما۔ لفظ ’ احسان ‘ یہاں حسن و خوبی اور اخلاص دراستبازی کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے حقوق اور طلب آخرت کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے مفہوم میں ہے۔ اس آیت میں کچھ مضمون مخدوف ہے جس پر اس کا اسلوب بیان دلیل ہے۔ اس اسلوب کا پورا حق ادا کیجئے تو مطلب یہ ہوگا کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی طالب اور دار آخرت کی کامرانیاں چاہنے والی ہو تو نہایت خوبی اور مستعدی کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور طلب آخرت کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں سرگرم رہو اور یہ اطمینان رکھو کہ تم میں سے جو ان حقوق و فرائض کو ’ احسان ‘ کے ساتھ ادا کرنے والی ہوں گی اللہ نے ان کے لئے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ اس سے ضمناً یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ ازواجِ نبی ؓ کے لئے بھی مجرد نبی ﷺ کے ساتھ نسبت کوئی کام آنے والی چیز نہیں ہے بلکہ اصل چیز عمل و اطاعت ہے اور عمل و اطاعت بھی ’ احسان ‘ کے ساتھ۔
Ayah 33:30

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

اے نبی کی بیویو، تم میں سے جو کسی کھلی بےحیائی کی مرتکب ہوگی تو اس کے لئے دو چند عذاب ہے۔ اور یہ بات اللہ کے لئے آسان ہے۔

ینئا النبی من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ یضعف لھا العذاب ضعفین وکان۔۔ علی اللہ یسیرا۔ (30) اوپر کی بات تو نبی ﷺ کے ذریعہ سے کہلائی گئی اس لئے کہ اس کا آپ کی زبان ہی سے کہلایا جانا موزوں تھا۔ اب آگے براہ راست ازواجِ نبی ؓ کو مخاطب کرکے ان پر یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ نبی ﷺ کی بیویوان ہونے کے سب سے اللہ تاعولیٰ کے ہاں ان کا درجہ و مرتبہ بھی بہت اونچا ہے اور اس مرتبہ ہی کے اعتبار سے ان کی ذمہ داریاں بھی بہت بھاری ہیں۔ پہلے ان کی ذمہ داری بتائی کہ وہ اس امر کو یاد رکھیں کہ اگر ان سے کوئی جرم صادر ہوا تو وہ اسی ترازو سے نہیں تو لاجائے گا جس سے دوسروں کے جرم تو لے جائیں گے بلکہ ان کے اعمال الگ باٹ اور الگ ترازو سے تو لے جائیں گے اور دوسروں کی نسبت سے ان کو دونی سزا ملے گی۔ ’ وکان ذلک علی اللہ یسیرا ‘ یعنی تم میں سے کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ رسول کی زوجیت میں ہونے کے سبب سے تم میں سے کسی کو سزا دینا اللہ پر ذرا بھی شاق گزرے گا۔ اللہ کا قانون بالکل بےلاگ ہے۔ وہ کسی کے ساتھ کسی نسبت وتعلق کی بنا پر کوئی رعایت نہیں کرے گا۔ اس تنبیہ سے بہ بات لازم نہیں آتی کہ العیاذ باللہ ازواج مطہرات ؓ سے کسی سنگین نوعیت کے جرم کا اندیشہ تھا۔ یہ محض ان کی ذمہ داری اور اسن کے مرتبہ و مقام کی یاددہانی کرکے ان کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ وہ شیاطین کی وسوسہ اندازیوں سے اچھی طرح ہوشیار رہیں۔ یہاں فاحشۃ مبینۃ (کھلی بےحیائی) کے الفاظ جو استعمال ہوئے ہیں وہ منافقین و مفسدین کے مخفی ارادوں کو پیش نظر رکھ کر استعمال ہوئے ہیں۔ وہ رات دن اسی تگ و دو میں تھے کہ اہل بیت رسالت سے متعلق کوئی سکینڈل (Scandal) پیدا کریں، تاکہ ان کا کلیجہ ٹھنڈا ہو اور مسلمانوں کی اخلاقی ساکھ برباد ہو۔ قرآن نے یہ لفظ استعمال کرکے ازواج مطہرات ؓ کو آگاہ کردیا کہ منافقین ہمدردی و خیر خواہی کے بھیس میں درحقیقت اپنے بہت بڑے شیطانی منصوبے کی فکر میں ہیں۔
Ayah 33:31

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور جو تم میں سے اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبردار نبی رہیں گی اور عمل صالح کریں گی ہم ان کو دہرا اجر دی گے اور ہم نے ان کے لئے باعزت رزق تیار کر رکھا ہے۔

ومن یقنت مکن اللہ ورسولہ وتعمل صالحا نو تھا اجرھا مرتین فاعتدنا لھا رزقا کریما (31) یعنی جس طرح تمہارے کسی جرم کو سزا دگنی ہے اسی طرح تمہاری نیکیوں کی جزا بھی دگنی ہے۔ اس وجہ سے تم میں سے جو اللہ و رسول کی صدق دل سے فرمانبردری اور عمل صالح کرتی رہیں گی اللہ ان کو دہرا اجر دے گا اور ان کے لئے باعزت رزق اس نے تیار کر رکھا ہے۔ ہم دوسرے محل میں واضح کرچکے ہیں کہ ’ رزق ‘ اللہ تعالیٰ کے فضل و انعام کی تعبیر ہے اور اس کے ساتھ کریم کی صفت اس حقیقت کی تعبیر کے لئے ہے کہ یہ رزو و فضل ان کو بطور صدقہ نہیں ملے گا بلکہ ان کے حق کے طور پر ملے گا اور ہمیشہ کے لئے، بلا کسی قید و شرط اور بغیر کسی اندیشہ احتساب و مواخزہ کے ملے گا۔ ان آیات سے یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ خدا کے ہاں مواخذہ اتمامِ حجت کے اعتبار سے ہوگا اور اعمال کا صلہ ان حالات کے اعتبار سے ملے گا جن میں وہ انجام دیے گئے ہیں۔ ازواج نبی ؓ کو چونکہ رسول ﷺ کی معیت حاصل ہوئی اور رسول اتمام ِ حجت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اس وجہ سے ان سے مواخزہ سخت ہوگا۔ اسی طرح رسول کی رفاقت پوری وفاداری کے ساتھ چونکہ بڑا کٹھن کام ہے اس وجہ سے اس کا صلہ بھی دگنا ہے۔ جرموں کے مواخزہ اور اعمال کے صلہ کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے اور یہ بالکل مبنی بر عدل و حکمت ہے۔
Ayah 33:32

