9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsسراج البیان

Ayah 9:41

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:41 in the Quran reader

مسلمانو ! ہلکے اور بوجھل نکل پڑو ، اور اپنی جان ومال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو ، یہ تمہارے حق میں بہتر ہے ۔ اگر سمجھتے ہو (ف 2) ۔

(ف 2) اعلان عام کے بعد ہر مسلمان پر لازم ہوجاتا ہے کہ میدان جہاد میں نکل کھڑا ہو ، چاہے کیسی حالت ہو ، کیونکہ اسلام کی عزت و حرمت کے لئے کٹ مرنا مسلمان کے لئے عین سعادت و برکت ہے مسلمان کا اللہ سے عہد ہے ، کہ جب تک جئے گا ، اسلام کی عزت کو بچائے گا ۔ حل لغات : انفروا : لفظ نفر سرعت کو متضمن ہے صاحب ، عام طور پر مخلص کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ، اور آدمیوں کے گروہ کو بھی نفر کہتے ہیں جس میں کم سے کم تین اور زیادہ سے زیادہ دس آدمی ہوں ۔ قاصدا : درمیانہ آسان ۔ الشقۃ : سفر امید ، بعض نے اسے بالکسر بھی پڑا ہے ۔
Ayah 9:42

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ Open ayah 9:42 in the Quran reader

اگر کچھ مال نزدیک ہوتا ، اور سفر بد کا ہوتا ، تو ضرور تیرے ساتھ چلتے ، لیکن مسافت بعید نظر آتی ہے ، اور اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم چل سکتے ، تو ضرور تمہارے ساتھ نکلتے (جھوٹی قسموں سے) اپنی جانیں ہلاک کرتے ہیں ‘ اور خدا جانتا ہے ، کہ وہ جھوٹے ہیں (ف 1) ۔

(ف 1) بات یہ ہے تبوک کا مقام دور تھا موسم بھی گرم تھا ، مقابلہ پر رومی تھے ، اس لئے منافقین اور کمزور عقیدے کے لوگ گھبرا گئے بعض لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو دھوکا دیا ، انہوں نے یہ ظاہر کیا کہ وہ معذور ہیں ، اگر استطاعت ہوتی ، تو ضرور ساتھ دیتے ، اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں انکی منافقت کا اظہار کردیا ، اور بتا دیا کہ یہ جھوٹے ہیں ۔
Ayahs 9:43–45

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

خدا تجھے معاف کرے اے محمد ﷺ تونے کیوں ان کو رخصت دی ، اس سے پہلے کہ تجھے عذر میں سچے اور جھوٹے معلوم ہوں (ف 2) ۔

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

وہ جو اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتے ہیں ، وہ تم سے اس بات کی رخصت نہیں مانگتے کہ اپنی جان ومال سے جہاد میں شریک نہ ہوں ، اور اللہ ڈرنے والوں کو جانتا ہے ۔

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

تم سے رخصت وہی مانگتے ہیں ‘ جو خدا پر اور آخری دن پر ایمان نہیں رکھتے ، اور ان کے دل (اسلام کی نسبت) شک میں ہیں ، سو وہ اپنے شک میں بھٹکتے ہیں ۔

(ف 2) مقصد یہ ہے کہ متخلفین کو اجازت دینے میں آپ سے تسامح ہوا ہے ، چاہئے یہ تھا کہ چندے انتظار فرما لیتے اور دیکھ لیتے کہ اللہ تعالیٰ ان کے باب میں کیا تصریحات نازل فرمانے والا ہے ۔ (آیت) ” عفا اللہ عنک “ ۔ کہہ کر بدرجہ غایت تلطف ومہربانی کا اظہار فرمایا ، جس کے معنی یہ ہیں کہ حضور ﷺ کا ہر تسامح چونکہ ایک بلند اخلاقی نصب العین کے ماتحت صادر ہوتا ہے ، اس لئے ابتدا ہی سے درخور عفو ہے ، گو اس سے منشاء الہی کی مخالفت ہو ۔ آپ نے انہیں اجازت اس لئے مرحمت فرما دی کیونکہ آپ کی فطرت میں عفو وکرم بدرجہ اتم موجود تھا ، آپ پیغمبرانہ محبت والفت کی وجہ سے مجبور تھے کہ ان کی معذرت قبول فرما لیں ۔
Ayah 9:46

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

اور اگر وہ نکلنا چاہتے ، تو جہاد کے لئے پہلے سے اسباب تیار کرتے ، لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسند نہ آیا ، سو اس نے انہیں سست کردیا اور انہیں حکم ہوا کہ بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو (ف 1) ۔

