5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsسراج البیان

Ayah 5:41

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

اے رسول ! تو ان پر جو کفر کی طرف دوڑتے ہیں اور مونہوں سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں (یعنی منافق) اور ان کے دل اسلام کو قبول نہیں کرتے غم نہ کھا (ف 2) اور ان سے جو (مدینہ کے) یہودی ہیں جھوٹ بولنے کی جاسوسی کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کے لئے جو اب تک تیرے پاس نہیں آئے جاسوسی کرتے ہیں باتوں کو ان کے ٹھکانے سے بےٹھکانے کردیتی ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے تمہیں یہ حکم ملے تو قبول کرنا اور اگر یہ حکم نہ ملے تو ماننے سے بچنا اور خدا نے جس کی گمراہی کا ارادہ کیا تو تو اس کے لئے اللہ کے ہاں کچھ نہیں کرسکتا ، یہ وہ ہیں کہ اللہ ان کے دل پاک کرنا نہیں چاہتا ، ان کے لئے دنیا میں ذلت اور آخرت میں بڑا عذاب ہے ،

انبیاء (علیہم السلام) کی بےچینی : (ف 2) مقصد یہ ہے کہ رسول چونکہ پیکر ہوتا ہے خلوص اور شفقت کا اور حضور ﷺ ختم الرسل ہیں یعنی خلوص اور شفقت کی انتہائی اور آخری صورت اس لئے ضرور ہے کہ آپ ﷺ کو کفر ونفاق سب سے زیادہ تکلیف دہ محسوس ہو ۔ (آیت) ” لایحزنک “ میں تلقین یہ ہے کہ آپ ﷺ جس درد سے بےچین ہیں ‘ اس میں تخفیف پیدا کیجئے کیونکہ جب یہی لوگ کفر ونفاق کی وجہ سے دکھ محسوس نہیں کرتے تو آپ کیوں حزن وملال سے کام لیں ۔ باوجود حضور ﷺ کی شفقتوں کے یہ منافقین کا گروہ ہمیشہ اسلام کی برکات سے محروم رہا اور ان کے دل آیات وبراہین دیکھنے کے باوجود خبث وکفر کے حامل رہے ، اس لئے خدا نے فرمایا کہ جب یہی اصلاح و ایمان کے ذوق سے آشنا نہیں ہونا چاہتے تو آپ ﷺ کیوں ان کے لئے بےقرار ہیں ۔ بات یہ ہے کہ نبی اپنے عہدے ومنصب کے لحاظ سے مجبور ہے کہ قوم کے لئے بےپناہ درد اپنے سینے مین پنہاں رکھے وہ دن اور رات ہمہ وقت ملت کی اصلاح کے لئے بےچین رہتا ہے اور باوجود سخت تکالیف کے بجز ” اللھم اھد قومی فانھم لا یعلمون “ اور کچھ نہیں کہتا ۔ اس کے بعد یہودیوں کے جرائم گنائے ہیں کہ دیکھو ، یہ کم بخت کتنے جھوٹے ہیں اور کس طرح جاسوسی جیسے فعل شنیع کا ارتکاب کرتے ہیں اور کیونکر احکام الہی کو اپنی حسب منشا بدل لیتے ہیں ان سے خدا نے ہدایت کی توفیق چھین لی ہے اور دنیا اور آخرت میں ان کے سوائے ذلت اور رسوائی کے اور کوئی چیز مقدر نہیں ۔ یہ لوگ جھوٹے اور حرام خور ہیں ، ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہے مقصد یہ ہے کہ ایسے لوگ اگر اسلام کی روشنی کو قبول نہ کریں تو مضائقہ نہیں یہ اس درجہ ہدایت ورشد سے دور ہوچکے ہیں کہ اب ان کا راہ راست پر آنا از قبیل محالات ہے ۔ حل لغات : یسارعون ، مصدر یسارعۃ ۔ جلد بازی کرنا لپک کر اور دوڑ کر کسی چیز میں حصہ لینا ۔ ھادوا ، یعنی یہودی ، یہودا کی طرف منسوب کرنا ۔ فاحذروہ : مادہ حذر ، بچو احتراز کرو ۔ فتنۃ : ۔ آزمائش ۔ ابتلاء ۔
Ayah 5:42

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

جھوٹ کہنے کو بڑے جاسوس ، بڑے حرام خور ہیں سو اگر تیرے پاس آئیں تو ان میں فیصلہ دے یا ان سے منہ پھیر لے ، اور اگر تو ان سے منہ پھیر لے گا تو وہ ہرگز تیرا کچھ نقصان نہیں کرسکتے اور جو تو فیصلہ کرے تو فیصلہ کر انصاف سے بیشک اللہ منصفوں کو دوست رکھتا ہے (ف 1) ۔

قضیہ تحکیم : (ف 1) یہودی پستی اور ذلت کی اس حد تک پہنچ چکے تھے جہاں احکام الہی کا وقار باقی نہیں رہتا اور طبیعتیں مداہنت وتحریف کی طرف مائل ہوجاتی ہیں اور جہاں مذہب کا مقصود محض ریاکاری اور فریب رہ جاتا ہے ، اس لئے جب ان میں کا کوئی معزز آدمی گناہ کا ارتکاب کرتا تو یہودی علماء تورات میں تحریف معنوی سے کام لیتے اور کہتے ، اس جرم کی سزا زیادہ سنگین نہیں اور جب کوئی غریب اور بےکس انسان بتقاضائے بشریت بھول چوک سے دو چار ہوجاتا تو ان کا جذبہ علم وقضا پورے جوش میں آجاتا ، اور اسے سنگین سے سنگین سزا دیتے ، قصہ یہ ہوا کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر میں کسی بات پر جھگڑا ہوگیا اور جھگڑے نے طول کھینچا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک قریظی مارا گیا ، بنو قریظہ کا مطالبہ یہ تھا کہ اس کے معاوضے میں یا تو قتل کی اجازت دی جائے اور یا ودیت دلائی جائے ، بنو نضیر چونکہ ان سے نسبتا زیادہ معزز تھے اس لئے رعایت کے طالب ہوئے ، علماء یہود نے بنی نضیر کا ساتھ دیا اور کہ ہمارا فیصلہ بالکل درست ہے شک ہو تو محمد ﷺ کو حکم بنالو ۔ اس آیت میں حضور ﷺ سے تخاطب ہے کہ اگر آپ کے پاس یہ لوگ فیصلہ لائیں تو انہیں ہرگز کسی جانب داری کی توقع نہ رکھنی چاہئے آپ صاف صاف بےلاگ فیصلہ کردیں ، مقصود یہ ہے کہ خدا کا نبی تمہاری مداہنتوں اور منافقتوں کا ساتھ نہیں دے گا ۔
Ayah 5:43