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ Open ayah 33:32 in the Quran reader

اے نبی کو بیویو ! تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو اگر تم تقویٰ اختیار کرو۔ تو تم لہجہ میں نرمی نہ اختیار کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے وہ کسی طمع خام میں مبتلا ہوجائے اور بات معروف کے مطابق کہو۔

ینساء النبی لستن کا حد من النساء ان اتقیتین فلا تخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض وقلن قولا معروفا (32) ’ خضوع ‘ کے معنی تواضح و خاکساری کے اظہار کے ہیں۔ فلا تخضعن بالقول کے معنی ہوں گے۔ بات کہنے میں نرمی و تواضع نہ اختیار کرو۔ عام حالات میں تو پسندیدہ طریقہ کلام یہی ہے کہ آدمی تواضع کا انداز اختیار کرے لیکن بعض اوقات حالات و مصالح کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اس سے مختلف روش اختیار کی جائے۔ اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ اس دور میں منافقین و منافقات رات دن اس تگ و دو میں تھے کہ ازواج مطہرات ؓ کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرکے کوئی ایسی بات نکالیں جس کو ایک فتنہ بنا سکیں۔ ان لوگوں کی باتیں ہمدردانہ رنگ میں ہوتی تھیں اس وجہ سے امہات المومنین ؓ بھی ان کا جواب اپنی شرافتِ نفس کے سبب سے نرم انداز ہی میں دیتی تھیں جس سے یہ مفسدین دلیر ہوتے جا رہے تھے اور ان کو یہ توقع ہوچلی تھی کہ وہ بہت جلد اپنی سازش میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ان خاص حالات کی بنا پر امہات المومنین ؓ کو اپنا رویہ بدل دینے کی ہدایت ہوئی۔ فرمایا کہ اے نبی کی بیویو، تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو۔ نبی کے ساتھ نسبت کے باعث تمہاری نیکی اور بدی دونوں کی ایک خاص اہمیت ہے۔ تمہاری نیکی دوسروں کے لئے مثال اور نمونہ بنے گی اور تم سے کوئی غلطی صادر ہوگی تو اس کو بھی اصحاب الاغراض حجت بنائیں گے اس وجہ سے تمہارے لئے احتیاط کی روش اولیٰ ہے۔ اگر منافقین تمہارے دلوں میں وسوسہ اندازی کرنے کی کوشش کریں تو بربنائے مروت و شرافت ان کی بات کا جواب نرمی و تواجع سے نہ دو کہ جس کے دل میں اللہ اور اس کے رسول کے خلاف بغض و حسد ہے وہ کوئی غلط توقع کر بیٹھے، بلکہ صاف انداز میں اس سے اس طرح بات کہو کہ اگر وہ اپنے دل میں کوئی برا ارادہ لے کر آیا ہے تو اس کو اچھی طرح اندازہ ہوجائے کہ یہاں اس کی دال گلنے والی نہیں ہے۔ ’ لستن کا حد من النساء ان اتقین۔ یہ ازواجِ مطہرات ؓ کے مرتبہ کی طرف اشارہ ہے جو نبی ﷺ کے ساتھ نسبت کی بنا پر ان کو دنیا کی تمام عورتوں کے مقابل میں حاصل تھا۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد ان کے ہر قول و فعل کو امت کے لے نمونہ و مثال کی حیثیت حاصل ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کا درجہ امہات المومنین کا قرار دے۔ ان اتقیتن کے الفاظ سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ یہ مرتبہ عالی جو ان کو حاصل ہے یہ تقویٰ کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر وہ تشوی پر قائم رہیں گی تو یہ سرفرازی ان کو حاصل رہے گی، اور اگر یہ شرط وہ پوری نہ کرسکیں گی تو، جیسا کہ اوپر گزرا، ان کی مسئولیت دوسروں کے بالمقابل دگنی ہے۔ ’ فی قلبہ مرض میں مرض سے وہ کینہ و حسد مراد ہے جو اشرار منافقین آنحضرت ﷺ کے خلاف اپنے دلوں میں رکھتے تھے اور جس کے سبب سے رات دن ان کی کوشش یہ تھی کہ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کو کسی طرح بدنام کریں۔ اسی گروہ کے سرغنہ نے ’ انک ‘ کا فتنہ کھڑا کیا تھا۔ ’ وقلن قولا معروفا ‘ میں ’ قول معروف ‘ سے یہ مراد ہے کہ ایسے لوگوں سے اگر بات کرنے کی نوبت آئے تو بات بالکل صاف و سادہ انداز میں کی جائے جس طرح ایک عام آدمی سے کی جاتی ہے جس میں لگاوٹ کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا۔ یعنی ان کے ہمدردانہ لب و لہجہ سے متاثر ہو کر ان کے ساتھ کوئی نرم اندازہ نہ اختیار کیا جائے۔ یہ کمینہ لوگ ہیں اس وہ سے یہ شرافت سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔
Ayah 33:33

