Ayah 33:50یایھا النبی انا احللنا لک ازواجک التہ اتیت اجورھن وما ملکت یمینک مما افاء اللہ علیک و بنت عمک عمتک وبنت خالک وبنت خلتک التی ھاجرون معک وامراۃ مومنۃ ان وھبت نفسھا للنبی ان اراد النبی ان یستنکمھا خالصہ لک مندون المومنین قد علمنا ما فرضنا علیھم فی ازواجھم وما ملکت ایمانھم نکیلا یکون علیک حرج وکان اللہ غفورا رحیما (50)
ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ جس وقت تحدید ازواج کا حکم نازل ہوا ہے قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کے نکاح میں چار ہی بیویاں… حضرت عائشہ ؓ ، حضرت حفصہ ؓ ، حضرت سودہ ؓ اور حضرت ام سلمہ ؓ … تھیں۔ اس وجہ سے نہ حضور کے لئے کسی بیوی کو طلاق دینے کا سوال پیدا ہوتا تھا اور نہ اس باب میں منافقین یا معترضین کے لئے کسی نکتہ چینی کی گنجائش تھی۔ لیکن 5 ھ میں حضور ﷺ نے جب حضرت زینب بن حجش ؓ سے نکاح کیا تب معلوم ہوتا ہے کہ منافقین نے جس طرح یہ فتنہ اٹھایا کہ آپ نے اپنے متنبی کی منکوحہ سے نکاح کرلیا اسی طرح یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ آپ نے اپنے لئے الگ شریعت بنا رکھی ہے، دوسرے مسلمانوں کو تو بیویوں کے معاملے میں چار تک کی قید سے پابند کردیا گیا ہے لیکن آپ نے اپنے آپ کو اس پابندی سے بالا رکھا۔
حضرت زینب ؓ کے واقعہ کی تفصیلات اوپر گزر چکی ہیں جس سے آپ کو یہ بات معلوم ہوچکی ہے کہ حضور ﷺ نے یہ نکاح اپنی خواہش سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا۔ لیکن معترضین اس بات کو کب ماننے والے تھے اس وجہ سے انہوں نے اعتراض اٹھایا ہوگا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے پوری تفصیل کے ساتھ بتایا کہ نکاح کے معاملے میں نبی ﷺ کو دوسرے مسلمانوں کے مقابل میں کیا امتیازات حاصل ہیں۔
یایھا النبی انا احللنا لک ازواجک التی اتیت اجورھن۔ سب سے پہلے ان ازواج کے متعلق جو آیت کے نزول کے وقت آپ کے نکاح میں تھیں۔ فرمایا کہ ہم نے تمہاری ان بیویوں کو جن کے مہر تم ادا کرچکے ہو، تمہارے لئے جائز ٹھہرایا۔ ’ جائز ٹھہرایا ‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی پہلو سے ان کو حرمت لاحق ہوگئی تھی، وہ دور کردی گئی بلکہ یہ بات منافقین و معترضین کا منہ بند کرنے کے لئے فرمائی گئی ہے کہ وہ جو ژاژخائی چاہیں کرتے رہیں تم ان کی پروا نہ کرو۔ قرائن دلیل ہیں کہ یہ آیت 5 ھ میں نازل ہوئی ہیں۔ مکی زندگی سے لے کر 5 ھ تک جو سیدات ؓ حضور ﷺ کے عقدنکاح میں آئیں ان میں سے حضرت خدیجہ ؓ اور حضرت زینب بنت خزیمہ ؓ کا تو جیسا کہ اوپر اشارہ گزرا، انتقال ہوچکا تھا البتہ حضرت عائشہ ؓ ، حضرت حفصہ ؓ ، حضرت سودہ ؓ اور حضرت ام سلمہ ؓ حیات تھیں۔ اور ان میں نیا اضافہ حضرت زینب بن حجش ؓ کا ہوا تھا۔ گویا ان سب کے باب میں ارشاد ہوا کہ اللہ نے ان کو تمہارے لئے جائز کیا۔ اتیت اجورھن کے الفاط سے ان کا تعارف اس لئے فرمایا ہے کہ اس کے بعد ان خواتین کا ذکر آرہا ہے جو طریق فے آپ کو حاصل ہوں۔ ان الفاظ نے آپ کی ان ازواج مطہرات ؓ کو ان سے فی الجملہ ممتاز کردیا اس لئے کہ مملوکات کے معاملے میں مہر کا سوال نہیں پیدا ہوتا۔
وما ملکت یمینک مما افاء اللہ علیک، یعنی غنیمت کی راہ سے آپ کو جو ملک یمین حاصل ہوں ان کو بھی اللہ نے آپ ﷺ کے لئے جائز کیا۔ یہاں وما ملکت یمینک کے بعد مما اناء اللہ علیک کے الفاظ خاص طور پر نگاہ میں رکھنے کے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے یہاں عام لونڈیاں مراد نہیں ہیں بلکہ جنگ و جہاد میں جو عورتیں قید ہو کر آئیں وہ مراد ہیں ان اسیرات میں بسا اوقات شریف خاندانوں اور سرداروں کی بہوئیں اور بیٹیاں بھی ہوتی ھیں۔ ان کے ساتھ فی الجملہ امتیازی سلوک کی روایت زمانہ جاہلیت میں بھی تھی اور اسلام نے بھی اس کو باقی رکھا چناچہ اس طرح کی عورتیں تقسیم کے وقت عموماً سرداروں ہی کو دی جاتی تھیں۔ حضرت جویریہ ؓ اور حضرت صفیہ ؓ اسی طریقہ سے علی الترتیب غزوہ بنی مصطلق اور غزہ خیبر کے موقع پر حضور ﷺ کے حصہ میں آئیں۔ آپ ﷺ ان کو لونڈیوں کی حیثیت سے بھی رکھ سکتے تھے لیکن آپ نے ان کی خاندانی وجاہت کا لحاظ فرمایا اور آزاد کرکے ان سے نکاح کرلیا۔ یہ نکاح آپ ﷺ نے اسی اجازتِ خاص کے تحت کیے جو اس آیت میں آپ کو دی گئی۔ اگر یہ اجازت آپ کو حاصل نہ ہوتی تو آپ ان دونوں سیدات کو لونڈیوں کی حیثیت سے تو رکھ سکتے تھے لیکن بیویوں کی حیثیت سے نہیں رکھ سکتے تھے اس لئے کہ اس صورت میں ازواج کی تعداد اسلام کے عام ضابطہ سے متجاوز ہوجاتی۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک قسم کی تنگی ہوتی جو آپ کے منصب کے اعتبار سے بعض اخلاقی وسیاسی مصالح میں مخل ہوتی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس طرح کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دے دی۔ یہ دونوں نکاح بالترتیب 5 ھ اور 7 ھ میں ہوئے۔ اس طرح 7 ھ تک آپ کی ازواج کی تعداد سات ہوگئی۔
وبنت عمک وبنت عمتکک وبنت خالک وبنت خلتک التہ ھاجرن معک۔ یہ حضور ﷺ کے نہایت قریبی رشتہ کی خواتین کی تفصیل ہے کہ تمہارے چچا اور پھوپھیوں، ماموئوں اور خالائوں کی بیٹیوں میں سے اگر کسی نے دین کی خاطر اپنے خویش و اقارب اور خاندان و قبیلہ کو چھوڑا اور تمہارے ساتھ ہجرت کی ہو اور تم اس قربانی کی قدردانی اور حوصلہ افزائی کے طور پر ان میں سے کسی کو اپنے عقد نکاح میں لینا چاہ تو لے سکتے ہو۔ حضرت زینب ؓ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو نکاح کا حکم دیا اس میں جہاں جاہلیت کی ایک رسم بد کی اصلاح مدنظر تھی وہیں یہ بات بھی مدنظر تھی کہ وہ آپ کی پھوپھی کی لڑکی اور دین کی راہ میں اپنی قربانیوں کے اعتبار سے آنحضرت ﷺ کی دلداری کی مستحق تھیں۔
ام المومنین حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان ؓ کے ساتھ بھی آپ نے اسی اجازت کے تحت نکاح کیا۔ وہ آپ ﷺ کے رشتہ کے چچا کی صاجزادی تھیں اور دین کی راہ میں ان کی قربانیوں اور جانبازیوں کا جو حال تھا اس کا ذکر اوپر ہوچکا ہے۔
ننھیالی رشتوں میں اگرچہ حضور ﷺ کا کوئی نکاح ثابت نہیں لیکن ان کے اند ربھی اگر حضرت زینب ؓ اور اور حضرت ام حبیبہ ؓ جیس کوئی مثال موجود ہوتی تو اس آیت کے تحت آپ اس رشتہ کے اندر بھی نکاح کرسکتے تھے۔
