19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsسراج البیان

Ayahs 19:76–86

وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا Open ayah 19:76 in the Quran reader

اور جو ہدایت پر ہیں خدا ان کی ہدایت اور بڑھاتا ہے ، اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے پاس ثواب اور انجام کے لحاظ سے زیادہ (ف 1) ۔ بہتر ہیں ۔

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ Open ayah 19:77 in the Quran reader

بھلا تونے اس کو دیکھا جو ہماری آیتوں کا منکر ہے ، اور کہتا ہے کہ میں (قیامت میں) واولاد پاؤں گا ۔

اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ Open ayah 19:78 in the Quran reader

کیا وہ غیب کو جھانک آیا ہے ‘ یا رحمن سے اس نے اقرار لے لیا ہے ؟ ۔

كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ Open ayah 19:79 in the Quran reader

ہر گز نہیں ، جو وہ کہتا ہے ہم لکھ رکھین گے اور اس کو عذاب میں لمبا بڑھا تے جائیں گے ۔

وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا Open ayah 19:80 in the Quran reader

اور جو وہ کہتا ہے ہم اس کے وارث ہوں گے اور وہ ہمارے پاس اکیلا آئیگا ۔

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ Open ayah 19:81 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ کے سوا کئی معبود پکڑے ہیں ، تاکہ وہ ان کے مددگار ہوں ۔

كَلَّا١ؕ سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا۠ Open ayah 19:82 in the Quran reader

ہر گز نہیں وہ ان کی عبادت کا انکار کریں گے اور ان کے مخالف ہوں گے ۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّاۙ Open ayah 19:83 in the Quran reader

کیا تونے نہ دیکھا کہ ہم نے کافروں پر شیطان چھوڑ رکھے ہیں جو انہیں ابھار کر خواب اچھالتے ہیں ؟

فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ Open ayah 19:84 in the Quran reader

تو تو ان پر جلدی نہ کر ، ہم تو ان کے لئے شمار پوری کرتے ہیں ۔

یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ Open ayah 19:85 in the Quran reader

جس دن ہم متقیوں کو رحمن کے پاس مہمان بنا کر جمع کریں گے ۔

وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاۘ Open ayah 19:86 in the Quran reader

اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسا ہانکیں گے ۔

(ف 1) اللہ تعالیٰ کا جس طرح یہ قانون ہے کہ مجرموں کو اس وقت تک نہیں پکڑتا ، جب تک وہ گمراہی وہلاکت کی آخری منزلوں میں نہیں پہنچ جاتے اسی طرح اس کا یہ بھی قانون ہے کہ پاکباز لوگ جب اس کی ہدایت قبول کرلیتے ہیں تو وہ مزید توفیق واستعداء کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کے دلوں کو معارف وحکم سے معمور کردیتا ہے ، وہ نیکی اور تقوی کی صحیح قدروقیمت سے آگاہ ہوجاتے ہیں ، ان کی زندگی کا نصب العین یہی قرار پاتا ہے کہ وہ دنیا میں اللہ کی فرمانبردار اور اطاعت شعار ہو کر رہیں انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کو دنیائے فانی میں باقی اور ہمیشہ رہنے والی چیز مال و دولت نہیں سیم وزر ۔ تمہیں اولاد کی فراوانی نہیں ، بلکہ اعمال صالحہ اور نیکیاں ہیں جو مال اور نتیجہ کے لحاظ سے دنیا کی تمام نعمتوں سے بہتر ہیں ۔ العاص بن وائل سے حضرت خباب بن الارت ؓ نے مزدوری طلب کی تو اس بدبخت نے کہا کہ میں تو اس وقت تک تمہیں تمہارا حق نہیں دوں گا ، جب تک کہ تم محمد ﷺ کی رسالت کا انکار نہ کر دو ، خباب نے عشق محمد ﷺ میں سرشار ہو کر کہا ، کہ یہ تو کبھی ممکن نہیں ، نہ زندگی میں نہ موت کے وقت نہ اس وقت جب کہ تم خدا کے ہاں پیش کئے جاؤ گے اس کمینے نے اس جذبہ کی ہنسی آڑائی اور کہا کہ بعثت کا عقیدہ اگر بقول تمہارے صحیح ہے ، تو میں وہاں بھی آخر اسی حیثیت سے جاؤں گا ، وہاں معاملہ چکا دوں گا مطمئن رہو ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، یہ اسے کیونکر معلوم ہوگیا ، کہ عقبے میں بھی اس کی یہ مالداری کی حیثیت قائم رہے گی ، کیا امور غیب وہ جانتا ہے ، یا اللہ سے اس نے اس بات کا عہد لیا ہے ۔ ارشاد ہے ، ایسا ہرگز نہ ہوگا ، وہ عذاب کیا جائے گا ، اور ہمارے روبرو نہایت بےبسی اور بیچارگی کے ساتھ پیش کیا جائے گا ۔
Ayahs 19:87–90

لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۘ Open ayah 19:87 in the Quran reader

انہیں شفاعت کا اختیار نہ ہوگا مگر اس کو جس نے رحمن سے اقرار لے لیا ہے (ف 1) ۔

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ Open ayah 19:88 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ رحمن بیٹا رکھتا ہے ۔

لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّاۙ Open ayah 19:89 in the Quran reader

البتہ تم بری چیز لائے ۔

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ Open ayah 19:90 in the Quran reader

قریب ہے کہ اس بات سے آسمان پھٹ جائیں ، اور زمین ٹکڑے ہوجائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر پڑیں ۔

(ف 1) مشرکین کا ذکر ہے کہ ان لوگوں نے اس امید پر کہ ان کے معبودان باطل قیامت کے دن ان کی سفارش کریں گے اور جہنم کی آگ سے بچائیں گے ان کی پرستش شروع کردی ، حالانکہ یہی لوگ قیامت کے ہول سے ان معبودوں کو بھول جائیں گے اور ان کی عبادت سے یکسر انکار کردیں گے ۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ شرک وکفر کی گمراہیاں انکی طبیعت وذوق کے موافق ہیں جہاں شیاطین کی جانب سے تحریک ہوئی ، یہ متاثر ہوگئے ، ارشاد ہے کہ اللہ کے پاکباز بندوں کے لئے تو وہاں عزت واحترام کا سامان موجود ہے ، انہیں بارگاہ رحمت میں فرشتے تعظیم و توقیر سے پہنچا دیں گے ، اگر یہ لوگ جو بت پرستی کے مجرم ہیں ، جنہوں نے دنیا میں نفس کی پوجا کی ہے جنہوں نے شخصیتوں اور قوتوں کے سامنے سروں کو جھکایا ہے بحیثیت مجرم اور گنہ گار کے پیش کئے جائیں گے ، ان کی تمام توقعات غلط ثابت ہوں گی کوئی شخص ان کی سفارش نہ کرسکے گا ۔
Ayahs 19:91–95

اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ Open ayah 19:91 in the Quran reader

اس (ف 2) لئے کہ وہ رحمن کے لئے بیٹا ثابت کرتے ہیں ۔

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًاؕ Open ayah 19:92 in the Quran reader

اور رحمن کو لائق نہیں کہ بیٹا رکھے ۔

اِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاؕ Open ayah 19:93 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں کوئی نہیں ہے کہ رحمن کے پاس بندہ ہو کر نہ آئے ۔

لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّاؕ Open ayah 19:94 in the Quran reader

اس نے انہیں گھیر لیا ہے اور ان کا شمار کر رکھا ہے ،

وَ كُلُّهُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا Open ayah 19:95 in the Quran reader