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اور اپنے گھروں میں ٹک کے رہو ‘ اور سابقہ جاہلیت کے سے انداز اختیار نہ کرو۔ اور نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اللہ تو بس یہ چاہتا ہے، اے اہل بیت نبی ! کہ تم سے آلودگی کو دور کرے اور تمہیں اچھی طرح پاک کرے

وقرن بیوتکن ولا تبرجن تبر الجاھلیۃ الاولی واقمن الصلوۃ واتینی الزکواۃ واطعن اللہ ورسولہ انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھر کم تطھیرا (33) اسی سلسلہ میں یہ مزید ہدایت دی گئی ہیں جن سے مقصود و ازواج مطہرات ؓ کو منافقین و منافقات کے فتنوں سے بچا کر ان کاموں میں لگانا تھا جو ان کے شایانِ شان تھے اور جن کے لئے ہی اللہ تعالٰ نے ان کا انتخاب فرمایا تھا۔ ان ہدایات کی صحیح نوعیت سمجھنے کے لئے اس بات کو ذہن میں تازہ کرلیجئے جس کی طرف ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں کی منافق عورتین ازواج نبی ؓ کے دلوں میں بھی اسی طرح کے ارمان پیدا کرنے کی کوشش کر رہیتھیں جس طرح کے ارمان ان کے اپنے دلوں میں تھے۔ مثلاً وہ کہتیں کہ اگر آپ لوگوں کو ان (محمد ﷺ قید سے رہائی حاصل ہوجائے تو وقت کے بڑے بڑے سردار آپ لوگوں کو نکاح کے پیغام دیں گے اور آپ لوگ بھی اسی طرح بن ٹھن کر زیب وزینت کے ساتھ شاپنگ اور سیر سپاٹے کے لئے نکلا کریں گی جس طرح امراء کی بیگمات نکلا کرتی ہیں۔ قرآن نے منافقات کی انہی پس پردہ وسوسہ اندازیوں اور بدآموزیوں کی طرف، تلمیح کرتے ہوئے، ازواج مطہرات ؓ کو یہ تلقین فرمائی کہ تم اپنے گھروں میں ٹک کے بیٹھو، زمانہ و جاہلیت کی عورتوں کی طرح اپنی زینتوں کی نمائش کرتی نہ پھرو۔ یہ ہدایت بالکل اسی طرح کی ہدایت ہے جس طرح کی ہدایت کوئی نیک دل باپ اپنی سعادت مند اولاد کو اس وقت کرتا ہے جب اس کے علم میں یہ بات آتی ہے کہ کچھ برے لوگ اپنی بدآموزیوں سے اس کی اولاد کی غلط راہ پر ڈال رہے ہیں۔ اس وقت اگر وہ اپنے نیک بخت بیٹے سے یہ کہتا ہے کہ تم اپنی ساری توجہ اپنی تعلیم پر مرکوز کرو، آواروں کی طرح سڑکوں پر نعرے لگاتے نہ پھرو تو اس کے معنی یہ نہیں ہوتے کہ فی الواقع اس کا لڑکا آواروں کی طرح سڑکوں پر پھر رہا تھا یا اس کے آوارہ ہونے کا اندیشہ تھا بلکہ یہ محض وقت کے آواروں پر ایک تعریض اور ان کے طریقہ سے بچانے کے لئے ایک تنبیہ ہوتی ہے۔ اسی طرح کی ہدایت ازواجِ مطہرات ؓ کو دی گئی ہے۔ اس میں درحقیقت وقلت کی بیگمات کے رویہ پر تعریض اور ان کی تحقیر ہے۔ لیکن بات ان کو خطاب کرکے کہنے کے بجائے ازواج نبی ؓ کو خطاب کرکے کہہ دی گئی ہے، ورنہ مہات المومنین ؓ میں بھلا ایسا کون تھا جس کی نسبت یہ شبہ بھی کیا جاسکے کہ ان کے دل میں گھر سے باہر پھرنے یا جہالت کی عورتوں کی طرح اپنے بنائو سنگار کی نمائش کا ارمان ہوگا ! ’ جاہلیت ‘ کے ساتھ یہ ان ’ اولیٰ ‘ کی صفت کی بنا پر ہمارے مفسرین نے اسے سے حضر نوح ؑ یا حضرت ادریس کے زمانہ کی جاہلیت مراد لی ہے۔ لیکن اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک یہ نہایت بلیغ طریقہ سے اس جاہلی تہذیب کے ختم ہونے کی طرف اشارہ ہے جس کو منافقین و منافعات اب تک اپنے سینوں سے لگائے یہ امید لیے بیٹھے تھے کہ اسلام کے ظہور سے اس کو جو دھکا لگا ہے یا لگنے کا اندیشہ ہے اس کے باوجود یہ باقی رہے گی۔ قرآن نے ان کی اسی امید پر ضرب لگانے کے لئے اس کو ’ جاہلیت اولیٰ ‘ سے تعبیر فرمایا کہ اب اسی کو قصہ ٔ ماضی سمجھو، اس کا دور اب ختم ہوچکا ہے، جو لوگ اس کے ازسر نو فروغ پانے کے خواب دیکھ رہے ہیں وہ جنت الحمقاء میں بس رہے ہیں۔ اسلام اور اسلامی تہذیب نے اس کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں اور اگر اس کے کچھ آثار باقی ہیں تو وہ بہت جلد مٹ کر رہیں گے۔ اب جو لوگ اس گھر کی درباقی کر رہے ہیں، وہ ایک اجڑے گھر کی دربانی کر رہے ہیں۔ اگر انہوں نے اپنے رویہ میں تبدیلی نہ کی تو جس دن یہ گھر گرے گا یہ بھی اس کے نیچے دفن ہو کے رہ جائیں گے۔ ’ واقمن الصلوۃ واتین الزکوٰۃ واطعن اللہ ورسولہ۔ ‘ یعنی کرنے کا کام وہ نہیں ہے جو جاہلی تہذیب کی علمبردار بیگمات کر رہی ہیں بلکہ یہ ہے کہ نماز کا اہتمام کرو اور زکوٰۃ ادا کرتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں پوری وفاداری کے ساتھ سرگرم رہو۔ یہاں نما ز اور زکوٰۃ اور اطاعت اللہ و رسول کا حوالہ دین کی جامع باتوں کی حیثیت سے آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے دائرہ کار یعنی گھروں کے اندر اسی نور کو تم پھیلائو جس نور کو باہر کی زندگی میں نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ پھیلا رہے ہیں۔ انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیرا ‘۔ یہ اہل بیت کو۔۔ اہتمام کیساتھ مخاطب کرکے، نہایت شفقت و محبت کے انداز میں تسلی دی ہے کہ یہ ہدایات جو تمہیں دی جا رہی ہیں ان سے مقصود تمہاری زندگی کو قید و بند میں جکڑنا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اہل بیت نبوت سے ہر آلائش کو دور رکھے اور ان کی نہایت اعلیٰ تربیت کرکے ان کو دنیا اور آخرت دونوں میں اپنے رسول کی رفاقت کے لائق بنائے۔ لفظ ’ رجس ‘ میں یہاں ’ بیگمات ‘ کے سامانِ زینت پر تعریض ہے کہ یہ زینت نہیں بلکہ گندگی کا بوجھ ہے جس کو یہ لادے پھر رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کے اہل بیت کو اس گندگی سے پاک رکھنا چاہتا ہے۔ اس آیت کی اصل تعلیم کی وضاحت تو اوپر کی سطروں میں ہوچکی ہے لیکن چند اور باتیں بھی اس میں قابل توجہ ہیں۔ ایک یہ کہ عورت کا اصل دائرہ کار اس کا گھر ہے۔ اس کو اپنی تمام سرگرمیوں اس کے اند رہی محدود رکھنی چاہیں اور اگر کبھی اس کو گھر کے حدود سے باہر قدم نکالنے کی ضرورت پیش آئے تو اسے ان حدود کی پابندی کرنی ہوگی جن کی تفصیل اسی سورة میں آگے آرہی ہے۔ دوسری یہ کہ عورتوں کا بنائو سنگار کرکے گھروں سے باہر نکلنا تہذیب کی ترقی کی نشانی نہیں ہے بلکہ یہ جاہلیت اولیٰ کی طرف رجعت ہے۔ تیسری یہ کہ نبی ﷺ کے اہل بیت ہونے کا شرف اصلاً آپ کی ازواجِ مطہرات ؓ کو حاصل ہے۔ یہ آیت اس باب میں نصِ قطعی کی حیثیت رکھتی ہے۔ قرآن میں اس کی نظیریں بھی موجود ہیں۔ یہاں اہل بیت ہے ازواجِ نبی ؓ کے سوا کسی اور کو مراد لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دوسروں کی شمولیت اس میں ہوسکتی ہے تو اصلاً نہیں بلکہ تبعاً وضمناً ہوسکتی ہے۔ اس وجہ سے ان غالی فرقوں کی منطق ہماری سمجھ میں نہیں آتی جو اصل کے تو منکر ہیں لیکن فروع پر بڑا طوفان کھڑا کرتے ہیں۔
Ayah 33:34

