16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsسراج البیان

Ayahs 16:115–123

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:115 in the Quran reader

اللہ نے تو تم پر صرف مردار حرام کیا ہے اور خون ، اور سور کا گوشت ، اور جس پر غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو ، پھر جو نہ زور کرتا ہو ، اور نہ ہی زیادتی اور عاجز ہوگیا ، تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف 1) ۔

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 16:116 in the Quran reader

اور تم اپنی زبانوں کی دروغ گوئی سے یوں نہ کہو ، کہ یہ حلال ہے ، اور یہ حرام ، کہ اللہ پر جھوٹ باندھو ، جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ، ان کا چھٹکارا نہ ہوگا ۔

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:117 in the Quran reader

تھوڑا فائدہ ہے ، اور انہیں دکھ دینے والا عذاب ہوگا ۔

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:118 in the Quran reader

اور یہود پر ہم نے وہی حرام کیا تھا جو پہلے ہم تجھے سنا چکے ، اور ان پر ہم نے کچھ ستم نہیں کیا تھا ، لیکن وہ اپنی جانوں پر آپ ستم کرتے تھے ۔

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:119 in the Quran reader

پھر تیرے رب کی یہ صفت ہے کہ جنہوں نے نادانی سے بدی کی ، پھر بعد اس کے تائب ہوئے ، اور اصلاح کرلی ، تو اس توبہ کے بعد تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے ۔

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًا١ؕ وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 16:120 in the Quran reader

اصل میں ابراہیم (علیہ السلام) پیشوا خدا کا فرمان بردار یک طرفہ شخص تھا ، اور مشرکوں میں سے نہ تھا ،

شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ١ؕ اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 16:121 in the Quran reader

اللہ کی نعمتوں کا شکر گزار تھا ، خدا نے اسے پسند کیا اور راہ راست دکھائی ۔

وَ اٰتَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَؕ Open ayah 16:122 in the Quran reader

اور ہم نے اسے دنیا میں خوبی بخشی اور وہ آخرت میں نیکوں میں ہے ۔

ثُمَّ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 16:123 in the Quran reader

پھر ہم نے تیری طرف وحی بھیجی ، کہ تو ابراہیم (علیہ السلام) کے مذہب پر چل جو ایک طرف کا ہو رہا تھا اور وہ مشرکوں میں نہ تھا ۔

کون کون سی چیزیں حرام ہیں ؟ : (ف 1) قرآن حکیم ایک مکمل شریعت ہے اس میں توحید و تفرید کے معارف بھی ہیں ، اور ضروری آداب وعوائد بھی ، کامل نظام مذہب کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس میں ضروریات انسانی کی ہر چیز موجود ہو ، چناچہ قرآن سب باتوں پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالتا ہے ۔ کھانا پینا بھی چونکہ تہذیب انسانی کا ایک ضروری جزو ہے اس لئے قرآن اس کے متعلق بھی ضروری ہدایات سے مشرف کرتا ہے ، قرآن کہتا ہے پاکیزہ چیزیں بلا تکلف کھاؤ جن میں مضرت نہ ہو ، جو ناپاک نہ ہوں ، جن کو ذوق سلیم گوارا کرلے ، جن کے کھانے سے اخلاقی ومذہبی مضرتیں نہ پیدا ہوں ، اور جو چیزیں ان صفات سے عاری ہوں ، وہ غذا کے قابل نہیں وہ حرام ہیں ، اور وہ یہ ہیں ۔ 1۔ مردار ، اس کے کھانے سے خساست پیدا ہوتی ہے قلب مردہ ہوجاتا ہے ، زندہ قومیں اس کے کھانے سے پرہیز کرتی ہیں ، صحت کے لئے بھی مضر ہے ، پیٹ میں تعفن پیدا کرتا ہے ۔ 2۔ خون : یہ عہد وحشت کی یادگار ہے ، اس سے درندگی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں ، دانتوں اور معدہ کے لئے سخت مضر ہے ، عرب خون کو رکھ لیتے تھے اور دہی کی طرح جم جانے پر کھاتے تھے ۔ 3۔ سور کا گوشت : یہ تشنج کے مرض کو پیدا کرتا ہے جدید تحقیقات کے مطابق اس کے کھانے سے فوری موت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ، چناچہ امریکہ میں اس کے خلاف بہت سے مضمون لکھے گئے ، یہ قوائے شہوت میں تحریک پیدا کرتا ہے ، اور اس کے کھانے والی قومیں بےغیرت ہوجاتی ہیں ان میں جنسی غیرت کا مادہ اٹھ جاتا ہے ، یہی وجہ ہے آج یورپ میں سب کچھ موجود ہے مگر غیرت عنقا ہے ، کیونکہ وہ کثرت سے سور کا گوشت کھاتے ہیں ، روحانی لحاظ سے یہ جرص وآز کے جذبات کو ابھارتا ہے ، 4۔ غیر اللہ کے نام کی چیز : اس سے نظام شرک کی تائید ہوتی ہے ، اسلام چونکہ توحید کا مذہب ہے ، اس لئے تمام ایسے ذرائع بند کردینا چاہتا ہے جن سے شرک کے پھیلنے کا احتمال ہو ، حل لغات : اھل : مشہور کیا جائے الا لا ل کے معنے مشہور کرنے کے ہیں کیونکہ ھا ، اور دو لام شہر کے معنوں کو متضن ہیں چاند کو بھی ہلال اس لئے کہتے ہیں کو جب وہ طلوع ہوتا ہے تو اس کی جانب انگلیاں اٹھتی ہیں ۔
Ayah 16:124

اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:124 in the Quran reader

ہفتے کا دن انہیں لوگوں پر مقرر ہوا تھا جنہوں نے اس میں اختلاف کیا اور تیرا رب قیامت کے دن ان کی اختلافی باتوں میں فیصلہ کرے گا (ف 1) ۔

جمعہ کا احترام : (ف 1) اسلام اور دیگر ادیان میں اصولا کوئی اختلاف نہیں البتہ بعض لوگوں نے اپنی خواہشات نفس کی اطاعت میں اللہ کے حکموں میں اختلاف وتشتت پیدا کرلیا ۔ جمعہ کا دن ہمیشہ سے دینی فرائض کے لئے مختص رہا ہے ، مگر یہود ونصاری نے اس میں اختلاف کیا ، چنانچہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے ہم سے پہلی قوموں پر بھی جمعہ کا احترام واجب تھا ، مگر انہوں نے از راہ ضد اس میں اختلاف کیا ، اور اللہ نے اس معاملہ میں ہماری صحیح راہنمائی فرمائی ہمیں توفیق مرحمت کی کہ جمعہ کے احترام کو قائم رکھیں اس صورت میں ” اختلفوا “ کے معنے یہ ہوں گے کہ انہوں نے نبی کی تعلیمات میں اختلاف پیدا کیا نہ یہ کہ سبت کے تعین میں اختلاف کیا ۔ حل لغات : حنیفا : موحد توحید کے لئے وقف ۔ سبت : احترام کا دن ، عیسائیوں میں اتوار اور یہودیوں میں ہفتہ ۔
Ayahs 16:125–126

اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 16:125 in the Quran reader

تو حکمت اور عمدہ نصیحت سے اپنے رب کی راہ پر بلا ، اور ان کو اس طرح الزام دے ، جس طرح بہتر ہو ، تیرا رب اسے خوب جانتا ہے ، جو اس کی راہ سے گمراہ ہوا ہے ، اور وہ ہدایت یافتوں سے بھی خوب آگاہ ہے (ف 1) ۔

وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ لَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ Open ayah 16:126 in the Quran reader

اور جو تم بدلہ دو ، تو اتنا ہی دو ، جس قدر تمہیں تکلیف پہنچی ہے ، اور جو تم صبر کرو ، تو صبر صابروں کے لئے خوب ہے ،

(ف 1) دعوت وبشارت کا صحیح ترین اصول بتایا ہے یعنی جب خدا کے دین کی طرف لوگوں کو بلایا جائے تو نہایت حکیمانہ انداز میں موعظت اور پند کے طریق پر صلح جوئی اور رواداری کے ساتھ اگر اختلاف کا موقع آئے تو احسن طریق سے اس کو نبھایا جائے مقصد جدل وتعصب نہ ہو ۔ حضور ﷺ کا یہی طریق دعوت وتبلیغ تھا ، یہی وجہ تھی ، لوگ کھچے ہوئے اسلام کی قریب آتے ، اور اسے قبول کرلیتے حضور جب مخالف کو سمجھاتے تو ایسے جاذب طریق سے کہ دل میں اتر جائے ۔ آج حضرات علماء کے اخلاق بگڑ چکے ہیں وہ تبلیغ و اشاعت کی نفسیات سے آگاہ نہیں ، وہ نہیں جانتے قول بیع کیا ہے کس طریق سے لوگوں کو حق وصداقت کی طرف بلانا چاہئے قاعدہ ہے کہ اچھی بات بھی برے انداز میں پیش کیجئے تو لوگ ٹھکرا دیں گے اس لئے ضروری ہے کہ کلمہ حق کا اظہار کیا جائے مگر سلجھے ہوئے انداز میں جس میں زمانہ کی نفسیات کی رعایت نہ ہو ۔
Ayahs 16:127–128

وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 16:127 in the Quran reader

اور صبر کر ، اور بغیر خدا کی مدد کے تو صبر نہ کرسکے گا ، اور ان پر غم نہ کھا ، اور ان کے فریبوں سے تنگ دل نہ ہو (ف 2) ۔

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ۠ Open ayah 16:128 in the Quran reader

بیشک اللہ (خدا سے) ڈرنے والوں اور نیکوں کے ساتھ ہے ۔

(ف 2) اس میں حضور ﷺ کی شفقت وہمدردی کا ذکر ہے ، اور آپ سے کہا گیا ہے کہ ان کی بدبختی پر غم نہ کھاؤ ، جی تھوڑا نہ کرو ، ان کو آزاد چھوڑ دو یہ تمام باطل تدبیروں کو آزما دیکھیں تمہارے خلاف سازشیں کرلیں اللہ انہیں ناکام رکھے گا اور یہ اپنے مقصد میں ذلیل و خوار ہوں گے ۔