4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsسراج البیان

Ayah 4:41

فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ Open ayah 4:41 in the Quran reader

پھر اس وقت کیا ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ بلائیں گے اور تجھے (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان مسلمانوں پر گواہ لائیں گے (ف 3)

شاہد اکبر : (ف 3) اس آیت میں شان رسالت پناہ ﷺ کا ذکر جمیل ہے اور آپ کے رتبہ ختمیت و کمال کا تذکرہ ہے ۔ قیامت کے دن جب تمام لوگ جناب باری کے سامنے پیش کئے جائیں گے تو بطور اتمام حجت کے پوچھا جائے گا کہ بتاؤ تمتک ہمارے احکام پہنچے تھے یا نہیں ؟ اور اس کے بعد انبیاء (علیہم السلام) ورسل کی جماعت فردا فردا بطور گواہ وشاہد کے پیش ہوگی اور کہے گی کہ خداوند ! ہم نے تیرے احکام بلاکم وکاست تیرے بندوں تک پہنچا دیئے ، اور اس کے بعد شاہد اکبر جلوہ فرما ہوگا یعنی خواجہ کون ومکان ﷺ اور گواہی دے گا کہ سارے نبی سچ کہتے ہیں ۔ انہوں نے تبلیغ حق میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا گویا آپ ﷺ کا وجود بجائے خود تصدیق ہے تمام نبوتوں کی ، اور آپ ﷺ نبیوں کے نبی اور تمام رسولوں کے رسول ﷺ ہیں ، آپ ﷺ کی تصدیق کے بغیر تمام نبوتیں ناقص ہیں ، آپ ﷺ کو درجہ کمال وختمیت عطا کیا گیا ہے کہ آخری فیصلہ شہادت پر موقوف ہے ۔
Ayah 4:42

یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ١ؕ وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:42 in the Quran reader

اس دن کافر اور رسول کے نافرمان یوں آرزو کریں گے کہ کاش وہ زمین میں کسی طرح ملا دیئے جائیں اور خدا سے کوئی بات چھپا (ف 4) نہ سکیں گے ۔

(ف 4) اس وقت وہ لوگ جنہوں نے آپ ﷺ کے مرتبہ ودرجہ کو نہیں پہچاتا ، پچتائیں گے اور کھلے لفظوں میں اپنے کتمان حق کا اعتراف کریں گے ۔ ﷺ حل لغات : شھید : گواہ ۔ مبلغ ، حاضر ۔
Ayah 4:43

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:43 in the Quran reader

مسلمانو ! جب تم نشہ میں ہو تو نماز کے پاس نہ جاؤ یہاں تک کہ سمجھنے لگو کہ کیا کہتے ہو (ف 1) ورنہ بحالت جنابت ‘ جب تک غسل نہ کرلو ، البتہ اگر مسافرت میں ہو تو مضائقہ نہیں ۔ اور اگر تم بیمار یا مسافر ہو یا تم میں سے کوئی پاخانہ سے آیا ہو یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرو ، پھر اپنے مونہوں اور ہاتھوں پر مسح کرلیا کرو ، بیشک خدا معاف کرنے والا بخشنے والا ہے (ف 2)

(ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ نماز کے وقت سکرو مستی میں نہ رہو ۔ بات یہ تھی کہ تحریم خمر کی آیات کے نزول سے پہلے شراب عام طور پر استعمال کی جاتی تھی ، حضرت عبداللہ بن عوف ؓ نے صحابہ ؓ اجمعین کی دعوت کی اور اس میں شراب میں بھی انتظام کیا ، سب نے پی اور مست ہوگئے ، مغرب کی نماز میں امام جب قرآن پڑھنے لگا تو غلط ملط آیا پڑھ گیا جس پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔ (آیت) ” حتی تعلموا ما تقولون “ ۔ کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ الفاظ کی صحت کا خیال رہے اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ نماز پڑھتے وقت نماز کی روح ومعنویت سے واقف رہنا نہایت ضروری ہے ۔ وہ شخص جو نماز کا سادہ سے سادہ ترجمہ بھی نہیں جانتا وہ کیونکر صحیح معنوں میں نماز کے کوائف روحانیہ سے لطف اندوز ہو سکتا ہے ! جہاں تک الفاظ کا تعلق ہے یہ اتنے سخت ہیں کہ بلا ترجمہ وعلم نماز پڑھنا قرآن کے نزدیک بمنزلہ سکرومستی کے ہے ، اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق دے اور ہماری نمازوں کو قبول فرمائے ۔ فلسفہ تیمم : (ف 2) معذوری کی حالت میں جب پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلینا کافی ہے مقصد یہ ہے کہ مسلمان خدا کی عبادت میں بہرحال کوشاں رہے اور کوئی معذوری اس کے لئے رکاوٹ کا باعث نہ ہو سکے ، چونکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو باقاعدہ وباضابطہ رہنے کی تلقین کی ہے اس لئے ضروری ہے کہ وہ بہرحال ضبط وانتظام میں فرق نہ آنے دے ۔ تیمم کے معنی قصد و ارادہ کے ہیں ۔ یعنی ضرورت اس بات کی ہے کہ ارادہ پاک وبلند رہے ۔ یہ کوئی ضروری نہیں کہ ہر حالت وکیفیت میں پانی ضروری ہو ۔
Ayahs 4:44–45

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 4:44 in the Quran reader

کیا تونے ان کی طرف نہ دیکھا جنہیں کتاب (ف 3) میں سے ایک حصہ ملا ہے ، وہ گمراہی خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم مسلمان راہ سے بہک جاؤ ۔

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا١٘ۗ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا Open ayah 4:45 in the Quran reader

اور اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور خدا کافی مددگار اور کافی دوست ہے ۔

(ف 3) (آیت) ” اوتوا نصیبا من الکتب “۔ سے اس طرف اشارہ ہے کہ اہل کتاب کے پاس احکام خداوندی کا کوئی کامل و صحیح صحیفہ نہیں ۔ گردش روزگار اور ان کی اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے چند صداقتیں اور سچائیاں ان کے پاس محفوظ رہ گئی ہیں ۔ مگر یہ ہیں کہ ان کو بھی پس پشت ڈال رہے ہیں اور دنیا کی جھوٹی خواہشات کے لئے حق وصداقت کو قربان کر رہے ہیں ، فرمایا یہ تمہارے اور حق کے لئے کھلے دشمن ہیں یہ جان رکھیں کہ خدائے ذوالجلال تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ حل لغات : سکری : جمع سکران ۔ بدمست جنبا ، جنبی ، ناپاک ۔ الغآئط : جائے ضرور ، قضائے حاجت ۔ صعیدا : مٹی ۔
Ayah 4:46

مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ١ۙ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:46 in the Quran reader

یہودیوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ باتوں کو ان کے ٹھکانوں (ف 1) سے بدل ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے تیرا قول سنا اور تیرا حکم نہ مانا ، اور سن کہ نہ سنا جائے تو ، اور اپنی زبانیں مروڑ کے اور دین میں طعن کرکے راعنا کہتے ہیں اور اگر وہ کہتے ہیں کہ ” ہم نے سنا اور مانا اور تو سن اور ہم پر نظر کر “۔ تو ان کے لئے بہتر ہوتا اور درست (ہوتا) لیکن خدا نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کی ہے پس وہ ایمان نہیں لاتے مگر تھوڑے ۔

تحریف کلمات : (ف 1) ان آیات میں یہود کی عادت تحریف کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ ذوق حق سے قطعا محروم ہیں ، یہ باتیں سنتے ہیں اور اسے بالکل بدل دیتے ہیں پھر طبعتیں اس درجہ مسخ ہوچکی ہیں کہ گستاخی ودل آزاری سے بھی باز نہیں آتے ۔ راعنا کی تفصیل گزر چکی ہے ، ان کا مقصد بہرحال ایذاء رسول ﷺ اور اپنی گستاخی کا اظہار ہوتا تھا ۔ وہ اس لفظ کو ذرا زبان داب کر کہتے ہیں جس سے ذم کا پہلو زیادہ نمایاں ہوجاتا اور اتنی سی بات سے خوش ہوجاتے ۔ قرآن حکیم کہتا ہے کہ ایسے لوگ اللہ کی رحمت سے دور رہتے ہیں اور بوجہ اپنی گستاخی وملعونیت کے نور ایمان سے ہمیشہ دور رہتے ہیں ۔ حل لغات : مواضع : جمع موضع ، جگہ ، مقام ۔ راعنا : ہماری طرف التفات فرمائیے ۔ کلمہ ترغیب ہے ۔ انظرنا : دیکھیے ، ملاحظہ فرمائیے ۔
Ayah 4:47

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 4:47 in the Quran reader

اے کتاب والو ! جو ہم نے نازل کیا ہے ‘ اس پر ایمان لاؤ کہ وہ سچ بتاتا ہے تمہارے پاس والے کو پیشتر اس کے کہ ہم بہت سے مونہوں کو مٹا دیں پھر ان کو ان کی پشت کی طرف پھیر دیں ، یا ہم ان پر لعنت کریں جیسے ہم نے ہفتے والوں پر لعنت کی تھی کہ وہ بندر بن گئے اور اللہ کا کام کیا ہوا ہے (ف 1)

(ف 1) اس آیت میں یہود کو دعوت ایمان دی ہے اور کہا ہے قرآن حکیم سابقہ حقائق ومعارف کا مصدق ہے ۔ یہ انہیں معارف وحکم کو پیش کرتا ہے جن سے تمہارے کان آشنا ہیں ۔ اس لئے تم پر لازم ہے کہ اس کو مانو اور یاد رکھو ، نہ مانو گے تو ایک وقت ایسا آئے گا جب تمہارے چہرے مسخ کر دئے جائیں گے ۔ طمس کے معنی مٹانے کے ہیں ” مفازۃ طامسۃ “ اس جنگل کو کہتے ہیں جس میں کوئی اثرونشان نہ رہ گیا ہو ۔ طمس اللہ علی بصرہ “ سے مراد ہے خدا نے اس کی بصارت کو ضائع کردیا ، وجوہ ۔ وجہ کی جمع ہے جس کے معنی چہرے کے ہیں ۔ کبھی کبھی وجوہ کا اطلاق اعیان وزعماء قوم پر بھی ہوتا ہے ۔ اس لئے بعض لوگوں نے اس کے یہ معنی بھی لئے ہیں کہ وقت سے پہلے پہلے ایمان لے آؤ جب تمہارے اعیان ووجوہ کو ذلت و حقارت سے نکال دیا جائے اور ان کی عزت خاک میں مل جائے ، چناچہ عبدالرحمن بن زید کہتے کہ یہ پیش گوئی پوری ہوچکی ۔ یہود قریضہ ونضیر کو ان کی بستیوں سے نکال کر اور ھات ویمانء میں جلا وطن کردیا گیا ۔ یہ معنی درست ہیں مگر تھوڑے سے تکلف کے ساتھ ، قرآن حکیم کی زبان کی شگفتگی اور سادگی ان معنوں کی زیادہ مؤید نہیں ۔ اگر مقصد یہی ہوتا تو فنردھا کی بجائے فنردھم علی ادبارھم ہونا چاہئے تھا ۔ بات یہ ہے کہ قیامت کے دن جو سزائیں مقرر ہیں وہ اعمال سیئہ کے بالکل متناسب ہیں ، دنیا میں ان لوگوں نے چوں کہ قرآن حکیم کی جانب کوئی توجہ نہیں کی ‘ اس لئے آخرت میں ان کے چہروں کو مسخ کردیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہی تمہاری عدم توجہی کی عملی سزا ہے ۔
Ayah 4:48

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا Open ayah 4:48 in the Quran reader

بیشک اللہ شرک کو نہیں بخشتا اور اس کے نیچے جسے چاہے بخش دے اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا ، اس نے گناہ عظیم باندھا (ف 2)

ناقابل معافی جرم : (ف 2) اس آیت میں بتایا ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک وسہیم ٹھہرانا ناقابل عفو گناہ ہے ، سارے گناہ ، تمام عیب بخشے جاسکتے ہیں ، مگر جو اللہ کے جلال وجبروت پر کھلا حملہ ہے کسی طرح بھی نہیں بخشا جاسکتا ہے ۔
Ayahs 4:49–51

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:49 in the Quran reader

کیا تونے ان کی طرف نہ دیکھا جو اپنی جانوں کو پاک کہتے ہیں (یعنی یہود) بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے پاک کرتا ہے (ف 3) اور ایک دھاگے کے برابر ان پر ظلم نہ ہوگا ۔

اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:50 in the Quran reader

دیکھ اللہ پر کیسا جھوٹ باندھتے ہیں اور یہی صریح گناہ اس کو کافی ہے ۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا Open ayah 4:51 in the Quran reader

کیا تونے ان کی طرف نہ دیکھا جنہیں کتاب میں سے حصہ ملا ہے کہ وہ بتوں اور شیطان پر ایمان لائے ہیں اور وہ کفار (قریش) کے حق میں کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کی نسبت زیادہ راہ پائے ہوئے ہیں ۔

