16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsسراج البیان

Ayahs 16:41–42

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:41 in the Quran reader

اور جنہوں نے ظلم سہنے کے بعد اللہ کے لئے گھر چھوڑا ہم انہیں دنیا میں اچھا ٹھکانا دیں گے ، اور آخرت میں کا ثواب تو بہت بڑا ہے ، اگر وہ جانیں (ف 1) ۔

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:42 in the Quran reader

جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر بھروسا رکھتے ہیں ۔

ضمیر وقلب کی مظلومیت ناقابل برداشت ہے : (ف 1) یہ آیت حضرت صہیب ‘ بلال ، عمار ، خباب ، عابس ، اور عمیر کے حق میں نازل ہوئی ، بات یہ تھی ، مکہ والوں نے اسلام قبول کرنے پر ان لوگوں کو بہت سخت سزائیں دیں ، بلال ؓ کی پیٹھ پر دہکتے ہوئے کوئلے رکھے ، حضرت عمار ؓ کی تکلیفوں کو دیکھ کر حضور نے فرمایا صبرا یا آل یاسر ۔ صہیب نے اپنی ساری جائداد دے دی جب جاکر شدائد سے رہائی حاصل کی ۔ جب ان لوگوں پر حد سے زیادہ سختیاں ہونے لگیں اور مسلمان مظلومیت کی زندگی بسر کرنے لگے ، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ لوگ مکہ چھوڑ دیں ، اور اپنے لئے کوئی وطن اختیار کرلیں ، کیونکہ اسلام میں ضمیر کی مظلومیت ومجبوری ناقابل برداشت ہے ، مسلمان ہر طرح کی آزمائش کو جھیل سکتا ہے ، ہر تکلیف کو برداشت کرسکتا ہے ، مگر ضمیر وقلب کی مجبوریاں ناقابل احتمال ہیں یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی مسلمان اظہار حق سے باز آجائے ، آیت کا مقصد یہ ہے کہ وہ شخص جو اللہ کے لئے اپنی آسائشوں کو چھوڑے گا ، محض دین کے لئے وطن عزیز کو ترک کرے گا اور ہمیشہ کے لئے وطن سے دوری قبول کرے گا ، اللہ اس کے ایثار کو ضائع نہیں کرے گا ، اسے اجر دے گا ، اس کی دنیا سنوار دے گا ، اور آخرت میں اس کے لئے اجر عظیم مستزاد ہوگا ۔ یہ بات دیکھنے اور سمجھنے کی ہے ، کہ صحابہ ؓ اجمعین نے جب مکہ چھوڑ دیا ، اور مدینہ کو وطن قرار دیا ، اس وقت اللہ تعالیٰ نے انہیں کس درجہ عظیم الشان زندگی عنایت کی ، وہ لوگ جو گھروں کو چھوڑ گئے تھے ، ملکوں اور قوموں کے وارث ہوئے ، اور پھر مکہ میں جو داخل ہوئے ہیں ، تو فاتحانہ انداز میں حق یہ ہے کہ جو لوگ رب کریم پر بھروسہ کرتے ہیں اللہ انہیں ضرور اپنی گوناگون رحمتوں سے مشرف فرماتا ہے ۔
Ayahs 16:43–47

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:43 in the Quran reader

اور تجھ سے پہلے بھی ہم نے آدمی ہی بھیجے تھے ان کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے ، سو اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر (یعنی اہل کتاب) سے پوچھ لو (ف 1) ۔

بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ١ؕ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:44 in the Quran reader

انہیں ہم نے دلائل اور کتابوں کے ساتھ بھیجا اور ہم نے تیری طرف ذکر (قرآن) اتارا ، تاکہ تو لوگوں کے لئے جو ان کی طرف نازل ہوا ہے بیان کرے اور تاکہ وہ فکر کریں ۔

اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 16:45 in the Quran reader

سو جو لوگ بدی کے منصوبے (محمد ﷺ کی نسبت) کرتے ہیں کیا وہ اس سے نڈر ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے یا جدھر سے انکو معلوم بھی نہ ہو ان پر عذاب آجائے ؟

اَوْ یَاْخُذَهُمْ فِیْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَۙ Open ayah 16:46 in the Quran reader

یا اللہ انہیں چلتے پھرتے (موت سے) پکڑلے ؟ سو وہ نہ تھکا سکیں گے ۔

اَوْ یَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍ١ؕ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:47 in the Quran reader

