4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsسراج البیان

Ayah 4:81

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:81 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ قبول ہے پھر جب تیرے پاس سے باہر جاتے ہیں تو ان میں سے ایک فریق کے لوگ اس کے خلاف جو تو کہتا ہے رات کو مشورہ کرتے ہیں اور خدا لکھ لیتا ہے جو وہ مشورہ کرتے ہیں ، سو تو ان سے تغافل نہ کر اور اللہ پر بھروسہ رکھ ، اللہ کار ساز کافی ہے ۔ (ف 3)

(ف 3) طاعۃ بصورت رفع اس کے معنی یہ ہیں کہ اطاعت کا مکہ میں کوئی انقطاع وتجدد نہیں یعنی جب کہ منافق آپ ﷺ کے پاس ہوتے ہیں ، اس وقت غیر مشروط اور غیر متغیر اطاعت کا یقین دلاتے ہیں اور جب الگ ہوتے ہیں اسلام کے خلاف حبل وتدابیر تلاش کرتے ہیں ، فرمایا آپ ان سے زیادہ تعرض نہ فرمائیں ، توکل رکھیں ، اللہ آپ ﷺ کا ناصر ووکیل ہے ۔ حل لغات : حسنۃ سیئۃ : نیکی اور برائی ، انعام اور مصیبت ۔
Ayah 4:82

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا Open ayah 4:82 in the Quran reader

کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے ؟ اور اگر وہ اللہ کے سوا کسی اور کا ہوتا تو وہ اس میں ضرور بہت اختلاف پاتے (ف 1)

(ف 1) اس آیت میں دعوت تدبر و تفکر ہے جو شخص قرآن حکیم پر دیانت داری کے ساتھ غور کرے گا ، ضرور ہے کہ اس کی عظمت وصداقت پر یقین لے آئے سب سے بڑی بات جو قرآن پاک کی معجزانہ دلیل ہے وہ اس کی وحدت ویکسائی ہے ۔ سارا قرآن پڑھ جاؤ ۔ اس میں ہزاروں نکات و معارف بیان کئے ہیں ، کہیں تضاد وتعارض کا نام نہیں ، ایک دریا ہے جو برابر بہتا چلا جاتا ہے اور پڑھنے والے کو بہائے لئے جارہا ہے ، اسلوب بیان بھی بیسوں اختیار کئے ہیں مگر سب میں حیران کن بلاغت ہے کہیں زور کلام کم نہیں ہوتا ، توحید والہیات سے لے کر اخلاق ومعاشرت کے باریک اور نازک مسائل تک بیان کئے ہیں مگر کیا مجال ہے جو شگفتگی و پاکیزگی میں فرق آجائے ، وہی نزاہت وزور جو اس کا مخصوص خاصہ ہے ‘ ہر جگہ نمایاں ہے ۔
Ayahs 4:83–84

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس کوئی خبر امن یا خوف کی آجاتی ہے تو اسے مشہور کردیتے ہیں اور اگر وہ اس خبر کو رسول ﷺ یا اپنے اختیار والوں کی طرف پہلے پہنچاتے تو ان کے تحقیق کرنے والے ان کا مقصد معلوم کرلیتے ہیں اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو سوائے تھوڑوں کے تم شیطان کے تابع ہوجاتے (ف 2)

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

سو (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو خدا کی راہ میں لڑائی کر ، تو ذمہ دار نہیں مگر اپنی جان کا اور تو ایمانداروں کو (لڑائی پر) ابھار قریب ہے کہ خدا کافروں کی لڑائی بند کر دے اور خدا لڑائی میں اور سزا دینے میں بہت سخت ہے ۔

پروپیگنڈا : (ف 2) منافقین پروپیگنڈا کی مؤثریت سے خوف واقف تھے ۔ جب کبھی کوئی بات ان کے ہاتھ لگتی ، خوب پھیلاتے ، وہ چاہتے تھے کہ نشرواشاعت کا یہ طریق نہایت کارگر ہے ، چناچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کے اثرات کو تسلیم کیا ہے فرمایا (آیت) ” ولولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لاتبعتم الشیطن الا قلیلا “۔ یعنی اگر خدا کی رحمتیں مسلمانوں کے شامل حال نہ ہوتیں تو وہ بجز چند سمجھ دار انسانوں کے ضرور گمراہ ہوجاتے ۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اکاذیب اراجیف کی اشاعت یکسر شیطانی فعل ہے ، اسلامی طریق اشاعت پروپیگنڈا کا مترادف نہیں ، حالانکہ اس کی وسعت دنیا کی تمام زبانوں سے زیادہ ہے ۔ حل لغات : حرص : مصدر تحریض ۔ آمادہ کرنا ۔ ابھارنا ۔
Ayah 4:85

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو کوئی بھلی بات میں (ف 1) سفارش کرے گا اس کو اس میں سے حصہ ملے گا اور جو کوئی بری بات میں سفارش کرے گا اس پر اس سے ایک بوجھ ہوگا اور اللہ ہر شے کا نگہبان ہے ۔

(ف 1) شفع ووتر جوڑا اور ایکائی کو کہتے ہیں شفاعت کے معنی ہیں کسی دوسرے کے ساتھ ہو کر کسی مسئلے کو طے کرنے کے ۔ آیت کا مقصد یہ ہے کہ اچھی باتوں کی طرف لوگوں کو مائل کرنا اچھی بات ہے اور برائی کی طرف دعوت دینا برا ہے یعنی جہاد کی ترغیب و اشاعت از قبیل حسنات ہے اور وہ لوگ جو مسلمانوں کو کسل ودون ہمتی کی تعلیم دیتے ہیں ، مجرم ہیں ۔
Ayah 4:86

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

اور جب تم دعا سلام کئے جاؤ (ف 2) تو اس کا جواب دعا کے ساتھ اس سے بہتر لفظوں میں دو یا وہی لفظ واپس کرو ، بیشک خدا ہر شے کا حساب لینے والا ہے ۔