تین بڑے بڑے عیب : (ف 3) یوں تو یہودی دین فطرت سے کوسوں دور تھے اور ان کی کوئی بات بھی دینی اور مذہبی نہ تھی ، مگر ان کو ہمیشہ یہ وہم رہتا کہ وہ ساری دنیا کے لوگوں سے بہتر و افضل ہیں ، وہ علی الاعلان کہتے ۔ (آیت) ” نحن ابنآء اللہ واحبآء ہ “ کہ ہم خدا کے فرزند اور مقرب ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، اس تزکیہ نفس اور کبر کی تمہیں اجازت نہیں ۔ دوسرا عیب ان میں یہ تھا کہ وہ اپنی خواہشات نفس کے لئے تورات کے احکام بدل دیتے ۔ تیسری برائی مداہنت کی برائی تھی ، وہ مشرکین مکہ کے احوال عواطف کا ہمیشہ ساتھ دیتے اور مسلمانوں کی مخالفت میں اپنے اصول دینیہ کی بھی چنداں پروانہ کرتے ۔ حل لغات : ادبار : جمع دبر پیچھا ، پیٹھ ، اصحب السبت : ہفتہ کے دن خدا کی ہدایات کو پس پشت ڈالنے والے اسرائیلی ۔
Ayahs 4:52–53

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:52 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور جس پر خدا نے لعنت کی اس کے لئے تو کوئی مددگار نہ پائے گا (ف 1)

اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًاۙ Open ayah 4:53 in the Quran reader

کیا ان (یہودیوں) کا سلطنت میں کچھ حصہ ہے پھر تو لوگوں کو ایک تل برابر بھی نہ دیں گے ۔

(ف 1) ان آیات میں اس منافقانہ ذہنیت کا اظہار ہے فرمایا کہ یہ خدا کی رحمت سے دور ہیں اور جو لوگ اس کی رحمت سے دور ہیں ‘ ان کا کوئی دوست نہیں ۔ حل لغات : الجبت : بت ۔ الطاغوت : کاہن ۔ نقیرا : اقل ۔ قلیل ۔
Ayah 4:54

اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا Open ayah 4:54 in the Quran reader

کیا لوگوں سے اس چیز پر حسد کرتے ہیں جو خدا نے انہیں اپنے فضل سے دی ہے سو ہم نے تو ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کو کتاب اور حکمت دی اور بڑی سلطنت بخشی تھی (ف 1)

راز حیات : (ف 1) ان آیات میں یہودی بخل وحسد کا ذکر ہے کہ یہ قومیں اخلاق حسنہ سے بالکل عاری ہیں ، اسلام کا انکار بھی اسی جذبہ حسد وبخل کے ماتحت ہے ، یہ نہیں چاہتے کہ دنیا کی کوئی قوم سرفرازی وسربلندی سے مفتحز ہو ۔ اس بناء پر جب یہ دیکھتے ہیں کہ مسلمان خدا کے فضل و عنایات سے بہر کیف بہرہ ور ہیں اور دین ودنیا کی نعمتیں اور کرامتیں انہیں حاصل ہیں تو مارے حسد وبخل کے جل اٹھتے ہیں ، قرآن حکیم ارشاد فرماتا ہے آل ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی تمہارے سامن ہے ، کیا ہم نے انہیں کتاب و حکمت کے ساتھ ساتھ حکومت وخلافت نہیں بخشی اور کیا وہ وعظ و ارشاد کے علاوہ تاج وتخت کے وارث نہیں تھے ؟ پھر تمہیں یہ کیا ہوگیا ہے کہ مسلمانوں میں جب دنیا ودین کا اجتماع دیکھتے ہو تو چلا اٹھتے ہو ۔ یہ تو ہماری سنت و طریق ہے کہ جو قوم صحیح معنوں میں ہمارے پیغام کو سمجھ لیتی ہے ہم انہیں کتاب حکیم بھی دیتے ہیں اور فتح عظیم بھی ۔ بات یہ ہے کہ خدائی احکام و شریعت کا منشا صرف جذبہ نیاز مندی کا امتحان ہی نہیں ‘ بلکہ ہماری تمام قوتوں کو ابھارنا بھی ہے وہ قومیں جو اس راز حیات کو سمجھ لیتی ہیں ‘ ہمیشہ فراز ترقی تک پہنچ جاتی ہیں اور جن کے نزدیک مذہب محض جمود قسفل کا نام ہے وہ نکمے اور ذلیل رہتے ہیں ، خیرالقرون میں دیکھئے کہ ایک نکمی ، ذلیل اور جاہلی قوم انہیں نمازوں ، روزوں اور فرائض ونواہی سے ساری دنیا پر چھا جاتی ہے اور اس کی رگ رگ میں زندگی کا خون دوڑنے لگتا ہے ان کا دماغی افق اتنا بلند ہوجاتا ہے کہ اقبال حشمت کا آفتاب انہیں سجدہ کر کے طلوع ہوتا ہے ، ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ انہوں نے مذہب کی صحیح روح کو سمجھا اور اس پر عمل کیا ، آج بھی اگر مسلمان اسلام کے صحیح روح کو سمجھا اور اس پر عمل کیا ، آج بھی اگر مسلمان اسلام کے صحیح اور سلجھے ہوئے قانون کو مان لیں ، تو ان میں وہی پہلی زندگی پیدا ہو سکتی ہے ۔
Ayah 4:55

فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ١ؕ وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا Open ayah 4:55 in the Quran reader

پھر ان میں سے کوئی اس کتاب پر ایمان لایا اور کوئی اس سے ہٹا رہا اور جلتا جہنم کافی ہے (ف 2)

(ف 2) اس آیت میں بتایا ہے کہ جب حق وصداقت کا آفتاب سطح ارض پر چمکا ہے بعض لوگوں نے اسے چشم بصیرت سے دیکھا اور محسوس کیا ہے اور بعض اندھوں نے انکار کیا ہے ، اس لئے اسلام کے متعلق بھی یہ تقسیم ناگزیر تھی ، آپ (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے انکار وتمرد پر متعجب نہ ہو ۔
Ayah 4:56

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:56 in the Quran reader

جو ہماری آیتوں سے منکر ہوئے ہیں ان کو ہم آگ میں ڈالیں گے ، جب ان کا چمڑا گل جائے گا تو ہم ان کو دوسرا چمڑا بدل دیں گے تاکہ عذاب چکھتے رہیں ، بیشک خدا غالب حکمت والا ہے (ف 3)

(ف 3) مقصد یہ ہے کہ مجرموں کی سزائیں تجدید پذیر ہوتی رہیں گی اور ہر گاہ انہیں تکلیف محسوس ہوتی رہے گی ، قیامت کے دن ہمیں ایک خاص قسم کا جسم عنایت کیا جائے گا جو تفخصات وتعینات کے اعتبار سے بالکل ہمارا یہی جسم ہوگا ۔ مگر بعض خصوصیات اس میں زائد ہوں گی اور انہیں خصوصیات کے مطابق جن کی تفصیل ہم اس دنیا میں نہیں جان سکتے ، وہ اجسام عذاب وثواب کے متحمل ہوں گے ، (آیت) ” سوف نصلیھم “۔ سے مراد تحقیق وقوع ہے یعنی یہ عذاب ضرور آکے رہے گا ، اس کے وقوع وتحقق میں کوئی شک وشبہ نہیں ۔ حل لغات : ملک : بادشاہی ۔ حکومت ، سعیرا : بھڑکتا ہوا ۔ جلود : جمع جلد ، کھلڑی ۔
Ayah 4:57