یا انکو بعد ڈرانے کے پکڑے سو تمہارا رب بڑا ہی شفقت کرنے والا مہربان ہے ۔

(ف 1) مکہ والوں کا خیال تھا کہ انبیاء کو فوق البشر ہونا چاہئے انسان اس قابل نہیں کہ نبوت کے خلعت کو زیب تن کرسکیں ، اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں بار بار اس اعتراض کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے کہ انبیاء ہمیشہ بشر اور انسان ہوتے ہیں چناچہ اس آیت کا مقصد بھی یہی ہے ، کہ تاریخ رشد وہدایت میں پیغمبر انسانی لباس میں آتے ہیں ، اہل کتاب سے پوچھو ، دلائل وبراہین کی روشنی میں غور کرو ، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اس حقیقت میں کس قدر صداقت ہے ، (آیت) ” لتبین للناس “۔ سے معلوم ہوا کہ تفصیلات کو دوسروں تک پہنچانا ضروری ہے ، اور تفصیلات کا پہنچانا حضور ﷺ کے ذمے ہے ، قرآن احکام الہی کو بیان کرتا ہے اور اسوہ رسول احکام کی تفصیلات کو ۔ حل لغات : رجالا : یعنی انسان : اھل الذکر ، اہل کتاب ، اصحاب فہم وبصیرت ، والزبر : دلائل ، کتابیں ۔
Ayahs 16:48–50

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ Open ayah 16:48 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ جو شئے اللہ نے پیدا کی ، ان کے سائے داہنے اور بائیں سے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے ڈھلتے ہیں اور وہ عاجزی کرتے ہیں (ف 1) ۔

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:49 in the Quran reader

اور جو آسمانوں میں ہے اور جو جان دار زمین میں ہے اور فرشتے اللہ کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے ۔

یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠۩ Open ayah 16:50 in the Quran reader

اپنے اوپر سے اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں اور جو حکم پاتے ہیں سو ہی کرتے ہیں

(ف 1) اس آیت میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے ، کہ بجز انسان کے کائنات کی ہر چیز فطرت کے قوانین کی تابع ہے ، آفتاب سے لے کر ذرہ تک اور ملائکہ سے ادنی قسم کے حیوانات تک سب اطاعت کا دم بھرتے ہیں یعنی قدرت کی جانب سے جو فرائض ان پر عائد کئے گئے ہیں ۔ وہ ان کو پورا کرتے ہیں ، مگر حضرت انسان ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں سرگرم ہے ، پہاڑ اپنی جگہ پر قائم ہیں ، چاند ، سورج ، روزانہ خدا کے حکم کے تحت طلوع و غروب کے فرائض انجام دیتے ہیں ، کائنات کا حقیر سے حقیر ذرہ اپنے وظائف حیات ادا کر رہا ہے ، یہی قرآن کی اصطلاح میں سجدہ ہے ، یہ انسانی کی بدقسمتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہیں کرتا ، اور مذہب کی جانب سے جو فرائض اس پر عائد کئے گئے ، ان کو پورا کرنے میں کوتاہی کا اظہار کرنا ہے ۔
Ayah 16:51

وَ قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ١ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَاِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 16:51 in the Quran reader

اور اللہ نے کہا ہے ، کہ وہ معبود نہ ٹھہراؤ وہ معبود ایک (ہی) ہے ، سو مجھی سے ڈرو (ف 2) ۔

ثنویت کا عقیدہ غلط ہے ! (ف 2) اسلام توحید کا دین ہے ، وہ کہتا ہے جب ساری کائنات اللہ کی مطیع ہے ، تو پھر کیونکر دو خداؤں کا تخیل ممکن ہوسکتا ہے ، ثنویت کا عقیدہ اول اول ایران سے نکلا ہے ، ان کے نزدیک کائنات میں دو قسم کے عناصر ہیں ، شروخیر ، شر کا خدا اور ہے ، خیر کا اور ، قرآن اس مجوسیت کا منکر ہے ، وہ کہتا ہے صرف ایک خدا کا وجود عقلا ممکن ہے ، کیونکہ کائنات میں ایک قانون ایک ارادہ اور ایک مشیت کار فرما ہے ، کائنات کے مظاہر میں اختلاف وثنویت نہیں ۔ لہذا دو خداؤں کا وجود عقل وبصیرت کی رو سے صحیح نہیں ۔ دنیا میں اگر دو خدا ہوں ، یا زیادہ تو پھر لازم آئے گا کہ دو باہم مختلف اراء سے دنیا میں کام کر رہے ہیں ، اور اس صورت میں دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے گا ، کائنات کے نظام میں چونکہ وحدت اور یکسائی ہے ، ہر چیز کے لئے ایک وقت اور کیفیت مقرر ہے جس میں خلاف نہیں ہوتا ، اس لئے خدا بھی ایک ہے ، نیز صحیح وجدان دو خداؤں کے تخیل کو قطعی طور پر قبول نہیں کرسکتا ، وجدان کہتا ہے ، قلب کی گہرائیوں میں ایک ہی محبوب جلوہ گر ہے ۔
Ayahs 16:52–56

وَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَهُ الدِّیْنُ وَاصِبًا١ؕ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ Open ayah 16:52 in the Quran reader

اور جو آسمانوں اور زمین میں ہے اسی کا ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے ، سو کیا تم غیر خدا سے ڈرتے ہو ؟ (ف 1) ۔

وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْهِ تَجْئَرُوْنَۚ Open ayah 16:53 in the Quran reader