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 5:43 in the Quran reader

اور وہ تجھے کیوں منصف مقرر کریں گے جب کہ ان کے پاس تورات ہے اس میں خدا کا حکم لکھا ہوا ہے پھر بعد اس کے وہ اس سے بھر جاتے ہیں اور وہ مومن نہیں ہیں (ف 2) ۔

(ف 2) (آیت) ” وکیف یحکمونک “۔ میں اظہار تعجب ہے یعنی جب تورات میں قتل کی سزا واضح طور پر مرقوم ہے تو پھر یہ کیا سمجھ کر آپ کو حکم بنا رہے ہیں مقصد یہ ہے کہ رعایت کے طالب ہیں ، ورنہ صحیح فیصلہ پر انہیں اطمینان خاطر نہیں ۔ حل لغات : بالقسط : یعنی بلارعایت وجانب داری کے شریعت وآئین کے بالکل مطابق ۔ یحکمون : مصدر تحکیم ۔ حکم بنانا ، منصف بنانا ، ربانیون : اللہ والے ۔
Ayah 5:44

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 5:44 in the Quran reader

ہم نے تورات نازل کی ، اس میں ہدایت اور نور سے یہودیوں کو اسی تورات کے موافق نبی (علیہ السلام) جو فرمانبردار تھے حکم دیا کرتے تھے اور اسی کے موافق درویش اور عالم حکم دیتے تھے کیونکہ وہ سب لوگ خدا کی کتاب کے نگہبان تھے اور اس پر گواہ ٹھہرائے گئے تھے پس (اے یہودیو) آدمیوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور تھوڑی قیمت (یعنی دنیا) میری آیتوں کے بدلے نہ لو اور جو کوئی خدا کے نازل کئے ہوئے کے موافق حکم نہ کرے ، وہی کافر ہیں (ف 1)

(ف 1) یعنی تورات میں ہدایت ونور کا کافی سامان ہے ، تمام گزشتہ انبیاء کا دستور العمل تورات ہی رہی ہے ، احبار وعلماء بھی مکلف تھے کہ تورات کو یاد رکھیں اور بلالومۃ لائم اس کے موافق فیصلہ کریں اور دنیوی اغراض کے لئے خدا کے احکام کو بیچ نہ دیں ۔ آیت کا یہ مقصد نہیں کہ تورات مسلمانوں کے لئے حجت ہے یا اب بھی یہودی تو رات ہی کو ماننے کے مکلف ہیں ، کیونکہ آفتاب ہدایت کے بعد ستاروں کی روشنی ماند پڑجاتی ہے اور دن نکل آنے کے بعد کوئی گھروں میں چراغ نہیں جلاتا ، غرض صرف یہ ہے کہ مسلمات میں تحریف بدترین بدیانتی ہے جس کا یہودی ارتکاب کرتے ہیں ۔ (آیت) ” بما انزل اللہ “ سے مراد صرف قرآن نہیں بلکہ اسوہ رسول ﷺ بھی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت قرآن حکیم کی رو سے لازم وواجب ہے (آیت) ” ما اتکم ال رسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتھوا “۔
Ayah 5:45

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 5:45 in the Quran reader

اور ہم نے تورات میں ان کے لئے یوں لکھا ہے کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں کا بدلہ برابر ہے پھر جس نے اس بدلے کو معاف کردیا تو وہ اس مجروح (یعنی زخمی کے لئے) کفارہ ہوگیا اور جو کوئی خدا کے نازل کئے ہوئے کے موافق حکم نہ دے وہی ظالم ہیں (ف 2)

(ف 2) اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ یہود میں قتل کا قصاص واجب ہے اور اس میں بڑے چھوٹے کی کوئی تخصیص نہیں اور یہودی اس لحاظ سے سخت مجرم ہیں کہ وہ حدود تعزیرات میں تحریف سے کام لیتے ہیں ۔ حل لغات : الانف : ناک ۔ الاذن : کان ۔ السن : دانت ۔ الجروح : جمع جرح ۔ بمعنی زخم ۔
Ayah 5:46

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 5:46 in the Quran reader

اور ان نبیوں کے پیچھے انہیں کے نقش قدم پر ہم نے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو تورات کا سچا بتانے والا بنا کر بھیجا اور ہم نے اسے انجیل دی اس میں ہدایت اور نور ہے اور وہ تورات کی جو اس سے پہلے نازل ہوئی تھی ، سچا کرنے والی ہے اور ہدایت ہے اور نصیحت ہے پرہیزگاروں کے لئے (ف 1) ۔

(ف 1) مسیح (علیہ السلام) کی تعلیمات تورات سے قدرے مختلف ہیں اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) کے غرض ومقصد میں اختلاف وتضاد ہے بلکہ یہ ہے کہ حالات وواقعات کے ماتحت تعلیمات کا بظاہر فروع میں مختلف ہونا لابدی اور ضروری ہے مگر اصول و اساس میں پوری وحدت ویکسانی ہوتی ہے جس طرح یہ ضروری ہے کہ قدرت کے دوسرے مظاہر مادیہ میں وحدت یکجہتی ہو اسی طرح شرائع اور ادعیان بھی باوجود تنوع کے ایک محسوس وحدت اپنے اندر پنہاں رکھتے ہیں سب کی غرض وغایت یہ ہوتی ہے کہ انسان کو روح وجسم سمیت ارتقاء کی سب سے اونچی سیڑھی پر چڑھایا جائے اور اس میں حالات وظروف کے ماتھت اس نوع کی استعداد پیدا کی جائے کہ وہ دنیا و عقبی کی سعادتوں کا حامل ثابت ہو یہی وجہ ہے کہ ہر لاحق سابق کی تائید کرتا ہے اور ہر پچھلا پہلے کا مصدق قرار پاتا ہے ۔ (اس آیت میں اسی حقیقت ثابتیہ کی طرف اشارہ ہے کہ تورات وانجیل دونوں کتابیں اللہ کی ہیں اور دونوں پر ایمان لانا اور دونوں کو خدا کی طرف سے ماننا ضروری ہے ۔
Ayah 5:47

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:47 in the Quran reader

اور چاہئے کہ انجیل والے اس کے موافق جو اللہ نے انجیل میں نازل کیا ہے حکم کریں اور جو کوئی خدا کے نازل کئے ہوئے کے موافق حکم نہ دے تو وہی فاسق ہیں (ف 2)

