9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsسراج البیان

Ayah 9:81

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:81 in the Quran reader

رسول اللہ ﷺ سے جدا ہو کر (غزوہ تبوک سے) پیچھے (مدینہ میں) بیٹھ رہنے والے خوش ہوئے ہیں ، اور انہوں نے اللہ کی راہ میں اپنی جان ومال سے جہاد کرنا مکروہ جانا اور کہا کہ گرمی میں نہ نکلو ، تو کہہ ! جہنم کی آگ سخت گرم ہے ۔ اگر وہ سمجھیں (ف 1) ۔

جہنم کی گرمی : (ف 1) منافقین یہ کہہ کر مسلمانوں کو جہاد سے روکتے کہ بلا کی گرمی ہے اس تپش میں کہاں گھروں سے نکلو گے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، کاش انہیں معلوم ہوتا کہ جہنم کی گرمی اس سے زیادہ شدید ہے اسے کاش ! یہ اس آگ سے بچنے کے لئے کوشش کرتے ۔
Ayahs 9:82–83

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:82 in the Quran reader

سو تھوڑا ہنس لیں ، اور بہت سا روئیں ، یہ ان کی کمائی کا بدلہ ہے (ف 2) ۔

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ Open ayah 9:83 in the Quran reader

سو ان میں سے کسی فرقہ کی طرف اگر تجھے اللہ پھر لے جائے ، اور وہ تجھ سے لڑائی میں نکلنے کے لئے اذن چاہیں تو کہہ ! تم میرے ساتھ کبھی نہ نکلو گے ، اور کسی دشمن سے میر سے ہمراہ ہو کر کبھی نہ لڑو گے تم پہلی بار بیٹھ رہنے پر راہ ملی تھی ، سو اب پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو ،

رونا سزا ہے ! (ف 2) یعنی منافقین کو چاہئے کہ اپنی ناکامیوں پر ماتم کریں ، اور روئیں کیونکہ اسلام باوجود ان کی مخالفت کے کامیاب رہا ہے اور مسلمان ان کے مزعومات کے علی الرقم بڑھتے ہی چلے گئے ، یہ محرومی وبدبختی ان کے اعمال کی سزا ہے ۔ بعض نادان لوگ جو سال مین ایک دفعہ خوب رونا اور ماتم کرنا موجب ثواب تصور کرتے ہیں ، انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام مسرت و طمانیت کا مذہب ہے ، اس طرح رونے کی محفلیں منعقد کرنا عذاب الہی ہے ۔
Ayahs 9:84–86

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 9:84 in the Quran reader

اور اگر ان کا کوئی شخص مر جائے تو اس پر کبھی نماز نہ پڑھیو ، اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا ، وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے منکر ہوئے ، اور فاسق ہی مر گئے (ف 1) ۔

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:85 in the Quran reader

اور تو ان کے اموال اور اولاد پر تعجب نہ کر ، اللہ ان چیزوں سے انہیں دنیا میں عذاب دینا چاہتا ہے جب ان کی جان نکلے گی کافر ہی مریں گے ۔

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:86 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ چل کر جہاد کرو ، تو ان میں سے اہل دوات تجھ رخصت مانگتے اور کہتے ہیں کہ ہمیں بیٹھ رہنے والوں میں چھوڑ ۔

دریائے رحمت کی طغیانی : (ف 1) عبداللہ بن ابی ابن سلول جو راس المنافقین تھا ، جب مرا ہے تو اس کا لڑکا حضور ﷺ کے پاس آیا ، اور تبرکا آپ سے کرتہ مانگا ، یہ بھی درخواست کی کہ آپ نماز جنازہ پڑھائیں ، آپ تیار ہوگئے ، حضرت عمر ؓ نے روکا ، اور کہا اللہ نے تو استغفار سے روکا ہے منافق کا جنازہ نہ پڑھنا چاہئے ، مگر رحمت جوش پر آئی ہوئی کب رکتی ہے حضور ﷺ نے فرمایا مجھے اختیار دیا گیا ہے ، روکا نہیں گیا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور حضور ﷺ کی رحمت کی اس فراوانی کو طغیانی سے تعبیر کیا گیا ، اور عمر ؓ کی فراست دینی کی داد میں ۔ حل لغات : القعود : تخلف ہے گناہ ہے ۔
Ayahs 9:87–89

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:87 in the Quran reader

پچھلی عورتوں کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں ، اور ان کے دلوں پر مہر لگی ہے سو وہ نہیں سمجھتے (ف 1) ۔

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 9:88 in the Quran reader

لیکن رسول اور اس کے ایماندار ساتھی اپنی جان اور مالوں سے جہاد کرتے ہیں اور انہیں کے لئے خوبیاں ہیں اور وہی مراد کو پہنچیں گے ۔

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:89 in the Quran reader

ان کے لئے اللہ نے باغ تیار کئے ہیں ، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے ، یہی بڑی مراد ملنی ہے ۔

(ف 1) غرض یہ ہے کہ صاحب وسعت رہتے ہیں اور وہ دون ہمتی اور بزدلی میں عورتوں کی مانند ہیں ، ان کے دلوں پر حب نفس کی مہر لگی ہے ، اس لئے بیداری نہیں ، فقھا و فراست سے محروم ہیں ۔ اس لئے جہاد کے فوائد سے آگاہ نہیں ۔ حل لغات : اولوالطول : صاحب وسعت دولتمند ۔ الخوالف : جمع خالفۃ ۔ گھر میں بیٹھنے والی ۔
Ayah 9:90

