5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsسراج البیان

Ayahs 5:80–81

تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 5:80 in the Quran reader

تو ان (یہود مدینہ) میں بہتوں کو دیکھتا ہے کہ کفار (مکہ) کے دوست ہیں (ف 3) انہوں نے اپنی جانوں کے لئے بری چیز آگے بھیجی ہے کہ ان پر اللہ غصہ ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے ۔

وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:81 in the Quran reader

اور اگر وہ اللہ پر اور نبی پر اور اس پر جو اس پر اترا ہے ‘ ایمان لاتے تو ان کفار کو دوست نہ بناتے ، مگر ان میں بہت فاسق ہیں ۔

(ف 3) ان دو آیتوں میں بیان فرمایا ہے کہ یہودی باوصف اہل کتاب ہونے کے اور بہت سی باتوں میں مسلمانوں کے ساتھ اشتراک رکھنے کے کفار کے زیادہ دوست ہیں ، حالانکہ ان کے تعلقات مسلمانوں سے کہیں مضبوط ہونے چاہئیں ۔ بات یہ ہے کہ یہود کو اسلام کی دشمنی نے اندھا کر رکھا تھا وہ بغض وحسد سے برے اور بھلے میں کوئی تمیز نہ کرسکتے تھے اور فسق وفجور کی وجہ سے انکی مذہبی حس مردہ ہوچکی تھی یہی وجہ ہے کہ وہ خدا کی ناراضگی اور عذاب مخلد کے مستحق ٹھہرے ۔ حل لغات : سوآء السبیل : صرط مستقیم ۔ جادہ معتدل ۔ سیدھی اور آسان راہ ، یتناھون : مادہ تناھی ، رکنا ۔ باز رہنا ۔
Ayah 5:82

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَهُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 5:82 in the Quran reader

مسلمانوں کے لئے دشمنی میں یہود اور مشرکین (مکہ) کو تو سب آدمیوں سے زیادہ سخت پائے گا اور دوستی کے بارے میں مسلمانوں کے لئے تو ان کو زیادہ قریب پائے گا جو کہتے ہیں کہ ہم نصاری ہیں ، یہ اس لئے کہ ان میں عالم اور درویش ہیں اور یہ لوگ تکبر نہیں کرتے ۔ (ف 1)

(ف 1) قرآن حکیم نے جہاں یہودیوں کی قساوت قلبی کا تذکرہ کیا ہے اور مشرکین مکہ کی عداوتوں کو بیان کیا ہے وہاں نہایت فراخ دلی کیی ساتھ عیسائیوں کی تعریف بھی کی ہے ، فرمایا ہے کہ یہودی اور مشرک مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں ، مگر عیسائیوں میں ایسے فقیر اور صلح جو لوگ موجود ہیں جو کبر وپندار کے مرض سے آلودہ نہیں ہوتے اور جن کے تعلقات مسلمانوں کے ساتھ زیادہ دوستانہ اور محبانہ ہیں ۔ وجہ یہ تھی کہ یہودی مال و دولت کے نشے میں مخمور تھے دینداری اور تورع کے لئے ان کے دلوں میں کوئی جذبہ نہ تھا ، اس لئے وہ طبعا ہر اس تحریک سے متنفر تھے جو انہیں پاکبازی کی دعوت دے اور عیسائی چونکہ رہبانیت کی طرف مائل تھے اس لئے نسبتا زیادہ متاثر اور روادار تھے ۔ حل لغات : مودۃ : دوستی و محبت ۔ قسیس : اصل میں کشیش تھا جس کے معنی پہلوی میں میرآتشکدہ یا عالم دین کے ہیں ، ممکن ہے ‘ یہ لفظ سنسکرت کے لفظ شیش سے بگڑا ہو جس کے معنی شاگرد کے ہیں ، عربی میں قسیس کے معنی عالم باعمل کے ہیں ۔
Ayah 5:83

وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ١ۚ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:83 in the Quran reader

اور جب وہ کلام سنتے ہیں جو رسول پر نازل ہوا ہے تو تو دیکھتا ہے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو ٹپکتے ہیں اس لئے کہ انہوں نے حق پہچان لیا ہے کہتے ہیں کہ اے رب ہم ایمان لائے سو ہمیں گواہوں میں لکھ لے ، (ف 1)

جادواثر قرآن : (ف 1) ۔ اہل کتاب میں حق وصداقت کے شیدائی جب قرآن حکیم کی آیات کو سنتے تو سینوں میں عرفان و حقیقت کا دریا مؤجزن ہوجاتا اور آنکھیں بادہ کیف ، سے چھلکنے لگتیں ، یا قرآن کی جادو اثر ہی اس درجہ مسلم ہے کہ کوئی ذی ہوش اور خرد مند انسان اسے سن کر غیر متاثر نہیں رہ سکتا ، شاہ حبشہ نے جب پہلے پہل حضرت جعفر ؓ تیار کی زبان فیض ترجمان سے کلام اللہ کی چند آیتیں سنیں تو بےقرار ہوگیا ، اور دیر تک رقت وانفعال کے تاثرات میں مستغرق رہا ، بات یہ ہے کہ خدا کی باتیں حقیقت سادگی اور جمال کا مرقع ہوتی ہیں ، ناممکن ہے کہ ان کے جلوہ ہائے عریاں کو دیکھا جائے اور (آیت) ” خر موسیٰ صیعقا “۔ کا منظر نہ کھنچ جائے ، (آیت) ” فاکتبنا مع الشھدین “ سے مراد یہ ہے ہمین بھی امت میں تبیغ اشاعت کی توفیق سے شہادت کے معنی عربی میں حق کی گواہی اور بلیغ کے ہیں اسی مناسبت سے مسلمانوں کو شھد اللہ فی الارض کہا گیا ہے اور یہ وجہ ہے کہ انہیں (آیت) ” لتکونوا شھدآئ “ کے دلنواز فخر سے نوازا گیا ہے مقصد یہ ہے وہ اہل کتاب جو تبتل و انقطاع کی زندگی بسر کرتے ہیں ، جب قرآن کی دعوت کو سنتے ہیں ، تو طبیعتوں میں ایک جوش پیدا ہوجاتا ہے اور وہ بدل چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طریق سے اللہ انہیں برزور مبلغ بنا دے اور وہ قرآن ی سے چشمہ فیض کو ہر تشنہ کام حقیقت تک پہنچا دیں ، اس دعوت کو عام کردیں یعنی کا غ اہبار سے لے کر قصر امراء تک یہ روشنی پھیل جائے (آیت) ” ویکون الدین کلہ للہ ۔
Ayahs 5:84–85

وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 5:84 in the Quran reader

اور ہمیں کیا ہوا کہ ہم اللہ کو نہ مانیں اور جو سچ بات ہمیں ملی اس پر ایمان نہ لائیں ، ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب نیک لوگوں میں ہمیں داخل کرے گا ۔ (ف 2)

فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:85 in the Quran reader

پس خدا نے بھی ان کے اس قول کے سبب انہیں بدلہ دیا ، باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ نیکوں کا بدلہ ہے ۔

(ف 2) اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ قرآن ایمان باللہ اور حق کے دعوت ہے اس لیے اقرار و اعتراف نہ کرنا ، شقاوت وہ بدبختی کے متراوف ہے ۔ حل لغات : تفیض ، مادہ فیض پانی کافراوانی کی وجہ سے چھلک جانا ، فاثاب : مصدر ثواب ، بمعنی اجر ۔
Ayah 5:86

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 5:86 in the Quran reader

اور جو کافر ہوئے ، اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ، وہی دوزخی ہیں (ف 1) ۔

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ نیکی اور برائی کچھ زیادہ فاصلہ نہیں ، ایک قدم کا آگا پیچھا ہے ، حق کی طرف ذرا کھسک جائیے فردوس و جنت کی نعمتیں ہیں ، اور تم ہو ، ورنہ تکذیب وکفر کی وجہ سے ہولناک جہنم ۔
Ayahs 5:87–88

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 5:87 in the Quran reader

مومنو ! ستھری چیزیں جو خدا نے تمہارے لئے حلال کی ہیں ‘ حرام نہ ٹھہراؤ اور حد سے نہ بڑھو ، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ۔ (ف 2)

وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 5:88 in the Quran reader

اور اللہ کے دیئے ہوئے میں سے ستھری اور حلال چیزیں کھاؤ اور اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان لائے ہو ۔

(ف 2) بیشتر کی آیات میں ” تسلیما اور رھبان “ کی تعریف مذکور ہے صحابہ کی دل میں طبعا دینا سے علیحدگی کی خواہش پیدا ہوئی ، اور انہوں نے ترک لذات کا عہد کرلیا ، گوش نبوت تک جب یہ معاملہ پہنچا ، تو زبان وحی نے اس آیت میں روک دیا اور کہا تحریم لذات جائز نہیں ، دین ترک لذائذ اور تعذیب نفس کا نام نہیں ، بلکہ جذبات میں اعتدال پیدا کرنے کا اس لئے خدا کی سب نعمتیں تمہارے لئے حلال وطیب ہیں ساری اچھی چیزیں کھاؤ ، مگر ایمان والتقاء کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے ،
Ayah 5:89

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ١ۚ فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ١ؕ وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:89 in the Quran reader

خدا تم کو تمہاری بےفائدہ قسموں پر نہ پکڑے گا لیکن تم کو تمہاری ان قسموں پر پکڑے گا جن کو تم نے مضبوط باندھ لیا (ف 3) پس پکی قسموں کا کفارہ دس محتاجوں کو کھلانا ہے اوسط درجہ کا کھانا جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا اس کا کفارہ انکو کپڑا دینا ہے یا غلام آزاد کرنا پھر جو کوئی نہ پائے وہ تین روز روزہ رکھے ، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے ‘ جب تم قسم کھا بیٹھو اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو اللہ یوں تمہیں اپنی آیتیں بتاتا ہے شاید کہ تم شکر و ۔

(ف 3) مقصد یہ ہے کہ اسلام کا تعلق قلب و ارادہ سے ہے ، وہ حرکات جو اضطراری ہیں ، لائق مواخذہ نہیں ، حفظ ایمان کے لئے کفارہ مقرر فرمایا ہے تاکہ مسلمان پاس عہد کی اہمیت کو محسوس کرے ، امام شافعی (رح) اور امام ابوحنیفہ (رح) میں بااختلاف ہے کہ اطعام وکسوت سے مراد تملیک ہے ، ، یا محض تغذیہ واعطاء ، امام ابوحنیفہ (رح) کھانا کھلا دینا کافی سمجھتے ہیں ، اور امام شافعی (رح) تملک ضروری خیال فرماتے ہیں ۔ حل لغات : ولا تعتدوا : مصدر اعتداء ، زیادتی ، حد ا اعتدال سے تجاوز ، عقدتم : عقد ، گرہ دینا ۔ ال ایمان : جمع یمین ، بمعنی قسم ۔
Ayah 5:90