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١٘ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا Open ayah 4:57 in the Quran reader

اور وہ جو ایمان لائے اور نیک کام کئے ، ہم انہیں باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ان کے لئے وہاں ستھری عورتیں ہوں گی ، اور ہم انہیں سایہ دار (ف 1) چھاؤں میں داخل کریں گے ۔

(ف 1) اہل ایمان و فلاح کا ذکر ہے کہ انہیں باغات وانہار میں جگہ دی جائے گی اور ان کے لئے گھنے سائے مہیا کئے جائیں گے ۔ یعنی وہاں نظر وقلب کی مسرت کے لئے ہر وہ چیز جو ضروری ہے ، حاصل ہوگی اور عروسان فطرت پوری طرح بن سنور کر اہل جنت حضرات کے لئے جلوہ آراء ہوں گی اور پھر وہاں سب سے بڑی مسرت یہ ہوگی کہ پاک بیویاں بھی زینت دہ آغوش ہوں گی ، یعنی دنیا میں جتنی مسرتیں اور سعادتیں ہیں وہاں سب کا حصول ہوگا اور علی وجہ الکمال کہ کسی طرح کا نقص وتکدر ان میں موجود نہ ہو ۔
Ayah 4:58

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 4:58 in the Quran reader

خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتوں کو ان کے اہل کی طرف پہنچا دیا کرو اور جب تم لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کرو ، اللہ تمہیں اچھی نصیحت دیتا ہے اور اللہ سنتا دیکھتا ہے (ف 2) ۔

اداء امانت : (ف 2) امانت کا لفظ جہاں معاملات میں امانت حقوق پر بولا جاتا ہے وہاں پورے دین وضابطہ شرع پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے ، چناچہ ارشاد ہے (آیت) ” انا عرضنا الامانۃ علی السموت والارض والجبال فابین ان یحملنھا “۔ الخ یعنی ذمہ داری کا یہ پروگرام جس کا نام اسلام و فطرت ہے بجز انسانوں نے اور سی کے حصہ میں نہیں آیا ۔ پس ادائے امانت کے معنی نہایت وسیع و عریض ہیں یعنی ہر حق اور فرض کی ادائیگی ۔ اسی لئے اس کی ایک صورت یہ بیان کی کہ جب لوگوں میں فیصلہ کرو تو عدل کو ہاتھ سے نہ جانے دو یعنی مسلمان کی ہر بات عادلانہ ومنصفانہ ہو ، بڑی سے بڑی قوت انہیں حق کے اظہار سے مانع نہ ہو ۔ کوئی لالچ ، کوئی ترغیب اور کوئی ڈر مسلمان کو جورو تعدی پر آمادہ نہیں کرسکتا ، مسلمان دنیا میں پیکر عدل امانت بن کر آیا ہے ، اس لئے اس سے کسی مداہنت ومنافقت کی توقع اس کی فطرت کے خلاف ایک مطالبہ ہے جس کی کبھی تکمیل نہیں ہو سکتی ۔ حل لغات : اولی الامر : صاحب امرونفوذ جماعت ۔ لقد امر امرا ابن ابی کشہ ۔ تنازعتم : مراد اختلاف ہے ۔
Ayah 4:59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠ Open ayah 4:59 in the Quran reader

مسلمانو ! اللہ کی اور رسول (علیہ السلام) کی اور ان اختیار والوں کی جو تم میں سے ہیں اطاعت کرو ، پھر اگر کسی شے میں تمہارا جھگڑا ہوجائے تو اس کو خدا اور رسول ﷺ کی طرف لے جاؤ ، اگر تم اللہ پر اور آخری دن پر ایمان رکھتے ہو ، یہ بہتر ہے اور اچھا ہے انجام میں (ف 1)

جذبہ اطاعت کا صحیح حل : (ف 1) اس آیت اطاعت میں دراصل اداء امانت کی صحیح تشریح مذکور ہے یعنی ہر شخص کے دل میں ایک جذبہ اطاعت پنہاں ہے ، ہر انسان فطرتا چاہتا ہے کہ وہ کسی زبردست کے سامنے اپنی تمام قوتوں کے ساتھ جھک جائے ، اسے ایک ایسے فارقلیط یا تسلی دینے والے کی ضرورت ہے جو ہر اضطراب اور پریشانی کے وقت اس کے لئے سرمایہ تسکین مہیا کرے ، یعنی جذبہ اطاعت وانقیاد کی تکمیل کیونکر ہو ؟ یہ ایک سوال ہے جو دل میں پیدا ہوتا ہے ۔ قرآن حکیم نے آیت مذکورہ میں اس سوال کا جواب دیا ہے ، فرمایا ، خدا ‘ رسول اور حاکم عادل جو مسلم ہو ‘ اطاعت کے قابل ہیں ۔ یعنی شرعیات واخلاق میں خدا اور رسول کی باتیں مانو اور وقتی اور ہنگامی مصالح میں اپنے میں سے صاحب حکم وامر کی اطاعت کرو ، اور اگر تم میں اور حاکم وقت میں کوئی اختلاف پیدا ہوجائے تو پھر بطور آخری حکم کے صرف اللہ کے رسول کو سمجھو ، مقصد یہ ہے کہ بطور حجت و فیصلہ کے مسلمان صرف خدا اور اس کے پیغمبر ﷺ کا تابع ہے اور اسے حق حاصل ہے کہ حاکم یا قوت حاکمہ سے دیانت داری کے ساتھ اختلاف رکھ سکے ۔ اولوالامر کون ہیں : اس لفظ کے مصداق ومحل میں اختلاف ہے اور مندرجہ ذلیل معانی مراد لئے جاتے ہیں ۔ 1۔ اجماع امت ۔ 2۔ خلفائے راشدین ۔ 3۔ سالار عسکر ۔ 4۔ علمائے حق ۔ 5۔ آئمہ معصومین ۔ اگر تھوڑے سے غور وفکر کو بروئے کار لایا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس سے مراد صاحب نفوذ قوت حاکمہ ہے ، چاہے وہ بصورت اجماع ہو اور چاہے بصورت حکومت ، چاہے علمائے حق کو یہ حاصل ہو اور چاہے آئمہ معصومین کو ، اس لئے کہ امر کے معنی لغۃ اثر ونفوذ کی قوت کے ہیں ۔ مطلقا حاکم وقت اولوالامر نہیں ۔ البتہ جائز امور میں ان کی اطاعت بحکم اطاعت رسول ضروری ہے ۔
Ayahs 4:60–61

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖ١ؕ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:60 in the Quran reader