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:90 in the Quran reader

اور بہانہ کرنے والے گنوار آئے کہ انہیں رخصت ملے ، اور جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا وہ خود ہی بیٹھ رہے ‘ اب ان میں سے کافروں کو دیکھ کا عذاب پہنچے گا (ف 1) ۔

معذرین : (ف 1) اس وقت تک مدینے والوں کا بیان تھا کہ کس طرح میں منافقین نے بزدلی پھیلائی اور کیونکر وہ جہاد سے پیچھے رہے ان آیات میں دیہات والوں کا قصہ ہے کہ ان میں بھی منافق ہیں ، اعراب اصل میں وہ لوگ تھے ، جو حضرمی زندگی نہیں بسر کرتے تھے ، ہاویہ پیمایا صحرا انور تھے ، ان میں عامر بن طفیل کے آدمی آئے کہنے لگے ، کہ اگر ہم جہاد میں شریک ہوجائیں ، تو بنی طے ہمارے مواشی لوٹ کرلے جائیں گے ، اور ہمارے غیر حاضری میں ہمیں نقصان پہنچائیں گے ، کچھ لوگ وہ تھے جو یوں ہی گھروں میں بیٹھ رہے ، اور عذر ومعذرت کی سرے سے ضرورت ہی نہیں محسوس کی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، ان میں کوئی بھی عندا للہ معذور نہیں ، کیونکہ جہاد کا اذن عام ہوچکا ، اور ہر وہ شخص جو تخلف اختیار کرلے گا منافق قرار پائے گا ، اور ملت کی جانب سے غداری کی سزا کا مستحق ہوگا ۔ حل لغات : الخیرات : بھلائیاں ۔ الفوز : بمعنے فیروزی ، کامیابی ۔ المعذرون : قراء زجاج ابن الایتاری ، ابی عبید افضل اور ابی حاتم کے نزدیک اس سے مراد معتذر ہیں ، جن کے روز صبح ہوں ، جوہری اور زمخشری کے نزدیک اس کے معنی صحیح عذر والے کے ہیں ، اور یہی معنی درست ہیں ۔
Ayahs 9:91–92

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:91 in the Quran reader

ضعیفوں اور بیماروں اور ان پر کچھ گناہ نہیں ہے ، جن کے پاس خرچ نہیں ، جبکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خبر خواہ رہیں ، نیکوں پر الزام کی راہ نہیں ہے ، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف 1) ۔

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 9:92 in the Quran reader

اور نہ ان پر گناہ ہے ، کہ جب وہ تیرے پاس آئے ، کہ تو انہیں سواری دے تونے کہا کہ میں اپنے پاس وہ شئے نہیں پاتا جس پر تمہیں سوار کروں تو وہ الٹے پھرگئے ، اور ان کو آنکھیں اس غم سے آنسو بہاتی تھیں ، کہ وہ خرچ کرنے کو نہیں پاتے ۔

جہاد سے کون کون مستثنے ہیں : (ف 1) جہاد ایک اہم اسلامی فریضہ ہے ، جس میں تساہل وتخلف جائز نہیں ، اس آیت میں بتایا ہے کہ مندرجہ ذیل لوگ عموم حکم سے مستثنے قرار پائیں گے ۔ (1) الضعفاء یعنی کمزور وناتوان اشخاص ۔ (2) مریض ۔ (3) مفلس ، یعنی جس کے پاس جہاد کی تیاری کے لئے سامان نہ ہو ۔ (4) جو سواری نہ رکھتا ہو ۔ غرض یہ ہے کہ جہاد میں شرکت کے لئے اچھے طبقے کے لوگ جائیں ، جن کی رگوں میں خون دوڑ رہا ہو ، جو جہاد میں اپنے مصارف برداشت کرسکیں ، جن کے پاس آلات جہاد ہوں اور جنہیں ہر طرح سپاہی قرار دیا جاسکے ۔ رسول اللہ ﷺ کے عہد بابرکت میں کوئی متعین فوج نہ تھی بلکہ ہر شخص بجائے خود سپاہی تھا ، اور ذمہ داری کے فرائض کو پہچانتا تھا اس لئے ہر سپاہی کے لئے یہ بھی ضروری تھا کہ وہ آلات جہاد حتی المقدور خود مہیا کرے ، یہ لوگ جو مستثنے قرار پائے ہیں ، ان کے لئے خلوص ومودت شرط ہے ، یہ ضروری ہے کہ دلوں میں جہاد کا زبردست جذبہ موجود ہو ، اس حد تک کہ جانبازی ذاتی شوق کی صورت اختیار کرلے ، اور جب یہ شوق معذوری کی وجہ سے پورا نہ ہو ، تو آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائیں ۔ یہ صرف حکم نہیں قرون اولے کے مسلمانوں کی سچی تصویر ہے ، کہ ان کے دلوں میں کس درجہ جہاد سے محبت تھی ۔
Ayah 9:93

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:93 in the Quran reader

الزام صرف ان پر ہے ، جو غنی ہو کر تجھ سے رخصت مانگتے ، اور پچھلی عورتوں کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں ، اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کی ہے ‘ سو وہ نہیں جانتے (ف 2) ۔