سلام : (ف 2) تحیۃ کے معنی اصل میں کلمات دعائیہ کے ہیں جن مخاطب کی درازی عمر مقصود ہو ۔ اسلامی اصطلاح میں مراد اسلام علیکم کہنا ہے ۔ بات یہ ہے کہ جہاد میں بعض دفعہ مسلمان باوجود ” اسلام علیکم “ سننے کے مخاطب کو تلوار کے گھاٹ اتار دیتے ہیں اس شبہ میں کہ یہ کہیں منافق نہ ہو ۔ قرآن حکیم نے فرمایا جو شخص تمہیں سلام کہے ، تمہارا فرض ہے کہ اسے مسلمان سمجھو اور اسے اس سے سے بہتر ہدیہ سلام پیش کرو ۔ یعنی مسلمان کو کسی حالت میں بھی زیبا نہیں کہ وہ سوء ظن سے کام لے اور خواہ مخواہ مسلمانوں کو کافر سمجھے ہر وہ شخص جو اسلام کا اظہار کرتا ہے ، مسلمان ہے ، باہمی ملاقات کے وقت یہ لفظ اسلام نے ایسا تجویز کیا ہے جو بیحد موزون ہے اور مشرقی لٹریچر کا جزو بن گیا ہے ، یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اسلام دنیا کا کامل ترین مذہب ہے ۔
Ayah 4:87

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں (ف 3) وہ تم کو قیامت کے دن کہ جس میں شک نہیں ہے جمع کرے گا ، اور اللہ سے زیادہ سچی بات کس کی ہے ؟ ۔

شغل تکفیر : (ف 3) اس آیت کا ماقبل کے ساتھ ایک لطیف ربط ہے اور وہ یہ کہ سابقہ آیت میں شغل تکفیر سے منع کیا ہے اور کہا ہے کہ ہر وہ شخص جو ہدیہ سلام پیش کرتا ہے ، زائد از زائد عزت واکرام کا مستحق ہے تم مجاز نہیں کہ اسے غیر مسلم یا منافق سمجھو ۔ (آیت) ” اللہ لا الہ الا ھو “ ۔ کہہ کر اس مفہوم کی تائید فرمائی ہے یعنی جب خدا وہ ہے جس کی پرستش ضروری ہے اور جو غلام الغیوب ہے تو تمہیں کیا حق حاصل ہے کہ کسی کے باطن کے متعلق فیصلہ کرو اور خواہ مخواہ ناجائز بدظنی سے کام لو ، تم کسی کے خدا نہیں کہ جسے کافر کہہ دو ‘ کافر ہوجائے ، (آیت) ” لیجمعنکم الی یوم القیمۃ “ میں زجر وتوبیخ ہے ان لوگوں کے لئے جو خدائی اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں ۔ ظاہر ہے کفر واسلام کا صحیح اور سچا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے ، اس لئے تکفیر میں حتی الوسع محتاط سے رہنا چاہئے ۔
Ayah 4:88

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:88 in the Quran reader

سو تمہیں کیا ہوا کہ تم منافقوں کے بارہ میں دو فریق ہوگئے اور خدا نے ان کے کاموں کے سبب انہیں الٹ دیا ہے کیا تم اسے ہدایت پر لانا چاہتے ہو جسے خدا نے گمراہ کیا اور جسے خدا گمراہ کرے تو تو اس کے لئے کوئی راہ نہ پائے گا (ف 1)

منافق گمراہ ہیں : (ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ منافق گمراہ ہیں اس لئے کہ ان کے نفاق کی شہادت خود خدا نے دی ہے ، ان کے متعلق مسلمانوں کو دوگونہ حکمت عملی سے کام لینا چاہئے یہ کھلے کافر ہیں ۔ البتہ فرق اسلام جو دیانت داری کے ساتھ جزئیات اسلام میں مختلف ہیں ‘ ان کی تکفیر وتفسیق درست نہیں ۔ اگر اصول ونصوص میں اتفاق ہے ، جزئیات کا اختلاف کوئی وزنی چیز نہیں ۔ ہاں وہ لوگ جو مسلمہ نصوص وحقائق کے متوازی الگ اصول و اساس کو مانتے ہیں وہ ہرگز مسلمان نہیں ، اگرچہ ان کو دعوائے اسلام ہی کیوں نہ ہو ۔
Ayah 4:89

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:89 in the Quran reader

چاہتے ہیں کہ کاش تم کافر ہوجاؤ ، سو تم اور وہ برابر ہوجاؤ ۔ سو تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ جب تک کہ وہ خدا کی راہ میں وطن نہ چھوڑیں پھر اگر وہ قبول نہ کریں تو انہیں پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں پاؤ اور ان میں سے کسی کو رفیق نہ بناؤ اور نہ مددگار ۔ (ف 2)

جہاد و ہجرت : (ف 2) ان آیات میں بتایا ہے کہ ان کفار کی جو تم سے برسرپیکار ہیں ، خواہشات کیا ہیں ؟ یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں اپنی طرح کفر وظلمت کی وادیوں میں ٹامک ٹوٹیاں مارتے دیکھیں ایسے لوگ ہرگز کسی دوستی اور تعلق کا استحقاق نہیں رکھتے ، یہ اس قابل ہیں کہ ان سے کامل بیزاری کا اظہار کیا جائے ۔ ہجرت سے مراد ان آیات میں مخلصانہ اسلام کو قبول کرنا ہے اسلام و ہجرت باہم اس لئے لازم ہیں کہ قبول حق وحقانیت کے بعد باطل سے جنگ قطعی اور واجبی ہے ۔ وہ لوگ جو اسلام قبول کرکے بھی کفروشرک میں بھرے رہتے ہیں ، درحقیقت مسلمان نہیں حضور ﷺ کا ارشاد ہے ” انا بری من کل مسلم اقام بین اظھر المشرکین “۔ مجبوری اور اضطرار دوسری بات ہے ، دل میں کفر کی خلاف زبردست غصہ وغضب موجود ہونا چاہئے یہی مطلب ہے اس حدیث کا کہ ” لاھجرۃ بعد الفتح ولکن جھاد “۔ یعنی فتح مکہ کے بعد ہجرت کا اب کوئی موقع نہیں ، مگر دل میں مجاہدانہ ولولے ضرور موجزن رہیں اور قصد و ارادہ میں زور ہجرت باقی ہو ۔ مسلمان کسی حالت میں بھی جمود وتسفل کی زندگی پر قانع نہیں رہتا ، وہ مجسم بےچینی اور اضطراب ہے ۔ اس کے نزدیک اس نوع کی قناعت کفر ہے ، وہ یہ چاہتا ہے کہ پوری آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرے ، کفر اسے دیکھ دیکھ کر جلے ، شرک اس کے مو خدا نہ اقدامات سے کانپ اٹھے ۔ ظلمت وتاریکیاں اس کے نام سے کافور ہوجائیں ۔ یعنی اس کا وجود ہمہ قہر و غلبہ ہے ۔ وہ مقہور ہونا جانتا ہی نہیں ۔ ہوسکتا ہے بعض حالات کی موجودگی وہ ہاتھ میں تلوار نہ لے سکے ، مگر یہ ناممکن ہے کہ اس کا دل ظلم و تسلط کو برداشت کرلے ، وہ آزاد پیدا ہوتا ہے اور حاکم ومسلط رہ کر جیتا ہے ۔
Ayah 4:90