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ اذن طلبی میں مخلص نہیں منافق ہیں ، اگر جہاد کے لئے پہلے سے تیار ہوتے اور ان کے دلوں میں ایمان کی حرارت موجود ہوتی ، تو عذر ومعذرت کی قطعی ضرورت نہ تھی ، یہ تردد یہ بےچینی یہ حیص بیص ان میں بالکل نظر نہ آنا ، اور اصل بات یہ ہے کہ اللہ کو یہ منظور ہی نہیں تھا کہ اس قسم کے کمزور لوگ جہاد میں نکلیں ۔
Ayahs 9:47–48

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر تم میں شامل ہو کے نکلتے ، تو تم میں فساد ہی بڑھاتے اور تمہارے درمیان گھوڑے دوڑاتے ، بگاڑ کروانے کی تلاش میں ‘ اور ان کے بعض جاسوس تم میں موجود ہیں ‘ اور اللہ ظالموں کو جانتا ہے (ف 2) ۔

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

وہ تو پہلے ہی سے فتنہ کی تلاش کرنے ، اور تیرے کام الٹتے رہے ہیں ، یہاں تک کہ حق آگیا ، اور اللہ کا امر ظاہر ہوا ، اور وہ ناپسند ہی کرتے رہے ۔

جاسوس : (ف 2) یعنی یہ لوگ اگر میدان جہاد میں جاتے جب بھی مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہ پہنچاتے اس وقت یہ مسلمانوں کے خلاف جاسوسی کرتے اور مخالفین سے ملے رہتے جس طرح کہ اس سے پہلے ان لوگوں نے ہمیشہ کفر کا ساتھ دیا ہے اس لئے ان کا عدم شمولیت باعث افسوس نہیں باعث مسرت ہے ۔ حل لغات : خبالا ۔ بمعنے تباہی ، گمراہی ہلاک ورنج ، خبل بفتحتین کے معنی دیوانگی کے ہیں ۔
Ayah 9:49

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

اور ان میں وہ شخص ہے جو کہتا ہے کہ مجھے رخصت دے ‘ اور مجھے فتنہ میں نہ ڈال سنتا ہے ‘ وہ آپ ہی فتنہ میں پڑے ہیں اور دوزخ کافروں کو گھیر رہی ہے (ف 1) ۔

(ف 1) گویا نفاق وبزدلی بجائے خود فتنہ ہے آزمائش ہے کفر ہے غضب الہی کا سبب ہے ، منافق جہاد سے بچنے کے لئے معذرت کرتے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یاد رکھو ، اللہ تمہارے نفاق سے آگاہ ہے ۔
Ayah 9:50

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

اگر تجھے بھلائی پہنچے ، انہیں بری معلوم ہوتی ہے ، اور جو تجھ پر مصیبت آئے ، کہتے ہیں ہم نے تو اپنا کام پہلے ہی سے سنبھال لیا تھا اور خوشیاں کرتے لوٹ جانے ہیں (ف 2) ۔

(ف 2) اس آیت میں منافق کی نفسیات بتائی ہیں کہ یہ مسلمانوں کی مصیبتوں پر خوش ہوتے ہیں اور ان کی کامیابیوں پر جلتے ہیں ۔
Ayah 9:51

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

تو کہہ ہمیں وہی پہنچے گا ، جو اللہ نے ہمارے لئے لکھا ہے ، وہ ہمارا کارساز ہے اور چاہئے کہ مومن اللہ پر بھروسا رکھیں (ف 3) ۔

مولے : (ف 3) مولے کا اشتقاق ولایت سے ہے ، جس کے معنی نصرت ودوستی کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا کارساز اور دوست ہے کیا یہ محبت و شفقت کا آخری تخیل نہیں ؟ جہاں وہ رب ہے مالک و قادر ہے وہاں مسلمانوں کے لئے وہ نہایت درجہ رحیم ہے جس کے رحم میں دوستانہ اور محبانہ بےتکلفی اور مرحمت ہے ، خدا کو باپ کہہ کر فخر کرنے والے مولے ، کی جامعیت پر خود غور فرمائیں ۔
Ayahs 9:52–53

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

تو کہہ ہمارے حق میں تم کیا توقع کرو گے ‘ مگر دو خوبیوں میں سے ایک (فتح یا شہادت) اور ہم تمہارے حق میں اس بات کے منتظر ہیں ‘ کہ خدا اپنی طرف سے تم پر عذاب نازل کرے ‘ یا ہمارے ہاتھ سے سو تم منتظر رہو ، ہم بھی تمہارے (ف 1) ۔ ساتھ منتظر ہیں ۔