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

اور تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات اور حکمت کی جو تعلیم ہوتی ہے اس کا چرچا کرو۔ بیشک اللہ نہایت ہی باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے۔

واذکرن مایتلی فی بیوتکن من ایت اللہ والحکمۃ ان اللہ کان لطیفا خبیرا (34) یہ نبی ﷺ کی ازواج کو ان کا اصل مقصد زندگی بتایا گیا ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے ان کاموں کے لئے نہیں منتخب فرمایا ہے جن کی دعوت منافقات دے رہی ہیں بلکہ قرآن اور حکمت کی جو تعلیم ان کے گھروں میں دی جا رہی ہے وہ اس کا چرچا کریں۔ یہاں یہ بات یادر رکھنی چاہیے کہ نبی ﷺ کی بعثت جس طرح مردوں کی رہنمائی کے لئے ہوئی تھی اسی طرح عورتوں کے لئے بھی ہوئی تھی۔ آپ جس طرح باہر لوگوں کو تعلیم دیتے رہتے تھے اسی طرح اپنے گھروں کے اندر بھی تعلیم دیتے رہتے تھے۔ وحی جس طرح باہر آپ پر نازل ہوتی تھی اسی طرح گھر کے اندر بھی نازل ہوتی تھی۔ نیز جس طرح آپ کا ہر قول لوگوں کے لئے تعلیم و ہدایت تھا اسی طرح آپ کا ہر فعل بھی لوگوں کے لئے اسوہ و نمونہ تھا۔ آپ کی زندگی ’ پرائیویٹ اور پبلک کے الگ الگ خانوں میں تقسیم نہی تھی بلکہ آپ کی حیات مبارک کا ہر لمحۃ امت کی تعلیم و تربیت کے لئے وقت تھا، اس وجہ سے ضروری ہوا کہ جس طرح آپ کی باہر کی زندگی کی ایک ایک ادا کو محفوظ کرنے کے لئے آپ کے جاں نثار سایہ کی طرح آپ کے ساتھ ساتھ رہیں، اسی طرح آپ کے گھر کے اندر کی زندگی کا بھی ایک ایک پہلو محفوظ رکھنے کا انتظام ہو۔ یہ کام ظاہر ہے کہ آپ کی ازواج مطہرات ؓ ہی کے ذریعہ سے ممکن تھا۔ چناچہ یہ واقعہ ہے کہ نبی ﷺ کا علم و عمل جتنا آپ کی ازواج مطہرات ؓ کے ذریعے سے پھیلا ہے اس کی مقدار صحابہ ؓ کے ذریعے پھیلے ہوئے عل سے کسی طرح کم نہیں ہے۔ اور اس آیت سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ اس مشن پر آپ کی ازواج مطہرات ؓ کو اللہ تعالیٰ نے خود مامور فرمایا تھا کہ ان کا کام دنیا کے خوف ریزے جمع کرنا نہیں بلکہ علم و حکمت کے ان خزانوں کو خلق کے اندر لٹانا ہے جن کی بارش ان کے گھروں کے اندر ہو رہی ہے…ہمارے نزدیک یہ مصلحت بھی من جملہ ان مصالح کے ہے جن کی بنا پر نبی ﷺ کو تعداد اواج کی خاص اجازت دی گئی۔ اس مسئلہ پر آگے بحث آئے گی۔ ’ ان اللہ کان لطیفا خبیرا یعنی یہ اطمینان رکھو کہ اگر تمہاری ڈیوٹی گھروں کے اندر سے متعلق ہے تو تمہاری کوئی خدمت تمہارے رب سے مخفی نہیں رہے گی۔ خدا بڑا ہی باریک ہیں اور بڑا ہی خبر رکھنے والا ہے۔ وہ تمہارے ہر عمل اور تمہاری ہر ضرورت سے اچھی طرح باخبر ہے۔ تم اس کے بھروسہ پر اپنا فرض انجام دو ، اللہ تعالیٰ تمہاری ضروریات کا خود کفیل ہے۔
Ayah 33:35