انجیلی فیصلے : (ف 2) ولیحکم سے قبل قلنا محذوف ہے یعنی ہم نے انجیل دینے کے بعد اہل انجیل سے کہا کہ تم ہمیشہ انجیلی فیصلوں کے ماتحت اپنی زندگی گزارو اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ” والیحکم کتبنا “ اور قفینا “ کے سیاق میں درج ہے اور قرآن حکیم میں ایسے مواقع پر الفاظ زائدہ کو محذوف رکھا جاتا ہے ، جیسے اہل جنت کے ذکر میں فرمایا (آیت) ” ولملٓئکۃ یدخلون علیھم من کل باب سلام علیکم “ یعنی جب فرشتے جنت والوں کے پاس آئیں گے تو کہیں گے تم پر سل امتی ہو یہاں ” یقولون “ کا لفظ محذوف ہے ۔ (آیت) ” ومن یحکم بما انزل اللہ “ سے مراد یہ ہے کہ انجیل والے مکلف ہیں کہ اپنی آراء کو شریعت کے باب میں مطلقا ترک کردیں اور صرف خدا کے نازل کردہ احکام کی پیروی کریں ورنہ فسق وکفر کا خلعت انہیں پہنایا جائے گا ۔ حل لغات : قفینا : مصدر تقفی اصل قفا ۔ یعنی پیچھے لگایا ۔
Ayahs 5:48–49

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ Open ayah 5:48 in the Quran reader

اور تیری طرف (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے سچائی سے کتاب نازل کی ہے جو اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی اور ان کی محافظ ہے پس تو یہودیوں کے درمیان کے نازل کئے ہوئے کے موافق حکم کر اور جو حق بات تیرے پاس آچکی ہے اسے چھوڑ کر ان کی خواہشوں کا مطیع نہ ہو ، اور لوگو ! تم میں سے ہر کسی کو ہم نے ایک شریعت اور ایک راہ دی ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی دین پر کردیتا لیکن وہ تمہیں اپنے دیئے ہوئے میں آزماتا ہے ، سو تم خوبیون میں سبقت لے جاؤ ، اللہ ہی کی طرف سب کو جانا ہے سو وہ تمہاری اختلافی باتوں میں تمہیں آگاہی بخشے گا (ف 1)

وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:49 in the Quran reader

اور تو ان کے درمیان خدا کے نازل کئے ہوئے کے موافق حکم کر اور ان کی خواہشوں پر نہ چل اور ان سے بچتا رہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی بات پر جو خدا نے تجھ پر نازل کی ہے ‘ تجھے بہکا دیں ، پھر اگر وہ نہ مانیں تو سمجھ لے کہ اللہ ان کے بعض گناہوں کے سبب کوئی مصیبت ان پر لانا چاہتا ہے اور البتہ لوگوں میں اکثر فاسق ہیں ۔

مصدق ومہیمن کتاب : (ف 1) قرآن حکیم کے متعلق یہاں ارشاد ہے کہ وہ حق وصداقت ہے یعنی حالات و ضروریات کے بالکل موافق اور مطابق ہے اور مصدق ہے یعنی تمام پیشگوئیاں جو پہلی کتابوں میں مرقوم تھیں ، قرآن پاک کے نزول سے ثابت ومتحقق ہوگئی ہیں یعنی تصدیق کے معنی یہاں سچا ثابت کرنے کے ہیں جیسے شاعر کہتا ہے ۔ ع فوارس صدقت فیھم ظنونی : اور مھیمن بھی ہے یعنی پہلی کتابوں کی صداقت پر شاہد اکبر جیسے حضرت حسان ؓ فرماتے ہیں ۔ ان ال کتاب مھیمن بیننا والحق العرفہ ذوالالباب : (ترجمہ) تورات وانجیل حضور ﷺ کی صداقت پر گواہ ہیں اور سچائی کو سب عقلمند جانتے پہچانتے ہیں ۔ مقصد یہ کہ قرآن حکیم کی حیثیت گواہ اور شاہد کی ہے یہ نہ ہو تو پہلی کتابیں یکسر مشکوک ٹھہریں (آیت) ” فاحکم بینھم بما انزل اللہ “۔ سے مراد یہ ہے کہ اب قرآن حکیم کے نزول کے بعد قرآن ہی حکم رہے گا ، آپ مجاز نہیں کہ کسی دوسری چیز کو کوئی وقعت دیں ۔ (آیت) ” لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھا جا “۔ سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کو حالات وظروف کے ماتحت ایک طریق نجات بتایا ہے ، اس لئے یہ اختلاف ادیان بہرحال باقی رہے ، آپ گھبرائیں نہیں خدا کی مشیت کا تقاضا اگر یہ ہوتا کہ سب آپ کی دعوت کو قبول کرلیں تو سرے سے اختلاف ہی پیدا نہ ہوتا اور تمام قومیں ایک قوم کی شکل میں نظر آتیں ، اور جب ایسا نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ مقصد اپنے اپنے زمانے میں خیرات وحسنات کی طرف سبقت لے جانا ہے ۔ اس لئے آپ بدستور (آیت) ” ما انزل اللہ “ کی تبلیغ میں مصروف رہیں اور یہود ونصاری کے جذبات وامیال سے کامل احتراز اختیار کریں ۔ حل لغات : مھیمن : شاہد ۔ اھوآء ھم : خواہشات نفس ۔
Ayah 5:50

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 5:50 in the Quran reader

کیا وہ زمانہ جاہلیت کے حکم چاہتے ہیں ؟ اور یقین رکھنے والوں کے لئے خدا سے بہتر کون حاکم ہے (ف 1)

(ف 1) جاہلیت کا زمانہ وہ ہے جب آفتاب اسلام طلوع نہیں ہوا تھا اور وہ لوگ پوری تاریکی میں تھے ، اس وقت قاعدہ یہ تھا کہ امراء ومعززین کی رعایت کی جائے اور غربا وبے کس لوگوں کو سزائیں دی جائیں ۔ قرآن حکیم کہتا ہے کیا اہل کتاب بھی اس قسم کے فیصلوں کو چاہتے ہیں جس میں عدل و انصاف کیا گیا ہو ؟ یعنی بنو قریظہ اور بنو نضیر کے معاملہ میں ناانصافی نہیں کی جاسکتی ، دونوں یہودی ہیں اور دونوں یکساں عزت و حرمت کے مالک ہیں ہیں ۔
Ayah 5:51

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:51 in the Quran reader

مومنو ! تم یہودونصاری کو دوست نہ بناؤ ۔ وہ سب آپس میں ایک دوسرے (ف 2) کے دوست ہیں اور تم میں سے کوئی ان کو دوست پکڑے گا تو بیشک وہ ان ہی میں سے ہوگا ۔ بیشک اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں کرتا ۔

(ف 2) اولیآء سے مراد وہ دوست ہیں جو تمہیں بددیانتی اور بداخلاقی پر مجبور کردیں ورنہ عام معاشی اور شہری تعلقات میں کوئی مضائقہ نہیں ، ۔ حل لغات : فاسقون : جمع فاسق ۔ احکام خدواندی کی مخالفت کرنے والے ۔
Ayah 5:52

فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَةٌ١ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ Open ayah 5:52 in the Quran reader

اب تو انہیں جن کے دلوں میں مرض (نفاق) ہے دیکھے گا کہ یہود میں دوڑ کر ملے جاتے ہیں اور ان سے کہتے پھرتے ہیں کہ ہمیں خوف ہے کہ ہم پر کوئی گردش نہ آجائے سو قریب ہے کہ اللہ جلد فتح (مکہ) بھیجے یا اپنی طرف سے کوئی حکم بھیجے ، پس منافقین اپنے دلوں کی ان باتوں کو جو انہوں نے چھپا رکھی ہیں شرمندہ ہوں (ف 1)

(ف 1) اگر وہ مناقین در پردہ یہود ونصاری سے ملا رہتا اور وجہ جواز یہ پیش کرتا کہ یہ لوگ مال دار ہیں وقت پڑنے پر کام آئیں گے ۔ اس آیت میں اس وہم کا جواب ہے فرمایا کہ کم بختو ! تمہیں کیا معلوم کہ مسلمانوں کی قسمت چمکنے والی ہے اور وہ زمانہ قریب ہے جب فتوحات کا دائرہ وسیع ہوجائے گا اور غریب ومفلس مسلمان لوگوں کی قسمت کے مالک ٹھہریں گے ، اس وقت ندامت و حسرت سے دو چار ہونا پڑے گا ، اس لئے مداہنت سے باز آجاؤ اور عارضی اعانت کے بھروسے پر ایمان جیسی متاع گراں قدر ہاتھ سے نہ دو ۔
Ayah 5:53

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ١ؕ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:53 in the Quran reader

اور مسلمان آپس میں کہیں گے کہ یہ وہی ہیں کہ خدا کی سخت قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ان کے اعمال برباد گئے اور وہ زیاں کاروں میں (ف 2) ہوگئے ۔

(ف 2) پہلی آیت سے متعلق ہے ، یعنی جب مسلمانوں کا افلاس عزت وشرف سے بدل جائے گا تو اس وقت وہ منافقین کو مخاطب کرکے از راہ تعجب وتحقیر کہیں گے کیا یہی وہ لوگ ہیں جو ایمان کا منافقانہ اظہار کرتے تھے اور آج یہ کیفیت ہے کہ تمام اعمال ضائع اور تمام کوششیں رائیگاں ہیں ۔ حل لغات : دآئرۃ : پھیر ۔ گردش گردوں ۔ اسروا : مصدر اسرار چھپانا ، ظاہر کرنا ذوات الاضداد سے ہے ، یہاں مراد چھپانا ہے ۔ جھدایمانھم : مضبوط حلف ۔
Ayahs 5:54–55

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ١ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ١٘ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 5:54 in the Quran reader

مومنو ! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھرجائے گا تو خدا ایسے لوگ لائے گا جنہیں وہ چاہے گا اور وہ اس کو چاہیں گے ، وہ مسلمان پر نرم دل اور کافروں پر سخت ہوں گے ، خدا کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی الزام دینے والے کے الزام سے نہ ڈریں گے ، یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ کشائش والاجاننے والا ہے (ف 1)

اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ Open ayah 5:55 in the Quran reader

تمہارا دوست صرف وہی اللہ ہے اور اس کا رسول ﷺ اور وہ ایمان دار جو نماز پڑھتے اور زکوۃ دیتے اور جھکتے ہیں ۔

اسلام ہرگز خطرہ میں نہیں : (ف 1) ایک طرف یہودیوں کی یہ سازش تھی کہ سادہ لوح مسلمانوں کو ارتداد پر آمادہ کیا جائے ، دوسری طرف جھوٹے مدعیان نبوت کوشاں تھے کہ کسی طرح نادان اور بیوقوف لوگوں کے متاع ایمان پر ڈاکہ ڈالا جائے ، نتیجہ یہ تھا کہ چند بیوقوف جن کے دل ذوق ایمان سے صحیح طور پر آشنا نہ تھے ، ارتداد اختیار کرنے لگے ۔ اس آیت میں بتایا کہ یاد رکھو ، تمہاری ان حرکتوں سے اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا ، تم اگر ارتداد اختیار کرلو لے تو خدا اپنے دین کی حمایت کے لئے اور پرجوش اور مخلص مسلمان پیدا کر دے گا جنہیں اللہ اور اس کے دین سے عشق ہوگا اور جو مسلمانوں کے لئے نہایت شفیق ورحیم ہوں گے ، مگر کفر کے لئے صاعقہ جانسوز وہ مجاہد ہوں گے اور خدا کی راہ میں کسی ملامت ولوم کی پرواہ نہیں کریں گے ۔ یعنی اسلام اللہ کا دین ہے ، اسے کسی نقصان اور سازش کا ڈر نہیں وہ بڑھے گا کفر کی ساری کوششیں طاغوت کا سارا زور اسے ترقی سے نہیں روک سکتا ، وہ صرف اس لئے آیا ہے تاکہ سب پر غالب رہے اور تمام لوگ اسے اختیار کرلیں ۔ حل لغات : اذلۃ : جمع ذلیل ۔ اعزۃ : جمع عزیز ۔
Ayahs 5:56–57

وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠ Open ayah 5:56 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور مومنین سے دوستی رکھتا ہے تو جو اللہ کے گروہ کے لوگ ہیں وہی غالب رہیں گے (ف 1)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:57 in the Quran reader

مومنو ! اہل کتاب میں سے جو لوگ تمہارے دین کا ٹھٹھا اور کھیل بناتے ہیں انکو اور کافروں کو اپنا رفیق نہ بناؤ اور خدا سے ڈرو ، اگر تم مومن ہو ۔

(ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ مسلمانوں کو اللہ اور رسول ﷺ اور تمام مخلص مسلمانوں کی تائید حاصل ہے ، اس لئے یہ گروہ خدا کا گروہ ہے جس کی قسمت میں ابدا نصرت و غلبہ مقدر ہے ۔
Ayah 5:58

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:58 in the Quran reader

اور جب تم بانگ دے کر نماز کے لئے پکارتے ہو تو وہ اس کو ٹھٹھا اور کھیل ٹھہراتے ہیں ، یہ اس لئے کہ وہ بےعقل لوگ ہیں (ف 2)