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا Open ayah 4:90 in the Quran reader

مگر ان لوگوں کو (قتل نہ کرو) جو جاملیں ایک قوم سے کہ تم میں اور ان میں عہد ہے یا تمہاری یا اپنی قوم کی لڑائی سے دل تنگ ہو کر تمہارے پاس آئیں (یعنی بنی مدلج) اور اگر اللہ چاہتا تو انہیں تم پر مسلط کردیتا اور وہ تم سے لڑتے پھر اگر یہ منافق تم سے یک سو ہوں اور جنگ نہ کریں اور تمہاری طرف صلح کا پیغام ڈالیں (تو سمجھ لو) کہ خدا نے ان پر تمہیں راہ نہیں دی (ف 1)

(ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ مسلمان جہاں بہادر وغیور ہے وہاں منصف وروادار بھی ہے ، اس لئے وہ عہد وذمہ داری کی ہر رعایت کو ملحوظ رکھتا ہے اور کسی طرح بھی صلح جو انسانوں کو جنگ کی آگ میں نہیں ڈالتا ۔ حل لغات : حصرت صدورھم : یعنی وہ جو لڑتے ہچکچاتے ہیں ، حصر کے اصلی معنی رکنے کے ہیں ۔ السلم : صلح وصفائی ۔
Ayah 4:91

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

اب تم ایک دوسری قوم کو پاؤ گے کہ وہ تم سے بھی امن میں رہنا چاہتے ہیں ان کا یہ حال ہے کہ جب وہ فساد کرنے کے لئے بلائے جاتے ہیں تو اس ہنگامہ میں الٹ پڑتے ہیں پس اگر وہ تم سے کنارہ کش نہ ہوں اور تم سے صلح کا پیغام نہ ڈالیں اور اپنے ہاتھ تم سے نہ روکیں تو ان کو پکڑو اور جہاں کہیں پاؤ قتل کرو ، اور یہی لوگ ہیں کہ ہم نے ان پر تمہیں ظاہر غلبہ دیا ہے ۔ (ف 1)

(ف 1) ان آیات میں ان لوگوں سے جنگ کی اجازت دی ہے جو بظاہر امن پسند ہیں مگر موقع پیدا ہونے پر ہمیشہ کفر کا ساتھ دیتے ہیں اور جانب داری سے باز نہیں آتے ایسے لوگ قطعی سزا کے مستحق ہیں ۔
Ayah 4:92

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:92 in the Quran reader

اور کسی مسلمان کو لائق نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو قتل کرے مگر بھول چوک سے اور جو کوئی مسلمان کو بھول سے قتل کرے (ف 2) تو اس کو ایک مسلمان گردن آزاد کرنا اور مقتول کے گھروالوں کو خون بہا دینا چاہئے مگر یہ اس کے وارث خیرات کردیں ، پھر اگر مقتول مومن تمہاری دشمن قوم سے ہو تو صرف ایک مسلمان گردن آزاد کرنا ہے اور اگر مقتول اس قوم میں سے ہو جس کے ساتھ تمہارا عہد ہے تب اس کے وارثوں کو خون بہا دینا ہے ، اور مسلمان گردن بھی آزاد کرنا پھر جس کو میسر نہ وہ تو دو مہینے کے لگا تار روزے رکھے ۔ یہ خدا سے گناہ بخشوانے کو ہے اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے ۔

خون بہا : (ف 2) (آیت) ” وماکان لمؤمن “۔ کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان کی شان کے شایان نہیں کہ اس کا ہاتھ کسی مسلمان پر اٹھے بھول چوک ہوجائے تو دوسری بات ہے ورنہ مسلمان ہرگز مسلمان پر ہاتھ نہیں اٹھاتا ۔ جہاں وہ کفر کے لئے صاعقہ جان سوز ہوتا ہے مسلمان کے لئے نسیم جاں فزا (آیت) ” اشدآء علی الکفار رحمآء بینھم “۔ اس کی ساری عداوتیں اور دشمنیاں کافروں اور منکروں کے لئے ہیں اور مسلمان کے لئے اس کا وجود رافت ورحمت ہے حتی الوسع وہ کوشش کرتا ہے کہ مسلمان کے ساتھ کوئی اختلاف پیدا نہ ہو ۔ قتل کی تین صورتیں ہیں (1) عمد (2) شبہ عمد (3) خطائ۔ عمد سے مراد یہ ہے کہ قصدا آلات قتل سے مارا جائے ۔ شبہ عمد سے مقصد یہ ہے کہ مادے تو قصدا مگر آلہ ضرب مقضی الی الموت نہ ہو ۔ خطاء سے مراد یہ ہے کہ بھول چوک سے قتل کیا جائے ، یہاں مراد خطاء ہے ۔ چونکہ خون بہرحال گراں قیمت ہے اس لئے اس کا ضیاع وفقدان کسی صورت میں بلا کفارے کے نہیں رکھا ۔ دیت تخمینا ڈھائی ہزار روپیہ ہے ۔ حل لغات : سلطان : دلیل حجت ۔ غلبہ ۔ تحریر : آزاد کرنا ، رقبۃ ۔ گردن یعنی وہ غلام جس کی گردن میں غلامی کا جوا پڑا ہے ۔
Ayah 4:93

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا Open ayah 4:93 in the Quran reader

اور جو مسلمان کو عمدا قتل کرے ‘ اس کا بدلہ دوزخ ہے ، اس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور قاتل پر خدا کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور کدا نے اس کے لئے بڑا عذاب تیار کیا ہے (ف 1)