(ف 2) یعنی بےحس سرمایہ دار جسے ثروت و غنا سے محبت ہے ، اور دولت کونین سے نفرت ، جو نفسانی آسائش چاہتا ہے اور ملت کے درد سے تہی قلب ہے جو عین جہاد کے وقت عورتوں کی طرح گھروں میں آرام فرما ہے ملعون ہے اللہ کی رحمت سے دور ہے ۔ حل لغات : نصحوا : مخلص رہنا ۔ تفیض : فاض ۔ الماء اذا اسال متعصبا ، یعنی ابل پڑنا ، پانی آنکھوں سے ابل ابل کر نکلے ۔
Ayahs 9:94–97

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

جب تم (تبوک سے) ان کی طرف واپس جاؤ گے تو تمہارے سامنے عذر کریں گے ، تو کہہ عذر نہ کرو ، ہم تمہاری بات کا ہرگز یقین نہیں کریں گے ، ہمیں اللہ تمہاری خبریں دے چکا ہے اور اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے کام دیکھے گا ، پھر تم اس کی طرف جاؤ گے جو ظاہر اور باطن سے خبردار ہے ، سو وہ تمہیں بتائے گا جو کام تم کر رہے تھے (ف 1) ۔

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

جب تم ان کی طرف واپس جاؤ گے تو تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے ، تاکہ تم ان سے درگزر کرو ‘ سو ان سے درگزر کرو ، وہ پلید ہیں ، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے ، ان کی کمائی کا بدلہ ۔

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

تم سے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہوجاؤ سو اگر تم ان سے راضی ہوگئے ، تو خدا فاسق قوم سے راضی نہ ہوگا ۔

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

دیہاتی لوگ کفر اور نفاق میں زیادہ سخت ہیں ، اور جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ، اس کے قاعدے نہ سیکھنے کے زیادہ لائق ہیں اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۔

منافقین کی معذرت : (ف 1) ایک وہ خوش نصیب مسلمان تھے جنہوں نے رسول کی پیروی کی اور توحید کی حفاظت کے لئے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے ، میدان جہاد میں پہنچے اور کفار سے لڑے ، دوسرے وہ محرومان قسمت تھے ، بزدلی میں جن کی راہنمائی کی ، اور گھروں میں گھسے بیٹھے رہے اور اس وقت بیٹھے رہے جبکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ یہ لوگ بربکف ہو کر نکلتے اور اپنے خون سے شجر اسلام کو سینچتے ، یہ جرم واقعی غداری ہے ، اللہ سے غداری ہے رسول سے غداری ہے اور اسلامی مصالح سے غداری ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب آپ لوگ جہاد سے لوٹیں گئے تو یہ لوگ جوق در جوق آپ کے پاس آئیں گے اور جھوٹے عذر پیش کریں گے آپ کو یقین دلانے کی کوشش کریں گے کہ انکے دلوں میں بھی اسلام کی ویسی ہی محبت ہے جیسی دوسرے صحابہ کرام ؓ اجمعین کے دلوں میں اور یہ چاہئے تھے کہ جہاد میں شریک ہوں اور کفار کی صفوں کو کاٹ کر رکھ دیں ، مگر کچھ ایسی ایسی مجبوریاں تھیں جنہوں نے پاؤں پکڑ لئے فرمایا ، یہ جھوٹے ہیں ، آپ ہرگز تسلیم نہ کیجئے گا ، آپ کہہ دیجئے اللہ نے تمہارے سارے بھید کھول کر بیان کردیئے ہیں ، اور تمہاری ساری شرارتوں کو واضح کردیا ہے ، اس لئے ہم لوگوں کو دھوکہ نہ دو ہم تمہارے حالات سے آگاہ اور باخبر ہیں ، آیندہ بھی اللہ تعالیٰ تمہارے نفاق کے شر سے ہمیں محفوظ رکھے گا ، اور یاد رکھو ، یہ چالبازیاں تمہاری صرف اس دنیا تک کے لئے ہیں ، بالآخر تم کو اللہ کے حضور میں پیش ہونا ہے جو چھپی ڈھکی اور کھلی ، ظاہر ، ہر چیز کو جانتا ہے ، بتاؤ اس وقت کیا عذر پیش کرو گے ، فرمایا ، یہ لوگ اس درجہ ذلیل اور جھوٹے ہیں کہ قسمیں کھائیں گے تاکہ آپ ان سے غرض نہ کریں آپ واقعی ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دیجئے ، یہ لوگ ناپاک ہیں اور ناقابل التفات ہیں یہ ہزار کوششیں کریں ، اللہ ان سے خوش نہیں ہونے کا ، اس لئے کہ انہوں نے اس کو اس کے دین کو اور صحابہ کرام ؓ اجمعین اور ان کی مصلحوں کو دھوکہ دیا ہے ، فرامیا ان میں سے جو لوگ دیہاتی ہیں وہ کفر ونفاق میں بہت زیادہ بڑھے ہوئے ہیں انہیں تو یہ معلوم ہی نہیں کہ حدود اسلامی کو ہیں یہ طبائع کے سخت اور اکھڑ ہیں ۔
Ayah 9:98

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

اور بعض دیہاتی وہ ہیں کہ (اسلام کیلئے) جو خرچ کرتے ہیں ‘ اسے چٹی سمجھتے ہیں ‘ اور تمہاری نسبت گردش زمانہ کا انتظار کرتے ہیں ‘ بری گردش انہیں پر پڑے ‘ اور اللہ سنتا جانتا ہے (ف 1) ۔