(ف 2) مکہ میں جہاں ماننے والے مخلص ایمان دار موجود تھے ، وہاں وہ بھی تھے جو شعائر دین کا مضحکہ اڑاتے ، جب اذان ہوتی اور بندگان خدا کو پیش گاہ عزت و جلال میں دعوت عبادت ونیاز مندی دی جاتی تو ہنستے اور کہتے ، دیکھنے مسلمانوں کی عبادت کتنی خندہ آفرین ہے یعنی رکوع و سجود اور تسبیح وتہلیل کا یہ شان دار مظاہرہ جسے قرآن کی اصطلاح میں صلوۃ سے تعبیر کیا جاتا ہے ان کے لئے ناقابل فہم عمل تھا ۔ قرآن حکیم فرماتا ہے جو لوگ اس نوع کے بد ذوق ہیں اور ایمان واتقاء کی نعمتوں سے انکے دامن یکسر خالی ہیں ‘ ہرگز اس قابل نہیں کہ مسلمانوں کے لئے کوئی جاذبیت اپنے اندر پیدا کرسکیں اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ ان کی صحبت و دوستی سے پرہیز کریں تاکہ نفاق ومداہنت کی باتین سن سن کر ان کی حس مذہبی مردہ نہ ہوجائے ،
Ayah 5:59

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:59 in the Quran reader

تو کہہ اے اہل کتاب (یعنی یہود) کیا تم کو ہم سے بیر ہے (ف 3) کہ ہم خدا پر ایمان لائے ہیں ؟ اور (حالانکہ) جو کچھ ہم پر اور ہم سے پہلے نازل ہوا ہے اس کو مانتے ہیں اور یہ کہ تم میں اکثر فاسق ہیں ۔

دشمن کیوں ہو ؟ : (ف 3) اس آیت میں اہل کتاب سے انکار و استہزاء کا سبب دریافت کیا ہے یعنی ان سے پوچھا ہے کہ ہم آخر مورد عتاب کیوں ہیں ؟ کیا اس لئے کہ ہمارے دلوں میں ایمان باللہ کی آگ روشن ہے اور ہم تمام انبیاء (علیہم السلام) کا یکساں احترام کرتے ہیں ، نیز ہمارے نزدیک ہر سچائی قابل اعتراف واحترام ہے اس لئے کہ ہم کسی خدا پرست پیغمبر کا انکار نہیں کرتے اور سب کو فیوض وبرکات الہیہ کا حامل ومتکف سمجھتے ہیں کیا توحید جرم ہے اس طلعت حق کا جمال ہر جبین رسالت میں جلوہ آراہ نہیں اور کیا یہ جھوٹ ہے کہ سب رسول اسی کے بحارقدرت وعلم کے شن اور ہیں ؟ وجہ کیا ہے کہ ہم پر اتہام وایزا کے تمام تیر برسائے جاتے ہیں یعنی جب تمہاری حالت خود یہ ہے کہ فسق وفجور کا منبع ومخزن ہو تو پھر حق پرستوں سے یہ دشمنی کیوں ؟ حل لغات : ھزوا : ٹھٹھا ۔ مذاق ۔ نادیتم مصدر مناداۃ ۔ بلانا پکارنا ۔ یعنی اذان دینا ۔ تنقمون : مادہ تقمۃ ، عذاب تکلیف ، کینہ ۔
Ayah 5:60

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ Open ayah 5:60 in the Quran reader

تو کہہ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ جزا میں اللہ کے نزدیک اس سے بدتر کون ہے ؟ وہ جس پر خدا نے لعنت کی اور اس پر غصہ ہوا اور جن میں سے بعض کو بندر اور سؤر بنا دیا اور وہ شیطان کو پوجنے لگے وہی درجہ میں بدتر اور راہ راست سے بہت دور بہکے ہوئے ہیں ۔ (ف 1)

(ف 1) (آیت) ” بشر من ذلک “ سے مراد یہ ہے کہ اگر تم عقائد صحیحہ کو درست اور ٹھیک خیال نہیں کرتے اور توحید تمہارے نزدیک برائی کا نام ہے تو بتاؤ اللہ کی لعنتیں اور غضب وغضہ کو کیا کہو گے ؟ کیا تم ہی وہ نہیں ہو جنہیں نافرمانی وعصیان کے معاوضے میں بندر اور سور بنا دیا گیا اور طاغوت پرستی تمہاری گھٹی میں ڈال دی گئی ؟ پھر کیا تم ہی بدترین اور گمراہ تر نہیں ہو ؟ مقصد یہ ہے ” بشر “ کا لفظ بطور مفروضے کے ہے حقیقت کے نہیں ۔ (آیت) ” وعبدالطاغوت “۔ میں لوگوں نے مختلف قرات کا ذکر کیا ہے جو تمام تر شاذ ہیں اور ساقط الاعتبار یہ خالص عربی انداز بیان ہے جس میں کوئی الجھن نہیں اس لئے یہی موزوں ہے کہ قرات متواترہ کو ترجیح دی جائے اور عبد کو بصورت فعل پڑھا جائے ،
Ayah 5:61

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

اور جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ، حالانکہ وہ دل میں کفر ہی لے کر آتے اور کفر ہی لے نکل جاتے ہیں اور خدا خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں ۔ (ف 2)

(ف 2) یہودویں میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو حضور ﷺ کے پاس بغرض استفادہ آتے اور بظاہر ارشادات گرامی سن کر تاثر و ایمان کا اظہار بھی کرتے مگر دلوں میں بدستور کفر وخبث کا انبار پنہاں رکھتے ، اس آیت میں انہیں بدبختوں کا ذکر ہے کہ یہ لوگ معارف وحکم کا دریا بہتا ہوا دیکھتے ہیں ، مگر ان کے لب ہنوز تشنہ ہیں آپ ﷺ کے منہ سے سچائی اور صداقت کے پھول گرتے ہوئے دیکھتے ہیں مگر قلوب میں کوئی تاثر پیدا نہیں ہوتا ۔ بات یہ ہے کہ نفاق کا حجاب کثیف ایمان کی روشنی میں حائل ہے ورنہ آفتاب نکلے اور تمازت محسوس نہ ہو کیسے ممکن ہے ؟ حل لغات : مثوبۃ : جزائے خیر ، اجر ۔ القردۃ : جمعر قرد ۔ بندر ۔ خنازیر : جمع خنزیر ۔ سور ۔
Ayah 5:62

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:62 in the Quran reader

اور تو ان میں سے بہتوں کو دیکھے گا کہ گناہ اور زیادتی اور حرام خوری میں دوڑتے ہیں کیا برے کام ہیں جو وہ کرتے ہیں (ف 1)

(ف 1) اس آیت میں یہودیوں کی مذہبی بےحسی اور بدعملی کا ذکر ہے کہ یہ لوگ بےدریغ جھوٹ بولتے ہیں حرام کار ہیں اور حرام خوری ہیں قطعا تامل نہیں کرتے ۔
Ayah 5:63

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

ان کے درویش اور ملا انکو گناہ کی بات بولنے اور حرام کھانے سے کیوں منع نہیں کرتے ، کیا برے کام ہیں جو وہ کر رہے ہیں (ف 2)