اور جو نعمت تم پاس ہے سو اللہ کی طرف سے ہے پھر سختی تم پر آجاتی ہے ، تو تم اسی کی طرف چلاتے ہو ،

ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 16:54 in the Quran reader

پھر جب وہ تم سے سختی دور کرد یتا ہے تو تم میں سے فورا ہی ایک فرقہ اپنے رب کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے ،

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١۫ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:55 in the Quran reader

تاکہ ہمارے دیئے ہوئے پر ناشکری کریں سو تم فائدہ اٹھالو ، آخر معلوم کرو گے ۔

وَ یَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ١ؕ تَاللّٰهِ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:56 in the Quran reader

اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ان کے لئے جنہیں نہیں جانتے حصہ تجویز کرتے ہیں ، اللہ کی قسم جو تم جھوٹ باندھتے تھے اس کی بابت تم سے ضرور پوچھا جائے گا ۔

(ف 1) یعنی اطاعت وانقیاد کا جذبہ اللہ کے لئے وقف ہے ، اطاعت شعاری اور فرمانبرداری صرف رب السموت کے لئے مختص ہے مسلمان اصلا کسی دوسرے کا محتاج نہیں ہوتا ۔ حل لغات : یتغیؤا : اصل میں فئی کے معنی رجوع کے ہوتے ہیں ، سایہ چونکہ اپنی جگہ چھوڑ دیتا ہے اس لئے اسے بھی فئی کہتے ہیں داخر : ذلیل ، اثنین : کا اعادہ مزید تنفر پیدا کرنے کے لئے ہے ۔ واصبا : وصب کے معنی لازم دائم کے ہیں بیمار کو بھی واصب کہتے ہیں ، کیونکہ بیماری اسے چمٹ جاتی ہے اور اس کے لئے لازم ہوجاتی ہے ۔
Ayahs 16:57–59

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ١ۙ وَ لَهُمْ مَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 16:57 in the Quran reader

اور خدا کے لئے (فرشتوں کو) بیٹیاں ٹھہراتے ہیں وہ پاک ہے اور اپنے لئے جو دل چاہے مقرر کرتے ہیں (ف 1) ۔ (یعنی بیٹے)

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ Open ayah 16:58 in the Quran reader

اور جب ان میں کسی کو لڑکی کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا منہ سیاہ ہوجاتا ہے اور جی میں گھٹ رہا ہوتا ہے ۔

یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ١ؕ اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 16:59 in the Quran reader

اس خوشخبری کی برائی کے سبب جس کی اس کو بشارت دی گئی لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اس تردو میں کہ بےعزتی قبول کرکے اس کو (دنیا میں) رہنے دے یا اسے مٹی میں دبادے سنتا ہے برا فیصلہ کرتے ہیں ۔

خدا کی صفات میں تنزیہہ لازم ہے ۔ (ف 1) حجاز میں مختلف مذاہب رائج تھے ، کچھ دہریئے تھے ، جو خدا کے قائل ہی نہ تھے ، کچھ مشرک تھے ، مشرکین کی بھی کئی قسمیں تھیں ، کچھ تو بتوں کو پوجتے ، کچھ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے ، ان آیات میں دوسرے گروہ کا ذکر ہے ۔ قبیلہ خزاعہ وکنانہ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ فرشتوں کو بنات اللہ کہتے تھے ۔ قرآن حکیم کہتا ہے ، یہ لوگ بھی عجیب ہیں جس چیز کو اپنے لئے پسند نہیں کرتے ، اسے خدا کی جانب منسوب کرتے ہیں ان کی اپنی کیفیت یہ ہے کہ بچیوں کے انتساب سے گھبراتے ہیں مگر ان سے کوئی کہہ دے کہ تمہارے ہاں لڑکی پیدا ہوئی ہے تو تیور بدل جاتے ہیں چہر سیاہ پڑجاتا ہے ، مارے شرم وندامت کے لوگوں سے چھپا پھرتا ہے ، اور یہ سوچتا ہے ، کہ کیونکر اس کو زمین میں گاڑ دے ، اور اس ذلت سے رہائی حاصل کرلے ۔ مقصد یہ نہیں کہ قرآن عربوں کی طرح لڑکیوں کو ذلیل خیال کرتا ہے اور اس حقارت آمیز سلوک میں ان کا ہم نوا ہے ، بلکہ غرض یہ ہے کہ انہیں حقیقت حال سے آگاہ کرے انہیں یہ بتائے کہ جس صورت حال کو تم اپنے لئے پسند نہیں کرتے وہ اللہ کے لئے کیونکہ بہتر صورت ہو سکتی ہے ، کیونکہ اللہ کو اپنے سے اعلی اور برتر قرار دیا جاتا ہے اس لئے تنزیہ لازم ہے ۔
Ayah 16:60

لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ١ۚ وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 16:60 in the Quran reader

جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کی صفت بری ہے ، اور اللہ کی صفت سب سے بلند ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے (ف 2) ۔