وامرۃ قومنۃ ان فھبت نفسھا للنبی ان اراد النبی ان یستنکھھا۔ کسی خاتون کا اپنے آپ کو کسی کے لئے ہبہ کردینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے ہر حق سے دست بردار ہو کر اپنے تئیں اس کے حوالے کردے اور حقوق زوجیت میں سے جو کچھ بخش دے وہ اس پر قانع و راضی رہے۔ یہ ایک انتہائی ایثار نفس کی صورت ہے جس کا جذبہ، روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ سے محض شرفِ نسبت حاصل کرنے کے لئے متعدد صحابیات ؓ کے اندر موجود تھا اور انہوں نے حضور ﷺ سے اس کا اظہار بھی کیا۔ حضور ﷺ کی گھریلو زندگی ہر شخص کو معلوم ہے کہ فقرو فاقہ کی زندگی تھی۔ اوپر آپ پڑھ آئیے ہیں کہ امہات المومنین ؓ کی غریبانہ زندگی ہی کی بنا پر منافقات ان کے اندر وسوسہ اندازی کرتی رہتی ہیں کہ اگر وہ طلاق حاصل کرلیں تو وقت کے بڑے برے سردار ان کا نکاح کے پیغام دیں گے اور ان کی یہ فقر و فاقہ کی زندگی عیش و عشرت کی زندگی سے بدل جائے گی۔ اس طرح کی غریبانہ زندگی کے لئے ظاہر ہے کہ کوئی عورت دنیا کی کوئی طمع پیش ِ نظر رکھ کر یہ بازی نہیں کھیل سکتی تھی کہ وہ اپنے آپ کو ہبہ کردے ! یہ قربانی تو ہی خواتین کرسکتی تھیں جن کے دلوں میں رسول اللہ ﷺ کے لئے عقیدت و فدیت کا ایسا جذبہ ہو کہ وہ حضور ﷺ کی خدمت کی سعادت حاصل کرنے کے لئے اپنی زندگی کا ہر ارمان قربان کردینے کے لئے تیار ہوں۔ یہ جذبہ ایک نہایت پاکیزہ۔۔۔۔ جذبہ تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کا محافظ فرمایا اور حضور ﷺ کو یہ اجازت دی کہ اگر کوئی مومنہ اپنے آپ کو اس طرح ہبہ کردے اور حضور ﷺ کو اپنے عقد نکاح میں لینا چاہیں تو لے سکتے ہیں۔ ان اراد النبی این یکشقکحھا کی قید سے یہ بات نکلتی ہے کہ ہر چندیہ جذبہ نہایت محمود اور پاکیزہ ہے لیکن اس کی حوصلہ افزائی پیغمبر ﷺ کے لئے زیادہ ممکن نہیں ہے اس وہ سے یہ معاملہ کلیتہً آپ کی صوابدید پر منحصر ہے کسی کی اس طرح کی پیش کش کو آپ قبول کریں یا نہ کریں۔ اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ اس طرح کی صرف ایک پیش کش، حضرت میمونہ ؓ کی آپ ﷺ نے قبول فرمائی۔ یہ نکاح عمرۃ القضاء کے موقع پر 7 ھ میں ہوا۔ اس کے بعد آپ نے کوئی نکاح نہیں کیا۔
’ خالسۃ لک من دون المومنین۔ یعنی یہ چار سے زیادہ بیویوں کی اجازت خاص تمہارے لئے ہے، دوسرے مسلمانوں کے لئے اس کی اجازت نہیں ہے۔
’ قد علمنا ما فرضنا علیھم فی ازواجھم وما ملکت ایمانھم لکیلا یکون علیک حرج۔ یہ سورة نساء کی آیت 3 کی طرف اشارہ ہے جس میں مسلمانوں کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ بیک وقت چار سے زیادہ بیویاں نہیں رکھ سکتے۔ فرمایا کہ ہم نے عام مسلمانوں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے باب میں جو کچھ فرض کیا ہے وہ ہمارے پیش نظر ہے۔ اس کے باوجود ہم تم کو یہ خاص اجازت اس لئے دے رہے ہیں کہ تم پر اس باب میں کوئی تنگی باقی نہ رہے۔ یعنی اللہ نے جن دینی و ملی مصالح کی خاطر یہ اجازت آپ کو عطا فرمائی ہے ان مصالح کو آپ بغیر کسی زحمت کے پورا کرسیں۔ ان مصالح کی طرف ہم اوپر اشارہ کرتے آئے ہیں۔
وکان اللہ غفورا رحیما۔ یہ نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اگرچہ اس اجزت نے آپ ﷺ کے اوپر حقوق و فرائض سے متعلق بہت بھاری ذمہ داریاں عائد کردی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے، وہ ان تقصیرات سے درگزر فرماتا ہے جو بلا قصد وار دہ صادر ہوجایا کرتی ہیں۔
اس آیت کے متعلق، بعض روایات کی بنا پر، لوگوں نے یہ گمان کیا ہے کہ یہ حضور کے تمام نکاحوں کے بعد نازل ہوئی اور اس کے ذریعہ سے گویا آپ کو ایہ اطمینان دلادیا گیا کہ آپ ﷺ نے جتنے نکاح کیے سب جائز ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ بات صحیح نہیں ہے۔
پہلی قابل توجہ بات یہ ہے کہ تحدید ازواج کا صریح حکم نازل ہوجانے کے بعد حضور ﷺ کے لئے یہ ممکن کس طرح تھا کہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر آپ کوئی نکاح اس ضابطہ کے خلاف کرتے۔ آپ ﷺ کے شایانِ شان بات تو یہ تھی کہ آپ ﷺ اس حکم پر سب سے بڑھ کر عمل کرنے والے بنتے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر اتنی ہی بات کہنی تھی کہ آپ کے سب نکاح جائز ہیں تو یہ رشتوں اور عورتوں کی اقسام کی تفصیل کی کیا ضرورت تھی۔ پھر تو یہ مختصر سا فقرہ بالکل کافی ہوتا کہ اب تک آپ ﷺ نے جتنے نکاح کیے سب اللہ نے جائز کردیے۔ اس پر کسی کو اعتراض کا کوئی حق نہیں ہے۔
بہرحال یہ رائے نہایت کمزور ہے۔ ہمارے نزدیک اصل صورت واقعہ وہی ہے س کی طرف ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ جس وقت تحدید ِ ازواج والی آیت ہوئی ہے اس وقت تو آپ ﷺ کے نکاح میں چار ہی بیویاں تھیں، اس وجہ سے کسی کو طلاق دینے کا سوال ہی نہیں پید اہوتا تھا، البتہ بعد میں جب آپ نے جضرت زینب ؓ سے نکاح کیا تو یہ چیز معترضین کے لئے وجہ اعتراض بنی ہوگی اور اس اعتراض سے دوسرے نیک نیت لوگوں کے اندر بھی شبہات پیدا ہونے کا امکان تھا۔ اس امکان کے سدباب کے لئے اللہ تعالیٰ نے نہایت تفصیل سے واضح فرمادیا کہ حضرت زینب ؓ سے نکاح اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے کرایا ہے اور اس معاملے میں پیگمبر ﷺ کے لئے عام مسلمانوں سے الگ ضابطہ ہے۔ وہ فلاں فلاں اقسام کی خواتین سے آئندہ بھی نکاح کرسکتے ہیں۔ اس طرح حضرت زینب ؓ کے نکاح کو بھی جائز فرما دیا اور آئنہد کے لئے ایک ضابطہ بھی مقرر کردیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے نزدیک یہ آیت 5 ھ میں حضرت زینب ؓ کے نکاح کے بعد نازل ہوئی ہے۔
Ayah 33:51ترجی من تشاء منھن وتوی الیک من تشاء ومن ابتغیت ممن عذلت فلا جناح علیک ذلک ادنی ان تعرا حینھن ولا یحزن ویرضین بما اتینھن کلھن واللہ یعلم فی قلوبکم وکان اللہ علیما حلیما (51)