(ف 2) اس آیت میں یہودیوں کے علماء کو ڈانٹ پلائی ہے کہ یہ کم بخت کیوں قوم کو جرائم پیشگی پر آمادہ کرتے ہیں ، ان کا منصب اصلاح و رہنمائی انہیں کیوں مجبور نہیں کرتا کہ وہ میدان عمل میں کو دیں اور قوم میں تقوی وتورع کی روح پھونک دیں ۔
Ayahs 5:64–65

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

یہود کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ بندھ گیا ہے انہیں کے ہاتھ باندھے جائیں اور ان کے اس کہنے کے سبب ان پر لعنت ہے بلکہ خدا کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں (ف 3) جس طرح وہ چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور البتہ وہ جو تیری طرف رب سے نازل ہوا ہے وہ ان میں سے اکثروں کی شرارت اور کفر زیادہ کرے گا اور ہم نے ان میں قیامت کے دن تک دشمنی اور بغض ہی ڈال رکھا ہے جب کبھی بھی وہ لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں خدا اسے بجھا دیتا ہے اور وہ زمین میں فساد کے لئے دوڑتے ہیں اور خدا مفسدوں کو دوست نہیں رکھتے ۔

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 5:65 in the Quran reader

اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور ڈرتے تو ہم ان سے انکی بدیاں دور کردیتے اور انہیں نعمت کے باغوں میں داخل کرتے ۔

خدا کے ہاتھ کشادہ ہیں : (ف 3) (آیت) ” یداللہ مغلولۃ “۔ کنایہ ہے بخل سے یعنی یہودی جاہ وتمول کے نشے میں مخمور ہو کر مسلمانوں سے کہتے تھے تمہارا خدا تمہارے حق میں کشادہ دست نہیں ۔ فرمایا ۔ اس مذاق کا جواب یہ ہے کہ تم پر خدا کا عذاب آئے گا اور سیم وزر کے یہ انبار چھین لئے جائیں گے جن پر تمہارا قبضہ ہے اور جن کی وجہ سے تمہاری آنکھیں بند ہوگئی ہیں ، ہماری جناب میں یہ گستاخی ناقابل عفو ہے یاد رکھو ‘ خدا کے ہاتھ کشادہ ہیں ‘ مگر وہ مجبور نہیں کہ تمہاری مرضی و ارادے کے موافق خرچ کرے ، وہ جب چاہے گا مسلمانوں کے لئے رزق کے دروازے کھول دے گا اور تم کو تمہاری سرسبز و شاداب وادیوں سے نکال دے گا ۔ اس کے بعد فرمایا کہ ان لوگوں میں قبولیت کی کوئی استعداد باقی نہیں رہی ، جب بھی خدا کے فیوض کا اظہار ہوگا ان کا تمردو انکار بڑھتا جائے گا کیونکہ ان کی طبیعتیں مسخ ہوچکی ہیں اور دل سیاہ اس کے بعد ان کے باہمی اختلاف کا تذکرہ ہے کہ یہ لوگ قیامت تک آپس میں دست و گریبان رہیں گے ۔ حل لغات : الاثم : مطلقا برائی ۔ بری بات ۔ ید اللہ : بطور مجاز کے ہے ۔
Ayah 5:66

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 5:66 in the Quran reader

اور اگر وہ توریت اور انجیل کو اور اس کو جو ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے قائم رکھتے تو اپنے اوپر اور اپنے پیروں کے نیچے سے کھاتے ان میں سے ایک جماعت سیدھی راہ چلنے والی ہے (ف 1) اور بہت سے ان میں سے برے کام کرتے ہیں ۔

(ف 1) اس آیت میں یہودیوں اور عیسائیوں کو اقامت دین کے لئے دعوت دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر تم صحیح معنوں میں اہل کتاب ہوجاؤ اور اپنے اعمال سے ثابت کر دو کہ تمہیں دینداری سے بہرہ وافر ملا ہے تو اللہ کی بخششوں کے دروازے کھل جائیں گے ، یعنی ایک طرف اخروی زندگی میں (آیت) ” جنت ونعیم “۔ کے مزے ہیں اور دوسری طرف دنیا میں رزق وعیش کی فراوانی ، مقصد یہ ہے کہ دیندار انسان کسی طرح بھی گھاٹے میں نہیں رہتا ، دنیا وعاقب دونوں جہان کی بشارتیں اس کے لئے مخصوص ہیں ۔ (آیت) ” وما انزل الیہم “ کی تعمیم میں قرآن اور اس کی تمام صداقتیں داخل ہیں ۔ کیونکہ اس وقت تک توریت وانجیل پر عمل نہیں ہو سکتا ، جب تک اس صداقت مشہود کا اقرار نہ کیا جائے جس کا نام قرآن ہے ۔ حل لغات : (آیت) ” الی یوم القیمۃ “۔ کنایہ ہے مدت دید سے ، مراد تابید نہیں ، کیونکہ ایک وقت آئے گا جب سب لوگ اسلامی ہدایات کو قبول کریں گے اور دنیا میں کوئی تفرقہ باقی نہیں رہے گا ۔ ارجلھم : جمع رجل ۔ پاؤں ۔ مقتصدۃ : اعتدال پسند یعنی مسلمان ۔
Ayah 5:67

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:67 in the Quran reader

اے رسول ﷺ جو تیرے رب سے تجھ پر نازل ہوا ، ان تک پہنچا دے ، اگر تو یہ نہ کرے تو تونے اس کا پیغام نہ پہنچایا اور خدا تجھے آدمیوں سے بچا لے گا بیشک خدا کافر قوم کو ہدایت نہیں (ف 1) کرتا ۔