(ف 2) یعنی اللہ تو بلند ترین نصب العین کا نام ہے ان کے معنی تو یہ ہیں کہ اس کے لئے اعلی ترین صفات کو پیش کیا جائے ، مگر یہ بدبخت ہیں کہ اس کے لئے بری بری مثالیں بیان کرتے ہیں ، کوئی اسے قسم سمجھتا ہے ، کوئی اس کے لئے بیٹے ثابت کرتا ہے ، کوئی جورو کے انتساب سے نہیں شرماتا کوئی اس کے بیٹیاں بتلاتا ہے اس کو اس حقیقت سے آگاہ نہیں کہ اللہ نام ہے بہترین اور مقدس ترین اوصاف وشمائل کے حامل کا اس کا نام بلند ہے ، اس کی صفات بلند ہیں ، اور اس کی خدائی میں اس کا کوئی شریک وسہیم نہیں ۔
Ayahs 16:61–62

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَیْهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 16:61 in the Quran reader

اور اگر اللہ آدمیوں کو ان کے ستم پر پکڑے تو زمین پر کوئی جان دار باقی نہ چھوڑے مگر وہ انہیں ایک وقت معینہ پر مہلت دے رہا ہے پھر جب ان کا وقت آئے گا ، تو نہ ایک گھڑی پہلے روانہ ہوں گے اور نہ ایک گھڑی بعد (ف 1) ۔

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا یَكْرَهُوْنَ وَ تَصِفُ اَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰى١ؕ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَ اَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ Open ayah 16:62 in the Quran reader

اور جسے خود ان کا جی نہیں چاہتا (یعنی لڑکیاں) اسے اللہ کے لئے تجویز کرتے ہیں اور ان کی زبانیں جھوٹ بولتی ہیں کہ ان کے لئے خوبی ہے ، بیشک ان کے لئے آگ ہے اور وہ (دوزخ میں) سب سے آگے ہیں ۔

(ف 1) غرض یہ ہے کہ انسان کے گناہ ناقابل شمار ہیں یہ اللہ کا کرم ہے کہ اسے ڈھیل دیتا ہے تاکہ یہ اپنے کئے پر پشیمان اور حق کی جانب رجوع ہو ، اگر وہ اغماض اور چشم پوشی سے کام نہ لے تو ہم یہاں دنیا میں ایک لمحہ کے لئے زندہ و برقرار نہ رہ سکیں ۔
Ayah 16:63

تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:63 in the Quran reader

اللہ کی قسم تجھ سے پہلے ہم نے بہت امتوں میں رسول بھیجے ، سو شیطان نے ان کے کے عمل انہیں بھلے کر دکھائے سو وہی آج ان کا دوست ہے اور ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب ہے (ف 2) ۔

(ف 2) غرض یہ ہے انکار وتمرد کی عادت بہت پرانی ہے ان کفار مکہ سے قبل بھی لوگوں نے دعوت حق کو جھٹلایا ہے ، شیطان نے اس سے پہلے بھی اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے ، اس لیے آج اگر یہ لوگ اپنے آباؤ و اجداد کے نقش قدم پر جارہے ہیں تو تعجب کی کونسی بات ہے ۔ ہو سکتا ہے (آیت) ” ولیھم الیوم “۔ سے مراد قیامت کا دن ہو ، یعنی دنیا میں جب ان لوگوں نے شیطان کے ورغلانے پر گناہوں کا ارتکاب کیا ہے تو آج بھی انہیں شیطان ہی کی رفاقت حاصل ہوگی ۔ حل لغات : کظیم : یعنی جس کا دل غصے اور غم سے معمور ہے ۔ یدسہ : گاڑ دے ، دھنسا دے ۔ المثل الاعلی : بلند مثال ۔ تاللہ : اصل میں واللہ تھا واو قسمیہ کو تا سے بدل دیا گیا ہے ۔ ولیھم : دوست ، رفیق ، ساتھی ، یعنی عذاب و تکلیف میں ان کا شریک ہے ۔
Ayahs 16:64–66

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ۙ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:64 in the Quran reader

اور ہم نے اسی لئے تجھ پر کتاب نازل کی ہے کہ تو ان کے لئے انکی اختلافی باتوں کا کھول کر بیان کرے ، اور ہدایت ورحمت ایمانداروں کے لئے ہے (ف 1) ۔

وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۠ Open ayah 16:65 in the Quran reader

اور اللہ نے آسمان سے پانی آتارا ، پھر اس سے زمین کو اس کے مرے پیچھے جلایا ، اس میں ان کے لئے جو سنتے ہیں نشانی ہے ۔

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ Open ayah 16:66 in the Quran reader

اور البتہ تمہارے لئے چار پایوں میں عبرت ہے کہ جو ان کے پیٹ میں ہے اس سے گوبر اور خون کے درمیان سے ہم تمہیں خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے حلق میں آسانی سے گزرتا ہے ،