اوپر تفصیل سے یہ بات گزر چکی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے یہ سارے نکاح اصلاً مصلحت دین کے لئے تھے اس وجہ سے جس طرح ازواج کی تعداد کے معاملے میں آپ ﷺ کو عام ضابطہ سے مستثنی رکھا اسی طرح حقوق زوجیت کے معاملے میں بی آپ ﷺ کو آزادی دے دی کہ یہ چیز تمام تر آپ کی صوابدید پر ہے۔ آپ جس کو چاہیں اپنے پاس بلائیں، جس کو چاہیں نہ بلائیں۔ اگرچہ بیویوں کے درمیان عدل کا معاملہ بڑی اہمیت رکھنے والا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپو کو اس پابند سے بھی آزاد کردیا اور اس کی دو وجہیں تھیں۔
اول تو ہی جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ آنحضرت ﷺ کے نکاحوں میں نکاح کے عام مقصد کی حیثیت بالکل ضمنی اور ثانوی تھی۔ اصل مقصد دین تھا اور اس مقصد کے لئے ان حدود قیود کی پابندی کی ضرورت ہیں ہے جو عام میاں بیوں کے لئے مقرر ہیں۔
دوسری یہ کہ آنحضرت ﷺ کے متعلق یہ اندیشہ نہیں تھا کہ آپ اس آزادی سے کوئی غلط فائدہ اٹھائیں گے۔ چناچہ آپ کے تمام سیرت نگار اس بات پر متفق ہیں کہ اس آزادی کے باوجود آپ ﷺ نے اپنے اوپر عدل کی پوری پابندی قائم رکھی اور آخر تم تک کبھی اس کی خلاف ورزی نہیں کی۔
’ ومن ابتغیت ممن عزلت فلا جناح علیک ‘۔ یعنی آپ کو اس کی بھی اجازت ہے کہ آپ ﷺ اپنی ازواج میں سے کسی کو چاہیں تو ازدواجی تعلق سے بالکل معزول رکھنے کے بعد پھر ان سے تعلق کو بحال کرلیں۔ اس معاملے میں بھی نہ آپ پر کوئی پابندی ہے اور نہ آپ کی ازدواج میں سے کسی کو اس پر اعتراض کا حق ہوگا۔
’ ذلک ادنی ان تقرا عینھن ولا یحزن ویرضمین بما اتیتھن۔ ‘ یہ ازواج مطہرات ؓ کو تشویش و ترغیب ہے کہ وہ اپنے اوپر پیغمبر ﷺ کے تعلق کو عام میاں بیوی کے تعلق کی کسوٹی پر نہ رکھیں۔ بلکہ پیغمبر ﷺ کی اصل ذمہ داری اور اپنی اصل حیثیت کو سامنے رکھ کر جانچیں۔ اصل چیز زاویہ نگاہ ہے۔ اگر اس میں تبدیل ہوجائے گی اور وہ یہ سمجھ جائیں گی کہ پیغمبر ﷺ کے ساتھ ان کا اصل تعلق صرف میاں بیوی کا نہیں بلکہ خدمت دین کا ہے تو پھر حقوق کے معاملے میں نہ باہم ازواج میں کوئی رقابت ہوگی اور نہ پیغمبر ؓ ہی سے کوئی گلہ و شکوہ رہے گا بلکہ اپنے مصروف لمحات میں سے پیغمبر ؓ جو کچھ جس کو بخش دیں گے وہ اسی پر قناعت کریں گی۔ زاویہ نگاہ کی تبدیلی کے بعد دینی خدمت کے اعتبار سے جس کا مرتبہ بلند ہوگا اس کی قدر جس طرح نبی ﷺ کی نظروں میں ہوگی اسی طرح آپ کی ازواج کی نگاہوں میں بھی ہوگی اور باہمی رشک و رقابت کی تمام تلخیاں کافور ہوجائیں گی۔
’ واللہ یعلم فی قلوبکم وکان اللہ علیما حلیما ‘۔ یہ پیغمبر ص اور آپ ﷺ کی ازواج کو یاددہانی ہے کہ ہر ایک کو یہ حقیقت مستحضر رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھیدوں سے بھی واقف ہے لیکن وہ واقف ہونے کے ساتھ حلیم اور بردبار بھی ہے اس وجہ سے وہ در گزر بھی فرماتا ہے۔ للہ تعالیٰ کے اس علم و حلم کو مستحضر رکھنے ہی سے خدا کی خشیت اور اس کے عضو کا وہ صحیح تصور انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے جو امید وہیم دونوں کے اندر توازن پیدا کرکے انسان کی زندگی کو صحیح منہاج پر قائم رکھتا ہے۔
Ayah 33:52لا یعدلک النساء من بعد ولا ان تبدل بھن من زواج ولاعجبک حسنھن الا ما ملکت یمینک وکان اللہ علی کل شئی رقیبا (52)
مذکورہ بالا اصناف کی خواتین کے سوا دوسری تمام عورتیں نبی ﷺ کے لئے حرام کردی گئیں۔ ابن کثیر ؓ نے ایک پورے گروہ کی، جس میں ابی بن کعب، مجاہد، عکرمہ، ضحاک، ابو رزین، ابو صالح، حسن، قتادہ اور سری ؒ جیسے اکابر تفسیر شامل ہیں۔ یہ رائے نقل کی ہے کہ وہ سوی ذلک من اصناف النساء فلا یحل لک (اور ان کے سوا دوسری اقسام کی جو خواتین ہیں وہ تمہارے لئے جائز ہیں ہیں) آنحضرت ﷺ کے لئے ایک خاص دائرہ جو آیت 50 میں مذکور ہے، مخصوص کردیا گیا ہے اس سے باہر کوئی نکاح آپ نہیں کرسکتے تھے۔
’ ولا ان تبدل بھن من ازواج ولو اعجبک حسنھن۔ ‘ اور اس کی اجازت بھی آپ کو نہیں تھی کہ اپنی ان ازواج میں سے کسی کو الگ کرکے ان کی جگہ دوسری بیوی آپ لائیں، اگرچہ وہ آپ کی نظروں میں کتنی ہی پسندیدہ ہوں۔ اس کے بعد صرف ملک یمین کی اجازت باقی رہ گئی چناچہ اسی اجازت کے تحت حضرت ماریہ ؓ آپ کے قبضہ میں آئیں جن کے بطن سے حضور ﷺ کے صاجزادے حضرت ابراہیم کی ولادت ہوئی۔
’ وکان اللہ علی کل شئی رقیبا ‘۔ یہ آیت ظاہر ہے کہ بطور تذکری و تنبیہ ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ مخاطب یہاں حضور ہیں۔ اوپر والی آیت میں آپ نے دیکھا کہ اسی نوع کی تذکر ازواجِ مطہرات ؓ کو کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے ہاں ہر ایک مسئول ہے اور جو جتنا ہی بڑا ہے اتنا ہی زیادہ مسئول ہے۔ اس وجہ سے ہر ایک کے لئے ضروری ہوا کہ خدا مواخذہ سے پہلے اپنا محاسبہ کرتا رہے اور یہ اس یقین کے ساتھ محاسبہ کرتا رہے کہ اس کی زندگی کا کوئی گوشہ بھی خدا کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہے۔
اس آزادی اور اس پابندی پر، جو آنحضرت ﷺ کے لئے اوپر کی آیات میں بیان ہوئی ہے، غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ آنحضرت ﷺ کو اگرچہ ازواج کے معاملے میں چار کی قید سے آزاد کردیا گیا لیکن دوسری طرف آپ پر جو پابندیاں عائد کردی گئیں وہ ایسی ہیں کہ نکاح و طلاق دونوں ہی کے معاملے میں حضور ﷺ دوسرے مسلمانوں کے مقابل میں کہیں زیادہ پابند تھے۔
ایک عام مسلمان کو تو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ چار کی حد تک کو ملحوظ رکھتے ہوئے محرمات کے دائرے سے باہر، جس عورت سے چاہے نکاح کرے اور اپنی منکوحات میں سے جس کو چاہے طلاق دے کر اس کی جگہ کوئی دوسری بیوی اپنی پسند کی بیاہ لاے، لیکن آنحضرت ﷺ کی یہ آزادی حاصل نہیں تھی۔ آپ اس حکم کے نازل ہونے کے بعد اگر نکاح کرسکتے تھے تو صرف تین قسم کی عورتوں سے۔
٭اپنے نہایت قریبی رشتہ کسی ایسی خاتون سے جنہوں نے آپکے ساتھ ہجرت کی ہو۔
٭کسی جہاد کے نتیجہ میں بطور غنیمت حاصل شدہ کسی خاتون سے۔
کسی ایسی خاتون سے جو اپنے آپ کو حضور ﷺ کو ہبہ کردیں اور حضور ﷺ ان سے نکاح کرنا پسند فرمائیں۔
اس دائرے سے باہر نہ آپ کوئی نکاح کرسکتے تھے اور نہ ان ازواج میں، مجرد پسند و ناپسند کی بنا پر کوئی ردوبدل فرما سکتے تھے۔ یہ اجازت جن دینی مصالح کی بنا پر آپ کو دی گئی انکی وضاحت اوپر ہوچکی ہے۔
Ayah 33:5311۔ آگے کا مضمون۔ آیات 53۔ 62
