33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 33:36

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

کسی مومن یا مومنہ کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملہ کا فیصلہ کردیں تو ان کے لے اس میں کوئی اختیار باقی رہ جائے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو وہ کھلی ہوئی گمراہی میں پڑا۔

7۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت وما کان لمومن ولا مامنۃ اذا تضی اللہ ورسولہ امرا این یکون لھم الخیرۃ من امرھم ومن یعض اللہ ورسولہ فقد صل ضللا مبینا (36) یہ آگے آنے والے واقعہ کی تمہید ہے اور اس میں جو بات فرمائی گئی ہے کہ اس کا تعلق خاص حضرت زید ؓ و حضرت زینب ؓ سے نہیں ہے بلکہ اس کی نوعیت ایک کلیہ کی ہے۔ اوپر آیت 6 میں فرمایا ہے کہ النبی اولی بالمومنین من انفسھم (نبی کا حق مومنوں پر خود ان کے اپنے مقابل میں زیادہ ہے) اسی کی روشنی میں یہ قطعی اصول بیان فرمادیا کہ جب اللہ اور رسول کسی معاملہ کا فیصلہ کردیں تو اس میں کسی مومن یا مومونہ کے لے کسی چون و چرا کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اللہ کا رسول جو فیصلہ بھی کرتا ہے وہ اللہ کے اذن سے کرتا ہے اس وجہ سے اس کی حیثیت مطاع مطلق کی ہوتی ہے، پھر کسی کے لئے بھی یہ جائز نہیں یہ کہ اس پر معترض ہو یا اس کی خلاف ورزی کرے۔ جو اس کی خلاف ورزی کرے گا وہ کھلی ہوئی گمراہی میں پڑا۔ یہ بات یہاں ملحوظ رہے کہ یہ حکم اس صورت سے متعلق ہے جب یہ واضح طور پر معلوم ہو کہ نبی ﷺ نے جو بات فرمائی ہے اس کی نوعیت ایک قطعی فیصلہ کی ہے ورنہ بسا اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ آپ ﷺ نے کوئی بات بطور تجویز یا مشورہ کے پیش کی ہے اور صحابہ ؓ کو معلوم ہوا ہے کہ یہ بات وحی پر مبنی نہیں ہے بلکہ حضور ﷺ کی رائے یا تجویز ہے تو صحابہ ؓ نے اس کے مقابل میں اپنی تجویزیں بھی پیش کی ہیں اور حضور ﷺ نے بعض اوقات ان کی تجویز مان بھی لی ہے۔ حضرت زید ؓ و حضرت زینب ؓ کے واقعہ کی جو تفصیل ہم نے اوپر پیش کی ہے اس سے یہ امر واضح ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی حضور ﷺ کے کسی فیصلہ کی مخالفت نہیں کی۔ حضرت زینب ؓ کو جب حضور ﷺ نے حضرت زید ؓ کے لئے پیغام دیا تو ان کو معلوم تھا کہ یہ کوئی حکم نہیں بلکہ ایک پیغام ہے جس ہیں وہ اپنی پسند یا ناپسند کے اظہار کے لئے آزاد ہیں۔ بعد میں جب ان کو معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کی خواہش یہی ہے کہ یہ رشتہ ہوجائے تو انہوں نے اس کو منظور فرما لیا۔ اسی سے ملتی جلتی صورت اس وقت پیش آئی جب حضرت زید ؓ کے طلاق کے بعد خود حضور ﷺ نے اپنے لئے حضرت زینب ؓ کو پیغام دیا۔ انہوں نے اس کو بھی کوئی حکم یا فیصلہ نہیں سمجھا بلکہ ایک پیغام ہی تصور کیا اور فرمایا کہ میں اس معاملے میں اپنے رب سے استخارہ کیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کروں گی۔ چناچہ استخارہ کے بعد ہی اس کو انہوں نے منظور کیا۔ اسی طرح حضرت زید ؓ نے بھی حضور ﷺ کے کسی حکم یا فیصلہ کی خلاف ورزی نہیں کی۔ طلاق نہ دینے کے باب میں حضور ﷺ کے ارشا دکو انہوں نے محض ناصحانہ مشورہ پر محمول کیا اس کو کوئی فیصلہ نہیں سمجھا۔ انہوں نے خیال فرمایا کہ اگرچہ حضور ﷺ کی خواہش یہی ہے کہ طلاق کی نوبت نہ آئے لیکن یہ فیسلہ بہرحال انہی کو کرنا ہے کہ وہ نباہ کرسکتے ہیں یا نہیں۔ چناچہ جب ان کو محسوس ہوا کہ اب ان کے لئے اس رشتہ کو زیادہ دیر تک نباہنا ممکن نہیں رہا، انہوں نے طلاق دے دی۔ ہمارے نزدیک اس حکم کی نوعیت یہاں ایک عام کلیہ کی ہے جس کے بیان کے لئے وقت کے حالات و واقعات نے مناسب فضا پیدا کردی تھی۔ اس سے یہ بات بالکل واضح طور پر سامنے آگئی کہ رسول ﷺ کے کسی حکم اور فیصلہ کی خلاف ورزی کس مومن یا مومنہ کے لئے جائز نہیں ہے۔ یہ بات ایمان کے مقتضیات کے بالکل خلاف ہے اور جو اس کا مرتکب ہوتا ہے وہ صریح ضلالت کا مرتکب ہوتا ہے۔ ایمان کا یہ مقتضی ان منافقین و منافقات پر واضح کرنا ضروری تھا جن کا رویہ شروع سے اس سورة میں زیر بحث ہے تاکہ وہ اللہ اور رسول کی کامل اطاعت پر مجتمع ہوں اور اگر وہ اس کے لئے تیار نہیں ہیں تو اس کے نتائج بھگتنے کے لئے تیار رہیں۔
Ayah 33:37

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

اور جب کہ تم اس سے، جس پر اللہ نے بی انعام کیا اور تم نے بی انعام کیا، یہ کہہ رہے تھے کہ اپنی بیوی کو روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا تھا، اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے، حالانکہ اللہ زیادہ حق دار ہے اس بات کا کہ تم اس سے ڈرو۔ پس جب زید نے اس سے اپنا رشتہ کاٹ لیا تو ہم نے اس کو تم سے بیاہ دیا کہ مومنوں کے لئے ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملے میں، جب کہ وہ ان سے اپنا تعلق بالکل کاٹ لیں، کوئی تنگی باقی نہ رہے، اور خدا کا فیصلہ شدنی تھا۔

