16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsسراج البیان

Ayahs 16:81–82

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ Open ayah 16:81 in the Quran reader

اور اللہ نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں سے تمہارے لئے سائے پیدا کئے اور تمہارے لئے پہاڑوں میں غار بنائے اور تمہارے لئے کرتے بنا دیئے کہ تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں اور ایسے کرتے بھی جو تمہیں بچاتے ہیں (زرہ) یوں وہ اپنی نعمت تم پر پوری کرتا ہے کہ شاید تم مسلمان ہوجاؤ(ف 1) ۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:82 in the Quran reader

پھر اگر وہ نہ مانیں ، تو تیرا ذمہ صاف سنانا تھا ۔

(ف 1) رہائش کے متعلق انعامات گنائے ہیں کہ کیونکر تمہارے لئے اللہ نے سہولتیں مہیا کی ہیں ، تمہیں مکانات دیئے ہیں ، جو آرام و راحت کا باعث ہیں یہ مسکن ہیں تمہارے لئے خیموں اور قناتوں کا انتظام کیا ہے ، کہ جہاں چاہو ، گھر بنا لو ، اور جو بہت غریب ہیں ان کے لئے دامن کوہ میں سایہ کا انتظام کیا ہے ، وہ گھنے درختوں کے تلے آرام پاتے ہیں ، تمہیں ملبوسات عطا کئے ہیں جو سردی اور گرمی کے لئے جدا جدا اور گوناگون ہیں کچھ وہ ہیں جو جنگ میں کام آتے ہیں غرض یہ ہے کہ تم اللہ کی ان تمام نعمتوں کا استعمال کرو اور شکریہ ادا کرو ۔
Ayahs 16:83–85

یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ یُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 16:83 in the Quran reader

اللہ کی نعمت پہچانتے ہیں ، پھر اس سے منکر ہوتے ہیں ، اور ان میں بہت کافر ہیں (ف 2) ۔

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 16:84 in the Quran reader

اور جب دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے ، پھر کافروں کو اذن نہ ہوگا ، اور نہ ان سے عذر قبول کئے جائیں گے ،

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 16:85 in the Quran reader

اور جب ظالم عذاب دیکھیں گے ، تو نہ ان سے ہلکا کیا جائے گا ، اور نہ انہیں مہلت ملے گی ،

(ف 2) یعنی وہ لوگ جو اللہ کی نعمتوں کو پہچانتے تو ہیں مگر اقرار نہیں کرتے ، اور عملا اس بات کا ثبوت نہیں دیتے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی نعمتوں سے مشرف کر رکھا ہے ۔ قیامت کے دن یہ لوگ دربار خداوندی میں لاحاضر کئے جائیں گے ، پیغمبر اور اللہ کے فرستادے ان کے خلاف شہادتیں دیں گے ، اور کہیں گے کہ تم وہ ہو ، جنہوں نے اللہ کی بہت بڑی نعمت کو ٹھکرا دیا یعنی تمہارے پاس اللہ کا رسول آیا تم نے انکار کیا ، تمہارے ہاں اللہ کا ہادی اور مصلح آیا تونے منہ پھیرلیا حالانکہ وہ تمہارے بھلے اور فائدے کے لئے آیا تمہیں جہل و تاریکی کی سمندروں سے نکالنے کے لئے آیا تم کو علم ومعرفت کا سبق دینے کیلئے آیا ، اور تمہارے لئے برکات وفیوض کا خزانہ لایا ، لیکن تم نے صدائے حق کو نہیں سنا ، اس لئے آج قیامت کے دن تمہاری نہیں جائے گی ، تمہاری معذرت قبول نہیں کی جائے گی اور تمہیں کچھ کہنے سننے کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ حل لغات : سرابیل : سربال ، کی جمع ہے معنی پیراہن ، پاجامہ ، قمیص ، یا کرتہ ، شھیدا ، گواہ ، شاہد ۔
Ayahs 16:86–88

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 16:86 in the Quran reader

اور جب مشرک اپنے شریکوں کو دیکھیں گے ، بولیں گے ، اے رب یہ ہمارے شریک ہیں ، جنہیں ہم تیرے سوا پکارتے تھے ، تو وہ شریک انکی بات ان (ہی) پر ڈالیں گے ، کہ تم جھوٹے ہو (ف 1) ۔

وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:87 in the Quran reader

اور اس دن اللہ کی طرف صلح کا پیغام ڈالیں گے اور ان کے جھوٹ ان سے گم ہوجائیں گے ،

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ Open ayah 16:88 in the Quran reader

جو کافر ہیں ، اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ، ہم انہیں عذاب پر عذاب بڑھائیں گے بدلہ اس کا جو شررات کرتے تھے ،

(ف 1) قیامت کے دن جب وہ اپنے معبودوں کو دیکھیں گے ، تو ان سے کہیں گے کہ اللہ میاں یہی وہ ایک میں ، جن کی ہم نے پرستش کی تھی اور اس وقت اللہ تعالیٰ سے مصالحانہ طریق سے گفتگو کریں گے اس وقت انہیں معلوم ہوگا کہ خدا کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانا جرم ہے اور گناہ عظیم ہے ، اور یقینا توحید ہی صواب وحق کی راہ ہے ۔ حل لغات : السلم : صلح وآشتی ۔
Ayah 16:89

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 16:89 in the Quran reader

اور جس دن ہم ہر امت میں انہیں میں کا ایک گواہ ان پر کھڑا کریں گے اور تجھے (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان دلائل پر گواہ لائیں گے ، اور ہم نے تجھ پر کتاب اتاری جس میں ہر شے کا بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور بشارت (ہے) مسلمانوں کے لئے (ف 1) ۔

آخری شہادت : (ف 1) جب تمام پیغمبر شہادتیں دے چکیں گے تب حضور ﷺ تشریف لائیں گے ، اور یہ شہادت دیں گے کہ ان تمام انبیاء نے اپنے فرائض منصبی کو باحسن وجوہ پورا کیا ہے ۔ تمام شہادتوں کے بعد آپ کی شہادت ہونے کے صاف معنی یہ ہیں کہ آپ پر نبوت کا اختتام ہوچکا ہے ، اور اب کسی دوسرے نبی کے لئے توقع وامید نہیں ، کیونکہ آپ سب کے آخر میں شہادت دیں گے آپ سارے نبیوں کے نبی اور کل پیغمبروں کے پیغمبر ہیں ، آپ ہی عنایات الہیہ کے آخری مرکز التفات ہیں ، آپ کے بعد نبوت کے دروازے بند ہیں ، کیونکہ قرآن کامل ہے ، اس میں ضروریات دینی کی سب چیزیں مذکور ہیں ، اب تشریع وتہذیب کے لئے مزید انتظار کی حاجت نہیں ۔ (آیت) ” تبیانا لکل شیئ “۔ یعنی ضروریات دینی کی تمام اصولی چیزیں قرآن میں مذکور ہیں ۔ یہ ضروری نہیں کہ سب کچھ دنیا جہان کی تفصیلات اس میں بتائی گئی ہیں ، کیونکہ یہ کتاب ہدے رشد وہدایت کے لئے صحیفہ ہے اس میں ہدایت انسانی کا پورا پورا ذخیرہ موجود ہے ، قرآن میں لفظ کل کا استعمال عربی انداز کے مطابق ہے ، اس لئے استغراق مقصد نہیں ، بلکہ عموم مقصود ہے ۔
Ayahs 16:90–91

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ١ۚ یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:90 in the Quran reader

اللہ انصاف اور بھلائی اور اہل قرابت کو کچھ دینے کا حکم کرتا ، اور بےحیائی اور نامعقول بات اور سرکشی سے منع کرتا ہے تمہیں سمجھاتا ہے شاید تم یاد رکھو (ف 2) ۔

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 16:91 in the Quran reader

اور خدا کا عہد جب تم اس سے باندھو پورا کرو اور پکی قسمیں کھا کر نہ توڑو ، حالانکہ تم نے اللہ کو قسموں میں اپنے اوپر ضامن ٹھہرایا ہے اللہ جانتا ہے ، جو تم کرتے ہو ۔