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

تو کہہ تم اپنے مال خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے خدا تم سے ہرگز قبول نہ کرے گا کہ تم فاسق لوگ ہو ،

(ف 1) غرض یہ ہے کہ منافقین مسلمانوں کے لئے دو باتوں کے منتظر رہتے ، غنیمت کے ، اور جامع شہادت کے پہلی صورت میں شرکت وحصہ داری کا خیال اور دوسری میں موت پر اظہار مسرت ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ دونوں باتیں مسلمان کے لئے باعث برکت ہیں کامیاب رہیں تو دنای کے مال و دولت سے حصہ پائیں ، میدان میں کھیت رہیں ، توحیات جاوید کے حقدار ٹھہریں ، البتہ ہم جس چیز کا انتظار کر رہے ہیں وہ تمہارے حق میں اچھی نہیں ۔ ہم اللہ کے عذاب کے منتظر ہیں جو آئے اور تمہارے فتنوں کو ختم کر دے ۔
Ayahs 9:54–56

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

اور ان کا دیا صرف اس لئے قبول نہیں ہوتا ، کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے منکر ہیں ، اور سستی سے نماز پڑھنے آتے ہیں ‘ اور برے دل سے خرچ کرتے ہیں (ف 2) ۔

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

سو تو ان کو دولت واولاد سے تعجب نہ کر ، اللہ فقط یہ چاہتا ہے ، کہ ان چیزوں سے انہیں حیات دنیا میں عذاب دے ۔ اور وہ کافر مریں ۔

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

اور خدا کی قسمیں کھاتے ہیں ، کہ وہ تم میں سے ہیں ، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ‘ لیکن وہ لوگ ڈرتے ہیں ۔

(ف 2) یعنی منافقین گو عام مسلمانوں کے ساتھ ملے رہنے کی کوشش کرتے ہیں ، مگر ان کی عبادت وقربانی مقبول نہیں ، کیونکہ دلوں میں خلوص موجود نہیں وہ چندے دیتے ہیں ، تبرعات ملیہ میں حصہ لیتے ہیں ، مگر مجبوری سے ، اللہ کی محبت سے نہیں ، دفع الوقتی یا شہرت وریا کاری کے لئے نمازیں بھی پڑھتے ہیں روحانی حظ اٹھانے کے لئے نہیں محض بوجھ سمجھ کر ، اور ثقل خیال کرکے ، اس لئے ادا کرتے ہیں کہ لوگ انہیں مسلمانوں سے الگ نہ سمجھیں ۔ اسلامی خدمات و عبادات کا تعلق کیفیت قلب سے ہے دل میں اگر خلوص وایقان کی روشنی موجود نہ ہو تو ظاہری اعمال مقبول نہیں کیا آج کل ہماری مذہبی حالت بالکل یہی نہیں ؟ ہم بھی دینی معاملات میں برائے نام دلچسپی لیتے ہیں ، اس لئے نہیں کہ ہمیں دین سے محبت ہے بلکہ اس لئے کہ ہم شہرت چاہتے ہیں ، عزت چاہتے ہیں ، اور وجاہت کے طالب ہیں ، ہمارے چندے اللہ کے لئے نہیں نفس کے لئے ہیں ہماری نمازیں بھی محض دکھلاوا ہیں ، ریاکاری ہیں ۔ (الا ماشآء اللہ)
Ayah 9:57

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

اگر وہ کوئی بچاؤ کی جگہ ‘ یا غار ، یا کوئی سرگھسانے کی جگہ پائیں ، تو ضرور اس کی طرف لگام توڑا کر بھاگیں (ف 1) ۔

(ف 1) یعنی منافقین بیحد بزدل ہیں مسلمانوں کے ساتھ محض جبرا وقہرا رہتے ہیں ، ورنہ انہیں ایک لمحہ کی صحبت گوارا نہیں انہیں کہیں ذلیل ترین جگہ بھی پناہ کی مل جائے تو قبول کرلیں ، اور دوڑتے ہوئے جائیں ، حل لغات : کسالی : جمع کسلان ، بےرغبت کاہل سست ۔ مغرت : جمع مغارۃ ، اخفش کہتے ہیں اس کے معنی گڑھے کے ہیں بعض کے نزدیک پہاڑ کے غار کو کہتے ہیں ۔
Ayahs 9:58–59

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

اور ان میں کوئی ہے ‘ جو تقسیم زکوۃ کی بابت تجھے عیب لگاتا ہے ، سو اگر اس میں سے انہیں ملے تو راضی ہیں ، اور جو انہیں اس میں سے نہ ملے ، تو فورا ہی ناراض ہیں (ف 1) ۔