واذ تقول للذی انعمل اللہ علیہ وانعمت علیہ امسک علیک زوجک واتق اللہ وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ وتخشی الناس واللہ احق ان تخشہ فلما قضی زید منھا وطرازوجنکھا لکی لا یکون علی المومنین حرج فی ازواج ادعیائھم اذ ققنوا منھن وطراط وکان امر امفعولا (37) یہ اصل واقعہ کی طرف اجمالی اشارہ ہے۔ حضرت زید ؓ کا ذکر یہاں انعمل اللہ علیہ وانعمت علیہ کی صفت کے ساتھ ہوا ہے یعنی اللہ اور رسول دونوں کے انعام یافتہ اور منظور نظر۔ اس صفت کے ساتھ ذکر کرنے کی یہاں خاص وجہ ہے۔ اوپر گزر چکا ہے کہ منافقین و منافقات نے حضرت زید ؓ کو غلامی کا طعنہ دے کر لوگوں کی نگاہوں میں ان کو گرانے کی پوری کوشش کی تاکہ پیش نظر مہم میں ان کو کامیابی حاصل ہوجائے۔ حضرت زید ؓ کو اس سے جو تکلیف پہنچی ہوگی وہ ظاہر ہے لیکن انہوں نے پورے صبر کے ساتھ یہ توہین برداشت کی۔ اس صبر کا صلہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہدیا کہ ان کا ذکر اس صفت کے ساتھ کیا تاکہ جن لوگوں نے ان کی توہین کرنے کی کوشش کی ان پر واضح ہوجائے کہ جس کو انہوں نے حقیر ٹھہرایا اس پر اللہ نے بھی انعام فرمایا ہے اور اس کے رسول ﷺ نے بھی۔ ظاہر ہے کہ جو اللہ و رسول کا انعام یافقہ ہے وہ کسی دوسرے کی عزت بخشی کا محتاج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا انعام یوں تو ہر فرد پر ہے۔ بندہ جو کچھ بھی پاتا ہے خدا ہی سے پاتا ہے لیکن حضرت زید ؓ کے حالات پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ان کے ساتھ بالکل اس طرح کا معاملہ ہوا جس طرح کا معاملہ حضرت یوسف ؑ کے ساتھ ہوا۔ یہ ایک غارت گری میں گرفتار ہوئے (غالباً ایک نصرانی کے) غلام رہے، پھر غلام ہو کر بکے، بالآخر درجہ بدرجہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کارسازی سے ان کو حضور ﷺ تک پہنچا دیا کہ بعد ان کے لئے دین و دنیا کے سعادتوں کے دروازے کھل گئے۔ رسول اللہ ﷺ کا انعام ان پر یہ ہوا کہ آپ کے فیض خدمت سے ان کو اسلام کی نعمت حاصل ہوئی۔ آپ نے ان کو محبت و اعتماد کا وہمقام بخشا کہ لوگ ان کو حضور ﷺ کا منہ بولا بیٹا سمجھنے لگے۔ آپ نے ان کو غلامی سے آزادی بخشی۔ اپنی حقیق پھوپھی زاد بہن سے شادی کردی۔ جس کے معنی یہ ہے کہ حضور ﷺ نے ان کو اپنے اہل بیت میں شامل کرلیا جس سے بڑا خاندانی شرف کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ املک علیل زوجک واتق اللہ سے پہلے ’ واذ تقول ‘ کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضور ﷺ نے یہ بات حضرت زید ؓ سے بار بار فرمائی کہ اپنی بیوی کو اپنے نکاح میں باقی رکھو اور اللہ سے ڈرو، اگر یہ بات ایک ہی مرتبہ کہنے کی نوبت آئی ہوتی تو ’ قلت ‘ کافی تھا۔ ’ تقول ‘ کی ضرورت نہیں تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت زید ؓ نے اپنے ارادے کا اظہار حضور ﷺ کے سامنے کئی بار کیا اور حضور نے ہر بار ان کو اس سے روکا اور خدا کا خوف یاد دلایا۔ ’ واتق اللہ ‘ کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت زید ؓ کے ارادہ طلاق کو محض ان کے شدت احساس پر محمول فرمایا، کوئی معقول وجہ اس اقدام کے لئے آپ نے نہیں پائی۔ اوپر گزر چکا ہے کہ جب آپ ﷺ نے ان سے یہ سوال فرمایا کہ ’ کیا زینب کی طرف سے کوئی ایسی بات تمہارے سامنے آئی ہے جو شک پیدا کرنے کو موجب ہوئی ہے۔ تو انہوں نے صاف کہا کہ اس طرح کی کوئی بات نہیں ہے۔ ان کو اگر کوئی شکایت تھی تو خود ان کے الفاظ میں بس یہ تھی کہ تتعظم علی لشرفھا (وہ میرے مقابل میں اپنے شرفِ خاندانی کے باعث تفوق کا احساس رکھتی ہیں) ظاہر ہے کہ مجرد یہ بات بیوی کو طلاق دینے کے لئے کافی نہیں یہ۔ اس میں حضرت زینب ؓ کے رویہ سے زیادہ خود حضرت زید ؓ کے شدت احساس کو دخل ہوسکتا ہے بالخصوص اس فضا میں جو اس وقت منافقین و منافقات نے پیدا کردی تھی۔ اس وجہ سے حضور ﷺ نے ان کو خوفِ خدا یاد دلایا کہ وہ اس معاملہ میں جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی قدم نہ اٹھائیں بلکہ اللہ سے ڈریں لیکن حضرت زید ؓ مخالفین کے اٹھائے ہوئے طوفان سے متاثر ہوگئے اور اس تاثر میں زیادہ دخل ان کی شرافت اور حضرت زینب ؓ کے جذبات کے لحاظ کو تھا۔ انہوں نے محسوس فرمایا کہ میرے سبب سے حضرت زینب ؓ ہدفِ مطاعن بنی ہوئی ہیں، اس کا علاج یہی ہے کہ طلاق دے کر ان کو نکتتہ چیینوں کی زبان درازیوں سے نجات دلائی جائے۔ ’ وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ وتخشی الناس واللہ احق ون تخشہ۔ یہ جملہ حال کے محل میں ہے یعنی زید ؓ سے جب تم یہ کہہ رہے تھے کہ اپنی بیوں کو طلاق نہ دو ، اللہ سیڈرو، تو اس وقت تم اپنے دل میں ایک بات چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ بہرحال ظاہر کرنے والا تھا۔ اس ٹکڑے کے تحت ہمارے غیر محتاط مفسرین نے فضول قسم کی جو روایات نقل کردی ہے ان سے تعرض کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بالکل بےاصل ہیں۔ ابن کثیر کا تبصرہ ان پر بالکل صحیح ہے کہ احببنا ان نضرب عنھا صفحا لعدم صحتھا فلا نورد ھا (یہ روایات بےاصل ہیں اس وجہ سے ہم نے ان سے صرف نظر ہی پسند کیا اور ان کو نقل نہیں کر رہے ہیں) ہمارا قول بھی ان کے باب میں یہی ہے۔ تردید کے لئے بھی ان کو نقل کرنا ہم معصیت سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ابن جریر َ ؒ کو معاف کرے، وہ رایات نقل کرنے کے معاملے میں نہایت ہی غیر محتاط ہیں۔ اصلی واقعہ وہی ہے جس کی طرف ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ یہ نکاح چونکہ آنحجرت ﷺ نے خود ہی ایک دینی مصلحت کے تحت کرایا تھا اس وہ سے آپ کی دلی آرزو یہی تھی کہ یہ کامیاب ہو۔ چناچہ آپ ﷺ نے حضرت زید ؓ کو ارادہ طلاق سے بتاکید روکنے کی کوشش کی۔ آپ کے دل میں یہ خیال تھا کہ اگر زید ؓ نے طلاق دے دی تو زینب ؓ کو دہرا غم ہوگا کہ انہوں نے اس نکاح کی بدولت دشمنوں کے طعنے بھی سے اور بالآخر ایک آزاد کردہ غلام کی مطلقہ بن کر اپنی حیثیت عرفی بھی ہمیشہ کے لئے گنوا بیٹھیں۔ ان کی دلداری اور اس نقصان کی تلافی کی واھد شکل پھر صرف یہ رہ جاتی تھی کہ حضور ﷺ خود ان کو اپنے نکاح میں لے لیں، لیکن ایسا کرنے میں یہ اندیشہ تھا کہ منافقین اس کو ایک اور اس سے بھی بڑے فتنہ کا ذریعہ بنا لیتے اور لوگوں میں یہ پھیلاتے کہ آپ ﷺ نے اپنے متنبی کی بیوی سے نکاح کرلیا ہے۔ آپ اس فتنہ سے بچنا چاہتے تھے اس وجہ سے آپ کی دل آرزو دیہی تھی کہ طلاق کی نوبت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہی تھا کہ یہ نوبت آئے تاکہ آپ کے ہاتھوں جاہلیت کی ایک غلط رسم کی اصلاح ہو اور انبیاء (علیہم السلام) پر اللہ تعالیٰ نے یہ ذمہ داری جو ڈالی ہے کہ وہ دین کے معاملے میں کسی کی ملامت و مخالفت کی کوئی پرواہ نہ کریں، آپ اپنے عمل سے اس کا مظاہرہ کریں۔ مصلحت سے بےپروا ہوں، چناچہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی پوری تاریخ شاہد ہے کہ انہوں نے خود اپنے ہاتھوں اس راہ کے ہر پتھر کو توڑا اور اس مقصد کی خاطر بڑے سے بڑے خطرے کا مقابلہ کیا اور یہی نمونہ اپنے بعد آنے والے ان لوگوں کے لئے انہوں نے چھوڑا جو ان کے طریقہ پر دین کی خدمت کے لئے اٹھیں۔ ’ فلما قضی زید منھا وطرا زوجنکھا الایۃ“ یعنی جو راز تم اپنے دل میں رکھتے تھے لیکن لوگوں کی ملامت کے اندیشہ سے اس سے گریز کرنا چاہتے تھے بالآخر اللہ نے اس کے افشاء کا سامان کردیا کہ جب زید ؓ نے اپنا تعلق زینب ؓ سے بالکل منقطع کرلیا تو ہم نے اس کو تمہارے ساتھ بیا دیا تاکہ منہ بولے بیٹوں کے معاملے میں ایک خلفِ فطرت رسم جو قائم ہوگئی ہے اس کی اصلاح ہو اور کوئی ناروا قسم کی پابندی لوگوں پر اس معاملے میں باقی نہ رہے۔ ’ وطر ‘ کے معنی ضرورت و حاجت کے ہیں۔ یہیں سے اس کے اندر تعلق اور وابستگی کا مفہوم بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ انسان کو جس چیز کی ضرورت ہو اس کے ساتھ لازماً وابستگی بھی ہوتی ہے۔ تضی زید منھا وطرا کے معنی ہوں گے زید نے اس سے اپنا تعلق بالکل منقطع کرلیا۔ لفظ طلاق سے اس مضمون کو ادا کرنے کے بجائے اس اسلوب سے ادا کرنے کا فائدہ یہ ہوا کہ اس سے زمانہ عدت کے گزرنے کی طرف بھی اشارہ ہوگیا جس کے گزر جانے کے بعد طلاق دینے والے کا ہر تعلق عورت سے منقطع ہوجاتا ہے۔ ’ زوجنکھا ‘ کا مطلب یہ ہے کہ تم تو لوگوں کے اندیشہ سے اس نکاح کی ذمہ داری سے گزیز کرنا چاہتے تھے لیکن ہم نے اپنے حکم سے یہ نکاح تمہارے ساتھ کرا دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ نے یہ نکاح اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تحت کیا۔ روایات میں آتا ہے کہ عدت گزرنے کے عبد حضور ﷺ نے حضرت زید ؓ ہی کے واسطہ سے حضرت زینب ؓ کو پیغام دیا۔ انہوں نے استخارہ کے بعد اس کو منظور کیا۔ حضرت زینب ؓ کے بھائی ابو احمد بن حجش ؓ نے حضور ﷺ کے ساتھ ان کا نکاح پڑھایا اور حضور ﷺ نے چار سو درہم مہر مقرر فرمایا اور نہایت اہتمام کے ساتھ ولیمہ کیا…بعض لوگوں نے لفظ ’ زوجنا ‘ سے یہ سمجھا ہے کہ یہ نکاح آسمان ہی پر ہوگیا تھا، زمین پر اس کی رسم ادا کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی لیکن ابن ہشام میں وہ ساری تفصیل موجود ہے جو اوپر ہم نے نقل کی ہے اس وجہ سے صحیح بات یہ ہے کہ یہ نکاح اللہ تعالیٰ کے حکم سے بالکل اسی معروف طریقہ کے مطابق ہوا جو اللہ اور رسول ﷺ نے نکاح کے لئے پسند فرمایا ہے۔ ’ وکان اللہ امرا للہ مفعولا۔ ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس رسم جاہلی کی اصلاح کے لئے جو وقت اور جو طریقہ مقرر کر رکھا تھا جب وہ وقت آگیا تو اسی طریقہ کے مطابق اس کی اصلاح ہوگئی اور دشمنوں نے اس راہ میں جو اڑنگے ڈالے اور اس کے خلاف جو فتنے اٹھائے وہ اس خدائی اسکیم میں ذرا بھی خلل انداز نہ ہوسکے۔
Ayahs 33:38–39

