11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsسراج البیان

Ayahs 11:118–121

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور اگر تیرا رب چاہتا ، تو سب لوگوں کو ایک راہ پر کردیتا ، اور وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے (ف 1) ۔

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 11:119 in the Quran reader

مگر جس پر تیرے رب کا رحم ہوا اور خدا نے انہیں اسی لئے پیدا کیا ہے (کہ اختلاف کریں) اور تیرے رب کی بات پوری ہوئی کہ البتہ میں (سب بےایمان) جنوں اور آدمیوں سے دوزخ کو بھر دوں گا ۔

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:120 in the Quran reader

اور رسولوں کی خبروں میں سے وہ سب باتیں جن سے تیرے دل کو قائم کریں ، ہم تجھے سناتے ہیں ‘ اور اس ( سورة ہود) میں تیرے پاس حق بات آئی ہے اور مومنین کے لئے نصیحت اور یاد دہانی ہے ۔

وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ١ؕ اِنَّا عٰمِلُوْنَۙ Open ayah 11:121 in the Quran reader

اور نہ ماننے والوں سے کہہ دے کہ اپنی جگہ میں کام کرتے رہو ، ہم بھی کام کرتے ہیں ۔

قانون اختلاف طبائع : (ف 1) یعنی اختلاف رائے ناگزیر ہے جب تک دل و دماغ دنیا میں رہیں گے ، اختلاف باقی رہے گا ، اللہ تعالیٰ کی مشیت تکوینی نے کچھ ایسا سامان پیدا کردیا ہے کہ اختلاف سے گھبرا نہ جائیں ، اور آپ کا جی تھوڑا نہ ہو ، بتایا یہ ہے کہ ایمان وکفر میں امتیاز قدرتی بات ہے ، آپ استقلال وہمت کے ساتھ اپنا فرض ادا کرتے رہیں ۔ آیت کا مقصد یہ نہیں کہ اللہ نے بعض لوگوں کو عمدا جہنم کے لئے پیدا کیا ہے ، بلکہ مدعا یہ ہے کہ اللہ کی مشیت تکوینی میں جیسے ہدایت کے لئے موافق بہم پہنچائے گئے ہیں ، اس طرح گمراہی کے لئے بھی آسانیاں موجود ہیں ۔ اور اس میں انسانوں اور جنوں میں کوئی تفریق نہیں ، دونوں میں ایسے لوگ موجود رہیں گے جو جہنم کے مستحق قرار پائیں گے ۔ (آیت) ” کلمۃ اللہ “۔ سے مراد ہے اللہ کا ہمہ گیر قانون اختلاف طبائع آیت میں اس قسم کے واضع قرائن موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کا مقصد یہ نہیں کہ لوگ گمراہی اور ضلالت کو قبول کریں البتہ یہ بات ضرور ہے کہ لوگ گمراہی قبول کریں گے ۔ ، مثلا (آیت) ” الا من رحم ربک “۔ (مگر جن پر تمہارا پروردگار رحم کرے) ایک قرینہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو ظل رحمت میں آجائیں اللہ ان سے خوش ہے ۔ (آیت) ” ولذلک خلقھم “۔ دوسرا قرینہ ہے حضرت مجاہد (رح) و عکرمہ (رح) متفق ہیں کہ ذلک کا مشار الہہ رحمت ہے یعنی اللہ نے لوگوں کو پیدا تو رحمت کے لئے کیا ہے ، یہ الگ بات ہے کہ وہ شقاوت کو اپنے لئے پسند کریں پھر غور طلب یہ حقیقت ہے کہ اگر آیت کا یہی مفہوم ہو جو اصحاب الحاد سمجھتے ہیں تو پھر دعوت ونبوت ہی میرے سے بےسود ہے ، جب یہ ملے ہے کہ لوگ جہنم میں جائیں تو پھر کیوں رسولوں کو بھیجا گیا ، کیوں کتابیں نازل کیں ، اور قرآن کی کیا ضرورت تھی ، معلوم ہوتا ہے یہ مفہوم قطعی درست نہیں ۔ حل لغات : قرون ، قرن کی جمع ہے ۔
Ayahs 11:122–123

وَ انْتَظِرُوْا١ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 11:122 in the Quran reader

اور راہ تکتے رہو ، ہم بھی راہ دتکتے ہیں (ف 1) ۔

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 11:123 in the Quran reader

اور زمین اور آسمانوں کی پوشیدہ بات خدا کے پاس ہے اور سارا کام اسی کی طرف جاتا ہے ، تو اس کی عبادت کر اور اس پر بھروسا رکھ ، اور تیرا رب ان کے کاموں سے غافل نہیں ۔

(ف 1) یعنی کفار کو ڈھیل دے دی ہے کہ وہ سب کچھ کر دیکھیں ، ہر سرکشی اور تمرد کو آزما دیکھیں ایک وقت آئے گا جب کہ علم حق وصداقت بلند ہوگا ، اور اہل عناد وبغض حیران ہو کر رہ جائیں گے مگر یہ کب ہوگا ؟ اس کا صحیح صحیح اندازہ صرف اللہ کو ہے ، سب باتیں کسی کے اختیار میں ہیں ‘ وہی اسرار غیب سے آگاہ ہے وہ اپنی مصلحتوں کو خوب جانتا ہے اس لئے مسلم حق نواز کا فرض ہے کہ وہ تائید الہی کا صمیم قلب سے منتظر رہے ، اور مایوس نہ ہو ، کیونکہ خدا تمام حالات کو جانتا ہے اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ۔