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

اور اگر وہ اس پر راضی ہوتے ، جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے انہیں دیا ، اور کہتے کہ ” ہمیں اللہ کافی ہے ، ہمیں اللہ اور اس کا رسول اپنے فضل سے عنقریب دے گا ، ہم تو اللہ کی طرف رغبت کرنے والے ہیں ” تو بہتر تھا ۔

(ف 1) منافقین کے مصائب میں ایک بڑا عیب یہ بھی ہے کہ غلط تنقید کرتے ہیں اگر انہیں صدقات وغیرہ میں کچھ نہ ملے تو بات بات پر اعتراض ہے اور اگر کچھ مل جائے تو پھر خوش ہیں ، گویا ان کی زندگی کا مقصد محض حب نفس ہے ، غور فرمائیے ، قومی اداروں میں انجمنوں میں اور ہماری اسلامی ودینی جمیتوں کیا بالکل یہی کیفیت نہیں ؟ جہاں طعم وغرض ہو ، پردہ داری ہے بددیانتی ہے اور جہاں ایثار کرنا پڑے تنقدات کا طوار ہے اور عدل و انصاف کے نام پر قوم کے جذبات کو ابھارا جاتا ہے حالانکہ غرض محض انتقام کی آگ کو بھڑکانا ہے ۔
Ayah 9:60

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:60 in the Quran reader

زکوۃ کا مال صرف مفلسوں اور محتاجوں کے لئے ہے اور ان کے لئے جو اس پر کارندے ہیں اور ان کے لئے ہے جن کے دل اسلام کی طرف راغب کرنے منظور ہیں ، اور گردنوں کے چھڑانے اور قرضداروں اور اللہ کے رستہ میں ، اور مسافروں کے لئے ہے ۔ خدا کی طرف سے فرض ہوا ہے ، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے (ف 1) ۔

صدقات کے مصرف : (ف 1) اس آیت میں صدقات وتبرعات ملیہ کا مصرف بتایا ہے ، غور فرمائیے کہ اس نظم کے ساتھ صدقات کو ادا کیا جائے ، تو مسلمان ہمیشہ کے لئے چندوں سے بےنیازہو جائیں اور ان کی قوم دنیا کے لئے نمونہ ثابت ہو ، صدقات کو حسب ذلیل صورتوں میں خرچ کرنا چاہئے ۔ 1۔ فقراء کے لئے ، یعنی وہ لوگ جو محتاج ہیں انہیں بھیک مانگنے سے روکا جائے ، اور انکی باقاعدہ مالی امداد کی جائے ۔ 2۔ ان مساکین کو دیا جائے ، جو اپنے مصارف کو پورا نہیں کرسکتے یعنی عام مسلمانوں کی اقصادی حالت سنواری جائے ، مسکین کے لغوی معنی ہیں ، اس شخص کے جو کشاکش حیات میں زیادہ کامیابی کے ساتھ حصہ نہ لے سکے اور ایک جگہ پڑا رہے ، یعنی ترقی نہ کرسکے ، 3۔ محصل حاصل کرنے والا ، یعنی صدقات منظم ہوں باقاعدہ چندہ وصول کرنے والے مقرر ہوں ، جنہیں تنخواہ دی جائے ، 4۔ قابل تالیف لوگ یعنی تبلیغ و اشاعت کے ہے ایسے لوگوں کی مدد کی جائے ، جو اسلام سے محبت رکھتے ہوں مگر حالات کی وجہ سے اسلام کو قبول نہ کرسکیں ، 5۔ عام دینی ضروریات ۔ 6۔ مسافروں کو جگہ دی جائے ان کی ضیافت دعوت کا سامان کیا جائے ، تاکہ وہ آسانی سے ملی ودینی خدمات کے سلسلہ میں ملک میں گھوم پھر سکیں ۔ یہ زندہ قوموں میں کے لئے امدادی پروگرام ہے جس پر مسلمانوں کا قطعا عمل نہیں اللہ رحم کرے ۔
Ayahs 9:61–62

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

اور ان میں بعض ہیں جو نبی کو ایذا دیتے ہیں ، اور کہتے ہیں کہ وہ نرا کان ہے تو کہہ وہ تمہارے لئے بھلائی کا سننے والا ہے ، خدا پر ایمان لاتا اور مسلمانوں کی بات پر یقین کرتا ہے ، اور وہ تم میں سے اہل ایمان کے لئے رحمت ہے ، اور جو اللہ کے رسول کو ایذا دیتے ہیں ، انہیں دکھ کا عذاب ہوگا (ف 2) ۔