روح اخلاق : (ف 2) اس آیت میں اسلام کی اساس تعلیمات کا ذکر ہے یعنی اللہ کے احکام کے خلاصہ ذکر کردیا ہے ، یہ حصہ مکارم اخلاق کا ہے ، بلکہ اسے اگر روح اخلاقی سے تعبیر کیا جائے تو بجا ہے ۔ عدل کے معانی میں اختلاف ہے ، حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں ، اس سے مقصود توحید ہے ، بعض کہتے ہیں دین متوسط یعنی اسلام ہے ، بعض کی رائے میں معاملات ہیں ، مساوات کا حکم ہے ، مگر لفظ عام ہے ، یہ تمام اصناف عدل پر یکساں بولا جاتا ہے ، توحید اس لئے عدل ہے کہ یہی اعتدال و توازن کی راہ ہے ، بت پرستی اپنی تمام جزئیات کے ساتھ مذموم ہے ، اور جہالت میں غلو مغالات ہے دین متوسط اس لئے ہی کہ اس سے قبل کے تمام ادیان میں افراط وتفریط ہے ، یہودیت میں کھراپن اور ظاہر یت زیادہ ہے ، تشدود تصنع کی آمیزش ہے عبادت میں شریعت سے بےنیازی ہے ، صرف اخلاقی نصائح کا ذکر ہے ، کوئی قانون اور قاعدہ نہیں ، مجوسیت نرا الحاد ہے ، آرین مذاہب میں تعین نہیں ، وہاں ہر بات موجود ہے خرافات وادہام کا حصہ بہت زیادہ ہے ، وہ مذہب جس میں ظاہریت بھی ہو اور روحانیت بھی اجمال اور شریعت کی تفصیل بھی ، معارف الہی کا ذکر بھی ہو اور فلسفہ و حکمت بھی ، تو وہ صرف اسلام ہے ، جو اعتدال و توازن میں سمویا ہوا ہے ، کوئی بات زائد نہیں ، ہر حکم فطرت کے ترازو میں تلا ہوا ، اور قدرت کے پیمانہ میں نپا ہوا ہے ۔ عدل کے معنے معاملات میں مساوات کے عام طور پر ہیں عرض یہ ہے کہ مسلمان پیکر انصاف ہو ، معدلت شعار ہو ، احسان مرتبہ اخلاص کا دوسرا نام ہے ، معاملات میں احسان کے معنے یہ ہوں گے کہ ہم اپنے فرائض منصبی سے زیادہ کچھ کریں ، اس کے بعد اللہ کا حکم یہ بھی ہے کہ اقرباء کی خدمت کی جائے ، ان سے مروت ومراعات کا سلوک کیا جائے ان کو ہر طرح پر ترجیح دی جائے ، برائیوں اور فواحش سے باز رہنے کی بھی تلقین ہے ” فحشآء “ پس ہر وہ برائی مراد ہے جو نمایاں اور ظاہر ہے ہو ، منکر کے معنے اس عیب کے ہیں جسے قلب وضمیر برا سمجھے غرض یہ ہے کہ مسلمان اخلاق کا نہایت بہتر نمونہ ہو ۔
Ayahs 16:92–94

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:92 in the Quran reader

اور تم اس عورت کی مانند نہ ہو ، جس نے اپنا سوت بعد محنت ٹکڑے ٹکڑے کردیا کہ تم اپنی قسموں کو اپنے درمیان فساد کرنے کا حیلہ بناتے ہو ، محض اس لئے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے (مال میں) بڑھ جائے ، اللہ تمہیں اس سے آزماتا ہے ، اور اللہ قیامت کے دن تمہاری اختلافی باتوں کو تم سے کھول کر بیان کرے گا (ف 1) ۔

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:93 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتا ، تو سب کو ایک ہی دین پر کردیتا ، لیکن وہ جسے چاہے ، گمراہ کرے ، اور جسے چاہے ، ہدایت کرے ، اور تمہارے کاموں کی تم سے پوچھ ہوگی ۔

وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:94 in the Quran reader

اور اپنی قسموں کو اپنے درمیان حیلہ نہ بناؤ کہ (کہیں) جمے پیچھے کوئی قدم ڈگ جائے ، اور تم اللہ کی راہ سے روکنے کا باعث ہو کر عذاب چکھو ، اور تمہیں بڑا عذاب ہو ۔