رسول فیصلہ کن تفصیلات بیان کرتا ہے ! : (ف 1) ان آیات میں یہ بیان کیا ہے کہ پیغمبر خدا کا درجہ ومنصب کیا ہے ، حضور ﷺ سے قبل عقائد کے باب میں کثیر اختلاف تھا ، یہودی اور عیسائی باہم دست وگربیان تھے ، مجوسی اور مشرکین مکہ باہم دشمن تھے اسی طرح دہریوں میں اور دوسرے مذہب والوں میں اختلاف رائے تھا ، حضور ﷺ کا منصب یہ ہے کہ ان کے درمیان حکم ہوں ، اور تمام اختلافات کو مٹا دیں ، فیصلہ کن تفصیلات سے سب کو آگاہ کردیں ، تاکہ جدال ومناظرہ کی گنجائش باقی نہ رہے ۔ (آیت) ” لتبین لہم “۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی ذمہ تفصیلات کا فرض عائد کیا گیا ہے ، جو لوگ اسوہ رسول کی حجت مسند نہیں سمجھتے ، انہیں اس آیت پر غور کرنا چاہئے ۔ (آیت) ” لتبین “ ۔ کے معنی کسی بات کو وضاحت کے ساتھ پیش کرتا ہے ، گویا حضور ﷺ قرآن کے احکام کو تفصیل وتشریح کے رنگ میں پیش کرتے ہیں اور اپنے اسوہ وعمل سے قرآن کے معضلات ومشکلات تو سلجھاتے ہیں ۔
Ayah 16:67

وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 16:67 in the Quran reader

اور کھجور اور انگور کے پھلوں سے تم نشہ اور اچھا رزق بناتے ہو ، بیشک اہل عقل کے لئے اس میں نشانی ہے (ف 2) ۔

(ف 2) یعنی اللہ تعالیٰ قطب ماہیت پر قادر ہیں ، وہ چاہیں تو کفر وعناد کو محیت وعقیدتمندی سے بدل دیں ، انکار وکفر کو دم میں ایمان یقین کا لباس پہنا دیں ، وہ بنجر اور شور زمینوں کو زندہ کردیتا ہے خشک کھیت اور باغات بارش کی وجہ سے لہلہا اٹھتے ہیں ، گوشت اور خون میں سے سفید دودھ جیسی لطیف شے پیدا کردیتا ہے ، کھجور اور انگور میں طرح طرح کے مزے اور غذائیت رکھی ہیں ، اسی طرح یہ ممکن ہے کہ وہ دلوں کے خبث کو ایمان کی لطافت سے تبدیل کر دے ، ” سکرا “ کے معنی عام مترجمین نے شراب کے کئے ہیں اور کہا ہے کہ بعد کی آیات میں اسے منسوخ قرار دیا ہے ، مگر یہاں مشکل یہ ہے کہ ” سکرا “ کے لفظ کو بطور اظہار نعمت کے ذکر کیا ہے اور جو چیز نعمت ہے وہ کبھی حرام نہیں ہو سکتی ، قرآن کی شان کے خلاف ہے کہ کسی حرام ہونے والی چیز کی تعریف کرے ، بائبل میں یہ نقص ہے کہ اس میں بیشمار الفاظ تشبیہات و متعارات کے رنگ میں ایسے موجود ہیں جو مے نوشی پر آمادہ کرتے ہیں اور جن سے معلوم ہوتا ہے کہ شراب کوئی اچھی چیز ہے یہی وجہ ہے کہ اہل کتاب نے کبھی شراب سے احتراز نہیں کیا ۔ مگر قرآن میں ایسا کوئی لفظ موجود نہیں جس میں شراب نوشی کو اچھا شغل قرار دیا ہو ، قرآنا کا انداز بیان بالکل اچھوتا اور نہایت لطیف وپاکیزہ ہے ۔ اس لئے سکرا کے معنی شراب یا مسکر شے کے نہیں ہو سکتے ، ابو عبیدہ ؓ کہتے ہیں اس کے معنی مطلقا طعام کے ہیں جو صحیح ہیں ، علامہ ابن جریر (رح) نے اس معنی کی تائید کی ہے اور تائید میں ایک شعر پیش کیا ہے جو کہتا ہے : جعلت اعراض الکرام سکرا : یعنی تونے لوگوں کی دعوتوں کو طعام سمجھ کر کھا لینے کا تہیہ کرلیا ہے ۔ حل لغات : سائغا : خوشگوار ۔
Ayahs 16:68–69

وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ Open ayah 16:68 in the Quran reader

اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کو وحی بھیجی کہ پہاڑوں اور درختوں میں اور بیلوں کی ٹیٹوں میں گھر بنا (ف 1) ۔

ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:69 in the Quran reader

پھر ہر طرح کا میوہ کھا ، پھر اپنے رب کی راہوں میں چل ، کہ صاف پڑی ہیں ، ان مکھیوں کے پیٹ میں سے پینے کی چیز (شہد) رنگ برنگ کی نکلتی ہے ، اس میں آدمیوں کے لئے شفا ہے ، بیشک فکر کرنے والوں کیلئے اس میں نشان ہے ۔

