5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsسراج البیان

Ayahs 5:117–120

مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ۚ وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ١ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 5:117 in the Quran reader

میں نے ان سے صرف وہی بات کہی ہے جس کا تونے مجھے حکم دیا تھا کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے اور جب تک میں ان میں رہا ان سے خبردار رہا پھر جب تونے مجھے قبض کرلیا ، تو تو ہی ان کا نگہبان تھا اور تو ہر شئے پر گواہ ہے (ف 1) ۔

اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ١ۚ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 5:118 in the Quran reader

اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو تو ہی زبردست حکمت والا ہے ۔

قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 5:119 in the Quran reader

خدا نے کہا یہ وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کا سچ نفع دے گا ، ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، خدا ان سے راضی ہوگا ۔ اور وہ خدا سے راضی ہوں گے ، یہی بڑی کامیابی ہے ۔

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْهِنَّ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:120 in the Quran reader

آسمان اور زمین اور جو اس کے درمیان ہے سب اللہ کی سلطنت ہے اور وہ ہر شئے پر قادر ہے ۔

میسح کی تعلیم : (ف 1) ان آیات میں قیامت کا ذکر ہے مسیح (علیہ السلام) سے پوچھا جائے گا ، کیا تم نے کہا تھا کہ مجھے اور میری مان کو خدا مانو ، آپ فرمائیں گے ، اللہ مجھے کیونکر اختیار ہے کہ باطل کی تلقین کروں ، میں نے تو ان کو ہمیشہ توحید ہی کی طرف بلایا ہے ، اور میں جب تک ان میں رہا ، اسی کی دعوت دی جب تونے مجھے اٹھا لیا ، اس وقت تو نگہبان تھا ، اور تو سب کچھ جانتا ہے ۔ یہاں تک معذرت ہے اس کے سفارش ہے کیونکہ مسیح (علیہ السلام) خوب جانتے ہیں کہ میرے آسمان پر جانے کے بعد لوگوں میں غلط کے عقائد رائج ہوگئے تھے ، فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اگر انہیں سزا دے تو تیرے بندے ہی تو ہیں ، اور بخشدے تو کیا مضائقہ ہے ، تو عزیز اور حکیم ہے یعنی اگر بخشدے تو تجھے کوئی روک سکتا ، اور تو جانتا ہے کہ انسان غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتا ہے ، دبے الفاظ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کے لئے مغفرت کی خواہش کا اظہار کیا ، یہاں چند باتیں ملحوظ رہیں : 1۔ عیسائی لٹریچر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں ایک گروہ ایسا تھا ، جو مریم کی الوہیت کا قوئل تھا ، سب غالبا ایسا کوئی فرقہ موجود نہیں ۔ 2۔ اس مقام پر ایک فریق دھوکا دیتا ہے اور کہتا ہے دیکھئے مسیح (علیہ السلام) نے انکار کیا ہے ، اور کہا ہے میرے سامنے کسی شخص نے مجھے خدا نہیں کہا ، حالانکہ اگر اس کی دوبارہ آمد کا مسئلہ صحیح ہے تو اسے یقینا معلوم ہونا چاہئے ، کہ عیسائی اسے خدا سمجھتے ہیں ، ورنہ لازم آتا ہے کہ خدانخواستہ مسیح (علیہ السلام) جھوٹ بول رہے ہیں ، جواب یہ ہے مسیح (علیہ السلام) سے سوال صرف یہ کہا گیا ہے کہ کیا تم نے اس طرح کے عقیدے کی تلقین کی وہ فرماتے ہیں نہیں یہ پوچھا ہی نہیں گیا کہ کیا تم اس واقعہ کے متعلق کچھ جانتے بھی ہوں یا نہیں ؟ اور (آیت) ” ان نعذبھم فانھم عبادک “ ۔ سے معلوم ہوتا ہے ، کہ مسیح اپنے علم کا انکار نہیں کرتے ، بلکہ وبے الفاظ میں اقرار کرتے ہیں کہ مجھے علم ہے ، 3۔ نیز (آیت) ” ما دمت فھم “۔ سے معلوم ہوتا ہے ، مسیح (علیہ السلام) کی زندگی کے دو حصے ہیں ، ایک وہ جو انہوں نے بنی اسرائیل میں رہ کر گزارا ، اور ایک وہ جبکہ وہ ان میں موجود نہیں تھے ، بہرحال مقصد یہ ہے کہ عیسائیوں کو ڈانٹ دیا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ مسیح (علیہ السلام) کی تعلیم توحید ہے ، نہ کہ تثلیث ۔