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

اور نبی کے لئے اللہ نے جو کچھ فرض کیا اس میں کوئی تنگی نہیں ہے۔ یہی اللہ کی سنت رہی ہے ان لوگوں کے معاملے میں بھی جو پہلے گزرے ہیں۔ اور اللہ کے فیصلہ کے لئے ایک وقت مقرر تھا۔

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

وہ اللہ کے پیغاموں کو پہنچاتے تھے اور اسی سے ڈرتے تھے اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔ اور اللہ حساب کے لئے کافی ہے۔

ماکان علی النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل وکان امر اللہ قدر مقدورا الذی یبلغون رسلت اللہ ویخشونہ ولا یخشون احد الا اللہ وکفی باللہ حسیبا (38۔ 39) یہ نبی ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ آپ کی زندگی کے پروگرام میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے مراحل جو رکھ ہیں یہ کسی زحمت کے لئے نہیں رکھے ہیں اور نہ یہ تنہا آپ ہی کے ساتھ مخصوص ہیں بلکہ سابق انبیاء کو بھی اس طرح کے مراحل سے گزرنا پڑا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جو اس نے اپنی حکمت کے تحت مقرر فرمائی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حضراتِ انبیا کو اس طرح کی مشکلات جو پیش آتی ہیں یہ ان کی تربیت اور امتحان کے لئے پیش آتی ہیں اور ٹھیک ٹھیک خدا کے مقرر کردہ پروگرام کے مطابق پیش آتی ہیں۔ انہی امتحانوں سے ان کے اوصاف اجاگر ہوتے ہیں اور انہی سے ان کے پیروئوں کا اخلاص یا کھوٹ بھی ابھر کر سامنے آتا ہے۔ ’ فرض اللہ لہ، کا مفہوم ’ فرض اللہ علیہ سے مختلف ہے۔ فرض اللہ علیہ کا مفہوم تو یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے اس پر فرض کیا ہے اور فرض اللہ لہ کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے اس کے لئے مقسوم کیا ہے کہ اس کی زندگی میں یہ یہ احوال و مراحل پیش آئیں گے۔ سنہ اللہ من الذین خلوا میں زبان کا جو اسلوب ہے اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اس اسلوب کو کھول دیجئے تو پوری بات یوں ہوگی۔ سن اللہ ذلک سنۃ فی الانبیاء (یہ اللہ نے اپنے نبیوں کے لئے ایک سنت مقرر کر رکھی ہے۔ (۔ ’ وکان امر اللہ قدرا مقدورا۔ یعنی اللہ نے اپنے فیصلہ کے ظہور کے لئے ایک وقت پہلے سے مقرر فرمادیا تھا، جب وہ وقت آگیا تو اس کا حکم صادر ہوگیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ زندگی میں کوئی چیز بھی اتفاق سے پیش نہیں آجاتی بلکہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے پروگرام کے مطابق پیش آتی ہے۔ اس وجہ سے کسی امر کو اتفاق پر محمول کرکے نہ اس سے پریشان ہونا چاہیے نہ اس کو نظر انداز کرنا چاہیے بلکہ اس کو خدا کی طرف سے سمجھنا اور اس طرح اس کو مواجہہ کرنا چاہیے جو ایمان کا تقاضا ہے۔ الذین یبلغون رسلت اللہ ویخسونہ ولا یخشون احد اللہ یہ الذین خلوا من قبل یعنی انبیائے سابقین کی صفت ہے کہ وہ اللہ کے پیغاموں کی تبلیغ کرتے رہے ہیں، اس معاملے میں، اس کے سوا کسی اور کی پروا انہوں نے نہیں کی۔ مطلب یہ ہے کہ جو ذمہ داری اللہ نے اپنے سابق نبیوں پر ڈالی اور انہوں نے وہ بےخوف لومہ لائم ادا کی وہی اس نے آپ پر بھی ڈالی ہے اور آپ کا بھی یہ فرض ہے کہ اپنے پیش روئوں کی طرح بےخوف لومۃ لائم اس کا ادا کریں۔ ’ وکفی باللہ حسیبا میں حسیب“ کی تفسیر ابن کثیر اور کشاف نے ’ ناصر ] اور معین کی ہے۔ یعنی اللہ تمام خطرات سے حفاظت کے لئے کافی ہے۔ اگر یہ تاویل قبول کریلجائے تو نظم کلام بالکل واضح ہے اور اگر حسیب کے معنی حساب کرنے والے کے کیے جائیں، جیسا کہ معروف ہے۔ تو یہ ٹکڑا تنبیہ کے مفہوم میں ہوگا کہ اگر اللہ کے پیغام کی تبلیغ میں دوسروں کے خوف یا لحاظ کے سبب سے ادنیٰ کوتاہی بھی ہوئی تا یاد رہے کہ اللہ محاسبہ کے لئے کافی ہے۔
Ayah 33:40

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں اور اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔

ما کان محمد ابا اھد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبین وکان اللہ بکل شئی علیما (40) یہ خطاب ان لوگوں سے ہے جو آنحضرت ﷺ کو حضرت زید ؓ کا باپ قرار دے کر اس فتنے کے اٹھانے والے بنے تھے۔ فرمایا کہ محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبی نہیں۔ نبی و رسول کی حیثیت سے ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ انہوں نے ادا کی اور چونکہ یہ خاتم النیبن ہیں اس وجہ سے ضروری تھا کہ انہی کے ذریعے سے اس رسم بد کی اصلاح ہوجائے۔ اگر ان کے بعد کوئی اور نبی آنے والا ہوتا تو ہوسکتا تھا کہ اس معاملے کو اللہ تعالیٰ آئندہ پر اٹھا رکھتا لیکن اب کوئی نبی آنے والا نہیں ہے، انہی کے ہاتھوں دین کی تکمیل ہونی ہے۔ اس وجہ سے ہر وہ چیز درست کی جائے گی جو بگری ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ان کے معاملات کو اپنے مفروضات کی روشنی میں نہ دیکھو بلکہ ان کے اصل منصب اور اس کی ذمہ دارویوں کی روشنی میں دیکھو۔ اگر ان کے اصل منصب کو تم نے پہنچانا تو اسی طرح دوسری اور بہت سی باتوں پر بھی تمہیں اعتراوض ہوں گے حالانکہ انہیں وہ سارے کام بےخوف لومۃ لائم کرنے ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ہدایت ہوگی۔ اور یہہ بھی یاد رکھو کہ یہ تمہاری طرف اللہ کے رسول ہیں۔ اگر تم نے ان کی تکذیب کردی تو اس سنت الٰہی کی زد میں آنے سے نہیں بچ سکو گے جو اللہ نے اپنے رسولوں کے مکذبین کے لئے مقرر کر رکھی ہے اور جو ہمیشہ ظہور میں آئی ہے۔ ’ ما کان محمد ابا احد من ربی لکم ‘ میں دراصل نفی تو اسی غلط فہمی کی ہے جس میں وہ لوگ مبتلا تھے جن ہو نے آنحضرت ﷺ کو حضرت زید ؓ کا باپ بنا رکھا تھا لیکن صرف اتنا ہی نہیں فرمایا کہ محمد ﷺ زید ؓ کے باپ نہیں ہیں بلکہ اس سے بڑھو کر یہ فرمایا کہ تمہارے مردوں میں سے کسی کے بھی وہ باپ نہیں ہیں۔ اس سے بات زوردار بھی ہوگئی اور ہی بیان واقعہ بھی ہے اس لئے کہ حضور ﷺ کی اولادِ ذکور میں سب کی وفات نابالغی میں ہوئی ’ دجال ‘ کی عمر کو ان میں سے کوئی نہیں پہنچا۔ ’ ولکن رسول اللہ وخاتم النبین ‘ نبی اور رسول کے فرق پر وضاحت سے ہم اس کتاب میں جگہ جگہ بحث کرچکے ہیں۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ نبی اور رسول کے درمیان نسبت عام اور خاص ہے۔ ہر رسول نبی لازماً ہوتا ہے لیکن ہر نبی کا رسول ہونا لازمی نہیں : اس وجہ سے اگر حضور خاتم الانبیاء ہیں تو خاتم الرسل بدرجہ اولیٰ ہوئے۔ بعض گمراہ فرقوں نے یہ شوشہ جو نکالا ہے کہ قرآن میں نبی ﷺ کو خاتم الانبیاء بتایا گیا ہے۔ خاتم الرسل نہیں کہا گیا ہے، اس وجہ سے سلسلہ رسالت کے اجراء کی نفی نہیں ہوئی، یہ محض ان کی جہالت ہ۔ ’ خاتم ‘ اور ’ خاتم ‘ دونوں لفظ اہل لغت کے نزدیک بالکل ہم معنی ہے۔ قوم کا آخری فرد، کسی شے کا انجام، خط کے آخر کی مہر، یہ سب چیزیں اس کے مفہوم میں داخل ہیں۔ ’ وکان اللہ بکل شئی و علیما ‘۔ مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے سارا غو غا برپا کیا ہے ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ ساری چیزوں سے ان سے زیادہ باخبر ہے۔ وہ زید ؓ کو بھی جانتا ہے، زینب ؓ کو بھی جانتا ہے، اپنے پیغمبر ؓ سے بھی واقف ہے اور زید ؓ و زینب ؓ کے ساتھ ان کے رشتہ کی نوعیت سے بھی باخبر ہے۔ ان باتوں میں سے کسی سے بھی وہ بےعلم نہیں ہے۔ جو کچھ ہوا ہے سب اس کے اذن و ایمان سے ہوا ہے اس وجہ سے ان کے خلاف ہنگامہ برپا کرنا جہالت و حماقت ہے۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت پر بھروسہ کیا جائے اور جو اصلاح عمل میں آئی ہے اس کی قدر کی جائے۔ خدا کا محیط کل علم ہی ہر چیز کی باریکیوں اور حکمتوں کو سمجھ سکتا ہے، دوسرے اس کی ساری حکمتوں کا احاطہ نہیں کرسکتے۔
Ayahs 33:41–42