منصب دعوت اور وعدہ عصمت : (ف 1) نبوت کے معنی یہ ہیں کہ ایک شخص انسانیت کے فراز اعلی پر جلوہ گر ہے اور اس کا دل مہیط انوار الہی ہے اسے حکم ہے کہ اس روشنی کو جو تمہارے قلب پر پر تو فگن ہے عام کر دے اور دیدہ بینا کو موقع دے کہ وہ اس نور خالص سے بقدر تاب وتواں استفادہ کریں ۔ اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے حضور ﷺ کو ہدایت کی گئی ہے کہ خدا کے احکام ومعارف بندوں تک بےکم وکاست پہنچا دیں ورنہ منصب دعوت و رسالت کے خلاف ہوگا ۔ آیت کا مقصد یہ نہیں کہ حضور ﷺ کسی بخل سے کام لیں گے اور فیوض وانوار سے محروم رکھیں گے کیونکہ آپ ﷺ کی نسبت بتصریح مذکور ہے ۔ (آیت) ” وما ھو علی الغیب بضنین “۔ یعنی آپ ﷺ خزینہ غیب تقسیم کرنے میں ممسک نہیں ہیں ۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کے متعلق اخفاء و اسرار کا عقیدہ رکھنا عہدہ رسالت سے ناواقفیت کی دلیل ہے یعنی آپ ﷺ ہمی فیض وافادہ ہیں یہ محض غلط ہے کہ آپ نے چند چیزیں عوام سے پوشیدہ رکھی ہیں اور وہ سینہ بسینہ منتقل ہوتی چلی آرہی ہیں اسلام میں کوئی راز داری نہیں وہ صاف واضح روشن طریق عمل کا نام ہے ۔ (آیت) ” واللہ یعصمک “ میں عصمت ومحفوظیت کا وعدہ ہے یعنی آپ ﷺ اور آپ ﷺ کی تعلیمات دشمنوں کی ہر سیہ کاری سے محفوظ ہیں ۔ قریش مکہ نے جب چاہا کہ حضور ﷺ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے معاذ اللہ ختم کردیا جائے تو آپ ﷺ وعدہ عصمت کی بنا پر ان کی آنکھوں میں دھول ڈالتے ہوئے صاف نکل گئے ۔ آپ ﷺ کی تعلیمات بھی باوجود ہر سعی الحاد کے ویسی کی ویسی تابندہ و روشن ہیں ۔
Ayah 5:68

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

تو کہہ اے اہل کتاب ! تم کچھ (بھی) راہ پر نہیں ہو جب تک کہ تم توریت ، اور انجیل پر اور جو تمہارے رب سے تمہاری طرف نازل ہوا ، اس پر قائم نہ ہوجاؤ ، اور اے محمد ﷺ جو کچھ تیرے رب سے تیری طرف اترا ہے ‘ یہ تو ان میں سے بہتوں کے درمیان شرارت اور کفر ہی بڑھائے گا ۔ سو تو کافر قوم پر افسوس نہ کر (ف 2)

(ف 2) آیت کا مقصد یہ ہے کہ زبانی دعوے دینداری کوئی چیز نہیں ، جب تک تمام منزل من اللہ کتب پر یکساں ایمان نہ ہو ۔ حل لغات : حتی تقیموالتورۃ : اقامت توریت کے معنی اس پر پوری پوری طرح عمل کرنا ہے ۔
Ayah 5:69

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

مسلمانوں اور یہودیوں اور صائبین اور نصاری میں سے جو کوئی اللہ اور آخری دن پر ایمان لائے اور نیک کام کرے تو انہیں نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے (ف 1)

من امن باللہ : (ف 1) آیت کے عموم سے بعض روشن خیال لوگوں نے دھوکا کھایا ہے اور یہ سمجھا ہے کہ اسلام صرف ایمان وعمل صالح کا نام ہے حضور ﷺ کا ماننا ضروری نہیں مگر یہ عقیدہ بوجوہ غلط اور گمراہ کن ہے ۔ 1۔ اس لئے کہ قرآن حکیم نے ایک مستقل نظام حیات پیش کیا ہے جس میں عقائد سے لے کر اعمال کی جزئیات پر تک تلقین کی ہے اور جو تمام انسانی ضروریات پر حاوی ومشتمل ہے صرف عقائد و توحید کا نام اسلام نہیں کہ مذکورہ بالا عقیدہ کو درست تسلیم کرلیا جائے ۔ 2۔ قرآن حکیم ایک مرتب اور مربوط کلام ہے اس میں سیاق کا خیال نہ رکھنا انتہا درجہ کی گمراہی ہے ، بیشتر کی آیات میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ قرآن حکیم کو نہ ماننے والے کافر ہیں ، آپ ﷺ افسوس نہ کریں (آیت ) ” فلا تاس علی القوم الکفرین “۔ 3۔ ایمان باللہ کے معنی قرآن حکیم کی اصطلاح میں اسلام کو اس کی کامل شکل میں ماننے کے ہیں نہ کہ سرسری عقیدہ توحید کے کیونکہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے کمال و تفصیل کے ساتھ ایمان کی تشریح فرمائی ہے ، دیکھئے وہ مقامات جہاں ایمان باللہ کا ذکر ہے ، آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ خدائے تعالیٰ مومن باللہ سے وہی توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں جو ایک مصلح مسلمان سے کی جاسکتی ہیں ۔ 4۔ اطاعت رسول ﷺ کی اس قدر تاکید ہے اور اس کے انکار پر صاف صاف وعیدیں ہیں کہ تاویل کی کوئی گنجائش نہیں ۔
Ayahs 5:70–71

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کی طرف رسول بھیجے ، جب کوئی رسول ان کے پاس ایسی بات لایا جو انہیں ناپسند تھی ، انہوں نے کتنوں کو جھٹلایا اور کتنوں کو قتل کیا ۔ (ف 2)

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:71 in the Quran reader

اور خیال کیا کہ کچھ خرابی نہ ہوگی ، سو اندھے اور بہرے ہوگئے پھر خدا ان پر متوجہ ہوا اور معاف کردیا (تو) پھر ان میں بہت لوگ اندھے اور بہرے ہوگئے اور اللہ ان کے کام دیکھتا ہے ۔

(ف 2) مقصد یہ ہے کہ بنی اسرائیل سے اطاعت انبیاء کا عہد لیا گیا مگر وہ ہمیشہ منکر رہے اور صرف انکار ہی نہیں کیا بلکہ بعض اللہ کے پرستاروں کو شہید بھی کر ڈالا اور یہ قطعا نہ سوچا کہ اس ظلم عظیم کی ہمیں کوئی سزا بھی ملے گی ، نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کی غیرت جوش میں آئی اور بخت نصر کے ہاتھوں انہیں ہولناک عذاب میں مبتلا کیا گیا جس سے سارے اسرائیلی لرز اٹھے ۔ حل لغات : فریقا : گروہ ۔ جماعت ۔ فعموا : اندھے ہوگئے ، مصدر عمی ۔ صموا : بہرے ہوگئے ، مصدر صمم :
Ayah 5:72

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 5:72 in the Quran reader

بیشک وہ کافر ہوگئے جو کہتے ہیں کہ اللہ جو ہے وہ مسیح بن مریم (علیہا السلام) ہی ہے (ف 1) اور مسیح (علیہ السلام) نے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا خدا اس پر جنت حرام کریگا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا ۔

(ف 1) اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ ابن مریم (علیہا السلام) کو خدا کے مقام رفیع پر فائز سمجھنا بڑا کفر ہے ، حضرت مسیح (علیہ السلام) جب تک زندہ رہے اپنی عبودیت کا اعلان فرماتے رہے اور کہتے رہے کہ اے آل اسرائیل صرف رب اکبر کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا دونوں کا مشترک رب ہے اور کسی شخص کو اس کا ساجھی اور شریک نہ ٹھہراؤ ورنہ جنت کی نعمتوں سے یکسر محروم رکھے جاؤ گے ،
Ayahs 5:73–74