(ف 1) منافق کی ہر بات چونکہ ریاکاری پر مبنی ہوتی ہے اس لئے بالطبع اس کو اسلامی احکام سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ، نمازوں کے لئے آتا ہے تو بےتوجہی کے ساتھ ، اور کچھ دیتا ہے تو تاوان سمجھ کر یہی نہیں ، بلکہ دل سے منتظر رہنا ہے کہ کسی طرح مسلمانوں پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑے ، اور زمانہ کی گردشوں سے وہ بالکل پس جائیں ، مگر ان کی ان ناپاک خواہشات سے کیا ہوتا ہے ، اللہ کو تو یہ منظور ہے کہ یہ لوگ اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ابتلا وآزمائش کی اذیتوں سے بہرہ اندوز ہوں ، اور ان کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو رسوا اور ذلیل نہیں کرتا ہے ، اور ہمیشہ ان کے اعزازو تکریم میں ممدومعاون رہتا ہے ۔ حل لغات : اخبارکم : یعنی حالات ۔ عالم الغیب : اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی چیز بھی دھ کی چھپی نہیں ہے ، مقصد یہ ہے کہ جن چیزوں کو تم سمجھتے ہو ، کہ آنکھوں سے اوجھل ہیں ، وہ ان کو بھی جانتا ہے ۔ رجس : ناپاک ، نجس ، اور رجس میں فرق یہ ہے کہ لغۃ نجستی جسم کی ناپاکی کے لئے استعمال ہوتا ہے اور رجس عقیدے کی گندگی کے لئے ، الاعراب : گنوار ، دیہاتی ۔ اجدر : زیادہ موزون ہے ، مناسب یا لائق ہے ۔ مغرما : تاوان جرمانہ ،
Ayah 9:99

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

اور دیہاتیوں میں کوئی کوئی ایسا ہے جو اللہ پر اور آخری دن پر ایمان رکھتا ، اور جو خرچ کرتا ہے اس کو قربت الہی اور رسول سے دعا لینے کا وسیلہ ٹھہراتا ہے سنتا ہے ، وہ ان کے لئے قربت ہے ، اللہ انہیں اپنی رحمت میں داخل کریگا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف 1) ۔

(ف 1) قرآن حکیم نے تمام دیہات والوں کو نفاق سے مہتم نہیں کیا ، بلکہ ارشاد فرمایا ہے کہ ان لوگوں میں ایسے صاحب ایمان وذوق بھی ہیں جن کو اللہ سے محبت ہے اور آخرت وعقبی کے عقیدے پر ایمان رکھتے ہیں ، وہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں سمجھتے ہیں کہ اس سے اللہ کے تقرب کو حاصل کر رہے ہیں ، نیز پیغمبر کی دعاؤں کے مستحق و سزاوار ہو رہے ہیں ، یقینا ان کی یہ آرزوئیں حق بجانب ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو اپنی آغوش رحمت میں داخل کرے گا اور ان کو رحمت ومغفرت سے نوازے گا ۔
Ayah 9:100

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

اور مہاجرین اور انصار میں سے جنہوں نے سبقت کی ، اور اول رہے ، اور جو لوگ نیکی سے ان کے بعد آئے ، اللہ ان سے راضی ہوا ، اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ، اور ان کے لئے باغ تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، ہمیشہ وہاں رہیں گے ، یہی بڑی مراد ملنی ہے (ف 2) ۔

سند رضا : (ف 2) اس آیت میں وضاحت کے ساتھ یہ فرمایا ہے کہ وہ صحابہ کرام ؓ اجمعین جن کو ایمان میں سبقت کا فخر حاصل ہوا ہے اور مہاجر ہوں یا انصاری اور وہ لوگ جن کو ان کی پیروی کی سعادت نصیب ہوئی ہے مقام رضاء پر فائز ہیں ، یعنی اللہ ان سے خوش ہیں ، اور وہ ہمیشہ اس کی رضاء کے جویاں رہے ، ان کے لئے جنات خلد کے جواب کھلے ہیں ، اور یہی فوز عظیم کی خوشخبری ہے جس سے وہ بہرہ مند ہیں ، کہئے وہ لوگ جو صحابہ کی شان میں گستاخی سے پیش آتے ہیں ، اور ان لوگوں کی توہین کرنا جزو ایمان سمجھتے ہیں ، جو جب تک زندہ رہے ، پیغمبر کی آنکھوں کا نور ہے ، اور جب مرے تو رضا الہی کی سند حاصل کر کے کیا یہ بدبختی و محرومی نہیں اور کیا اس سے بڑھ کر الحاد وبے دینی کا اور کا تصور کیا ہو سکتا ہے ۔ ان لوگوں کی عقل و دانش پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے ، یہ بدبخت دین حنیف کو گویا خود صاحب دین سے زیادہ سمجھتے ہیں ، اور معاذ اللہ خو پیغمبر سے زیادہ دین کا درد اپنے پہلوم میں رکھتے ہیں پیغمبر تو ان اصحاب کو اپنی محفل میں جگہ دے انکو شرف مصاہرت سے نوازے ، ان کو اپنے عزیز اور دوست قرار دے اور عمل سے واضح کر دے کہ یہ میرے پیارے ہیں ، اور یہ کہیں کہ نہیں یہ دوست نہیں دشمن ہیں ۔ حل لغات : مردوا : اس کے معنی سرکشی کے بھی ہیں اور نیکی سے طبعی محرومی کے بھی اسی مناسبت سے شیطان کو مارد کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
Ayah 9:101