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

تمہیں راضی کرنے کو تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ حقدار ہیں کہ راضی کئے جائیں ، اگر وہ ایماندار ہیں ۔

(ف 2) انبیاء (علیہم السلام) جہاں انتہاء درجہ کے زیرک ودانا ہوتے ہیں وہاں عفو و کرم کا مادہ بھی ان میں اسی تناسب سے موجود ہوتا ہے وہ حالات کو جانتے ہیں ، مگر بوجہ مرحمت کے اکثر غلطیوں سے درگزر کرتے ہیں ، حضور ﷺ کو منافقین آ کر طرح طرح کے عذر سناتے ، آپ قبول فرما لیتے ، اس پر وہ اپنی مجلسوں میں کہتے رسول کیا ہے نراکان ہے ، سن لیتا ہے ، جانتا نہیں کہ ہم اسے دھوکا دے رہے ہیں ، کم بختو ! اس میں تو تمہارا ہی بھلا ہے رسول تو سراپا رحمت وعفو ہے ، جسے تم سادگی پر محمول کرتے ہو ، وہ چشم پوشی اور ستاری ہے ، یہ تنبیہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوئی ۔
Ayah 9:63

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

کیا وہ نہیں جانتے ، کہ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے ، اس کے لئے جہنم کی آگ ہے ، وہاں ہمیشہ رہے گا یہ بڑی رسوائی ہے (ف 1) ۔

رسول اللہ ﷺ کی مخالفت : (ف 1) آیت کا مقصد یہ ہے کہ رسول کی مخالفت اس سے عناد ودشمنی عذاب الہی کا باعث ہے محاردۃ کا لغۃ مفہوم مغائرت ہے ، وہ لوگ جو عمدا اسوہ رسول پر عمل پیرا نہیں ، جن کا ہر کام سنت رسول ہے مغائر ہوتا ہے ، انہیں غضب الہی سے ڈرنا چاہئے
Ayahs 9:64–66

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

منافق اس بات سے ڈرتے ہیں کہ تم پر کوئی ایسی سورت اترے ، جس میں ان کے دل کی خبر انکو دی جائے تو کہہ تم ٹھٹھا کرتے رہو ‘ خدا وہی بات نکالے گا ، جس سے تم ڈرتے ہو (ف 2) ۔

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اور جو تو ان سے پوچھے ! تو ضرور کہیں گے کہ ہم تو بطور کھیل مباحثہ کرتے چلتے تھے ، تو کہہ ! کیا تم اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول سے ٹھٹھے کرتے تھے ۔

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

بہانے نہ بناؤ ، تم ایمان لا کے کافر ہوگئے ہو ۔ اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کریں گے ، تو دوسری جماعت کو ان کے جرم میں ضرور عذاب دیں گے ،

(ف 2) یعنی یہ سورة توبہ منافقین کے نفاق کو کو واشگاف کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے ، اسلئے اب انہیں خوف پیدا ہوگیا ہے اور کہتے ہیں ہم تو بہ سبیل مزاح یہ سب کچھ کہہ رہے تھے ، ورنہ ہمارے دل میں حضور ﷺ کی عزت ایسی ہی موجود ہے کہ جیسی مسلمانوں کے دل میں ، اللہ کے نزدیک یہ عذر صحیح نہیں کیونکہ دین کے باب میں استہزاء جائز نہیں ۔ حل لغات : نخوض ونلعب : خوض عام طور پر بری باتوں پر غور اور فکر کرنے کو کہتے ہیں ۔
Ayahs 9:67–68

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد ، اور منافق عورتیں سب کی ایک چال ہے ، بری بات کرنے کو ، اور بھلی بات نہ کرنے کو کہتے ، اور اپنی مٹھی خرچ سے بند رکھتے ہیں ، خدا کو بھول گئے سو وہ انہیں بھول گیا ، بیشک منافق ہی فاسق ہیں (ف 1) ۔

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

منافق مردوں اور منافق عورتوں اور سب کافروں سے خدا نے جہنم کی آگ کا وعدہ کیا ہے وہاں ہمیشہ رہیں گے ، یہی انہیں بس ہے ، اور اللہ نے ان پر لعنت کی ، اور ان کے لئے عذاب دائمی ہے ۔