آگے منافقین کی ریشہ دوانویں اور ایذا رسانیوں کے سدِ باب کے لئے نبی ﷺ کی ازواج کو بھی اور عام مسلمانوں کی بہوئوں بیٹیوں کو بھی پردے سے متعلق بعض ہدایات دی گئی ہیں۔ کچھ احکام سورة نور میں بھی پردے سے متعلق بیان ہوچکے ہیں۔ اس سورة میں اس باب کی تکمیل کردی گئی ہے تاکہ اشرارومفسدین کی دراندازی کے لئے کوئی رخنہ باقی نہ رہے۔ آخر میں منافقین کو یہ دھمکی دی گئی ہے کہ اگر اب بھی وہ اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے تو ان کے بارے میں ایسے احکام دے دیے جائیں گے کہ ان کے لئے اس سرزمین میں سرچھپانا ممکن ہوجائے گا… اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
12۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
یایھا الذین امنو تلا تدخلو بیوت النبی الا ان یوذن لکم الی طعاف گیر نظیرین اتہ ولکن اذدعیم فادخلوافاذطعمتم فانتشروا ولا مستانسعین لحدیث ان ذلکم کان یوذی النبعی فیسحی منکم واللہ لا یستحی من الحق، واذا سالتموھن متاعا فسئلوھن من ورا حجاب، ذلکم اطھر لقلوبک وقلوبھن وما کان لکم ان توذو ارسول اللہ ولا ان تنکحوا ازواجہ من بعدہ ابدا ان ذلکم کان عند اللہ عظیما (53)
مسلمانوں کے لئے ایک دوسرے کے گھروں میں آنے جانے سے متعلق ضروری آداب سورة نور میں بیان ہوچکے ہیں۔ یہاں نبی و کے گھروں سے متعلق انہی آداب کی مزید وضاحت ہو رہی ہے اور اس وضاحتِ مزید کی ضرورتانہی منافقین کی وجہ سے پیش آئی جن کا رویہ اس سورة میں زیر بحث ہے۔ نبی ﷺ وقتاً فوقتاً صحابہ ؓ کو کسی تقریب سے اپنے ہاں کھانے پر بلاتے رہتے۔ ایسے موقع پر ان لوگوں کو بھی آپ ازراہ کریم النفسی و تالیف قلب بلاتیہو جو مبتلائے نفاق تھے۔ اور اگر نہ بھی بلاتے تو بھی ان میں سے بعض ناخواندہ مہمان بن کر خود ہی پہنچ جاتے۔ یہ لوگ حضور ﷺ کی کریم النفسی سے نہایت غلط فائدہ اٹھاتے۔ اول تو یہ لوگ دعوت کا بہانہ پا کر کھانے کے وقت سے بہت پہلے ہی وہاں ڈیرا جما کر بیٹھ جاتے، پھر کھانا کھا چکنے کے بعد بھی وہاں سے کھسکنے کا نام نہ لیتے بلکہ باتوں میں لگے بیٹھے رہتے اور مزید شرارت یہ کرتے کہ کسی چیز کے مانگنے کے بہان یدرا تے ہوئے ازواج مطہرات ؓ کے سامنے چلے جاتے۔ مقصود دان ساری حرکتوں سے ان کا وہی ہوتا جس کی طرف ہم پیچھے اشارہ کرچکے ہیں کہ کوئی موقع ان کو ازواج مطہرات ؓ کے اندر وسوسہ اندازہ و ریشہ دوانی کا ہاتھ آئے۔ حضور ﷺ نے ان لوگوں کی ان حرکتوں کو محسوس فرماتے اور اس سے آپ کو تکلیف بھی پہنچتی لیکن آپ لحاظ و مروت کے سبب سے نظر انداز فرماتے۔ لیکن نظر انداز کیے جانے کی ایک حد ہوتی ہے۔ جب یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ لوگ اس کریم النفسی کے سزاوار نہیں ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس باب میں نہایت واضح احکام بھی دے دیے اور یہ تنبیہ بھی فرما دی کہ اب بھی اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو اپنے قضائے مبرم کی دعوت دینے والے بنیں گے۔
یایھا الذی امنو الا تدخلوا بیوت النبی الا ان یوذن لکم الی طعام غیر نظرین انسہ۔ خطاب اگرچہ عام تاکہ اس تعلیم کا فائدہ عام رہ لیکن اس کے پس پردہ وہی منافقین ہیں جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ابھی اس مرحلہ میں ان کا پردہ اٹھانا نہیں چاہا اس وجہ سے بات عام صیغہ ہی سے فرمائی ہے۔ ارشادہوا کہ اے ایمان والو نبی ﷺ کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو مگر یہ کہ تم کو کسی کھانے میں شرکت کے لئے اجازت دی جائے۔ یوذن لکم الی طعام کے اسلوب میں دو باتیں مضمر ہیں۔ ایک یہ کہ گھروں میں بدون اجازت نہ داخل ہو اور دوسری یہ کہ دعوت میں بن بلائے نہ جا دھمکو۔ غیر نظرین انہ۔ یہ تیسری شرط ہے۔ نظرین کے معنی منتظرین کے اور انی کے معنی کسی چیز کی تیاری اور پکنے کے وقت کے ہیں۔ یعنی یہ بھی جائز نہیں ہے کہ دعوت کا بہانہ ہاتھ آگیا ہے تو کھانے کی تیاری کے انتظار میں وہیں دھونی رما کر بیٹھ رہو۔ اول تو یہ چیز آدمی کی طماعی اور سفلہ پن کی دلیل ہے۔ ثانیا اس زمانے میں عام طور پر صورت یہ تھی کہ زنانہ مکانوں کے ساتھ مردانہ بیٹھکیں نہیں تھیں۔ نبی ﷺ کے مکان کا حال بھی یہی تھا۔ اس وجہ سے وقت سے پہلے لوگوں کا مجتمع ہوجانا اہل خانہ اور صاحب خانہ دونوں کے لئے موجبِ زحمت و اذیت تھا۔
ولکن اذ ادیتم فادخلوافاذ طعمتم فانتشروالولا مستانسین لحدیث۔ ‘ یہ صحیح طریقہ ارشاد ہوا کہ جب بلائے جائو تو وقت کے وقت داخل ہوا اور جب کھا چکو تو وہاں سے متنشر ہوجائو، باتوں میں لگے ہوئے وہاں بیٹھے نہ رہو۔ اذا دعیتم میں اسی مضمون کو کھول دیا ہے جو الا ان یوذن لکم الی طعام، میں مضمر ہے۔ یعنی صرف اس صورت میں جانا چاہیے جب بلایا جائے، بن بلائے مہمان بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ”ولا مسانسین لحدیث ‘ بالکل اسی طرح کی ہدایت ہے جس طرح کی ہدایت اوپر غیر نظرین انہ والے ٹکڑے میں دی گئی ہے۔ یعنی جس طرح یہ بات ناپسندیدہ ہے کہ کھانے کی تیاری کے انتظار میں پہلے سے جا بیٹھو اسیطرح یہ بات بی ناپسندیدہ ہے کہ کھانا کھا چکنے کے بعد کسی بات میں لگ کر وہیں جمے رہو۔
ان ذلکم کان یوذی النبی فیستحی منکوز واللہ لا یستعی من الحق۔ ذلکم۔ سے اشارہ ان ساری ہی باتوں کی طرف ہے جو اوپر مذکور ہوئیں۔ فرمایا کہ یہ باتیں نبی ﷺ کے لئے باعث زحمت و اذیت تھیں لیکن وہ شرم ولحاظ کے سبب سے تم کو ٹوکتے نہیں تھے لیکن اللہ کو حق کے معاملے میں کسی کا لحاظ نہیں ہے اس وجہ سے وہ تم کو ان باتوں سے آگاہ فرما رہا ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں نبی ﷺ کی کسی کمزوری کا ذکر نہیں فرمایا ہے بلکہ آپ ﷺ کی ایک پسندیدہ خصلت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ آپ نہایت کریم النفس و ذی مروت ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ان غلطیوں پر متنبہ فرمادیا ہے اور لحاظ و مروت کو بالائے طاق رکھ کے نبی کو بھی ان کا اعلان کرنا ضروری ہوا۔