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

اور بعض دیہاتی جو تمہارے گردا گرد ہیں ، منافق ہیں اور بعض مدینہ والے نفاق پر اڑ رہے ہیں ، تو انہیں نہیں جانتا ہم جانتے ہیں ، ہم انہیں دنیا میں دو بار عذاب پھر بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے (ف 1) ۔

(ف 1) تمرد کے معنی سرکشی اور شدت کے ساتھ نافرمانی اور قبائح میں منہمک رہنے کے ہیں یعنی کچھ لوگ ایسے ہیں جو نفاق کو ظاہر طور پر انجام دے رہے ہیں ، اور مصر ہیں ، غالبا یہ اس وقت کے بعض لوگوں کی جانب اشارہ ہے ، انہیں ودوگونہ عذاب میں مبتلا کیا جائے گا ، دنیا میں رسوائی وذلت ، اور عاقبت میں جہنم ، اس لئے انہوں نے عیب کو صواب اور گمراہی کو ہدایت قرار دیا ، معصیت اور کفر پر اڑے رہے ۔
Ayahs 9:102–103

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:102 in the Quran reader

اور دوسرے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کو مان لیا ، اور اپنے بھلے اور برے کام کو ملا دیا شاید اللہ انہیں معاف کرے ، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف 2) ۔

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:103 in the Quran reader

ان کے مال میں سے زکوۃ لے ، تاکہ تو انہیں پاک صاف کرے ، اور ان کے لئے دعا خیر کر ، کہ تیری دعا ان کی تسلی ہے ، اور اللہ سنتا جانتا ہے ۔

(ف 2) غزوہ تبوک سے تحلف کرنے والوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو سخت نادم تھے ابو لبابہ ؓ اور اس کے ساتھیوں نے تعزیرا اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں کے ساتھ باند لیا ، اور کھانا پینا ترک کردیا ، حضور جنگ سے جب لوٹے تو لوگوں نے درخواست کی انکو معاف فرما دیجئے ، یہ اب نادم ہیں ، حضور ﷺ نے فرمایا تب تک اللہ ان کی معذرت کو قبول نہ فرما دے میں کسی طرح ان سے خوش ہو سکتا ہوں اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ، غرض یہ ہے کہ اظہار ندامت کے بعد گناہ دھل جاتے ہیں اور اللہ اپنے کرم سے معاف کردیتا ہے ۔ (آیت) ” خذ من اموالھم صدقۃ “۔ سے مقصود یہ ہے کہ مال و دولت کی وجہ سے یہ لوگ رکے رہے اور میدان جہاد میں نہیں جاسکے اس لئے اب تزکیہ باطن کی لئے انہیں اللہ کی راہ میں صدقہ دینا چاہئے تاکہ دلوں سے روپیہ کی بیجا توقیر اٹھ جائے ،
Ayahs 9:104–106

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 9:104 in the Quran reader

کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے (ف 3) ۔ اور ان کی زکوۃ لیتا ہے ، اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے ۔

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 9:105 in the Quran reader

اور تو کہہ کر عمل کرو اللہ اور اس کا رسول اور مسلمان تمہارے کام دیکھیں گے ، پھر تم اس کی طرف جو ظاہر اور باطن سے واقف ہے ‘ لوٹائے جاؤ گئے سو وہ تمہارے کام تمہیں بتا دے گا ۔

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:106 in the Quran reader

اور بعض اور لوگ ہیں جو اللہ کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں ‘ وہ یا انہیں عذاب کرے گا ، یا ان پر متوجہ ہوگا اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۔

شان کریمی : (3) یعنی اللہ تعالیٰ احساس گناہ کے بعد فورا گناہ بخش دیتا ہے ، اس لئے اس کی شان کریمی کا تقاضا یہی ہے ، (آیت) ” عن عبادہ “۔ میں لطیف اشارہ ہے بندوں کے عجز اور اللہ کے پیار کی جانب یعنی جب انسان اس کا بندہ ہے تو وہ ضرور اس کی بیچارگی کا خیال رکھے گا ، اور باوجود اس کے نقائص وعیب ان کے نگاہ عفو سے کام لے گا ، کیونکہ بندگی وبیچارگی کے بعد ہماری حیثیت ہی کیا رہ جاتی ہے ، جو گناہوں کو خدا کے مقابلے میں کی چیز عبودیت کا اظہار ضروری ہے اس کے بعد اس کا قلزم عاطفہ ورحمت خود بخود موجزن ہوجاتا ہے ، حل لغات : سکن : وجہ سکون ۔
Ayahs 9:107–110

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

اور جنہوں نے (مدینہ میں) بہ نیت ضرور وکفر ضرور ہے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اور اس کی گھات کیلئے جو اللہ اور اس کے رسول سے پہلے لڑچکا ہے ، ایک مسجد بنائی ہے ، اور وہ ضرور قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے صرف بھلائی کا ارادہ کیا تھا اور اللہ گواہی دیتا ہے ، کہ وہ جھوٹے ہیں (ف 1) ۔

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

سو تو کبھی اس مسجد میں نہ کھڑا ہو ، وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے پرہیز گاری پر رکھی گئی ہے ، زیادہ لائق ہے ، کہ تو اس میں کھڑا ہو ، اس میں وہ لوگ ہیں ، جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں ، اور اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتے ہیں ۔

