4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsسراج البیان

Ayahs 4:159–160

وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ Open ayah 4:159 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے کوئی نہیں ہے کہ اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے اور قیامت کے دن وہ ان سب پر گواہ ہوگا ۔ (2)

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ Open ayah 4:160 in the Quran reader

سو یہود کے ظلم کے سبب ہم نے ان پر بعض پاک چیزیں جو انہیں حلال تھیں حرام کردیں اور اس سبب سے کہ انہوں نے خدا کی راہ سے بہتوں کو روکا ۔

(ف 2) یہ آیت حیات مسیح (علیہ السلام) پر زبر دست دلیل ہے (آیت) ” قبل موتہ “ کا مرجع اہل کتاب نہیں مسیح (علیہ السلام) ہے اور (آیت) ” لیؤمنن سے مراد زمانہ مستقبل ہے ، یعنی ایک وقت آئے گا جب یہودیوں کو قرآن کی بتائی ہوئی صداقتوں پر ایمان لانا پڑے گا ۔
Ayah 4:161

وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:161 in the Quran reader

اور ان کے سود لینے کے سبب سے حالانکہ وہ اس سے منع کئے گئے تھے اور لوگوں کے مال ناحق کھا جانے کے سبب (بھی) اور ان میں سے کافروں کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کیا ہے (ف 1)

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ یہودی تمام جائز نعمتوں سے اس لئے محروم ہوگئے کہ انہوں نے خود اس لئے لئے کوشش کی اور زہد وورع کے نام سے کئی چیزیں جو حلال تھیں کھانا چھوڑیں ، پھر جرائم اس قسم کے کئے کہ سزا کے مستحق ٹھہرے ۔
Ayah 4:162

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 4:162 in the Quran reader

لیکن اہل کتاب میں سے جو علم میں مضبوط اور ایمان والے ہیں جو تجھ پر نازل ہوا اور جو تجھ سے پہلے نازل ہوا مانتے ہیں اور نماز پڑھتے اور زکوۃ دیتے ہیں اور خدا پر اور آخری دن پر ایمان رکھتے ہیں ان کو ہم بہت بڑا ثواب دیں گے (ف 2) ۔

(ف 2) اس آیت میں ان علمائے حق کا ذکر ہے جو گو یہود میں پیدا ہوئے مگر ان کا علم وتقوی انہیں حق کے تسلیم کرنے پر مجبور کرتا ہے اور وہ برابر اسلامی وظائف وعمل کو ادا کرتے ہیں ، ان کا ایمان ہے کہ قرآن جو محمد ﷺ پر نازل ہوا ہے خدا کی سچی کتاب ہے ۔ حل لغات : صد : روکنا ۔
Ayah 4:163

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ Open ayah 4:163 in the Quran reader

(اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے تیری طرف ایسی وحی بھیجی ہے جیسی ہم نے نوح (علیہ السلام) اور اس کے بعد اور نبیوں اور ابراہیم (علیہ السلام) واسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) ویعقوب (علیہ السلام) اور اس کی اولاد اور عیسیٰ (علیہ السلام) وایوب (علیہ السلام) ویونس (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) وسلیمان (علیہ السلام) کی طرف بھیجی تھی ، اور داؤد (علیہ السلام) کو ہم نے زبور دی (ف 1)

(ف 1) یعنی نفس نبوت اور مقام صداقت میں کوئی فرق نہیں حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت مسیح (علیہ السلام) تک اور حضرت مسیح (علیہ السلام) سے لے کر حضور ﷺ تک سب نے ایک ہی منزل کی طرف لوگوں کو دعوت دی ہے ، پس وہ لوگ جو انصاف پسند ہیں ، انبیاء (علیہم السلام) و مذاہب کے نام پر انسانیت کو تقسیم نہیں کرتے ، بلکہ کوشش کرتے ہیں کہ سلسلہ حق وصداقت کی تمام کیوں کو مشترکہ مانا جائے ۔
Ayah 4:164

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

اور کئی رسول ﷺ ہیں جن کا احوال ہم نے تجھے نہیں سنایا اور خدا نے موسیٰ (علیہ السلام) سے باتیں کی تھیں (ف 2)