(ف 1) ان آیات میں وفاء عہد کی تلقین کی ہے اور بتایا ہے کہ تمہیں عہد ومعاہدہ کے معاملہ میں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرنا چاہئے ، ایسا نہ ہو کہ مضبوط عہد کرنے کے بعد محض اس لئے کہ تم طاقتور حلیف کا ساتھ دو ، عہد توڑ دو ، کیونکہ تمہاری مثال پھر اس دیوانی کی سی ہوگی ، جو سوت کات کر تاگا تاگا کر دے ۔ قرآن کی اصطلاح میں عہد وہ التزام ہے جو شرع ، اخلاق یا مجلس کی جانب سے تمہارے اوپر عائد ہوتا ہو ، یا جیسے تم خود اپنے اوپر لازم بنا لو ۔ حل لغات : انکاثا : (ٹکرے ٹکڑے) جمع نکث بمعنی توڑنا اور کاٹنا دخلا : عذر کرنا ، عقل و قرائن کا تباہ ہونا ۔
Ayahs 16:95–96

وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:95 in the Quran reader

اور عہد خدا کے مقابلہ میں حقیر قیمت نہ لو ، جو اللہ کے پاس ہے ، وہ تمہارے لئے اچھا ہے ، اگر تم جانو ، (ف 1) ۔

مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:96 in the Quran reader

جو تمہارے پاس ہے ، جاتا رہے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی ہے ، اور ہم ثابت قدموں کو ان کے نیک کاموں کا ضرور بدلہ دیں گے ۔

مسلمان خادم دین ہوتا ہے : (ف 1) یعنی اسلام کو اپنی اغراض نفسانی کے لئے دین فروشی کسی طرح مناسب اور مؤدن نہیں کیونکہ دنیا کی تمام نعمتیں عارضی اور فانی ہیں ، اور اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ باقی اور دائم ہے ، اس لئے عقل مند وہ ہے جو دائم اور باقی رہنے والی چیز کا سودا عارضی اور فانی چیز سے نہ کرے ۔ غرض یہ ہے کہ مسلمان دینی مفاد کو دنیوی مفاد پر ترجیح دیتا ہے ، دنیا میں اس کا مطح نظر ہوتا ہے کہ میرے ہر اقدام سے دین کی خدمت ہو ، یہ یاد رہے کہ اس طرح دیندار کسی طرح گھاٹے اور ٹوٹے میں نہیں رہتے ، بلکہ ان کو دنیا ودین دونوں کی نعمتیں حاصل ہوجاتی ہیں ، مسلمان کا زاویہ نگاہ بلند اور وسعی ہوتا ہے ۔ وہ دنیا طلب تو ضرور کرتا ہے ، مگر دینی خواہشوں کی تکمیل کی حد تک ، دراصل وہ صرف دیندار ہوتا ہے ، اور یہ دین کی جامعیت ہے کہ وہ دنیا کی کسی نعمت سے بھی محروم نہیں رہتا دیندار اور دنیا دار حرص کے لحاظ سے بڑھا ہوتا ہے وہ خواہشات نفس کا تابع ہوتا ہے ، اور دیندار انسان محض اللہ کا فرمانبردار ہوتا ہے ، اور خواہشات نفس پر پورا پورا قابو رکھتا ہے ۔ حل لغات : بعھد اللہ : یعنی دینی التزام :
Ayah 16:97

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:97 in the Quran reader

مرد ہو یا عورت ، جو مسلمان ہو کر نیک کام کرے ، ہم اسے اچھی زندگی سے زندہ رکھیں گے ، اور ان کے اچھے کاموں کا جو وہ کرتے تھے بدلہ دیں گے (ف 1) ۔

(ف 1) اسلام نے حصول مراتب میں مرد اور عورت کی کوئی تخصیص نہیں کی اسلام کی نگاہ میں مرد و عورت مساوی طور پر اللہ کی چوکھٹ پر جھک سکتے ہیں اعمال صالحہ کے میدان میں دونوں یکساں دوڑ سکتے ہیں نئی اور پاک زندگی کے حصول میں دونوں برابر کوشش کرسکتے ہیں ۔ اس لئے قرآن کہتا ہے کہ مرد و عورت میں جو کوئی بھی بشرط ایمان نیک عمل کرے گا وہ نہایت پاکیزہ زندگی بسر کرے گا ۔
Ayahs 16:98–101

فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 16:98 in the Quran reader

سو جب تو قرآن پڑھے تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ (ف 2) ۔

اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:99 in the Quran reader

ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں اس کا زور نہیں چلتا ۔

اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 16:100 in the Quran reader

اس کا زور صرف انہیں پر چلتا ہے جو اس کے دوست اور مشرک ہیں ۔

وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ١ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:101 in the Quran reader

اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدلتے ہیں ، اور اللہ خوب جانتا ہے جو اتار رہا ہے تو وہ کہتے ہیں تو تو مفتری ہے ، بلکہ اکثر ان میں نہیں جانتے ۔

(ف 2) قرآن اللہ کی کتاب ہے اس کے نزدیک نقطہ نگاہ کی تقدیس ضروری ہے ، ذہن و خیال کی پاکیزگی لازم ہے ، تاکہ اس مقدس کلام کی پہنائیوں تک رسائی ہو سکے ، وہ شخص جو نفس کا ناپاک ہے ، جس کے قلب میں خباثت ہے ، جس کا باطن درست نہیں وہ اس کے فیوض وبرکات سے استفادہ نہیں کرسکتا اسی لئے ارشاد ہے کہ جب قرآن پڑھو تو شیطانی وساوس کو دور کرلو ، دل کا پاک اور یکسو کرلو ، اعوذ پڑھ لو ، اور غرض یہ ہے کہ پوری پاکیزگی کے ساتھ اس پاک کتاب کا مطالعہ کیا جائے ۔ حل لغات : فاستعذ باللہ : خدا کی پناہ میں آ یعنی حصار توحید میں جگہ حاصل کر ۔
Ayah 16:102

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 16:102 in the Quran reader

تو کہہ ، اسے پاک فرشتے نے تیرے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کیا ہے تاکہ ایمانداروں کو ثابت رکھے اور مسلمانوں کو ہدایت وبشارت ہے (ف 1) ۔

قرآن اختراع نہیں ہے : (ف 1) بعض لوگ کہتے تھے کہ قرآن دماغی اختراع ہے حضور ﷺ نے خود اختراع کیا ہے ، اور اللہ کی جانب اسے منسوب کردیا ہے اس کا جواب دیا ہے اور کہا ہے کہ اسے روح القدس لے کر آئے ہیں ، یہ حق وصداقت کا اعلان ہے ، تاکہ جو لوگ ذہنی وقلبی اضطراب میں مبتلا ہیں ان کی تسلی وتسکین ہو ، اس میں ہدایت ہی بشارت ہے ، مگر ایمان و تجربہ شرط ہے ۔ وہ کتاب جس نے قوم کے اخلاق کو بدل دیا ہو ، جس نے گمراہی وضلالت سے نکالا ہو ، رشد وہدایت کی طرف راہنمائی کی ہو ، اور قوم کو خوشخبریوں کا صبط بنایا ہو ، کیا وہ دماغی اختراع ہو سکتی ہے ۔ ؟ کیا یہ اختراع اور جھوٹ کا نتیجہ ہے کہ قوم ترقی کے فراز اعلی تک پہنچ گئی ؟ پستی اور حضیض سے نکل کر ایمان کی بلند ترین چوٹیوں پر متمکن ہوگئی ، کیا جھوٹ میں یہ قوت ہے ، کہ اخلاق کو بدل دے ، عادات کو سنوار دے ، ذہنوں کو بلند کر دے ، اور خاص نو کے ارتقاء کو بیدار کر دے ۔
Ayahs 16:103–105

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:103 in the Quran reader

اور ہمیں معلوم ہے کہ وہ (اہل مکہ) کہتے ہیں کہ محمد ﷺ کو ایک آدمی سکھلاتا ہے (حالانکہ) جس کی طرف نسبت کرتے ہیں (کہ فلاں شخص سکھلاتا ہے) اس کی زبان عجمی ہے ، اور یہ فصیح عربی زبان ہے (ف 2) ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۙ لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:104 in the Quran reader

اور جو اللہ کی باتوں پر ایمان نہیں لاتے اللہ انہیں ہدایت نہ کرے گا اور انہیں دیکھ دینے والا عذاب ہوگا ۔

اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 16:105 in the Quran reader