کیا تونے انکی طرف نہ دیکھا جن کا یہ دعوی ہے کہ جو کلام تجھ پر نازل ہوا اور جو تجھ سے پہلے نازل ہوا ہے ہم اسے مانتے ہیں ، ان کا ارادہ ہے کہ شیطان کی طرف فیصلہ کے لئے مقدمہ لے جائیں ، حالانکہ انہیں حکم ہوچکا ہے کہ اس کا انکار کریں اور شیطان انہیں گمراہی میں دور لے جانا چاہتا ہے ۔ (ف 2)

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاۚ Open ayah 4:61 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رسول کی طرف اور جو خدا نے نازل کیا ہے اس کی طرف آؤ تو تو دیکھتا ہے کہ تیری طرف سے ہٹ کر کے رہتے ہیں ۔

(ف 2) طاغوت سے مراد ہر غیر شرعی ادارہ حکومت ہے ، مسلمان مجبور ہے کہ اس کی مخالفت کرے ، البتہ شیطان یہ چاہتا ہے کہ مسلمان بزدل رہے اور اس کی گردن ہمیشہ ماسوی اللہ کے ڈر سے جھکی رہے ۔ حل لغات : تاویل : انجام نتیجہ ۔ صدود : رکنا ہٹنا ۔
Ayahs 4:62–63

فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا Open ayah 4:62 in the Quran reader

سو اس وقت کیا ہوگا جب ان کے اعمال کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ان پر مصیبت آئے گی ، پھر تیری طرف اللہ کی قسمیں کھاتے آئیں گے کہ ہمارا مقصد سوائے بھلائی اور ملاپ کے اور کچھ نہیں تھا (ف 1)

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا Open ayah 4:63 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کا حال اللہ جانتا ہے سو تو ان سے چشم پوشی کر اور انہیں نصیحت کر اور ان کے حق میں اثر کرنے والی بات کہہ ۔

(ف 1) ان آیات میں منافقین کی نفسیات کو بیان کیا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت سے کتراتے ہیں ، اور حتی الوسع کوشش کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں حب رسول ﷺ کا جذبہ دن بدن کم ہوتا جائے اور جب عناد رسول ﷺ کی وجہ سے عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں تو پھر اخلاص ومودت کی قسمیں کھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو محض احسان وتوفیق کے حامی ہیں ، ہماری تمام تگ ودو اس لئے ہے کہ دونوں گروہوں میں صلح وامن قائم ہوجائے ۔ فرمایا یہ منافقت ہے ، خدا خوب جانتا ہے اس لئے آپ (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے تعرض نہ کریں اور وعظ و حکمت سے انہیں متاثر کرنے کی کوشش نہ کریں ۔
Ayah 4:64

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:64 in the Quran reader

اور ہم نے ہر رسول اسی مراد سے بھیجا ہے کہ خدا کے حکم سے وہ مانا جائے (ف 2) اور اگر یہ لوگ جس وقت اپنی جانوں پر ظلم کریں ‘ تیرے پاس چلے آئیں ‘ پھر اللہ سے معافی مانگیں اور رسول بھی ان کے لئے مغفرت چاہے تو وہ خدا کو معاف کرنے والا مہربان پائیں گے ۔

رسول بجائے خود مطاع ہے : (ف 2) اس آیت میں بتایا ہے کہ منافقین اگر حضور ﷺ کے پاس آکر سچے دل سے طلب مغفرت کریں اور رسول ﷺ ان کے خلوص سے متاثر ہو کر ان کے لئے استغفار کرے تو پھر اللہ تعالیٰ انہیں بخش دیں گے ۔ یعنی جب تک ان کے خلوص پر مہر رسالت ثبت نہ ہو اور جب تک خدا کا پیغمبر ﷺ یہ نہ کہہ دے کہ یہ خالصۃ اب میرے ہمنوا ہوگئے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ انہیں عفو توبہ کا مستحق قرار نہیں دیتا ۔ (آیت) ” الا لیطاع باذن اللہ “ سے مراد یہ ہے کہ رسول مطاع مطلق ہے ، اس کا وجود بجائے خود حجت وسند ہے ، اس کی ہر ادا صبغۃ اللہ میں رنگین ہوتی ہے ۔ اس کا ہر قول وفعل مستفاد ہوتا ہے منشائے الہی سے (آیت) ” وما ینطق من الھوی ان ھو الا وحی یوحی “۔ اس لئے یہ کہنا کہ رسول ﷺ کی ذات وافعال لازم اطاعت نہیں قرآن ناطق کی توہین ہے ۔ وہ لوگ جو منصب نبوت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ، کسی طرح بھی اسوہ حسنہ کو قرآن سے الگ کوئی چیز قرار نہیں دے سکتے ۔
Ayahs 4:65–66

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 4:65 in the Quran reader

سو (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیرے رب کی قسم یہ لوگ مسلمان نہیں ہو سکتے جب تک اپنے جھگڑے میں تجھے منصف نہ بنائیں ، پھر جو تو فیصلہ دے اس پر اپنے دلوں میں تنگ نہ ہوں اور تابعدار بن کر تسلیم کریں (ف 1) ۔

وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ Open ayah 4:66 in the Quran reader

اور ہم انہیں اگر حکم دیتے کہ اپنے تئیں قتل کر ڈالو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو وہ (منافق) نہ کرتے مگر تھوڑے سے اگر وہ کام کرتے جس کی ان کو نصیحت کی گئی ہے تو ان کے لئے بہتر ہوتا اور زیادہ ثابت رکھنے والا ہوتا دین میں ۔

حکم مطلق : (ف 1) اس آیت میں ربوبیت مطلقہ کی قسم کھا کر بیان کیا ہے کہ اطاعت رسول لازمی ولابدی شے ہے ، یعنی ربوبیت عامہ کا تقاضا یہ ہے کہ رسول ﷺ کے ہر حکم کے سامنے گردنیں جھک جائیں ، جب تک اطاعت و تسلیم کا رضا کارانہ جذبہ دلوں میں موجود نہ ہو ‘ ایمان ویقین کی شمع روشن نہیں ہو سکتی ۔ قرآن حکیم یہی نہیں فرماتا کہ رسول ﷺ کے سامنے اپنی گردنوں کو جھکادو ‘ بلکہ وہ یہاں تک اس کی تائید و توثیق فرماتا ہے کہ دل کے کسی گوشے میں بدعقیدگی کی تاریکی موجود نہ رہے ۔ یقین وثبات کے پورے جذبات کے ساتھ نیاز مندی وعقیدت کے تمام ولولوں کے ساتھ مومن کے لئے ضروری ہے کہ آستانہ رسالت پر جھک جائے ، یعنی جوارح واعضاء کے ساتھ دل کا کونا کونا ضیاء اطاعت رسول ﷺ سے بقعہ نور بن جائے ، ورنہ الحاد زندقہ کا خطرہ ہے ۔ وہ لوگ جو قرآن کو تو بظاہر مانتے ہیں لیکن سنت واسوہ رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں ‘ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ وہ نصوص قرآن کی مخالفت کر رہے ہیں اور وہ اسلام کی اس عملی زندگی سے محروم ہیں جو اصل دین ہے ۔
Ayahs 4:67–68

وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:67 in the Quran reader

اور اس صورت میں ہم انہیں بڑا ثواب دیتے ۔ (ف 2)

وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا Open ayah 4:68 in the Quran reader

اور انہیں راہ راست دکھلاتے ۔

(ف 2) ان آیات میں نفاق و ایمان کی نفسیات بیان فرمائی ہیں کہ منافق میدان جہاد میں سربکف نہیں نکل سکتے اور تثبت و استقلال کی نعمتوں سے محروم ہوتے ہیں ، یہ اس لئے کہ جہاد وقربانی موقوف ہے جذبہ ایمان وایقان کی مضبوطی پر اور وہ دل جن میں ایمان کی شمع فروزاں کبھی روشن ہی نہیں ہوئی ، کیونکر ایثار وتضحیہ کے لئے آمادہ ہو سکتے ہیں ، پس جہاد و ہجرت اور ایثار وقربانی معیار ہے ایمان کی گہرائیوں کا جس درجہ کوئی نفس زکیہ پرجوش اور مجاہد ہے اسی درجہ اس کا قلب ایمان کی نعمتوں سے مالا مال ہے اور جس قدر اس میں دون ہمتی اور بزدلی ہے وہ نفاق ہے ۔
Ayahs 4:69–70

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِیْقًاؕ Open ayah 4:69 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ کا اور رسول ﷺ کا تابعدار ہوا سو وہی لوگ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے اپنا فضل کیا ہے (یعنی) نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں اور نیکوں کاروں کے ساتھ ہوں گے اور یہ عمدہ رفیق ہیں (ف 1)

ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا۠ Open ayah 4:70 in the Quran reader

یہ اللہ کا فضل ہے اور اللہ کافی جاننے والا ہے ۔

حسن رفاقت (ف 1) آیت کے شان نزول میں معتدد واقعات بیان کئے جاتے ہیں ۔ 1۔ ثوبان ؓ کا اشتیاق رفاقت یعنی اس کا دریافت کرنا کہ حضور ﷺ کیا ہم بھی شرف زیارت سے اس وقت محفوظ ہو سکیں گے جبکہ آپ ﷺ کے لئے ” مقام محمود “ کی بلندیاں مختص ہوں گی ؟ ثوبان ؓ حضور ﷺ کے ایک ادنی غلام تھے ۔ 2۔ چند انصار کا پوچھنا کہ ہم کیونکہ آپ ﷺ کی معیت ورفاقت حاصل کرسکتے ہیں ؟ 3۔ ایک عاشق رسول ﷺ انصاری کا کہنا کہ حضور ! ہم اس دنیا میں آپ ﷺ کی ادنی سی مفارقت گوارا نہیں کرسکتے ، قیامت کے دن کیا ہوگا چہرہ انور سے اکتساب مسرت کا موقع کیونکر ملے گا ؟ 4۔ عام مسلمانوں کا مطالبہ رفاقت وصحبت : مقصد بہرحال یہ ہے کہ جذبہ اطاعت سے سرشار مومنی کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں رفاقت کے بہترین درجہ اور مواقع ہیں اور ظاہر ہے صرف صحب ورفاقت ہی ایک گراں قیمت اعزاز ہے ، جو رب ودود کی طرف سے بخشا جائے گا ، یعنی وہ لوگ جو ” صلحائ “ کے درجہ علیا تک نہیں پہنچے ، بجز جذبہ اطاعت وحب صلاح صلحاء کے رفیق ہوں گے اور وہ صلحاء جنہیں مرتبہ ” صدیقیت “ حاصل نہیں ہوا ۔ اور وہ جو ” صدیق “ تو ہیں مگر جام شہادت نوش نہیں کیا ‘ وہ شوق شہادت کی وجہ سے شہداء کی پرانوار محبت سے استفادہ کرسکیں گے ۔ اور جو وہ شہید ہیں پر انبیاء کے مقام رفیع کو نہیں پایا ، انبیاء کے زمرہ عالی قدر میں رہیں گے ۔ جس طرح ستارے ماہتاب کے جلو میں رہنے سے ماہتاب نہیں بن جاتے اسی طرح محض رفاقت انہیں ان درجات پر فائز نہیں کرسکتی اور جس طرح باوجود رفاقت وصحبت کے انجم تاباں اور مہرمنیر میں ایک واضح فرق ہے ‘ اسی طرح ان مدارج میں ایک بین امتیاز باقی رہے گا ۔ یہاں اعطاء مدارج کا سوال نہیں ‘ اعطاء رفاقت کا ذکر ہے یہی وجہ ہے پہلے انبیاء کا ذکر فرمایا ہے ، حالانکہ اگر ذکر مراتب ومدارج کا ہوتا تو پہلے صلحاء کا ذکر چاہئے تھا اور (آیت) ” حسن اولئک رفیقا “۔ کے معنی تو ہرگز ہر گز کسی سلسلے کے متحمل نہیں ۔
Ayah 4:71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا Open ayah 4:71 in the Quran reader

مومنو ! اپنا بچاؤ کرلو ، سوجدی جدی فوج بن کے کوچ کرو یا اکٹھے نکلو (ف 2)

حذواحذرکم : (ف 2) حذر کے معنی علامہ زمحشری نے یہ کہے ہیں کہ وہ ہر شے جو تمہیں دشمنوں سے محفوظ رکھے ، چاہے وہ از قبیل تدابیر ہو چاہے از قسم اسلحہ ، یعنی مسلمان بہرحال محتاط ‘ بیدار اور خطرناک رہے ، دشمن اس کے داب و جلال سے لرزہ براندام ہو ، آہ ! آج مسلمان کا علم ان آیات پر بالکل نہیں ، نتیجہ یہ ہے کہ ہر نوع کی ذلتوں اور حقارتوں کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ حل لغات : لیبطئن : کسل اور سستی ۔
Ayahs 4:72–74

وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ١ۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا Open ayah 4:72 in the Quran reader

اور تم میں کوئی ایسا ہے کہ نکلنے میں دیر کرتا ہے ، پھر اگر کوئی مصیبت تم پر آگئی تو کہتا ہے مجھ پر خدا نے فضل کیا کہ میں ان کے ساتھ حاضر نہ تھا (ف 1)

وَ لَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 4:73 in the Quran reader

اور جو خدا سے تمہیں کچھ فضل ملا ، تو ایسی ایسی باتیں کرتا ہے کہ گویا تم میں اور اس میں کچھ دوستی نہ تھی (یعنی کہتا ہے) اے کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا اور بڑی مراد پاتا ۔