شہد کی مکھی اور یورپ ! (ف 1) عجائب مخلوقات میں سے شہد کی مکھی بھی ہے جو پتے پتے پر بیٹھتی ہے اور پھول پھول سے رس حاصل کرتی ہے اور بڑی محنت سے شہد مہیا کرتی ہے ، اللہ نے اسے شہد اکٹھا کرنے کا عجب سلیقہ عطا کیا ہے ، تم اگر اس کی فراست اور کوشش کو دیکھو تو حیران رہ جاؤ کہ کس طریق سے وہ شجر سے استفادہ کرتی ہے اس کا چھتہ اور اس کے مسدس خانے حیرت انگیز صنعت کاری ہے ۔ قرآن حکیم نے سب سے پہلے شہد کی مکھی کے عجائبات کی جانب توجہ دلائی ہے مسلمان اس سے غافل رہے ، حالانکہ قرآن مجید نے فرمایا ہے کہ اس کے مطالعہ میں غور وفکر کا وافر سامان موجود ہے مگر یورپ نے شہد کی مکھی پر سینکڑوں کتابیں لکھی ہیں عجیب عجیب تجربے کئے ہیں اور لاکھوں روپے کا شہد حاصل کر کے یورپ ، ہندوستان اور دنیا کے دوسرے حصوں میں بھیج رہا ہے ، بیسیوں دوائیں ہیں ، جن میں شہد استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن کہتا ہے ، اس میں لوگوں کے لئے شفاء ہے یہ بہترین غذا اور بہترین دوا ہے ، مگر اس کی اہمیت سے ہمارے ہندوستانی مسلمان کہاں تک آگاہ ہیں ؟ (آیت) ” اوحی ربک الی النحل “۔ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے چھوٹے جانوروں کو بھی عقل عنایت کی ہے جسے نوعی الہام کہتے ہیں ، آج جدید تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن حکیم کا یہ نظریہ بالکل درست ہے عقل و فراست کی نعمت سے صرف انسان ہی بہرہ ور نہیں ، بلکہ دوسری مخلوقات حیوانات وغیرہ بھی بہرہ ور ہیں ، انسانی عقل اور حیوانی عقل میں فرق یہ ہے کہ انسان میں تفصیلی عقل ہے اور حیوانات میں نوعی اور جنسی جو ضروریات طبعی تک محدود ہوتی ہے ۔
Ayahs 16:70–72

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 16:70 in the Quran reader

اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا ، پھر تمہیں موت دیتا ہے اور کوئی تم میں ایسا ہے کہ نکمی عمر تک پہنچایا جاتا ہے تاکہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے (بڈھا بےعقل ہوجائے) بیشک (ف 2) اللہ جاننے والا قدرت والا ہے ۔

وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 16:71 in the Quran reader

اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی ، سو جنہیں فضیلت ملی ہے وہ اپنا رزق اپنے غلاموں کو نہیں دے دیتے ، تاکہ وہ سب (مالک و غلام) رزق میں برابر ہوجائے پس کیا وہ اللہ کی نعمت کے منکر ہیں ۔

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ Open ayah 16:72 in the Quran reader

اور اللہ نے تمہاری جنس میں سے تمہارے لئے عورتیں پیدا کیں ، اور تمہاری عورتوں سے تمہارے لئے بیٹے اور پوتے پیدا کئے ، اور تمہیں ستھری چیزیں کھانے کو دیں ، سو کیا وہ باطل پر ایمان لاتے ، اور اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں ؟

(ف 2) اللہ کے بیشمار مظاہر قدرت میں سے آیا ، مسئلہ کہلوت اور شیخوخت انسانی کا بھی ہے کہ کس طرح آیک انسان جوانی سے پیر فرقرت بن جاتا ہے اور چہرہ پر بڑھاپے کی جھریاں کس طرح نمودار ہوجاتی ہیں ؟ اگر زندگی محض مادی اسباب وذرائع کی رہین منت ہو تو پھر شباب کی قوتوں کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے ، مگر چونکہ یہ اللہ کا مقررہ قانون ہے اس لئے آج بھی باوجود سائنس کی حیرت انگیز ترقیوں اور کمال کے انسان کہولت وپیری کو دور نہیں کرسکا ۔ علم التشریح نے آج بےانتہاء ترقی کرلی ہے اور نظریہ تجدید شباب بھی کامیاب ہورہا ہے ، مگر اس کا اثر محض بڑھاپے کے آثار سے ہے ، نفس کہولت کو دور نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ حل لغات : النحل : شہد کی مکھی ، تذکیر وتانیث میں برابر استعمال ہوتا ہے ، لغت حجاز میں یہ لفظ مونث ہے ، اسی لئے قرآن حکیم نے اس کی رعایت رکھی ہے ۔ حفدۃ : جمع حافد ، خدمت گزار ‘ رجل محفود : یعنی مرد مخدوم ، پوتے چونکہ زیادہ مخلصانہ خدمت کرتے ہیں ، اس لئے ان پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے ، چناچہ کسی شاعر نے کہا ہے : ع حفد الولائد بینھن :
Ayahs 16:73–74