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:90 in the Quran reader

مومنو ! سوائے اس کے نہیں کہ شراب اور جوا ، اور بت ، اور فال کے تیر ، سب شیطان کے گندے کام ہیں ، سو تم ان سے بچو ، شاید تمہارا بھلا ہو (ف 1) ۔

شراب اور جوا : (ف 1) قرآن حکیم نے اخلاق انسانی کی پوری طرح حفاظت کی ہے اور ان تمام چیزوں کو ناجائز ٹھہرایا ہے ، جو اخلاقی طور پر مذموم ہیں اور جن کا استعمال نسل انسانی کے لئے تباہ ہے ، شراب اور جوا دو بہت پرانی بیماریاں ہیں ، عرب کے جاہل سے لے کر یورپ کے مہذب تک اس میں مبتلا ہیں ، آج باوجود تعلیم وتربیت کے ارتقاء کے یہ دونوں چیزیں سوسائٹی کا جزو قرار پاگئی ہیں ، اس لئے ضرورت ہے کہ ان کی برائیاں تفصیل کے ساتھ بیان کی جائیں ۔ قرآن حکیم نے جو برائیاں گنائی ہیں وہ اس درجہ اہم اور درست ہیں کہ ان میں شک وشبہ کی قطعا گنجائش نہیں ، یعنی بعض وعداوت کی تخلیق اور نماز سے تغافل ، شراب پینے اور جوا کھیلنے سے ہمیشہ لڑائیاں ہوتی ہیں ، اور انسانی رقابتیں بروئے کار آتی ہیں ، جس کی وجہ سے امن وسعادت کو ہمیشہ خطرہ ہے نیز نیک جذبات کا خاتمہ ہوجاتا ہے ، ہر وقت دل و دماغ پر بہیمانہ خیالات چھائے رہتے ہیں ، اور انسان کوشاں رہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح آتش ہوس کو ٹھنڈا کیا جائے ، دماغی اور اخلاقی نشونما رک جاتا ہے ، فضا کے زہن میں شہوانی خیالات کے طوفان اٹھتے ہیں ، اور آندھیاں چلتی ہیں ۔ تابش حق کے لئے کوئی جگہ باقی نہیں رہتی ، دل مردہ اور تاریک ہوجاتا ہے ، اللہ کی یاد اور محبت کا کوئی جذبہ نہیں رہتا یعنی مسجود ملائک انسان ہمہ ہوس وشہوت ہو کر رہ جاتا ہے ۔ حل لغات : تحریر : آزاد کرنا غلام اور کنیزک کا ۔ الانصاب : تھاں ، بت پرستی کے مقامات : الازلام : قرعہ کے پانسے ۔
Ayahs 5:91–92

اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ Open ayah 5:91 in the Quran reader

شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے سے تمہارے درمیان عدوت اور بیر ڈالے اور تمہیں خدا کے ذکر اور نماز سے روکے ، پس کیا تم باز آنا چاہتے ہو (ف 1) ۔

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 5:92 in the Quran reader

اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ، اور بچتے رہو ، پھر اگر تم اطاعت سے پھرو گے ، تو جان لو کہ ہمارے رسول کا ذمہ صرف کھول کر پہنچا دینا ہے ۔

(ف 1) صحابہ کرام ؓ اجمعین کی اطاعت دیکھئے ، (آیت) ” فھل انتم منتھون “ کی آواز کو سنتے ہیں اور تسلیم ورضا کا پیکر بن جاتے ہیں ، برسوں کے رسیا ایک دم شراب چھوڑ دیتے ہیں ، اور ساغر ومینا توڑ دیتے ہیں ، وہ مجلسیں جن میں شراب وصہبا کے دور چلتے تھے ، اب ذکر وشغل کے حلقوں میں تقسیم ہوگئی ہیں ، صحابہ کرام ؓ اجمعین مسجدوں میں بیٹھ کر کوثر وتسنیم کے جام لنڈھاتے ہیں اور بادہ کیف آور سے مخمور ہوجاتے ہیں ، یہ ساقی مدینہ کا فیض ہے یثرب کی بھٹی سے وہ خانہ سازا اور تیز وتند شراب پلائی کہ مست ” احسنت “ (آفرین) پکارا اٹھے ہیں ۔
Ayahs 5:93–95

لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 5:93 in the Quran reader

جو ایمان لائے اور نیک کام کئے ان پر اس کا کچھ گناہ نہیں جو پہلے کھاچکے ہیں ‘ جب آگے کو ڈرے ، اور ایمان لائے ، اور عمل نیک کئے پھر ڈرے اور ایمان لائے ، پھر ڈرے اور نیک عمل کرنے لگے ، اور اللہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے (ف 2) ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِ١ۚ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:94 in the Quran reader

مومنو ! خدا تمہیں کچھ شکار میں کہ تمہارے ہاتھ اور نیزے اسے پہنچیں گے ، آزمائے گا تاکہ اللہ ظاہر کرے کہ کون اس سے بن دیکھے ڈرتا ہے پھر جس نے اس کے بعد زیادتی کی تو اسے دیکھ دینے والا عذاب ہوگا ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 5:95 in the Quran reader