جو اللہ کی آیتوں کو نہیں مانتے ، وہی جھوٹی باتیں بناتے ، اور وہی جھوٹے ہیں ،

(ف 2) مخالفین کا خیال تھا کہ حضور ﷺ نے قرآنی معارف کو کسی شخص سے سیکھ لیا ہے ، اور ان کے اپنے علم وبصیرت کا یہ نتیجہ وثمرہ نہیں ہے ، اور وہ آدمی جس سے حضور ﷺ نے سیکھا ہے عجمی ہے ، اس لئے نام میں اختلاف ہے کوئی کہتا ہے یعیش ہے ، کیس کے خیال میں عداس ہے کسی کی رائے میں ابو مسیرہ ہے ، بہرحال وہ کوئی عجمی ہے ۔ قرآن کہتا ہے اگر حضور ﷺ نے عجمی سے سیکھا ہے تو قرآن میں یہ فصاحت وبلاغت کیوں ہے ؟ کیوں عجمی اثرات اس میں نمایاں نہیں ۔ بات یہ ہے کہ اصل میں اس نوع کے اعتراض محض حاسدانہ ہے ورنہ حضور ﷺ کی ساری زندگی مخالفین کے سامنے ہے آپ نے اپنی ساری زندگی میں کہیں تعلیم حاصل نہیں کی ایک وہ دو صحبتوں میں پورا نظام دین کسی آدمی سے سیکھ لینا عقلا محال ہے ، اور پھر وہ استاذ کیوں سامنے نہ آگیا اور اسے کیوں نہ کہہ دیا کہ میاں یہ تو میرا لکھایا پڑھایا ہے تم پریشان نہ ہوجاؤ ، کہیں وہ شخص جو مجدد اور علم وبصیرت کا مالک ہو ، اس نوع کی حیرت انگیز کتاب پیش کرسکتا ہے جو علوم ومعارف کا خزانہ ہو ۔ حل لغات : روح القدس : پاکیزہ کرنے والی ، یعنی جبرئیل (علیہ السلام) اعجمی : غیر عربی ، عجمی ، مراد غیر فصیح ۔
Ayahs 16:106–107

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:106 in the Quran reader

جو کوئی بعد ایمان اللہ کا منکر ہوا ، سوائے اس کے کہ جس پر زبردستی ہوئی اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہے ، مگر وہ جو دل کھول کر منکر ہوا ، سو ان پر اللہ کا غضب ہے ، اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے (ف 1) ۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 16:107 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ انہوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو پسند کیا ، اور خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا ۔

(ف 1) (آیت) ” الا من اکرہ “۔ الا یہ یہ جملہ معترضہ ہے غرض یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور ارتداد اختیار کرتے ہیں وہ جھوٹے ہیں ، اور عذاب کے مستحق ہیں الا یہ کہ وہ مجبور ہوں مخلصی کے لئے اور کفر کا اظہار کردیں ، مگر دل میں ایمان کا دریا موجزن ہو یہ لوگ اس علم سے مستثنی ہیں ۔ یہ پوزیشن مجبوری کے وقت جائز تو ہے مگر بہتر نہیں ، اس لیے اس کا ذکر بطور استثناء کے کیا ہے ۔
Ayahs 16:108–109

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 16:108 in the Quran reader

یہ وہی ہیں ، جن کے (ف 2) ۔ دلوں ، اور کانوں ، اور آنکھوں پر اللہ نے مہر لگائی ، اور یہی غافل ہیں ۔

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 16:109 in the Quran reader

بیشک آخرت میں وہی نقصان اٹھائیں گے ،

(ف 2) اس آیت میں واضح طور پر بیان فرمایا دیا ہے ، کہ کن لوگوں کے دل پر مہریں لگی ہیں کون محروم ہیں جن پر وعظ ونصیحت کا اثر نہیں ہوتا ۔ ارشاد ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے عمدا دنیا کو دین پر ترجیح دی ، جنہوں نے جان بوجھ کر کفر کو قبول کیا ، اور جو دین کے معارف سے آگاہ نہیں ، تفصیل کے لئے دیکھو پہلے پارہ کی ابتدائی آیات جن میں (آیت) ” ختم اللہ علی قلوبھم پر بحث کی گئی ہے ۔ حل لغات : من شرح بالکفر صدرا : یعنی کشادہ دلی کے ساتھ اظہار کفر کرے ۔ قلوبھم وسمعہم وابصارھم : یعنی بدلنے والے دل میں تبدیلی کی استعداد نہین رہی دیکھنے والی آنکھ بصیرت ہے ۔ والی : یعنی جبرائیل (علیہ السلام) ، اعجب ۔
Ayahs 16:110–112