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ منافقین میں باہمی کوئی امتیاز نہیں ، سب برے ہیں ، عورت مرد یکساں طور پر اسلام کی مخالفت کرتے ہیں ، سب کا نصب العین یہ ہے کہ مسلمانوں میں برائیاں پھیلائی جائیں ، بات یہ ہے ، کہ ہر قوم میں ایک عنصر ایسے بدنیت اور دل کے کمزور لوگوں کا ہوتا ہے جو خبث باطن کو ظاہر نہیں ہونے دیتے ، اور اندر ہی اندر کوشاں ہر تے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح جماعت کو نقصان پہنچایا جائے ، اسلام جب پھیلا ہے ، تو وہ لوگ جو کھلے بندوں صف آراء نہیں ہوسکتے تھے ، منافق ہوگئے ، بظاہر مسلمانوں کے ساتھ رہے ، ان کی تقریبات اور عبادتوں میں شامل رہتے اور عوام کو دھوکا دیتے ، مگر موقع ملنے پر ہوشیاری سے اسلام کی مخالفت کرتے ، اللہ تعالیٰ کو یہ گروہ سخت ناپسند ہے ، کیونکہ اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ یا تو ایمان واسلام کی بابرکت دعوت کو قبول کرلو ، یا اپنے لئے کفر کو پسند کرلو ، بہرحال جو کچھ ہو ، کھلم کھلا ہو ، دھوکا اور فریب مردانگی نہیں ۔ حل لغات : بالمنکر : یعنی امر قبیح وتاشائستہ ونامشروع ، المعروف : بمعنی نکوئی ، فنسیھم کے معنی یہ ہیں کہ اللہ نے ان سے تغافل اختیار کرلیا ہے اور اب اللہ کی نظر عنایت سے محروم ہوگئے ہیں ، لعنھم : کے معنی نیکی اور ہمت سے دور کرنے کے ہیں اور نفرین کرنے کے بھی ہیں ۔
Ayah 9:69

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

جس طرح تم سے اگلے تھے ، وہ قوت اور مال ، اور اولاد میں تم سے زیادہ تھے ۔ سو اپنے نصیب کا فائدہ دنیا میں اٹھا گئے ، پھر تم نے بھی اپنے نصیب کا فائدہ اٹھا لیا ، جیسے تم سے اگلے اپنے نصیب کا فائدہ اٹھا گئے ، اور تم نے ویسی بحث کی جیسے وہ کر گئے ، ان کے اعمال دنای اور آخرت میں ضائع ہوئے اور وہی زیان کار رہے (ف 1) ۔

نفاق کا انجام تباہی ہے ۔ : (ف 1) ان آیات میں منافقین کو بتایا ہے کہ نفاق کے بادل مطلع حق وصادق پر زیادہ دیر تک چھائے نہیں رہیں گے ، جب آفتاب پوری حرارت سے چمکے کگا تو یہ بادل چھٹ جائیں گے ، ان سے پہلے بھی بدباطن لوگوں نے انبیاء (علیہم السلام) کی مخالفت کی ہے مگر نتیجہ کیا ہوا ، کہ ان کا تمام غرور مٹ گیا ، مال و دولت کی فراوانی اور اعوان وانصار کی کثرت انہیں عذاب الہی سے نہ بچا سکی اسی طرح تمہارا حشر ہونے والا ہے ۔ حل لغات : المؤتفکت : الٹی ہوئی بستیاں ، مادہ افک ۔ بمعنی تغیر وتحول اور لوٹنے کے ہیں ۔
Ayah 9:70

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا انہیں اگلوں کی خبر نہیں پہنچی ، قوم نوح (علیہ السلام) ، اور عاد ، اور ثمود کی ، اور قوم ابراہیم (علیہ السلام) ، اور اہل مدین ، اور اہل مؤتفکات (لوط کی بستیوں) کی ، ان کے رسول ان کے پاس نشان لے کر آئے تھے ، سو خدا ایسا نہ تھا ، کہ ان پر ظلم کرتا ، لیکن انہوں نے اپنی جانوں پر آپ ظلم کیا (ف 1) ۔

(ف 1) اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ ان لوگوں کو اللہ نے سرکشی اور تمرد کی وجہ سے ہلاک کردیا نوح (علیہ السلام) نے ہرچند قوم کو طویل مدت تک سمجھایا مگر انہوں نے غرق ہونے کی ٹھان لی ، اور باز نہ آئے اسی طرح عاد وثمود کی قومیں نافرمانی وعصیان کی وجہ سے پکڑی گئیں ، ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نہایت متمدن تھی ، وہ بھی عتاب سے نہ بچی حضرت شعیب (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم بھی اپنی بدعنوانیوں کی وجہ سے غارت ہوئی غرض یہ ہے کہ ثبات و استقلال کا قانون صرف ان لوگوں کے لئے ہے ، جو اطاعت شعار ہوں ، نافرمانوں کے لئے بجز تباہی وہلاکت کے اور کوئی چارہ نہیں ، پھر ان منافقین کو کیا ہوگیا ہے ، کہ عبرت حاصل نہیں کرتے ۔
Ayah 9:71