اور وہ سب قیامت کے دن اس کے پاس اکیلے آئیں گے ۔

ہولناک عقیدہ : (ف 2) بت پرستی اور شرک اللہ تعالیٰ کو نہایت ناپسند ہے ، اس لئے اس سے نفس انسانی میں ذلت اعتقاء کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں ، اور انسان اس فطری شرافت سے محروم ہوجاتا ہے ، جو اس کا مخصوص حصہ ہے ، اور جن کی وجہ سے وہ تمام کائنات سے اعلی اور برتر ہے نیز مشرکانہ ذہنیت سے اللہ تعالیٰ کے تخیل کو سخت صدمہ پہنچتا ہے ، اور کوئی شخص معرفت و سلوک کی راہوں کو شرک کے طریقوں سے نہیں کرسکتا ، کیونکہ اس کا آئینہ قلب شرک کی ظلمتوں سے اندھا ہوجاتا ہے ، اور معرفت کی شعاعیں اس میں نفوذ نہیں کرسکتیں ۔ اس لئے قرآن ہر نوع کے مشرکانہ تخیل سے بیزاری کا اعلان کرتا ہے اور بنی نوع انسانی کیلئے اسے کھلی گمراہی قرار دیتا ہے ، اور ابن اللہ کا عقیدہ تو قرآن کے نزدیک بدترین قسم کا شرک ہے ، جو قطعا ناقابل فہم اور مضحکہ خیز ہے ، کیونکر اس میں شرک کی وہ شکل و صورت پنہاں ہے ، جو عقیدہ توحید کے بالکل منافی ہے ، ابن اللہ کے عقیدہ کو مان کر اللہ کے لئے ذہن وقلب کے کسی گوشے میں عقیدت باقی نہیں رہتی ، اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، یہ عقیدہ اتنا انوکھا ، اتنا ہولناک اور مہیب ہے کہ آسمان میں بھی اس کے لئے قوت برداشت موجود نہیں ، اور زمین اور پہاڑ بھی اس افتراء کو سوا میں تو مارے خوف کے دہل جائیں ، اور ٹکڑے تکڑے ہوجائیں ، گویا اس عقیدے کی شناخت اور پرائی بدرجہاتم واضح ہے مگر انسان اسے قبول کرلے تو کرلے ، کلمات کی ہر چیز اس کی مخالف ہے ، اور عملا توحید کی نغمہ گو ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب آسمان کی بلندیاں اور زمین کی وسعتیں اور وہ سب لوگ جو ان کے درمیان ہیں ہمارے مطیع ومنقاد ہیں ، تو پھر ہمیں بیٹے اور سہارے کی کیا ضرورت ہے ؟ یاد کھو ، یہ سب لوگ جنہیں تم خدا کا بیٹا اور اس کا شریک اور سہیم ٹھہراتے ہو ، اس کے سامنے عاجز اور محتاج ہیں ، قیامت کے دن جب یہ خدا کے حضور میں آئیں گے ، تو بالکل تنہا بغیر یارومددگار ! عقیدتمندوں کا گروہ ان کے ساتھ نہ ہوگا ۔ حل لغات : ازا : آمادہ کرنا ، برانگیختہ کرنا ، ابھارنا ۔ وقدا : یا کراہت یا عزت ۔ ادا : عجیب بہت بڑی ، ہولناک بری بات ۔
Ayah 19:96

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا Open ayah 19:96 in the Quran reader

بیشک جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کو رحمن محبت دے گا (ف 1) ۔

(ف 1) یعنی اللہ کے پاکباز بندے محبوبیت اور مودت کا عالی مقام حاصل کرلیتے ہیں اور خدا ان لوگوں کے دلوں میں جذبات عقیدت و محبت پیدا کردیتا ہے ۔
Ayahs 19:97–98

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِیْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا Open ayah 19:97 in the Quran reader

سو ہم نے یہ قرآن تیری زبان میں آسان کردیا تاکہ تو اس سے متقیوں کو بشارت دے ، اور اس سے جھگڑالو لوگوں کو ڈرائے (ف 2) ۔

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ١ؕ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۠ Open ayah 19:98 in the Quran reader

اور ان سے پہلے ہم بہت امتوں کو ہلاک کرچکے ہیں کیا ان میں سے تو کسی کو بھی دیکھتا ہے ، یا کسی کی آواز ہی سنتا ہے ۔

(ف 2) اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ان حقائق کو عربی میں کیوں جان کیا گیا ہے ؟ اس لئے کہ حضور ﷺ ان باتوں کو خوش اسلوبی سے دوسروں تک پہنچا سکیں ؟ حل لغات : ودا : محبوبیت : ، محبت ، لدا : جمع الد ، جھگڑالو ، ضدی جدل کرنے والے ، رکزا : گن سن آواز ۔