خون مسلم کی گرانمائیگی : (ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ خون مسلم اس قدر گرانمایہ ہے کہ اس کا ضیاع وسفک موجب علو ونار ہے یعنی بلاوجہ مشروح مسلمان کا قتل اتنا بڑا گناہ ہے کہ قابل عفو نہیں ، یہ اس لئے کہ مومن ومسلم دنیا میں حق کا علمبردار ہے ، خدا کی خلافت ونیابت اس سے وابستہ ہے ، وہ اس لئے زندہ ہے کہ خدا کے نام کو بلند کرے اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ دین فطرت کی خدمت واعلاء کے لئے خریدا جا چکا ہے ، اس کا ہر سانس خدائے ذوجلال کی صداقت وحقانیت کا اعلان ہے اور وہ بچپن سے لیکر بڑھاپے کے آخری وقت تک وقف ہے ، اس کا قتل خدا سے بغاوت ہے حق وصداقت میں جنگ ہے انسانیت عظمی کی توہین ہے اور حقوق الہیہ میں زبردست خیانت ۔
Ayah 4:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:94 in the Quran reader

مسلمانو ! جب تم خدا کی راہ میں (یعنی جہاد میں سفر کرو تو خوب دریافت کرو اور جو کوئی تمہیں سلام علیک کہے اسے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے تم دنیا کی زندگی کے لئے سامان کی تلاش میں ہو (کہ اسے لوٹو) سو خدا کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں (ف 2) تم بھی پہلے ایسے ہی تھے ، پھر اللہ نے تم پر فضل کیا پس خوب تحقیق کرو ، خدا تمہارے کاموں سے خبردار ہے ۔

(ف 2) اس آیت میں بتایا ہے کہ جہاد کے سلسلہ میں بعض دفعہ ایسے لوگ مل جاتے ہیں جن کو تم نہیں جانتے اور وہ السلام علیکم کہتے ہیں اور تم مال غنیمت کی ہوس میں انہیں کافر سمجھ کر قتل کردیتے ہو یہ درست نہیں ، مسلمان کے متعلق پوری احتیاط چاہئے خوب دیکھ بھال لو کہ کوئی شخص تمہاری بدظنی کا شکار نہ ہوجائے تھوڑی سی غفلت میں ایک مسلمان کا خون نہ بہہ جائے ۔ (آیت) ” فتبینوا “ میں ایک باریک نکتہ بھی مضمر ہے کہ بدظنی بری چیز ہے مگر حسن ظن کے معنی کا مل اطمینان کے نہیں باوجود مشرک آدمی کو مسلمان سمجھنے کے تحقیقات وتجسس جاری رکھو ۔ حل لغات : توبۃ من اللہ : یہاں توبہ سے مراد تخفیف ہے ۔ عرض : سامان ۔ مغانم : غنیمتیں ۔
Ayahs 4:95–96

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:95 in the Quran reader

معذوروں کے سوا جنگ سے بیٹھ رہنے والے مسلمان اور خدا کی راہ میں اپنی جان ومال سے جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں ، جو لوگ اپنی جان ومال سے جہاد کرتے ہیں ان کو خدا نے بیٹھ رہنے والوں پر مرتبہ میں بزرگی دی ہے اور اللہ نے ہر ایک سے بھلائی کا وعدہ کیا ہے اور بیٹھ رہنے والوں کی نسبت مجاہدین کے لئے اجر عظیم زیادہ کیا ہے (ف 1)

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:96 in the Quran reader

اس کی طرف سے درجے ہیں بخشش اور مہربانی ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

(ف 1) پیشتر آیات میں قتل خطاء وعمد کی برائی بیان فرمائی تھی ، اس کے بعد جہاد کے لئے سفر کا تذکرہ ہے ان آیات میں براہ راست مجاہد کے فضائل کا احصار ہے ۔ مجاہد کے معنی جدوجہد اور کوشش کے ہیں قرآن حکیم کی اصطلاح میں ضعف واضحلال کے خلاف موثر احتجاج کا نام جہاد ہے یعنی وہ لوگ مجاہد ہیں جو قوم میں قوت اور رفعت پیدا کرنے کے لئے لڑتے ہیں ۔ قائدین کی جماعت وہ ہے جو عافیت کوش ہیں جن کے دل میں ضعف اور بےبسی کے خلاف کوئی جذبہ نفرت نہیں ، ظاہر ہے پرجوش مجاہدین کے مقابلہ میں کاہل اور کم ہمت بزدل کوئی حیثیت نہیں رکھتے ، ان آیات میں اسی حقیقت جان بخش کا اظہار ہے کہ خدائے قوی و توانا نے باہمت اور بہادر انسانوں کو بےغیرت اور بےحس لوگوں پر ترجیح دی ہے اور آخرت وعقبی کی زندگی میں ان لوگوں کے درجات و فضائل کے بیشمار انواع ہیں ۔ (آیت) ” اولی الضرر “ سے مراد وہ معذور لوگ ہیں جو جہاد میں شریک نہیں ہو سکتے ۔ (آیت) ” اذا نصحوا للہ ورسلہ “۔ کی شرط کے ساتھ اتفاق رکھتے ہیں یعنی ان کے دل میں خدا اور رسول ﷺ کے لئے بےپناہ اخلاص ہے ، ایسے لوگ مجاہدین کے ساتھ برابر کے شریک ہیں ، انہیں بھی مجاہدین کا سا درجہ ملے گا ۔ حل لغات : من : احسان وامتنان فرمانا ۔
Ayah 4:97

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

جن لوگوں کی روح فرشتے ایسی حالت میں قبض کرتے ہیں کہ اپنی جانوں پر ظلم کررہے ہوتے ہیں ان سے فرشتے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے ، وہ کہتے ہیں کہ ہم زمین (مکہ) میں عاجز پڑے تھے فرشتے کہتے ہیں کیا خدا کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم بھی اس میں ہجرت کرتے سو ایسوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے ۔ (ف 1)