مومنو ! جب تم احرام میں ہو ، تو شکار نہ مارو ، اور جو کوئی تم میں سے عمدا شکار مارے ، تو اس کا بدلہ اس کی برابر کا مویشی دینا ہوگا ، جو تم میں دو معتبر شخص ٹھہرا دیں گے ، کہ کعبہ میں قربانی پہنچا دے ، یا اس کا کفارہ محتاجوں کو کھانا دینا یا اس کے برابر روزے رکھنا ، تاکہ وہ اپنے کام کا وبال چکھے ، پہلے جو ہوگیا ، خدا نے معاف کردیا ، اور جو کوئی پھر کرے گا اللہ اس سے انتقام لے گا اور اللہ غالب بدلہ لینے والا ہے ۔

بےعلم معذور ہیں : (ف 2) تکالیف شرعیہ کا اطلاق علم کے بعد ہوتا ہے ایک شخص جو یہ نہیں جانتا کہ اسلامی تعلیمات کیا ہیں ، وہ مکلف بھی نہیں کہ اسلامی احکام کو بجا لائے ۔ جب حرمت شراب کی آیات نازل ہوئیں ، تو صحابہ کرام ؓ اجمعین کو بالطبع ان لوگوں کو خیال آیا ، جو شراب کی مضرت سے آگاہ نہیں ‘ یا جو ان آیات کے نزول سے پہلے فوت ہوچکے ہیں اور شراب کے عادی تھے ، اس لئے پوچھا کہ حضور ﷺ ان کا کیا حشر ہوگا ، کیا وہ بھی ماخوذ ہوں گے ؟ جوابا یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر مے نوشی نے ان کے اخلاق پر برا اثر نہیں ڈالا ، اور وہ پاکباز رہے ہیں ، تو عند اللہ معذور ہیں ، بعض ملاحدہ نے آیت کا مفہوم یہ سمجھا ہے ، کہ اس میں خواص اور اتقیاء کو مئے نوشی کی اجازت دی ہے ، یعنی اگر کوئی شخص شراب پی کر محتاط رہے ، اور صلاح وتقوے کو ہاتھ سے نہ دے تو اس کے لئے اجازت ہے ، مگر یہ بوجوہ غلط ہے ۔ 1۔ اسلام جس نظام تقوی کو پیش کرتا ہے شراب بجائے خود اس میں منافی ہے ، اس غرض کے جو ملحوظ و متعین ہے ، 2۔ اسلام میں خواص وعوام کی قطعا تقسیم موجود نہیں ، تمام مسلمان تکالیف شرعیہ کے مکلف ہیں ۔ 3۔ احادیث میں بصراحت تام شراب کا استعمال بہر طور ناجائز قرار دیا گیا ہے ، حتی کہ دوا کے لئے بھی آپ نے فرمایا ، کہ حرام میں شفا نہیں ، 4۔ دراصل شبہ آیت کے طرز بیان سے پیدا ہوتا ہے لیس کا استعمال ما کے موقع پر اور پھر اذا حرف شرط جو استقبال کے لئے مختص ہے ، اس کا ذکر ‘ یہ قرائن ہیں جن سے اہل زندقہ کو الحاد کے لئے راہ نظر آتی ہے ۔ اس کا ایک جواب تو وہ ہے جو علامہ رازی (رح) نے دیا ہے ‘ کہ آیت مستقبل کے معنی کو بھی شامل یعنی ، وہ لوگ جو حرمت شراب کے حکم سے آگاہ نہیں ، وہ اس وقت تک معذور ہیں جب تک کہ انہیں اس کا علم نہیں ہوجاتا ، صحیح جواب یہ ہے کہ سرے سے اس آیت میں شراب کا ذکر ہی موجود نہیں ، بلکہ مقصد یہ ہے کہ نیک اور صالح لوگ جو کچھ بھی کھائیں پیئیں ، صلاح وتقوی کو ملحوظ رکھیں جس کا ادنی درجہ یہ ہے کہ حلال و حرام کی تفریق کو سمجھیں ، تو ان کے لئے پر تکلف اور پر تنعم ملعومات جائز اور درست ہیں یعنی شراب کی حرمت جذبہ رہبانیت کے ماتحت نہیں ، بلکہ اس لئے کہ یہ تقوی و احسان کے خلاف ہے ۔ حل لغات : الصید : شکار ۔ النعم : چہار پایہ ، قتل گائے بکری اونٹ کے ، یعنی وہ جانور جو عربوں کے لئے آسائش کا سبب تھے ، السیارۃ : مسافر ، چلنے پھرنے والے لوگ ، مادہ سیر ۔
Ayah 5:96

اُحِلَّ لَكُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّیَّارَةِ١ۚ وَ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 5:96 in the Quran reader

تمہارے لئے دریائی شکار اور اس کا کھانا تمہارے اور مسافروں کے فائدہ کیلئے حلال کیا گیا ہے اور تم پر جنگل کا شکار حرام ہے ، جب تک تم احرام میں ہو ، اور خدا سے ڈرو جس کے پاس جاؤ گے (ف 1) ۔

(ف 1) ان آیات میں اور اس قبیل کی آیات میں آداب حرم کا ذکر ہے کہ احرام کی حالت میں شکار کے لئے تعرض ناجائز ہے ، البتہ دریا کا شکار یعنی مچھلی پکڑنا اور کھانا درست ہے ، اس میں اختلاف ہے کہ اگر غیر محرم شکار کرے ، تو احرام والے کے لئے کھانا جائز ہے ، یا نہیں ۔ حضرت علی ؓ ، ابن عباس ؓ ، ابن عمر ؓ ، سعد بن جبیر ؓ ، اور طاؤس قطعی حرمت کے قائل ہیں ، امام شافعی (رح) کا مسلک یہ ہے کہ محرم اس دقت کھا سکتا ہے ، جبکہ وہ خود شکار نہ کرے اور اس کے ایماء پر شکار کیا جائے ، امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ محرم بالواسطہ اعانت نہ کرے ‘ تو جائز ہے ، بصورت اعانت ناجائز ۔
Ayah 5:97

جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآئِدَ١ؕ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 5:97 in the Quran reader

اللہ نے کعبہ کو جو بزرگی کا گھر ہے آدمیوں کے لئے سبب انتظام ٹھہرایا ہے اور بزرگی والے مہینوں کو اور قربانی اور گلے لٹکن والی قربانیاں ، یہ اس لئے کہ تم جانو کہ جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے اللہ کو معلوم ہے اور اللہ ہر شئے کو جانتا ہے (ف 2) ۔

کعبہ ضروریات عامہ کا کفیل ہے : (ف 2) اس آیت میں بیت الحرام کو (آیت) ” قیام للناس “ ، قرار دیا ہے ، یعنی اس کے ساتھ لوگوں کی ضروریات دینی اور دینوی وابستہ ہیں ، یہ روحانیت اور معارف اللہ کا منبع اور مرکز ہے ، یہ بین الملی اور بین الدینی مصالح کا کفی ہے ، دنیا کے طول وعرض سے لوگ آتے ہیں جو مختلف بولیاں بولتے ہیں ، رنگ وبو کے کے لحاظ سے ان میں کوئی رشتہ موجود نہیں ہوتا ، مگر باوجود اس کے سب لوگ ایک میدان میں ایک لباس میں ، ایک مقصد لئے ہوئے مصروف عبادت نظر آتے ہیں ۔ کون جانتا تھا کہ ایسی غیر آباد بستی کو یہ فروغ حاصل ہوگا اور تم ساری کائنات کا محور قرار پائے گی ، یہ محبوبیت ، یہ ہمہ گیر قبولیت گواہ ہے ، کہ خدا سب کچھ جانتا ہے ، اور اس کا علم نہایت وسیع ہے ۔
Ayahs 5:98–100

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؕ Open ayah 5:98 in the Quran reader

جان رکھو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف 3) ۔

مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:99 in the Quran reader

رسول کا اور کچھ ذمہ نہیں ‘ صرف پیغام پہنچانا ہے اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو ‘ یا چھپاتے ہو اللہ جانتا ہے ۔

قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 5:100 in the Quran reader

تو کہہ پاک اور ناپاک برابر نہیں اگرچہ ناپاک کی کثرت تجھے پسند آئے سو اے عقلمندو ، خدا سے ڈرو ، شاید تمہارا بھلاہو ۔

(ف 3) یعنی اللہ تعالیٰ مجرموں اور گنہ گاروں کے لئے جہاں سخت گیر ہے ، وہاں اپنے بندوں کے لئے غفور اور رحیم بھی بدرجہ اتم ہے ، حل لغات : الحرام : عزت ، بیت الحرام ، یعنی عزت کا گھر ۔
Ayahs 5:101–102

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 5:101 in the Quran reader

مومنو ! ایسی باتیں جن کی حقیقت اگر تم پر کھول دی جائے تو تمہیں بری معلوم ہو رسول سے نہ پوچھا کرو (ف 1) ۔ اور جب تم انکی حقیقت ایسے وقت میں پوچھو گے کہ قرآن اتر رہا ہے تو ان کا بھید تمہارے لئے کھولا جائے گا خدا نے ان سے درگزر کی اور خدا بخشنے والا بردبار ہے ۔

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ Open ayah 5:102 in the Quran reader

ویسی باتیں تم سے پہلے لوگوں نے پوچھی تھیں پھر ان کے منکر ہوگئے تھے ۔

غیر ضروری موشگافیاں ممنوع ہیں ! (ف 1) اسلام دین فطرت ہے ، اسے نہایت سادہ اور جامع قرار دیا گیا ہے ، اس میں اصول ومعانی کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے ، زندگی کے ان ابواب سے بحث کی ہے جو ضروری اور واقعی ہیں ۔ اور غیر ضروری تفصیلات کو ترک کردیا گیا ہے ، تاکہ قوائے عمل بیکار نہ ہوجائیں ۔ اس آیت میں اسی تفصیل طلبی کے جذبہ سے روکا ہے ، بات یہ تھی کہ بعض لوگوں نے ایسے سوالات پوچھے ، جن کا جواب ان کے لئے تکلیف دہ تھا ، مثلا عبداللہ بن حذافہ نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ میرا باپ کون ہے ؟ یہ مشکوک النسب تھے آپ ﷺ نے فرمایا ، حذافہ بن قیس ، ایک صاحب بول اٹھے ، میرے ابا کہاں ہیں ، حضور نے جواب دیا جہنم میں ، سراقہ بن مالک نے پوچھا نے پوچھا کیا حج ہر سال ہم پر فرض ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ، انما ھلک من کان قبلکم بکثرۃ سوالھم “۔ یعنی پہلی قومیں محض ان موشگافیوں کی وجہ سے ہلاک ہوئیں ، میں جو کچھ تم سے کہوں ، بلاکم وکاست مان لو ، اور جن منکرات سے روکوں ، رک جاؤ ۔
Ayahs 5:103–104

مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآئِبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍ١ۙ وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:103 in the Quran reader