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور اس کی تسبیح کرو صبح اور شام۔

یا یھا الذین امنوا ذکروا اللہ ذکر اکثیرا وسبحوہ بکرۃ واصیلا (41۔ 42) یہ مسلمانوں کو منافقین و مفسدین کی اس محاذ آرائی کے مقابل میں ثابت قدم رہنے کی تاکید فرمائی گئی ہے اور اس کی تدبیر یہ بتائی ہے کہ ان اشرار کے غوغا سے بےپروعا ہو کر تم زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر اور صبح و شام اس کی تسبیح کرو۔ یہ امر واضح رہے کہ شیطان اور اس کی ذریات کے مقابل میں مومن کی اصلی سپر اللہ تعالیٰ کی یاد ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں جہاں جہاں معاندین کے مقابل میں ثابت قدمی کی تلقین کی گئی ہے وہاں نماز کی خاص طور پر تاکید کی گئی ہے۔ صبر اور نماز کے باہمی تعلق پر اس کتاب میں جگہ جگہ ہم بحث کرتے آرہے ہیں۔ (مثلا دیکھئے سورة بقرہ۔ آیت 45 کی تفسیر)۔ وسبحوہ بکرۃ واصیلا میں تسبیح نماز کی تعبیر ہے۔ یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ ذکر تو سانس کی طرح ہر وقت مطلوبہ لیکن نمازوں کے لئے اللہ اور رسول نے اوقات مقرر فرمادیے ہیں جن کی جامع تعبیر صبح اور شام ہے۔ اس صبح و شام کے نقشہ کے اندر تمام نمازوں کے اوقات منصبط کردیے گئے ہیں جس کی وضاھت اس کے محل میں ہم کرچکے ہیں۔ (دیکھئے سورة بنی اسرائیل، آیت 178 سورة طہ۔ آیت۔ 130)
Ayah 33:43

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہی ہے جو تم پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ تم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئے اور وہ مومنوں پر نہایت مہربان ہے۔

ھو الذی یصلی علیکم و ملئکتہ لیخرجکم من الظلمنت الی النور وکان بالمومنین رحیما (43) یہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی برکت بیان ہوئی ہے کہ وہ اپنے بایمان بندوں پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کے ملائکہ بھی برابر اہل ایمان پر حمت کے لئے دعا کرتے رہے ہیں۔ لیخرجکم من الظلمب الی النور، یہ اس رحمت کی برکت بیان ہوئی ہے کہ یہ اسی کا فیض ہے کہ وہ تم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ یہاں تاریکی سے مراد ظاہر ہے کہ عقائد و اعمال کی تاریکی اور روشنی سے مراد ہدایت و شریعت کی روشنی ہے۔ ’ وکان بالمومنین رحیما ‘ یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے کہ وہ اپنے بایمان بندوں پر نہایت مہربان ہے۔ ’ یصلی علیکم وملئکتہ میں لفظ ی صلی اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت سے رحمت کرنے کے مفہوم میں ہوگا اور ملائکہک کی طرف نسبت سے رحمت کی دعا کے مفہوم میں نسبت کے بدل جانے سے الفاظ کے معانی میں تبدیلی کی مثالیں قرآن اور کلام عرب میں بہت ہیں۔ یہی لفظ اسی سورة میں دو مختلف مفہوموں میں استعمال تبدیلی کی مثالیں قرآن اور کلام عرب میں بہت ہیں۔ یہی لفط اسی سورة میں دو مختلف مفہوموں میں استعمال ہوا ہے۔ ان اللہ وملئکتۃ یصلوں علی النبی یایھا الذین امنوا صلو علیہ ‘(بےشک اللہ اپنے نبی پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے ہیں تو اے ایل ایمان تم بھی اس پر درود بھیجو) آیت کے آخر میں ’ وکان بالمومنین رحیما ‘ بھی اس بات کی طرف اشارہ کر رہا یہ۔ کہ یہاں یہ لفظ ی صلی اللہ تعالیٰ کے لئے رحمت نازل کرنے ہی کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اہل ایمان کے لئے فرشتوں کے استغفار کا ذکر قرآن میں دوسری جگہ بھی آیا ہے۔ مثلاً الذین یحملون العرض ومن حولہ یسبھون بحمد ربھم ویومنون بہ ویستغفرون للزین امنوا۔ ربنا وسعت کل شئیء رحمتہ وعلما فاغفرللذین تابو واتبعوا سبیلک وقھم عذاب الجحیم (المومن : 7) وہ جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے اردگرد ہیں اپنے رب کی، اس کی حمد کے ساتھ، تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اہل ایمان کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کو وسیع ہے، تو ان لوگوں کی مغفعرت فرما جنہوں نے توبہ اور تیرے راستہ کی پیروی کی اور ان کو دوزخ کے عزاب سے بچا۔ اسی طرح شورہ شوریٰ میں بھی ہے۔ والملئکۃ یسبھون بحمد ربھم و یستغفرون لمن فے الارض (الشوریٰ : 5) اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور جو زمین میں ہیں ان کے لئے وہ استغفار کرتے ہیں۔
Ayah 33:44

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

ان کی تحیت، جس دن وہ اس سے ملیں گے، سلام ہوگی اور اس نے ان کے لئے باعزت صلہ تیار کر رکھا ہے۔

تحپتھم یوم یلقونہ سلم و واعڈ لھم اجرا کریما (44) اوپر کی آیت میں اس رحمت و برکت کا ذکر ہے جو اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے بایمان بندوں پر نازل ہوتی ہے۔ اس آیت میں اس سلام و پیغام کا ذکر ہے جو آخرت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کی طرف سے بایمان بندوں کے پاس آئے گا۔ فرمایا کہ ان کا خیر مقدم، جس دن وہ اس سے (اپنے رب سے) ملیں گے، سلام سے ہوگا اور اللہ نے ان کے لئے نہایت باعزت صلہ تیار کر رکھا ہے۔ لفظ تعیۃ یہاں اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے اور اس کا صحیح مفہوم خیر مقدم ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی اس بات کا ذکر ہے کہ اہل جنت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی سلام آئے گا اور فرشتے بھی ان کا خیر مقدم سلام کے ساتھ کریں گے۔ سورة فرقان میں ہے : ویلقون فیھا تحیۃ وسلاما (75) اور اس میں ان کا استقبال تحیت اور سلام کے سات ہوگا۔ سورة یس آیت 58 میں اس بات کی بھی تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ان لوگوں کو سلام کہلایا جائے گا : سلم قولا من رب رحیم اور ان کے لئے سلام ہوگا جو رب رحیم کی طرف سے ان کو کہلایا جائے گا۔ سورة زمر آیت 73 میں یہ تصریح ہے کہ جنت کے دربان ملائکہ اہل جنت کا استقبال سلام سے کریں گے : وقال لھم خزنتھا سلم علیکم طبتم فادخلوھا خلدین اور ان سے جنت کے پاسبان کہیں گے، آپ لوگوں پر سلامتی ہو، خوش ہوں، اس جنت میں ہمیشہ کے لئے داخلی ہوجائیں۔
Ayahs 33:45–46