(ف 2) مختلف انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کرکے اب یہ فرمایا ہے کہ تمام دنیا میں خدا کے پیغمبر (علیہ السلام) آئے ہیں اور ہر گوشہ ارض ان کے قدوم برکت لزوم سے مفتحز ہوا ہے اور یہ کوئی ضروری نہیں کہ قرآن حکیم میں سب انبیاء (علیہم السلام) کا نام بنام ذکر ہو پس یہ جان لیجئے کہ تمہیں انہیں پیغمبروں کے نام اور حالات بتائے گئے ہیں جن سے تمہارے کان آشنا ہیں ۔
Ayah 4:165

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

اور بشارت دینے والے اور ڈرانے والے بہت رسول آچکے ہیں ، تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کو خدا پر الزام کا موقع نہ رہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے (ف 3)

(ف 3) اس آیت میں بتایا ہے کہ تمام نبی بشارت وڈرانے کا انداز لے کر آئے ہیں ، تاکہ ہر زمانہ میں لوگ براہ راست ان سے استفادہ کرسکیں اور یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمارے پاس خدا کا کوئی پیغام ہدایت موجود نہیں ۔ حل لغات : اوحینا : وحی کے معنی اشارہ خفیہ کے ہیں ۔ اصطلاح قرآن میں چپکے سے کوئی بات دل میں ڈال دینا مراد ہے ۔ زبور : مطلقا کتاب کو کہتے ہیں ۔ حجۃ : دلیل ۔ عذر ۔ الزام ۔
Ayahs 4:166–169

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

لیکن جو کچھ تجھ پر نازل کیا ہے اس کے بارہ میں خدا گواہی دیتا ہے کہ اس نے وہ اپنے علم کے ساتھ نازل کیا ہے اور فرشتے بھی گواہ ہیں اور اللہ گواہ کافی ہے (ف 1)

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

جو کافر ہوئے اور اللہ کی راہ سے رکے رہے وہ سچائی سے دور گمراہی میں جا پڑے ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

جو کافر ہوئے اور انہوں نے ظلم کیا خدا انہیں نہ بخشے گا اور نہ راہ دکھلائے گا ۔

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

لیکن جہنم کی راہ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ کام خدا پر آسان ہے ۔

خدا اور فرشتوں کی گواہی : (ف 1) ان دو آیتوں میں قرآن حکیم کی عظمت واہمیت کی طرف توجہ دلائی ہے ، کہا ہے کہ خدا نے قرآن کے الہامی ہونے پر اعلی شہادتیں مرتب کی ہیں اور فرشتے بھی اس سچائی اور صداقت پر گواہ ہیں ، یعنی خدا نے جان بوجھ کر علی وجہ البصیرت قرآن حکیم کو نازل کای ہے اور تم اس میں بیشمار علمی خوارق دیکھ سکتے ، فرشتے بھی شاہد ہیں اور بیشمار علمی خوارق دیکھ سکتے ، فرشتے بھی شاہد ہیں اور یہی وجہ ہے ، فرشتوں نے ہمیشہ قرآن کی تائید کی ہے اور عین جنگ میں ان لوگوں کی حمایت کی ہے جو حامل قرآن ہیں پس وہ لوگ کہ جو اس صداقت مشہود کا انکار کرتے ہیں کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں ۔
Ayah 4:170

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:170 in the Quran reader

لوگو ! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس حق کے ساتھ رسول آیا ہے سو تم ایمان لاؤ ، تمہارا بھلا ہوگا اور جو کافر ہوجاؤ گے تو جو کچھ آسمان و زمین میں ہے اللہ کا ہے اور اللہ جاننے (ف 2) والا حکمت والا ہے ۔

(ف 2) اس آیت میں تمام لوگوں کو ایمان کی دعوت دی ہے کہ آؤ سب رسول برحق ﷺ کو مان لیں کیونکہ انسانی فلاح وخیر اسی ایمان پر موقوف ہے ۔ (آیت) ” وان تکفروا فان للہ مافی السموت والارض “۔ سے مراد یہ ہے کہ مذہب کا تعلق تمہاری اصلاح و رہنمائی ہے ، ورنہ خدا کو ضرورت نہیں کہ تم ضرور اسے مانو ۔ کیونکہ آسمان کی بلندیاں اور زمین کی وسعتیں سب خدا کے قبضہ قدرت میں ہیں ، وہ بےنیاز ہے اسے ہماری عبادتوں اور ریاضتوں کی قطعا حاجت نہیں ۔
Ayah 4:171