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:110 in the Quran reader

پھر تیرا رب ان کے لئے جنہوں نے ایذا دیئے جانے کے بعد ہجرت کی ، پھر جہاد کیا اور ثابت قدم ہو کے لڑے ، ان باتوں کے بعد تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے (ف 1) ۔

یَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 16:111 in the Quran reader

جس دن ہر کوئی اپنے نفس کی طرف سے جھگڑتا ہوا آئے گا ، اور ہر کسی کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ ملے گا ، اور ان پر ظلم نہ ہوگا ۔

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 16:112 in the Quran reader

اور اللہ نے مثال سنائی ، کہ ایک گاؤں (یعنی مکہ) امن چین میں تھا ، ہر جگہ سے بافراغت اس کے پاس اس کا رزق چلا آتا تھا ، پھر اس شہر نے اللہ کے احسانوں کی ناشکری کی تو خدا نے بھوک اور خوف کا لباس اسے پہنایا ، اس کی کرنی کے سبب ۔

اسلام جرات آموز ہے ! (ف 1) یعنی وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی راہ میں مصیبتوں کو برداشت کیا ، جنہوں نے گھر اور وطن کی آسائشوں کو چھوڑا جنہوں نے مسافرت اور ہجرت اختیار کی جنہوں نے نفس اور باطل قوتوں کے خلاف جہاد کیا ، ان کے لئے اللہ کی بخششیں اور عنائتیں ہیں وہی اس کی مغفرت اور رحمت کے مستحق ہیں ۔ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بحالات مجبوری شر سے محفوظ رہنے کے لئے کفر کا اظہار جائز ہے ، بہتر نہیں ، یعنی اللہ ایسے اہل کفر پر مواخذہ نہیں کرے گا ، مگر اس کے یہ معنی نہیں ، کہ یہ فضیلت کی چیز ہے ، اس جواز کو جو مخصوص حالات میں قابل استفادہ ہے عام کردینا ، اور اسے فضیلت دینا دین فطرت کی توہین کرنا ہے ۔ اسلام جرات اور اظہار حق کو بہترین فضیلت قرار دیتا ہے ، وہ مسلمان کو مجاہد دیکھنا چاہتا ہے جو پوری جسارت کے ساتھ باطل کے خلاف صف آراء ہو سکے ، اور جو بزدل ہے ، جہاد سے جی چراتا ہے ، مجاہد نہیں کہلا سکتا ، یہ کمزوری اور بزدلی کا کھلا اعتراف ہے ، اسلام خفیہ فریب کاریوں کا قطعا پسند نہیں کرتا ، اس کی تعلیم واضح اور بین ہے وہ ہرگز تعلیمات و عقائد کو چھپانا نہیں چاہتا ۔
Ayahs 16:113–114

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 16:113 in the Quran reader

اور ان کے پاس انہیں میں سے ایک رسول آیا تو انہوں نے اسے جھٹلایا ، اس لئے انہیں عذاب نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے ، (ف 1) ۔

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 16:114 in the Quran reader

سو مسلمانوں ! تم اللہ کا دیا ہوا حلال اور پاک رزق کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو ، اگر تم اسی کو پوجتے ہو ،

(ف 1) غرض یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت اور اس کی سپاس گزاری بہترین نعمتوں کی کفیل ہے ، جو خدا کی نعمتوں کا انکار کرتا ہے وہ تمام تکلیفوں کو دعوت دیتا ہے ۔ وہ بھوکا رہ کر بھی افلاس کو یاد کرتا ہے ۔ اور خوف وحزن کو اپنے اوپر مسلط کرلیتا ہے ۔ ” اللھم اغفر لکاتیبہ ولمن سعے فیہ ولوالد یھم اجمعین ، امین ‘ ثم امین ‘۔