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:73 in the Quran reader

بیشک وہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں (ف 2) سے ایک ہے حالانکہ سوائے ایک معبود کے اور کوئی معبود ہی نہیں ہے ، اگر وہ اس بات کو جو وہ کہتے ہیں نہ چھوڑیں گے تو ان میں جو کافر ہیں دیکھ دینے والا عذاب پائیں گے ۔

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:74 in the Quran reader

وہ کیوں نہیں اللہ کی طرف توبہ کر کے گناہ بخشواتے ؟ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

ثالث ثلثۃ : (ف 2) عقیدہ تثلیث کے معنی یا تو یہ ہیں کہ عیسائی مریم (علیہا السلام) ، مسیح (علیہ السلام) اور خدا کو لاہوت کے اقانیم مانتے ہیں جیسے قرآن حکیم نے فرمایا (آیت) ” انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ “۔ اور یا یہ مقصود ہے کہ باپ بیٹا اور روح القدس یہ تینوں مل کر اقانیم بنتے ہیں ۔ دونوں صورتوں میں عقیدہ غیر منطقی گمراہ کن اور غلط ہے ، اس لئے فرمایا لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثۃ ۔ یعنی خڈا کے متعلق تثلیث کا عقیدہ رکھنا اس کی تفریط و توحید کی توہین کرنا ہے جو بدترین قسم کا کفر ہے ۔ بات یہ ہے کہ خدا کی ذات والا صفات کا تقاضا یہ ہے کہ سوائے توحید و تفرید کے کوئی عقیدہ اس کی طرف منسوب نہ کیا جائے ، کیونکہ یہی ایک عقیدہ ہے جو بلند ، صحیح اور جمیل قرار دیا جاسکتا ہے ، اس کے علاوہ مزعومات غلط اور معاندانہ ہیں ۔ (تفصیل کے لئے دیکھو اوراق گزشتہ) حل لغات : ماوی : جگہ ، ٹھکانہ ۔
Ayah 5:75

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ١ؕ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 5:75 in the Quran reader

مسیح (علیہ السلام) اور کچھ نہیں ، مگر ایک رسول ۔ اس سے پہلے بہت رسول گزر چکے ہیں اور اس کی ماں صدیقہ تھی وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے (ف 1) دیکھ ہم ان کے لئے کس طرح نشانیاں بیان کرتے ہیں پھر دیکھ وہ کہاں الٹے جاتے ہیں ۔

(ف 1) اس آیت میں الوہیت مسیح (علیہ السلام) کے عقیدے پر روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ وہ مسیح (علیہ السلام) جو لوازم بشری کے ساتھ متصف ہے کیونکر فکر خدا ہو سکتا ہے اور وہ مریم (علیہا السلام) جو حوائج انسانی کی حاصل ہے ، کس طرح لاہوت کا ایک اقنوم قرار دی جاسکتی ہے ۔ یعنی جسے بھوک بےقرار کر دے ، جو پیاس کی شدت کو برداشت نہ کرسکے اور قدرت کے تمام قواعد کے سامنے بےبس وبے کس ہو کس طور سے خدائی کا مستحق ٹھہر سکتا ہے ؟ مسیح (علیہ السلام) بھی گزشتہ رسولوں کی طرح ایک رسول ہے جو انسان ہے اور تمام بشری اوصاف و لواحق سے وابستہ پھر کیونکر اور کس بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ خدائے مجسم ہے ۔
Ayah 5:76

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 5:76 in the Quran reader

تو کہہ کیا تم خدا کے سوا اسے پوجتے ہو جس کے اختیار میں نہ تمہارا نفع ہے اور نہ نقصان اور وہی اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے (ف 2)

(ف 2) مقصد یہ ہے کہ سمع اور علم کی تمام قدرتیں خدا کو حاصل ہیں وہی ہے جو مضطر اور بےقرار انسانوں کی سنتا ہے اور حاجت روائی کرتا ہے وہی ہے جو ضرر ونفع کا مالک ہے اور جس کے اختیارات وسیع ہیں پھر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ ایسے قادر وعلیم خدا کو چھوڑ کر ان کی عبادت میں مصروف ہو جو تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور نہ ان کے اختیار میں ہے کہ تمہارا کچھ بگاڑ سکیں ۔ حل لغات : قد خلت : خلو کے معنی مطلقا ہو گزرنے کے ہیں موت کے نہیں ۔ لا تغلوا : مادہ غلوا ، زیادتی ۔ افراط ۔
Ayah 5:77

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ Open ayah 5:77 in the Quran reader

تو کہہ اے اہل کتاب تم اپنے دین میں ناحق مبالغہ نہ کرو اور اس قوم کے خیالات نہ مانو جو پہلے گمراہ اور بہتوں کو بہکا گئے اور آپ سیدھی راہ سے بھٹک گئے (ف 1)

(ف 1) آیت کا مطلب یہ ہے کہ عقیدہ تثلیث محض غلو فی الدین کا نتیجہ ہے جسے حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کہ گمراہ قوموں سے ماخوذ ہے ۔
Ayahs 5:78–79

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ Open ayah 5:78 in the Quran reader

بنی اسرائیل کے کافروں پر بزبان داؤد اور عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) لعنت ہوئی ہے ، یہ اس لئے کہ وہ نافرمان تھے اور حد پر قائم نہ رہتے تھے (ف 2)

كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 5:79 in the Quran reader

اور آپس میں برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو منع نہ کرتے تھے ، کیا برا کام تھا جو وہ کرتے تھے ۔

ناز بےجا : (ف 2) بنی اسرائیل کو سب سے بڑا غرور اس بات پر تھا کہ ہماری رگوں میں انبیاء اور صلحاء کا خون دوڑ رہا ہے اور ہم (آیت) ” ابنآء اللہ واحبآء ہ “۔ کے لقب سے متفخر ہیں ۔ قرآن حکیم نے متعدد مواقع پر اس ناز بےجا کا جواب دیا ہے اس آیت میں بھی ان کے طلسم پندار کو توڑا ہے اور کہا ہے کہ کیا تم وہی نہیں جنہوں نے سبت کے معاملہ میں خدا کی صریح نافرمانی کی اور اس کی پاداش میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کی زبان فیض ترجمان سے ملعون کا خطاب ملا ، اور کیا یہ واقعہ نہیں کہ تم نے نزول مائدہ کی درخواست کی ، اور اس کے بعد پھر روگردانی کی جس کی وجہ سے حضرت مسیح (علیہ السلام) نے تمہیں لعنتی ٹھہرایا ۔ جب یہ واقعات ہیں تو پھر تمہیں غرور بےجاکا کیا حق حاصل ہے ؟