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں آپس میں دوست ہیں ، بھلی بات کو کہتے ، اور بری بات سے منع کرتے ہیں ، اور نماز پڑھتے ، اور زکوۃ دیتے ، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں ، یہ لوگ وہی ہیں ، کہ انہیں پر خدا رحم کرے گا ، بیشک خدا غالب حکمت والا ہے (ف 2) ۔

(ف 2) یعنی وہ لوگ جنہوں نے اخلاص کے ساتھ اسلام کو قبول کرلیا ہے ان کی مشاغل پاک ہیں وہ ایک دوسرے کے ممدومعاون ہیں ، نمازیں پڑھتے ہیں اور ملی ضروریات سے آگاہ رہیں ان کی زندگی کا مقصد اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہے اس لئے رحمت و عفو کے سزاوار ہیں ۔
Ayah 9:72

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:72 in the Quran reader

اللہ نے ایماندار مردوں ، اور عورتوں سے باغوں کا وعدہ کیا ہے ، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، اس میں ہمیشہ رہیں گے اور مکان ستھرے رہنے کے باغوں میں ‘ اور اللہ کی رضا مندی سب سے بڑی چیز ہے ‘ اور یہی بڑی مراد ملنی ہے (ف 1) ۔

مومن کا ذوق معرفت : (ف 1) (آیت) ” ورضوان من اللہ اکبر “۔ سے غرض یہ ہے کہ جنت کا حصول مقصود اصلی نہیں ، اس لئے نصب العین اللہ کی رضا و محبت کا احساس ہے ، اس لئے بلند روحانیت کے لوگ سرف بہشت پر قانع نہیں بلکہ انکی روح توحید میں ارتقاء کامل کی طالب ہے وہ محبوب کی مسرت چاہتے ہیں لذائذ کا درجہ ثانوی ہے ، اصل لذت یہ ہے کہ فراز محبت وعشق پر تمکن واصل ہو ۔
Ayah 9:73

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 9:73 in the Quran reader

اے نبی ﷺ کافروں اور منافقوں سے لڑائی کر ، اور ان پر سختی دکھلا ، اور اے نبی ﷺ کافروں اور منافقوں سے لڑائی کر ، اور ان پر سختی دکھلا ، اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور بری جگہ پہنچے (ف 2) ۔

(ف 2) جہاد و غلظت کے معنی یہ نہیں کہ ہر دو فریقین سے جہاد بالسیف ہی ہو بلکہ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کفار سے جہاد کے معنی یہ ہیں کہ ان کے ساتھ تیغ وسنان کا استعمال کیا جائے اور منافقین سے جہاد یہ ہے کہ انہیں ذلیل کیا جائے اسلامی مجالس میں رسوا کیا جائے ، اور اللہ کی حجت کو پورا کیا جائے ۔
Ayahs 9:74–75

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:74 in the Quran reader

اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم نے نہیں کہا ۔ اور انہوں نے بیشک کلمہ کفر کہا (ف 3) ۔ ہے ، اور مسلمان ہو کر کافر ہوئے ، اور انہوں نے ارادہ کیا تھا جو وہ نہ کرسکے ، اور یہ اس بات کا بدلہ دیتے ہیں ‘ کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے انہیں اپنے فضل سے دولتمند کرو یا ہے ، سو اگر توبہ کریں ان کے لئے بہتر ہے اور جو نہ مانیں ، تو اللہ انہیں دنیا اور آخرت میں دکھ کا عذاب دیگا اور روئے زمین میں کوئی ان کا حمایتی اور مددگار نہ ہوگا ۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 9:75 in the Quran reader

اور بعض ان میں وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا ، کہ اگر ہمیں اللہ اپنے فضل سے دے گا تو ہم ضرور خیرات کریں گے ، اور نیکو کار ہوں گے ،

(ف 3) کلمہ اکبر سے مراد عام باتیں ہیں جو کفر و دوستی پر مبنی تھیں منافقین کو چونکہ اصالتا اسلام سے محبت نہ تھی ، اس لئے وہ شرارتا جو چاہتے کہتے رہتے ، الہذ جب ان سے باز پرسی کی جاتی تو صاف مکر جاتے ، آیت کا مقصد یہ ہے کہ ان کی عداوت ودشمنی محض حاسدانہ جذبات کے تابع ہے انہیں دکھ یہ ہے ، کہ مسلمان اللہ اور رسول کی مہربانی سے کیوں دولتمند ہوگئے ہیں ۔ حل لغات : ھموا : ھم سے مشتق ہے ، بمعنی قصدہ ۔ وما نقموا : نقمہ ۔ برا سمجھنا ، نقمت الشیء اذا انکوبہ “۔
Ayahs 9:76–78