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ Open ayah 16:73 in the Quran reader

اور اللہ کے سوا انکو پوجتے ہیں ، جو آسمانوں اور زمین میں سے ان کی روزی کے کچھ مختار نہیں ہو اور کچھ مقدور رکھتے ہیں (ف 1) ۔

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:74 in the Quran reader

سو تم اللہ کے لئے مثالیں مت بیان کرو ، خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔

(ف 1) مختلف انعام ذکر کرنے کے بعد نعمت توحید کی جانب توجہ دلائی ہے ، کہ یہ مشرک اللہ کی نعمتوں سے استفادہ کرتے ہیں ، مگر شکریہ ادا نہیں کرتے ، بلکہ ان نعمتوں کا انتساب اور الٹا دوسروں کی طرف کرتے ہیں ، اور کہتے ہیں فلان ولی نے ہمارے حال پر کرم کیا ہے ، اور ہمیں رزق کی نعمت سے نوازا ہے فلان فقیر نے ہماری مشکلوں کو آسان کردیا ہے ، فلان قطب اور شیخ نے ہماری سن لی ہے ، اور بیماریاں دور کردی ہیں ، یہ نہیں جانتے کہ یہ اللہ کی ناشکری ہے وہ سارے پیر فقیر خود اس کے در کے بھکاری ہیں ، انہیں جو کچھ ملتا ہے ، اس کے فیض سے ملتا ہے ، وہ تمہیں کیا دیں گے ، وہ بذات خود اسی کے محتاج ہیں ، نادار ، نادار کی کیا مدد کرسکتا ہے ، اس سے مانگو ، جو سب کا داتا ہے جو سب کو دیتا ہے ، جس کے خزانے ہر وقت بھر پور رہتے ہیں ، کہتے ہیں خدا تک پہنچنے کے لئے وسیلے کی ضرورت ہے ، درست ہے مگر کیا تمہاری بیچارگی ، حاجت مندی یہ خود وسیلہ نہیں ؟ تمہاری بندگی اور ھق عبودیت یہ ذریعہ نہیں ؟ توحید اور ایک اللہ پر بھروسہ کیا یہ کافی نہیں ؟ (آیت) ” الیس اللہ بکاف عبدہ “۔ کیا تمہارے اعمال تمہاری سفارش نہ کریں گے ؟ اور کچھ نہیں تو تمہاری گناہگاری اور اللہ کی کریمی بجائے خود بخشش اور قبولیت کا ایک زبردست بہانہ ہو سکتا ہے ، فرمایا اللہ کا دربارامراء اور بڑے بڑے لوگوں ہی کے لئے نہیں کہ وہاں منصب داروں کی سفارش کی حاجت ہو ، اس کا دربار غریبوں اور امیروں دونوں کے لئے یکساں کھلا ہے اس لئے دنیا کی مثالیں اس پر منطبق نہ کرو ۔
Ayah 16:75

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:75 in the Quran reader

اللہ نے ایک مثال بیان کی کہ ایک غلام ہی چائے بس میں ، جو کسی شئے پر اختیار نہیں رکھتا ، اور ایک وہ شخص ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھی روزی دی ، سو وہ اس میں سے چھپا کر اور اعلانیہ خرچ کرتا ہے کیا (دونو) برابر ہیں ؟ اللہ ہی لائق حمد ہے پر ان میں اکثر نہیں جانتے ۔ (ف 2) ۔

(ف 2) مومن اور مشرک کی مثال بیان کی ہے مومن دل کا فیاض ہوتا ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور مشرک ممسک اور بخیل ہوتا ہے ، اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا بلکہ اپنی خواہشات و ضروریات پر خرچ کرتا ہے ۔ یا مقصد یہ ہے کہ جس طرح مملوک کے اختیار میں کچھ نہیں مجبور اور مختار دونوں برابر نہیں ہوسکتے ، اسی طرح اللہ کے سوا سب اس کی مخلوق ہے اس لئے خالق اور مخلوقات میں کیونکر مساوات ہو سکتی ہے ؟
Ayahs 16:76–77

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ هُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ١ۙ اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَ١ۙ وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ١ۙ وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 16:76 in the Quran reader

اور اللہ نے ایک مثال بیان کی ، دو آدمی ہیں ایک ان میں گونگا ہے ، کچھ کام نہیں کرسکتا ، اور وہ اپنے مالک پر بوجھ ہے ، جدھر اسے بھیجتا ہے ، کچھ بھلائی نہیں لاتا ، کیا وہ اس کے برابر ہے جو انصاف کے ساتھ حکم کرتا ، اور آپ راہ راست پر ہے ، (ف 1) ۔