’ واذ مالتموھن متاعا فسئلوھن من وراء حجاب۔ ضمیر کا مرجع ازواجِ نبی ؓ ہیں۔ اوپر بیوت النبی کا ذکر ہوچکا ہے اس وجہ سے ازواجِ نبی ؓ کے ذکر کے لئے نہایت واضح قرینہ موجود تھا۔ فرمایا کہ اگر کسی کو ان سے کوئی چیز مانگنے کی ضرورت پیش آئے تو یہ نہ کرے کہ دندناتا ہوا ان کی سامنے چلا جائے بلکہ پردے کیا وٹ سے مانگے، ذلکم اطھر لقولبکم وقلوبھن (یہی طریقہ تمہارے دلوں کو بھی زیادہ پاکیزہ رکھنے والا ہے اور ان کے دلوں کو بھی)۔ یہ ایک دفع و خل مقدر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بظاہریہ بات ایک غیر ضروری تکلف محسوس ہوتی ہے کہ کسی کو ان سے ایک گلاس پانی مانگنے کی بھی ضرورت پیش آئے تو اس کے لئے بھی پردہ کا اہتمام کرے لیکن یہ کوئی تکلف نہیں بلکہ دل کو آفات سے محفوط رکھنے کی ایک نہایت ضروری تدبیر ہے۔ انسان کا دل جس نے بنایا ہے وہ اس کی کمزوریوں سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کن کن مخفی راستوں سے یہ دل برے اثرات قبول کرتا ہے اور دل ہی وہ چیز ہے جس پر انسان کی تمام اخلاقی صحت کا انحصار ہے اس وہج سے ضروری ہے کہ جن کو اپنے دل کی صحت مطلوب ہو وہ اس کو ان تمام چیزوں سے محفوط رکھیں جو اس کو غبار آلود کرسکتی ہیں۔ اس زمانے کے مدعیانِ تہذیب اپنے کپڑوں کی صفائی کا تو بڑا اہتمام رکھتے ہیں۔ مجال نہیں ہے کہ ان پر ایک شکن یا ایک دھبہ بھی پڑنے دی لیکن ان کے دل جس گندگی سے بھی لت پت رہیں ان کی انہیں کوئی پروا نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اخلاقی و روحانی صحت کی ان کے ہاں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ حالانکہ اصلی اہمیت رکھنے والی چیز یہی ہے۔ نبی ﷺ نے اسی حقیقت کی طرف ان الفاظ میں توجہ دلائی ہ۔ مضعقہ فی الجسد اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذ انسدت فمد الضسد کلہ الادھی القلب ‘(انسان کے جسم میں ایک ٹکڑا گوشت کا ہے، اگر وہ تندرست ہے تو سارا جسم تندرست ہے اور جب اس میں فساد پیدا ہوجاتا ہے تو سارا جسم فاسد ہوجاتا ہے، آگاہ ہو کر سن لو کہ وہ دل ہے !) انسان کے جسم میں جو چیزیں جتنی ہی نازک اور قدروقیمت رکھنے والی ہیں اتنی ہی زیادہ ان کی حفاطٹ کرنی پڑیت ہے۔ دل سب سے زیادہ قدروقیمت رکھنے والا اور سب سے زیادہ حساس ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کی سب سے زیادہ اہتمام فرمایا۔
’ وماکان لکم ان توذوا رسول اللہ ولا انتنکحوا ازواجہ من بعدہ ابدا۔ فرمایا کہ تمہارے لئے یہ زیبا نہیں ہے کہ اپنی اس قسم کی حرکتوں سے، جو اوپر بیان ہوئین، اللہ کے رسول کو اذیت پہنچائو اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد کبھی بھی ان کی ازواج ؓ سے نکاح کرو۔
اس ٹکڑے نے تدریجی انکشاف کے اصول پر ان لوگوں کے چہروں سے نقاب اٹھا دی جن کو پیش نظر رکھ کر یہ احکام دیے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ منافقین ہی تھے جو نبی ﷺ کو اذیت پہنچانے کے لئے اس طرح کی حرکتیں کرتے تھے اور وہی تھے جو اپنے دلوں میں یہ ارمان بھی رکھتے تھے کہ آپ کی ازواج سے نکاح کریں تاکہ اس کو اللہ اور رسول کے خلاف فتنہ انگیزیوں کا ذریعہ بنائیں۔ اس آیت کا انداز، تنبیہ کا ہے اس وجہ سے اس میں حضور ﷺ کا ذکر رسول اللہ کے لفظ سے ہوا ہے حالانکہ اوپر کی آیات میں بار بار آپ کا زکر نبی کے لفظ سے ہوا ہے۔ اس کی وجہ اس تنبیہ کی شدت کو ظاہر کرنا ہے۔ اس لئے کہ رسول، جیسا کہ ہم اس کتاب میں بار بار واضح کرچکے ہیں، اپنی قوم کے لئے خدا کی عدالت ہوتا ہے۔ وہ جب آتا ہے تو صرف وعظ سنانے کے لئے نہیں آتا، بلکہ قوم کے نیکوں اور بدوں کے درمیان فیصلہ کردینے کے لئے آتا ہے۔ اس وجہ سے اس کے ساتھ مذاق یا اس کو اذیت پہنچانا بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ یہ کھیل کھیل رہے ہیں وہ آگے سے کھیل رہے ہیں۔ اس کے اس انجام کو وہ سامنے رکھیں۔
’ ولا ان تنکحوا زواجہ من بعدہ ابدا۔ ‘ یہہ ان کے اس ارمان پر بھی آخری ضرب لگا دی ہے جو ازواجِ نبی ؓ سے نکاح کے لئے وہ اپنے دلوں میں رکھتے تھے۔ فرمایا کہ تمہارے لئے یہ بات بھی جائز نہیں ہے کہ تم نبی ﷺ کی بیویوں سے آج یا کبھی بھی نکاح کرو۔ اوپر آیت 6 میں یہ بات گزر چکی ہے کہ نبی ﷺ کی ازواج کی حیثیت امت کی مائوں کی ہے اور ان کے ساتھ تعلق کی یہی نوعیت فطری بھی ہے اور عقللی بھی۔ فطری اس وجہ سے کہ حضور ﷺ کی ازواج کے لئے ہر امتی کے دل کے اندر (اگر اس کے اندر یمان کی رمق ہے) احترام و عقیدت کا جذبہ اپنی ماں کے مقابل میں بھی بدرجہا زیادہ ہوتا ہے۔ اس جذبے کے ہوتے کوئی امتی ان کے ساتھ نکاح کے تصور کر اپنی ماں کے ساتھ نکاح کے تصور سے بھی بدرجہاگراں اور شرم انگیز محسوس کرتا ہے۔ اگر کسی کے اندر ان کے ساتھ نکاح کا جذبہ ابھرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہے کہ اس کے ایمان میں فتور اور اس کی فطرت میں بگاڑ پیدا ہوچکا ہے۔
عقلی اس وجہ سے کہ ازواج نبی ؓ کی حیثیت، جیسا کہ آیت 34 میں گزر چکا ہے، اس امت کے ذکورواناث، سب کے لئے، معلمات کی ہے اور اس منصب پر ان کو خود اللہ تعالیٰ نے مامور فرمایا ہے۔ اس منصب کا مقتضی یہ ہے کہ ان کو مائوں ہی کے درجے میں رکھا جائے۔ اسی درجے پر رہتے ہوئے ہی وہ اپنے اس فریضہ منصبی کو صحیح طور پر ادا کرسکتی ہیں۔ اگر اس درجے سے ان کو گرا دیا جائے تو نہ وہ اپنے صحیح وقار کو قائم رکھ سکتی ہیں، نہ دوسرے ان سے اس طرح کسب فیض کرسکتے ہیں جس طرح معلمات امت سے کیا جانا چاہیے۔
Ayah 33:54ان ذلکم کان عند اللہ عظیما۔ یہ تنبیہ ہے اور بڑی ہی سخت تنبیہ ہے۔ فرمایا کہ یہ باتیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی ہی سنگین ہیں۔ یہاں اس کے وبال کی وضاحت نہیں فرمائی اور اس ابہام کے اندر جو تہدید تخویف ہضم ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔
ان تبدوا شیاء اوتخفوہ فان اللہ کان بکل شئی علیما (54)
یہ بھی تنبیہ ہے جو اوپر والی تنبیہ کو مزید موکد کر رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا چونکہ دلوں کے بھید سے بھی واقف ہے اس وجہ سے اس سے کوئی بات چھپائی نہیں جاسکے گی۔ اس دنیا میں تو اپنی کسی نازیبا سے نازیبا حرکت کے لئے بھی نہایت حسین عذر تراشے جاسکتے ہیں لیکن یہ عذرات خدا کے ہاں نہیں کام آئیں گے۔ وہ دلوں کے مخفی کھوٹ بھی سب کے سامنے رکھ دے گا۔
Ayah 33:55لا جناح علیھن فی ابائھن ولا ابنائھن ولا اخوانھن ولا ابناء اخوانھن ولا ابناء اخواتھن ولا نسائھن ولا ماملکت ایمانھن واتقین اللہ ان اللہ کان علی کل شئی شھیدا (55)