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے نبی ! ہم نے تم کو گواہی دینے والا اور خوش خبری پہنچانے والا اور آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ کی طرف، اس کے اذن سے ،

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

دعوت دینے والا اور ایک روشن چراغ بنا کر۔

یاکھا النبی انا ارسلنک شاہدا و مبشرا ونذیرا وادعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا (45۔ 46) یہ نبی ﷺ کو خطاب کرکے آپ کا منصب بتایا گیا ہے اور اس منصب کے ساتھ جو زمہ داریاں وابستہ ہیں ان کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے تاکہ حضور ﷺ پر بھی یہ واضح ہوجائے کہ آپ کو کیا کام کرنے ہیں اور کس طرح کرے ہیں اور دوسروں پر بھی آپ کی شخصیت کی اصلی نوعیت اچھی طرح واضح ہوجائے کہ موافقین و مخالفین دونوں اسی روشنی میں اپنے اپنے رویے کا جائزہ لے سکیں۔ فرمایا کہ اے نبی ! ہم نے تم کو شاہد، مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ ’ شاھد ‘ سے مراد ہے اللہ کے دین اور اس کے احکام و مرضیات کی گواہی دینے والا۔ رسول کی بعثت کا اصلی مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے لوگوں کو یہ بتائے کہا اللہ نے کن باتوں کا حکم دیا ہے، کن باتوں سے روکا ہے۔ مبشرا ونذیرا سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ آپ کے پیغام کو قبول کرلیں ان کو آپ ابدی فوزو فلاح کی خوشخبری دیں اور جو لوگ اس سے اعراض یا اس کی تکذیب کریں ان کو اس کے نتائج سے آگاہ کردیں۔ اس انداز وتبشیر کے بعد اس شہادت سے متعلق آپ کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے۔ اس امر کی آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ لوگوں نے آپ کی دعوت قبول کی یا روکی اور اگر قبول کی تویکسوئی کے ساتھ قبول کی یا تذبذب کے ساتھ قبول لی۔ ان تمام امور کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے۔ ’ وودای علی اللہ باذنہ ‘۔ یہ اسی مضمون کا مزید وضاحت ہے کہ تم کو اللہ نے اپنے حکم سے اپنی طرف لوگوں کو بلانے کے لئے مامور فرمایا ہے کہ لوگ شیطان اور اس کی ذریات کی پیروی چھوڑ کر اپنے رب کی طرف آئیں۔ اس کے ساتھ باذنہ کی قید نبی ﷺ کی تسلی اور اطمینان دہانی کے لئے ہے کہ دعوت الی اللہ کی اس مہم پر خود اللہ تعالیٰ نے آپ کا مامور فرمایا ہے اس وجہ سے وہ آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گا بلکہ ہر قدم پر آپ کی مدد و رہنمائی فرمائے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کوئی خود ساختہ نبی تو نہیں ہے کہ اللہ آپ کے بھٹکنے کے لئے چھوڑ دے بلکہ۔ یہ ذمہ داری آپ پر اللہ نے ڈالی ہے تو اس کے اٹھانے میں بھی آپ کی مدد فرمائے گا اور آپ مخالفوں کی تمام مخالفانہ سرگرمیوں کے عالی الرغم اپنے مشن میں کامیاب ہوں گے۔ ‘ وصراجا منیرا ‘ یعنی اللہ نے آپ کو ایک روشن چراغ بنایا جو خود بھی علم و حکمت کے نور سے منتھ ہے اور لوگوں کو بھی تاریکیوں سے نکال کر اللہ کی سراط مستقیم کی طرف لانے کے لئے رہنمائی کر رہا ہے۔ اگر لوگ اسراجِ منیر کی قدر نہیں کریں گے تو آپ کا کچھ نہیں بگاڑیں گے بلکہ خود اپنی ہی تباہی کا سامان کریں گے۔ اس دنیا میں گمراہیوں میں بھٹکتے رہیں گے اور آخرت میں جہنم کے ایندھن بنیں گے۔
Ayah 33:47

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

اور مومنوں کو بشارت دو کہ ان کے لئے اللہ کی طرف سے ایک بہت بڑا فضل ہے۔

وبشر المومنین بان لھم من اللہ فضلا کبیرا (47) یہ آ کے بشیر، ہونے کا پہلو واضح فرمایا کہ جو لوگ آ کی دعوت پر ایمان لائیں ان کو خوش خبری دیجئے کہ وہ مخالفوں کی مخالفت اور حالات کی نامساعدت سے ہراساں نہ ہوں۔ ان پر اللہ کی طرف سے ایک عظیم فضل ہونیوالا ہے اگر وہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔
Ayah 33:48

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور کافروں اور منافقوں کی بات کا دھیان نہ کرو اور ان کی ایذا رسانیوں کو نظر انداز نہ کرو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو، اور اللہ اعتماد کے لئے کاف ہے۔