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 9:76 in the Quran reader

پھر جب اس نے انہیں اپنے فضل سے دیا تو اس میں انہوں نے بخل کیا اور منہ موڑ کے ہٹ گئے (ف 1) ۔

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 9:77 in the Quran reader

پھر اللہ نے اس کا انجام اس دن تک کہ وہ اس سے ملیں گے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس لئے کہ جو وعدہ انہوں نے خدا سے کیا تھا اس میں انہوں نے خدا سے وعدہ خلافی کی اور اس لئے کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے ۔

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ Open ayah 9:78 in the Quran reader

کیا نہیں جانتے کہ اللہ ان کے بھید اور مشورے جانتا ہے ، اور اللہ بڑا غیب دان ہے ۔

ثعلبہ اور نفس انسانی : (ف 1) اس ضمن میں ثعلبہ کا قصہ مشہور ہے وہ خاصا مسلمان تھا ، نمازیں پڑھتا مسجد میں حاضر رہتا ، حضور ﷺ نے اس کی خواہش کی بنا پر دعاء کی اور وہ دولتمند ہوگیا ، مدینے سے باہر ڈیرے ڈال دیئے ، مسجد کی حاضری کم ہوگئی ، نماز کی پابندی جاتی رہی ، جمعہ جنازہ میں بھی شرکت سے محروم ہوگیا ، اور آخر تمام پابندیوں سے بےنیاز ہوگیا ، اور اصل بات یہ ہے کہ ہر انسانی نفسیات کی تشریح ہے نفاق کی تفصیل میں جو کچھ ارشاد فرمایا ہے ، وہ عام انسانوں کی نفسی کمزوریاں ہیں مقصد یہ ہے کہ ہمیں اپنے خطرات قلب سے آگاہی حاصل ہو ، اور ہم معنوں میں اللہ کے فرمانبردار ثابت ہوں ۔
Ayahs 9:79–80

اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:79 in the Quran reader

وہ جو دل کھول کر خیرات کرنے والے مسلمانوں کو (ریاکا) عیب لگاتے ، اور ان پر جو مزدوری سے کچھ پیدا کرکے دیتے ہیں ، پھر ان سے ٹھٹھا کرتے ہیں ، اللہ ان سے ٹھٹھا کرتا ہے ، اور انہیں دکھ کا عذاب ہوگا (ف 1) ۔

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:80 in the Quran reader

ان کے لئے معافی مانگ یا نہ مانگ اگر تو ستردفعہ بھی ان کے لئے معافی مانگے گا ، تب بھی اللہ انہیں ہرگز نہ بخشے گا یہ اس لئے کہ وہ لوگ اللہ اور اس کے رسول سے منکر ہوئے اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں کرتا ۔

جہد المقل : (ف 1) غریب غریب مسلمان جب اسلام کی محبت میں سرشار ہو کر داعیات وقت سے متاثر ہو کر رسول اللہ ﷺ کی آواز پر لبیک کہتے ہونے قلیل و حقیر پونجی آپ کے سپرد کردیتے ، تو یہ منافقین ہنستے ، کہتے واہ یہ بھی کوئی خیرات ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان غریبوں پر ہنسو مت ، یہ دل کے توانگر اور حاتم ہیں ، یہ مخلص ہیں اور تم سے بہرحال بہتر ہیں ، اللہ کی نظر کم پر نہیں ، کیف پر ہے ۔ (آیت) ” سخر اللہ منہم “۔ سے مقصود یہ ہے کہ انہیں جو سزا ملے گی ، وہ ان کے مزعومات کے خلاف ہوگی ، اور بالکل استہزاء کے مماثل ہوگی ، یہ دیکھیں گے کہ یہ جن اعمال پر دنیا میں غرور وناز کرتے تھے ، وہ اللہ کے ہاں کس درجہ حقیر ہیں ، اور غریب مسلمانوں کا دیا ہوا جو اگرچہ کم ہے ، اور تھوڑا ہے اللہ کے نزدیک بیش قیمت ہے ۔ حل لغات : نجوی : سرگوشی ۔ یلمزون : کسی کے عیب پر آنکھ سے اشارہ کرنا ، لمز سے مقصد عیب جوئی ہے ۔ جھدھم : بمعنے توانائی و کوشش ورنج ، سبعین مرۃ : محاورہ ہے تعین مراد نہیں ۔