یہ آیت اسی محل میں ہے جس محل میں سورة نور کی آیت 31 :’ ولا یبدین زینتھن الایۃ ‘ ہے۔ دونوں میں الفاظ بھی اکثر مشترک ہیں۔ اوپر والی آیت میں ازواجِ نبی ؓ کے گھروں میں دوسروں کے داخل ہونے پر جو پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان پابندیوں سے جو لوگ مسثنی ہیں یہ ان کی تفصیل ہے۔ خاص ہم رشتوں کا ذکر کردیا ہے اور مقصود یہ ہے کہ جو رشتہ دار ان کے حکم میں داخل ہیں وہ سب اس پابندی سے مستثنی ہیں۔ ان کے اوپر صرف وہی پابندیاں ہوگی گی۔ جو سورة نور میں مذکور ہوئی ہیں۔
Ayah 33:56’ واتقین اللہ ان اللہ کان علی کل شئی شھیدا۔ یہ آخر میں ازواج نبی ؓ کو بھی اسی طرح کی تنبیہ ہے جس طرح کی تنبہیات دوسروں کے لئے اوپر گزر چکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان احکام و ہدایت کی صرف خانہ پری مقصود نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ ان کی تعمیل پوری خدا ترسی اور تقویٰ کے ساتھ کی جائے اور یہ حقیقت ہمیشہ دل میں مستحضر رہے کہ اللہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔ کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں انسان خدا سے چھپ سکتا ہے۔ ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی یایھا الذین امنو صلوا علیہ وسلم وا تسلیما (56)
نبی ﷺ کو ایذا و آزار پہنچانے کے بجائے اہلِ ایمان کو حضور ﷺ کے معاملے میں جو رویہ اختیار کرنا چاہیے، یہ اس کی ہدایت ہے۔ فرمایا کہ اللہ اپنے نبی ﷺ پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے ہں۔ اس وجہ سے اہل ایمان کے لئے بھی صحیح روش، خدا اور اس کے فرشتوں سے ہم آہنگ و ہم رنگ، یہی ہے کہ وہ بھی نبی ﷺ پر زیادہ سے زیادہ درود وسلام بھیجیں نہ کہ اس کو ایذا پہنچانے کی تدبیریں سوچیں۔
اس آیت سے کئی حقیقتیں سامنے آتی ہیں جو نگاہ میں رکھنے کی ہیںَ
ایک یہ کہ جس نبی ﷺ کا مرتبہ اللہ اور اس کے فرشتوں کی نظروں میں یہ ہے کہ اللہ اس پر رحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے اس پر رحإت کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں، حیف ہے اگر انسانوں میں سے کچھ لوگ اس کے درپے آزار ہوں اور آنحالیکہ نبی ﷺ کا اصلی احسان انسانوں ہی پر ہے نہ کہ خدا اور اس کے فرشتوں پر۔
دوسری یہ کہ جو لوگ نبی ﷺ پر درود وسلام بھیجتے ہیں وہ نبی ﷺ پر کوئی احسان نہیں کرتے۔ بلکہ خدا اور اس کے فرشتوں کی ہم نوائی کرکے وہ اپنے کو سزا وار رحمت بناتے ہیں۔ جہاں تک نبی ﷺ کا تعلق ہے جب آپ کو اللہ کی رحمت اور فرشتوں کی دعائیں حاصل ہیں تو وہ دوسروں کی دعائوں کے محتاج نہیں ہیں۔
تیسری یہ کہ نبی و پر درودوسلام بھیجنا مرض نفاق کا علاج ہے۔ اس لئے کہ یہاں جس محل میں اس کی ہدایت فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ منافقوں کو طرح نبی کو ایذا پہنچانے کے بجائے اہل ایمان کو نبی پر درود بھیجنا چاہیے۔ اس سے یہ بات واضح طور پر نکلتی ہے کہ جو لوگ درود کا اہتمام رکھتے ہیں ان کے اندر نفاق راہ نہیں پاتا۔
چوتھی یہ کہ مقصود درود وسلام کی تکثیر ہے۔ موقع و محل بھی اس مفہوم کا متقاضی ہے اور آیت کے الفاظ بھی اسی کے شاہد ہیں۔ اس لئے کہ تسلموا تسلیما“ میں مصدر تاکید و تکثیر کے مفہوم پر دلیل ہے اس وجہ سے ہم ان فقہاء کے رائے کو صحیح نہیں سمجھتے جو کہت ہیں کہ اگر عمر بھر میں ایک مرتبہ بھی کوئی درود پڑھ لے تو اس آیت کا حق ادا ہوجائے گا۔
Ayah 33:57ان الذین یوذون اللہ ورسولہ لعنھم اللہ فی الدنیا والاخرۃ واعدلھم عذاب مھینا (57)
یہ ان لوگوں کا انجام بیان فرمایا جو اللہ کے رسول کی دل آزادی اور توہین کے مرتکب ہو رہے تھے۔ فرمایا کہ رسول کو ایذا پہنچانا خود اللہ کو ایذا پہنچانا ہے۔ رسول خدا کا محبوب اور اس کا نمائندہ ہوتا ہے اور خدا اور اس کے فرشتے اس پر رحمت بھیجتے ہیں تو جن کا رویہ اس کے خلاف ہوگا وہ لازماً خدا اور اس کے فرشتوں کے مخالف اور خدا کو ایذا پہنچانے والے ٹھہرے۔ ان کی اس حرکت کی پاداش میں ان پر دنیا اور آخرت دونوں میں اللہ کی لعنت ہے۔ یہ دنیا بھی ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں بھی ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار ہے۔ یہ امر یہاں خاص طور پر ملحوظ رہے کہ ان کو آخرت کے عذاب سے پہلے اس دنیا میں بھی عذاب کی دھمکی دی گئی ہے۔ یہ اس سنت اللہ کی طرف اشارہ ہے جو رسولوں کے مخالفین کے لئے بیان ہوچکی ہے۔ اس کی وضاحت آگے آیات 60۔ 61 میں آرہی ہے۔ یہ بعینہ وہی سزا ہے جو یہود کو دی گئی اور ان کا بھی اصلی جرم یہی تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں کو ایذاء پہنچائی۔ اس کی مزید وضاحت انشاء اللہ سورة صف کی تفسیر میں آئے گی۔
Ayah 33:58والذین یوذون المومنین والمومنت بغیر اکتسبوا فقد احتملوا بھتانا واثما مبینا (58)
اوپر کی آیات میں منافقین کا وہ رویہ زیر بحث آیا ہے جو انہوں نے خاص نبی ﷺ کے ساتھ اختیار کر رکھا تھا۔ اب یہ عام مومنین و مومنات کو متہم کرنے کے لئے جو شرارتیں کر رہے تھے، وہ ان کی طرف اشارہ ہے۔ سورة نور کی تفسیر میں ہم تفصیل سے بیان کرچکے ہیں کہ ان منافقین کے دلوں پر ہی بات شاق تھی کہ مسلمانوں کو دوسرے تمام گروہوں کے مقابل میں غیر معمولی اخلاقی برتری حاصل ہے جو ان کی دعوت کو مقبولیت میں بڑے اہم عامل کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے حسد کے جنون میں اس کا توڑ یہ نکالا کہ مسلمان مردوں اور عورتوں کے خلاف بےسروپا الزامات تراشیں اور لوگوں میں ان کو پھیلائیں تاکہ مسلمانوں کی اخلاقی ساکھ مجروں اور ان کا کلیجہ ٹھنڈا ہو۔ واقعہ افک کی تفصیلات سورة نور کی تفسیر میں بیان ہوچکی ہیں۔ وہ فتنہ بھی اسی مقصد سے اٹھایا گیا تھا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی اسی سعی نامراد کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جو لوگ مسلمان مردوں اور عورتوں کو جھوٹے الزامات میں ملوث کر رہے ہیں وہ صریح بہتان اور کھلے گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اپنی اس روش سے اگر یہ باز نہ آئے تو اس کا انجام دیکھیں گے !