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

کیا جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خوف خدا اور اس کی رضا مندی پر رکھی ، وہ بہتر ہے یا جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ڈہنے والی کھائی کے کنارہ پر رکھی ، پھر اسے لے کر دوزخ کی آگ میں گر پڑی ، اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا ۔

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ، ہمیشہ ان کے دلوں میں شبہ کا باعث ہوگی ، جب تک کہ ان کے دل پارہ پارہ نہ ہوں ، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۔

مسجد ضرار : (ف 1) حضور ﷺ جب مدینے تشریف لے گئے تو اسلام مدینے والوں کا قومی مذہب قرار پایا ، توحید کا اجالا گھر گھر پہنچا اور لوگوں کے سینے پر تو اسلام سے جگمگا اٹھے ، منافقین کے لئے یہ ترقی ناقابل برداشت تھی انہوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کے دو مرکز ہوگئے ایک قبا اور دوسرا مسجد نبوی ، اور دونوں آباد ہیں ، مومن دونوں جگہ نور ومعرفت سے استفادہ کر رہے ہیں ، اور دونوں جگہوں سے ہدایت ورشد کے چشمے پھوٹ رہے ہیں ، مسجدیں اس زمانے میں ، اسلامیوں کی ہر تحریک خیر و برکت کی مدارو محور ہوتی تھیں ، مسجدیں صرف سجدہ گاہیں نہ تھیں ، بلکہ عمل اور جدوجہد کی ہر ابداء یہیں سے ہوتی ، یہ درس گائیں بھی تھیں اور دارالشورے بھی ، حکمت ومعرفت کا منبع بھی اور آستانہ عقیدت و عبودیت بھی ، اس لئے منافقین نے سوچا کہ مسلمانوں کو تکلیف اور نقصان پہنچانے کے ان میں کفر ونفاق پیدا کرنے کے لئے اور انہیں سیاسی سازشوں میں مبتلا کرنے کے لئے اس سے بہتر کوئی صورت ممکن نہیں ، کہ ایک مسجد کی بنیاد ڈالی جائے اور اسے ان ممشؤمہ اغراض کے لئے استعمال کیا جائے ، چناچہ ابو عامر راہب نے انہیں مشورہ دیا کہ تم ایک مسجد تعمیر کرو ، وہاں اپنے اغراض کے لئے پروپیگنڈا کرو ، جب اس طرح کی جماعت تیار ہوجائے تو مجھے اطلاع دو ، میں قیصر روم سے مل کر تمہیں مدددوں گا ، اور اس طرح چپکے چپکے مدینے سے اسلام کی بڑھتی ہوئی قوت کو ختم کیا جاسکے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے نے حضور ﷺ کو تمام حالات کی اطلاع دے دی اس مسجد میں نماز پڑھنے سے روک دیا اور کہہ دیا کہ مقصد اور نیت نیک نہیں ، لہذا آپ ان کی حوصلہ افزائی نہ کریں ، نتیجہ یہ ہوا کہ مسجد ڈھا دی گئی ، اور اس طرح مسلمان ایک عظیم فتنہ سے پہنچ گئے ، اس قصے میں انہیں واقعات کی جانب اشارہ ہے ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مساجد کی تعمیر سے غرض تقوی اور پاکبازی ہے جو مسجد قبیح اور ناپاک اغراض کے لئے تعمیر کی جائے ، جس سے مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنا مراد ہو ، اور اسلام کے خلاف بطور مرکز استعمال کی جائے ، جہاں تقوی و پاکیزگی ناپید ہو ، اور خبث ونفاق کا سرچشمہ ہو ، جسے ایک قوم کا محاذ جنگ بنایا جائے وہ مسجد ، مسجد ضرور ہے ، مسلمانوں کے لئے اس کا وجود ناقابل برداشت ہے ، وہ بالکل احترام کے لائق وقابل نہیں ۔ حل لغات : مرجون : جنہیں ڈھیل دی جائے ، ارصادا : الرصد الاستعدا ، وللترقب یعنی انتظار کرنا اور طیار رہنا ۔ لمسجد اسس علی التقوی ، مسجد نبوی ہے بعض کے نزدیک قباء سے مراد ہے ، ۔ ریبۃ : پھانس وجہ اضطراب ۔
Ayah 9:111

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

مسلمانوں سے ان کی جانیں اور مال اللہ نے بہشت کے بدلے خرید کی ہیں ، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں ، پھر مارتے اور مرتے ہیں ، یہ سچا وعدہ ہے جو اللہ پر لازم ہے ، اور توریت اور انجیل اور قرآن میں لکھا ہے ۔ اور اللہ سے زیادہ اپنے عہد کا پورا کرنے والا کون ہے ، سو اپنی اس بیع پر جو تم نے اس سے کی ، خوشی کرو ، اور یہ بڑی مراد پانی ہے (ف 1) ۔

