9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsسراج البیان

Ayahs 9:120–121

مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 9:120 in the Quran reader

اہل مدینہ اور انکی نواحی کے دیہاتیوں کو مناسب نہیں ‘ کہ رسول کے ساتھ جانے سے پیچھے رہیں ، اور نہ یہ مناسب ہے کہ نبی کی جان سے اپنی جانوں کو زیادہ چاہیں ، یہ اس لئے کہ اللہ کی راہ میں جو پیاس اور رنج اور بھوک ان پر آئے اور جہاں ان کے قدم جائیں ، تاکہ کافر خفا ہوں ، اور جو کچھ وہ اپنے دشمن سے چھین لیں ، مگر ان کے لئے اس پر نیک عمل لکھا جاتا ہے ، اللہ نیکوں کی مزدوری ضائع نہیں کرتا ، (ف 1) ۔

وَ لَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً وَّ لَا یَقْطَعُوْنَ وَادِیًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:121 in the Quran reader

اور جو وہ خرچ کرتے ہیں ، تھوڑا ہو ، یا بہت ، اور جس میدان کا وہ سفر طے کرتے ہیں ، ان کے لئے لکھا جاتا ہے ، تاکہ اللہ انکے نیک عمل کی جزا انہیں دے ۔

نمازیوں کے درجے : (ف 1) رسول ﷺ مرکز محبت میں مسلمان کے لئے رسول کا وجود باجود باعث صد ہزار برکت ہے ، یہ ہو سکتا ہے کہ اپنی جان کے متعلق تغافل ہوجائے ، مگر رسول ﷺ سے تغافل گناہ ہے ، کفر ہے اور معصیت ہے مسلمان کبھی حضور ﷺ کے منشاء و ارادہ کی مخالفت نہیں کرسکتا ، اس لئے کہ وہ تو سب کچھ حرمت رسول کے لئے قربان کرچکا ہے ۔ وہ لوگ جو حرمت رسول کے لئے جہاد کرتے ہیں ان کی ہر تکلیف نازش اولیاء ہے ، انکی پیاس اور بھوک میں اجر ہے ، ان کا قدم برکت لزوم ہے ، ان کی تکلیف اللہ کو عزیز ہے ۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو صیح معنوں میں اللہ اور اس کے رسول کے محب ہیں ، جو محسن اور نیک ہیں ، محبت رسول اور عشق رسول عافیت کا نام نہیں ، بلکہ سراپا ابتلاء وآزمائش سے مراد ہے دل میں عارض نبوت اور زلف وحی والہام کا خیال ہو ، اور جہاد سے نفرت ہو ، یہ ناممکن عشق رسول کا جذبہ وہ اضطراب آفرین جذبہ ہے کہ اس کے بعد دل کا چین اور آرام رخصت ہوجاتا ہے ، جو نگاہ نور نبوی سے مستفید ہو ، وہ آرام کی نیند سے تیرہ نہیں ہو سکتی ۔ ان آیات میں بتایا ہے کہ غازی اللہ کے محبوب ہیں ہر دکھ جو اللہ کی راہ میں انہیں پہنچتا ہے ، وہ انہیں اللہ کے اور قریب کردیتا ہے ۔ حل لغات : ظلما : پیاس ، نصب ، تھکن ، ضعف ۔ مخمصۃ : بھوک ۔ ولا ینالون : نال منہ کے معنی دشمن کو دیکھ پہنچاتے
Ayah 9:122

وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةً١ؕ فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ۠ Open ayah 9:122 in the Quran reader

اور یہ تو لائق نہیں کہ سب مومن لڑائی میں نکلیں ، پھر ان کے ہر فرقہ میں سے ایک حصہ کیوں نہ نکلا ، تاکہ انہیں دین میں سمجھ پیدا ہوتی ، اور تاکہ اپنی قوم کو جب وہ ان کے پاس واپس آتے تو (ان کو) ڈراتے شاید وہ ڈرتے (ف 1) ۔