غلامی عذاب ہے : (ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ غلامی وبے بسی اللہ کا عذاب ہے اور وہ لوگ سخت ظالم ہیں جو حریت وآزادی جیسی نعمت سے محروم ہیں ، یہ وہ بخشش ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو عطا کر رکھی ہے ، فرشتے موت کا پیغام لاتے وقت ایسے لوگوں سے پوچھیں گے بتاؤ تم نے اس ضعف وبے بسی کے خلاف جہاد کیوں نہ کیا ؟ اور تم کیوں آزاد مطلق العنان ہو کر نہ رہے ؟ وہ کہیں گے ، ہمارے پاس جرات وجسارت نہ تھی ہم ایسے ملک میں رہتے تھے جہاں رہ کر مقابلہ ناممکن تھا ، فرشتوں کا یہ جواب ہوگا کیا خدا کی ساری زمین تمہارے ارادوں کی تکمیل کے لئے ناکافی تھی ؟ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ تم اس ملک وقوم کو چھوڑ دیتے جو تمہیں غلام رکھے ہوئے ہے اور وہاں جا بستے جہاں آزادی کے ساتھ تم اعلاء کلمۃ اللہ کے فریضے کو ادا کرسکتے ۔ بات یہ ہے کہ اسلام ایک زندہ وکامل نظام عمل اپنے ساتھ لایا ہے اور اس وقت تک اس کی برکات سے پوری طرح متمتع نہیں ہوا جاسکتا جب تک اس کے لئے آزاد فضا نہ پیدا کردی جائے ، اس لئے جہاد خارجی یا غیر متعلق مسئلہ نہیں بلکہ اسلامی نشوا اور تبلیغ و اشاعت کے لئے اساس واصل کی حیثیت رکھتا ہے ۔
Ayahs 4:98–99

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

مگر وہ ناتواں مرد اور عورتیں اور بچے کہ جو نہ حیلہ کرسکتے ہیں اور نہ راہ پا سکتے ہیں (ف 2)

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

پس ایسوں کو امید ہے کہ اللہ معاف کرے اور اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے ۔

غیر مستطیع کون ہیں ؟ (ف 2) ہجرت سے وہ لوگ معذور سمجھے جاسکتے ہیں جو غیر مستطیع ہوں یعنی ہجرت کے لئے کوئی حیلہ وامکان ان کے بس میں نہ ہو اور کاملا انکی باغ ڈور دوسروں کے ہاتھ میں ہو یا وہ جسمانی طور اس قابل نہ ہوں کہ ہجرت کرسکیں ، مگر جسمانی ضعف واضمحلال کا معیار کیا ہے ، اس کا اندازہ ذیل کے واقعہ سے کیجئے : حضور ﷺ نے مکہ میں بچے کھچے لوگوں کو پیغام ہجرت بھیجا اور کہا تم مکہ چھوڑ دو ، یہ آیات ہجرت ان تک پہنچیں ، جندب بن حمزہ ؓ جو شیخ فانی تھے شوق ہجرت میں بےتاب ہوگئے ، کہنے لگو ، بچو ، مجھے چارپائی پر لاد کر مدینے لے چلو ، میں غیر مستطیع ہوں ۔ بوڑھے صحابی کا یہ ولولہ ایمان کیا ہمارے نوجوانوں کو نہ شرمائے گا ؟
Ayah 4:100

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:100 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت (ف 1) سی آرامگاہیں اور فراخی پائے گا ۔ اور جو کوئی اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف ہجرت کرکے نکلے پھر (راہ میں) اس کو موت آپکڑے تو اللہ پر اس کا اجر ثابت ہوچکا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

(ف 1) مراغم کا اشتقاق رغم سے ہے جس کے معنی خاک آلودہ کرنے کے ہیں ۔ علی رغم الف فلاں کا محاورہ اسی سے ماخوذ ہے ، یعنی مہاجرین جب ظلم و استبداد کے خلاف اجتجاج کرتے ہوئے ملک چھوڑ دیں گے تو انہیں ایسی جگہیں مل جائیں گی جو دشمنوں کی پائمالی اور تحقیر کا باعث بنیں گی اور جس کی وجہ سے ظالم و سرکش کا تمام کبر و غرور خاک میں مل جائے گا ۔ ہجرت کے معنی جہاں یہ ہیں کہ بطور احتجاج کے ظالم ومستبد حکومت کا ملک چھوڑ دیاجائے ، وہاں یہ بھی ہیں کہ مسلمان نہایت شریف النفس اور آزاد قوم ہے ضمیر و مذہب کی غلامی اس کے نزدیک بدترین گناہ ہے مسلمان اجنبی ممالک میں رہ کر تکلیف وتنگ دستی کے مصائب کو برداشت کرسکتا ہے مگر ایک لمحہ کی غلامی اس کے لئے ناقابل برداشت ہے ۔ (آیت) ” فقد وقع اجرہ علی اللہ “۔ سے مراد یہ ہے کہ اصل میں جہاد و ہجرت کا تعلق قلب و دماغ کی بےچینی سے ہے ، وہ لوگ جو احساسات وخیالات میں کفر کے لئے سخت اضطراب ونفرت پنہاں رکھتے ہیں وہ مجاہد ہیں گو حالات انہیں منزل مقصود تک پہنچنے کی اجازت نہ دیں ۔ حل لغات : عفو ۔ بدرجہ قصوی معاف کرنے والا ۔ مراغما : ایسی جگہ جو دشمنوں کے لئے باعث توہین وتحقیر ثابت ہو ۔
Ayah 4:101

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 4:101 in the Quran reader

اور جب تم زمین میں سفر کرو اور کافروں کی طرف سے فتنہ میں پڑنے کا تمہیں خوف ہو تو نماز میں سے کچھ کم کردینا گناہ نہیں ہے ۔ بیشک کافر تمہارے صریح دشمن ہیں ۔ (ف 1)

فلسفہ صلوۃ خوف : (ف 1) ان آیات میں صلوۃ خوف کا ذکر ہے کہ جب میدان جنگ ہو ، دشمن کی طرف سے زبردست خطرہ ہو تو اس وقت فریضہ نماز کس طرح ادا کیا جائے ؟ مقصد یہ ہے کہ جنگ و جہاد مقصود بالذات نہیں ، دین کا اصل و اساس عبادت ونیاز مندی ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ نماز و عبادت کو بہرحال محفوظ رکھا جائے ، جہاد تو اس لئے ہے کہ مسلمان کو خدا کی عبادت کا آزادانہ حق ہو ۔ یعنی مسلمان میدان جنگ میں نماز پڑھ کر یہ ثابت کردیتا ہے کہ وہ بجز خدائے قہار کے اور کسی کے سامنے نہیں جھکتا اور کوئی جنگ اور لڑائی اسے غیر اللہ کی پرستش پر مجبور نہیں کرسکتی ۔ صلوۃ خوف کا فلسفہ یہ بھی ہے کہ مسلمان عین اس وقت جب حیوانی قوتیں بزور ہوتی ہیں اور جب دونوں طرف غیظ وغضب کے شعلے اٹھے ہوئے ہوتے ہیں ، اتنا خدا پرست اور حق و انصاف کے سامنے جھک جانے والا ہوتا ہے کہ ” نماز “ کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔ اس کا دل ان حالات میں بھی ملکی قوتوں سے معمور ہوتا ہے ۔ جس مذہب میں تلوار کے سایہ میں بھی شوق عبادت کی تکمیل ضروری ہو ، کیا وہ مادی وحیوانی مذہب ہو سکتا ہے ؟ حل لغات : طائفۃ : گروہ ۔
Ayah 4:102

وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:102 in the Quran reader

اور جب تو (اے محمد ﷺ ان ہو اور ان کے لئے نماز قائم کرے تو چاہئے کہ ایک جماعت مسلمانوں کی ہتھیار بند ہو کر تیرے پاس کھڑی ہو پھر جب وہ سجدہ کرچکیں تو تمہاری پشت پر (حفاظت کے لئے) جائیں اور دوسری جماعت آجائے جس نے نماز نہیں پڑھی ، اب وہ تیرے ساتھ نماز پڑھیں اور اپنا بچاؤ اور اپنے ہتھیار اپنے ساتھی رکھیں کافروں کی آرزو ہے کہ کاش تم اپنے ہتھیاروں اور اسباب سے غافل ہوجاؤ اور وہ تم پر یکبارگی دھاوا کردیں ، اور اگر تم بارش کی تکلیف یا بیماری کے سبب اپنے ہتھیار اتار رکھو تو تم پر کچھ گناہ نہیں ہے ، البتہ اپنا بچاؤ رکھو ۔ اللہ نے کافروں کے لئے رسوائی کا عذاب تیار کر رکھا ہے (ف 1)

مسلح رہو !: (ف 1) (آیت) ” وخذواحذرکم “۔ میں یہ بتایا ہے کہ بجز عذر کے ہر وقت تمہیں مسلح رہنا چاہئے تاکہ سپاہیانہ زندگی میں ہر وقت محسوس کی جائے ۔ مطلقا سفر میں بھی قصر درست ہے ، ان اور اذا کی قیود و اظہار واقعہ کے لئے ہیں ، تحدید حکم کے لئے نہیں ، سفر کی حد میں اختلاف ہے ، حضرت عمر ؓ کے نزدیک پورے دن کا سفر ، سفر ہے امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ‘ دن اور رات دونوں ہوں تو سفر کا اطلاق ہوگا انس بن مالک ؓ کہتے ہیں پانچ فرسخ کا اعتبار ہے ، حضرت امام حسین ؓ کا ارشاد ہے دو راتیں ہونا چاہئیں ۔ شعبی ، نخعی اور سعید بن جبیر ؓ کا قول ہے ۔ کوفہ سے مدائن تک کا فاصلہ سفر ہے یعنی تقریبا تین دن کا سفر ۔ غرضے کہ سفر کی تعریف میں اختلاف صاف صاف بتا رہا ہے کہ ان بزرگوں کے سامنے کوئی متفقہ فیصلہ نہیں جو جس نے عرف سفر کا مطلب سمجھا کہہ دیا ، بات بھی یہی ہے ۔ اصل میں اعتبار صرف عرف کا حاصل ہے ۔
Ayah 4:103

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا Open ayah 4:103 in the Quran reader

پھر جب تم نماز پڑھ چکو تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے خدا کو یاد کرو ، پھر جب تم کو اطمینان ہو تو پوری نماز پڑھو ۔ بیشک مسلمانوں پر اوقات معینہ (مقررہ وقتوں) میں نماز فرض کی گئی ہے (ف 2)

نماز فرض موقوت ہے : (ف 2) اس آیت میں بتایا ہے کہ نماز فرض موقوت ہے ، اس کا مقصد باوقت احساس فرائض ہے اور جب ہی حاصل ہوتا ہے جب پوری پابندی کے ساتھ نماز ادا کی جائے ۔
Ayah 4:104

وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠ Open ayah 4:104 in the Quran reader

اور ان کا پیچھا کرنے سے سست نہ رہو ۔ اگر تم بےچین ہو تو وہ بھی بےچین ہیں ، جیسے کہ تم بےچین ہو ، اور تمہیں خدا سے وہ امید ہے جو انہیں نہیں ہے ۔ اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۔ (ف 1)

ولا تھنوا : (ف 1) مقصد یہ ہے کہ مسلمان جہاد وجنگ میں دلیر اور بہادر ثابت ہو ، اس لئے کہ اس کے سامنے جو نصب العین ہے ‘ وہ زیادہ بلند اور پاکیزہ ہے ۔ کفار دنیائے دوں کے لئے لڑتے ہیں اور مسلمان اعلاء حق کے لئے ۔ مسلمان کے سامنے توقعات ویقین کا انبار ہے اور کافر عقبی کی جانب یکسر مایوس ۔
Ayahs 4:105–109

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًاۙ Open ayah 4:105 in the Quran reader

ہم نے تیری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ نازل کی ہے تاکہ جو کچھ خدا تجھے سمجھائے اس سے تو لوگوں کے درمیان انصاف کرے اور تو خیانتیوں کا حمایتی نہ ہو (ف 2)

وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 4:106 in the Quran reader

اور خدا سے بخشش مانگ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ Open ayah 4:107 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے دلوں میں دغا رکھتے ہیں ان کی طرف ہو کر تو جھگڑا نہ کر ، خدا دغا باز گنہ گاروں کو پسند نہیں کرتا ۔

یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا Open ayah 4:108 in the Quran reader

لوگوں سے باتیں چھپاتے ہیں ، خدا سے نہیں چھپا سکتے اور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ ان باتوں کے مشورے کرتے ہیں جو خدا کو پسند نہیں ہیں اور جو وہ کرتے ہیں خدا کے قابو میں ہے ۔

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١۫ فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ یَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 4:109 in the Quran reader

سنتے ہو تم وہ لوگ ہو کہ دنیاوی زندگی میں تم نے ان کی طرف سے جھگڑلیا لیکن قیامت کے دن انکی طرف سے کون جھگڑے گا یا کون ان کا وہاں کام بنانے والا ہوگا ۔