خدا نے حرام مقرر نہیں کی کان پھٹی اور نہ سانڈھ اور نہ مسلسل مادہ بچے جننے والی اونٹنی اور نہ دس بچے جنانے والا اونٹ لیکن کافر خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں ‘ اور ان میں بہتوں کو سمجھ نہیں (ف 1) ۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 5:104 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو اللہ نے نازل کیا ہے اس کی طرف اور رسول کی طرف آؤ تو کہتے ہیں کہ جس بات پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے وہی ہمیں کافی ہے ، بھلا اگر ان باپ دادا نہ کچھ علم علم رکھتے ہوں اور نہ راہ جانتے ہو تو بھی ۔

(ف 1) یہ مشرکانہ رسوم ہیں ، عرب ان مواشی کو مقدس سمجھنے اور بربنائے عظمت نہ ان کو ذبح کرتے اور انہ اپنے استعمال میں لاتے ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس عقیدہ کی تردید کی ہے ، اور فرمایا ہے ، کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب جانور یکساں ہیں ، اور ان میں قطعا تقدیس موجود نہیں ، ہر جانور بہرحال جانور ہے ، اور کوئی خوبی ان میں ایسی نہیں ، جس کی وجہ سے ان میں سے کسی کو قابل تعظیم سمجھا جائے ، مصیبت یہ تھی کہ وہ محض آباؤ و اجداد کی پیروی کرتے تھے ، جب انہیں غور وفکر کی دعوت دی گئی ، انکار کردیا ، اور کہہ دیا ، ہم تو قدیم روایات کو نہیں چھوڑیں گے ، حل لغات : بحیرۃ : جب اونٹنی پانچ بچے جنے ، اور آخری بچہ نر ہو ، تو اس کا کان پھاڑ دیتے تھے ، یہ تقدیس کی علامت ہے ، اس کے بعد حرمت لازم ہوجاتی ، بحر کے معنی پھاڑنے کے ہیں ۔ السآئبۃ : بیماری ، تکلیف ، یا خوشی اور مسرت میں جب کسی اونٹ کو آزاد کردیتے تو سائبہ کہلاتا ، یعنی آزادی سے پھرنے چلنے والا ، ۔ وصیلۃ : بھیڑ بکری کے بطن سے اگر نر اور مادہ دونوں اکٹھے پیدا ہوتے ، تو اسے وصیلہ کہتے یعنی نر اور مادہ کو باہم ملا دینے والی ، حام : معنی حمایت کرنے والا اور بچانے والا اور اونٹنی جو دس بچے جنے ، وہ حام کہلاتی اور مقدس ٹھہرتی ۔
Ayah 5:105

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ۚ لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:105 in the Quran reader

مومنو ! تم اپنی جانوں کا فکر کرو ، جب تم نے ہدایت پائی تو گمراہ شخص تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ، تم سب کو خدا ہی کی طرف جانا ہے سو وہ تمہیں جتائے گا ، جو تم کرتے تھے (ف 1) ۔

علیکم انفسکم : (ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ اصلاح سے قبل صلاح وتقوی کی ضرورت ہے ، اگر ہر شخص بجائے خود نیک اور متقی ہوجائے تو تبلیغ و اشاعت کی قطعا ضرورت نہیں ، سب سے پہلے خود پرہیزگار اور صالح بننے کی حاجت ہے نہ یہ کہ اصلاح اور قیادت کے میدان میں آجائے اور ذاتی طور پر تقوی اور اصلاح نفس کے اسرار سے نامحرم ہو ، وہ شخص جو عامل نہیں ہے ، کتاب وسنت کی پروا نہیں کرتا فرائض میں سست وکاہلی ہے ، معاملات میں اچھا نہیں تھا ایک کو چنداں اہمیت نہیں دیتا ، اس سے کیا توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں ، وہ جو کچھ کہے گا اور جو کچھ کرے گا ، ریا کاری اور دکھلاوے کے لئے جس کا بالکل اثر نہیں ہوتا ، لہذا قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ پہلے خود نفس کی اصلاح کرو ، عادات واخلاق کو سنوارو ، اچھے اور نیک بنو ، شریعت پر عمل کرو ، خلوص وایثار ، کا شیوہ اختیار کرو ، پھر دیکھو کفر ومعصیت سے تمہیں قطعا نقصان نہیں پہنچے گا تم کامیاب رہو گے ، اور تمہاری ہدایت گمراہی اور ضلالت پر غالب آجائے گی ،
Ayahs 5:106–108

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِ١ؕ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۙ وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ١ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ Open ayah 5:106 in the Quran reader

مومنو ! جب تم میں سے کسی کی موت حاضر ہو ، تو وصیت کے وقت تم میں سے دو معتبر شخص چاہئیں (ف 2) ۔ یا تمہارے سوا غیر مذہب کے دو شخص ہوں ، اگر تم سفر میں ہو اور موت کی مصیبت آجائے ، اگر تمہیں ان گواہوں کی نسبت شک ہو تو بعد نماز ان دو گواہوں کو کھڑا کرو ، کہ وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں اور کہیں کہ ہم مال پر قسم فروخت نہیں کرتے اگرچہ کوئی ہمارا قرابتی کیوں نہ ہو ، اور ہم اللہ کی گواہی نہیں چھپاتے ورنہ ہم گنہ گاروں میں ہونگے ۔

فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ١ۖ٘ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:107 in the Quran reader

پھر اگر تمہیں معلوم ہو کہ وہ دونوں گناہ سے حق دبا گئے تو ان کی جگہ اور دو شخص ان لوگوں میں سے کھڑے ہوں جن کا حق دبا ہے ان میں سے جو قریب کے ہوں پھر وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ سچی ہے اور ہم نے زیادتی نہیں کی ورنہ ہم ظالموں میں سے ہوں گے ۔

ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:108 in the Quran reader

یہ طریق اس کے زیادہ قریب ہے کہ وہ سچ سچ راہ پر گواہی دیں ، یا اس بات سے ڈریں گے کہ پہلوں کی قسم کے بعد ان کی قسم الٹی نہ پڑے ، اور اللہ سے ڈرو اور سنو ، اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا ۔

(ف 2) اس سے پیشتر کی آیت میں حفظ مال کا ، واقعہ یہ ہے کہ تمیم انصاری اور اس کا بھائی تجارت کی غرض سے ملک شام کی جانب نکلے ، اس کے ساتھ بدیل عمرو بن عاص کا غلام بھی تھا ، جو مسلمان تھا راستے میں بدیل یکایک بیمار ہوگیا ، اس لئے احتیاطا اس نے اپنے سامان کی ایک فہرست مرتب کرلی ، اور وصیت کی کہ اگر میں مرجاؤں تو میری چیزیں میرے گھر پہنچا دینا ، چناچہ وہ مر گیا ، اور ان کی نیت میں فرق آگیا ، کچھ چیزیں انہوں نے دیں اور کچھ رکھ لیں ، اتفاقا چیزوں کی فہرست جو انہوں نے دیکھی تو خیانت ظاہر ہوگئی مقدمہ حضور ﷺ کے روبرو پیش ہوا ، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔ حل لغات : شھادۃ : گواہی ، عثر : معلوم ہوجائے ، عام طور پر مجہول استعمال ہوتا ہے ۔
Ayah 5:109

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:109 in the Quran reader

جس دن خدا سب رسولوں کو جمع کرے گا پھر پوچھے گا (کہ اہل دنیا نے) تمہیں کیا جواب دیا تھا وہ کہیں گے ہم نہیں جانتے تو ہی پوشیدہ باتیں جانتا ہے (ف 1) ۔

(ف 1) مقصد یہ ہے ، کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انبیاء سے ان کی امتوں کے سامنے انہیں نادم کرنے کے لئے پوچھیں گے کہ تمہارے ساتھ ان لوگوں نے کیا سلوک روا رکھاوہ کہیں گے ۔ اللہ تعالیٰ تو خوب جانتا ہے ، ہمارا علم ناقص ہے ، ہم صرف ظواہر کو جانتے ہیں ، دل کے بھید اور اسرار سے بجز تیری ذات کے اور کون آگاہ ہے یعنی اپنے علم کو اللہ تعالیٰ کی تفویض میں دے دیں گے ، اور منتظر رہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی امتوں کے متعلق کیا فیصلہ صادر فرماتا ہے ۔ یہ انبیاء کا کمال ترحم ہے ، کہ اگر خدا ان کی گنہ گار امتوں کو بخش دے ، تو وہ خوش ہوں گے ، اور انہیں کوئی اعتراض نہ ہوگا یہی وجہ ہے ، وہ اپنے علم کو نامستند قرار دیتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ سے فیصلہ کے متعلق ہیں ۔ حل لغات : الغیوب : جمع غیب ، جمع سے مقصد تنوع فی العلوم والا حوال ہے یعنی تو ہر طرح کے احوال اور علوم سے آگاہ ہے ۔
Ayah 5:110

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ١ۘ اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١۫ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا١ۚ وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ١ۚ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 5:110 in the Quran reader

جب اللہ کہے گا اے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) میرا احسان یاد کر جو میں نے تجھ پر اور تیری ماں پر کیا تھا جب میں نے روح پاک سے تیری مدد کی تو لوگوں سے والدہ کی گود میں بھی (ف 1) ۔ بولتا تھا اور بڑا ہو کر بھی اور جب میں نے تجھے کتاب اور حکمت اور توریت وانجیل سکھلائی تھی ، اور جب تو مٹی سے (ف 2) ۔ پرندہ کی صورت میرے حکم سے بناتا تھا ، پھر تو اس میں پھونک مارتا تھا ، تو وہ پرندہ بن جاتا تھا میرے حکم سے ، اور تو مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے چنگا کردیتا تھا اور جب تو میرے حکم سے (قبروں سے) مردے نکال کھڑے کرتا تھا اور جب کہ میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روکا تھا جب تو انہیں نشانیاں لایا تھا تو جو ان میں کافر تھے کہنے لگے تھے کہ یہ تو صریح جادو ہے (ف 3) ۔

(ف 1) مھد وکھل : چونکہ متقابل ہیں اس لئے اطراف میں انتہا مقصود ہے ، یعنی عہد طفولیت میں اور عمر کے آخری حصے میں مسیح گفتگو فرمائیں گئے ، گفتگو سے مراد تبلیغ و اشاعت ہے ۔ (ف 2) میسح (علیہ السلام) کے معجزات ہیں کوڑھی اور اندھے کو اچھا کرنا مقصود ہے ، بلکہ ملا حدہ نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ مسیح (علیہ السلام) کوڑھی اور اندھوں کو آزاد بخشتے تھے ، یہ عربیت کے منافی ہے قرآن کے الفاظ سے اس مفہوم کی تائید نہیں ہوتی ” رجل باریٌ کے معنے تندرست آدمی کے ہوتے ہیں ، آزاد کے ۔ نعمت حیات : (ف 3) آیت کا مقصد یہ ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کو جب یہودیوں نے مار ڈالنا چاہا ، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں نعمت حیات سے بہرور کیا اور وہ اپنے ارادوں میں کامیاب ہو سکجے ۔ حل لغات : الاکمہ : مادر زاد اندھا : الابرص ۔ کوڑھی ، مبروس ۔
Ayah 5:111

وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ١ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 5:111 in the Quran reader

اور جب میں نے حواریوں کی طرف وحی بھیجی تھی کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تو انہوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے (ف 1) ۔ اور تو گواہ رہ کہ ہم مسلمان ہیں ۔

مسیح کے حواری : (ف 1) موجودہ اناجیل میں مسیح (علیہ السلام) کے حواریوں کا جو تذکرہ ہے ، وہ نہایت قابل اعتراض ہے ۔ اناجیل میں لکھا ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کے تمام حواری غیر مخلص تھے ، اب مسیح (علیہ السلام) کو گرفتار کرنے کے لئے جستجو ہوئی تو ایک حواری نے اپنی خدمات پیش کیں اور کہا جس سے میں زیادہ عقیدت کا اظہار کروں ، وہی مسیح ہے ، اس کو پکڑ لینا تعدیت اور انجیل روایات کے ماتحت مسیح (علیہ السلام) انہیں حواریوں کی وجہ سے گرفتار ہوئے اور صلیب پر لٹکائے گئے ۔ قرآن کہتا ہے مسیح (علیہ السلام) کے حواری پاکباز اور مخلص تھے ، جب حضرت مسیح (علیہ السلام) نے ایمان وتائید کے لئے انہیں مخاطب کیا فورا آمادہ ہوگئے ۔ جس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ قرآن حکیم موجودہ اناجیل کی نسبت مسیح کا زیادہ اخلاص و عظمت سے تذکرہ کرتا ہے ۔ عیسائیوں کو چاہئے کہ وہ قرآن مجید کے ممنون ہوں ۔
Ayahs 5:112–116

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:112 in the Quran reader

جب حواریوں نے کہا تھا ، کہ اے عیسیٰ (علیہ السلام) مریم کے بیٹے ، کیا تیرے رب میں ایسی قدرت ہے کہ آسمان سے ہم پر ایک خوان نازل کرے ! عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اللہ سے ڈور ۔ اگر تم مومن ہو ، (ف 2) ۔

قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:113 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دلوں کو اطمینان ہو اور ہم جانیں کہ تونے ہم سے (نبوت میں) ، سچ کہا ہے اور ہم اس پر گواہ رہیں ۔

قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ١ۚ وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 5:114 in the Quran reader

عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے کہا ، اے اللہ ہمارے رب ، آسمان سے ہم پر ایک خوان نازل کر کہ ہمارے لئے عید ہو ، ہمارے پہلے اور پچھلوں کے لئے اور تیری طرف سے ایک نشان ہو ، اور ہمیں رزق دے اور تو بہتر رزق دینے والا ہے ۔

قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 5:115 in the Quran reader

خدا نے کہا وہ خوان میں تم پر نازل کروں گا ، پھر جو کوئی اس کے بعد تم میں سے کافر ہوجائے گا اسے ایسا دکھ دوں گا کہ ویسا دکھ جہان میں کسی کو نہ دوں گا ۔

وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ١ؕ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:116 in the Quran reader

اور جب خدا نے کہے گا کہ اے عیسیٰ مریم کے بیٹے کیا تونے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ سے الگ دو خدا مانو ؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے مجھ سے کیونکر ہو کہ وہ بات کہوں جو میرا حق نہیں ۔ اگر میں نے کہا ہوگا تو تجھ کو معلوم ہوگا ، تو میرے دل کی بات جانتا ہے ، اور میں تیرے دل کی نہیں جانتا ، چھپی باتوں کا جاننے والا تو ہی ہے ۔

مائدہ : (ف 2) معجزہ طلبی کی عادت قدیم سے بنی اسرائیل میں موجود ہے یہی وجہ ہے انہوں نے اکثر انبیاء سے خوراق ومعجزات طلب کئے ، اللہ تعالیٰ کی عادت قدیم سے بنی اسرائیل میں موجود ہے یہی وجہ ہے انہوں نے اکثر انبیاء سے خوارق ومعجزات طلب کئے ، اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی چیز مشکل نہیں وہ سب کچھ کرسکتا ہے مگر یہ ذہنیت اسے پسند نہیں کہ بات بات پر معجزہ طلب کیا جائے ، اسی لئے جب ان لوگوں نے مائدہ کے نزول کی خواہش کی تو (آیت) ” اتقوا اللہ “ کی تلقین کی گئی یعنی راسخ العقیدہ انسانوں کے لئے زیبا نہیں کہ عجائب پسندی اور کرشمہ آرائی کو مذہب کا احصل قرار دے لیں ، نزول مائدہ کے لئے مسیح (علیہ السلام) نے دعا کی ، اور کہا اس کے بعد تمہیں مزید موقع نہیں دیا جائے گا کیونکہ حجت تمام ہوچکے گی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اطعمہ لذیذ کے خوان بھیج رہا ہوں اس کے بعد بھی انکار وکفر کا اظہار کیا ، تو عذاب شدید کی وعید سن رکھو ، معلوم ہوتا ہے ، اس کڑی شرط کو سن کر حواری راہ راست پر آگئے اور نزول مائدہ کی پھر خواہش نہیں کی ، حل لغات : مائدہ : خوان ، مید سے مشتق ہے ، یعنی حرکت میں رہنے والی چیز خوان مختلف مہانوں کے پیش کیا جاتا ہے ، اس لئے مائدہ کہا جاتا ہے ۔ عید : جشن ، یوم مسرت ۔