عسکری ترتیب : (ف 1) آیت کا نزول سیاق جہاد میں ہوا ہے ، اس لئے تفقہ فی الدین سے غرض عسکری ترتیب اور ٹریننگ ہے ، یعنی جہاد کا اذن عام ہوجائے ، تو سب لوگ نہ نکل کھڑے ہوں بعض ایسے بھی رہیں جو غازیوں کی تربیت کریں اور انہیں جنگ کے رموزواسرار سے آگاہ کریں ، بات یہ تھی کہ جب حضور ﷺ جہاد کے لئے اعلان فرماتے تو تمام صحابہ کرام ؓ اجمعین شوق شہادت میں غزوہ کے لئے تیار ہوجاتے ، اور مدینہ طیبہ بالکل خالی ہوجاتا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ بعض لوگوں کو تعلیم وتربیت کے لئے پیچھے رہنا چاہئے جہاد کے لئے لوگوں کو تیار کرنا یہ بھی تو جہاد ہے ۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہ آیت طلب علم کے لئے مستقل وبالذات ہے ، اسے سیاق وسباق سے کوئی تعلق نہیں غرض یہ ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کا مشغلہ کتاب وسنت کی خدمت ہو ، جو دین سیکھیں اور دوسروں تک پہنچائیں یعنی دونوں گروہ خدمات تقسیم کرلیں کچھ سیاسیات کے لئے وقف رہیں اور کچھ عملی مشغلوں کے لئے ۔
Ayahs 9:123–127

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:123 in the Quran reader

مومنو ! اپنے نزدیک کے کافروں سے لڑنے کو جاؤ ، اور ضرور ہے ، کہ وہ تم میں سختی دیکھیں ، اور جانور کہ اللہ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے (ف 2) ۔

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖۤ اِیْمَانًا١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 9:124 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت (قرآنی) نازل ہوتی ہے تو ان میں کوئی ہے جو کہتا ہے کہ اس سورت نے تم میں سے کس کا ایمان بڑھایا ، سو وہ جو ایماندار ہیں ، انہیں کا ایمان بڑھایا اور وہی خوش ہوتے ہیں ۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِمْ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:125 in the Quran reader

اور جن کے دلوں میں روگ ہے ‘ ان کی ناپاکی میں ناپاکی اور زیادہ کردی ، اور وہ کافر ہی مرے ۔

اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 9:126 in the Quran reader

کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہر سال ایک دفعہ یا دو دفعہ آزمائے جاتے ہیں ، (قحط یا بیماری آتی ہے) پھر بھی نہ توبہ کرتے ہیں ، اور نہ نصیحت پذیر ہوتے ہیں ۔

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ١ؕ هَلْ یَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:127 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے کہ کوئی تمہیں دیکھتا ہے ‘ یا نہیں ، پھر پھرجاتے ہیں اللہ نے ان کے دل پھیر دیئے ، اس لئے کہ وہ بےسمجھ لوگ ہیں ۔

(ف 2) اس آیت میں اصول جہاد کی تشریح کی گئی ہے کہ سب سے پہلے جو قریب کے دشمن ہیں ، ان سے جنگ کی جائے پھر ان لوگوں سے جو پہلوں سے نسبۃ قریب ہوں ، یعنی اقرب فالاقرب کا اصول مد نظر رکھا جائے ، اس طریق سے طاقت وقوت میں باقاعدہ ترقی ہوتی رہتی ہے حضور ﷺ نے اس طریق جہاد پر عمل فرمایا ، سب سے پہلے مکہ والوں سے معرکے رہے ، اس کے بعد تمام اہل عرب سے ، پھر اہل کتاب سے یعنی بنی قریظہ و بنی نضیر سے ، اس کے بعد خیبروفدک میں جنگ رہی ، صحابہ کرام ؓ اجمعین نے بھی اسی آئین کو ملحوظ رکھا ، روم ، شام عراق اور تمام بلاد میں اسی ترتیب وتسلسل کو جاری رکھا ، (آیت) ” ولیجدوا فیکم غلظۃ “۔ کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان کو دشمن کے مقابلہ میں پرہیبت اور پرجلال رہنا چاہئے کافر مسلمان کے کسی بشر کو دیکھے اور لرزہ براندام ہوجائے ، جب جاکر اسلام مکمل ہوتا ہے ۔ (آیت) ” واعلموا ان اللہ ھو المتقین “۔ میں اس بات کی جانب صریح اشارہ ہے کہ صحیح اتقاء ہیبت و جلال کا نام ہے ضعف وناتوانی کا نہیں ، صحیح معنوں میں متقی وہ ہے ، جو کفر کے بدن پر کپکپی طاری کر دے اور جسے دیکھ کر کفر سہم جائے ۔ حل لغات : نفر : نکل کھڑا ہوا ، غلظۃ : سختی تندی ۔ رجسا : غلاظت کفر ونفاق ۔
Ayahs 9:128–129