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ١ۚ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ١٘ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١۫ۚ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ١ؕ اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ١ۘ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا۠ Open ayah 4:171 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! اپنے دین میں مبالغہ نہ کرو ، اور خدا کی نسبت صرف حق بات بولو ، مسیح (علیہ السلام) عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) تو صرف اللہ کا رسول اور اس کا کلمہ (ف 1) ہے جسے اس نے مریم (علیہا السلام) کی طرف ڈالا تھا اور روح ہے اس کی طرف سے ، پس تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور تین نہ کہو ، باز آؤ ، تمہارے لئے بہتر ہے جو ہے وہ تو ایک ہی معبود ہے ، وہ اس بات سے پاک ہے کہ اس کے کوئی بیٹا ہو ، جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور اللہ کارساز کافی ہے ۔

تثلیث و توحید : (ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ تثلیث کا عقیدہ غیر معقول اور غیر منطقی عقیدہ ہے اور یہ نتیجہ ہے عقیدت و محبت میں غلو اور مبالغہ کا ۔ مسیح (علیہ السلام) کی صحیح صحیح حیثیت یہ ہے کہ وہ ابن مریم (علیہا السلام) ہیں یعنی مریم (علیہا السلام) عذرا کے بیٹے اور کلمہ تکوین کا اثر کیونکہ آپ کی تخلیق خارق عادات کن فیکونی اختیارات سے ہوئی ہے ، (آیت) ” وروح منہ “ سے مراد تشریف و تفصیل ہے ، جیسے قرآن حکیم کے متعلق فرمایا (آیت) ” وروحا من امرنا “۔ (آیت) ” انتھوا خیرالکم “۔ سے مراد یہ ہے کہ عقیدۃ تثلیث بوقلمون مصائب کا پیشہ خیمہ ہے اس میں توحید ووھدت کا وہ پیغام نہیں جو عقیدہ ” لا الہ الا اللہ “ میاں ہے ۔ (آیت) ” انما اللہ الہ واحد “۔ کہہ کر اس حقیقت ثانیہ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ عقل انسانی بجز توحید و تفرید کے کسی عقیدے کو سمجھنے سے قاصر ہے یعنی وجہ ہے ۔ اہل تثلیث آج تک کوئی متصفہ اور متبعین صورت تثلیث کی پیش نہیں کرسکے کبھی تثلیث کے معنی صفات ثلاثہ کے لئے جاتے ہیں اور کبھی ذات ثلاثہ کے ، پھر کبھی ملول و اتحاد کا دعوی کیا جاتا ہے اور کبھی لعت ومنوت کا سبحانہ میں یہ باریک نکتہ مضمر ہے کہ خدا کا تصور صحیح اس درجہ پاکیزہ اور بلند ہے کہ کسی کثرت وتثلیث کی گنجائش نہیں رہتی ، یعنی خدا کے معنی ہی ایک بار صرف ایک ذات برحق کے ہیں ۔ حل لغات : لا تغلوا : مادہ غلوا ، بمعنی زیادتی اور مبالغہ ۔ الحق : صداقت : موافق آئین عقل ۔ انتھوا : مصدر ، انتہاء رک جانا ۔
Ayahs 4:172–173

لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ١ؕ وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا Open ayah 4:172 in the Quran reader

مسیح (علیہ السلام) خدا کا بندہ ہونے سے ہرگز انکار نہیں کریگا اور نہ مقرب فرشتے ہی ‘ اور جو کوئی اس کی بندگی سے انکار کرے گا اور تکبر کرے گا تو خدا ان سب کو اپنی طرف (ف 1) اکٹھا جمع کرے گا ۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:173 in the Quran reader

سو جو ایمان لائے اور نیک کام کئے وہ ان کو پورا ثواب دے گا اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی دے گا ، اور جو انکار کرتے رہے اور تکبر کرتے رہے ‘ انہیں دکھ دینے والا عذاب دے گا اور وہ اپنے لئے خدا کے سوا کوئی دوست اور مددگار نہ پائیں گے ۔