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١ؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:74 in the Quran reader

جو لوگ حیات دنیا کو آخرت کے عوض بیچتے ہیں ان کو چاہئے کی خدا کی راہ میں جہاد کریں اور جو کوئی اللہ کی راہ میں لڑے اور پھر مارا جائے یا غالب ہو ، ہم اسے بڑا ثواب دیں گے ۔

(ف 1) منافق میں دون ہمتی اور خود غرضی بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے جبکہ جہاد کے مواقع آتے ہیں ، یہ عملا کسل وتاخیر سے کام لیتا ہے اور پھر اگر مسلمانوں کو کوئی حادثہ پیش آجائے تو خوش ہوتا ہے کہ میں اس میں شریک نہیں تھا اور اگر انہیں حریت وآزادی کی نعمتوں سے کچھ حصہ ملے تو یہ بھی الجھتا ہے کہ اے کاش میں بھی اس کے شریک حال ہوتا ۔ اس آیت میں انہیں منافقین کا حال بیان کیا ہے کہ دیکھئے اپنی اس ذلیل ذہنیت پر کس درجہ قانع ہے ۔
Ayah 4:75

وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا١ۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:75 in the Quran reader

اور تمہیں کیا ہوگیا کہ تم خدا کی راہ میں اور ان ناتواں مردوں (2) اور عورتوں اور بچوں کے لئے نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں اس شہر (مکہ) سے نکال جس کے لوگ ظلم کرنے والے ہیں اور اپنی طرف سے ہمارے لئے کوئی حمایتی پیدا کر اور مددگار بھیج ۔

نفیر عام : (ف 2) ہجرت کے بعد بعض لوگ مکہ میں ایسے رہ گئے جو نہ ہجرت پر قادر تھے نہ جہاد پر مکہ والے انہیں مجبور کرتے کہ وہ اسلام کو چھوڑ دیں ، ان کا ایمان انہیں ہر ابتلاء وآزمائش کو برداشت کرلینے کی تلقین کرتا ۔ ان آیات میں مسلمانوں کو اعلان عام کے ذریعہ سے جہاد پر آمادہ کیا ہے کہ ان کمزور وناتواں مسلمانوں کی حفاظت کے لئے سینہ سپر ہوجائیں ، اس لئے کہ مسلمان ” مظلوم و ضعیف “ ہو کر دنیا میں نہیں رہ سکتا ، وہ ضعف وظلم کے خلاف اعلان جنگ ہے ، اس کا ذرہ ذرہ بغاوت وانقلاب میں سمویا ہوا ہے ، اس کی رگوں میں خون کی جگہ آزادی وخلافت کی بجلیاں دوڑ رہی ہیں ، ناممکن ہے کہ وہ مسلمانوں کو کمزور ومضحل دیکھے اور اس کے دل میں غیرت وغصہ کا طوفان نہ بپا ہوجائے ، اس کی فطرت حق وصدق کی تائید کے لئے ہے ، وہ منصہ شہود پر آیا ہی اسی لئے ہے کہ اللہ کی نیابت کا حق ادا کرے اور ظلم وعدوان کے خلاف پرزور آواز بلند کرے ، بلکہ طغیان وسرکشی کے خلاف خود رعد وصاعقہ بن جائے اور زمین استبداد کے لئے تہلکہ کی شکل اختیار کرلے ، یہی وہ توقعات ہیں جو مسلمانوں سے وابستہ ہیں اور اسی لئے خدائے غیور کا خطاب ہے ۔ (آیت) ” ومالکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ “۔ یعنی اے جہاد سے پیچھے رہنے والے انسانو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم باوجود مسلمان ہونے کے اس فریضہ سے غافل ہوگئے ہو ۔ گویا ظالموں سے جہاد کرنا مرد ، مومن کی شریعت میں داخل ہے جس سے ایک لمحہ بھی تغافل جائز نہیں اس آیت میں تعجب وتوبیخ کو باہم ملا دیا ہے (آیت) ” ومالکم “ کہہ کر اظہار تعجب بھی کیا ہے اور ڈانٹا بھی ہے کہ کیوں جہاد پر آمادہ نہیں ہوتے ۔ حل لغات : فوز : کامیابی و کامرانی ۔ یشرون : شراء : بمعنی بیع بھی آتا ہے ، ابن مصرع کہتا ہے ۔ وشروبرادالیمنی من بعد بردکنت ھامہ ۔
Ayah 4:76

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِ١ۚ اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا۠ Open ayah 4:76 in the Quran reader

ایمان دار خدا کی راہ میں لڑتے ہیں اور کافر شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں ، سو تم شیطان کے دوستوں سے لڑو ، بیشک شیطان کا مکر سست ہے ، (ف 1)

کید شیطان : (ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ مومن ہمیشہ طاغوت و شیطان کے خلاف صف آراء رہتا ہے اور یہ کہ ظلم وعدوان کے پاؤں نہیں ہوتے ، بڑے سے بڑا جابر وقاہر مومن کی ایمانی قوتوں کے سامنے محض ناچیز و حقیر ہے ، بشر طے کہ مومن خود اپنی عظمتوں اور صلاحیتوں سے واقف ہو یعنی مسلمان کو چاہئے کہ وہ کسی نمرود اور کسی فرعون سے مرعوب نہ ہو ، ایمان وہ قوت ہے جو فولاد ہے زیادہ مضبوط اور بارود سے زیادہ موثر ہے ۔ حل لغات : کید : تدبیر ۔ حیلہ ۔
Ayah 4:77

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً١ۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ١ۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ١ۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى١۫ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:77 in the Quran reader

کیا تونے ان کی طرف نہ دیکھا جنہیں کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ کو روکو اور نماز پڑھو ‘ اور زکوۃ دو ، پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو اسی وقت ان کا ایک فریق لوگوں سے ایسا ڈرا جیسا خدا سے ڈرنا چاہئے یا اس سے بھی زیادہ اور کہنے لگے کہ اے ہمارے رب ! تونے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا کیوں ہمیں تھوڑی سی عمر جینے نہیں دیتا ، تو کہہ دنیا کا فائدہ تھوڑا ہے اور پرہیزگاروں کے لئے آخرت بہتر ہے اور ایک دھاگے کے برابر تم پر ظلم نہ ہوگا ۔ (ف 1)

(ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ منافقین کی جماعت جب تک جہاد فرض نہیں ہوا تھا ، شور مچا رہی تھی کہ ہمیں لڑنے کی اجازت دی جائے اس وقت انہیں روکا گیا اور کہا گیا کہ صلوۃ وزکوۃ ہی پر اپنی تمام قوتیں مرکوز رہنے دو اور جہاد کا مطالبہ نہ کرو ، کیونکہ یہ ایک ہنگامی و وقتی چیز ہے ، مگر یہ تھے کہ اظہار ایمان وایقان کے لئے بیقرار تھے اور جب جہاد فرض قرار دیا گیا ، وقت آگیا کہ کفر کے خلاف اعلان جنگ کردیا جائے تو یہ انتہا درجے کے بزدل ثابت ہوئے ان کے دلوں میں لوگوں کا ڈر اس درجہ سرایت کر گیا کہ یہ بہانے تلاش کرنے لگے ، حالانکہ مومن سوائے خدا کے اور کسی شخصیت سے مرعوب نہیں ہوتا ، وہ اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ تمام قوتیں اس سے ڈریں اور مرعوب رہیں ، نہ اس لئے کہ وہ خود غیر اللہ اشخاص سے خائف ہو ، فرضیت جہاد کے بعد جس اضطراب اور گھبراہٹ کا اظہار لوگوں نے کیا ، قرآن حکیم نے بتفصیل اسکا ذکر کیا ہے تاکہ ان لوگوں کی جلد بازی اور وقت پر کم ہمتی ہمیشہ یاد رکھیں ، یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ لوگ جو صلح کے زمانے میں زیادہ پرجوش ہوتے ہیں ، جنگ کے زمانے میں نہایت عافیت پسند رہنے کی کوشش کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ دیکھو دنیا میں چند دن رہنا ہے ، اس چند روزہ زندگی کے لئے لیت ولعل نہ کرو ، وقت آگیا ہے تو کود پڑو ، انجام وعاقبت ایسے ہی جانبازوں کے لئے ہے ۔
Ayah 4:78

اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا Open ayah 4:78 in the Quran reader

جہاں کہیں تم ہو گے تمہیں موت پکڑ لے گی ، اگرچہ تم مضبوط برجوں میں ہو (ف 2) اور اگر انہیں کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تیری طرف سے ہے ، تو کہہ سب خدا کی طرف سے ہے ۔ اس قوم کو کیا ہوگیا ہے کہ بات نہیں سمجھتے (ف 3)

موت کی ہمہ گیری : (ف 2) اس آیت میں موت کی ہمہ گیری کا تذکرہ ہے ، مقصد یہ ہے کہ موت کا ڈر وجہ تخلیف نہ ہو ، موت جھونپڑے سے لے کر قصر سفید تک سب کو شامل ہے ، اس کی فرمانروائی اتنی وسیع ہے کہ وہ لوگ بھی جو ہزاروں قسمتوں کے مالک ہیں ، اس سے نہیں بچتے ۔ (ف 3) منافقین کی بےسمجھی کا ذکر ہے کہ وہ ہر ابتلاء کو حضور ﷺ کے تشادم تفاول نہیں بن سکتا ۔ حل لغات : ثقیل : باریک ریشہ جو کھجور کی گٹھلی میں ہوتا ہے ۔ بروج : جمع برج کے معنی ظہر کے ہوتے ہیں ، اس لئے اس سے مراد نمایاں عمارت ہے ۔
Ayah 4:79

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا Open ayah 4:79 in the Quran reader

جو بھلائی تجھے ملتی ہے سو خدا سے ہے اور جو برائی تجھے پہنچتی ہے سو وہ تیرے نفس کی طرف سے اور ہم نے تجھے آدمیوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اللہ گواہ کافی ہے (ف 1)

رفع تناقض : (ف 1) ان دو آیتوں میں بظاہر تناقض معلوم ہوتا ہے کہ مصائب کہ من عند اللہ بھی کہا ہے اور من نفسک بھی ، مگر خدا کا کلام ہر تناقض وتعارض سے پاک ہے ، پہلی آیت سے تشادم کی تردید مقصود ہے ، دوسری سے منشا یہ ہے کہ مصائب کے ذمہ دار خود انسان ہیں ، جہاں تک کسی واقعہ کے سبب اول کا تعلق ہے وہ ظاہر ہے خدا کے سوا اور کوئی نہیں اور جہاں اسباب قریبہ کا بیان ہے ‘ واضح ہو کہ وہ انسان خود پیدا کرتا ہے یعنی گوہر مصیبت خدا کی طرف سے ہے مگر ہم حاصل اسے خود اپنے عمل سے کرتے ہیں ۔ اس لئے حضور ﷺ کے آنے سے تم مصیبتوں میں مبتلا ہوگئے ہو تو اس کی وجہ آپ ﷺ کی تشریف آوری نہیں ، تمہاری بدبختی اور انکار ہے ۔
Ayah 4:80

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ Open ayah 4:80 in the Quran reader

جس نے رسول کا حکم مانا اس نے خدا کا حکم مانا اور جو الٹا پھرا تو ہم نے تجھے ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا (ف 2)

رسول ﷺ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے ۔ (ف 2) منصب نبوت کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک آدمی کو تمامی اور اقتدار کے لئے چن لیتا ہے ، اس کی ہر بات فشائے الہی میں ڈھل کے نکلتی ہے ، اس کا دل و دماغ انوار و تجلیات سے معمور ہوتا ہے ، اس کی ہر حرکت ترجمان ہوتی ہے رضائے حق کی ، اس لئے کسی شخص کو رسول یا نبی کہہ دینا بجائے خود اسے صحت مند قرار دینا ہے ، مگر بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ذوق عربیت سے محروم ہیں ، اور قرآن کے اسلوب بدیع سے محض نا آشنا ۔ وہ حضور ﷺ کی اطاعت کو ضروری نہیں جانتے ، ان کے خیال میں قرآن حکیم اپنے موجودہ الفاظ کے ساتھ بالکل کافی ہے اور جو وسائل وذرائع قرآن فہمی کے لئے ضروری ہیں وہ چند لغت وادب کی کتابیں ہیں اور بس ، یہ نادان اتنی سی سمجھ بھی نہیں رکھتے کہ اگر کسی کتاب کو بلا کسی زبردست عمل کے سمجھا جاسکتا ہے تو پھر ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں کود پڑنے کی تکلیف کیوں دی ؟ موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون سے لڑنے کا کیوں حکم ہوا اور محمد ﷺ کو بدر و حنین کے معرکے کیوں برروئے کار لانا پڑے ؟ بات یہ ہے کہ دنیا میں کبھی باتوں اور نظروں سے انقلاب پیدا نہیں ہوا ۔ اس کے لئے ضرورت ہوتی ہے زبردست عملی قوت کی ۔ اس آیت میں یہی بتایا گیا ہے کہ جو شخص آپ کے نفش قدم پر چلے گا ، صراط مستقیم پر گامزن رہے اور جو انکار کرتا ہے وہ جان لے کہ اس کی اپنی بدبختی ہے ، آپ ﷺ مجبور نہیں کہ اس کو راہ راست پر لے آئیں اور یہ کہ آپ کی اطاعت براہ راست خدا کی اطاعت ہے ۔