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:128 in the Quran reader

تمہارے درمیان سے تمہارے پاس رسول آیا ، تمہارا دکھ اس پر شاق ہے وہ تم پر تمہارے نفع کا حریص ہے ، ایمانداروں پر شفیق مہربان ہے (ف 1) ۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ۖۗ٘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 9:129 in the Quran reader

پھر اگر وہ مانیں تو کہہ مجھے اللہ کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، میں نے اس پر بھروسا کیا ، اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے ۔

مقام محمدی : (ف 1) رسول کی تنکیر تعظیم شان کے لئے ہے یعنی تمہارے پاس اللہ نے ذی وقار پیغمبر بھیجا ہے ، جو تم میں سے ہے ، لوازم بشری کا حامل ہے ، انسان ہے ، انسانوں کی سی ضرورتیں ، اور حاجتیں رکھتا ہے ، بالکل تمہاری طرح اللہ کا ایک بندہ ہے مگر رتبہ ومقام کا یہ عالم ہے کہ تم میں سے بڑے سے بڑا انسان اس کی خاک پاکی برابری نہیں کرسکتا ، وہ انسان ہے ، مگر انسانیت کو اس بےنظیر ہستی پر فخر ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ اسی آیت کو یوں پڑھا کرتے تھے ” من انفسکم “۔ سین کے زبر کے ساتھ یعنی تم سے بہترین ، اعلی وارفع انسان کو بھیجا ہے ، عین تقاضائے رسالت ہے کہ جو پیغمبر ہو کر آئے ، وہ تمام انسانوں سے دل و دماغ ، جسم و روح ، تو قابلیت و استعداد کے لحاظ سے بلند ترین مقام پر فائز ہو ، حضور ﷺ کی تین خصوصیات بھی گنائی ہیں ، 1۔ امت کے غمگسار ہیں ۔ 2۔ قوم کی ہدایت کے لئے بیحد مشتاق ۔ 3۔ مسلمانوں کے لئے رؤف ورحیم ۔ امت کے غمگساری یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” لعلک باخع نفسک “۔ کہ تم ملت کے لئے ہلکان کیوں ہوئے جاتے ہو ، ہدایت کے لئے حرص وشوق کا یہ عالم ہے کہ وقت کا تالمحہ تبلیغ میں صرف ہو رہا ہے ۔ آپ کی رحمتیں اور نوازشیں جن کی وجہ سے آپ کو روف ورحیم کے پر شکوہ لقب سے نوازا گیا ہے ، اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کے ضبط کے لئے دفتروں کی ضرورت ہے ، غرض یہ ہے کہ مسلمان مقام رسالت اور مرتبہ رسول کو پہنچائیں اور سرگرم اطاعت ہوں ، اور فخر کریں کہ ہمیں اللہ نے اتنا بہتر ہادی و راہنما عنایت فرمایا ہے جسے ہم سے زیادہ ہماری فکر ہے ۔ حل لغات : عنتم : عنت سے ہے جس کے معنے تکلیف اور دکھ کے ہیں ۔