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ بڑے سے بڑا مرتبہ ” عبودیت “ اور غلامی سے آگے نہیں بڑھتا مسیح (علیہ السلام) اور خدا کے تمام مقرب فرشتے اس کے حلقہ بگوش اور فرمانبردار ہیں ، سب اس کے جلال وجبروت کے سامنے خائف ولرزاں ہیں ، کسی کو مجال ادعاء نہیں ، سب یہ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس کی رضا و محبت کو حاصل کیا جائے ، پس مسیح یا کسی دوسرے شخص کو سر پر لاہوت پر لا بٹھانا اس کے منصب الوہیت کی توہین ہے ۔ حل لغات : عبد ، غلام ، حلقہ بگوش ، فرماں بردار ۔ یستنکف : مصدر استنکاف ، انکار کرنا ۔
Ayah 4:174

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:174 in the Quran reader

لوگو ! تمہارے رب کے پاس سے تمہارے پاس حجت آچکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف واضح روشنی نازل کی ہے ۔ (ف 1)

نور وبرہان : (ف 1) قرآن حکیم اور دیگر کتب مذہبی میں ایک ممتاز فرق یہ ہے کہ قرآن عقل و دانش کی مضبوط چٹان پر کھڑا ہے ، اس میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے منطق وفکر کے مطابق ہے دیگر کتب خطابت وسلسلہ کا مجموعہ ہے ان میں کہا گیا ہے کہ پہلے مانو ، پھر سمجھنے کی کوشش کرو ، مگر قرآن غور وفکر کے بحربیکراں میں کود پڑنے کی دعوت دیتا ہے ، وہ بار بار اعلان کرتا ہے ۔ (آیت) ” افلا یتدبرون القرآن “۔ یعنی قرآن جس نظام مذہب کو پیش کرتا ہے ‘ وہ فوق الفہم اساسات پر مبنی نہیں بلکہ مشاہدہ و تجربہ اس کے سب سے بڑے شاہد ہیں ، اس لئے آؤ اور عقل وخرد کی تمام طاقتوں سے مسلح ہو کر قرآن کے حقائق کو پرکھو ۔
Ayahs 4:175–176

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ اعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ یَهْدِیْهِمْ اِلَیْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاؕ Open ayah 4:175 in the Quran reader

سو جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اسے مضبوط پکڑا ، وہ انہیں اپنی رحمت اور فضل میں داخل کرے گا اور انہیں اپنی طرف سیدھی راہ دکھائے گا (ف 2)

یَسْتَفْتُوْنَكَ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ١ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ١ۚ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ١ؕ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ١ؕ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 4:176 in the Quran reader

وہ تجھ سے فتوی مانگتے ہیں ، تو کہہ اللہ تمہیں کلالہ (اوت نپوت) کے بارے میں فتوی دیتا ہے کہ اگر کوئی مرد مر جائے اور اس کے اولاد نہ ہو اور اس کے ایک بہن ہو تو اس کو آدھا پہنچے گا جو چھوڑ مرا اور یہ بھائی بھی اس بہن کا وارث ہے اگر اس کے اولاد نہ ہو ، پھر اگر اس کے دو بہنیں ہوں تو اس کے ترکہ سے ان دونوں بہنوں کو دو تہائی ہیں ، اور اگر اس کے وارث کئی بہن بھائی ہوں تو مرد کا حصہ دوعورتوں کے برابر ہے ، اللہ تمہارے لئے بیان کرتا ہے تاکہ تم نہ بہکو اور اللہ ہر شے سے واقف ہے ۔

(ف 2) اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اس پیکر نور اور برہان نشان کتاب کو مانتے ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی رحمتوں کے سزاوار ہیں اور جن کے لئے اللہ کی آغوش فضل واہے اور جو صراط مستقیم پر گامزن ہیں ، مگر یاد رہے کہ ایمان کے ساتھ اعتصام شرط ہے ، یعنی استقلال اور عزم کے ساتھ جوش عمل ۔ حل لغات : برھان : واضح دلیل ۔ کلالۃ : بوجھ مرد یا عورت جس کا وارث اصلی موجود نہ ہو یعنی جس کے ماں باپ یا اولاد نہ ہو ۔