Ayah 33:59یایھا النبی قلا لازوک وبنتک ونساء المومنین یدینین علیھن من جلابیبھن ذلک ادنی ان یعرفن فلا یوذین وکان اللہ غفور رحیما (59)
منافقین و اشرار کی ایذا رسانیوں سے محفوظ کرنے کے لئے نبی ﷺ کے اہل بیت کو بھی اور عام مسلمان خواتین کو بھی یہ ہدایت کردی گئی کہ جب انہیں کسی ضرورت سے گھروں سے باہر قدم نکالنے کی ضرورت پیش آئے تو وہ اپنی بڑی چادروں کا کچھ حصہ اپنے چہروں پر لٹکا لیا کریں۔ اس طرح ان کے اور دوسری غیر مسلم عورتوں اور لونڈیوں کے درمیان امتیاز ہوجائے گا اور کسی کو ان سے تعرض کے لئے بہانہ ہاتھ نہیں آئے گا۔
سورة نور میں، یاد ہوگا، عزہ و اقربا سے متعلق یہ ہدایت دی گئی ہے کہ جب وہ اجازت کے بعد گھروں میں داخل ہوں گے تو گھر کی خواتین سمٹ سمٹا کر رہیں، اپنی زینت کی چیزوں کا اظہار نہ کرین اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے بکل ما رلیا کریں۔ یہاں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی بڑی چادروں (جلابیب) کا کچھ حصہ اپنے اوپر لٹکا لیا کریں۔ اس کو اپنے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ ان بڑی چادروں سے گھونگھٹ نکال لیا کریں۔ یہ واضح قرینہ اس بات کا ہے کہ یہ ہدایت اس صورت سے تعلق ہے جب عورتوں کو کسی ضرورت سے باہر نکلنے کی ضرورت پیش آئے۔ اس قرینہ کی ایک دلیل تو یہ ہے کہ اس کا فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ ’ ذلک ادنی ان یعرفن فلا یوذین ‘ یہ اس بات کے قریب ہے کہ ان کا امتیاز ہوجائے اور اسن سے تعرض نہ کیا جائے) ظاہر ہے کہ یہ مقصد باہر نکلنے ہی کی صورت میں مدنظر ہوسکتا ہے۔ اس کا دوسرا واضح قرینہ یہ ہے کہ یہاں لفظ حماد ’ نہیں بلکہ ‘ جلباب ‘ استعمال ہوا ہے۔ جلباب کی تشریح اہل نعت نے یوں کی ہے کہ ھوالردا فوق الخمار۔ جلباب۔ اس بڑی چادر کو کہتے ہیں جو اوڑھنی کے اوپر لی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس بڑی چادر کے لینے کی ضرورت گھروں کے اندر نہیں پیش آتی تھی بلکہ شرفائے عرب کی خواتی اس وقت اس کو لیتی تھیں جب انہیں گھروں سے باہر نکلنے کی ضرورت پیش آتی۔ شعرائے جاہلیت کے کلام سے یہ بات ثابت ہے کہ شرفائے عرب میں ’ جلباب ‘ کا رواج تھا۔ یہاں بہت سے اشعار نقل کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ قبیلہ ہذیل کی ایک شاعرہ کا ایک شعر ہمارے دعوت کے ثبوت کے لئے کاف ہے۔ وہ اپنے کسی مقتول کے مرثیہ میں کہتی ہے :
تمشی السنورالہ وھی لاھیۃ مشی العذاری علیھن الجلابیب
اس شعر میں جو نا درتشبیہ ہے اس پر گفتگوکا تو یہاں محل نہیں ہے۔ بات دوسرے گوشوں میں نکل جائے گی۔ بس اتنی بات یاد رکھئے کہ زمانہ جاہلیت میں سب ’ متبجات ‘ اور بیگمات ہی نہیں تھیں بلکہ شرفاء کے خاندانوں کو بہوئیں بیٹیاں بھی تھیں جو باہر نکلنے کی صورت میں اپنی اوڑھنیوں کے اوپر جلباب ڈالا کرتی تھیں۔ قرآن نے اس جلباب سے متعلق یہ ہدایت فرمائی کہ مسلمان خواتین گھروں سے باہر نکلیں تو اس کو کچھ حصہ اپنے اوپر لٹکا لیا کریں تو کہ چہرہ بھی فی الجملہ ڈھک جائے اور انہیں چلنے پھرنے میں بھی زحمت پیش نہ آئے۔ یہی ’ جلباب ‘ ہے جو ہمارے دیہاتوں کی شریف بڑی بوڑھیوں میں اب بھی رائج ہے اور اسی نے فیشن کی ترقی سے اب برقع کی شکل اختیار کرلی ہے۔ اس برقعہ کو اس زمانے کے دالدگانِ تہذیب اگر تہذیب کے خلاف قرار دیتے ہیں تو دیں لیکن قرآن مجید میں اس کا حکم نہایت واضح الفاط میں موجود ہے، جس کا انکار صرف وہی برخود لوگ کرسکتے ہیں جو خدا اور رسول کے زیادہ مہذب ہونے کے مدعی ہوں۔
’ ذلک ادنی ان یعرفن فلا یوذین۔ یہ مسلمان خواتین کے لئے ایک علامت امتیاز مقرر کردی گئی تاکہ جہاں کہیں بھی وہ نکلیں ہر شخص ان کو دور ہی سے پہچان لے کہ یہ مسلمان خواتی ہیں اور تعرض کی جرأت نہ کرے اور اگر کرے تو اس کے عواقب دور تک سوچ کر کرے۔ اس زمانہ میں مدینہ میں غیر مسلم عورتیں بھی تھیں جن کے ہاں پردہ کی پابندیاں نہیں تھیں نیز لونڈیاں بھی تھیں جن کا معیارِ زندگی اور معیارِ اخلاق دونوں پست تھا اس وجہ سے شریر لوگوں کے لئے عذر کے مواقع بہت تھے۔ اگر وہ کسی مسلمان خاتون پر اہ چلتے کوئی فقرہ چست کرتے یا اس سے کوئی بات کرنے کی کوشش کرتے اور ان پر گرفت ہوتی تو وہ یہ جواب دے دیتے کہ ہم نے سمجھا کہ یہ فلاں کی لونڈی ہے، اور اس سے فلاں بات ہم نے معلوم کرنی چاہی تھی۔ اس علامتِ امتیاز کے قائم ہوجانے کے بعد اس قسم کے بہانوں کی راہ مسدود ہوگئی۔
اس ٹکڑے سے کسی یہ گلط فہمی نہ ہو کہ ایک وقتی تدبیر تھی جو اشرار کے شر سے مسلمان خواتین کو محفوط رکھنے کے لئے اختیار کی گئی اور اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اول تو احکام جتنے بھی نازل ہوئے ہیں سب محرکات کے تحت ہی نازل ہوئے ہیں لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہے کہ وہ محرکات نہ ہوں تو وہ احکام کالعدم ہوجائیں، دوسرے یہ کہ جن حالات میں یہ حکم دیا گیا تھا کیا کوئی ذی ہوش یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ اس زمانے میں حالات کل کی نسبت ہزار درجہ زیادہ خراب ہیں البتہ حیا اور عفت کے وہ تصورات معدوم ہوگئے جن کی تعلیم قرآن نے دی تھی۔
وکان اللہ غفورا رحیما۔ یہ فقرہ اس حکم تسہیل کے لئے ارشاد ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خواتین اپنی ھد تک یہ احتیاط ملحوظ رکھیں۔ اگر اس کے باوجود کوئی بھول چوک ہوگئی تو اللہ غفور رحی ہے۔
Ayahs 33:60–61لئن لم ینتہ المنفقون والذین فی قلوبھم مرض والمرجفون فی المدینۃ لنغرینک بھم چم لا یجاورونک فیھا الا قلیلا۔ ملعونین۔ اینما ثقفوا اخذوا وقتلوتقیلا (60۔ 61)
یہ ان اشرار ومنافقین کو دھمکی دی ہے کہ اگر یہ اپنی ان شرارتوں سے باز نہ آئے تو ان کے باب میں چشم پوشی و مسامحت کا جو رویہ اب تک رہا ہے وہ یکسر بدل جائے گا اور ہم تم کو (خطاب نبی ﷺ سے ہے) ہر قدم پر ان کے محاسبہ و تعاقب کا حکم دے دیں گے۔ پھر ان کو اس شہر میں بہت کم رہنا نصیب ہوگا۔ اس کے بعد جتنے دن بھی یہ یہاں جئیں گے معلون ہو کر زندگی گزاریں گے۔ ہر قدم پر ان کی دار وگیر ہوگی۔ یہ پکڑے جائیں گے اور نہایت عبرت انگیز طریقوں سے قتل ہوں گے۔
’ والذین فی قلوبھم مرض میں ’ مرض ‘ سے، جیسا کہ دوسرے محل میں اس کی وضاحت ہوچکی ہے، حسد، کینہ اور بغض وعناد رمراد ہے۔ منافقین کا یہ گروہ صرف ضعب عزم و ارادہ ہی کا مریض نہیں تھا بلکہ اس کی پیغمبر و، اسلام اور مسلمانوں پر سخت حسد تھا۔ لیکن بزدلی کے سبب اس نے کفار کی طرح کھلم کھلا مخالفت کرنے کے بجائے مسلمانوں کے اندر گھس کر اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کیں۔
’ المرجفون فی المدینہ ‘ سے اشارہ منافقین کے اس گروہ کی طرف ہے جو مدینہ میں سنسنی پھیلانے اور بری افواہیں اڑانے میں نہایت شاطر تھا۔ ان افواہوں سے اس کا مقصد مسلمانوں کا حوصلہ پست کرنا اور ان کی اخلاقی ساکھ کو گرانا ہوتا تھا۔ پیچھے جنگ احزاب اور حضرت زید ؓ و حضرت زینب ؓ کے معاملے میں اس گروہ کا جو کردار بیان ہوا ہے وہ اس ارجاف کی نہایت واضح مثال ہے۔ لغت میں ارجاف کے معنی لوگوں کے اندر اضطراب و بےچینی پھیلانے کے ارادے سے بری اور فتنہ انگیز خبروں کا پروپیگنڈا کرنا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ’ ارجاب ‘ کے ماہرین صرف اسی دور کی پیداوار نہیں ہیں بلکہ اس کے بڑے بڑے ائمہ ماضی میں بھی گزر چکے ہیں۔