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

اطاعت کرنے والے مرد اور اطاعت کرنے والی عورتیں، ایمان لانے والے مرد اور ایما لانے والی عورتیں، فرماں برداری کرنے والے مرد اور فرماں برداری کرنے والی عورتیں، راستباز مرد اور راستباز عورتیں، ثابت قدمی دکھانے والے مرد اور ثابت قدمی دکھانے والی عورتیں، فروتنی اختیار کرنے والے مرد اور فروتنی اختیار کرنے والی عورتیں، خیرت کرنے والے مرد اور اپنی شرم گاہوں کے حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کو کثرت سے یاد رکھنے والے مرد اور اللہ کو کثرت سے یاد رکھنے والی عورتی …ان کے لئے اللہ نے مغفرت اور اجرِ عظیم تیار کر رکھا ہے۔

ان المسلمین والمسلمت والمومنین والمومنت فالقتنتیں والقنتنت والصلقین والصدقت والصبرین والصبرات والخسعین والخشعت والمقتصدقین والمتصدقت والصالین والصئمت والخفظین نروجھم والحفظت والذکرین اللہ کثیر الذکرات اعد اللہ لھم مغفرۃ واجر اعظیما (35) اوپر جو باتیں متفرق طور پر، بعض منفی اور بعض مثبت پیرا یہ میں، فرمائی گئی ہیں۔ آخر میں ان سب کو ایک جامع اسلوب میں سامنے رکھ دیا گیا ہے اور مقصود اس سے یہ بتانا ہے کہ اللہ اور رسول کو جو معاشرہ مطلوب و محبت ہے اس کی صفات کیا ہونی چاہیں۔ یہ گویا مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کے سامنے ایک آئینہ رکھ دیا گیا ہے کہ وہ اس کو سامنے رکھ کر اپنے آپ کو سنواریں اور ان منافقبن و منافقات کے چکمے میں نہ آئین جو ان کے چہروں پر جاہلیت کی وہی سیاہی پھر ملنے کی فکر میں ہیں جس کو اللہ کے رسول نے دھونے کی کوشش کی ہے۔ یہ ساری باتیں تعداد میں دس ہیں اور اوپر سے اس پیرے میں جو ہدایت متفرق طور پر دی گئی ہیں وہ بھی الگ الگ تنیے تو دس نکلیں گی۔ جہاں چونکہ خطاب خاص طور پر ازواج مطہرات ؓ سے ہے، نیز مقصود اسلامی معاشرہ کے اجزائے ترکیبی کی بتانا ہے، اس وجہ سے عورتوں کا ذکر ضمناً نہیں بلکہ مردوں کے پہلو بہ پہلو مستقلاً آیا ہے اس لئے کہ عورتیں معاشرے کا بالکل نصف اور مساوی حصہ ہیں اور معاشرے کے بنائو اور بگاڑ میں ان کا دخل مردوں سے شاید کسرے زائد ہے : یہاں جو صفات گنائی گئی ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں :۔ 1۔ اسلام 2۔ ایمان 3۔ قنوت 4۔ صدق 5۔ صبر 6۔ خشوع 7۔ صدقہ 8۔ روزہ 9۔ عفت و حیا 10۔ ذکر اللہ یہ تعداد میں دس ہیں۔ غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اسلامی اخلاق و کردار کے تمام پہلو ان کے اندر سمٹ آئے ہیں اور چونکہ ان کا ذکر صفت کے صیغوں سے ہوا ہے اس وجہ سے یہ بحیثیت عادت و صفت کے مطلوب ہیں۔ یعنی معاشرہ کے ہر فرد پر، عورت ہو یا مرد، ان کا رنگ چھایا ہوا ہے۔ ان صفات میں سے کچھ کا تعلق حقوق اللہ سے ہے، کچھ کا تعلق حقوقل العباد سے ہے۔ اور کچھ اصلاً اصلاحِ نفس سے تعلق رکھنے والی ہیں۔ اسلام اور ایمان پورے دین کی جامع تعبیر ہے۔ ایمان دین کا باطن ہے، اسلام اس کا ظاہر ہے اور یہ دونوں بیک وقت مطلوب ہیں۔ لفظ قنوت ‘ اوپر آیت 31 میں گزر چکا ہے۔ یہ خدا اور رسول کی اس فرمانبرداری کی تعبیر ہے جو دل کی پوری یکسوئی، پوری نیاز مندی اور کامل اخلاص کے ساتھ دائما ہو۔ ’ صدق، قول، فعل ارادہ تینوں کی مطابقت اور استواری کی تعبیر کے لئے آتا ہے۔ اوپر آیت میں ’ صدقوا ما عھدو اللہ علیہ (اور انہوں نے اللہ سے جو عہد باندھا اس کو پورا کردکھایا) کے الفاظ گزر چکے ہیں۔ اس پہلو سے یہ نفاق کے بالکل ضد کردار کی تعبیر ہے۔ ہمارے ہاں قول مرداں جاں وارد، اس کے اسی پہلو کی تعبیر ہے۔ ’ صبر ‘ استقامت، استقامت، استقلال، پامردی کے مفہوم میں آتا ہے۔ جو آدمی ہر خوف و طمع کے مقابل میں خواہ وہ اس کے اندر سے سراٹھائے یا باہر سے، موقف حق پر ڈٹا اور اپنے رب سے راضی و مطمئن رہے وہ صابر ہے اور اسی کردار پر درحقیقت تمام دین قائم ہے۔ ’ خشوع ‘ کا مفہوم فروتنی اور خاکساری ہے۔ یہ چیز خدا کی ہیبت اور اس کی عظمت و جلال کے صحیح تصور سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ صفت آدمی کو اس کے رب کے آگے بھی جھکاتی ہے اور خلق کے لئے بھی اس کو مہربان و حلیم بناتی ہے۔ یہ استکبار کا ضد ہے جو تمام انفرادی و اجتماعی برائیوں کی، خواہ ان کا تعلق حقوق اللہ سے ہو یا حقوق العباد سے جڑ ہے۔ ’ تصدق ‘ کے معنی صدقہ کرنے کے ہیں۔ اس کا تعلق خاص طور پر حقوق العباد سے ہے۔ آدمی جب اپنی خواہشوں کو دبا کر اور اپنی ضروریات میں کرکے اپنا مال دوسروں کی ضروریات پوری کرنے پر خرچ کرتا ہے تو اس سے اس کے ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کی تصدیق ہوتی ہے اور یہ چیز درجہ بدرجہ اس کے ایمان کو پختہ اور استوار کرتی جاتی ہے۔ ’ صوم ‘ ضبطِ نفس اور تربیت صبر کی خاص ریاضت ہے۔ سورة بقرہ کی آیات 183۔ 187 کے تحت ہم اس کے اثرات پر بحث کرچکے ہیں۔ انسان کے تمام کردار کی بنیاد صبر پر ہے اور روزہ صبر کی تربیت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ ’ حفظ فروح ‘ عفت کی تعبیر یہ جو ضبط نفس کا ثمرہ یہ معاشرے میں خرابی پیدا کرنے کا سب سے زیادہ زود اثر شیطان کے ہاتھ میں یہی ہے کہ وہ اپنے پروپیگنڈے کے ذریعے سے عورتوں اور مردوں کے اندر عفت کے احساس کو مردہ کردیتا یہ۔ یہاں بھی اوپر کی آیت میں گزر چکا ہے کہ منافقین و منافقات کی سب سے بری کوشش یہ تھی کہ نبی ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ کے اندر زیب وزینت کی نمائش کا شوق ابھاریں تاکہ اس طرح مسلمانوں کا پورا معاشرہ بےحیائی کی راہ پر چل پرے۔ ’ ذکر اللہ ‘ تمام مذکورہ بالا صفات کا منبع اور ان کا محافظ ہے۔ بندہ جتنا ہی زیادہ اپنے رب کو یاد رکھتا ہے اتنی ہی یہ صفات اس کے اندر راسح و پختہ ہوتی ہیں۔ سارے دین کی محافظ درحقیقت اللہ کی یاد ہی ہے۔ اور نماز اللہ کے ذکر ہی کا دوسرا نام ہے۔ چناچہ قرآ میں جگہ جگہ نماز کا ذکر تمام دین و اخلاق کے محافظ کی حیثیت سے آیا ہے اور ہم اس پر بحث کرچکے ہیں۔ 6۔ آگے کا مضمون…آیات 36۔ 48 آگے حضرت زید ؓ اور حضرت زینب کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے اور یہ بھی درحقیقت اوپر کے سلسلہ بیان ہی کی ایک کڑی ہے۔ اس واقعہ کو بھی منافقین اور منافقات نے ایک فتنہ بنا لیا تھا جس سے طرح طرح کے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب سوالوں کے جواب دیے جن سے دین کے بعض نہایت اہم پہلو واضح ہوئے۔ مثلاً یہ کہ… ٭اللہ اور رسول کا حق سب سے بڑا ہے اس وجہ سے جب کسی معاملے میں اللہ و رسول کی مرضی واضح ہوجائے تو اس میں آدمی کی اپنی مرضی کالعدم ہوجاتی ہے۔ ٭رسول کا فریضہ منصبی اللہ کے احکام کی دعوت اور ان کا اجراء نفاذ ہے اس وجہ سے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم صادر ہوجائے تو اس کا فرض ہے کہ اس حکم کی تعمل کرے اور اس معاملے میں کسی کی مخالفت یا ملامت کی مطلق پروانہ کرے۔ ٭متنبی کی بیوی سے متعلق جو تصور زمانہ جاہلیت سے چلا آرہا تھا نبی ﷺ کو اپنے عمل سے اس کی اصلاح کی ہدایت اور اس معاملے میں اشرار کے غوغا کی پروا نہ کرنے کی نہایت شدت سے تاکید۔ ٭ نبی ﷺ چونکہ خاتم النبین ہیں اس وہ سے ضروری ہوا کہ آپ کے ہاتھوں دین کے ہر شعبہ کی تکمیل ہوجائے۔ اس کے کسی پہلو میں کوئی خلا نہ رہ جائے۔ ٭ نبی ﷺ کی بعثت سے اللہ تعالیٰ نے خلق پر جو عظیم فضل و احسان فرمایا اس کا بیان اور امت پر آپ کے حقوق کی طرف اشارہ۔ یہ اشارات اگرچہ اس پیرے کے ربط و نظام کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں لیکن ہم بالا جمال حضرت زید ؓ اور حضرت زینب ؓ کا واقعہ بھی ذکر کیے دیتے ہیں تاکہ آیات کے تحت جزئیات سے تعرض کی ضرورت پیش نہ آئے۔ حضرت زید بن حارثہ ؓ کا تعلق قبیلہ کلب سے تھا۔ یہ بچپن کسی غارت گری میں گرفتار ہوئے اور غلام بنا لیے گئے۔ حکیم بن حزام نے ان کو اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ ؓ کے لئے خریدا۔ حضرت خدیجہ ؓ جب آنحضرت ﷺ کے عقد نکاح میں آئیں تو انہوں نے ان کو آنحضرت ﷺ کو ہبہ کردیا۔ اس طرح ان کو حضور ﷺ کی غلامی کا شرف حاصل ہوا۔ حضور ﷺ کی غلامی کی جو قدر وعزت نے ان کی نگاہوں میں تھی اس کا اندازہ اس سے کیجئے کہ جب ان کے والد اور چچا نے آنحضرت صلعم سے ان کی آزادی کا مطالبہ کیا تو حضور ﷺ نے ان کو اختیار دے دیا کہ وہ چاہیں تو اپنے باپ کے پاس چلے جائیں، چاہیں تو حضور ﷺ کی خدمت میں رہیں۔ اس موقع پر حضرت زید ؓ نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ اپنی محبت کی جو مثال پیش کی وہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے آزادی کا اختیار نامہ پاجانے کے باوجود اس آزادی پر ھضور ﷺ کی غلامی کو ترجیح دی۔ خواجہ حافظ نے شاید اسی واقعہ کو سامنے رکھ کر اپنا یہ لاجواب شعر کیا ہو۔ بولائے تو کہ گر بندہ خویشم خوانی از خواجگی کون و مکان برخیزم اس کے بعد حضور ﷺ نے ان کو آزاد کردیا۔ ان سے محبت تو ان کی خوبیوں کے سبب سے حضور ﷺ کو شروع ہی سے تھی۔ اس واقعہ کے بعد وہ چو چند ہوگئی۔ یہاں تک کہ حضور ﷺ کے غیر معمولی التفات و اعتماد کو دیکھ کر لوگوں نے یہ گمان کرلیا کہ آپ نے ان کو منہ بولا بیٹا بنا لیا ہے۔ واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں انتظامی اور فوجی صلاحیتیں بھی تھیں۔ متعدد مواقع پر آپ ﷺ نے ان کو فوجی دستوں کی سر کردگی سپر کی اور بعض مواقع پر، حضور ﷺ کی غیبت میں، وہ مدینہ پر امیر بھی رہے۔ حضور ﷺ نے ان کی عزت افزائی کے لئے ان کا نکاح اپنی پھوپھی زاد بہن، حضرت زینت بنت حجش ؓ کے ساتھ کردیا۔ ان کا تعلق خاندان بنی اسد تھا۔ ان کی والدہ امیمہ بنت عبد المطلب تھیں۔ جب حضور ﷺ نے حضرت زید ؓ کے لئے حضرت زینب ؓ کو پیغام دیا تو ان کے عزیزوں کو اس رشتہ پر اعتراض ہوا کہ حضرت زید ؓ ایک آزاد کردہ غلام اور غیر کفو ہیں۔ لیکن آنحضرت ﷺ یہ چاہتے تھے کہ غلاموں سے متعلق لوگوں کے تصورات میں تبدیلی پیدا ہو اس وجہ سے آپ نے اس نکاح پر اصرار فرمایا۔ بالآخر حضرت زینب ؓ راضی ہوگئیں اور انکاح ہوگیا۔ نکاح کے بعد منافقین اور منافقت نے فتنہ اٹھایا کہ محمد ﷺ نے ایک معزز گھرانے کی ایک شریف خاتون کا دامن اپنے ایک آزاد کردہ غلام کے ساتھ باندھ دیا ہے۔ اس قسم کی معاشرتی اصلاحات کو عوام کا ذہن آسانی سے قبول نہیں کرتا اس وجہ سے اس نکاح کے خلاف ایک مخالفانہ فضا پیدا ہوگئی۔ خاص طور پر منافقات نے حضرت زینب ؓ کو ورغلانے کی پوری کوشش کی۔ ان کو غیرت دلائی کہ یہ سخت ظلم ہے کہ ان کو ایک ایسے شخص کے حبالہ عقد میں دے دیا گیا ہے جو ابھی تکل تک ایک زر خرید غلام تھا۔ آخر حضرت زینب ؓ بشر ہی تھیں، کوئی فرشتہ نہیں تھیں، اس وجہ سے ان کے دل پر بھی ان باتوں کا اثر پڑا ہوگا۔ حضرت زید ؓ ایک حساس، خودار، منکر المزاج آدمی تھے۔ آنحضرت ﷺ کی تمام دالداریوں کے باوجود اپنی غلامی کے دور کو بھولے نہیں تھے۔ دوسری طرح سیدہ زینبت ؓ کے مزاج میں فی الجملہ تمکنت اور تیزی تھی۔ عام حالات میں تو یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو خوش گوار معاشرت میں خلل انداز ہو لیکن منافقین نے چونکہ فضا بدگمانی کی بنادی تھی اس وجہ سے حضرت زید ؓ کو یہ احساس ہونے لگا کہ حضرت زینبت ؓ اپنے اندر ایک تفوق کا احساس رکھتی اور اس تعلق کو ناپسند کرتی ہیں۔ بالآخر انہوں نے ارادہ کیا کہ حضرت زینب ؓ کو طلاق دے دیں کہ ان کی کبیدگی بھی رفع ہوجائے اور خود ان کے سرکا بوجھ بھی اتر جائے۔ لیکن کوئی اقدام کرنے سے پہلے انہوں نے چاہا کہ حضور ﷺ کا ایماء بھی معلوم کرلیں اس لئے کہ حضور ﷺ ہی نے یہ رشتہ کرایا تھا۔ جب حضور ﷺ سے انہوں کے اپنے ارادہ کا ذکر کیا تو آپ نے پوچھا کہ کیا ان کی طرف سے کوئی ایسی بات ظاہر ہوئی ہے جو تمہیں شک میں ڈالنے والی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایسی کوئی بات ہرگز نہیں ہے لیکن وہ اپنے خاندانی شرف کا احسس رکھتی اور اس کا اظہار بھی کرتی ہیں اور یہ چیز میرے لئے باعثِ اذیت ہے۔ حضور ﷺ نے اس پر سختی سے ان کو اراہ طلاق سے روکا اور خوفِ خدا یاد دلایا۔ اس لئے کہ مجرد اپنا ایک ذاتی احساس اس بات کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ بیوی کو طلاق دے دی جائے۔ حضرت زید ؓ کا یہ ارادہ مختلف وجوہ سے حضور ﷺ کے لئے پریشانی کا باعث ہوا۔ اول تو اس وجہ سے کہ حضور ﷺ ہی نے، جیسا کہ اوپر گزرا، ایک نہایت اعلیٰ مقصد یہ رشتہ کرایا تھا۔ قدرتی طور پر آپ کی آرزو یہی تھی کہ منافقین و منافقات کی ریشہ دوانیوں کی علی الرغم فریقین خوشگواری کے ساتھ نباہ کرتے رہیں اور یہ رشتہ کامیاب ہو۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ اس طلاق سے حضر زینتب ؓ کی حیثیت عرفی کو بڑا نقصان پہنچتا اور ان کا غم دہرا ہوجاتا۔ پہلے تو انہوں نے منافقین و منافقات کے یہ طعنے سنے کہ ایک آزاد کردہ غلام کی بیوی ہیں اور اس طلاق کے بعد لوگ یہ طعنہ دیتے کہ ایک آزاد کردہ غلام کی مطلقہ ہیں۔ تیسری وجہ یہ تھی کہ حضور ﷺ اس سارے واقعہ کی ذمہ داری اپنے اوپر سمجھتے تھے، اس وہج سے حضرت زینب ؓ کی دالداری ضروری خیال فرماتے تھے۔ آپ کے دل میں یہ خیال تھا کہ اگر زید ؓ نے طلاق دے دی تو زینب ؓ کی دالداری کی واحد شکل یہ باقی رہ جائے گی کہ حضور ﷺ ان کو خود اپنے نکاح میں لے لیں، لیکن اس صورت میں اس سے بھی بڑے ایک دوسرے فتنے کے اٹھ کھڑے ہونے کا اندیشہ تھا کہ لوگ کہیں گے کہ آپ ﷺ نے اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح کرلیا۔ علاوہ ازیں اس میں یہ شکل بھی تھی کہ عام مسلمانوں کے لئے ازواج کے باب میں چار تک کی تحدید کا حکم نازل ہوچکا تھا اور اس وقت حضور ﷺ کے نکاح میں چار بیویاں تھیں۔ ان مختلف وجوہ سے آنحضرت ﷺ کی دلی خواہش یہی تھی کہ حضرت زید ؓ طلاق نہ دیں، چناچہ آپ باصرار ان کو اس ارادہ سے روکتے رہے، لیکن حضرت زید ؓ حالات کا مقابلہ نہ کرسکے۔۔ ان کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ سارا ہنگامہ ان کے اس نکاح کے سبب سے اٹھا ہے اور اس کا علاج یہی ہے کہ وہ طلاق دے دیں تاکہ حضرت زینب ؓ کی جان بھی ضیق سے چھوٹے اور ان کو بھی اطمینان کا سانس لینے کا موقع ملے۔ چناچہ انہوں نے طلاق دے دی۔ حضرت زینب ؓ کو اس طلاق سے صدمہ ہوا۔ روایات میں آتا ہے کہ ان کو جب اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے انا اللہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ جب بات یہاں تک پہنچ گئی تو، جیسا کہ اوپر گزرا، حضور ﷺ نے حضرت زینب ؓ سے نکاح کرلینا چاہا لیکن منہ بولے بیٹے کے معاملے میں جاہلیت کی جو رسم تھی اس کے سبب سے اور تحدید نکاح کے سبب سے بھی آپ مترد رہے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ہدایت ہوئی کہ لوگوں کی مخالفت سے بےپروا ہو کر آپ ﷺ یہ نکاح کرلیں تاکہ آپ کے عمل سے ایک غلط رسم کی اصلاح ہوجائے اور دین فطرت کے اندر ایک خلافِ فطرت چیز جو گھسی ہوئی ہے اس کا خاتمہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کے بموجب آپ ﷺ نے حضرت زینب ؓ سے نکاح کرلیا۔ یہ اصل واقعہ ہے جو میں نے تمام روایات کی تحقیق کے بعد، آپ کے سامنے رکھ دیا ہے۔ اس طول بیان کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ مستشرقین نے اس واقعہ کو اپنی رنگ آمیزیوں سے نہایت مکروہ بنا دیا ہے اور صدمہ کی بات یہ ہے کہ انہوں نے اس رنگ آمیزی کے لئے سارا مواد ہماری تفسیر و سیرت کی کتابوں ہی سے لیا ہے… اب اس روشنی میں آس آیات کی تلاوت فرمائیے۔