شاندار سودا : (ف 1) غرض یہ ہے کہ مسلمان کی جان عزیز اور متاع نفس خدا کی راہ میں وقف ہے ، اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے ان کی جان اور مال خرید چکا ہے ، یہ طے ہے کہ درم دینار سے لے کر رگ حیات تک سب کچھ محبوب پر قربان ہے ، نہ دولت پر اختیار ہے ، اور نہ زندگی کے قیمتی لمحات پر سودا خدا کی جانب سے ہوچکا ، بات پختہ ہوگئی ، دو حرفی نصب العین ہے ، کہ جنت لو اور دنیا کی تمام آسائشیں دین پر نثار کر دو ، یہ کس قدر بلند نصب العین ہے جس سے نفس میں پاکیزگی اور رفعت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اب ہمیں ترمیم وتنسیخ کی ضرورت نہیں اور ضرورت بھی کیا ہے یہ سودا گھاٹے کا سودا نہیں جب یہ سب کچھ اسی کا ہے جان اس کی ہے مال اس کا ہے دنیا کی آسائشیں اسی کی حلوفت نگاہی کا نتیجہ ہیں تو پھر اسی حیات متعارہ کو اس کے سپرد کردینا کیا جنگل ہے یہ اس کی کریمی ہے کہ وہ اپنی چیز کو بطور مبیع کے قبول فرما رہا ہے ، ورنہ سودا کیسا ، ہم اس کے جنت اس کی وہ جو چاہے سو کرے جسے چاہے جنت عطا کرے اور جسے چاہے ، جہنم میں پھینک دے ، مگر وہ کریم روحیم ہے ، اس کی نوازش نے بندوں کو بہشت میں پہنچانے کے لئے ایک بہانہ پیدا کردیا ہے ، اور بس سودا کیسا ، اور بیع کس کی ، ؟ حل لغات : السائحون : سیاحت کرنے والے ۔
Ayahs 9:112–113

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

یہ لوگ توبہ کرنے والے بندگی کرنے والے ، تعریف کرنے والے سفر کرنے والے ، رکوع کرنے والے ، سجدہ کرنے والے نیک باتوں کا حکم دینے والے ، اور بری باتوں سے روکنے والے ، اور حدود الہی کے تھامنے والے ہیں ‘ اور تو ایسے ایمانداروں (ف 1) ۔ کو بشارت دے ۔

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 9:113 in the Quran reader

نبی اور ایمانداروں کو مناسب نہیں کہ مشرکوں کے لئے مغفرت مانگیں ، جب کہ انہیں معلوم ہوگیا ، کہ وہ دوزخی ہیں ، اگرچہ قرابتی کیوں نہ ہوں ۔

(ف 1) اس آیت میں مسلمان کی سات صفتیں گنائی ہیں جن کی وجہ سے وہ بشارت و خوشخبری کا مستحق قرار پاتا ہے ، اس کو خدا سے عشق ہوتا ہے اور وہ ہر وقت اس کے گیت گاتا ہے ، سعی جہاد میں کے گوشہ گوشہ تک پہنچتا ہے ، عابد اور زاہد ہوتا ہے ، گناہوں اور لغزشوں پر نادم ہوتا ہے ، نیکی سے محبت کرتا ہے ، اور برائی سے نفرت ، خدا کی حدود ہر آن نگاہ رکھتا ہے ۔ آج کل کے رسمی مسلمان ، اپنی مذہبی زندگی کا جائزہ لیں کیا ان میں توبہ و عبادت کا جذبہ موجود ہے ، کیا وہ حمد و ستائش کے عادی ہیں ، ان کے ہونٹ کبھی خدا کی تعریف میں ہلتے ہیں ، یا ان کے پاؤں جہاد و ہجرت کے لئے کبھی حرکت میں آئے ہیں ، کیا برائیوں سے (نہیں نفرت ہے اور کہاں تک وہ احکام خداوندی کی رعایت ملحوظ رکھتے ہیں ۔
Ayahs 9:114–116

وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ Open ayah 9:114 in the Quran reader

اور ابراہیم (علیہ السلام) نے جو اپنے باپ کیلئے مغفرت چاہی تھی وہ ایک وعدہ کے سبب تھی ، جو وہ اپنے باپ ہی سے کرچکا تھا ، پھر جب اسے معلوم ہوا کہ وہ خدا کا دشمن ہے ، تو وہ اس سے بیزار ہوگیا ابراہیم نرم دل بردبار تھا (ف 2) ۔

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 9:115 in the Quran reader

اور خدا ایسا نہیں ہے کہ بعد ہدایت کسی قوم کو گمراہ کرے ‘ جب تک ان چیزوں کو جن سے بچنا ہے ان پر ظاہر نہ کر دے ، اللہ ہر شے سے واقف ہے ۔

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:116 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس کی سلطنت زمین اور آسمانوں میں ہے وہی جلاتا اور مارتا ہے ، اور اللہ کے سوا کوئی تمہارا حمایتی اور مددگار نہیں ۔