ولا تطع الکفرین والنفقین و دع اذنلھم و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا (48) یہ آپ کے ’ نذیر ‘ ہونے کے پہلو کی وضاحت ہے، لیکن مخالفوں کو مخاطب کرکے ان کو کچھ کہنے یا کہلانے کے بجائے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مخاطب کرکے بتا دیا کہ اس کو ان مخالفوں کے ساتھ آئندہ کے لئے کیا رویہ اختیار کرنا ہے۔ اس رویہ ہی کے اندر وہ انداز مضمر ہے جو پتہ دے رہا ہے کہ مستقبل قریب میں آپ کے یہ مخالفین کس انجام سے دو چار ہونے والے ہیں۔ فرمایا کہ ان کافروں اور منافقوں کی باتوں کا ذرا دھیان نہ کرو، ان کی ایذا رسانیوں کو نظر انداز کرو، اللہ پر بھروسہ رکھو، اللہ اعتماد کے لئے کافی ہے۔ اس آیت کے اند رحضور ﷺ کے لئے جو تسلی ہے وہ بھی لفظ لفظ سے نمایاں ہے اور مخالفوں کے لئے جو قہر و غضب ہے وہ بھی حرف حرف سے ابلا پڑ رہا ہے۔ ’ ولا تطع الکفرین میں لفظ اطاعۃ کسی کی بات کا دھیان کرنے، اس کو اہمیت دینے اور اس کی پروا کرنے کے مفہوم میں یہاں استعمال ہوا ہے۔ اس معنی میں اس لفظ کا استعمال معروف ہے۔ ہم اس کے محل میں اس مفہوم کی تائید میں شواہد نقل کر آئے ہیں۔ ’ ودع اذھم ‘ میں ’ اذی ‘ سے اشارہ منافقین کی اس طرح کی ایذا رسانیوں کی طرف ہے جس کا مظاہرہ انہوں نے حضرت زینب ؓ کے معاملہ میں کیا اور اس سے پہلے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے معاملے میں کرچکے تھے۔ آگے اسی سورة میں ان کو مزید ایذا رسانیوں کا ذکر آرہا ہے۔ لفظ دعو یہاں تحقیر کے مفہوم پر دلیل ہے یعنی ان کی ان خرافات کو چندے نظر اندا زکرو۔ ’ و توکل علی اللہ وکفی بالل وکیلا ‘ کے اندر آنحضرت ﷺ کے لئے جتنی بڑی تسلی ہے اس سے بڑی کفار ومنافقین کے لئے دھمکی ہے کہ اب تم ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑو، اللہ ان سے نمٹنے کے لئے کافی ہے ! 8۔ مسئلہ ختم نبوت اس مجموعہ آیات کی تمام ضروری تعلیمات کی وضاحت آیات کے تحت ہوچکی ہے البتہ آیت 40 میں آنحضرت ﷺ کے خاتم النبین ہونے کا جو ذکر آیا ہے اس کے بعض پہلو مزید وضاحت کے طالب ہیں۔ ہم یہاں بالا ختصار ان کی طرف بھی اشارہ کریں گے۔ 1۔ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ قابل توجہ چیز یہ ہے کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی تاریخی اور ان کی تعلیمات و ارشادات کو جو ریکارڈ قدیم صحیفوں اور قرآن مجید میں یا تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے۔ اس میں حضرت آدم ؑ سے لے کر سیدنا مسیح تک کسی نبی کے متعلق نہ تو اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ وہ خاتم الانبیاء ہے نہ کسی نبی نے خود اپنے خاتم الانبیاء ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ بلکہ اس کے برعکس ہر نبی نے اپنے بعد آنے والے نبی یا نبیوں کی بشارت دی ہے۔ حضرت آدم ؑ اور ان کی ذریت کی خلافت پر فرشتوں کو جو اعتراض تھا، بقرہ کی تفسیر میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ ان کے اعتراض کے جواب میں حضرت آدم ؑ نے اپنی ذریت میں پیدا ہونے والے انبیاء کے نام ہی گنا کر ان کو قائل کیا۔ حضرت ابراہیم ؑ سے پہلے انبیاء کے حالات زیادہ تفصیل سے تو کہیں مذکور نہیں ہیں لیکن آپ کے اور آپ کے بعد کے والے انبیاء کے حالات تورات میں بھی موجود ہیں اور قرآن میں بھی۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی ذریت کے دونوں سلسلوں … بنی اسحاق اور بنی اسماعیل… میں انبیاء کی بعث کے لئے جو دعا کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس دعا کی قبولیت کی جو بشارت دی ہے وہ قرآن میں بھی مذکور ہے اور تورات و تالمود میں بھی۔ انکے حوالے ہم اس کتاب میں ان کے محل میں، نقل کرے آئے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ کے بعد بنی اسرائیل میں نبوت کو جو سلسلہ جاری ہوا اس کی تفصیلات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ہاں یہ روایت رہی ہے کہ ہر نبی نے اپنے بعد آنے والے نبی کی نہ صرف بشارت دی ہے بلکہ اکثر حالات میں خود اس کو، اسرائیلی روایت کے مطابق مسخ کرکے نبی کی حیثیت سے روشناس کرایا ہے۔ اسرائیلی سلسلہ کے سب سے زیادہ جلیل القدر نبی سیدنا موسیٰ ؑ ہیں۔ ان کی پیشئن گوئیاں تورات میں بھی موجود ہیں اور قرآن نے بھی ان کی طرف اشارے کیے ہیں۔ انہوں نے حضرت خاتم لالنبین ﷺ کی بعثت کی بھی پیشن گوئی کی ہے جس کا حوالہ ہم سورة اعراف آیت 157 کی تفسیر میں دے چکے ہیں۔ بنی اسرائیل کے دور ِ آخر کے انبیاء میں سے حضرت یحییٰ ؑ ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا مشن ہی یہ بتایا کہ میں اپنے بعد آنے ولاے کی راہ ساف کرنے آیا ہوں۔ ان کا یہ اشارہ سیدنا مسیح ؑ کی طرف تھا۔ انہوں نے وہیں سے حضرت مسیح ؑ سے پچھوایا کہ وہ جس کا انتظار تھا تو ہی ہے یا ہم کسی اور کا انتظار کریں ؟“ حضرت مسیح ؑ نے جواب دلوایا کہ جا کے بتا دو کے لنگڑے چل رہے ہیں اور اندھے دیکھ رہے ہیں، اب اور کیا چاہیے ؟“ اس جواب کے بعد حضرت یحییٰ ؑ کو اطمینان ہوگا کہ ان کا مشن پورا ہوگیا، وہ جس کی راہ صاف کرنے آئے تھے وہ آگیا۔ حضرت یحییٰ کے بعد اسرائیلی سلسلے کے آخری نبی و رسول حضرت عیسیٰ ؑ ہیں، انہوں نے اپنے بعد آنحضرت ﷺ کی بعثت کی بشارت دی اور آپ کے نام نامی کی تصریح کے ساتھ بشارت دی۔ سورة صف میں اس کا حوالہ یوں آیا ہے۔ واذ قال عیسیٰ ابن مریم یبنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدیی من التوریۃ و مبشرا برسول یاتیی من بعدی اسمہ احمد (العصف : 6) اور جب کہ عیسیٰ بن مریم نے دعوت دی کہ اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں ان پیشن گوئیوں کے مطابق جو مجھ سے پہلے سے تورات میں موجود ہیں اور ایک رسول کی خوشخبری دیتا ہو آیا ہوں جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہوگا۔ انجیلوں میں حضرت عیسیٰ ؑ کی جو پیشن گوئیاں آنحضر ﷺ سے متعلق موجود ہیں انکے حوالے سے سورة اعراف آیت 157 کی تفسیر میں گزر چکے ہیں۔ استاد امام مولانا فراہی ؒ کا خیال تو یہ ہے کہ حضرت مسیح ؑ نے انجیلوں میں آسمانی بادشاہت کی جو بشارت دی ہے اور اس سے متعلق جو تمثیلیں بیان فرمائی ہیں وہ بھی تمام تر آنحضرت ﷺ تک انبیاء کی روایت یہی رہی ہے کہ ہر نبی نے اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت دی ہے لیکن آنحضرت ﷺ پر آکر یہ روایت بالکل ختم ہوجاتی ہے۔ نہایت واضح الفاظ میں خود اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کو خاتم النبین قرار دیا اور حضور ﷺ نے بھی نہ صرف یہ کہ اپنے بعد کسی آنے والے کی بشارت نہیں دی بلکہ نہایت واضح اور قطعی الفاظ میں بار بار اس حقیقت کا اظہار و اعلان فرمایا کہ آپ آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ ہر معقول آدمی سمجھ سکتا ہے کہ حضور ﷺ کے بعد اگر کسی نبی کے آنے کی ادنیٰ گنجائش بھی ہو تو تو سابق انبیاء کی روایت کے مطابق حضور ﷺ اس کی پیشئن گوئی فرماتے اور اگر پیشن گوئی نہ فرماتے تو کم از کم اس شدت کے ساتھ اس دروازے کے بند تو نہ کردیتے کہ جو اس کو کھولنے کی جسارت کرے وہ نقب زن کہلائے۔ 2۔ اس باب میں نبی ﷺ کے جو ارشادات منقول ہیں ان سب کے نقل کرنے میں طوالت ہوگی۔ ہم صرف بعض حدیثوں کا حوالہ دیں گے جن کی شہرت حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہے۔ بخاری میں روایت ہے : قال النبی و ان مچلی ومثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتا فاحسنہ واجملا الا موضع لبنۃ من زاویۃ فجعل الناس یطوفون بہ ویعجبون لہ ویقولون ھل لاوضعت ھذہ اللبنۃ فاناتلک اللبنۃ وانا خاتم النیبن (بخاری) نبی ﷺ نے فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی تمثیل یوں ہے کہ ایک شخص نے ایک عمارت بنائی، نہایت حسین و جمیل، لیکن اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی۔ لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے اور اس کی تحسین کرتے اور کہتے کہ یہ اینٹ بی کیوں نہ رکھ دی گئی ! سو میں وہی اینٹ ہوں اور میں خاتم النبین ہوں۔ اس حدیث کے متعلق یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ کم و بیش انہی الفاظ میں حضرت مسیح ؑ نے بھی آنحضرت ﷺ کی پیشئن گوئی فرمائی تھی۔ ان کا ارشاد ہے کہ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا بالآخر وہی کونے کا آخری پتھر بنا۔ علمائے یہود نے آنحضرت ﷺ سے متعلق پیشین گوئیوں پر جن جن طریقوں سے پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے ان کی تفصیلات سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہیں، لیکن ان کی ان تمام کوششوں کے علی الرغم اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے لئے جو مقام مقدر فرمایا تھا وہ آپ کو حاصل ہو کے رہا۔ آپ قصر شریعت کے کونے کی آخرتی اینٹ بھی بنے اور انبیاء و رسل کے مبارک سلسلہ کے خاتم بھی۔ یہ ختم نبوت اس تکمیلِ دین کا لازمی اور بدیہی تقاضا ہے۔ جس کا ذکر اکملت لکم دینکم والی آیت میں ہوا ہے۔ مگر دین کوئی ایسی چیز ہوتا جس کی تکمیل کبھی ہونے والی ہی نہ ہوتی تب تو بیشک نبوت و رسالت کا سلسلہ بھی جاری رہتا لیکن جب دین کی تکمیل ہوچکی ہے اور اس بدیہی حقیقت کے انکار کی جرأت کوئی بھی نہیں کرسکتا تو پھر اس کے اس لازمی نتیجہ کو بھی تسلیم کرنا پرے گا کہ نبوت و رسالت کا سلسلہ بھی ختم ہوگا۔ اسی حقیقت کو حضور ﷺ نے اس حدیث میں واضح فرمایا ہے اور اتنے مختلف طریقوں سے واضح فرمایا ہے کہ کسی معقول آدمی کے لئے اس میں کسی شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ہے۔ ترمذی میں روایت ہے : قال رسول اللہ ﷺ ان الرسالہ والنبوہ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا بی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا۔ اب میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ کوئی نبی۔ جس مشہور حدیث میں آپ نے تمام انبیاء کے مقابل میں اپنے چھ فضائل گناء ہیں آخری فضیلت ان میں یہ مذکور ہوئی ہے کہ ختم بی النبوین (میرے اوپر انبیاء کا سلسلہ ختم کردیا گیاٌ)۔ اسی طرح ایک روایت میں آپ نے اپنے مختلف اسماء کا ذکر فرمایا ہے جن میں آخری نام آپ نے عاقب بتایا ہے اور اس کی خود ہی یہ شرح فرمائی کہ الذی لیس بعد نبی (جس کے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا)۔ 3۔ یہ امر بھی واضح رہے کہ نبوت کی بہت سی قسمیں نہیں ہیں۔ نبوت کی صرف ایک ہی قسم ہے جو اپنے تمام شرائط و خصوصیات کے ساتھ قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہے۔ البتہ نبی اور رسول میں ایک فرق ہے جس کی طرف ہم اوپر بھی اشارہ کرچکے ہیں اور اس کتاب کے دوسرے مقامات میں بھی پوری تفصیل سے اس کی وضاحت ہوئی ہے۔ بعض گمراہ فرقوں نے نبوت کے حرم میں نقب لگانے کے لئے اپنے جی سے نبوت کی متعدد قسمیں بیان کی ہیں اور ان کا دعویٰ یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں جس نبوت کے ختم ہونے کا ذکر ہے وہ الگ چیز ہے اوعر جس نبوت کے مدعی وہ ہیں وہ دوسری چیز ہے۔ نبوت کی یہ تقسیم ان کی طبع زاد ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کا کوئی ذکر تو درکنار اس کا کوئی ادنیٰ اشارہ بھی موجود نہیں ہے۔ اس تقسیم سے انہوں نے بظاہر اپنے کفر کو ہلکا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن یہ درحقیقت زیادہ فی الکفر ہے یعنی اپنے کفر کو انہوں نے اور زیادہ غلیظ بنا دیا ہے۔ اس لئے کہ اس تقسیم نے نبوت کے اس نظام ہی کو بالکل تلپٹ کر کے رکھ دیا ہے جس پر سارے دین کی عمارت قائم ہے لیکن ہمارے لئے یہاں اس مسئلہ سے تعرض کرنے کی گنجائش نہیں ہے پس اتنی بات یاد رکھیے کہ حضور ﷺ نے جس صراحت کے ساتھ اپنے بعد نبوت کے ختم ہونے کا اعلان فرمایا ہے، اسی وضاحت کے ساتھ اس سوال کو بھی صاف کردیا ہے کہ آپ کے بعد نبوت کا کوئی جزو باقی رہے گا یا نہیں ؟ اور اگر باقی رہے گا تو اس کی نوعیت کیا ہوگی اور اس میں حصہ پانے والے کون لوگ ہوں گے۔ انس بن مالک ؓ سے روایت ہے۔ قال رسول اللہ ﷺ ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی قال فشق ذلک علی الناس فقال ولکن المبشرات قالوا یا رسول اللہ وما المبشرات ! قال رویا الرجل المسلم و ھی جزء من اجزاء النبوۃ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کے میرے بعد رسالت نبوت کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ اب نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں پر شاق گزری تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ ’ مبشرات، باقی رہیں گی۔ لوگوں نے سوال کیا کہ یہ مبشرات کیا ہیں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا کہ کسی مسلم مرد کے خواب اور یہ چیز نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔ بعض روایات میں ’ مبشرات ‘ کی وضاحت ’ الم و یا الحسنۃ ‘ اچھے خواب یا الرویا الصلاحۃ اتک۔ خواب سے بھی وارد ہوئی ہے۔ اس حدیث سے چندباتیں بالکل صاف ہوجاتی ہیں۔ ایک یہ حضور ﷺ کے بعد وحی کا سلسلہ بالکل بندہوگیا۔ اب نبوت کے اجزاء میں سے صرف ایک جز ودریائے صالحہ کا باقی رہ گیا ہے۔ جو لوگ الہام اور مکاشف و مخاطبہ وغیرہ کے مدعی ہیں ان کی بھی اس حدیث سے تردید ہوجاتی ہے۔ دوسری یہ کہ یہ روئے صالحہ کسی بھی مومن و مسلم کو نظر آسکتے ہیں۔ یہ کسی کے لئے خاص نہیں ہیں۔ اس قسم کی رویائے صالحہ دیکھنے والے کو نبوت کا کوئی مقام حاصل نہیں ہوجاتا اور نہ اس قسم کے کو اب کسی پر کوئی حجت ہوتے۔ ان کی حیثیت بس یہ ہوتی ہے کہ اگر خواب دیکھنے والے نہ اچھے خواب دیکھے ہیں تو ان سے ایک قسم کی خوش خبری اور فال نیک حاصل کرے۔ اس سے زیادہ ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ تیسری یہ کہ ظلی اور بروزی انبیاء آتے رہیں گے۔ 4۔ قرآن مجید کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو انتظام فرمایا وہ بھی درحقیقت ختم نبوت ہی کا ایک لازمی تقاضا ہے۔ آنحضرت ﷺ سے پہلے جو انبیاء (علیہم السلام) آنے کی تعلیمات کی حفاطت کے لئے وہ انتظام نہیں کیا گیا جو قرآن کی حفاظت کے لئے کیا گیا، اس کی وجہ یہ کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے انیاء کی بعثت کا سلسلہ جاری تھا۔ اگر سابق نبی کی تعلیم کو اس کی قوم فراموش کردیتی یا اس میں تحریف کردیتی تو بعد میں آنے والا نبی اس کی بھی تجدید کردیتا اور اس میں اللہ تعالیٰ جو اضافہ فرماتا اس سے بھی لوگوں کو آگاہ کردیتا۔ لیکن آنحضرت ﷺ کے بعد چونکہ وحی کا سلسلہ منقطہ ہوگیا اور دین بھی کامل ہوگیا اس وجہ سے ضروری ہوا کہ قرآن مجید کو اس طرح محفوظ کردیا جائے کہ قیامت تک شیاطین جن و انس اس میں کوئی دراندازی نہ کرسکیں۔ چناچہ یہ واقعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو اس طرح محفوظ کردیا ہے کہ اس میں کسی زیر زبر کے فرق ہونے کا بھی کوئی امکان نہیں رہا۔ حق و باطل کے امتیاز کے لئے اصل خدائی کسوٹی قرآن ہے۔ اگر وہ محفوظ ہے تو اب کسی وحی والہام اور کسی مخاطبہ و مکالمہ کی حاجت باقی نہیں رہی اور نبی کی اصل۔ چونکہ اسی پہلو سے ہوتی ہے اور اس وجہ سے اب نبی کی بھی ضرورت باقی نہیں رہی۔ رہا شہادت علی الناس کا فریضہ اور لوگوں میں پیدا ونے والے خرابیوں کی اصلاح تو یہ ذمہ داری اصلاً اس امت پر بحیثیت مجموعی عائد ہوتی ہے اور اس کے لئے عند اللہ مسئول علما رہوں گے۔ اور احادیث میں یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ اس امت میں ایسے علماء و مصلحین برابر پیدا ہوتے رہیں گے جو مفسدین کی پیدا کی ہوئی خرابیوں کی اصلاح کرتے رہیں گے اگرچہ ان کی تعداد کتنی ہی کم ہو۔ 5۔ اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اب قیامت تک کسی نبی کے آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ یہ بات قرآن و حدیث کے نصوص سے بھی ثابت ہے اور عقل و فطرت کی شہادت بھی یہی ہے۔ اگر روایات و آثار میں کوئی ایسی چیز آپ کے سامنے آئے جو ان قطعی نصوص کے خلاف نظرآئے تو اس پر غور کیجئے۔ اگر تاویل کی راہ سے باہم توفیق و تطبیق ہوجائے تو فبہا، اگر توفیق و تطبیق نہ ہوسکے تو ترجیح بہرحال قرآن کے نصوص اور دین کے مسلمات کو حاصل ہوگی۔ میں نے اس پہلو سے تمام روایات و آثار کو جانچا ہے۔ میرے نزدیک ان کی تطبیق اس بنیادی اصول کے ساتھ نہایت عمدہ طریقے پر ہوجاتی ہے، لیکن یہاں اس بحث کی تفصیلات میں جانے کا محل نہیں ہے۔
Ayah 33:49