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 16:77 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کے بھید اللہ ہی کے پاس ہیں ، اور قیامت کا معاملہ پلک جھپکنے کی مانند یا اس کے بھی قریب ہے ، اللہ ہر شئے پر قادر ہے ۔

(ف 1) مبلغ خیر اور ابکم شریر کی تمثیل ہے ، کہ نیک آدمی ہمیشہ نیکی کی تلقین کرتا ہے دنیا میں بھلائی پھیلاتا ہے اور وہ جو شریر ہے گونگا ہے برائیوں سے روکتا نہیں بلکہ گونگے شیطان کی ماند لڑائیوں کا دیکھتا ہے اور خاموش ہوتا ہے ۔ حل لغات : کل : بوجھہ دوجہ ملال وتکدر الا کلمح البصر : آنکھ کا جھپکنا مراد عجلت سے ہے ۔
Ayah 16:78

وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:78 in the Quran reader

اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں سے نکالا ، تم کچھ نہ جانتے تھے ، اور تمہیں کان ، اور آنکھیں ، اور دل دیئے ، تاکہ تم شکر کرو (ف 1) ۔

انسان کی عقلی تربیت : (ف 1) انسان اگر اپنے اندر نظر دوڑائے ، تو معلوم ہو کہ خود اس میں کس قدر معارف وعلوم کا خزانہ پہناں ہے ۔ اس آیت میں داخلی تفکیر کی جانب توجہ دلائی ہے غور کرو اللہ نے لطف بےپایاں سے تمہاری عقلی وذہنی تربیت کی ہے جب تم پیدا ہوئے تھے ، اس وقت تم نہیں جانتے تھے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے ، آہستہ آہستہ تمہاری عقل بڑھی اور تم اپنے حواس سے کام لینے لگے ، ایک وقت آیا کہ وہ عقل درجہ تکمیل تک پہنچ گئی ، اور تم ہر معاملہ کے حسن وقبح کو پہچاننے لگے بتاؤ جس خدا نے ابتداء سے تمہاری عمل ضروریات کو پورا کیا ہے وہ دنیا تمہاری دینی ومذہبی ضروریات کو پورا نہ کرے گا ، کیونکہ مذہب بھی درحقیقت ایک قسم کی ذہنی تسکین کا نام ہے ہر شخص قلبی طور پر کچھ عقیدے اپنی طمانیت کے لئے مقرر کرلیتا ہے ، تاکہ دن کو سکون و راحت حاصل ہو ، اس لئے ضرور ہے کہ وہ خدا جس نے ابتداء سے ہماری ذہنی وجسمانی تربیت کی ہے وہ دینی ضروریات کو بھی پورا کرے ۔
Ayahs 16:79–80

اَلَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:79 in the Quran reader

کیا انہوں نے پرندوں کو آسمان کی فضا میں حکم کے باندھے نہیں دیکھا ؟ ان کو اللہ ہی تھام رہا ہے ، بیشک ایمانداروں کے لئے ہیں میں نشانیاں ہیں (ف 2) ۔

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُیُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا یَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ یَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 16:80 in the Quran reader

اور خدا نے تمہارے لئے تمہارے گھر بسنے کی جگہ بنائے ، اور چارپایوں کی کھال سے تمہارے لئے ڈیرے (بنائے) جو تمہیں تمہارے سفر کے دن اور تمہارے اقامت کے دن ہلکے معلوم ہوتے ہیں اور ان کی اون اور ان کے رؤوں اور بالوں سے کتنے اسباب اور فوائد ایک وقت تک ہیں ۔

(ف 2) پرندے فضا میں اڑ رہے ہیں ، یہ پرواز اللہ کے ایک مقرر قانون کے ماتحت ہے ۔ (آیت) ” مایمسکھن الا اللہ “۔ مگر وہ لوگ جو دانا ہیں ، اس قانون کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے قانون پر غور کرنے کے لئے مسلمان کو ترغیب دی تھی ، مگر کافر اس کی جانب متوجہ ہورہے ہیں ، وہ پرندوں کی طرح ہوؤں اور فضاؤں میں اڑ رہے ہیں ، ان کے پاس بیشمار ہوئی جہاز ہیں ، طیارے ہیں جن کی وجہ سے آج وہ ربع سکون پر حکومت کر رہے ہیں ۔ کیا مسلمان کبھی غور کرے گا کہ (آیت) ” ان فی ذلک لایت “۔ میں کس قدر غور طلب حقائق ہیں ؟ قرآن نے ہر نکتے کی جانب ہماری توجہ کو مبذول کیا ہے مگر افسوس کہ ہم ہر راہ ارتقاء سے دور بیٹھے ہیں ۔ حل لغات : سکنا : مستقل اور ناقابل انتقال مکان ، ظعنکم : ظعن کے معنے کوچ کرنے اور سیر کرنے کے ہیں ، اور ظاعن مسافر کو کہتے ہیں ۔