کفار کیلئے مغفرت طلبی : (ف 2) سورة برات کے ابتداء میں یہ حقیقت واضح کردی گئی ہے کہ ایمان کی طرف سے کفر وشرک کو اعلان بیزاری سنایا جاتا ہے آیندہ مسلمانوں کی دوستی یہ لوگ حاصل نہیں کرسکیں گے اس سے پیشتر کی آیت میں حضور ﷺ کو دیا گیا ہے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ کوئی نفع کی امید وابستہ نہ رکھیں یہ بخشش اور رحمت کا قطعا اس نہیں رکھتے ، اس آیت میں ایک شبہ کا جواب ہے ، وہ یہ کہ جب مسلمان ہوجانے کے بعد کفر سے بالکل بےتعلق خاطر باقی نہیں رہتا ، اور مسلمان دنیائے کفر سے بالکل بےتعلق ہوجاتا ہے ، تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لئے کیوں دعائے مغفرت کی ۔ جواب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چونکہ نہایت درجہ حلیم الطبع اور شفیق تھے ، اس لئے تمام زیادتیوں کو جو منکرین کی جانب سے کی جاتیں ، بخندہ پیشانی برداشت فرماتے اور بدستور خواہش رہتی کہ یہ لوگ دولت اسلام سے مالا ہوجائیں ایسی خواہش کی بنا پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کی بخشش طلبی کا وعدہ فرمایا اور ایفائے عہد کے لئے دعا بھی کی ، مگر ان کو جلد ہی معلوم ہوگیا کہ پتھروں میں دل نہیں ہوتا ، اس لئے آئندہ کامل طور پر باپ سے الگ ہوگئے غرض یہ نہیں کہ کفر واسلام کا تفاوت پسروپدر کے اخلاق میں حائل ہوجاتا ہے اور باپ کی عزت واعانت سے روکتا ہے ، بلکہ غرض یہ ہے کہ اسلام قبول کرلینے کے بعد روحانی تعلق قریب سے قریب رشتہ دار کے ساتھ بھی باقی نہیں رہتا ۔ یہ بھی مقصود نہیں کہ منکرین کے لئے اظہار ہمدردی ناجائز ہے ، بلکہ مقصود یہ ہے کہ کفر کو قابل عفو سمجھنا گناہ ہے ۔
Ayah 9:117

لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:117 in the Quran reader

اللہ نبی اور ان مہاجرین اور انصار پر مہربان ہوا ، جو تنگی کے وقت اس کے ساتھ رہے تھے (ف 1) ۔ اس کے بعد کہ اس میں سے ایک فریق کے دل ڈگمگانے کے نزدیک آگئے تھے ، پھر اللہ ان پر متوجہ ہوا ، بیشک وہ ان پر شفیق اور مہربان ہے ۔

(ف 1) غزوہ تبوک گرمی کے دنوں میں واقع ہوا ، اس لئے عام صحابہ کرام ؓ اجمعین میں اضطراب تھا کہ گرمی کی اس شدت میں کیونکر سفر طے ہوگا ، کیونکر ہم اس قابل ہو سکیں گے کہ دشمن سے لڑیں ، پانی بہت کم تھا ، اثنائے سفر میں یہ خطرہ لاحق ہوگیا ، کہیں ہلاک ہی نہ ہوجائیں ، دور دراز سفر ، گرمی کے دن اور دشمنوں سے جہاد بہت لوگوں نے ہمت ہار دی اللہ تعالیٰ نے ارادوں میں استقلال پیدا کیا ، دلوں کو صبر کی توفیق مرحمت فرمائی تو صحابہ میں ایک زندگی پیدا ہوگئی مخلصین کی ایک جماعت حضور ﷺ کے ساتھ نکل کھڑی ہوئی اس آیت میں اسی توفیق کا ذکر ہے ۔ ّ (آیت) ” لقد تاب اللہ علی النبی “۔ سے غرض یہ نہیں کہ نبی کے پائے استقلال میں بھی معاذ اللہ لغزش پیدا ہوگئی تھی یا ان کی ہمت میں بھی کمزوری اور سستی کا ظہور ہوگیا تھا ، بلکہ محض صحابہ کی حوصلہ افزائی کے لئے عفو کے نام کو ان کے ساتھ ضم کردیا ہے ۔ حل لغات : تاب اللہ علی فلان ، کے معنی التفات ساعی کو مبذول کرنے کے ہیں غرض یہ ہے کہ اللہ نے نبی اور اس کے ساتھیوں کو بہ نگاہ رحمت دیکھا اور ان کے دلوں میں ہمت وقوت پیدا کردی ۔
Ayahs 9:118–119

وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِ١ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 9:118 in the Quran reader

اور ان تین شخصوں پر بھی (مہربان ہوگیا) جو پیچھے رہے تھے ، یہاں تک کہ جب زمین باوجود اپنی کشادگی کے ان پر تنگ ہوگئی ، اور وہ اپنی جان سے بیزار ہوئے اور سمجھے کہ خدا سے کہیں پناہ نہیں ‘ مگر اسی کی طرف پھر وہ ان پر مہربان ہوا ، کہ وہ توبہ کریں ، بیشک اللہ مہربان رحم والا ہے (ف 1) ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 9:119 in the Quran reader

مومنو ! خدا سے ، ڈرو ، اور سچوں کے ساتھ رہو ۔

(ف 1) ان تینوں کا ذکر گزشتہ اوراق میں گزر چکا ہے یہ تین کعب بن مالک مرارہ بن ربیع ، اور ہلال بن امیہ واقفی تھے عزوہ تبوک میں شریک نہ ہو سکے ، حضور ناراض ہوگئے ، آپ کی نگاہ کرم کا پھرنا تھا کہ صحابہ کرام ؓ اجمعین نے بھی چشم التفات پھیرلی اب نہ مسجد میں ان سے علیک سلیک ہے نہ بازار میں کوئی پوچھتا ہے ، گھر میں مستورات نے خدمت سے انکار کردیا ، آخر اللہ نے معذرت قبول کرلی ، اور یہ آیات نازل ہوئیں ؟ ” اللھم اغفر لکاتیبہ ولمن سعے فیہ ولوالد یھم اجمعین ، امین “۔