قرآن حقائق محسوسہ کا نام ہے : (ف 2) (آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق “ کے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ افق اعلی سے حضور ﷺ کے قلب اقدس پر نازل ہوا ہے وہ حق یعنی قطعی صلت وصفا سے حالات وظروف کے بالکل مطابق ہے ، علوم ومحسوسات کے موافق ہے اور کوئی چیز اس میں غیر موزوں اور غیر متناسب نہیں ۔ (آیت) ” بما ارک اللہ “ ۔ سے مراد یہ ہے ‘ یہ قرآن حتما وسعت ومشاہدہ کے ہم پلہ ہے ، اس کی قطعیت میں کوئی احتمال شک وشبہ نہیں ، یہ محسوس حقیقت ہے جس کی تجلیات قلب اطہر پر جلوہ کناں ہیں ۔ (آیت) ” ولا تکن للخآئنین خصیما “۔ اور اس قبیل کی تمام آیات جو اس کے بعد مذکور ہیں ، منصب نبوت کی توضیح کے لئے ہیں یعنی بتانا یہ مقصود ہے کہ نبی دنیا میں سچا حکم ہو کر آتا ہے اس سے غدر وخیانت کی توقعات اس کے منصب کی توہین ہے وہ ہر وقت جانب باری سے طالب عفو وبرکات رہتا ہے ، وہ کبھی خائن اور جھوٹے گروہ کی حمایت نہیں کرتا ، مگر انداز بیان اس نوع کا اختیار ہے جس سے وہ لوگ جو قرآن کے اسالیب بیان کی حکمتوں اور لطافتوں سے واقف نہیں ‘ بدظن ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں دیکھئے آپ کے پیغمبر معصوم نہیں ۔ قرآن حکیم آپ کو استغفار دے رہا ہے وہ نادان یہ نہیں سمجھتے کہ عصمت ومحفوظیت تو شرط اول ہے ۔ کسی بشر کا عہدہ نبوت پر سرفراز ہونا اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ اب وہ لوگوں کو گناہوں سے پاک کرے گا اور معصوم بنائے گا (آیت) ” ویزکیھم “۔ کے عمل تطہیر سے دلوں کی پاکیزگی اور نیکی سے معمور کر دے گا ، اس لئے خود اس کے متعلق عصمت کا درجہ ثابت کرنا ایسا ہی ہے جیسے خدا کے لئے کامل علم و حکمت یا توحید : تفرید ۔ کیونکہ خدا تو کہتے ہی اس ذات والا صفات کو ہیں جو علیم و حکیم ہو اور جس کا کوئی شریک نہ ہو ۔ نبی کا اشتقاق نبوۃ سے ہے جس کے معنی رفعت اور بلندی کے ہیں ۔ یعنی وہ انسان جو عام انسانوں سے بہت بلند وارفع ہے ۔ اصل میں ان آیات میں ایک خاص واقع کی طرف اشارہ ہے ۔ طعمہ ایک شخص تھا جس نے ایک زرہ چرائی اور کہا کہ یہودی نے چرائی ہے اور مسلمانوں کی ایک جماعت کو آمادہ کرلیا کہ وہ اس کی برات کا اظہار کریں اور یہودی کو متہم ٹھہرائیں ۔ یہ بات حضور ﷺ تک پہنچی ، آپ متاتل رہے تاآنکہ یہ آیات نازل ہوئیں جس سے طعمہ اور اس کے گروہ کو کامل مایوسی ہوئی ۔
Ayah 4:110

وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:110 in the Quran reader

اور جو کوئی برا کام کرے یا اپنی جان پر ستم کرے پھر خدا سے مغفرت مانگے تو وہ اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا ۔ (ف 1)

(ف 1) اس آیت میں ترغیب استغفار ہے یعنی ہر گناہ بارگاہ عفو میں قابل بخشش ہے ، ضرورت صرف اقدام توبہ کی ہے ، ایک دفعہ گناہوں سے نفرت ہوجائے اور نیکی کے لئے مضبوط عہد کرلے پھر فکر تعزیر نہیں ، خدا غفور اور رحیم ہے ۔ حل لغات : خصیم : جھگڑالو ۔ جھگڑا کرنے والا ۔ یختانون : مصدر اختیان ۔ خیانت کرنا ، نقصان پہنچانا ۔ خوان : بہت خیانت کرنے والا ۔ اثیم : مجرم ۔
Ayah 4:111

وَ مَنْ یَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَكْسِبُهٗ عَلٰى نَفْسِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:111 in the Quran reader

اور جو کوئی بدی کماتا ہے اپنی جان پر کماتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۔ (ف 1)

گناہ کی حقیقت : (ف 1) اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ گناہ چونکہ ذات باری سے متعلق نہیں اور اس کا نقصان صرف انسان کی اپنی ذات تک محدود ہے ‘ اس لئے تلافی ناممکن ہے ، یہ غلط عقیدہ ہے کہ گناہ بہرحال قابل تعزیر ہے اور خدا گناہوں کو بوجہ عادل ومنصف ہونے کے بخش نہیں سکتا ، اس طرح کے عقیدے سے ایک طرف تو کامل مایوسی پیدا ہوتی ہے اور دوسری جانب خدا کی توہین لازم آتی ہے ، کیونکہ وہ قادر ومختار کریم ہر وقت ہمارے گناہوں پر خط تنسیخ کھینچ سکتا ہے ، اس کا رحم وکرم ہر آن اسے بخشش وعفو پر آمادہ کرتا رہتا ہے ۔ اس کی ادنی توجہ ہمارے دفتر عصیاں کو پاکیزہ کرسکتی ہے ، اس کے متعلق یہ کہنا کہ وہ گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ” قانون عدل و انصاف “ کی قوت اس سے زیادہ بڑی ہے ، حالانکہ عدل و انصاف کا مطلب محض خدا کا حکم و ارادہ ہے جو کہہ دے وہ انصاف ہے اور جو کر دے وہ عدل ۔ کوئی قانون وضابطہ ایسا نہیں جسے وہ ماننے کے لئے مجبور ہو ۔ وہ بےنیاز ومتعال ہے ، وہ متعنن اور قانون ساز ہے اور کوئی بات ایسی نہیں جو اس کی ذات عالیہ سے بالا ہو ۔
Ayah 4:112

وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:112 in the Quran reader

اور جو کوئی خطا یا گناہ کمائے پھر اس کو بےقصور کے ذمے لگائے تو اس نے صریح گناہ اور بہتان کو آپ اٹھایا ہے (ف 2)