’ لنغرینک بھم ‘ کے لغوی معنی تو یہ ہوں گے کہ ہم تمکو ان کے خلاف اکسا دیں گے، بھڑکا دیں گے، ابھاردیں گے۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ اب تک تو ہم نے تم کو ان کے معاملے میں عفو وصفح کی روش اختیار کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے لیکن یہ اس کی قدر کرنے کے بجائے دن پر دن دلیر ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر یہ اپنی اس شرارت سے باز نہ آئے تو ہم تم کو ان کی داروگیر کے احکام دے دیں گے جس کے بعد مدینہ کی سرزمین ان کے ئے تنگ ہوجائے گی۔ اول تو ان کو تمہارے دامن امن میں پھڑکنا ہی بہت کم نصیب ہوگا اور اگر کچھ ہوگا بھی تو خدا کی لعنت اور پھٹکار کے ساتھ ہوگا۔ اینما ثقفو اخذوا وقتلو تقتیلا اسی ملعونیت کی تصویر ہے۔ چناچہ بعد کے ادوار میں ان منافقین کو اسی حشر سے سابقہ پیش ٓیا۔ ان میں سے جنہوں نے اپنی روش کی اصلاح نہیں کی ان کا انجام وہی ہوا جو قریش اور یہود کے اشرار کو ہوا۔ اس کی تفصیل سورة انفعال اور سورة توبہ میں گزر چکی ہے۔
Ayah 33:62سنتہ اللہ فی الذی خلوا من قبل ولن تجد لسنتہ اللہ تبدیلا (62)
یہ بعینہ وہی اسلوب کلام ہے جو آیت 28 میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انبیاء کی مخالفت کرنے والے اس سے پہلو جو منافقین و کفار گر چکے ہیں ان کے ساتھ بھی اللہ نے یہی معاملہ کیا تو اللہ کی اس سنت کو تم پیش نظر رکھو، یہی معاملہ اللہ تمہارے ان دشمنوں کے ساتھ بھی کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کی سنت میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔
Ayah 33:6313۔ آگے کا مضمون۔ آیات 63۔ 73
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں پہلے قیامت کی یاددہانی فرمائی ہے کہ مجرد اس بنا کر کہ اس کا وقت پیغمبر نہیں بتاسکتے یا لوگوں کے مطالبہ پر اس کو دکھا نہیں سکتے اس کو مذاق سجھنا نہایت نا عاقبت اندیشا نہ روش ہے۔ وہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ اس کے ظہور کا وقت اگرچہ اللہ ہی کو معلوم ہے لیکن وہ آکے رہے گی اور اس دن کوئی کسی کا حامی و شفیع نہ بن سکے گا بلکہ ہر شخص اپنے اعمال اور اپنی ذمہ داریوں سے متعلق خود مسئول ہوگا۔ اس دن کسی کا یہ عذر نافع نہیں ہوگا کہ اس نے اپنے لیڈروں اور بڑوں کو پیروی کی اور انہوں نے اس کو گمراہ کیا۔
اس کے بعد مسلمانوں بالخصوص منافقین کو تنبیہ فرمائی ہے کہ اپنے رسول کے معاملے میں ایذا رسانی کی وہ روش نہ اختیار کرو جو یہود نے حضرت موسیٰ ؑ کو ایذا پہنچانے کے لئے اختیارو کی ورنہ اس کا انجام وہی ہوگا جس سے یہود کو دو چار ہونا پڑا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو ہر الزام سے بری کیا اور ان کے مخالفین پر ہمیشہ کے لیے لعنت کردی۔ مسلمانوں کے لئے صحیح روش، جو دنیا و آخرت دونوں کی کامرانیوں کی ضامن ہے، یہ ہے کہ وہ رسول کے ہر حکم پر ’ سمعنا واطعنا ‘ کہیں۔
آخر میں یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے عظیم شرف سے نوازا ہے کہ اس کو اپنی اس زمانت کا امین بنایا ہے جس کا اہل آسمان و زمین میں اس نے صرف اسی کو ٹھہرایا۔ اس امانت کی ذمہ داریاں ادا کرنے ہی پر اس کے تمام شرف کا انحصار ہے۔ اگر اس کا حق ادا کرے تو وہ فرشتوں کا مسجود ہے اور اگر حق نہ پہچانے تو پھر وہ اسفل سافلین کا سزوار ہے۔ اس امانت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ایکدن وہ اس کی بابت مسئول ہو وہ اس کی سزا بھگتیں اور جنہوں نے اس کی نہگداشت کی وہ و اس کا صلہ پائیں۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
14۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
یسئلک الناس عن الساعۃ قل انما علمھا عند اللہ وما یدریک لعل الساعۃ تکون قریبا (63)
یعنی ان اشرار و مفسدین کو جب قیامت سے ڈرایا جاتا ہے تو یہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں کہ ہم نہ جانے کب سے اس کا ڈراوا سن رہے ہیں لیکن نہ وہ آئی، نہ کبھی آئے گی۔ اگر اس کو آنا ہو تو آخر وہ آ کیوں نہیں جاتی ؟ اس کے آنے کا وقت کب آئے گا ! مطلب یہ ہے کہ ہی محض ایک دھونس ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور ہم اس دھونس میں آنے والے نہیں ہیں۔
’ قل انما علمھا عند اللہ ‘۔ فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ جہاں تک اس کے آنے کے وقت کا تعلق ہے اس کا علم تو بس اللہ ہی کو ہے۔ کائنات کے اس بھید کو صرف خدا ہی جانتا ہے۔ نہ اس کو میں جانتا ہوں اور نہ کسی اور کو اس کا علم ہے۔ البتہ اس کا آنا یقینی ہے۔ جس سے میں تمہیں آگاہ کررہا ہوں۔ اگر میں اس کا وقت نہیں بتاسکتا تو اس سے اس کی نفی نہیں ہوسکتی۔ دوسرے مقام میں اس بات کی وضاحت اس طرح فرمادی کہ کسی چیز کے ظہور کا وقت نہ معلوم ہونے سے نفس اس شے کا انکار ایک احمقاننہ منطق ہے۔ قیامت تو درکنار ہماری روزمرہ کی زندگی کی کتنی عامتہ الورود حقیقتیں ہیں جن کا وقت اگرچہ معلوم نہیں ہوتا لیکن کوئی عقال ان کا انکار نہیں کرتا۔ انسان کے علم کی رسائی بہت محدود ہے۔ وہ ہر چیز کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ آفاق وانفس اور عقل و فطرت کے اندر قیامت کی شہادت موجود ہے تو مجرد اس بنا پر اس کا مذاق اڑانا کہ اس کا وقت نہیں بتایا جاسکتا، مھض ابلہی و خود فریبی ہے۔
’ وما یدرک لعل الساعۃ تکون قریبا ‘۔ یہ اسلوبِ کلام کسی شے کی عظمت، اہمیت اور اس کی ہولناکی کو ظاہر کرتا ہے۔ مخالفین کے سوال میں جو طنز و استہزاء مضمر ہے یہ اس کا جواب ہے کہ مجرد اس بنا پر کہ تم قیامت کا وقت نہی بتا سکتے لوگ تمہارا مذاق اڑا رہے ہیں، تمہیں کیا خبر، شاید وہ قریب ہی آلگی ہو… اس فقرے میں بھی یہ اشار فرمادیا گیا کہ اب اس کے ظہور میں زیادہ دیر نہیں ہے۔ یہ پیغمبر ﷺ کے لء تسلی اور قیامت کا مذاق اڑانے والوں کے لئے نہایت سخت انذارد تنبیہ ہے۔ یہ امیر یہاں ملحوظ رہے کہ نبی ﷺ چونکہ آکری نبی ہیں اس وجہ سے آپ کی بعثت کے بعد دنیا کی عدالت کے لئے آخری مرحلہ اب قیامت ہی کا باقی رہ گیا۔ اس پر مفصل بحث اس کے محل میں انشاء اللہ آئے گی۔
Ayahs 33:64–65ان اللہ لعن الکفرین واعد لھم سعیرا۔ خلدین فیھا ابدا۔ لا یجدون ولیا ولا نصیرا (64۔ 65)
اوپر کی آیت میں جو انداز مضمر تھا یہ اس کو کھول دیا کہ آج جو لوگ قیامت کا انکار کر رہے ہیں وہ کان کھول کر سن لیں کہ اللہ نے اسن پر لعنت کردی ہے اور ان کے لئے اس نے دوزخ کا عذاب تیار کر رکھا ہے جس میں ان کو ہمیشہ رہنا ہے اور اس میں کوئی ان کا کارساز و مددگار نہ بن سکے گا۔ انہ ان کے وہ شرکاء و شفعاء ان کے کچھ کام آنے والے ہیں گے جن کے اعتماد پر وہ نچنت بیٹھے ہیں اور نہ ان کی یہ جماعت و جمعیت ہی ان کی کچھ مدد کرسکے گی جس پر اس دنیا میں ان کو بڑا ناز ہے۔