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

اے ایمان والو، جب تم مومنہ عورتوں سے نکاح کرو پھر ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان کے بارے میں تم پر کوئی عدت واجب نہیں ہے جس کا تمہیں لحاظ کرنا ہو۔ پس ان کو کچھ دے دلا دو اور خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردو۔

9۔ آگے کا مضمون۔ آیات 49۔ 52 اس مجموعہ آیات کے پس منظر کو بھی اچھی طرح ذہن نشین کرلیجئے اس لئے کہ اس میں بڑا ایجاز ہے جس کے سبب سے مفسرین کو بڑی الجھنیں پیش آئی ہیں۔ یہ آیات در حقیقت سورة نساء کی آیت 3 پر جس میں عام مسلمانوں کے لئے تحدید ازواج کا حکم بیان ہوا ہے۔ استدراک کی حیثیت رکھتی ہیں۔ نساء کی مذکورہ آیت کے نزول کے بعد جن مسلمانوں کے نکاح میں چار سے زیادہ بیویاں تھیں انہوں نے زائد بیویوں کو طلاق دے دی لیکن حضور ﷺ سے متعلق کسی بیوی کو طلاق دینا ثابت نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت حضور ﷺ کے نکاح میں چار بیویاں تھیں۔ بعد میں جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے حضرت زینب ؓ کے ساتھ نکاح کیا تو منافقین نے اس پہلو سے بھی اس پر اعتراض کیا کہ انہوں نے اپنے لئے اور دوسروں کے لئے اور، شریعت بنا رکھی ہے۔ ان منافقین کا منہ بند کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس خاص اجازت کی وضاحت فرمائی جو ازواج کے معاملے میں نبی ﷺ کو دی گئی۔ اس اجازتِ خاص کے نمایاں پہلو یہ ہیں : ٭آپ کی وہ ازواج جن کے مہر آپ ادا کرچکے ہیں، بلا استثنا آپ کے لئے جائز کی گئیں۔ ٭مل یمین جو بطورفے آپ کو حاصل ہوں، اگر آپ ان میں سے کسی کو آزاد کرکے ان سے نکاح کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔ ٭آپ کے قریبی رشتہ کی خواتین میں سے اگر کسی نے دین کی خاطر اپنے عزیزوں، رشتہ داروں کو چھوڑ کر، آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے، آپ ان میں سے بھی کسی سے نکاح کرسکتے ہیں۔ ٭اگر کوئی مومنہ اپنے آپ کو حبہ کردے اور آپ اس کو اپنے نکاح میں لینا چاہیں تو اس کی بھی آپ کو اجازت ہے۔ ٭یہ نکاح چونکہ تمام تر مصلحت ِ دین و ملت کی خاطر ہیں، اس وجہ سے حقوق زوجیت کے معاملے میں آپ پر سے وہ پابندیاں اٹھالی گئیں جو دوسروں پر تھیں۔ ان آزادیوں کے ساتھ حضور ﷺ پر دو پابندیاں بھی عائد کی گئیں جو دوسروں پر نہیں تھیں۔ ٭ایک یہ کہ اس دائرہ سے باہر آپ کوئی نکاح نہیں کرسکتے۔ ٭دوسری یہ کہ ان ازواج کو دوسری ازواج سے بدل نہیں سکتے۔ یہ آزادی اور پابندی جن مصالح پر مبنی ہے چند اصولی باتیں ان سے متعلق بھی سمجھ لیجئے۔ حضور ﷺ نے جتنے نکاح بھی کئے حفظ نفس کے لئے نہیں بلکہ دعوت دین، تالیف قلب، دالدری اور مصالح ملت کی خاطر کیے۔ آیت 24 کے تحت آپ پڑھ آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس مشن کی ذمہ داری آپ پر ڈالی تھی اس میں ازواج مطہرات ؓ بھی شریک کی گئی ہیں گویا یہی وہ اصل مقصد تھا جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے نبی ﷺ کی معیت کے لئے منتخب فرمایا۔ اس فرض کو ازواجِ مطہرات ؓ نے جس اہتمام اور جس خوبی کے ساتھ انجام دیا اور اس پر ہماری حدیث و سیرت کی کتابیں شاہد ہیں۔ خاص طور پر حضرت عائشہ ؓ ، حضرت ام سلمہ ؓ ، حضرت حفصہ ؓ اور حضرت میمونہ ؓ کا حصہ اس خد مت میں اگر مردوں سے زیادہ نہیں تو ان سے کم بھی نہیں ہے۔ عورتوں سے متعلق نبی ﷺ کی تعلیمات زیادہ تر انہی سیدات ؓ کے ذریعے سے پھیلی ہیں اور انہی کے ذریعے سے پھیل سکتی تھیں۔ حضرت زینب ؓ سے آپ ﷺ نے جن حالات میں اور جن مصالح کے تحت نکاح کیا ان کی تفصیلات آپ پڑھ آئے ہیں۔ انہوں نے ایک اہم معاشرتی اصلاح کی کا طر اپنے بھائی اور دوسرے عزیزوں کی رائے کے خلاف اپنے آپ کو ہدفِ مطاعن بنانا گوارا کیا لیکن حضور ﷺ کی بات نہیں ٹالی۔ ان کی اس قربانی کا اگر کوئی صلہ ہوسکتا تھا تو یہی ہوسکتا تھا کہ حضرت زید ؓ کے طلاق دینے کے بعد حضور ﷺ خود ان کو اپنے رشتہ زوجیت کا شرف بخشیں۔ پھر حضرت زید ؓ کی طرح حضور ﷺ کے ساتھ بھی ان کا نکاح ایک عظیم معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بنا اور اس میں بھی ان کو منافقین و منافقات کی یا وہ گوئیوں کا ہدفت بننا پڑا، لیکن انہوں نے اللہ اور رسول کی خاطر یہ تمام باتیں برداشت کیں۔ ازواج مطہرات ؓ میں سے حضرت ام حبیبہ ؓ کے نکاح کا واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے قریش کے ظلم و ستم سے تنگ آکر اپنے شوہر عبید اللہ کے ساتھ حبشہ کی ہجرت کی۔ وہاں ان کو یہ افتاد پیش آئی کہ کچھ عرصہ بعد ان کے شوہر نے عیسائی مذہب اختیار کرلیا۔ اس عام ِ غربت میں انہوں نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرکے تنہائی و بےکسی کی زندگی بسر کرنا گوارا کی لیکن اپن ایمان پر ثابت قدم رہیں۔ ان کی اس عزیمت و استقامت کے صلہ میں حضور ﷺ نے ان کو نکاح کا پیغام دیا۔ ہر شخص اندازہ کرسکتا ہے کہ اس استقامت کا کوئی صلہ اس دنیا میں اگر ہوسکتا تھا تو یہی ہوسکتا تھا کہ حضور ان کو یہ عزت بخشیں۔ حضرت جویریہ ؓ اور حضرت صفیہ ؓ کے ساتھ آپ ﷺ کے نکاح کی نوعیت یہ ہے کہ غزوہ نبی مصطلق اور غزوہ خیبر میں یہ بطور فے حضور ﷺ کے حصہ میں آئیں۔ یہ سرداروں کی بیٹیاں تھیں۔ ان کی خاندانی وجاہت کو ملحوط رکھ کر حضور ﷺ نے ان کو لونڈیوں کی حیثیت سے رکھنا پسند نہیں فرمایا بلکہ ان کو آزاد کرکے ان سے نکاح کرلیا۔ ان نکاحوں کو دینی و سیاسی مصلحت بالکل واضح ہے۔ بعض صحابیات ؓ رسول اللہ ﷺ سے صرف شرفِ نسبت کی خواہشمند تھیں اور وہ اپنے تئیں حضور ﷺ کو ہبہ کردینا چاہتی تھیں۔ اس قسم کی خواتین میں سے حضرت میمونہ ؓ کو یہ شرف حاصل ہوا کہ حضور ﷺ نے ان کی درخواست منظور فرمائی اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اس درخواست کی منظوری میں زیادہ دخل آنحضرت و کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب ؓ کی سفارش کو تھا۔ اس سے ملتا جلتا حال حضرت سورة ؓ کا بھی ہے۔ ان کے حالات شاہد ہیں کہ نبی و کے ساتھ نسبت کے سوا اور کوئی خواہش ان کے اندر نہیں تھی۔ اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ حضور ﷺ کے معاملہ کی نوعیت ایسی نہیں تھی کہ دربابِ نکاح و طلاق آپ کو اس تحدید کا پابند کردیا جائے جو عام مسلمانوں کے لئے تھی۔ ایسا کرنے میں بہت سے مصالح کے فوت ہونے کا اندیشہ تھا اس وجہ سے کردیا جائے جو عام مسلمانوں کے لئے تھی۔ ایسا کرنے میں بہت سے مصالح کے فوت ہونے کا اندیشہ تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے ایک ایسا ضابطہ نازل فرمایا جس میں فی الجملہ و سعت بھی ہے تاکہ وہ دینی مصالح ملحوظ رکھے جاسکیں جن کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا اور ساتھ ہی اس میں حضور ﷺ پر بعض پابندیاں بھی ہیں جو دوسرے مسلمانوں پر نہیں ہیں۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کو جو ازادی بخشی گئی وہ تمام تر مصالح پر مبنی تھی۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 10۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت یایھا الذین امنوا اذا نکحتم المومنت ثم طلقتمو ھن من قبل ان تمسوھن مماکل علیھن من عدۃ تعدونھا فمتمعھن وسرحوھن سراحا جمیلا (49)rnٓآگے آیت 50 سے یہ بات واضح ہوجائے گی کہ یہاں جو وضاحت فرمائی گئی ہے اس کی نوعیت درحقیقت اس حکم پر استدراک کی ہے جو سورة نساء میں عام مسلمانوں کو تحدید ازواج سے متعلق دیا گیا ہے۔ اصل استدراک سے پہلے یہ آیت بطور تمہید ہے جس میں ایک ضمنی سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ اگر کسی نے ایک عورت سے نکاح کیا لیکن رخصتی اور ملاقات کی نوبت آنے سے پہلے ہی اس کو طلاق دے دی تو اس کے معاملے میں عدت کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ سوال خاص طور پر اس زمانے میں اس وجہ سے پیدا ہوا ہوگا کہ تحدید ازواج کے حکم کی تعمیل میں طلاق کے واقعات بکثرت پیش آئے ہوں گے اور طلاق دینے والوں نے زیادہ اولیٰ یہی سمجھا ہوگا کہ اپنی ان منکوحات کو طلاق دیں جن سے ازدواجی تعلقات ابھی قائم نہیں ہوئے ہیں۔ اس آیت نے ان کے لئے نہایت مبنی برعدل سہولت مہیا کردی۔ ایسے لوگوں کو یہ ہدایت نہیں ہوئے ہیں۔ اس آیت نے ان کے لئے نہایت مبنی برعدل سہولت مہیا کردی۔ ایسے لوگوں کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ اس قسم کی عورتوں کے معاملے میں عدت کے لحاظ کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ان کو حسب استطاعت دے دلا کر باعزت طریقہ سے رخصت کردیا جائے۔ اس دینے دلانے کی تفصیل بقرہ کی آیات 236۔ 237 میں گزر چکی ہے۔ وہاں ہم نے ’ سواح جمیل ‘ کی اہمیت بھی واضح کی ہے کہ اسلام میں مطلوب یہ ہے کہ میاں بیوی میں جدائی کی نوبت بھی آئے تو حتی الامکان یہ خوبصورتی کے ساتھ ہو۔ فریقین کے لئے کسی فضحیتے کا موجب نہ ہو۔