(ف 2) اس آیت میں اتہام کے متعلق فرمایا ہے کہ کھلا گناہ ہے ۔
Ayah 4:113

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ وَ رَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ اَنْ یُّضِلُّوْكَ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ١ؕ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا Open ayah 4:113 in the Quran reader

اور اگر خدا کا فضل اور رحم تجھ پر نہ ہوتا تو ان میں کا ایک فریق تجھے گمراہ کرنے کا قصد کر ہی چکے تھے حالانکہ وہ اپنی ہی جانوں کو گمراہ کرتے ہیں اور تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ، اور خدا نے تجھ پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تجھے وہ بات سکھائی ہے جو تو نہ جانتا تھا اور تجھ پر خدا کا بڑا فضل ہے ۔ (ف 3)

(ف 3) مقصد یہ ہے کہ طعمہ اور اس کی جماعت چاہتی یہ تھی کہ آپ ﷺ خائن لوگوں کی حمایت کریں اور یہودی کو محض اس لئے کہ وہ یہودی ہے ‘ مجرم قرار دیں ، مگر اس لئے کہ آپ ﷺ وحی والہام اور تعلیم واکتشاف کی نعمتوں سے بہرہ وافر رکھتے تھے ، ان کے فریب سراسر پاک دامن رہے ۔ حل لغات : یرم : باب رمی یرمی ، مصدر رمی ، معنی پھینکنا ۔ ڈالنا ۔ نجوی : سرگوشی ۔ کاناپھوسی ۔
Ayah 4:114

لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:114 in the Quran reader

ان کے اکثر پوشیدہ مشوروں میں خیر نہیں ہے مگر اس بات میں کہ کوئی خیرات کا یا کسی بھلی (ف 1) بات کا یا آپس میں صلح کروانے کا حکم دے اور جو کوئی مرضی خدا ڈھونڈنے کو ایسا کرے گا ہم اسے بڑا اجر دیں گے ۔

(ف 1) اس آیت میں منافقانہ سرگرمیوں سے روکا ہے منافقین کا قاعدہ یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ حیلے اور تدبیریں سوچتے رہتے ، قرآن حکیم نے فرمایا کوئی اہم نیکی کی بات ہو تو اس کے اخفا میں مضائقہ نہیں اور نہ عام سرگوشیاں اور کانا پھوسیاں ممنوع ہیں ۔
Ayah 4:115

وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠ Open ayah 4:115 in the Quran reader

اور جو کوئی بعد اس کے کہ اس پر ہدایت ظاہر ہوگئی رسول ﷺ کی مخالفت کریگا اور مسلمانوں کی راہ کے سوا کسی اور راہ کا پیرو ہوگا تو ہم اسے جس راہ پر وہ گیا ہے اسی راہ کے حوالہ کردیں گے اور اسے دوزخ میں ڈالیں گے اور وہ بہت بری جگہ ہے ۔ (ف 2)

الحاد : (ف 2) طعمہ بن ایبرق نے جب دیکھا کہ قرآن حکیم نے ہماری چالوں کو واشگاف طور پر بیان کردیا ہے کہ تو مرتد ہوگیا اور مکہ میں جا کر مر گیا ، ایسے لوگوں کے متعلق ارشاد ہے کہ یہ وہ ہیں جو ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد پھر بھی رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں ۔ آیت کا عام مفہوم یہ ہے کہ قرآن حکیم اور رسول خدا ﷺ کے بعد ہدایت ورشد کے تمام طریق واضح ہوجاتے ہیں ، اس لئے لازم ہے کہ ہر شخص کتاب وسنت کے مستحکم اصول سے تمسک اختیار کرے اور اس سلسلے میں جمہور مسلمانوں کے خلاف الگ عقائد وآراء نہ رکھے ۔ (آیت) ” غیر سبیل المومنین “۔ سے مراد مسلمانوں کے متفقہ اور متحدہ نظام عقائد وعمل کے خلاف الگ راستہ تجویز کرنا ہے بلاشبہ مسلمانوں کی روش عام کے متضاد متوازی عقائد الحاد وزندقہ کے مترادف ہیں جن سے منع کیا گیا ہے ۔
Ayah 4:116

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:116 in the Quran reader

بیشک اللہ یہ نہیں بخشتا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے نیچے جو گناہ ہے جسے چاہے بخش دیتا ہے (ف 3) اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا وہ بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔

غیر مغفور گناہ : (ف 3) اس آیت میں واضح الفاظ میں بتا دیا ہے کہ شرک ناقابل عفو گناہ ہے کیونکہ اس سے زیادہ گمراہ کن جاذب ادہام اور کوئی عقیدہ نہیں ، فطرت انسان کو اللہ تعالیٰ نے اتنا پاکیزہ اور بلند پیدا کیا ہے کہ وہ کسی طرح بھی شرک جیسی ذلت کو برداشت نہیں کرسکتی ۔ حل لغات : مرضات اللہ : خدا کی رضا مندیاں ۔
Ayahs 4:117–118

اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا١ۚ وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًاۙ Open ayah 4:117 in the Quran reader

مشرک لوگ خدا کے سوا نہیں پکارتے ، مگر مورتوں اور شیطان سرکش کو (ف 1)

لَّعَنَهُ اللّٰهُ١ۘ وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاۙ Open ayah 4:118 in the Quran reader

جس پر خدا نے لعنت کی اور اس نے کہا کہ میں تیرے بندوں میں سے ایک مقررہ حصہ لے لوں گا ۔

(ف 1) جہالت کی حد کہ پوجتے بھی ہیں تو اناث کو ، جیسے لات ‘ عزے ، منات یعنی ذہنی پستی کی یہ آخری مثال ہے کہ شرک نے انکے دماغوں کو ماؤف کردیا ہے اب انہیں دیویاں بھی خدا نظر آتی ہیں ۔ حالانکہ خدا کے لئے غلبہ وقوت ایسے خصائل ہیں جو بدیہی ہیں ۔ اناث کے معنی بعض لوگوں نے بتوں کے بھی لئے ۔ قال الحسن لم یکن حتی من احیاء العرب الاولھم صنم یبدونہ ولسمونہ اثنی بن فلان ۔ حضرت عائشہ ؓ کی قرات میں اوثانا بھی آیا ہے ، مگر صحیح وہی معنی ہیں جو قرات متواترہ میں مذکور ہیں ، ہوسکتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ وحضرت حسن ؓ نے اوثانا کو بطور تشریح معنی کے لکھا ہو ۔